Examples of Unsolvable “Problems” That Are Actually Truths
💔 Death of a Loved One
You can’t undo loss. You can only grieve, process, and carry the memory forward. Trying to "fix" grief prolongs pain.
⏳ Growing Older
You can slow aging, but not stop it. Accepting the seasons of life allows you to live with grace.
👥 A Person’s True Nature
You can’t change someone who doesn't want to change. Instead of fixing, you learn to set boundaries—or let go.
🧬 Your Past Mistakes
You can't rewrite the past. You can only learn from it and allow it to shape a wiser, better version of you.
Conclusion: Some Problems Aren’t Meant to Be Solved
Life is not a math problem with a perfect answer. It’s a journey filled with mystery, loss, imperfection, and unpredictability.
When no solution can be found, you’re not facing a failure—you’re facing a universal truth.
“Acceptance is the key to serenity. Not because you approve of what’s happening, but because you stop exhausting yourself resisting it.”
______________________________________________________________
22. Al-Hajj - Verse (1-4) ۲۲ – ۲۳ الحج - المؤمنون یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی ...
22. Al-Hajj - Verse (1-4)
۲۲ – ۲۳ الحج - المؤمنون
یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔ دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔ سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔
۲۲ ۔الحج
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ {1} يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُمْ بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ {2}
لوگو، اپنے پروردگار سے ڈرو۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا بھونچال بڑی ہی ہول ناک چیز ہے۔تم جس دن اُس کو دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے، حالاں کہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ {3}كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ {4}
اِدھر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن میں ایسے (احمق) بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کے بارے میں جھگڑتے اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔جس کی نسبت لکھ دیا گیا ہے کہ جو اُس کو دوست بنائے گا تو یوں ہے کہ اُس کو وہ گم راہ کر دے گا اور اُس کو دوزخ کے عذاب میں پہنچائے گا۔