Comparison is a natural human tendency, but when it becomes excessive or negative, it can lead to feelings of inadequacy, jealousy, or self-doubt. In a world dominated by social media and constant exposure to others’ curated lives, avoiding comparison is increasingly challenging but crucial for mental well-being.
Life is not a race or competition; it's a journey that unfolds uniquely for everyone. Comparing yourself to others detracts from your focus on what truly matters—your personal growth and happiness. By turning inward, setting your own goals, and valuing your progress, you can foster a sense of fulfillment and self-worth that no external comparison can diminish.
Remember, the only person you need to compete with is yourself. Celebrate your victories, however small, and trust that your journey is leading you exactly where you need to be.
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود بھیجنا (صلوۃ و سلام) ایمان کا حصہ اور محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس کی فضیلت قرآن مجید اور متعدد احادیث مبارکہ میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔
درود شریف کی فرضیت و اہمیت کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ بنیاد ہے:
عربی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
ترجمہ: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (محمد ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔"
— سورۃ الاحزاب، آیت: 56
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا اعلان فرمایا اور پوری کائنات کے سب سے معزز ہستیوں یعنی فرشتوں کے درود بھیجنے کا ذکر فرما کر نبی ﷺ کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کیا۔ پھر ایمان والوں کو براہ راست حکم دیا کہ وہ بھی نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجا کریں۔
ذیل میں درود شریف کی اہمیت، فضیلت اور دنیا و آخرت میں اس کے ثمرات پر مشتمل 10 سے زائد احادیث پیش خدمت ہیں:
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب مکرم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس عظیم عبادت کے ثمرات سے ہمیشہ مالا مال رکھے۔ آمین