Re: صحیح البخاری

0 views
Skip to first unread message
Message has been deleted

Jennifer Vidmar

unread,
Jul 18, 2024, 10:43:39 AM7/18/24
to ceilaksubcmo

صحیح بخاری در ۹۷ کتاب و ۳۴۵۰ باب تدوین شده و تعداد احادیث آن با احتساب احادیث مکرّر به گفتهٔ ابن صلاح ۷۲۷۵ حدیث و با حذف مکرّرات ۴۰۰۰ حدیث است.[۱]

تعدادی از علما با حذف سند و انتساب مستقیم حدیث به صحابه یا حذف احادیث مکرر در باب کتاب را کوتاه کردند که از جمله این اختصارات عبارتند از:

صحیح البخاری


DOWNLOAD https://xiuty.com/2yRW4J



صحیح البخاری برای اولین بار توسط عبدالعلی نوراحراری به زبان فارسی ترجمه شده که توسط انتشارات شیخ السلام احمد جام به زیر طبع رفته با مشخصات ذیل:

صحیح بخاری کا اصل نام الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ ہے جو صحیح البخاری کے نام سے مشہور ہے یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے [1] اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے[2] اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے [3] اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے[ح 1][6][7] اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد احکام تفسیر تاریخ زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو[8]

اس کتاب نے امام بخاری کی زندگی ہی میں بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کر لی تھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کو تقریباً ستر ہزار سے زائد لوگوں نے ان سے پڑھا اور سماعت کی [9] اس کی شہرت اس زمانہ میں عام ہو گئی تھی ہر چہار جانب خصوصاً اس زمانے کے علما میں اس کتاب کو توجہ اور مقبولیت حاصل ہو گئی تھی چنانچہ بے شمار کتابیں اس کی شرح مختصر تعلیق مستدرک تخریج اور علومِ حدیث وغیرہ پر بھی لکھی گئیں یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس کی شروحات کی تعداد بیاسی (82) سے زیادہ ہو گئی تھی[10]

پورا نام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَرْدِزبَہ[ح 2] جعفی بخاری اہل سنت والجماعت کے مشہور محدث رجال حدیث جرح و تعدیل اور علل کے امام[13] اور بڑے حافظ حدیث[ح 3] اور فقیہ[16] ہیں بخارا میں جمعہ کی رات 13 شوال سنہ 194 ہجری مطابق 20 جولائی سنہ 810 عیسوی میں پیدا ہوئے [17][18] علمی گھرانہ میں پرورش پائی جہاں ان کے والد خود حدیث کے بڑے عالم تھے [19] والد امام بخاری کے بچپن ہی میں وفات پا گئے اور امام بخاری نے یتیمی کی حالت میں ماں کی کفالت و تربیت میں پروان چڑھے [20][21] بچپن ہی سے طلب علم میں مشغول ہوئے چنانچہ بچپن ہی میں قرآن مجید اور اس زمانہ کی امہات الکتب کو حفظ کر لیا یہاں تک کہ جب عمر دس سال ہوئی تو حدیث حفظ کرنا شروع کیا شیوخ اور علما کے پاس آنے جانے لگے دورس حدیث کے حلقوں میں شریک ہونے لگے [22] اور سولہ برس کی عمر میں عبد اللہ بن مبارک اور وکیع بن جراح کی کتابوں کو حفظ کر لیا[23] طلب حدیث اور شیوخ سے ملاقات کی غرض سے اسلامی دنیا کے اکثر ملکوں اور شہروں کا سفر کیا وہاں کے تقریباً ایک ہزار علما و شیوخ سے استفادہ کیا[24] اور تقریباً چھ لاکھ احادیث کو جمع کیا[2]

امام بخاری نے خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی ان کے ہم عصروں حتی کہ ان کے شیوخ تک نے ان کا اعتراف کیا ان کے بعد کے علما نے حدیث و علوم حدیث میں ان امامت کا لوہا مانا [25] یہاں تک کہ انھیں امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا گیا[ح 4][28][29] امام بخاری سے بہت سے کبار علما و محدثین نے علم حاصل کیا مثلا: مسلم ابن خزیمہ ترمذی اور دوسرے ائمہ محدثین اس کے علاوہ طلاب علم روات اور محدثین کی ایک بڑی تعداد نے ان سے سماعت اور استفادہ کیا امام بخاری کی صحیح بخاری کے علاوہ دیگر کئی تصنیفات ہیں جس میں سب سے مشہور التاریخ الکبیر الادب المفرد رفع الیدین فی الصلاۃ اور قرات خلف الامام وغیرہ ہے اخیر عمر میں امام بخاری پر آزمائش کا آغاز ہوا ان پر بہت ظلم ڈھایا گیا یہاں تک کہ انھیں نیشاپور اور بخارا سے شہر بدر کر دیا گیا چنانچہ وہاں سے سمرقند کے ایک دیہات میں چلے گئے وہیں آخری سانس تک بیماری کی حالت میں مقیم رہے اور عید الفطر کی رات سنیچر کے دن 256 ہجری مطابق 1 ستمبر 870 عیسوی میں وفات ہو گئی[30]

کتاب کو کئی بڑے اور بہت سے چھوٹے حِصّوں میں موضوع وار ترتیب دیا گیا بڑے حصوں کو کتاب اور چھوٹے حصوں کو باب کے نام سے پیش کیا گیا ہے بڑے موضوعات مندرجۂ ذیل ہیں

استعمال کی ہیں?اور پھر اگر چھوٹے چھوٹے احادیث مبارکہ کے ٹکڑے بطور جز کے بھی شامل کر لیں تو پھر یہ تعداد نو ہزار بیاسی (9082) بنتی ہے

علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں کہ فربری کے علاوہ بھی بخاری کے دوسرے رواۃ موجود ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ صحیح بخاری ہم تک پانچ طریق سے پہنچی ہے وہ طرق خمسہ مندرجہ ذیل ہیں :

صحيح البخاري یاالجامع الصحيح المسند تألیف ابوعبدالله محمد بن اسماعیل بخارى جعفى از محدثین معروف قرن سوم هجرى به زبان عربى است. بخارى این کتاب را در مدت 16 سال گردآورى کرده است[۱]

صحیح بخارى در 97 کتاب و 3450 باب تدوین شده و تعداد احادیث آن با احتساب احادیث مکرر به گفته ابن صلاح 7275 حدیث و با حذف مکررات به گفته او و نووى حدود 4000 حدیث اما به عقیده ابن حجر 2761 حدیث است[۴]

امام بخاری: محمد بن اسماعيل بن ابراهيم بن المغيرة البخاری رحمه الله در سال ۱۹۴ هجری قمری در شهر بخارا ديده به جهان گشود. ودر سال ۲۵۶ هجری قمری در(خرتنگ) يكی از روستاهای سمرقند ديده از جهان فروبست.

تاليفات ايشان: الجامع الصحيح (معروف به صحيح البخاری يكی از كتب سته) كتاب التاريخ الكبير و الضعفاء (درباره رجال حديث) كتاب ادب المفرد.

الحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالمِينْ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلىَ نَبِينّا مُحَمّدٍ وَعَلى آلِهِ وَأصْحَابهِ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَتِهِ إلىَ يَوْمِ الدِّيْن.

برنامه صحیح مسلم فارسی را نیز میتوانید با ورود به بخش مرتبط و سپس در قسمت سایر برنامه های توسعه دهنده پیدا نموده و دانلود کنید.

مطالب درون برنامه از نسخه ورد این کتاب کپی شده است و برای کلمات عربی سلام و درود و رضای خدا از فونت بخصوصی استفاده شده بود که متاسفانه بعد از کپی کردن در برنامه این فونت های بخصوص قابل شناسایی توسط گوشی نبوده و به صورت اتوماتیک معادل سازی شدند با کلید اون حرف بر روی کیبورد- مانند ل ز و .... البته تمام سعی خود را انجام دادیم که تمام این اشتباهات را برطرف کنیم. ممنون میشم اگر لیست ایرادات را برای ما ایمیل کنید

چهارم: تلاش برای از بین بردن بدعت ها و گمراهی ها که به دلیل دردسرهای دسترسی به کتب احادیث بدعت ها روز به روز در حال رواج بین مردم هستند و از نسلی به نسل دیگر منتقل می شوند.

59fb9ae87f
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages