ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا

508 views
Skip to first unread message

iqbal sheikh

unread,
Oct 1, 2013, 8:48:34 PM10/1/13
to bazme...@googlegroups.com

ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا

اک پل میں جانے وہ میرا کیا کیابدل گیا

کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینۂ نقش

پھر یوں ہوا کہ خود میرا چہرہ بدل گیا

جب  ہم ہی اپنے حال پہ قائم نہ رہ سکے

 تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی

ساحل کے ساتھ لپٹا کنارا بدل گیا

کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی

وہ  کیا گیا مزاج  ہمارا بدل گیا

اک دلکشی کی موج نے کیساکیا کمال

کہ نقشۂ دل  سارے کا سارا بدل گیا

اُٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں

پردہ اُٹھا تو سارا تماشا بدل گیا

حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے

باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا

کہنے کو توصحن میں تھی دیوار اِک  بنی

 گھر کی فضا مکان کا نقشہ بدل گیا

شاید وفا کے کھیل میں اُکتا گیا تھا وہ

منزل کے پاس آ کے جو رستہ بدل گیا 

قائم کسی بھی حال پہ دنیا نہیں رہی

تعبیر کھو گئی کبھی سپنا بدل گیا

منظر کا رنگ اصل میں سایہ تھا رنگ کا

جس نے اُسے جدھر سےبھی  دیکھا بدل گیا

اندر کے موسموں کی خبراُس کو ہو گئی

 اُس نو بہارِ ناز کا چہرہ بدل گیا

آنکھوں میں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گئے

وہ مسکرایا تو میری دنیا بدل گیا

اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈوھنڈتے ہیں لوگ

اقباؔل کون شہر کا نقشہ بدل گیا

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 2:53:33 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com


بہت خوب اقبال صاحب

آپ کا مقطع ہے:

اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈوھنڈتے ہیں لوگ

اقبال     کون     شہر    کا    نقشہ   بدل   گیا

عرض کروں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں شہر کراچی کا نقشہ واقعی بدل گیا ہے۔ اس کے ڈانڈے "چائنا کٹنگ" سے جاملتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

راشد

2013/10/2 iqbal sheikh <iqbal...@hotmail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Aapka Mukhlis

unread,
Oct 2, 2013, 7:16:06 AM10/2/13
to bazm qalam
بہت خوب اقبال صاحب
عمدہ غزل ہے۔ اگر اس کے اصل مضمون سے ہٹ کر سیاسی پہلو سے دیکھا جائے تو ہر شعر ہمارے سیاست دانوں اور سیاسی حالات اور قلابازیوں کا آئینہ دار بھی ہے۔ بالخصوص یہ شعر تو ہر سیاست دان پر چسپاں ہوتا ہے۔

حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے

باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا

مقطع میں شاید یہ ٹائپو کا نتیجہ ہے۔ ڈوھنڈتے
میرے خیال میں ڈھونڈتے ہونا چاہیے۔
والسلام
مخلص


2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

Ahmad Safi

unread,
Oct 2, 2013, 8:18:42 AM10/2/13
to 5BAZMeQALAM
یہ اقبال شیخ کون ہیں بھائی ؟؟؟؟ امجد اسلام امجد صاحب کی غزل میں تبدیلیاں کر کے خود پوسٹ کر رہے ہیں۔۔۔

احمد صفی

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا

کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش

پھر یوں ہوا کہ خود میرا چہرہ بدل گیا

جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے

تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا


کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا
امجد اسلام امجد


2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

Maqsood Sheikh

unread,
Oct 2, 2013, 10:44:11 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com

سرقے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس سلسلے میں صفی اپ اور دیگر دوستوں اور محترمہ عابدہ رحمانی کا ہمنوا ہوں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اقبال شیخ عابدہ جی کو کیا جواب دیتے ہیں؟
مقصود

Rashid Ashraf

unread,
Oct 3, 2013, 12:11:11 AM10/3/13
to BAZMe...@googlegroups.com, ahma...@gmail.com

ان کا قصور نہیں ہے جناب والا کہ وہ تو جکود ہی مطلع میں اعتراف کررہے ہیں کہ:

ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا

راشد

2013/10/2 Ahmad Safi <ahma...@gmail.com>

zaheer uddin danish

unread,
Oct 3, 2013, 12:17:03 AM10/3/13
to BAZMe...@googlegroups.com
راشد بھائی پتہ نہیں دوسروں کی غزلیں چراکر شائع کرنے میں لوگوں کا دل کیسے گواراکرتا ہوگا۔
آپ کے ہندوستان آنے کا کیاہوامیرے بھائی 
کب آئیں گے آپ ۔آپ کے لئے کچھ مخصوص تحفے میرے پاس ہیں۔
ظاہرہے کتاب کے علاوہ کونسی چیز آپ کو بھاسکتی ہے ۔
امید کہ آپ بخیر ہوں گے 
طالب دعا 
ظہیردانش عمری
 
zaheer danish umari
8/209-5,almas pet,bismilla nagar
kadapa 516001 (a.p)
india
cell:9701065617
my blog 
http://www.zaheerdanish.com


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Cc: ahma...@gmail.com
Sent: Thursday, 3 October 2013 9:41 AM
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:28439] ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا

Rashid Ashraf

unread,
Oct 3, 2013, 12:47:49 AM10/3/13
to BAZMe...@googlegroups.com, zahee...@yahoo.com

محترم ظہیر صاحب

ہند آمد کے سلسلے میں حائل رکاوٹیں دور ہونا شروع ہوئیں تو "درون خانہ" ایک مسئلے نے سرابھارا۔ دفتر کا سبق چونکہ ہم وقت پر یاد کرلیتے ہیں سو ہمیں متعلقہ تاریخوں میں چھٹی دیے جانے سے انکار ہوگیا ہے۔ بہرحال یار زندہ سیمنار باقی۔ کبھی دلی کا پھیرا لگائیں گے اور کتابوں کی تلاش میں گلیوں گلیوں گھومیں گے۔

آپ نے کتابوں کا ذکر کیا اور جی للچا گیا۔ علی گڑھ میں قیام پذیر ایک کرم فرما کا پتہ دوں گا۔ کتابیں وہاں بھیج دیجیے گا، مجھ تک پہنچ جائیں گی۔

راشد

2013/10/3 zaheer uddin danish <zahee...@yahoo.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages