ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا
اک پل میں جانے وہ میرا کیا کیابدل گیا
کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینۂ نقش
پھر یوں ہوا کہ خود میرا چہرہ بدل گیا
جب ہم ہی اپنے حال پہ قائم نہ رہ سکے
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا
قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
ساحل کے ساتھ لپٹا کنارا بدل گیا
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
وہ کیا گیا مزاج ہمارا بدل گیا
اک دلکشی کی موج نے کیساکیا کمال
کہ نقشۂ دل سارے کا سارا بدل گیا
اُٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا تو سارا تماشا بدل گیا
حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
کہنے کو توصحن میں تھی دیوار اِک بنی
گھر کی فضا مکان کا نقشہ بدل گیا
شاید وفا کے کھیل میں اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آ کے جو رستہ بدل گیا
قائم کسی بھی حال پہ دنیا نہیں رہی
تعبیر کھو گئی کبھی سپنا بدل گیا
منظر کا رنگ اصل میں سایہ تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدھر سےبھی دیکھا بدل گیا
اندر کے موسموں کی خبراُس کو ہو گئی
اُس نو بہارِ ناز کا چہرہ بدل گیا
آنکھوں میں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گئے
وہ مسکرایا تو میری دنیا بدل گیا
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈوھنڈتے ہیں لوگ
اقباؔل کون شہر کا نقشہ بدل گیا
بہت خوب اقبال صاحب
آپ کا مقطع ہے:
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈوھنڈتے ہیں لوگ
اقبال کون شہر کا نقشہ بدل گیا
عرض کروں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں شہر کراچی کا نقشہ واقعی بدل گیا ہے۔ اس کے ڈانڈے "چائنا کٹنگ" سے جاملتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
راشد
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
ان کا قصور نہیں ہے جناب والا کہ وہ تو جکود ہی مطلع میں اعتراف کررہے ہیں کہ:
ظاہرکا رُوپ باطنی حُلیہ بدل گیا
راشد
محترم ظہیر صاحب
ہند آمد کے سلسلے میں حائل رکاوٹیں دور ہونا شروع ہوئیں تو "درون خانہ" ایک مسئلے نے سرابھارا۔ دفتر کا سبق چونکہ ہم وقت پر یاد کرلیتے ہیں سو ہمیں متعلقہ تاریخوں میں چھٹی دیے جانے سے انکار ہوگیا ہے۔ بہرحال یار زندہ سیمنار باقی۔ کبھی دلی کا پھیرا لگائیں گے اور کتابوں کی تلاش میں گلیوں گلیوں گھومیں گے۔
آپ نے کتابوں کا ذکر کیا اور جی للچا گیا۔ علی گڑھ میں قیام پذیر ایک کرم فرما کا پتہ دوں گا۔ کتابیں وہاں بھیج دیجیے گا، مجھ تک پہنچ جائیں گی۔
راشد