رشوت کی تعریف:۔بحرالرائق میں ہے: ’’الرشوۃ ما یعطیہ الشخص للحاکم اوغیرہ لیحکم لہ اویحملہ علی مایرید ‘‘۔ (البحرالرائق ۔ج۶۔کتاب القضاء ۔ص۴۴۰)
یعنی رشوت یہ ہے کہ انسان حاکم یا غیر حاکم کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے کے لیے یا اپنی منشا کے مطابق اسے آمادہ کرنے کے لیے کچھ دے ۔۱؎
رشوت کا مقصد:۔ اگر ہم رشوت دینے والے اور جہیز دینے والے کے مقاصد پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ان دونوں میں یکسانیت نظر آتی ہے، کیوں کہ رشوت دینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اس کے اخلاقی دبائو میں رہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے -
فقہاے کرام نے رشوت کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں:
(۱) منصب قضا کے حصول کے لیے رشوت دینا۔ اس رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہے۔
(۲) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لیے قاضی کو رشوت دے۔ یہ رشوت بھی جانبین کے لیے حرام ہے، خواہ وہ فیصلہ حق و انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو، کیوں کہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری اور اس کا فرض ہے۔
(۳) اپنی جان اور مال کو ظلم اور ضرر سے بچانے کے لیے رشوت دینا۔ یہ رشوت لینے والے پر حرام ہے، مگر دینے والے پر نہیں۔ اسی طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دینا جائزہے، البتہ لینا حرام ہے۔
(۴) کسی شخص کو اس لیے رشوت دینا کہ وہ اس کو بادشاہ یا حاکم تک اس کی بات پہنچا کر اس کا کام بنائے، جب کہ اس کی ضرورت ہو، تو یہ رشوت دینا جائز اور لینا حرام ہے۔
علامہ ابن نجیم حنفی مصری (متوفی ۹۷۰ھ) فرماتے ہیں:’’الرشوۃ علی و جوہ ار بعۃ منہا ماہو حرام من الجانبین و ذالک فی موضعین احدہما اذا تقلد القضاء بالرشوۃ حرم علی القاضی والآخذ۔ الثانی اذا دفع الرشوۃ الی القاضی لیقضی لہ حرم من الجانبین، سواء کان القضاء بحق او بغیر حق۔ ومنہما اذا دفع الرشوۃ خوفا علی نفسہ او مالہ حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع، وکذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال ومنہا اذا دفع الرشوۃ لیسوی امرہ عند السلطان حل الدفع ولا یحل للآخذ ان یاخذ‘‘۔ (البحر الرائق شرح کنزالدقائق۔ ج۱۔ص۳۳۷)
صابررضا رہبرمصباحی