رشوت کسے کہتے ہیں؟

441 views
Skip to first unread message

Firoz Hashmi

unread,
Jun 21, 2014, 3:11:24 AM6/21/14
to bazme...@googlegroups.com
رشوت کسے کہتے ہیں؟ 
اس کی کتنی قسمیں ہیں؟
اہل علم و دانش سے امید ہے کہ اس پر روشنی ڈالیں گے۔
فیروزہاشمی

--
Mohammad Firoz Alam 
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
M.                   91- 9811742537
Google Talk : firoz...@gmail.com

Humayun Rasheed

unread,
Jul 24, 2014, 6:41:57 PM7/24/14
to bazmeqalam
​جناب فیروز ھاشمی صاحب، مراسلات پر طائرانہ نظر ڈالنے سے آپکے مراسلے کا جواب نظر نہیں آیا سو ایک کوشش پیش ہے۔

رشوت کے حرام ہونے پر سب کا اتفاق ہے یہاں تک کہ دیگر مذاھب اور دہرئیے وغیرہ بھی اسے غلط مانتے ہیں۔ قرآن کی حکام کے بارے ایک آیت کے بارے میں بعض علماء کا خیال ہے ​کہ یہاں رشوت سے کنایہ ہے۔ احادیث میں اسکا بکثرت ذکر ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو اسکے قائل ہیں کہ قاضی رشوت لے تو معزول ہو جاتا ہے، جبکہ احناف کے ھاں خلیفہ اسے معزول کرے گا۔

رشوت کی قسموں سے آپکی کیا مراد ہے یہ تو معلوم نہیں ھاں دوران مطالعہ کبھی رشوت کی بعض صورتیں نظر سے گزری ہیں تو وہ ذکر کرتا ہوں ممکن ہے آپ انہیں ہی قسم کہ رہے ہوں۔
ایک صورت تو یہ ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں نے حرام کام کیا۔ مثلا ایک آدمی کسی افسر کو اس لئے پیسے دے کہ اسکے دل میں میرے معاملے میں ہمدردی پیدا ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دینے والے کیلئے تو حرام نہیں لینے والے کیلئے حرام ہے۔ مثلا کسی جگہ ملازمت کیلئے دس لوگ کامیاب ٹہرے جبکہ جگہ پانچ کی ہے تو اب اگر کوئی رشوت دیکر اپنا نام نکلوا لے تو اس دینے والے کیلئے حرام اس لئے نہیں کہ وہ بھی برابر کا حقدار ہے جبکہ لینے والے کیلئے حرام ہے کہ فیصلہ کرنا اس پر واجب ہے بغیر کسی اجر کے۔ ھاں اس صورت میں یہ یاد رہے کہ اگر یہ عھدہ ایسا ہے کہ جس میں لوگوں پر ولایت ملتی ہے مثلا ڈی سی لگ جائے یا جج لگ جائے تو دینے والے کیلئے بھی حرام ہے۔ اسی طرح جج کو اس لئے رشوت دی کی فیصلہ جلدی کرے تو جج کیلئے اس لئے حرام ہے کہ فیصلہ کرنا اس پر واجب تھا اور دینے والے پر اس لئے کہ فیصلے پر اثر انداز ہو رھا ہے اور یہ معاملہ قضاء کا ہے جہاں کسی ایک کا حق ضرور سلب ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک آدمی نے اپنا کام جلدی نکلوانے کیلئے رشوت دی جس سے دوسرے کا حق نہیں مارا جا رھا تو دینے والے کیلئے مباح ہے لینے والے کیلئے حرام ہے۔

رشوت کے معاملے میں ایک دفعہ ایسا معاملہ سنا عقل محو حیرت ہے کہ اسے جائز کہے کہ ناجائز۔ ایک دوست سن دو ہزار کے شروع میں بیرون ملک سے پندرہ بیس سال کی ملازمت ختم کر کے وطن عزیز کو آئے کہ باقی زندگی وطن کی خدمت کی جائے۔ انکا سامان کسٹم پر پہنچا، لینے گئے تو "سروس چارجز" کا مطالبہ ہوا۔ دوست نے کہا بھئی آپ کسٹم کی فیس بتائیں میں دینے کو تیار ہوں۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ فیس تو بہت بن جائے گی آپ آدھی رقم ہمیں دیں اور بے فکر ہو جائیں۔ دوست نے کہا کہ میں فیس دینے کو تیار ہوں۔ لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کسٹم میں سامان پر کچھ دن کے بعد کرایہ لگتا ہے۔ پس جب دو دن گزر گئے تو ان صاحب کو بھی پریشانی ہوئی کہ فیس تو ایک طرف اب کرایہ بھی لگے گا۔ ایک جاننے والا تلاش کیا اسکے پاس پہنچے اور منت کی۔ تو وہ صاحب کہنے لگے کی آپکا کام کروانا میرے لئے مشکل نہیں، لیکن اگر آپکا سامان کلئر کروا دیا تو باقی سمجھیں گے کہ میں نے پیسے لئے ہیں اور حصہ نہیں دے رھا۔ اس لئے بہتر ہے کہ آپ ہی پیسے دے دیں ورنہ میں کلئر کر دیتا ہوں اور باقیوں کا حصہ اپنی جیب سے ادا کر دوں گا۔

مع السلام،
ہمایوں رشید۔


--
Free Counselling for EAMCET Medical/Engg
https://groups.google.com/forum/#!topic/BAZMeQALAM/Yorv-xHgMRk

Sabir Rahbar

unread,
Jul 27, 2014, 10:50:58 AM7/27/14
to BAZMe...@googlegroups.com
رشوت کی تعریف:۔بحرالرائق میں ہے: ’’الرشوۃ ما یعطیہ الشخص للحاکم اوغیرہ لیحکم لہ اویحملہ علی مایرید ‘‘۔ (البحرالرائق ۔ج۶۔کتاب القضاء ۔ص۴۴۰)
یعنی رشوت یہ ہے کہ انسان حاکم یا غیر حاکم کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے کے لیے یا اپنی منشا کے مطابق اسے آمادہ کرنے کے لیے کچھ دے ۔۱؎
رشوت کا مقصد:۔ اگر ہم رشوت دینے والے اور جہیز دینے والے کے مقاصد پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ان دونوں میں یکسانیت نظر آتی ہے، کیوں کہ رشوت دینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اس کے اخلاقی دبائو میں رہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے -
فقہاے کرام نے رشوت کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں:
(۱) منصب قضا کے حصول کے لیے رشوت دینا۔ اس رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہے۔
(۲) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لیے قاضی کو رشوت دے۔ یہ رشوت بھی جانبین کے لیے حرام ہے، خواہ وہ فیصلہ حق و انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو، کیوں کہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری اور اس کا فرض ہے۔
(۳) اپنی جان اور مال کو ظلم اور ضرر سے بچانے کے لیے رشوت دینا۔ یہ رشوت لینے والے پر حرام ہے، مگر دینے والے پر نہیں۔ اسی طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دینا جائزہے، البتہ لینا حرام ہے۔
(۴) کسی شخص کو اس لیے رشوت دینا کہ وہ اس کو بادشاہ یا حاکم تک اس کی بات پہنچا کر اس کا کام بنائے، جب کہ اس کی ضرورت ہو، تو یہ رشوت دینا جائز اور لینا حرام ہے۔
علامہ ابن نجیم حنفی مصری (متوفی ۹۷۰ھ) فرماتے ہیں:’’الرشوۃ علی و جوہ ار بعۃ منہا ماہو حرام من الجانبین و ذالک فی موضعین احدہما اذا تقلد القضاء بالرشوۃ حرم علی القاضی والآخذ۔ الثانی اذا دفع الرشوۃ الی القاضی لیقضی لہ حرم من الجانبین، سواء کان القضاء بحق او بغیر حق۔ ومنہما اذا دفع الرشوۃ خوفا علی نفسہ او مالہ حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع، وکذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال ومنہا اذا دفع الرشوۃ لیسوی امرہ عند السلطان حل الدفع ولا یحل للآخذ ان یاخذ‘‘۔ (البحر الرائق شرح کنزالدقائق۔ ج۱۔ص۳۳۷)
صابررضا رہبرمصباحی


Humayun Rasheed

unread,
Jul 28, 2014, 11:17:33 AM7/28/14
to bazmeqalam
جناب صابر صاحب، حوالے کا شکریہ۔
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages