وقت کی اہمیت

853 views
Skip to first unread message

Md. Athar Hussain Nadwi

unread,
Jan 1, 2013, 12:22:00 AM1/1/13
to BAZMe...@googlegroups.com, bazme...@gmail.com

وقت کی اہمیت


السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ


دوستو وقت کی اہمیت سے تو ہر کوئ واقف ہوگا۔ کہتے ہیں کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ اگر آپ وقت کی قدر نہ کریں تو وقت آپ کو روندتا ہوا آگے چلا جاتا ہے اور آپ کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ اور یہ کہ ناکام لوگ وقت کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں اور کامیاب لوگ جو وقت میسر ہو اسے بھرپور طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

اگر ہم ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بات پر غور کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہاں بھی وقت کی بہت اہمیت ہے۔

نماز ہمارے دین کا ایک بنیادی ستون۔ نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اگر نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔

زکات کے قابل ادا ہونے کا انحصار بھی دولت کا ایک معینہ وقت تک آپ کے پاس موجود ہونے پر ہے۔ اور اگر اس مقررہ مدت یعنی ایک سال پورا ہونے پر ادا نہ کی تو بھی وہ گناہ گار ٹھرے گا۔

اسی طرح ہم روزوں کے حوالے سے دیکھیں تو روزے ہم پر سال کے ایک خاص مہینے یعنی رمضان کے مہینے میں رکھنے فرض ہیں اور سحر و افطار کا ایک خاص وقت معین ہے۔

حج بھی سال کے ایک معین مہینہ یعنی ذی الحج میں ہی ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔

اگر ہم عام اور روز مرہ زندگی کا جائزہ لیں تو ہمارے تمام امور کا انحصار وقت پر ہی ہے۔

اگر ہم کوئ نوکری وغیرہ کرتے ہیں تو ہماری روزانہ ڈیوٹی کی ایک خاص وقت متعین ہوتا ہے۔ اگر ہم اس مقررہ وقت سے زیادہ ڈیوٹی انجام دیں تو اوور ٹائم کے حقدار ٹھرتے ہیں ۔ اور اگر کم کریں گے تو ہماری تنخواہ کاٹی بھی جاسکتی ہے۔

اسی طرح جب کسی بھی کمپنی کو کوئ پروجیکٹ وغیرہ اوارڈ کیا جاتا ہے تو اس پروجیکٹ کو ایک خاص وقت تک مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر نہ کیا جاۓ تو اس جرمانے وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح عام زندگی کی بہت سی مثالیں وقت کی اہمیت کے حوالے سے دی جاسکتی ہیں۔ اب دیکھیۓ نا کل ہی کی بات ہے جمعہ کے اردو نیوز کی خبر کے مطابق ہماری ایک محترم وزیر نے چینی وفد کو ملاقات کا ٹائم دیا اور وفد تقریبا ڈیڑھ گھنٹا انتظار کرنے کے بعد ناراض ہو کر واپس چلا گیا۔ محترمہ جب اپنے آفس پہنچی تو انہوں نے اپنے اسٹاف ہے کہا کہ انہیں دوبارہ بلائیں۔ جب انہوں نے چین کے سفارت خانے فون کیا تو جواب ملا کہ اب ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ سب اس لیۓ ہوا کہ محترمہ وزیر صاحبہ نے وقت کی پابندی نہیں کی۔

دوستو یہ ساری تمہید اس لیۓ باندھی کہ وقت کے حوالے سے ایک نہایت اہم امر کی طرف توجہ دلا سکوں۔ عام طور پر میں گھر سے آفس کے لیۓ 9 بجے تک نکلتا ہوں اور اس کے بعد دوبجے گھر واپس آکر 30۔4 بجے دوبارہ گھر سے نکلتا ہوں اور رات 9 بجے تک واپسی ہوتی ہے۔ صبح گھر سے نکلنے ہے پہلے ہی ذہن میں دن کی مصروفیت کے حوالے سے کی ترتیب دی ہوتی ہے اور عام طور پر اسی ترتیب پر عمل کرتا ہوں۔ بدھ کے روز میں اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا اور کچھ پیپرز مجھے ایک بجے سے پہلے مکمل کرنے تھے۔ صبح تقریبا 10 بجے میرے ایک جاننے والے بغیر اطلاع میرے آفس آ پہنچے۔ میں کچھ حیران ہوا کہ یہ اپنی اور میری ڈیوٹی کے وقت کیسے ملنے آگۓ۔ آتے ہی کہنے لگے کہ میں ادھر سے گذر رہا تھا سوچا آپ سے ملتا چلوں۔ میں نے دل میں سوچا کہ کوئ بات نہیں تھوڑی دیر بیٹھیں گے اور چلے جائیں گے۔ خیر باتیں شرو‏ع ہوئیں آدھا گھنٹہ گذرا، ایک گھنٹہ بھی گذر گیا اب میں سوچنے لگا کہ کام کیسے مکمل کروں گا۔ تو جناب ہوا یہ کہ وہ صاحب تین گھنٹے سے زیادہ میرے پاس بیٹھے رہے۔ کام کرنا تو درکنار میں یہ سوچنے لگا کہ یہ اب واپس جائیں گے بھی یا نہیں۔ باتوں باتوں میں ان کے اتنی دیر تک بیٹھنے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئ وہ یہ کہ موصوف ایک کمپنی میں سیلز مینیجر ہیں۔ اور انہوں نے اپنا اس مہینے کا ٹارگیٹ پورا کردیا تھا۔ اب ان کے پاس وقت کی فراغت تھی۔ تو انہوں نے سوچا کہ میرے پاس بیٹھ کر وقت پاس کیا جاۓ۔ میں نے ایک اور بات سوچی وہ یہ کہ آج یہ میرے پاس آۓ ہیں کل کسی اور کا وقت بھی اسی طرح ضائع کریں گے۔ خیر وہ تو چلے گۓ مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گۓ۔ اور چند باتیں میرے ذہن میں آئیں جنہیں میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور ان پر آپ کی راۓ کا منتظر رہوں گا۔

1- کسی بھی دوست یا ملنے والے کے پاس بغیر اطلاع کے نہ جایا جاۓ۔

2- اور اگر اطلاع دے کر بھی جائیں تو اتنی دیر تک نہ بیٹھیں کا آپ کا میزبان یہ سوچنے لگے کہ اب یہ جائیں گے بھی یا نہیں۔

3- جانے کا وقت ایسا منتخب کیا جاۓ جو میزبان کے آرام یا کسی اور مصروفیت کا وقت نہ ہو۔

4- اگر بچوں کے امتحان وغیرہ کے دن ہوں تو کسی کے ہاں جانے سے اجتناب کیا جاۓ تاکہ بچوں کی پڑھائ میں حرج نہ ہو۔

5- کسی دوست وغیرہ کے کام کے اوقات میں مخل نہ ہوا جاۓ اور اس کے یا کام کی جگہ جانے سے پرہیز کیا جاۓ۔ اور اگر جانا ضروری ہو تو مختصر وقت تک ٹھرا جاۓ تاکہ آپ کے دوست کے کام کا حرج نہ ہو۔

6- آخری اور بہت ضروری بات وہ یہ کہ آپ نے اپنے کسی دوست کو فون کیا کہ میں آرہا ہوں مگر آپ کے دوست نے کوئ عذر پیش کر دیا تو اس بات پر ناراض ہونے کے بجاۓ اس کے عذر کو تسلیم کیا جاۓ۔

یہ چند باتیں میرے ذہن میں تھیں جنہیں میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دوستوں کے ذہن میں کوئ اور بات ہو تو وہ بھی سب کی معلومات کے لیۓ یہاں شئر کر دیں ۔

 

farooq ahmed

unread,
Jan 1, 2013, 2:32:53 PM1/1/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

محترم جناب ندوی صاحب

 

وعلیکم السلام۔ آپ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے اور نہایت معقول خیالات کا اظہار کیاہے۔

جو نکات آپ نے بیان کیئے ہیں انکا تو اچھا برا حل ہے۔

اگر کوئی بغیر اطلاع دیئے وارد ہو جائے اور آپ مصروف ہوں تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ معاف کیجیئے ہم اس وقت وقت نہیں دے سکتے تو آئندہ کے لیئے اسے نصیحت ہو جانی چاہیئے۔اسی طرح دوسری صورتِ احوال سے بھی کم از کم وقتی طور پر نپٹا جا سکتا ہے۔

ایک بات جس پر آپکا اپنا اختیار نہیں ہوتا اور جس سے آپکی توہین ہوتی ہے(اگراسکااحساس ہی نہ ہو تو اور بات ہے) یہ ہے کہ کوئی آپ کو وقت دے کرجائے ملاقات پر بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر سے پہنچے۔آپ وقتِ مقررہ پر پہنچ کر انتظار کر رہے ہوں اور یہ صاحب گھر بیٹھے ٹیلی پر اپنا پسندیدہ پروگرام ملاحظہ فرما رہے ہوں۔ اور زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ پنجگانہ نماز پڑھنے والے بھی دوسروں کو انتظار کرواتے ہیں۔انکی نماز انہیں وقت کی پابندی بھی نہیں سکھاتی۔

ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لیئے گئے۔ لوگ دور دور سے بھی گئے ہوئے تھے۔ مقررہ وقت پر کھانا تیار تھا کہ صاحبِ صدر تشریف لائیں گے اور کھانے کے بعد مشاعرہ شروع کیا جائے گا۔ صاحبِ صدر تین گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ منتظمین نے تمام شرکت کرنے والوں کو انکا انتظار کروایا۔ ہم سے تو رہا نہ گیا۔ صاحب صدر سے کہہ دیا کہ آج جناب نے ہمیں جبری روزہ رکھوایا ہے۔

واعظ ہوں یاکہ حضرتِ ناصح ہوں یا کہ شیخ

ہم تو سنا ہی دیتے ہیں سب کو کھری کھری

داغ؟

ہماری یہ بات سن کر،  بجائے اسکے کہ معذرت ہی کر دیتے، انہوں نے دانت نکال دیئے۔

در اصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوستوں یاروں یا ان لوگوں کی خاطر جو ہمارا کوئی کام کر سکتے ہوں، اصولوں کو، چاہے وہ دینی ہوں یا اخلاقی، توڑ دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کی خواہشات کے آگے، چاہے وہ سرا سر کسی اصول یا دینی اقدار کے خلاف ہوں، سرِ تسلیم خم کر دیں گے چاہے اپنی اس روش سے ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے یا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے۔

اسکی مزید وجوہات پر آپ اور دیگر اراکینِ فورم سے درخواست ہے کہ غور فرمائیں اور ہمارے علم میں اضافہ کر کے مشکور فرمائیں۔

آخر میں ایک شعر؛

دن کو کرتے ہیں رات کا وعدہ شب کو دن کا فریب دیتے ہیں

انکے وعدوں کا کچھ یقیں تو نہیں آج کا دن بھی دیکھ لیتے ہیں

داغ؟

 

والسلام

فاروق

  

 



 

Date: Tue, 1 Jan 2013 10:52:00 +0530
Subject: {17934} وقت کی اہمیت
From: hath...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com; bazme...@gmail.com

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے
 
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
 
 

aapka Mukhlis

unread,
Jan 1, 2013, 3:40:56 PM1/1/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم
آپ دونوں محترم حضرات نے اور اس سے پہلےمحترمہ عابدہ رحمانی صاحبہ نے وقت کے حوالے سے بڑی قیمتی اور فکر انگیز باتیں کی ہیں
افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت ضائع کرنا اور وعدے کے برعکس تاخیر سے پہنچنا ہمارا قومی شعار بن چکا ہے
گویا وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم کا سبب بنتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم آگے جانے کی بجائے پیچھے کو جارہے ہیں
اگر ہم اپنی عبادات بھی صحیح روح کے مطابق ادا کریں تو بھی ہماری کافی اصلاح ہوسکتی ہے
ہمارے ہاں تو یہ طریقہ بن چکا ہے کہ اگر کوئی سرکاری دفتر میں کام کرتا ہے تو وہ اپنے دوستوں کو ملاقات کے لیے ڈیوٹی کا وقت اور دفتر کا مقام ہی بتاتا ہے
ایک صاحب واقعہ سناتے ہیں کہ وہ امریکہ میں ایک پاکستانی سے ملے ۔اپنا حال سناتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ آٹھ گھنٹے ایک پٹرول پمپ پر، آٹھ گھنٹے ایک سٹور پر اور آٹھ گھنٹے پاکستانی سفارت خانے میں کام کرتا ہے۔ انھوں نے حیران ہوکر پوچھا کہ یہ تو چوبیس گھنٹے ہوگئے تو پھر آرام کب کرتے ہو۔ وہ حضرت ہنس کرکہنے لگے کہ بتایا تو ہے کہ آٹھ گھنٹے پاکستانی سفارت خانے میں کام کرتا ہوں۔ دروغ برگردن راوی
جب ہمارا کلچر یہ بن چکا ہو تو ہم کس منہ سے اپنے اداروں اور محکموں کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرسکتے ہیں۔
مغرب میں تو وقت کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ وہ کام کے مناسبت سے مزدوری نہیں لیتے۔
بلکہ اس کام پر جتنا وقت لگے اس حساب سے اجرت یا مزدوری لیتے ہیں۔
اور اوقاتِ کار میں ذاتی ملاقاتوں کا تو وہاں تصور ہی نہیں ہے۔
اور ہم اوقاتِ کار کو امانت نہ سمجھتے ہوئے بدترین خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
ایک بار ایک تقریب میں قائد اعظم پہنچے۔تو تقریب کا آغاز کردیا گیا۔اتفاق سے لیاقت علی خان کو تاخیر ہوگئی اور ان کی کرسی خالی تھی۔قائد اعظم نے پوچھا کہ یہ کرسی کس کی ہے اور کیوں خالی ہے۔ ان کو وجہ بتائی گئی تو انھوں نے وہ کرسی وہاں سے اٹھوا دی۔ جب لیاقت علی خان آئے تو ان کو ساری تقریب کے دوران کھڑا رہنا پڑا۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین
والسلام
مخلص

From: farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, January 1, 2013 10:32 PM
Subject: RE: {17945} وقت کی اہمیت

محترم جناب ندوی صاحب
 
وعلیکم السلام۔ آپ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے اور نہایت معقول خیالات کا اظہار کیاہے۔
جو نکات آپ نے بیان کیئے ہیں انکا تو اچھا برا حل ہے۔
اگر کوئی بغیر اطلاع دیئے وارد ہو جائے اور آپ مصروف ہوں تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ معاف کیجیئے ہم اس وقت وقت نہیں دے سکتے تو آئندہ کے لیئے اسے نصیحت ہو جانی چاہیئے۔اسی طرح دوسری صورتِ احوال سے بھی کم از کم وقتی طور پر نپٹا جا سکتا ہے۔
ایک بات جس پر آپکا اپنا اختیار نہیں ہوتا اور جس سے آپکی توہین ہوتی ہے(اگراسکااحساس ہی نہ ہو تو اور بات ہے) یہ ہے کہ کوئی آپ کو وقت دے کرجائے ملاقات پر بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر سے پہنچے۔آپ وقتِ مقررہ پر پہنچ کر انتظار کر رہے ہوں اور یہ صاحب گھر بیٹھے ٹیلی پر اپنا پسندیدہ پروگرام ملاحظہ فرما رہے ہوں۔ اور زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ پنجگانہ نماز پڑھنے والے بھی دوسروں کو انتظار کرواتے ہیں۔انکی نماز انہیں وقت کی پابندی بھی نہیں سکھاتی۔
ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لیئے گئے۔ لوگ دور دور سے بھی گئے ہوئے تھے۔ مقررہ وقت پر کھانا تیار تھا کہ صاحبِ صدر تشریف لائیں گے اور کھانے کے بعد مشاعرہ شروع کیا جائے گا۔ صاحبِ صدر تین گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ منتظمین نے تمام شرکت کرنے والوں کو انکا انتظار کروایا۔ ہم سے تو رہا نہ گیا۔ صاحب صدر سے کہہ دیا کہ آج جناب نے ہمیں جبری روزہ رکھوایا ہے۔
واعظ ہوں یاکہ حضرتِ ناصح ہوں یا کہ شیخ
ہم تو سنا ہی دیتے ہیں سب کو کھری کھری
داغ؟
ہماری یہ بات سن کر،  بجائے اسکے کہ معذرت ہی کر دیتے، انہوں نے دانت نکال دیئے۔
در اصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوستوں یاروں یا ان لوگوں کی خاطر جو ہمارا کوئی کام کر سکتے ہوں، اصولوں کو، چاہے وہ دینی ہوں یا اخلاقی، توڑ دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کی خواہشات کے آگے، چاہے وہ سرا سر کسی اصول یا دینی اقدار کے خلاف ہوں، سرِ تسلیم خم کر دیں گے چاہے اپنی اس روش سے ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے یا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے۔
اسکی مزید وجوہات پر آپ اور دیگر اراکینِ فورم سے درخواست ہے کہ غور فرمائیں اور ہمارے علم میں اضافہ کر کے مشکور فرمائیں۔
آخر میں ایک شعر؛
دن کو کرتے ہیں رات کا وعدہ شب کو دن کا فریب دیتے ہیں
انکے وعدوں کا کچھ یقیں تو نہیں آج کا دن بھی دیکھ لیتے ہیں
داغ؟
 
والسلام
فاروق
  
 


 
Date: Tue, 1 Jan 2013 10:52:00 +0530
Subject: {17934} وقت کی اہمیت
From: hath...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com; bazme...@gmail.com

وقت کی اہمیت

farooq ahmed

unread,
Jan 1, 2013, 7:04:26 PM1/1/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu
جناب مخلص صاحب
 
بہت شکریہ۔ مندرجہ ذیل بات  میرے ذہن میں نہیں تھی  لیکن ہوگی ضرور۔  
وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم / کمی کا سبب بنتا ہے۔



اسکے علاوہ اور کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور انکا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے اور اکثریت کا وقت پر نہ پہنچنا کن وجوہات کی بنا پر ہوتا  ہے؟

 

فاروق 


Date: Tue, 1 Jan 2013 12:40:56 -0800
From: aap...@yahoo.com
Subject: Re: {17949} وقت کی اہمیت
To: BAZMe...@googlegroups.com

aapka Mukhlis

unread,
Jan 2, 2013, 3:38:23 AM1/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب فاروق صاحب
تصحیح کا شکریہ۔ جلدی میں اور نظر ثانی نہ کرنے کی وجہ سے غلطی رہ گئی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کبھی بھی ہماری تقاریب میں مہمانِ خصوصی وقت پر نہیں پہنچتے۔
ہمیشہ برائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔اور اسی طرح اچھائی بھی۔
اگر بالائی طبقہ، اربابِ بست و کشاد وقت کی پابندی کریں ، افسران خود وقت کے پابند ہوں تو سارا عملہ خود بخود وقت کا پابند ہو جاتا ہے۔
والسلام
مخلص

From: farooq ahmed <farooq...@hotmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, January 2, 2013 3:04 AM
Subject: RE: {17967} وقت کی اہمیت

جناب مخلص صاحب
 
بہت شکریہ۔ مندرجہ ذیل بات  میرے ذہن میں نہیں تھی  لیکن ہوگی ضرور۔  
وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم / کمی کا سبب بنتا ہے۔


اسکے علاوہ اور کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور انکا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے اور اکثریت کا وقت پر نہ پہنچنا کن وجوہات کی بنا پر ہوتا  ہے؟
 
فاروق 

aapka Mukhlis

unread,
Jan 2, 2013, 3:38:48 AM1/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب فاروق صاحب
تصحیح کا شکریہ۔ جلدی میں اور نظر ثانی نہ کرنے کی وجہ سے غلطی رہ گئی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کبھی بھی ہماری تقاریب میں مہمانِ خصوصی وقت پر نہیں پہنچتے۔
ہمیشہ برائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔اور اسی طرح اچھائی بھی۔
اگر بالائی طبقہ، اربابِ بست و کشاد وقت کی پابندی کریں ، افسران خود وقت کے پابند ہوں تو سارا عملہ خود بخود وقت کا پابند ہو جاتا ہے۔
والسلام
مخلص

Sent: Wednesday, January 2, 2013 3:04 AM
Subject: RE: {17967} وقت کی اہمیت
جناب مخلص صاحب
 
بہت شکریہ۔ مندرجہ ذیل بات  میرے ذہن میں نہیں تھی  لیکن ہوگی ضرور۔  
وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم / کمی کا سبب بنتا ہے۔


اسکے علاوہ اور کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور انکا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے اور اکثریت کا وقت پر نہ پہنچنا کن وجوہات کی بنا پر ہوتا  ہے؟
 
فاروق 

Fazal Abbas

unread,
Jan 2, 2013, 8:35:13 AM1/2/13
to bazme...@googlegroups.com

 اسلام علیکم۔

جناب عالی فاروق ساحب، آپ کا مراسلہ پڑھنے میں دقت ہوتی ہے کیونکہ اس میں کسی کسی حرف کی جگہ باکس بن جاتے ہیں۔ ایک دو تو اندازہ لگا کر پڑھ بھی لئے جاتے ہیں مگر سارے الفاظ سمجھ میں نہیں آتے۔

کیا اس کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے ،مثلا کوئی سافٹ ویئر وغیرہ جسمیں اردو فانٹ سب کے سب مل جائیں۔ عربی میں کوئی کوئی حرف اردو کا نہیں ملتا۔

اگر کوئی صاحب حل بتا دیں تو بہت اچھا ہو ۔ آپ کے لکھنے  کا پورا فائدہ نہیں مل پاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فضل عبّاس۔ 
 



Subject: RE: {17967} وقت کی اہمیت
Date: Wed, 2 Jan 2013 00:04:26 +0000

Md. Athar Hussain Nadwi

unread,
Jan 2, 2013, 6:41:26 AM1/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
تائيد كرنے کے لئے شكريه جناب فاروق صاحب

2013/1/2 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>

farooq ahmed

unread,
Jan 3, 2013, 6:58:01 PM1/3/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

جناب مخلص صاحب

 

آپ فرما رہے ہیں کہ؛

 

ہمیشہ برائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔اور اسی طرح اچھائی بھی۔

 

لیکن ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جیسی رعایا ہوتی ہے اس پر ویسے ہی حکمران مقرر کر دیئے جاتے ہیں (حدیث؟)

 

میرے خیال میں مندرجہ بالا دو متضاد باتوں میں سے ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔

 

تو ان میں سے کس بات کو صحیح سمجھا جائے۔ اگرحدیث کے مطابق رعایا کے برے ہونے کی وجہ سے برے حکمران اوپر آتے ہیں تو پھر برائی نیچے والوں نے خود اوپر بھیجی اور ریایا کو اپنے کیئے کا پھل ملا۔ اور یونہی اسکے برعکس۔

 

اور اگر بقول آپکے برائی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتی ہے تو پھر حدیث کے متعلق کیا سمجھا جائے۔ اس صورت میں یعنی اگر برائی ہمیشہ اوپر سے ہی نیچے آتی ہے تو نیچے والے تو بے قصور ہوئے۔ یہ کلیہ تو حدیث کے بر عکس ہوا۔

 

میرے خیال میں تو یہ حدیث درست ہے۔

 

گندم از گندم بروید جو زجو

از مکافاتِ عمل غافل مشو

 

اور جو اچھائی یا برائی اوپر سے ڈنڈے کے زور سے تالیفِ قلوب کے بغیرٹھونسی جائیگی وہ تو دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔

 

والسلام

فاروق



 


Date: Wed, 2 Jan 2013 00:38:23 -0800
From: aap...@yahoo.com
Subject: Re: {17972} وقت کی اہمیت
To: BAZMe...@googlegroups.com

farooq ahmed

unread,
Jan 3, 2013, 6:11:54 PM1/3/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

جناب فضل عباس صاحب

 
یہ مجھے پہلی بار آپ نے بتایا ہے۔ اس سے پہلے کسی نے میری توجہ اس طرف مبذول نہیں کروائی۔
ویسے میں لکھتا بھی کیا ہوں۔ بقولِ شاعر؛
 
جو کچھ منہ میں آیا سو بکتا گیا میں
زباں کھل گئی تھی شکایت پہ اسکی
 
خوشی ہوئی کہ آپ میرا جیسا کیسا لکھا ہوا پڑھتے ہیں۔
 
یہ سطورمیں مختلف فونٹ سے لکھ رہا ہوں اگر اس میں بھی وہی مسئلہ ہے تو بتائیے گا۔ شاید کوئی صاحب اسکا حل بتا سکیں۔
 
شکریہ
فاروق



 

From: abbas...@hotmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: RE: {17979} وقت کی اہمیت
Date: Wed, 2 Jan 2013 13:35:13 +0000

rizwan abid

unread,
Jan 4, 2013, 2:53:53 AM1/4/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Burai ooper se neechay aati hai aur acchai neechay se ooper jaati hai.Qaumein badshahon se nahin awaam se banti hain.Jaisi parja waisa raja.Huzoor ne farmaya ke jab amanat zaya kar di jae tou qayamat ka intezaar karo.yani jab haakim na ahal hojaen to qayamat ka intezaar karo.Azaadi ke fouran baad MP azadi ke matwaalay desh premi hua kartay thay aur ab daku,khooni,gunday,badmaash jahil,zani,aur woh loag MP hotay hain jin se awaam darti hai.
Rizwan Abid Quraishi
New Delhi

--- On Fri, 4/1/13, farooq ahmed <farooqa...@gmail.com> wrote:

aapka Mukhlis

unread,
Jan 4, 2013, 2:38:38 PM1/4/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی و مکرمی فاروق صاحب
آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ اور یہ آپ کا خیال نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ حدیث درست ہے۔ مگر یہ اللہ کا کام ہے کہ جیسے لوگ ہوتے ہیں ویسے ان پر حکمران مسلط کردیے جاتے ہیں۔
میں یہ کہہ رہا تھا کہ عوام اور رعایا کیا کرتے ہیں۔جو طرزِ عمل حکمران کا ہوتا ہے یا کسی افسر کا،تو اس کے ما تحت اس کی خوشی کے لیے وہی طرزِ عمل اپناتے ہیں۔ اگر وہ بددیانت ہوتو ماتحت بھی بددیانتی اور ظلم پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اور وہ محنتی اور دیانت دار ہو تو طوعا ًو کرہاً بھی اس کے ماتحت وہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ پھران کے ماتحت اور اسی طرح ان سے نیچے تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  مجدد الف اول ،عمر ثانی،حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور سے پہلے عام لوگ مال و دولت، کنیزوں، رقص و سرود، شاعری و موسیقی وغیرہ کی باتیں کرتے تھے اپنی مجالس میں۔ مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں لوگوں کے موضوعات ہی تبدیل ہوگئے۔ اب وہ تلاوت، تفسیر،حدیث،نوافل،عبادات کے بارےمیں باتیں کرنے لگے۔ اسی وجہ سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو قبولِ اسلام کے لیے دعوتی خط لکھا تو اس میں یہ جملہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو تمھاری رعایا کا بار بھی قیامت کے دن تمھاری گردن پر ہوگا۔
رہی یہ بات کہ اچھائی یا برائی کو ڈنڈے کے زور پر ٹھونسا گیا تو  دیرپا ثابت نہیں ہوگا، لیکن کیا لوگوں کے ذہنی طور پر قبول کرنے تک ظالم کو ظلم اور شیطان کو شیطنیت کی کھلی چھٹی دینی چاہیے۔ قانون تو فوری عمل درآمد کا تقاضا کرتا ہے۔یہاں تک ماحول اتنا پاک صاف ہوجائے کہ پاکیزگی لوگوں کی فطرت بن جائے۔والدین کا طرزِ عمل، ، رہن سہن، حتیٰ کہ اندازِ گفتگو تک بچوں کی فطرت میں سرایت کرجاتا ہے۔والدین خود سترپوش لباس کی پابندی کرتے ہیں اور بچوں کی سترپوشی کا خیال رکھتے ہیں تو بچوں میں بھی اسی سطح کی شرم و حیا کے جذبات فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس کی مثال آپ جنگلی غیر متمدن قبائل اور مسلمانوں کے لباس کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
والسلام
مخلص

From: farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Friday, January 4, 2013 2:58 AM
Subject: RE: {18051} وقت کی اہمیت

جناب مخلص صاحب
 

آپ فرما رہے ہیں کہ؛
 
ہمیشہ برائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔اور اسی طرح اچھائی بھی۔
 
لیکن ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جیسی رعایا ہوتی ہے اس پر ویسے ہی حکمران مقرر کر دیئے جاتے ہیں (حدیث؟)
 
میرے خیال میں مندرجہ بالا دو متضاد باتوں میں سے ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔
 
تو ان میں سے کس بات کو صحیح سمجھا جائے۔ اگرحدیث کے مطابق رعایا کے برے ہونے کی وجہ سے برے حکمران اوپر آتے ہیں تو پھر برائی نیچے والوں نے خود اوپر بھیجی اور ریایا کو اپنے کیئے کا پھل ملا۔ اور یونہی اسکے برعکس۔
 
اور اگر بقول آپکے برائی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتی ہے تو پھر حدیث کے متعلق کیا سمجھا جائے۔ اس صورت میں یعنی اگر برائی ہمیشہ اوپر سے ہی نیچے آتی ہے تو نیچے والے تو بے قصور ہوئے۔ یہ کلیہ تو حدیث کے بر عکس ہوا۔
 
میرے خیال میں تو یہ حدیث درست ہے۔
 
گندم از گندم بروید جو زجو
از مکافاتِ عمل غافل مشو
 
اور جو اچھائی یا برائی اوپر سے ڈنڈے کے زور سے تالیفِ قلوب کے بغیرٹھونسی جائیگی وہ تو دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔
 
والسلام
فاروق

farooq ahmed

unread,
Jan 4, 2013, 7:09:38 PM1/4/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

 جناب مخلص صاحب

 
اپنی تحریر میں قوسین کے درمیان ہماری گزارشات ملاحظہ فرمائیے؛



 

Date: Fri, 4 Jan 2013 11:38:38 -0800
From: aap...@yahoo.com
Subject: Re: {18079} وقت کی اہمیت
To: BAZMe...@googlegroups.com

محترمی و مکرمی فاروق صاحب
آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ اور یہ آپ کا خیال نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ حدیث درست ہے۔ مگر یہ اللہ کا کام ہے کہ جیسے لوگ ہوتے ہیں  [[کیا اللہ لوگوں کےاعمال کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا؟ کیا اللہ کے کام اسکے قانون کے مطابق نہیں ہوتے ؟  ولن تجد لسنت اللہ تبدیلا]] ویسے ان پر حکمران مسلط کردیے جاتے ہیں۔
میں یہ کہہ رہا تھا کہ عوام اور رعایا کیا کرتے ہیں۔جو طرزِ عمل حکمران کا ہوتا ہے یا کسی افسر کا،تو اس کے ما تحت اس کی خوشی کے لیے وہی طرزِ عمل اپناتے ہیں۔ اگر وہ بددیانت ہوتو ماتحت بھی بددیانتی اور ظلم پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ محنتی اور دیانت دار ہو تو طوعا ًو کرہاً بھی اس کے ماتحت وہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ پھران کے ماتحت اور اسی طرح ان سے نیچے تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے [[ایسا اسی صورت میں ہوتا ہے جب کسی معاشرے میں  با کردار لوگوں کی کمی ہوتی ہے اور ظاہر ہے سو نکٹوں میں ایک ناک والا نکو ہی کہلائے گا]]۔  یہی وجہ ہے کہ  مجدد الف اول ،عمر ثانی،حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور سے پہلے عام لوگ مال و دولت، کنیزوں، رقص و سرود، شاعری و موسیقی وغیرہ کی باتیں کرتے تھے اپنی مجالس میں۔ مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں لوگوں کے موضوعات ہی تبدیل ہوگئے [[ ان حضرات نے تگ و دو کر کے ایسے اصحاب تیار کیے ہونگے جنکی باتوں پر لوگ توجہ دیتے ہونگے اور علی وجہ البصیرت نیکی کی طرف مائل ہوئے ہونگے۔ ایسا تو نہیں ہوا ہو گا کہ لوگ ان ہستیوں کو خوش کرنے کے لئے یا انکے ڈرانے دھمکانے کے سبب منافقت سے نیک کام محض دکھاوے کے لئے کرتے ہونگے]]۔ اب وہ تلاوت، تفسیر،حدیث،نوافل،عبادات کے بارےمیں باتیں کرنے لگے۔ اسی وجہ سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو قبولِ اسلام کے لیے دعوتی خط لکھا تو اس میں یہ جملہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو تمھاری رعایا کا بار بھی قیامت کے دن تمھاری گردن پر ہوگا۔
رہی یہ بات کہ اچھائی یا برائی کو ڈنڈے کے زور پر ٹھونسا گیا تو  دیرپا ثابت نہیں ہوگا، لیکن کیا لوگوں کے ذہنی طور پر قبول کرنے تک ظالم کو ظلم اور شیطان کو شیطنیت کی کھلی چھٹی دینی چاہیے۔ قانون تو فوری عمل درآمد کا تقاضا کرتا ہے  [[قانون تو اسی وقت نافذ کیا جا سکتا ہے جب قانون نافذ کرنے والوں کے پاس طاقت ہو گی اور ان لوگوں کی اکثریت ہو گی جو قانون کو  قبول کرتے ہونگے۔ رسول اللہ صلعم اور انکے صحابہ رضی اللہ عنہم  کے طریقے پر نظر ڈال لیں ۔ جب ابتداء  میں اسلام کی دعوت  عام کرنے کی سعی کی گئی تو مکہ میں مسلمانوں پر کیا کیا ظلم و ستم نہیں ہوئے۔ شعب ابی طالب، عام الحزن کے واقعات ہوئے تو کیا وہاں مسلمانوں نے کسی قانون کو نافذ کرنے کی فوری کوشش کی؟  انہوں نے وہاں ایسا نہیں کیا بلکہ حکمت سے تعلیم و تربیت کو عام کرتے رہے۔ ہجرت کرنی پڑی اور جب مدینہ میں جاکر قوت حاصل ہوئی اور ایک اکثریت کواسکی دلی رضامندی سے اپنے ساتھ ملا لیا تو ایک  شان کے ساتھ واپس مکہ تشریف لائے۔ قانون نافذ کرنے کے لیئے نہ خون بہانا پڑا نہ معاذاللہ دہشت گردی کرنی پڑی۔ لوہا گرم کر کے اسے موڑا۔ ٹھنڈے لوہے پر ہتھوڑے چلا کر وقت ضائع نہیں کیا، نہ خون خرابہ کیا۔]] ۔یہاں تک ماحول اتنا پاک صاف ہوجائے کہ پاکیزگی لوگوں کی فطرت بن جائے۔والدین کا طرزِ عمل، ، رہن سہن، حتیٰ کہ اندازِ گفتگو تک بچوں کی فطرت میں سرایت کرجاتا ہے۔والدین خود سترپوش لباس کی پابندی کرتے ہیں اور بچوں کی سترپوشی کا خیال رکھتے ہیں تو بچوں میں بھی اسی سطح کی شرم و حیا کے جذبات فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں [[میرے خیال میں والدین اور بچوں کا معاملہ حکام اور رعایا کے معاملے سے مختلف ہے۔ جس طرح ماں باپ یا اساتذہ بچوں کی کردار سازی کر سکتے ہیں اسطرح حکام یا حکومت نہیں کر سکتے]] ۔اس کی مثال آپ جنگلی غیر متمدن قبائل اور مسلمانوں کے لباس کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages