وقت کی اہمیت
السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ
دوستو وقت کی اہمیت
سے تو ہر کوئ واقف ہوگا۔ کہتے ہیں کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ اسی طرح یہ بھی مشہور
ہے کہ اگر آپ وقت کی قدر نہ کریں تو وقت آپ کو روندتا ہوا آگے چلا جاتا ہے اور
آپ کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ اور یہ کہ ناکام لوگ وقت کی کمی کا رونا
روتے رہتے ہیں اور کامیاب لوگ جو وقت میسر ہو اسے بھرپور طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔
اگر ہم ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بات پر غور کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہاں بھی وقت کی بہت اہمیت ہے۔
نماز ہمارے دین کا ایک بنیادی ستون۔ نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اگر نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔
زکات کے قابل ادا ہونے کا انحصار بھی دولت کا ایک معینہ وقت تک آپ کے پاس موجود ہونے پر ہے۔ اور اگر اس مقررہ مدت یعنی ایک سال پورا ہونے پر ادا نہ کی تو بھی وہ گناہ گار ٹھرے گا۔
اسی طرح ہم روزوں کے حوالے سے دیکھیں تو روزے ہم پر سال کے ایک خاص مہینے یعنی رمضان کے مہینے میں رکھنے فرض ہیں اور سحر و افطار کا ایک خاص وقت معین ہے۔
حج بھی سال کے ایک معین مہینہ یعنی ذی الحج میں ہی ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔
اگر ہم عام اور روز مرہ زندگی کا جائزہ لیں تو ہمارے تمام امور کا انحصار وقت پر ہی ہے۔
اگر ہم کوئ نوکری وغیرہ کرتے ہیں تو ہماری روزانہ ڈیوٹی کی ایک خاص وقت متعین ہوتا ہے۔ اگر ہم اس مقررہ وقت سے زیادہ ڈیوٹی انجام دیں تو اوور ٹائم کے حقدار ٹھرتے ہیں ۔ اور اگر کم کریں گے تو ہماری تنخواہ کاٹی بھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح جب کسی بھی کمپنی کو کوئ پروجیکٹ وغیرہ اوارڈ کیا جاتا ہے تو اس پروجیکٹ کو ایک خاص وقت تک مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر نہ کیا جاۓ تو اس جرمانے وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح عام زندگی کی بہت سی مثالیں وقت کی اہمیت کے حوالے سے دی جاسکتی ہیں۔ اب دیکھیۓ نا کل ہی کی بات ہے جمعہ کے اردو نیوز کی خبر کے مطابق ہماری ایک محترم وزیر نے چینی وفد کو ملاقات کا ٹائم دیا اور وفد تقریبا ڈیڑھ گھنٹا انتظار کرنے کے بعد ناراض ہو کر واپس چلا گیا۔ محترمہ جب اپنے آفس پہنچی تو انہوں نے اپنے اسٹاف ہے کہا کہ انہیں دوبارہ بلائیں۔ جب انہوں نے چین کے سفارت خانے فون کیا تو جواب ملا کہ اب ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ سب اس لیۓ ہوا کہ محترمہ وزیر صاحبہ نے وقت کی پابندی نہیں کی۔
دوستو یہ ساری تمہید اس لیۓ باندھی کہ وقت کے حوالے سے ایک نہایت اہم امر کی طرف توجہ دلا سکوں۔ عام طور پر میں گھر سے آفس کے لیۓ 9 بجے تک نکلتا ہوں اور اس کے بعد دوبجے گھر واپس آکر 30۔4 بجے دوبارہ گھر سے نکلتا ہوں اور رات 9 بجے تک واپسی ہوتی ہے۔ صبح گھر سے نکلنے ہے پہلے ہی ذہن میں دن کی مصروفیت کے حوالے سے کی ترتیب دی ہوتی ہے اور عام طور پر اسی ترتیب پر عمل کرتا ہوں۔ بدھ کے روز میں اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا اور کچھ پیپرز مجھے ایک بجے سے پہلے مکمل کرنے تھے۔ صبح تقریبا 10 بجے میرے ایک جاننے والے بغیر اطلاع میرے آفس آ پہنچے۔ میں کچھ حیران ہوا کہ یہ اپنی اور میری ڈیوٹی کے وقت کیسے ملنے آگۓ۔ آتے ہی کہنے لگے کہ میں ادھر سے گذر رہا تھا سوچا آپ سے ملتا چلوں۔ میں نے دل میں سوچا کہ کوئ بات نہیں تھوڑی دیر بیٹھیں گے اور چلے جائیں گے۔ خیر باتیں شروع ہوئیں آدھا گھنٹہ گذرا، ایک گھنٹہ بھی گذر گیا اب میں سوچنے لگا کہ کام کیسے مکمل کروں گا۔ تو جناب ہوا یہ کہ وہ صاحب تین گھنٹے سے زیادہ میرے پاس بیٹھے رہے۔ کام کرنا تو درکنار میں یہ سوچنے لگا کہ یہ اب واپس جائیں گے بھی یا نہیں۔ باتوں باتوں میں ان کے اتنی دیر تک بیٹھنے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئ وہ یہ کہ موصوف ایک کمپنی میں سیلز مینیجر ہیں۔ اور انہوں نے اپنا اس مہینے کا ٹارگیٹ پورا کردیا تھا۔ اب ان کے پاس وقت کی فراغت تھی۔ تو انہوں نے سوچا کہ میرے پاس بیٹھ کر وقت پاس کیا جاۓ۔ میں نے ایک اور بات سوچی وہ یہ کہ آج یہ میرے پاس آۓ ہیں کل کسی اور کا وقت بھی اسی طرح ضائع کریں گے۔ خیر وہ تو چلے گۓ مگر مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گۓ۔ اور چند باتیں میرے ذہن میں آئیں جنہیں میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور ان پر آپ کی راۓ کا منتظر رہوں گا۔
1- کسی بھی دوست یا ملنے والے کے پاس بغیر اطلاع کے نہ جایا جاۓ۔
2- اور اگر اطلاع دے کر بھی جائیں تو اتنی دیر تک نہ بیٹھیں کا آپ کا میزبان یہ سوچنے لگے کہ اب یہ جائیں گے بھی یا نہیں۔
3- جانے کا وقت ایسا منتخب کیا جاۓ جو میزبان کے آرام یا کسی اور مصروفیت کا وقت نہ ہو۔
4- اگر بچوں کے امتحان وغیرہ کے دن ہوں تو کسی کے ہاں جانے سے اجتناب کیا جاۓ تاکہ بچوں کی پڑھائ میں حرج نہ ہو۔
5- کسی دوست وغیرہ کے کام کے اوقات میں مخل نہ ہوا جاۓ اور اس کے یا کام کی جگہ جانے سے پرہیز کیا جاۓ۔ اور اگر جانا ضروری ہو تو مختصر وقت تک ٹھرا جاۓ تاکہ آپ کے دوست کے کام کا حرج نہ ہو۔
6- آخری اور بہت ضروری بات وہ یہ کہ آپ نے اپنے کسی دوست کو فون کیا کہ میں آرہا ہوں مگر آپ کے دوست نے کوئ عذر پیش کر دیا تو اس بات پر ناراض ہونے کے بجاۓ اس کے عذر کو تسلیم کیا جاۓ۔
یہ چند باتیں میرے ذہن میں تھیں جنہیں میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دوستوں کے ذہن میں کوئ اور بات ہو تو وہ بھی سب کی معلومات کے لیۓ یہاں شئر کر دیں ۔
محترم جناب ندوی صاحب
وعلیکم السلام۔ آپ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے اور نہایت معقول خیالات کا اظہار کیاہے۔
جو نکات آپ نے بیان کیئے ہیں انکا تو اچھا برا حل ہے۔
اگر کوئی بغیر اطلاع دیئے وارد ہو جائے اور آپ مصروف ہوں تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ معاف کیجیئے ہم اس وقت وقت نہیں دے سکتے تو آئندہ کے لیئے اسے نصیحت ہو جانی چاہیئے۔اسی طرح دوسری صورتِ احوال سے بھی کم از کم وقتی طور پر نپٹا جا سکتا ہے۔
ایک بات جس پر آپکا اپنا اختیار نہیں ہوتا اور جس سے آپکی توہین ہوتی ہے(اگراسکااحساس ہی نہ ہو تو اور بات ہے) یہ ہے کہ کوئی آپ کو وقت دے کرجائے ملاقات پر بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر سے پہنچے۔آپ وقتِ مقررہ پر پہنچ کر انتظار کر رہے ہوں اور یہ صاحب گھر بیٹھے ٹیلی پر اپنا پسندیدہ پروگرام ملاحظہ فرما رہے ہوں۔ اور زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ پنجگانہ نماز پڑھنے والے بھی دوسروں کو انتظار کرواتے ہیں۔انکی نماز انہیں وقت کی پابندی بھی نہیں سکھاتی۔
ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لیئے گئے۔ لوگ دور دور سے بھی گئے ہوئے تھے۔ مقررہ وقت پر کھانا تیار تھا کہ صاحبِ صدر تشریف لائیں گے اور کھانے کے بعد مشاعرہ شروع کیا جائے گا۔ صاحبِ صدر تین گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ منتظمین نے تمام شرکت کرنے والوں کو انکا انتظار کروایا۔ ہم سے تو رہا نہ گیا۔ صاحب صدر سے کہہ دیا کہ آج جناب نے ہمیں جبری روزہ رکھوایا ہے۔
واعظ ہوں یاکہ حضرتِ ناصح ہوں یا کہ شیخ
ہم تو سنا ہی دیتے ہیں سب کو کھری کھری
داغ؟
ہماری یہ بات سن کر، بجائے اسکے کہ معذرت ہی کر دیتے، انہوں نے دانت نکال دیئے۔
در اصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوستوں یاروں یا ان لوگوں کی خاطر جو ہمارا کوئی کام کر سکتے ہوں، اصولوں کو، چاہے وہ دینی ہوں یا اخلاقی، توڑ دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کی خواہشات کے آگے، چاہے وہ سرا سر کسی اصول یا دینی اقدار کے خلاف ہوں، سرِ تسلیم خم کر دیں گے چاہے اپنی اس روش سے ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے یا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے۔
اسکی مزید وجوہات پر آپ اور دیگر اراکینِ فورم سے درخواست ہے کہ غور فرمائیں اور ہمارے علم میں اضافہ کر کے مشکور فرمائیں۔
آخر میں ایک شعر؛
دن کو کرتے ہیں رات کا وعدہ شب کو دن کا فریب دیتے ہیں
انکے وعدوں کا کچھ یقیں تو نہیں آج کا دن بھی دیکھ لیتے ہیں
داغ؟
والسلام
فاروق
From: farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, January 1, 2013 10:32 PM
Subject: RE: {17945} وقت کی اہمیت
محترم جناب ندوی صاحبوعلیکم السلام۔ آپ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے اور نہایت معقول خیالات کا اظہار کیاہے۔جو نکات آپ نے بیان کیئے ہیں انکا تو اچھا برا حل ہے۔اگر کوئی بغیر اطلاع دیئے وارد ہو جائے اور آپ مصروف ہوں تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ معاف کیجیئے ہم اس وقت وقت نہیں دے سکتے تو آئندہ کے لیئے اسے نصیحت ہو جانی چاہیئے۔اسی طرح دوسری صورتِ احوال سے بھی کم از کم وقتی طور پر نپٹا جا سکتا ہے۔ایک بات جس پر آپکا اپنا اختیار نہیں ہوتا اور جس سے آپکی توہین ہوتی ہے(اگراسکااحساس ہی نہ ہو تو اور بات ہے) یہ ہے کہ کوئی آپ کو وقت دے کرجائے ملاقات پر بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر سے پہنچے۔آپ وقتِ مقررہ پر پہنچ کر انتظار کر رہے ہوں اور یہ صاحب گھر بیٹھے ٹیلی پر اپنا پسندیدہ پروگرام ملاحظہ فرما رہے ہوں۔ اور زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ پنجگانہ نماز پڑھنے والے بھی دوسروں کو انتظار کرواتے ہیں۔انکی نماز انہیں وقت کی پابندی بھی نہیں سکھاتی۔ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لیئے گئے۔ لوگ دور دور سے بھی گئے ہوئے تھے۔ مقررہ وقت پر کھانا تیار تھا کہ صاحبِ صدر تشریف لائیں گے اور کھانے کے بعد مشاعرہ شروع کیا جائے گا۔ صاحبِ صدر تین گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ منتظمین نے تمام شرکت کرنے والوں کو انکا انتظار کروایا۔ ہم سے تو رہا نہ گیا۔ صاحب صدر سے کہہ دیا کہ آج جناب نے ہمیں جبری روزہ رکھوایا ہے۔واعظ ہوں یاکہ حضرتِ ناصح ہوں یا کہ شیخہم تو سنا ہی دیتے ہیں سب کو کھری کھریداغ؟ہماری یہ بات سن کر، بجائے اسکے کہ معذرت ہی کر دیتے، انہوں نے دانت نکال دیئے۔در اصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوستوں یاروں یا ان لوگوں کی خاطر جو ہمارا کوئی کام کر سکتے ہوں، اصولوں کو، چاہے وہ دینی ہوں یا اخلاقی، توڑ دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کی خواہشات کے آگے، چاہے وہ سرا سر کسی اصول یا دینی اقدار کے خلاف ہوں، سرِ تسلیم خم کر دیں گے چاہے اپنی اس روش سے ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے یا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے۔اسکی مزید وجوہات پر آپ اور دیگر اراکینِ فورم سے درخواست ہے کہ غور فرمائیں اور ہمارے علم میں اضافہ کر کے مشکور فرمائیں۔آخر میں ایک شعر؛دن کو کرتے ہیں رات کا وعدہ شب کو دن کا فریب دیتے ہیںانکے وعدوں کا کچھ یقیں تو نہیں آج کا دن بھی دیکھ لیتے ہیںداغ؟والسلامفاروق
Date: Tue, 1 Jan 2013 10:52:00 +0530
Subject: {17934} وقت کی اہمیت
From: hath...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com; bazme...@gmail.comوقت کی اہمیت
فاروق
From: farooq ahmed <farooq...@hotmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, January 2, 2013 3:04 AM
Subject: RE: {17967} وقت کی اہمیت
جناب مخلص صاحببہت شکریہ۔ مندرجہ ذیل بات میرے ذہن میں نہیں تھی لیکن ہوگی ضرور۔وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم / کمی کا سبب بنتا ہے۔
اسکے علاوہ اور کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور انکا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے اور اکثریت کا وقت پر نہ پہنچنا کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے؟فاروق
From: farooq ahmed <farooq...@hotmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, January 2, 2013 3:04 AM
Subject: RE: {17967} وقت کی اہمیت
جناب مخلص صاحببہت شکریہ۔ مندرجہ ذیل بات میرے ذہن میں نہیں تھی لیکن ہوگی ضرور۔وقت پر پہنچنا ہماری خصوصی اہمیت میں کم / کمی کا سبب بنتا ہے۔
اسکے علاوہ اور کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور انکا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے اور اکثریت کا وقت پر نہ پہنچنا کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے؟فاروق
اسلام علیکم۔
جناب عالی فاروق ساحب، آپ کا مراسلہ پڑھنے میں دقت ہوتی ہے کیونکہ اس میں کسی کسی حرف کی جگہ باکس بن جاتے ہیں۔ ایک دو تو اندازہ لگا کر پڑھ بھی لئے جاتے ہیں مگر سارے الفاظ سمجھ میں نہیں آتے۔
کیا اس کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے ،مثلا کوئی سافٹ ویئر وغیرہ جسمیں اردو فانٹ سب کے سب مل جائیں۔ عربی میں کوئی کوئی حرف اردو کا نہیں ملتا۔
اگر کوئی صاحب حل بتا دیں تو بہت اچھا ہو ۔ آپ کے لکھنے کا پورا فائدہ نہیں مل پاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضل عبّاس۔
جناب مخلص صاحب
آپ فرما رہے ہیں کہ؛
لیکن ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جیسی رعایا ہوتی ہے اس پر ویسے ہی حکمران مقرر کر دیئے جاتے ہیں (حدیث؟)
میرے خیال میں مندرجہ بالا دو متضاد باتوں میں سے ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔
تو ان میں سے کس بات کو صحیح سمجھا جائے۔ اگرحدیث کے مطابق رعایا کے برے ہونے کی وجہ سے برے حکمران اوپر آتے ہیں تو پھر برائی نیچے والوں نے خود اوپر بھیجی اور ریایا کو اپنے کیئے کا پھل ملا۔ اور یونہی اسکے برعکس۔
اور اگر بقول آپکے برائی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتی ہے تو پھر حدیث کے متعلق کیا سمجھا جائے۔ اس صورت میں یعنی اگر برائی ہمیشہ اوپر سے ہی نیچے آتی ہے تو نیچے والے تو بے قصور ہوئے۔ یہ کلیہ تو حدیث کے بر عکس ہوا۔
میرے خیال میں تو یہ حدیث درست ہے۔
گندم از گندم بروید جو زجو
از مکافاتِ عمل غافل مشو
اور جو اچھائی یا برائی اوپر سے ڈنڈے کے زور سے تالیفِ قلوب کے بغیرٹھونسی جائیگی وہ تو دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔
والسلام
فاروق
جناب فضل عباس صاحب
Burai ooper se neechay aati hai aur acchai neechay se ooper jaati hai.Qaumein badshahon se nahin awaam se banti hain.Jaisi parja waisa raja.Huzoor ne farmaya ke jab amanat zaya kar di jae tou qayamat ka intezaar karo.yani jab haakim na ahal hojaen to qayamat ka intezaar karo.Azaadi ke fouran baad MP azadi ke matwaalay desh premi hua kartay thay aur ab daku,khooni,gunday,badmaash jahil,zani,aur woh loag MP hotay hain jin se awaam darti hai.
Rizwan Abid Quraishi
|
From: farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>
To: "guzargah...@yahoogroups.com Aligarh Urdu" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Friday, January 4, 2013 2:58 AM
Subject: RE: {18051} وقت کی اہمیت
جناب مخلص صاحب
آپ فرما رہے ہیں کہ؛ہمیشہ برائی اوپر سے نیچے آتی ہے۔اور اسی طرح اچھائی بھی۔لیکن ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جیسی رعایا ہوتی ہے اس پر ویسے ہی حکمران مقرر کر دیئے جاتے ہیں (حدیث؟)میرے خیال میں مندرجہ بالا دو متضاد باتوں میں سے ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔تو ان میں سے کس بات کو صحیح سمجھا جائے۔ اگرحدیث کے مطابق رعایا کے برے ہونے کی وجہ سے برے حکمران اوپر آتے ہیں تو پھر برائی نیچے والوں نے خود اوپر بھیجی اور ریایا کو اپنے کیئے کا پھل ملا۔ اور یونہی اسکے برعکس۔اور اگر بقول آپکے برائی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتی ہے تو پھر حدیث کے متعلق کیا سمجھا جائے۔ اس صورت میں یعنی اگر برائی ہمیشہ اوپر سے ہی نیچے آتی ہے تو نیچے والے تو بے قصور ہوئے۔ یہ کلیہ تو حدیث کے بر عکس ہوا۔میرے خیال میں تو یہ حدیث درست ہے۔گندم از گندم بروید جو زجواز مکافاتِ عمل غافل مشواور جو اچھائی یا برائی اوپر سے ڈنڈے کے زور سے تالیفِ قلوب کے بغیرٹھونسی جائیگی وہ تو دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔والسلامفاروق
جناب مخلص صاحب