السلام عليكم و رحمة الله و بركاته،
پاکستان میں انتخابات سر پر ہیں اس مناسبت سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت پر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ کے فتاویٰ ارسال خدمت ہیں.
پر تقصیر؛
ارشاد احمد اعجاز
ٰ
--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
قوافی : قدم،ارم،عدم
ردیف :دیکھتے ہیں
براہ کرم ۲۰ اپریل تک اپنی غزلیں اس پتہ پر بھیجیں
bazme...@googlegroups.com
تنویر پھول، کنوینر بزم قلم عالمی طرحی مشاعرہ
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
جناب ہمایوں صاحب
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کیا یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی جو اخبار پڑھ سکتا ہے وہ ایک اچھے اور با کردار امیدوار کو ووٹ دے گا اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بد دیانت امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں گا؟
اور کیا یہ ضروری ہے کہ جو پڑھ نہیں سکتا وہ غلط امیدوار کا انتخاب کرے گا؟
کیا جو آدمی اخبار نہیں پڑھ سکتا وہ دیکھ اور سن بھی نہیں سکتا؟ کیا وہ کسی امیدوار کے چال چلن کو بھانپ نہیں سکتا اور اسکی کی گزشتہ کارکردگی کے نتائیج سے اسکی اہلیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا؟
والسلام
فاروق
جناب ہمایوں صاحب
میرے خیال میں اس سلسلے میں جو بھی شرائط ہوں یہ ان کے لیئے ہونی چاہیئں جنہوں نے ووٹ لے کر آگے آنا اور ووٹ دینے والوں کی خدمت کرنا ہے۔ انکے یعنی عوامی منائندوں کے فرائض کی نوعیت کے مطابق ان پر شرائط عائد ہونی چاہیئں۔
پڑھائی لکھائی کے افادیت سے مجھے انکار نہیں لیکن ووٹ دینے والے پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں وہ بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ انکی خدمت ہو رہی ہے یا نہیں، انکی ضروریات پوری ہو رہی ہیں یا نہیں۔ وہ اپنے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں۔
بکارِ خویش دیوانہ بھی ہشیار ہوتا ہے؛
یہ دل بے ربط جملوں میں بھی کہہ جاتا ہے مطلب کی
بکارِ خویش دیوانہ بڑا ہشیار ہوتا ہے
یہ جو آپ نے ڈرائیونگ کی مثال دی ہے بڑی اچھی ہے۔ تو عرض ہے کہ ڈرائیونگ تو اسی کو کرنی ہے جس نے ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کیا ہوا ہے لیکن جو ڈرایئونگ نہیں جانتے کیا وہ مختلف ڈرائیورں کے ساتھ سفر کرنے کے بعد اچھے برے ڈرائیور کا فرق نہیں بتا سکتے؟ کیا انہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ کونسے ڈرائیور کے ساتھ انکا سفر آرام سے اور بغیر ہچکولوں کے کٹا اور کونسے ڈرائیور نے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ نہیں رکھا اور اس وجہ سے اگلی گاڑی کے اچانک رکنے پر اسے اچانک زور سے بریک لگانا پڑی اور مسافروں کو بے آرام کیا۔ ضرور بتا سکتے ہیں، اور بغیر کسی ڈرائیونگ تھیری کی کتاب پڑھے بتا سکتے ہیں۔ یہی حال ووٹ دینے والوں کا ہے۔
والسلام
فاروق
ہمایوں رشید صاحب، میرے خیال میں میں نے عوامی نمائندوں کے چناوء کے متعلق اپنا موقف واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اخبار کی چند سطریں پڑھ سکنے والا بہتر نمائندے کا انتخاب کر سکے گا۔ آپکا خیال ہے کہ جو لوگ اخبار نہیں پڑھ سکتے انہیں اپنے نمائندوں کے چناوء کا حق نہیں دینا چاہیئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک میں آپکے موقف پر عمل ہو رہا ہے۔ یا وہاں کے دانشوروں نے کوئی ایسا قانون بنانے کی کوشش کی ہے جسکی رو سے ووٹ وہی لوگ دے سکیں جو اخبار کی چند سطریں پڑھ سکتے ہیں، یا یہ آپکی بنت الفکر یا
brainchild
ہے؟
رانا صاحب
برین چائلڈ کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہےہیں۔
اسکا مطلب ہے؛
آئیڈیا پروڈیوسڈ بائی کریئیٹِو تھاٹ یعنی تخلیقی قوتِ خیال سے کوئی تصور پیش کرنا۔ عربی میں اسکا مترادف بنت الفکر ہے۔
معافی چاہتا ہوں اگر آپکی دلآزاری ہوئی ہو۔
پڑھائی پر ضرور توجہ دینی چاہیئے لیکن ووٹ ڈالنے کی کوالیفیکیشن کے لیئے نہیں۔
اب میرے سوال کا جواب دیجئے؛
ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیئے۔ کیا کسی غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کے کسی دانشور نے یہ کہا ہو کہ ووٹ انہی کو دینا چاہیئے جو اخبار پڑھ سکتے ہوں اور جو نہ پڑھ سکتے ہوں ان پر پابندی لگا دی جائے؟