انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت ٰ

779 views
Skip to first unread message

Mufti Irshad Ahmad Aijaz

unread,
Mar 25, 2013, 5:04:04 PM3/25/13
to 5BAZMeQALAM

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته،

پاکستان میں انتخابات سر پر ہیں اس مناسبت سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت پر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ کے فتاویٰ ارسال خدمت ہیں.

پر تقصیر؛

ارشاد احمد اعجاز
ٰ

INTEKHABAT_MAY_UMMEEDWAR__VOTER_AUR_VOTE_KI_SHARYEE_HAYSEEYAT.pdf

Zubair H Shaikh

unread,
Mar 27, 2013, 2:49:13 PM3/27/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب مفتی ارشاد احمد  اعجاز صاحب 
وعلیکم السلام  ورحمتہ اللہ و برکاتہ
رائے شماری اور انتحابات کے ضمن میں فتاوی ارسال کرنے کا بے حد شکریہ.  اللہ تعالی جزائے خیر دے آپ سبکو، اور حضرت کے مقامات کو بلند فرمائے  .

محترمی،  اس طویل ای میل کے لئے  یہ طالب علم معذرت چاہتا ہے  

ووٹ نہ دینا حرام ہے" کے تحت جو دلائل پیش کیے گیے ہیں کہ.... ووٹ کی حیثیت شہادت یا گواہی کی سی ہے، بلکل بجا ہے . لیکن اس صورت میں کیا   حکم ہے جب  امیدوار تو امیدوار عوام کی اکثریت فسق و فجور میں مبتلا ہو، اور امیدوارکی اہلیت دولت و طاقت اور سیاسی جماعت  کے بل بوتے پر قایم ہو. رائے دہندگان کی اکثریت امیدوار کی اہلیت معلوم کرنے سے قاصر ہواور نظام جمہوریت، جسکی کلید اور جسکا قاعدہ کلیہ ہی اکثریت ہو، جس میں اہلیت کی جانچ کا کوئی مناسب طریقہ بھی رائج نہ ہو. کیا ایسے میں فاسق و فاجر کی گواہی فاسق و فاجر کے لئے ہونے کے امکانات زیادہ نہ ہونگے؟ یا مسلمان کی گواہی فاسق و فاجرکے حق میں ؟
کیا اسلام موجودہ مسلم جمہوری ممالک کے لئے اس ضمن میں کو ئی متبادل حل پیش کرتا ہے ؟ 
برائے  مہربانی  اس تعلق سے رہنمائی فرمائیں  

خاکساراپنے بارے میں اس بات کی وضا حت بہتر سمجھتا ہے کہ  یہ احقر تمام علمائے کرام کا دل سے احترام کرتا ہے، اور الحمداللہ  ایسا کو ئی جام نوش نہیں کرتا کہ  دنیا و آخرت داؤ پر لگ جائے.  
موجودہ مادیت پرستی اور نفسہ نفسی کے دورمیں مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ چند حضرات جام سیاست نوش فرما کر ملک کو پیارے ہوئے تو چند جام صحافت نوش فرما کر اپنی برادری کو، اور چند وسیع المشربی میں یوں ڈوبے کے ادب کا سہارا لے کر بھی ابھر نہ سکے 

    نظام جمہوریت میں "سیاسی بیعت  بازی"  نے مسلمانوں  کو نہ دین کا رکھا نہ دنیا کا. سیاست میں شہادت اور گواہی "سیاسی بیعت"  قرار دی گئی ہے-  اوربر صغیر کا مسلمان جمہوریت کی پیدائیش سے ہی اس مخمصہ میں گرفتار کردیا گیا ہے کہ دو برا ئی میں کمتر برائی کا انتخاب کرے اور اپنی گواہی دے کر سیاسی بیعت کا پابند بنے. عموما برائی کی شہادت سے انکار کی گنجائیش نہیں رہی . جبکہ جمہوریت میں ایسی  کسی حکمت عملی کی گنجائیش سے انکار نہیں کیا جاسکتا جہاں رائے دہندگان برے یا نا اہل یا فاسق و فاجرامیدواروں کا "نو ووٹ" ڈال کر "بائیکاٹ " کریں، اور اس طرح، نا اہلیت پراجتجاج درج کریں اور مقننہ اور عدلیہ کو متبادل پیش کرنے پر مجبور کریں. اسکے فوری طور پر اثرات بھلے نہ ہونگے لیکن طویل المدتی حکمت عملی کے تحت کار آمد نتایج ظاہر ہونگے. ویسے بھی ایسا کون سا دانشمند ہوگا جو موجودہ عالمی تناظر میں جمہوری نظام حکومت سے کسی فوری حل کی یقین دہانی کر سکتا ہو یا خود کوئی توقع رکھتا ہو.   

پاکستان کے علاوہ  دیگر کئی مسلم ممالک میں جہاں  فاسق و فاجر و نا اہل مسلمان  سیاست دانوں نے جمہوریت کے نام پر خود اپنے ہی ملک و قوم و ملت کا برا حال کیا ہے.  ونہیں ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کی کثیر تعداد اسی سیاسی مخمصہ میں گرفتار ہے، یہاں کھائی وہاں گڑھا کے مصداق ہر بار کسی نے کسی نا اہل اور برے کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوتی آئی ہے. ایک سیاسی جماعت انکی جان و مال اور انکے حقوق کے تحفظ  کی ذمہ داری لینے سے قاصر ہے تو دوسری انکے دین و ایمان کی ذمہ داری لینے سے.  دیگر سیاسی جماعتیں جو ریاستی سطح پر اپنا دبدبہ رکھتی ہیں وہ تمام کی تمام ان دوجماعتوں کے ملے جلے افکارات کا ملغوبہ ہیں اور مسلمانوں کے جان و مال و ایمان کجا خود اپنا اورانکے اپنوں کے جان و مال کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتی. 


بر صغیر کے اہل علم و دانش کو  مذکورہ نکات پر غور و فکر کرنا ہوگا اور ملک و قوم و ملت کے مسائل کا حکمت عملی کے ساتھ حل پیش کرنا ہوگا جوجمہوری نظام حکومت کے دائرے میں  موجود ہے اور جسے ایک اجتماعی دینی فتوی کی اشد ضرورت جو ملت کو متحد بھی کردیگا.  

خاکسار
زبیر



    


2013/3/26 Mufti Irshad Ahmad Aijaz <mufti....@gmail.com>
--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
 
قوافی : قدم،ارم،عدم
ردیف :دیکھتے ہیں
براہ کرم ۲۰ اپریل تک اپنی غزلیں اس پتہ پر بھیجیں
bazme...@googlegroups.com
تنویر پھول، کنوینر بزم قلم عالمی طرحی مشاعرہ
 
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

Humayun Rasheed

unread,
Mar 28, 2013, 11:16:24 AM3/28/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم
جناب زبیر صاحب‘ آپ کی بات میں وزن ہے۔
ووٹ کی حیثیت کا انکار نہیں ہے بلکہ جنہیں ووٹ دینے کا اختیار ہے ان پر اعتراض ہے۔ یہ بھی کیا نظام ہوا کہ قاضی القضاء کہتے ہیں فلاں آدمی ٹھیک ہے اور عدالت کے دو چپڑاسی کہتے ہیں دوسرا ٹھیک ہے - اب کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟
میرے خیال میں ووٹ دینے کا اختیار اُسے ہونا چاہئے جو کم از کم اخبار پڑھ سکے۔ یعنی جب کوئی شخص ووٹ ڈالنے آئے تو پریزائڈنگ آفیسر اخبار کی ایک سطر کی طرف اشارہ کرے اگر وہ پڑھ دے تو ٹھیک ورنہ اس کے نام پر نشان لگا دے کی ووٹ کے قابل نہیں پایا گیا۔
جب تک ووٹ کی اہمیت یعنی وزن کا فرق نہیں ہو گا تب تک ٹھیک رائے شماری نہیں ہو سکتی‘ اس کیلئے پہلا قدم تو اٹھائیں۔
ہمایوں۔

2013/3/27 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>

farooq ahmed

unread,
Mar 28, 2013, 3:10:18 PM3/28/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

جناب ہمایوں صاحب

 

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

 

کیا یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی جو اخبار پڑھ سکتا ہے وہ ایک اچھے اور با کردار  امیدوار کو ووٹ دے گا اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بد دیانت امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں گا؟

 

اور کیا یہ ضروری ہے کہ جو پڑھ نہیں سکتا وہ غلط امیدوار کا انتخاب کرے گا؟

کیا جو آدمی اخبار نہیں پڑھ سکتا وہ دیکھ اور سن بھی نہیں سکتا؟ کیا وہ کسی امیدوار کے چال چلن کو بھانپ نہیں سکتا اور اسکی کی گزشتہ کارکردگی کے نتائیج سے اسکی اہلیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا؟

والسلام

فاروق



 

Date: Thu, 28 Mar 2013 18:16:24 +0300
Subject: Re: {21092} انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت ٰ
From: rana.humay...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Humayun Rasheed

unread,
Mar 29, 2013, 8:49:24 AM3/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com
فاروق صاحب‘ آپ کی بات اصولا تو ٹھیک ہے لیکن زمینی حقائق سے دور ہے۔ فقہ ہی نہیں بلکہ تمام قوانین میں استثناء کو حقیقت مانا گیا ہے لیکن اس سے اصول پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مثلا کیا سرخ اشارہ توڑنا جرم ہے؟ تو جواب ہے کہ ھاں۔ یہ تو اصولی بات ہے‘ لیکن کیا ایمبولینس‘ فائر بریگیڈ یا پولیس اشارہ توڑے تو مجرم ہیں؟ تو یہ استثنائی صورت ہے جس سے اصول پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اصول یہی رہے گا کہ ھاں اشارہ توڑنا جرم ہے‘ اور استثناء کو درمیان میں لا کر اصول کو غلط قرار دینا سوفسطائی بحث ہو گی۔

یہ بات تمام دنیا میں اور تمام تاریخ میں مانی ہوئی ہے کہ پڑھنا لکھنا انسان میں تبدیلی لاتا ہے‘ سوچ کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ ھاں استثنائی صورتحال ہو سکتی ہے کہ آپ کسی انپڑھ کو جانتے ہوں جو کہ عقلمند ہو اور ایسے پڑھے لکھے کو جانتے ہوں جو جاہل ہو‘ لیکن ان استثنائی باتوں سے اصول پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا دو چار عقلمند انپڑھ لوگوں کو بنیاد بنا کر دس بیس ہزار بے عقلوں کو ووٹ ڈالنے دیا جائے؟

یاد رکھئے ہماری گفتگو عام زندگی کے معمولات کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس بارے میں ہے کہ کسے حکمران چننے کے مشورے میں شامل کیا جائے‘  کسے “ڈرائیونگ سیٹ“ پر بٹھایا جائے۔ میری تحریر کا مقصد یہ تھا کہ کوئی اصول ہو۔ آپ نے بات کی تو چلئیے پڑھا لکھا ہونے کے علاوہ یہ بھی شامل کر لیں کہ عمر پچاس سال سے زائد ہو تو پڑھا لکھا ہونا شرط نہیں ہے۔

مع السلام۔
ہمایوں۔
2013/3/28 farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>

farooq ahmed

unread,
Mar 29, 2013, 2:31:23 PM3/29/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

جناب ہمایوں صاحب

 

میرے خیال میں اس سلسلے میں جو بھی شرائط ہوں یہ ان کے لیئے ہونی چاہیئں جنہوں نے ووٹ لے کر آگے آنا اور ووٹ دینے والوں کی خدمت کرنا ہے۔ انکے یعنی عوامی منائندوں کے فرائض کی نوعیت کے مطابق ان پر شرائط عائد ہونی چاہیئں۔

 پڑھائی لکھائی کے افادیت سے مجھے انکار نہیں لیکن ووٹ دینے والے پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں وہ بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ انکی خدمت ہو رہی ہے یا نہیں، انکی ضروریات پوری ہو رہی ہیں یا نہیں۔ وہ اپنے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں۔

بکارِ خویش دیوانہ بھی ہشیار ہوتا ہے؛ 

 

یہ دل بے ربط جملوں میں بھی کہہ جاتا ہے مطلب کی

بکارِ خویش دیوانہ بڑا ہشیار ہوتا ہے



لہٰذا عوام الناس کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیئے۔  

 

یہ جو آپ نے ڈرائیونگ کی مثال دی ہے بڑی اچھی ہے۔ تو عرض ہے کہ ڈرائیونگ تو اسی کو کرنی ہے جس نے ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کیا ہوا ہے لیکن جو ڈرایئونگ نہیں جانتے کیا وہ مختلف ڈرائیورں کے ساتھ سفر کرنے کے بعد اچھے برے ڈرائیور کا فرق نہیں بتا سکتے؟ کیا انہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ کونسے ڈرائیور کے ساتھ انکا سفر آرام سے اور بغیر ہچکولوں کے کٹا اور کونسے ڈرائیور نے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ نہیں رکھا اور اس وجہ سے اگلی گاڑی کے اچانک رکنے پر اسے اچانک زور سے بریک لگانا پڑی اور مسافروں کو بے آرام کیا۔ ضرور بتا سکتے ہیں، اور بغیر کسی ڈرائیونگ تھیری کی کتاب پڑھے بتا سکتے ہیں۔ یہی حال ووٹ دینے والوں کا ہے۔

 

والسلام

فاروق 


Date: Fri, 29 Mar 2013 15:49:24 +0300
Subject: Re: {21123} انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت ٰ
From: rana.humay...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Humayun Rasheed

unread,
Mar 30, 2013, 12:05:24 PM3/30/13
to BAZMe...@googlegroups.com
فاروق صاحب‘ عوام کو حق رائے دہی سے کوئی محروم نہیں کر رھا۔ اگر تمام پڑھے لکھے ہوں تو تمام ووٹ ڈال لیں گے۔
میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں۔ جب کسی کمپنی میں نیا ملازم رکھنا ہو تو کیا کمپنی کے ہر آدمی سے اس کی صلاحیت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے یا ان سے کہ جو اس کی صلاحیت کے بارے میں بتا سکیں؟ پھر ووٹنگ ان کے درمیان ہوتی ہے جو صلاحیت کو جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
دوسری بات یہ کہ ووٹ ڈالنے کی شرط لگانا ایک بہت آسان کام ہے اس لئے ناچیز نے اس کا ذکر کیا ورنہ امیدواروں کیلئے بھی دو شرائط ہونا لازم ہیں‘ لیکن بات یہ ہے کہ ان کو قابل عمل بنانا بہت مشکل ہے۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ اس آدمی کا تمام سرمایہ (یعنی ٩٠ فیصد سےزائد) ملک کے اندر ہو۔ کیونکہ جس کی دلچسپی ملک میں نہیں اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اگرچہ اس کی نیت پر شک نہیں۔ دوسرا یہ کہ کسی نہ کسی فن کا ماہر ہو لیکچر دے سکتا ہو۔ اسے ایسے جانچا جا سکتا ہے کہ جس نے آئندہ امیدوار بننا ہے وہ ہر ماہ یا دو یا تین ماہ میں کم از کم ایک بار اپنے علاقے کی بڑی یونیورسٹی میں اپنی مرضی کے موضوع پر لیکچر دے اور طلبہ کے سوالوں کے جواب دے۔ کم از کم تین سال سے ایسے کر رھا ہو۔ بات لمبی ہو جائے گی اس لئے یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ اسطرح کرنے سے کس طرح وہ آدمی عوام پر واضح رہے گا کہ ملک کی باگ دوڑ چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ یاد رکھئیے اس کا اعلٰی تعلیم یافتہ ہونا کوئی شرط نہیں‘ مثلا اگر کوئی کاروبار کر رھا ہے تو اسی موضوع پر لیکچر دے دے‘ زمیندار ہے تو اسی موضوع پر ہی دے دے‘ کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کر رھا ہے تو اسی پر دے دے مقصد صرف یہ جاننا ہے کہ یہ ملک کے تین سو لوگوں میں شامل ہونے کے قابل ہے کہ کل کو وزیر اعظم بن جائے۔


2013/3/29 farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>

farooq ahmed

unread,
Mar 30, 2013, 8:52:20 PM3/30/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

ہمایوں رشید صاحب، میرے خیال میں میں نے عوامی نمائندوں کے چناوء کے متعلق اپنا موقف واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اخبار کی چند سطریں پڑھ سکنے والا بہتر نمائندے کا انتخاب کر سکے گا۔  آپکا خیال ہے کہ جو لوگ اخبار نہیں پڑھ سکتے انہیں اپنے نمائندوں کے چناوء کا حق نہیں دینا چاہیئے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک میں آپکے موقف پر عمل ہو رہا ہے۔ یا وہاں کے دانشوروں نے کوئی ایسا قانون بنانے کی کوشش کی ہے جسکی رو سے ووٹ وہی لوگ دے سکیں جو اخبار کی چند سطریں پڑھ سکتے ہیں، یا یہ آپکی بنت الفکر یا

brainchild 

 ہے؟



فاروق
Farooq Ahmed

 

Date: Sat, 30 Mar 2013 19:05:24 +0300
Subject: Re: {21176} انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت ٰ
From: rana.humay...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Humayun Rasheed

unread,
Mar 31, 2013, 7:25:49 AM3/31/13
to BAZMe...@googlegroups.com
فاروق صاحب‘ کسی دوسرے کی رائے کو بچگانہ کہنا مناسب نہیں۔ ہمارے سامنے کوئی ایک دو الیکشن تو نہیں گزرے کہ ہمیں اتنا بھی معلوم نہ ہو کہ ووٹ کیسے کام کرتے ہیں۔ ماشاء اللہ سے سات آٹھ جمہوری حکومتیں تو ہم میں سے اکثر لوگ دیکھ چکے ہیں۔ پھر بھی اس نظام کو ٹھیک کہنا ۔۔۔ ذرا بتائیے تو کیا ہر الیکشن کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں یا بدتر ؟
پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی بات اور ہے‘ وھاں ایک نظام موجود ہے۔ جمہوریت میں خود کو برائی سے اچھائی کی طرف نکالنے کی خودکار صلاحیت نہیں ہے۔ ھاں اگر نظام اچھا ہے تو جمہوریت اسے مزید اچھا بنا سکتی ہے اور اگر نطام برا ہے تو جمہوریت اسے مزید برا بنا سکتی ہے۔ بتائیے اگر کسی علاقے میں جاہل زیادہ ہوں تو جمہوریت کیا کہتی ہے کہ کسی عالم کو حکمران ہونا چاہئے یا کسی جاہل کو؟ اور جاہل حکمران بن جائے تو رہتے سہتے دانشور بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں گے۔ ھاں اگر آپ کہیں گے کہ جمہوریت ہے‘ ووٹ وہ ڈالے گا جسے علم سے کوئی ادنٰی مناسبت ہو تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے‘ اگر سبھی ووٹ ڈالنا چاہیں تو سبھی ایک دو سال لگا کر پڑھنا سیکھ لیں‘ روکا تو کسی کو نہیں۔
اس سے خود بخود دیہی اور پسماندہ علاقوں کے ٹھیکیداران اپنے علاقے میں تعلیم کا بندوبست کریں گے تاکہ ان کے لوگ ووٹ ڈال سکیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں؟
ایک بار نہیں دوسری با رنہیں لیکن تیسری بار یقینا پاکستان کے تقریبا تمام لوگ پڑھنے لکھنے کے قابل ہوں گے‘ اور ساتھ ہی کچھ سوچنے کے بھی۔ علم کچھ بغاوت پیدا کرتا ہے یہ تو آپ بھی مانیں گے۔

آپ بات کو یہ رخ دے رہے ہیں کہ میں ووٹ ڈالنے سے روکنے کا کہ رھا ہوں‘ جبکہ ایسا نہیں ہے‘ میں صرف یہ کہ رھا ہوں کہ ایسا نظام بنایا جائے جو لوگوں میں بہتری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ میرا چھوٹا سا کاروبار ہے جس سے ایک وقت تھا کہ پچاس ہزار کمائی ہو جاتی تھی‘ اب چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں تو میں نے بھی قیمتیں بڑھا دیں اور اسی کاروبار سے ایک لاکھ کمانا شروع کر دیا۔ کل کو مزید ضرورت پڑی تو مزید مہنگی کر دیں گے۔ میرے لئے کیا مشکل ہے؟ لیکن کیا یہ حل ہے؟ میں یہ چاہتا ہوں کہ جو لوگ غربت میں پستے چلے جا رہے ہیں انہیں اس سے نکالا جائے۔

جاہل آدمی کو ایسے ووٹر چاہئے ہوتے ہیں جو جاہل ہی رہیں اور اس جاہل حکمران کے مرہون منت رہیں‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ علم کی بنیاد پر ایسے آدمی کو ووٹ دیں جو واقعی کچھ سمجھ رکھتا ہو۔
ایک مثال دیکھئے۔ آپ نے ایک موجودہ سکیم دیکھی ہے کہ غریبوں کو تین تین ہزار دیئے جاتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ ان پیسوں کی فیکٹریاں لگائی جاتیں اور انہی لوگوں کو پانچ ہزار یا اس سے زائد پر ملازم رکھ لیا جاتا؟ لیکن ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ کیونکہ جاہل حکمران چاہتے ہیں کہ جاہل لوگ ہمیں اپنا سہارا سمجھتے رہیں کہ جب تک یہ ہیں ہمیں بھی روزی ملتی رہے گی۔ آپ اگلے الیکشن میں بھی دیکھ لیں گے کہ یہ سکیم کتنا کام دکھاتی ہے۔


2013/3/31 farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>

farooq ahmed

unread,
Mar 31, 2013, 3:50:20 PM3/31/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

رانا صاحب

برین چائلڈ کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہےہیں۔

اسکا مطلب ہے؛

آئیڈیا پروڈیوسڈ بائی کریئیٹِو تھاٹ یعنی تخلیقی قوتِ خیال سے کوئی تصور پیش کرنا۔ عربی میں اسکا مترادف بنت الفکر ہے۔

معافی چاہتا ہوں اگر آپکی دلآزاری ہوئی ہو۔

پڑھائی پر ضرور توجہ دینی چاہیئے لیکن ووٹ ڈالنے کی کوالیفیکیشن کے لیئے نہیں۔

اب میرے سوال کا جواب دیجئے؛

ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیئے۔ کیا کسی غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کے کسی دانشور نے یہ کہا ہو کہ ووٹ انہی کو دینا چاہیئے جو اخبار پڑھ سکتے ہوں اور جو نہ پڑھ سکتے ہوں ان پر پابندی لگا دی جائے؟



فاروق
Farooq Ahmed

 

Date: Sun, 31 Mar 2013 14:25:49 +0300
Subject: Re: {21205} انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرعی حیثیت ٰ
From: rana.humay...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Humayun Rasheed

unread,
Apr 1, 2013, 9:20:59 AM4/1/13
to BAZMe...@googlegroups.com
فاروق صاحب‘ میری معلومات میں ایسا کوئی ملک نہیں‘ اور نہ ہی اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایسا کوئی جمہوری ملک ہے جو تیسری دنیا سے نکل کے پہلی دنیا میں شامل ہوا ہو۔ اگر آپ اس بارے میں کچھ بتائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ملک کس طرح اسی جمہوریت کی موجودگی میں تیری دنیا کی صف سے نکل کے پہلی دنیا کی صف میں شامل ہو گیا۔


2013/3/31 farooq ahmed <farooqa...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages