سہیل انجم
نظام آباد (اعظم گڑھ) اترپردیش کے رکن اسمبلی جناب عالم بدیع وقتاً فوقتاً بذریعہ فون راقم الحروف کو اپنے قیمتی تجربات و مشاہدات میں شریک کرتے اور نیک مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔ چند روز قبل انھوں نے ڈاکٹر عابد اللہ غازی کی کتاب ”صریر خامہ“ کے مطالعے کی ترغیب دلائی اور کہا کہ ملت کے تعلق سے ان کی فکر سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کتاب انجمن ترقی اردو ہند دہلی نے شائع کی ہے۔ میں نے وہاں سے یہ کتاب منگواکر اس کا مطالعہ کیا۔ جی چاہتا ہے کہ ملت اسلامیہ کے رویے کے موضوع پر ان کی ایک مختصر تحریر سے قارئین کو واقف کرایا جائے اور اس کی روشنی میں عہد حاضر میں مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے۔ لہٰذا پہلے ان کی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر عابد اللہ غازی اپنے وقت کے معروف صحافی و دانشور اور روزنامہ ”مدینہ“ بجنور کے ایڈیٹر حامد الانصاری غازی کے فرزند ہیں۔ ان کی پوری عمر ممالک غیر میں گزری لیکن وہاں بھی وہ ملت اسلامیہ اور بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے تحریری و تنظیمی طور پر کوشاں رہے۔ ”اسلامی اجتماعیت اور ملی انتشار“ کے زیر عنوان ان کی یہ تحریر پیش ہے:
”اذان کی صدا میناروں سے بلند ہوئی اور لوگ گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ مسجد میں اقامت کی آواز بلند ہوئی اور لوگ شانہ بہ شانہ ایک امام کے پیچھے صف آرا ہو گئے۔ پھر وہ ایک جسد واحد کی طرح امام کی ہر آواز اور ہر حرکت کی اتباع کرتے رہے۔ نماز ختم ہوئی، دعا سے فارغ ہوئے تو جلدی جلدی جوتے پہنے، دروازے سے نکلنے میں اولیت کی کوشش میں دوچار کو دھکے مارے اور قومی بھیڑ بھاڑ کے انتشار میں گم ہو گئے۔ اور پھر ایسے ہو گئے جیسے یہ نہیں کوئی اور ہی شخص تھا جو موذن کی اذان، مقتدی کی اقامت اور امام کی تکبیر کا پورے نظم و ضبط سے اتباع کر رہا تھا اور ایک منظم جماعت کے منضبط فرد کی حیثیت سے پورے صبر و تحمل سے اپنا کرردار ادا کر رہا تھا۔ اب مسجد سے باہر نکل کر دھکا دینے، کہنی مارنے، سنی کو ان سنی کر دینے، یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے اور معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو گئی۔ اس کی زندگی کا چند منٹ پہلے والی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب کوئی منادی اسے لاکھ آوازیں دے کوئی سننے والا نہیں۔ کوئی تنظیم کی دعوت دے تو لبیک کہنے والا نہیں اور کوئی نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ بتائے تو کوئی عمل کرنے والا نہیں۔ مسجد کی تنظیمی زندگی اور پانچ وقت کی ٹریننگ کا ہماری اجتماعی زندگی پر دور دور اثر نہیں۔ یہ حال کسی ایک بستی یا ایک ملک کا نہیں پورے مسلم معاشرے کا ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے پسماندہ مسلمانوں اور یوروپ و امریکہ کے ترقی یافتہ مسلمانوں میں یہی ایک قدر مشترک ہے۔ …… میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اسلام کے مذہبی عمل کا اثر ہماری اجتماعی زندگی پر کیوں نہیں پڑتا۔ میں اپنے سے بار بار یہ سوال کرتا ہوں اور جواب دینے سے خود کو قاصر پاتا ہوں۔ شاید آپ لوگ جواب دے سکیں کہ اس تضاد کو کیسے دور کیا جائے۔ ممکن ہے آپ کوئی حل پیش کر سکیں۔“
کئی عشرے قبل کی یہ تحریر مسلمانوں کی جس صورت حال اور ان کے جس رویے کی جانب اشارہ کر رہی ہے اس میں آج بھی ذرہ برابر فرق نہیں آیا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ اب ان کا رویہ اور بھی خراب ہو گیا ہے۔ راقم الحروف بھی وقتاً فوقتاً انہی خطوط پر سوچتا اور لکھتا رہا ہے۔ میں نے کبھی اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ:
”ایک اور سال گزر گیا۔ ایک اور نیا سال آگیا۔ یہ بھی گزر جائے گا۔ پھر ایک اور نیا سال آجائے گا۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور یہ دنیا سلسلہئ روز و شب اور تسلسلِ ماہ وسال کے زینے پر پاؤں رکھتے ہوئے آگے بڑھتی جائے گی۔ زندہ اور بیدار قومیں بیتے ہوئے سال کے اپنے اعمال و افعال کا نئے سال میں احتساب کریں گی اور نئے شب و روز کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کریں گی۔ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھیں گی اور نئے عزم وولولے کے ساتھ نئے تجربات سے گزرتے ہوئے نئے جہان آباد کرنے کی منصوبہ بندی کریں گی۔ لیکن جب ہم گزرے ہوئے برسوں کے آئینے میں ملت اسلامیہ کے خد و خال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ اس آئینے میں جو صورت نظر آتی ہے اسے کسی بھی طرح جاذب نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ امید باندھی جا سکتی ہے کہ اگلے سال کے آئینے میں ہمارا جو حلیہ نظر آئے گا وہ بہت پرکشش اور خوش شکل ہوگا۔ یہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ صورت حال عالمی سطح پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پیروں میں یکے بعد دیگرے متعدد مسائل کی بیڑیاں لپٹتی چلی جاتی ہیں اور وہ ان کو چھڑانے کی کوششوں میں مزید الجھتے جاتے ہیں۔ بعض مسائل اغیار کے پیدا کردہ ہیں تو بعض کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ زندہ قومیں اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں رہتیں بلکہ وہ خود اپنا راستہ بناتی اور برعکس حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں نے شب و روز کے لیے اپنی جو ترجیحات طے کی ہیں ان میں مذمت، مظاہرے اور مطالبے عنوانِ فہرست بن گئے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کی توانائیوں کے ساتھ ساتھ ان کی جانیں بھی ضائع ہوتی رہی ہیں۔ ادھر دہشت گردی کے مسئلے نے ایک ہولناک آسیب کی شکل میں انھیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ (اب ایک نیا مسئلہ بلڈوزر کارروائی کی شکل میں سامنے آگیا ہے)۔ ان مسائل میں مسلمانوں کی کوتاہیوں کی کم اور اغیار کی سازشوں کی کارفرمائیاں کہیں زیادہ ہیں۔ فسادات کے الزامات بھی انہی پر عائد ہوتے ہیں اور دہشت گردی کی تہمتیں بھی بشکلِ طوق انہی کے گلے میں ڈالی جاتی ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ فسادات کے دوران مسلمانوں سے کچھ لغزشیں ہوتی ہوں گی اور دہشت گردی کے سلسلے میں بھی کچھ جذباتی مگر عاقبت نا اندیش مسلم نوجوانوں کی حرکتیں حالات خراب کرنے کا سبب بنتی ہوں گی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دونوں تباہ کن لعنتوں کے سرچشمے مسلمانوں کے ”شاطر دماغوں“ سے پھوٹتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے دشمن انھیں اپنے جال میں پھانستے ہیں اور چند سرپھرے اس جال میں پھنس کر تمام مسلمانوں کے لیے تباہی و بربادی کا سامان پیدا کر دیتے ہیں۔
”اکثر و بیشتر اس نوعیت کی خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں کہ حکومتی عملہ نے فلاں مسجد، مدرسہ یا درگاہ کو توڑ دیا۔ اوقاف کی زمینوں اور املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے کی خبریں بھی عام طور پر آتی رہتی ہیں۔ ایسے مواقع پر مسلم تنظیموں کی جانب سے زیادہ دلچسپی اخباروں میں بیانات چھپوانے سے رہتی ہے۔ اسی طرح دوسرے مسائل بھی ہیں جن کو حکومتی سطح پر حل کرانے کے بارے میں ہم کوئی کوشش نہیں کرتے۔ جبکہ دوسرے اپنے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر قافلہ در قافلہ اور ہجوم اندر ہجوم اترنے کے بجائے سرکاری محکموں کے دفاتر کی خاک چھانتے ہیں اور متعلقہ حکام سے مل کر خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرا لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ کوئی تہنیتی پروگرام بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کام کی تشہیر کرتے ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اگر کوئی چھوٹا سا بھی کام ہو جائے تو مبارکباد کے پیغامات اور پروگراموں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے کوئی ہمالیائی کامیابی حاصل ہو گئی ہو۔ ہماری صفوں میں انتشار بھی ہماری پسماندگی اور مسائل کا ذمہ دار ہے۔ ہر مسلمان اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ لیے بیٹھا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہی پوری ملت اسلامیہ کا واحد نمائندہ ہے۔ مسلمانوں کی ایسی بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں جو کئی کئی گروپوں میں منقسم ہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ امت میں اختلاف باعث رحمت ہے۔ لیکن یہ اس وقت باعث رحمت ثابت ہوگا جب تمام گروپ واقعی عملی اور ٹھوس کام انجام دیں اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کی روش ترک کر دیں۔“
اب آخر میں حمایت علی شاعر کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں جو کسی حد تک ہمارے حالات کے عکاس ہیں:
اک جبرِ وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں
اور اس کو زندگی بھی کہے جا رہے ہیں ہم
اعجاز دیدنی ہے طلسمِ سراب کا
دریا رکا ہوا ہے بہے جا رہے ہیں
اونچی عمارتوں پہ ہے تعمیر کا گماں
اور اندرونِ ذات ڈھہے جا رہے ہیں ہم
رہنے کی یہ جگہ تو نہیں ہے مگر یہاں
پتھر بنے ہوئے ہیں رہے جا رہے ہیں ہم
یہ دل کی تیرگی ہے کہ قسمت کی تیرگی
سورج کی روشنی میں گہے جا رہے ہیں ہم
موبائل: 9818195929