From: khaja kamaluddin <kamalud...@yahoo.com>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, March 5, 2013 10:33 PM
Subject: Re: {20288} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن
From: Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, March 6, 2013 1:34 AM
Subject: Re: {20293} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن
From: Abidarahmani <abidar...@yahoo.com>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, March 6, 2013 3:10 PM
Subject: Re: {20301} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن
محترم مخلص صاحب / السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ تو بہت جلد گھبرا گئے ، یہ خاکہ تو ادب کا ایک حصہ ہے ، ممکن ہے اس میں مبالغہ کا رنگ بھرا گیا ہو ں ،لیکن سو فیصد اسے غلط بیانی بھی نہیں کہا جاسکتا۔
سلطنت عثمانیہ حیدرآباد کا زوال ہوا تو اس کے کچھ نہ کچھ اسباب رہے ہونگے جو سنن الہیہ کے ضمن میں آتے ہیں ۔ ورنہ زوال کیوں آتا
یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نظام میں وطنی اور غیر وطنی تعصب در آیا تھا ، جس کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت افراد جنہوں نے اپنی جوانی یہاں پر بتائی تھی حیدرآباد چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے
ان میں ادیبوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی ، جوش کی یادوں کی برات ، وصل بلگرامی کی آب بیتی ، دیوان سنگھ مفتون کا ناقابل فراموش وغیرہ کئی ایک آب بیتیاں ہیں جن میں شاہد احمد دہلوی کا سایہ نظر آتا ہے
شاہد دہلوی بھی کوئی معمولی فرد نہیں تھے ان کے والد نے اپنے وقت کی سب سے بڑی اردو لغات فرہنگ آصفیہ نظام کے نام معنون کی تھی۔
جہاں تک نواب عثمان علی خان کی کفایت شعاری اور دولت جمع کرنے کا تعلق ہے ، ان کے جن مداحوں نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے ان میں مولانا ماہر القادری رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں
لیکن مولانا نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ برار کا علاقہ انگریزوں کے تحصیلداری میں جانے کا نواب صاحب کو بہت رنج تھا ، وہ ان روپیوں پیسوں سے اسے انگریزوں سے خرید کر
سلطنت عثمانیہ کے ماتحت لانا چاہتے تھے ، لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا ، یہ دولت نواب کے کام نہ آسکی ، حیدرآبا د کا زوال ہوگیا ۔
زوال حیدراباد پر خالص جذباتی ہونے کے بجائے ، حقیقت پسندانہ انداز سے اس کا تجزیہ ہونا چاہئے ، اسی میں مسلمانان ہند کی ترقی پوشیدہ ہے۔

Abdul Mateen Muniri
Director : urduaudio.com
skype ID:ammuniri
Madam Abida and Madam Shazia
How could you ascertain that these are the" true facts of the history"? Was Mr Inayatulla a historian?This piece of writing which is no more than a satire,has no substance for the study of Nizam era study..
Anwar Pasha
مخلص صاحب، السلام علیکم،
بزرگوں کے تئیں سخت گوئی کو میں انتہائی نا پسند کرتا ہوں۔ لیکن جب ایک بزرگ کسی اور محترم انسان کے خصوص میں یاوہ گوئی یا دُشنام طرازی کرتے ہیں تو حق گوئی کا تقاضہ مجبور کرتا ہےکہ نطق کے سکوت کو ترک کر کےیاوہ گوئی کے اس ہنگام و کہرام کی خبر لی جائے۔
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن
حیدرآباد دکن کی بد نصیبی رہی کہ یہاں اہلِ علم و فن کو خوش آمدید کہا گیالیکن اکثر نے جس ٹھیکرے میں کھایا اسی میں چھید کیا کی مصداق رویہ اختیار کیا۔ نمک حراموں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بڑی بڑی مراعات پاکر اور اپنا مطلب نکال کر حیدرآباد اور اس کے شاہی خاندان کو بدنام کیا۔ جس طرح کے واقعات مضحکہ اڑانے کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں کہیں حوالہ نہیں ہوتا اور اگر کہیں کسی کا نام بھی دیا جاتا ہے تو وہ حوالے کی حیثیت نہیں رکھتا کیوں کہ اس کی سند نہیں ہوتی۔ نواب میر عثمان علی خان جن کے بارے میں ان کے مخالفین کنجوس کہتے ہیں در اصل انتہائی درویشانہ مزاج کی حامل اور قانع انسان تھے۔ عالمگیر اورنگ زیب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد ہندوستان میں یہی ایک مثال ملتی ہے۔ لیکن عوام کے لئے ، بلا لحاظ مذہب و ملت، انتہائی فراخ دل اور غمگسارتھے۔ علم دوستی میں بے مثل میر عثمان علی خان نے، زمامِ حکومت سنبھالنے کے اولین دور میں جو حکم نامہ جاری کیا تھا اس میں نوبین اور جاگیر داران کو تنبیہ تھی کی اگر دو سال کے عرصہ میں گریجویشن نہ کیا توخلعت اور جاگیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا جس کا اثر یہ ہوا کہ کیا جوان کیا بوڑھا سبھی کے ہاتھوں میں کتاب نظر آئی، اور پھر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے دل کھول کر مستقل مالی اعانت کا انتظام کیا، دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی قائم کر کے دار الترجمہ کا قیام عمل میں لایا اور دیگر زبانوں سے علمی، سائنسی، اور فکر و ادب کی معرکۃ الآراء کتب کے تراجم کر وا کر مترجمین کی کثیر مالی اجرت اوردیگر انعامات سے نوازا اُس دور کے علمی حلقوں میں اس کے بڑے چرچے تھے کہ نواب صاحب نے ایک کتاب کے ترجمہ پر ایک خوبصورت کوٹھی تک انعام میں دیدی تھی۔ اس خصوص میں حیدرآباد کے ماضی قریب کے مورخ نظام الدین مغربی جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی تاریخ کے پروفیسر رہ چکے ہیں کہا تھا کہ علم دوستی میں میر عثمان علی خان والئیِ اسپین عبد الرحمٰن الداخل سے بھی کئی گنا آگے تھے۔ علم کے فروغ کے علاوہ مالی اعانتوں میں فراخ دلی کے بارے میں آپ کا وہ ای میل کافی ہے جو آپ نے پاکستان کی مالی مدد کے سلسلے میں لکھا۔
بادشاہی دور میں نذرانے کہاں نہیں تھے، آج کے دور میں اُس کا نام بدل کر اسٹامپ پیپر فیس رکھدیا گیا ہے۔ جب لوگ مخالفت پر اُتر آتے ہیں تو بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔ الاماں و ال حذر۔ سیاسی بصیرت کی کمی کا لوگ اظہار کرتے ہیں جسکے نتیجے میں سقوطِ حیدرآباد کی مثال پیش کی جاتی ہے اِس بارے میں میں اپنی اگلی پوسٹ میں معروضات پیش کروں گا انشاء اللہ۔
خیر اندیش
سید منصور شاہ
--
جناب شاہ صاحب
یہ ای میل والی بات کب کی ہے؟ کس نے کس زمانے میں وہ ای میل لکھا؟
فاروق
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔علم کے فروغ کے علاوہ مالی اعانتوں میں فراخ دلی کے بارے میں آپ کا وہ ای میل کافی ہے جو آپ نے پاکستان کی مالی مدد کے سلسلے میں لکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
From: Shahji <shah...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Sunday, March 10, 2013 9:21 AM
Subject: Re: {20460} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن