مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

372 views
Skip to first unread message

aapka Mukhlis

unread,
Mar 5, 2013, 10:17:02 AM3/5/13
to bazm qalam
’مولانا عنایت اﷲ دہلوی ترجمہ کرنے میں غیرمعمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ یوں تو ان کے والد شمس العلما منشی ذکاء اﷲدہلوی بھی اپنے وقت کے مشہور مترجم تھے اور انھوں نے بھی بہت ترجمے کیے مگر ان ترجموں میں وہ روانی اور بے ساختگی نہیں ہے جو مولانا عنایت اﷲکے تراجم میں پائی جاتی ہے۔شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ان کی اس صلاحیت کا احساس سب سے پہلے سرسیّداحمدخاں کو ہوا۔ جب سرسیّد نے مولانا عنایت اﷲ سے آرنلڈ کی کتاب ’’دی پریچنگز آف اسلام‘‘ کا ترجمہ کرایا۔
جسے دیکھ کر سرسیّد پھڑک اُٹھے اور مزاحاً اپنے ایک خط میں منشی ذکاء اﷲ کو لکھا ’’میاں تم اپنے لڑکے سے ترجمہ کرنا سیکھو۔‘‘ مولاناعنایت اﷲنے حیدرآباددکن کی بدنظمی اور افراتفری کا ذکر شاہد صاحب سے کیا کہ: یہاں تو پارٹی بندیاں رہتی ہیں۔ آج اُس پارٹی کا زور ہے، کل اُس پارٹی کا۔ رعایا میں لوٹ کھسوٹ مچی ہوئی ہے۔ خود اعلیٰ حضرت کو روپیہ جمع کرنے کا ہوکا ہوگیا ہے۔ دورے کرتے ہیں، پائیگاہوں اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں سے چھکڑے بھربھرکے سونا چاندی لاتے ہیں۔
رئیسوں میں مسابقت ہورہی ہے، ایک کہتا ہے کہ اگر اعلیٰ حضرت یہاں تشریف لائیں تو ۱۰  لاکھ کی نذر گزاروں گا۔ دوسرا کہتا ہے میرے یہاں تشریف لائیں گے تو میں ۱۱ لاکھ پیش کروں گا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت پہلے ۱۰  لاکھ والے سے ۱۰  لاکھ وصول کرتے ہیں اور پھر ۱۱  لاکھ والے سے ۱۱  لاکھ۔ اس طرح دونوں کو خوش کردیتے ہیں۔ یہ روپیہ کیسے جمع کیا جاتا ہے؟ رئیس اپنے تعلقداروں سے کہتا ہے کہ ۱۰  لاکھ روپیہ جمع کرو۔ تعلقدار تحصیل داروں سے کہتے ہیں، تحصیل دار پٹواریوں سے کہتے ہیں اور پٹواری رعایا کی کھال ادھیڑتے ہیں۔ ۱۵، ۱۶  لاکھ روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور اپنا اپنا حق رکھ کر اوپر پہنچادیا جاتا ہے۔
۵،۶ لاکھ کٹوتیوں میں غائب ہوجاتا ہے۔ باقی ۱۰  لاکھ اعلیٰ حضرت کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ رعایا کھکھ ہوتی چلی جارہی ہے اور اعلیٰ حضرت کے خزانے اٹتے چلے جارہے ہیں۔ ایک خزانہ بھر جاتا ہے تو اس کے منہ پر تیغہ کرادیا جاتا ہے اور خزانے میں بجلی کی رو چھوڑ دی جاتی ہے۔ جن لوگوں نے ان خزانوں کو بہ چشم خود دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ جن گاڑیوں میں روپے اور اشرفیوں کے توڑے لادکر لائے جاتے ان پر سے انھیں اتارنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی۔گاڑیاں یوں کی یوں ہی کمروں میں کھڑی کردی جاتیں۔ ان ہی دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بوجھ سے گاڑیوں کے پہیے زمین میں دھنس گئے تھے۔اعلیٰ حضرت کی یہ زراندوزی دیوانگی کی حد کو پہنچ گئی تھی۔
اس میں انھیں بُرے بھلے کی تمیز نہیں رہی تھی۔ انھیں روپیہ ملنا چاہیے تھا کسی طرح بھی ہو۔ رئیسوں اور اُمرا کی شادی میں اس وقت شریک ہوتے جب پہلے نذر کھول لیتے کہ کتنا روپیہ ملے گا۔بیٹے والے اسے الگ لیتے اور بیٹی والے سے الگ لیتے۔ اس طرح دونوں گھروں کو شادوآباد کرتے۔ اس جنون کی آخر یہ کیفیت ہوگئی تھی کہ اگر کوئی غریب کوئی تحفہ یا نادرچیز اس امید پر بارگاہ خسروی میں پیش کرتا کہ اُسے مالی منفعت ہو تو اسے الٹے لینے کے دینے پڑجاتے۔ اسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک شخص اپنے باغ سے پانسو عمدہ آم اپنے بادشاہ کے لیے لایا۔بادشاہ انھیں دیکھ کر باغ باغ ہوگیا۔ آموں کی بہت تعریف کی۔
پوچھا’’کہاں سے لائے، کس باغ سے لائے۔ ان کی قیمت کیا ہے؟ لانے والے نے کہا ’’خداوند، ان کی قیمت کیا؟نذر قبول ہوجائے۔‘‘ بس ’’ارشاد ہوا ’’نہیں نہیں، پھر بھی کتنے کے ہوں گے یہ آم؟‘‘ غریب نے سوچا کہ قسمت نے یاوری کی،نصیب کھلنے کا وقت آپہنچا۔ بولا ’’سرکار، ہے کوئی ۵،۵  روپے کا ایک‘‘ فرمایا ’’ہاں ہاں، کیوںنہیں، بہت عمدہ آم ہے۔ ضرور ہوگا ۵،۵  روپے کا۔ مگر میں کہاں کھاسکتا ہوں اتنے آم! لے جا تو ہی انھیں۔
مجھے تو ان کا روپیہ بھیج دے بس‘‘ لو صاحب! حکم حاکم! مرگِ مفاجات۔پران ڈھیلے ہوگئے۔ڈھائی ہزار روپیہ شاہی خزانے میں قرض دام کرکے بھرا اور اپنے نصیبوں کو کوستا، روتا پیٹتا گھر واپس آیا۔ بازاروں میں سودا بیچنے والوں نے بیٹھنا چھوڑ دیا تھا کہ اعلیٰ حضرت من مانی قیمت پر ضرورت کی چیزیں خریدلیتے تھے۔ جس دکان یا ہراج خانے میں گھستے تہلکہ مچ جاتا۔ ہزار روپے کی چیز دس روپے میں لے جاتے اور ان دس روپوں کو بھی دکان دار جھینکتا پھرتا۔ نیلام میں سب سے پہلے بولی سرکار خود لگادیتے۔ کس کی ماں نے دھونسا کھایا ہے کہ بڑھ کر بولی لگائے۔ زن بچہ نہ کولہو پلوادیا جاتا۔ غرض جہاں جاتے اڑا پڑجاتا۔
اعلیٰ حضرت نے اُس زمانے میں یہ تحفگی بھی کر رکھی تھی کہ جس کسی کے ہاں سے کوئی تحفہ آتا اس کو کئی حصّوں میں بانٹ کر عہدہ داروں کو بھیج دیتے اور عہدہ داروں کا فرض ہوجاتا کہ اگلے دن ’’ڈیوڑھی مبارک‘‘ پر حاضر ہوں اور باریاب ہوکر سرفرازی کی نذر گزاریں۔

shaikh hussain

unread,
Mar 5, 2013, 11:18:31 AM3/5/13
to BAZMe...@googlegroups.com
is it not an exageration?
 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,
Dr. V.R.K Women's Medical College,
Hyderabad.
Mob: 08712737913


From: aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
To: bazm qalam <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, 5 March 2013 8:47 PM
Subject: {20284} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے
 
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.
 
 


khaja kamaluddin

unread,
Mar 5, 2013, 2:33:53 PM3/5/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Aisey mazameen jin se kisi shakez ki nahi bul ke askhaas ki dil aazari hotee ho tou aisey mazameen ko post karney se guraiz karna chahiye ..aur hum iis foroum ki adebi shaistagi  se aisee hi tawakho rakhtey hain...(iis mazmoun ke sahi o  galth kee tafzeelath main gaye baqaire ..ey kehta hoon ke ey maulana ki shakizi raye hai aur iis ka ehteraam bhi mujeh per kum se kum wajeeb hai) 
 
kamaluddin

From: shaikh hussain <muns...@yahoo.co.in>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, March 5, 2013 10:18 AM
Subject: Re: {20285} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

is it not an exageration?
 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,
Dr. V.R.K Women's Medical College,
Hyderabad.
Mob: 08712737913

aapka Mukhlis

unread,
Mar 5, 2013, 3:12:30 PM3/5/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم
میں تہ دل سے معذرت خواہ ہوں کہ اس مضمون سے بعض احباب کی دل آزاری ہوئی
جب کہ میرا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا 
میرے خیال میں یہ صرف ایک خاکہ تھا جس میں حاکمِ وقت کے طرزِ حکومت کے ایک پہلو پر نظر ڈالی گئی تھی
اور حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید ایک عمومی بات ہے
بدقسمتی سے اور میری کم علمی کہ مجھے ان صاحبِ مسند کا نام بھی نہیں معلوم ۔
بہر حال میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔
مخلص


From: khaja kamaluddin <kamalud...@yahoo.com>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, March 5, 2013 10:33 PM
Subject: Re: {20288} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Kamaluddinkhajs

unread,
Mar 5, 2013, 3:33:22 PM3/5/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Main bhi apnay alfaz ko pabandeh adep rakhainey ki koshish ki hai phir bhi meray leekhey se  meray mukhlees 
Koi khaleesh raih gayee ho tou maf farmadain. Waisey aap jawaab iis forum ki shardtagi main issafa hi kits hai
Kamaluddin 

Sent from my iPhone

Abida Rahmani

unread,
Mar 5, 2013, 5:34:57 PM3/5/13
to BAZMe...@googlegroups.com
مخلص صاحب یہ اعلے حضرت تو ہمارے پاکستانی اعلے حضرت کے ہمزاد معلوم ہوتے ہیں انکا بھلا نام کیا تھا؟

2013/3/5 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>



--



عابدہ

Abida Rahmani


aapka Mukhlis

unread,
Mar 6, 2013, 1:45:47 AM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com
وہ تو میں پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ مجھے بھی ان صاحبِ مسند کا نام نہیں معلوم
ظاہر تو یہی ہوتا ہے کہ حیدر آباد دکن کے نظامِ وقت ہوں گے۔


From: Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, March 6, 2013 1:34 AM
Subject: Re: {20293} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Shazia Andleeb

unread,
Mar 6, 2013, 5:35:14 AM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com
AOA,
 itni sachi tehrir par dil bora hona ajib bat hai ??yai to bari karwi hqiqatain hain dakhtai dil nahi dukhta jo parh k dukh jata hai.intikhab karnai walai k liyai dhairon dad
Shazia Andleeb

2013/3/6 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>

Abidarahmani

unread,
Mar 6, 2013, 7:10:54 AM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com
It is so sad that our Mukhlis is apologizing un necessarily for non of his faults and those who are denying the true facts of history are living in an unreal world!
Abida 

Sent from my iPad

aapka Mukhlis

unread,
Mar 6, 2013, 12:20:52 PM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دنیا میں تمام بڑی شخصیات کے جہاں بے شمار معترف بلکہ معتقد ہوتے ہیں وہاں بہت سے ناقد بھی ہوتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ناقدین کی تنقید معترفین اور معتقدین کو ناگوار گزرتی ہے۔ اسی لیے میرا یہاں پیش کردہ مضمون بعض حضرات کو گراں گزرا۔ سچی بات یہ ہے کہ میرے علم میں یہ ہرگز نہیں تھا کہ یہ کس نظام کے بارے میں تحریر لکھی گئی ہے۔ اب پتا چلا کہ یہ دکن کے ساتویں نظام میر عثمان علی خان کا ذکر ہورہا تھا جو اپنے وقت کے دنیا کے دولت مند ترین شخص تھے۔ ان کے اپنی ریاست کے لیے تعمیراتی کاموں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جس میں عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام سرِفہرست ہے جس میں جملہ علوم و فنون بشمول سائنسی علوم کی تدریس اردو میں ہوتی تھی اور اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی کافی سرپرستی کی۔ حیدرآباد دکن کی پاکستان سے انضمام کے لیے ان کی خواہش بھی کچھ ڈحکی چھپی بات نہیں اور انھوں نے اس وقت پاکستان کی مالی امداد کی جب بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے روک لیے تھے اور اس طرح پاکستان کی نومولود ریاست اپنے معاملات کو رواں رکھ سکی۔ لیکن ظاہر ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ کوئی انسان معصوم عن الخطا اور خامیوں سے مبرا نہیں ہے۔لہذا ناقدین کو تنقید کے لیے بہت سے موضوعات مل جاتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو اپنی ترجیحات کی وجہ سے کسی کی کوئی  خامی اس کی تمام خوبیوں پر بھاری نظر آتی ہے۔ اور کسی کو کسی کی کوئی خوبی اس کی تمام خامیوں پر حاوی نظر آتی ہے۔ یہ اختلافِ اذہان اور ترجیحات کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس پیش کردہ تحریر پر کچھ لوگوں اعتراض ہوا تو بعض کو یہ تحریر پسند آئی۔ میرا خیال ہے کہ دوسروں کی تالیفِ قلب کا خیال رکھتے ہوئے اب اس موضوع پرمزید اظہارِ خیال نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ کیونکہ شخصیات پر بہت کرتےہوئے بہت سی ناگفتنیاں بھی ہوجاتی ہیں۔
والسلام
مخلص


From: Abidarahmani <abidar...@yahoo.com>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, March 6, 2013 3:10 PM
Subject: Re: {20301} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 6, 2013, 2:15:30 PM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم مخلص صاحب / السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ تو بہت جلد گھبرا گئے ، یہ خاکہ تو ادب کا ایک حصہ ہے ، ممکن ہے اس میں مبالغہ کا رنگ بھرا گیا ہو ں ،لیکن سو فیصد اسے غلط بیانی بھی نہیں کہا جاسکتا۔

سلطنت عثمانیہ حیدرآباد کا زوال ہوا تو اس کے کچھ نہ کچھ اسباب رہے ہونگے جو سنن الہیہ کے ضمن میں آتے ہیں ۔ ورنہ زوال کیوں آتا

یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نظام میں وطنی اور غیر وطنی تعصب در آیا تھا ، جس کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت افراد جنہوں نے اپنی جوانی یہاں پر بتائی تھی حیدرآباد چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے

ان میں  ادیبوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی ، جوش کی یادوں کی برات ، وصل بلگرامی کی آب بیتی ، دیوان سنگھ مفتون کا ناقابل فراموش  وغیرہ کئی ایک آب بیتیاں ہیں جن میں شاہد احمد دہلوی کا سایہ نظر آتا ہے

شاہد دہلوی بھی کوئی معمولی فرد نہیں تھے  ان کے والد نے اپنے وقت کی سب سے بڑی اردو لغات  فرہنگ آصفیہ  نظام کے نام معنون کی تھی۔

جہاں تک   نواب عثمان علی خان کی کفایت شعاری اور دولت جمع کرنے کا تعلق ہے ، ان کے جن مداحوں نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے ان میں مولانا ماہر القادری رحمۃ اللہ علیہ  بھی شامل ہیں

لیکن مولانا نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ برار کا علاقہ انگریزوں کے تحصیلداری میں جانے کا نواب صاحب کو بہت رنج تھا ، وہ ان روپیوں پیسوں سے اسے انگریزوں سے خرید کر

سلطنت عثمانیہ کے ماتحت لانا چاہتے تھے ، لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا ، یہ دولت نواب کے کام نہ آسکی ، حیدرآبا د کا زوال ہوگیا ۔

زوال حیدراباد پر خالص جذباتی ہونے کے بجائے ، حقیقت پسندانہ انداز سے اس کا تجزیہ  ہونا چاہئے ، اسی میں مسلمانان ہند کی ترقی پوشیدہ ہے۔

 

 

Muniri Kufi Symbol Web larg

 

Abdul Mateen Muniri

Director : urduaudio.com

skype ID:ammuniri

image001.jpg

Maqsood Sheikh

unread,
Mar 6, 2013, 11:17:59 AM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com

عابدہ بہن! بہت اچھا کیا اپ نے حق کہہ دیا ۔ میں بھی ایسا ہی کچھ لکھنے والا تھا ۔ لکھ نہ پایا، اول مصروفیت دوسرے میں فضول قسم کی بحت سے گریزاں تھا، تیسرے مخلص صاحب نے فورا" ہی بلکہ ناحق ہاتھ کھڑے کر دئیے ۔ اب معاملہ یہ تھا مدعی سست گواہ چست !! لیکن اپ نے بالکل صحیح فرمایا اور یقین کیجئے خاموش اکثریت اپ سے اتفاق کرتی ہے ۔
مقصود

anwar pasha

unread,
Mar 7, 2013, 4:00:26 AM3/7/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Madam Abida and Madam Shazia

How could you ascertain that these are the" true facts of the history"?  Was Mr Inayatulla a historian?This piece of writing which is no more than a satire,has no substance  for the study of Nizam era study..

Anwar Pasha


2013/3/6 Shazia Andleeb <andle...@gmail.com>

shaikh hussain

unread,
Mar 6, 2013, 9:33:06 AM3/6/13
to BAZMe...@googlegroups.com
with all resects toyou madam,your sarcastic remarks are  more hurting than the article under discussion. We Hyderabadis  know how many constructive works done by Aalahazrat Mir Osman Ali Khan Nizam Seventh of hyderabad,to whome u r comparing with ur hamzad.Osmania university, Osmania hospital.Nizams orthopedic hospital,Highcourt,Citycollege,Nizam college,Mahboob college,Osman sagar,Central library  etc etc a biglist,to which present govt has addad nothing, but just extention. Pakistanis donot have  even a glimpse of these welfare works from there without visiting hyderabad.
madam i demand that either u support your remarks or apologise .



Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,
Dr. V.R.K Women's Medical College,
Hyderabad.
Mob: 08712737913

Sent: Wednesday, 6 March 2013 5:40 PM
Subject: Re: {20301} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

shaikh hussain

unread,
Mar 7, 2013, 1:03:15 PM3/7/13
to BAZMe...@googlegroups.com
with all resects toyou madam,your sarcastic remarks are  more hurting than the article under discussion. We Hyderabadis  know how many constructive works done by Aalahazrat Mir Osman Ali Khan Nizam Seventh of hyderabad,to whome u r comparing with ur hamzad.Osmania university, Osmania hospital.Nizams orthopedic hospital,Highcourt,Citycollege,Nizam college,Mahboob college,Osman sagar,Central library  etc etc a biglist,to which present govt has addad nothing, but just extention. Pakistanis donot have  even a glimpse of these welfare works from there without visiting hyderabad.
madam i demand that either u support your remarks or apologise .
 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,
Dr. V.R.K Women's Medical College,
Hyderabad.
Mob: 08712737913

Sent: Wednesday, 6 March 2013 8:03 PM
Subject: Re: {20340} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Syed Qamar Hasan

unread,
Mar 7, 2013, 2:39:35 PM3/7/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Lieut-General His Exalted Highness,
Rustum-e-Dauran,Arustu-E-
Zaman,Sipah Salar,Asif Jah Muzzaffar -ul-Mulk-Wal-Mumalik,Nizam-ul-Mulk,Nizam-ud-Dowlah,Nawab Sir,Mir Osman Ali Khan Bahadur, , FatehJung,Sultan Ul Uloom,G.C.S.I.,G.B.E. Faithful Ally of the British Government,(I am reproducing titles  mostly conferred upon Osman Ali Khan by his nobles and British, for the pleasure of those who still nurture loyalty to a ruler dead,who left behind cement and concrete monuments to be cherished by progeny of his long lost subjects, while unable to protect a four hundred years old dynasty.
Had this once worlds richest man used some his unaccountable wealth to build a strong Hyderabad State Armed Forces. Hyderabadis today would have had no reason to lament.
Syed Qamar Hasan.

Sent from my iPhone 
Syed Qamar Hasan 

shaikh hussain

unread,
Mar 8, 2013, 11:40:57 AM3/8/13
to BAZMe...@googlegroups.com
if a ruler is not able to defend his dynesty,does it mean that he is a miser,money minded ,or corrupted. if it is correct then what is ur opinion about some of the reverred figures of islam,who were defeated in battles. i dont want to tell there names as i feel it will be tentamount to a sin.


 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,
Dr. V.R.K Women's Medical College,
Hyderabad.
Mob: 08712737913


From: Syed Qamar Hasan <qamarh...@hotmail.com>
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Friday, 8 March 2013 1:09 AM
Subject: Re: {20372} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Shahji

unread,
Mar 9, 2013, 1:06:50 AM3/9/13
to BAZMe...@googlegroups.com

مخلص صاحب،  السلام علیکم،

بزرگوں کے تئیں سخت گوئی کو میں  انتہائی نا پسند کرتا ہوں۔      لیکن جب ایک بزرگ کسی اور محترم انسان کے خصوص میں یاوہ گوئی یا  دُشنام طرازی کرتے ہیں تو حق گوئی کا تقاضہ مجبور کرتا ہےکہ  نطق کے سکوت کو ترک کر کےیاوہ گوئی کے اس ہنگام و کہرام کی خبر لی جائے۔

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن

حیدرآباد دکن کی بد نصیبی رہی کہ یہاں  اہلِ علم و فن کو خوش آمدید کہا  گیالیکن اکثر نے جس ٹھیکرے میں کھایا اسی میں چھید کیا کی مصداق رویہ اختیار کیا۔   نمک حراموں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بڑی بڑی مراعات پاکر اور اپنا مطلب نکال کر حیدرآباد اور اس کے شاہی خاندان کو بدنام کیا۔   جس طرح کے واقعات مضحکہ اڑانے کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں کہیں حوالہ نہیں ہوتا اور اگر کہیں کسی کا نام بھی دیا جاتا ہے تو وہ حوالے کی حیثیت نہیں رکھتا کیوں کہ اس کی سند نہیں ہوتی۔   نواب میر عثمان علی خان جن کے بارے میں ان کے مخالفین کنجوس کہتے ہیں در اصل انتہائی درویشانہ مزاج کی حامل  اور قانع انسان تھے۔   عالمگیر اورنگ زیب  رحمۃ اللہ علیہ کے بعد ہندوستان میں یہی ایک مثال ملتی ہے۔  لیکن عوام کے لئے ، بلا لحاظ مذہب و ملت،  انتہائی فراخ دل اور غمگسارتھے۔    علم دوستی میں بے مثل میر عثمان علی خان نے، زمامِ حکومت سنبھالنے کے اولین دور میں جو حکم نامہ جاری کیا تھا اس میں نوبین اور جاگیر داران کو تنبیہ تھی کی اگر دو سال کے عرصہ میں گریجویشن نہ کیا توخلعت اور جاگیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا جس کا اثر یہ ہوا کہ کیا جوان کیا بوڑھا سبھی کے ہاتھوں میں کتاب نظر آئی،   اور پھر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے دل کھول کر مستقل مالی اعانت کا انتظام کیا، دنیا کی پہلی اردو  یونیورسٹی قائم کر کے  دار الترجمہ کا قیام عمل میں لایا اور دیگر زبانوں سے علمی، سائنسی، اور فکر و ادب کی معرکۃ الآراء کتب کے تراجم کر وا کر مترجمین کی کثیر مالی اجرت اوردیگر انعامات سے نوازا اُس دور کے علمی حلقوں میں اس کے بڑے چرچے تھے کہ نواب صاحب نے ایک کتاب کے ترجمہ پر ایک خوبصورت کوٹھی تک انعام میں دیدی تھی۔    اس خصوص میں حیدرآباد کے ماضی قریب کے مورخ نظام الدین مغربی  جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی تاریخ کے پروفیسر رہ چکے ہیں کہا تھا کہ علم دوستی میں میر عثمان علی خان  والئیِ اسپین عبد الرحمٰن الداخل سے بھی کئی گنا آگے تھے۔  علم کے فروغ کے علاوہ  مالی  اعانتوں میں فراخ دلی کے بارے میں آپ کا وہ ای میل کافی ہے جو آپ نے پاکستان کی مالی مدد کے سلسلے میں لکھا۔

بادشاہی دور میں نذرانے کہاں نہیں تھے، آج کے دور میں اُس کا نام بدل کر اسٹامپ پیپر فیس رکھدیا گیا ہے۔   جب لوگ مخالفت پر اُتر آتے ہیں تو  بات کا بتنگڑ  بنا دیتے ہیں۔ الاماں و ال حذر۔  سیاسی بصیرت کی کمی کا لوگ اظہار کرتے ہیں جسکے نتیجے میں سقوطِ حیدرآباد کی مثال پیش کی جاتی ہے اِس بارے میں میں اپنی اگلی پوسٹ میں معروضات پیش کروں گا انشاء اللہ۔

خیر اندیش

سید منصور شاہ


2013/3/5 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
--

farooq ahmed

unread,
Mar 9, 2013, 1:59:43 PM3/9/13
to guzargah-e-khayal@yahoogroups.com Aligarh Urdu

جناب شاہ صاحب

 

یہ ای میل والی بات کب کی ہے؟ کس نے کس زمانے میں وہ ای میل لکھا؟

 

فاروق

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔علم کے فروغ کے علاوہ  مالی  اعانتوں میں فراخ دلی کے بارے میں آپ کا وہ ای میل کافی ہے جو آپ نے پاکستان کی مالی مدد کے سلسلے میں لکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


 

Date: Sat, 9 Mar 2013 09:06:50 +0300
Subject: Re: {20426} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن
From: shah...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Shahji

unread,
Mar 10, 2013, 1:21:37 AM3/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
فاروق صاحب، 
السلام علیکم،

ای میل، مخلص صاحب نے لکھا تھا کہ کہ والئیِ دکن نے کس طرح پاکستان کی مدد کی، اسی موضوع کے تحت۔  میں نے اپنے میل کی ابتداء ہی مخلص صاحب کو مخاطب کر کے لکھی ہے اسی لئے آخر میں وہ جملہ لکھا جسے آپ نے کوٹ کیا۔

شاہ جی

2013/3/9 farooq ahmed <farooq...@hotmail.com>

aapka Mukhlis

unread,
Mar 10, 2013, 3:11:41 AM3/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے ایک دوسرا مضمون "نظام دکن اور خواجہ حسن نظامی" کے عنوان سے بزم میں ارسال کیا تھا۔ لگتا ہے کہ کسی کی نظرہی سے نہیں گزراکیونکہ ساری بات پہلے مضمون کے حوالے سے ہی ہورہی ہے جبکہ دوسرے مضمون کو کسی نے اہمیت ہی نہیں دی۔
جی ہاں میں نے پہلے مضمون کے ردِعمل کے طور پر آنے والے مراسلے کے جواب میں نظام دکن کی اس مالی اعانت کا ذکر کیا تھا۔میرے علم کے مطابق انھوں نے بڑے خفیہ طریقے سے ایک پرائیویٹ ہوائی جہاز کے ذریعے رات کے اندھیرے میں یہ اعانت روانہ کی تھی۔اور یہ بھی میرے علم میں آیا ہے کہ گاندھی جی نے بھی اس مدد کی اطلاع ملنے پر پاکستان کے اثاثے واگزار کروانے کے لیے احتجاجاً مرن بھرت رکھا تھا کہ پاکستان کو تو اپنا نظام چلانے کے لیے ضروری رقم مل گئی ہے تو پھر اس کے اثاثے روک کر کیا فائدہ ہوگا اور مفت میں بدنامی بھی ہوگی۔
والسلام
مخلص


From: Shahji <shah...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Sunday, March 10, 2013 9:21 AM
Subject: Re: {20460} مولانا عنایت اللہ اور احوالِ دکن

Shahji

unread,
Mar 10, 2013, 3:49:36 AM3/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Sir, main abhi dekhta hoon,

Thank you.

Shahji

2013/3/10 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages