اصول تحقیق،رسمیات تحقیق طریق تحقیق اور اردو
تبصرہ:ملک نواز
احمداعوان
کتاب
:
پاکستان اور ہندوستان میں اردو تحقیق و تدوین کا تاریخی و تنقیدی جائزہ
مرتب
:
ڈاکٹر رئوف پاریکھ
صفحات
:
272 قیمت: 350روپے
ناشر
:
ادارہ یادگارِ غالب و
غالب لائبریری
پوسٹ بکس 2268،ناظم
آباد کراچی 74600
فون نمبر021-36686998
ہمارے کراچی کے معروف
اہلِ علم و قلم میں ڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحب کا ایک نمایاں نام ہے۔ جامعہ کراچی کے
شعبہ اردو سے وابستہ ہیں، اردو پڑھاتے ہیں۔ ان کے خاص مضامین میں لسانیات کو
اوّلیت حاصل ہے۔ اردو لغت بورڈ کے تحت شائع ہونے والی اردو لغت تاریخی اصول پر
مشہور لغت ہے۔ اس کی جلد 21,20,19 ان کی ادارت میں شائع ہوئی۔ امیراللغات جلد سوم
کی تدوین اور اس کے حواشی انہوں نے لکھے۔ اوّلین سلینگ لغت ان کا ایک اور علمی
کارنامہ ہے۔ مقتدرہ قومی زبان سے ان کی مرتب کردہ کتاب اردو لغت نویسی شائع ہوچکی
ہے۔ آکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری اس کے علاوہ ہے۔ ان کی مرتب کردہ زیرنظر کتاب ادارہ
یادگارِ غالب سے شائع ہوئی ہے۔
محترمہ فاطمہ ثریا بجیا
صدر ادارہ یادگارِ غالب تحریر فرماتی ہیں:
’’ادارے کے قدیمی کارکن
نسیم احمد صاحب نے ضرورت محسوس کی کہ ایک کتاب اردو تحقیق و تدوین پر مرتب ہوجائے
تو طلبہ کے لیے سہولت کا باعث ہوگی۔
کچھ عرصے سے پاکستان
میں تحقیق اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا
ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب بھی اردو تحقیق کے
بعض پہلوئوں پر کام یا تو تشنہ ہے یا یکجا دستیاب نہیں۔ نسیم میاں بیٹھ کر کڑھتے
رہتے ہیں کہ تحقیق کے طالب علم کیا کریں گے؟ اس کڑھن میں ایک روز غالب لائبریری
میں ہمارے معتمدِ عمومی ڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحب سے نسیم میاں نے یہ رونا رویا کہ
تحقیق کی تاریخ اور تحقیق کے معیار پر تنقید کے موضوع پر طالب علم کتابیں ڈھونڈتے
رہتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں، کیونکہ اب تو ایم ایس یا ایم فل اور پی ایچ ڈی کا
کورس ورک بھی ہوتا ہے اور اس میں اساتذہ تحقیق کے موضوع پر گویا تحقیق کا چھوٹا
کام بطور امتحانی کارِ مفوّضہ (assignment) دیتے ہیں۔
اس پر رئوف میاں نے کہا
کہ اس موضوع پر کچھ مقالے لکھے تو گئے ہیں لیکن وہ سب مختلف کتابوں اور جرائد میں
بکھرے پڑے ہیں۔ نسیم میاں نے کہا کہ اگر آپ ان کو جمع کردیں تو تحقیق کے بہت
سے طالب علموں کا بھلا ہوجائے گا۔ میرے کان میں یہ بھنک پڑی تو میں نے رئوف میاں
سے کہا کہ یہ کام ضرور کرو، میں اس کو اسی ادارے سے چھپوائوں گی۔ رئوف میاں دوسرے
کاموں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی کچھ نہ کچھ مواد جمع کرتے رہے، اور خدا کا شکر ہے کہ
یہ کام پورا ہوگیا اور اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اور جب اس پر نظر ڈالی تو مجھے
اندازہ ہوا کہ یہ صرف طالب علموں کے لیے ہی نہیں بلکہ اس سے محققین بھی فائدہ
اٹھاسکتے ہیں۔ اس میں شامل بعض مقالے تو اتنے وقیع ہیں کہ ان کو اب کتابی صورت میں
دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر رئوف پاریکھ
تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ کتاب کیوں مرتب کی
گئی؟ اس کا جواب محترمہ فاطمہ ثریا بجیا صاحبہ ’’معروضات‘‘ میں دے چکی ہیں۔
مختصراً یہ کہ یہ کتاب تحقیق کے طالب علموں کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اصولِ تحقیق،
رسمیاتِ تحقیق اور طریقِ تحقیق پر تو اردو میں اب بفضلِ باری تعالیٰ کچھ کتب مہیا
ہوگئی ہیں لیکن طلبہ کسی ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جس میں اردو تحقیق و
تدوین کی تاریخ بیان کی گئی ہو اور اس کے معیار کا بھی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہو۔
اردو تحقیق و تدوین کی تاریخ پر کوئی ایسی جامع کتاب موجود نہیں جس میں اردو میں
کیے گئے تمام تحقیقی و تدوینی کاموں کا جائزہ، گو مختصر ہی سہی، پیش کیا گیا ہو۔
معین الدین عقیل کا کام پاکستان میں تحقیق سے متعلق ہے لہٰذا اس میں ہندوستان میں
کی گئی تحقیق کا ذکر بہت کم ہے۔ گیان چند کا کام (مقالات کو چھوڑ کر) بنیادی طور
پر کتابیات تحقیق اور خاکہ ہے۔ رفیع الدین ہاشمی اور سہیل عباس بلوچ کے کام بھی
کتابیات یا فہرست کے زمرے میں آتے ہیں اگرچہ ان کاموں کی اہمیت اور قدرو قیمت پر
کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔
ویسے بھی اردو تحقیق
اور تدوین کے ذیل میں ماشاء اللہ اتنے کام ہوگئے ہیں کہ کسی فردِ واحد کا ان سب کو
سمیٹ لینا بہت ہی مشکل ہے۔ کسی فردِ واحد کی رسائی میں سارے کام ہو بھی نہیں سکتے۔
کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے۔ اور پھر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈاک کی ترسیل
کے ضمن میں اکثر کچھ نہ کچھ رکاوٹیں آتی رہی ہیں، اور یوں بھی ایک ملک میں کی گئی
تحقیق بتمام و بکمال دوسرے ملک تک نہیں پہنچ پاتی۔ چنانچہ دونوں طرف کے محققین نے
اردو تحقیق اور تدوین کے جو جائزے مضامین اور مقالات کی صورت میں لیے ہیں ان کو اس
کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح اس کتاب سے مجموعی طور پر ایک ایسی تصویر ابھرتی
ہے جس میں اگر دونوں ملکوں کے تمام نہیں تو تمام نمایاں کاموں کا ذکر موجود ہے۔
کتاب میں مقالات و
مضامین زمانی ترتیب کے لحاظ سے تقدیم وتاخیر کے حق دار قرار پائے ہیں۔ پہلے وہ
مقالات ہیں جو آزادی سے قبل کی ادبی تحقیق و تدوین کا حال بیان کرتے ہیں۔ پھر وہ
مقالات ہیں جو آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد دونوں کے ادوار میں تحقیق و تدوین
کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان میں سے بعض ہندوستان اور بعض پاکستان میں تحقیق کا حال بیان
کرتے ہیں۔ ایک آدھ میں دونوں طرف کا مجموعی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ اس کے بعد
تحقیق کے جدید رجحانات اور حالیہ کاموں پر مبنی مقالات ہیں۔ اور آخر میں وہ
مقالات ہیں جن میں تحقیقی جائزوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔‘‘
اس کتاب میں جو مقالات
شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
’’اردو کی ادبی تحقیق
آزادی سے پہلے‘‘ گیان چند۔ ’’بیسویں صدی میں اردو تحقیق (ہندوستان میں)‘‘ سیدہ
جعفر۔ ’’ہندوستان میں اردو تحقیق اور تدوین کا کام (1947ء سے 1958ء تک)‘‘خلیق
انجم۔’’اردو میں تحقیق و تدوین (1960ء تا 1980ئ)‘‘ گیان چند۔ ’’ہندوستان میں اردو
تحقیق (رفتار و معیار)‘‘ گیان چند۔ ’’پاکستانی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق کے 40
سال (1947ء تا 1988ئ، رفتار اور معیار)‘‘ سید معین الرحمن۔ ’’پاکستان میں ادبی
تحقیق: کچھ ماضی، کچھ حال‘‘ معین الدین عقیل۔ ’’آزادی کے بعد اردو تحقیق کی رفتار
اور سمت‘‘ ایم سلطانہ بخش۔ ’’تحقیق کے جدید رجحانات‘‘ جمیل جالبی۔ ’’اردو تحقیق کی
جائزہ نگاری‘‘ فہمیدہ شیخ۔ ’’اردو میں تحقیقی اصول سے متعلق سرمایہ‘‘ رابعہ اقبال۔
یہ کتاب اردو کی
لائبریری میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔
سفید کاغذ پر طبع ہوئی
ہے، مجلّد ہے، اور رنگین سرورق سے مزین ہے۔
--
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.