ایک اور مردہ ضمیر زندہ ہو گیا
گل بخشالوی
مسلم لیگ ن کے ترجمان ” جیو نیوز کے خان زادہ “کے پروگرم میںآج کے زندہ اور اس وقت کے مردہ ضمیر سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے
اپنے کرم فرماﺅں سے نمک حلالی میں ایک نیا تماشا کھڑا کر دیا ہے جانے ان لوگوں کا مردہ ضمیر ملازمت سے ریٹائرمنٹ سے سالوں بعد کیوں جاگتا ہے اگر یہ لوگ قوم اور وطن سے اس قدر وفا دار ہیں تو اس وقت کیوں خاموش ہوتے ہیں جب انہیں کوئی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مجبور کرتا ہے، لیکن اس وقت ان کے ذاتی مفادات ہوتے ہیں اور ریٹائر منٹ کے بعد جب ان کے گھر دانے ختم ہوتے ہیں تو کتابیں لکھنے لگتے ہیں یا اگر کہیں سے حرام ملتا ہے تو اس کی خوش نودی کے اپنے خاندانی وقار اور نیک نا می تک کو داﺅ پر لگا دیتے ہیں لیکن جن کو اپنے دیس اپنے خا ندانی وقار کا احساس ہوتا ہے وہ اپنے دیس اور خاندانی وقار میں خاموش نہیں رہتے۔
پاکستان کے شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جب امریکی وزیر ِ خارجہ ہنری کیسنجر ،”’ جسے ہم پاکستانی جیالے کنجر کہا کرتے “ کا دھمکی آمیز خط ملا تو وہ بغیر کسی پرو ٹوکول کے راولپنڈی کے صدر با زار آئے اور ہنری کیسنجر کا خط لہراتے ہوئے امریکہ کو واضع الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان آزاد اور خود مختار دیس ہے ہم اپنی آزادی پر قربان ہونا جانتے ہیں
بشیر میمن کو جس نے بھی دانہ ڈال کر حکومت اور عدلیہ کو لڑانے کی کوشش کی ہے وہ ان کی نیک نامی پر بدنما داغ ہے عمران دشمن لابی نے جہانگیر ترین کے مسئلے پر ناکامی کے بعد جو نیا تماشہ کھڑا کیا ہے اس سے بھی ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ناکامیاں ان کی مقدر بن چکی ہیں اس لئے کہ عمران خان پاکستان کا دوسرا ذوالفقار علی بھٹو ہے وہ اپنی حکمرانی تو قربان کر دے گا لیکن پاکستان اور عوان دشمن قووتوں کو کھبی معاف نہیں کرے گا
27 اپریل کو جیو نیوز کے پروگرام میںبشیر میمن کے انٹرویو پر ،مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان انکشافات نے میرے دیرینہ موقف کی تصدیق کر دی ،بہت پہلے کہا تھا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ قائم ہے، جبکہ مریم نواز کا کہنا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کیلئے ادارے استعمال کیے جارہے ہیں، الزامات بہت سنگین معاملہ ہے، عدلیہ نوٹس لے ! مسلم لیگ ن کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ان کا کیا دھراہے لیکن وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے کبھی بھی بشیر میمن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ۔ انہوں نے سابق ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف ا ٓئی اے) بشیر میمن پر حکومت اور عدلیہ کو لڑوانے کی کوشش کا الزام لگا تے ہوئے کہا ہے کہ جس نے بھی بشیر میمن کو پلانٹ کیا ہے، ا ±سے عقل ہونی چاہیے تھی۔ بشیر میمن خود کہتے ہیں کہ فروغ نسیم اچھے وکیل ہیں قانون جانتے ہیں، ڈھائی سال خاموش رہنے والے کی قانون میں کوئی ویلیو نہیں ہوتی۔ مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے وکلاءنے بشیر میمن کو قانونی نوٹس بھی بھیج دیا ۔ احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور ان کے والد نے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ہر جج اور عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے ۔ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان کہتی ہیں کہ بشیر میمن کے الزامات جھوٹ کی کہانیاں اور خبروں میں زندہ رہنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ بیوروکریسی اور مختلف اداروں میں موجود کرپٹ ظل سبحانی کی باقیات حکومت مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔بشیر میمن کے الزامات سیاسی عناد پر مبنی ہیں۔ ایف آ ئی اے ایسے الزامات سے ادارے کو بدنام کر رہے ہیں۔
--
Warm regards,
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786