Re:

183 views
Skip to first unread message

Muhammad Syed

unread,
Jun 4, 2014, 6:15:23 PM6/4/14
to Mohammed Miskeen, bazme qalam
1 -- IRFAN SOLANKI'S ADDRESS IN JEDDAH
2 -- HALQAE DANISH TARAHI MUSHAIRAH IN JEDDAH


JANABE AALI

SALAMO NIYAZ

PLS HAVE A LOOK AT SAMAJWADI PARTY'S MLA IRFAN SOLANKI'S PROGRAM'S REPORT. HALQAE DANISH TARAHI MUHSAIRAH'S REPORT TOO IS ATTACHED.

BEST REGARDS

TASHFEEN M. SYED
JEDDAH 


On Mon, Jun 2, 2014 at 10:34 PM, Mohammed Miskeen <misk...@googlemail.com> wrote:
sameer abdulla ali zain

 Mohammed Miskeen 

Ayaz ul hassan

on mic 
Haji irfan solanki 
MLA sheshamau kanpur dist UP  INDIA
--
If you need any further assistance, Please don't hesitate to call me or email us at  shrim...@gmail.com or misk...@gmail.com

Your usual co-operation is highly appreciated

 

 

Thanks & Regards,

Mohammed Miskeen

Business Development Manager

Rafada Makkah Est

Phone : Mob: +966 55 966 7585


Email : misk...@gmail.com

Thursday.docx IRFAN SOLANKI'S SPEECH SG 5 JUNE 2014.docx
HALQAE DANISH TARAHI MUSHAIRAH 2014 Thursday.docx

abrar ahmed

unread,
Jun 6, 2014, 2:13:29 PM6/6/14
to bazme...@googlegroups.com

صحافت کی اہمیت

انسانی معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت وضرورت کی جب بات آتی ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ اکبر الٰہ آبادی کا درج ذیل شعر دہرایا جاتاہے:
کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہوتو اخبار نکالو
جو لوگ ترقی یافتہ ممالک کے عالم انسانی پر غلبہ واستحکام کی بات کرتے وقت ان کی دفاعی قوت اور بطور خاص ایٹمی قوت پر نظر رکھتے ہیںوہ شاید اس شعرکو اتنی اہمیت نہ دیں تاہم جو لوگ ان کی پروپیگنڈہ کی نفسیات،سیاست اور ہتھکنڈوں سے واقف ہیں اور انہوں نے خاص اس موضوع پر لکھی گئیں بعض مغربی مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ ضرور اس شعر کو پراز معنیٰ بتائیں گے۔اور جو اتنا جانتے ہیں وہ یقینی طور سے یہ بھی جانتے ہیں کہ گلوبل ولیج کے نام سے مشہورہماری معاصر دنیا میںپروپیگنڈے کو فتح وشکست کی فیصلہ کن جنگ میں ایک اساسی اور بنیادی قوت کی اہمیت حاصل ہے اور جو اتنا جانتے ہیں وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ پروپیگنڈے کی سواری صرف اور صرف میڈیا ہے۔پروپیگنڈے کے پلان اور منصوبوں میں جس چیز کے توسط سے رنگ آمیزی کی جاتی ہے وہ یہی ہے۔
٭ جب ہم معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت وضرورت پر روشنی ڈال رہے ہوں گے تو ہمیں لامحالہ ہندوستان میں اردوصحافت کے حوالے سے جدو جہدِ آزادی میں اس کے کردار کاجائزہ لینا ہوگا۔ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اردو زبان وادب کا اوربطور خاص اردو صحافت کا جو رول رہا ہے وہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں،نظریں تو چرائی جاسکتی ہیں،پہلو بھی بچایا جاسکتاہے تاہم اس صداقت سے بالکلیہ انکار نہیں کیا جا سکتا۔
قلم سے ٹپکنے والی روشنائی اور شہید کے بدن سے ٹپکنے والا لہو ، ان دونوں میں یہ خصوصیت ہے کہ جب ان میں سے کوئی بھی ٹپکتاہے جو جم جاتاہے:
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

کم وبیش ڈیڑھ سو سال کے طویل عرصے پر پھیلی ہوئی جدوجہد آزادی ہندوستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس میں اردو کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اردو صحافت کے بے باک اور نڈر،علم وعمل کے شیدائی اور فکر وفن کے سرتاج صحافیوں نے اپنے قلم کو بیرونی طاقت کے خلاف جیسے وقف کررکھا تھا۔ ان کے نزدیک صحافت کوئی پیشہ یا محض تفریح طبع بہم پہونچانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا،انہوں نے صحافت کو فنکارانہ ہنرمندی کے ساتھ ضرور برتا مگر وہ اسی میں الجھ کر نہ رہ گئے۔وہ فن اور لوازمات فن سے آگے اور بہت آگے تک چلے گئے ،انہوں نے اس سے وہی کام لیا جو کسی زمانے میں شمشیر وسناں اور تیر وتفنگ سے لیا جاتا تھا۔انہوں نے ایک طرف ہندوستانی عوام کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ کی تو دوسری طرف اس کے جذبۂ ایمان کو گرمانے ،اس کے تن من میں آزادی کی تڑپ پیداکرنے اور آپس میں اتحادواتفاق اور باہم بھائی چارے کو فروغ دینے کی پوری کوشش کی۔
انگریز حکومت اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتی تھی اور اردو اخبارات کو اپنے لیے فال بد تصور کرتی تھی۔وہ معاشرے میں ان کے اثرونفوذ اور عمل وکردار کو لے کر ہمیشہ مضطرب رہا کرتی تھی۔اس لیے اس نے ان اخبارات کے خلاف کئی طرح کے اقدامات کیے،نئے نئے قانون بناکر ان کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی ،اردو ایڈیٹروں کو ہر طر ح سے ڈرایا دھمکایا اور قید وبند کی سزائیں دیں،یہاں تک کہ مولوی محمد باقر کو اسی جرم کی پاداش میں تختۂ دارپر بھی لٹکادیا۔
ہر طرح کی داروگیر کے باوجود اردو صحافیوں کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ ہوئی ،وہ بلا خوف وتردد تختۂ دار پر چڑھ گئے، سلاخوں کے پیچھے جانے کو تیار ہوگئے مگر اپنے مشن سے سر موانحراف انہیں گوارہ نہ ہوا۔وہ دیوار زنداں سے سر ٹکراتے رہے اور علم وادب کی آب یاری کرتے ہے:
ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
انورعلی دہلوی اپنی کتاب ’اردو صحافت‘جو اردو صحافت سمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے،میں جد وجہد آزادی میںاردو صحافت کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا اس نے زمانے کے بہت سے نشیب وفراز دیکھے ہیں اس کی تاریخ بہت ہنگامہ خیز رہی ہے۔۱۸۵۷ء سے لے کر۱۹۳۵ء تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اورقومی اتحاد کے لیے جدوجہد کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔اردو کے اخبارات ہی نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس ہی کا صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر جنگِ آزادی میں شہید ہوا۔ اردو اخبارات ہی کے مالکان اور مدیران سب سے زیادہ سامراج کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ۔قید وبند کی صعوبتیں سہیں۔ پریس اور ضمانتیں ضبط ہوئیں لیکن اس سب کے باوجود وہ سنگین سے سنگین حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ہندی کے اخبار برائے نام شائع ہوتے تھے انگریزی کے اکثر اخبار انگریزوں کے حامی اور ہم نوا تھے دوسری زبانوںمیں شائع ہونے والے اخبار اتنے با اثر نہیں تھے لہذا اردو اخبارات اور اردو صحافیوں ہی نے برطانوی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔انہوں نے سیاسی بیداری اور تحریک آزادی کے ہراول دستے کا کام کیا۔[از۔۔۔ مقدمہ’’ اردو صحافت‘‘مرتبہ: انورعلی دہلوی،صفحہ ۲۰]

اردو کے ترقی پسند شعراء کے سرخیل فیض احمد فیض نے ایک بڑی انقلابی نظم کہی ہے۔اس کا ایک ایک لفظ دل ودماغ میں جسے اترتا چلا جاتا ہے اور جسم وجان میں جوش وولولہ کی ہزاروں جوت جگا دیتاہے:
بول؛ کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول؛ کہ زباں اب تک تیری ہے
فیض احمد فیض کے یہ بول، چاہے انہوں نے جس کے لیے بھی تخلیق کئے ہوں سب سے زیادہ جس برادری پر صادق آتے ہیں اور جسے ان کے اولین اور اصلی مخاطبین ہونے کا استحقاق حاصل ہو ناچاہئے میرے خیال میں وہ صحافتی برادری ہے۔
ہر فرد اور ہر طبقے کے ساتھ مصلحتیں جڑی ہوتی ہیں،ایک عام آدمی سے لے کر وقت کے حاکم تک جو درجہ بدرجہ عربوں افراد اور ہزاروں،لاکھوں برادریاں پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر کوئی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر خود کو مجبور پاتاہے۔اور کئی بار شکوہ کنا ں ہوتاہے:
یہ کیسا قانونِ زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
ان کی مجبوریوں کے دراز تر سلسلے میں ایک مجبوری وہ بھی ہے جو حقیقتِ اظہار سے متعلق ہوتی ہے اور حق گوئی وبے باکی سے براہ رست منسلک کی جاسکتی ہے ۔یہ مجبوری کوئی ایسی ویسی مجبوری نہیں بلکہ مجبوریوں کی فہرست میں سرفہرست رکھے جانے کی ہر لحاظ سے حقدار وروادارہے۔تاہم اس آباد گیتی میں ایک شخص اور ایک برادری ایسی ضرور ہے جو کسی بھی طرح کے ’’قانونِ زباں بندی‘‘ کی پابندی اٹھانے کی روادار اور متحمل نہیں ہوسکتی ۔وہ انسان کی اس عمومی مجبوری کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے کبھی خودکو تیار نہیں پاتی اور وہ وہی ہے جسے ہم نے چند سطور قبل ’صحافتی برادری‘ کہا ہے۔
۱۸۵۷ء کے انقلاب کے آغاز پر گورنر جنرل لارڈ کیننگ نے ایک صحافتی قانون نافذ کیا،اسے ’’قانونِ زباں بندی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتاہے، اس قانون کے مطابق ہر چھاپہ خانے کے لیے لائسنس لینا ضروری قرار دیا گیا اور حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ جس اخبار کو چاہے بند کردے اور جس اخبار پر چاہے سنسر شپ کی پابندی لگادے  ۱ ؎مگر صحافت آج بھی زندہ ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ فعال بھی ہے ،اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس طرح کا کوئی بھی قانون صحافت کو پابند سلاسل نہیں کرسکتا۔
اگر صحافی کے لب سی دئے گئے یا اس کے منہ میں ایک گھونٹ پانی یا سیال سونا دیکر اس کو نگلنے اوراگلنے کی پابندی لگادی گئی تو دنیا بہت جلد دیکھ لے گی کہ انسانی آبادی میں پوری طرح جنگل راج نافذ ہوچکا ہے۔
صحافی کا مذہب ہے بولنا ۔دنیا خاموش رہ سکتی ہے ،غلاموں کے لب سئے جاسکتے ہیں حاکم وقت مصلحتوں اور مجبوریوں کا لبادہ اوڑھ سکتے ہیں مگر صحافی خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔اس کا کام ہے بولنا اور کھل کر بولنا۔
محمد شاہد حسین لکھتے ہیں:
’’سچ بولنا جہاں صحافی کا مذہب ہونا چاہئے وہیں سچ بولنے کی چھوٹ سرکار کی طرف سے بھی ہونی چاہئے۔اسی چھوٹ کا نام پریس کی آزادی ہے جو دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں کڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔شروع شروع میں ان ملکوں کے حکمرانوں نے اس پر زبردست پابندیاں عائد کررکھی تھیں۔ انہوں نے صحافت کے ابتدائی دور میں وہ باتیں ہرگز نہیں چھپنے دیں جن سے ان کے عمل وارادے کی نقاب کشائی ہو۔شاید وہ بائبل کے اس قول کی صداقت سے واقف تھے کہ ’’سچ تمہیں آزاد اور نڈر بنائے گا‘‘[ماہنامہ’’ آجکل‘‘دہلی،اکتوبر  ۲۰۰۳؁ء]

Mehr Afroze

unread,
Jun 6, 2014, 11:36:11 PM6/6/14
to BAZMe...@googlegroups.com

مولانا جلال ‌الدین محمد بلخی رومی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مولانا رومی
قونیہ میں مولائے روم کا مزار

محمد جلال الدین رومی (پیدائش:1207ء ، انتقال: 1273ء) مشہور فارسی شاعر تھے۔

پیدائش اور نام و نسبترمیم

اصل نام جلال الدین تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے : محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سے حسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہے۔ کیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطنبلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 604ھ میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیمترمیم

ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاولدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

علم و فضلترمیم

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے ۔وہ تقریباَ 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

اولادترمیم

مولانا کے دو فرزند تھے ، علاؤ الدین محمد ، سلطان ولد ۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے ، خلف الرشید تھے ، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہوسکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے ، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

سلسلہ باطنیترمیم

مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا ۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک ، شام ، مصر اورقسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی ، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتہ کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

ترمیم

بقیہ زندگی وہیں گذار کر تقریباَ 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کرگئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

مثنوی رومیترمیم

ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

باقی ایں گفتہ آیدبے زباں
درددل ہر کس کہ دارد نورجان

ترجمہ:"جس شخص کی جان میں نورہوگااس مثنوی کابقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائیگا"

اقبال اور رومیترمیم

علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں ۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں۔

آدمی دید است باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است
جملہ تن را در گداز اندر بصر
در نظر رو در نظر رو در نظر

علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغہ بھی جاری کرے گا۔



--

With Regards

 

Afroza.M.Kathiawari. 

Co-ordinator,

British Council Trainings,

DIET, Dharwad.Karnatak,India

http://hudafoundation.in

ansar azeez

unread,
Jun 7, 2014, 5:46:56 AM6/7/14
to bazmeqalam

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
برائے مہربانی مضمون نگارکا اسم گرامی تحریر فرمائیں،
جزاک اللہ خیرا

Ansar azeez Nadwi

Editor


Shamsuddin Road,Nawayath colony, 
Bhatkal. Karnataka (UK) 
Ph: +91-9620364858, +91-8105666481



--
To Join BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

abrar ahmed

unread,
Jun 7, 2014, 5:51:19 AM6/7/14
to bazme...@googlegroups.com, ansar azeez

صحافت کی اہمیت

ابو فہد






انسانی معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت وضرورت کی جب بات آتی ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ اکبر الٰہ آبادی کا درج ذیل شعر دہرایا جاتاہے:
کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

جو لوگ ترقی یافتہ ممالک کے عالم انسانی پر غلبہ واستحکام کی بات کرتے وقت ان کی دفاعی قوت اور بطور خاص ایٹمی قوت پر نظر رکھتے ہیںوہ شاید اس شعرکو اتنی اہمیت نہ دیں تاہم جو لوگ ان کی پروپیگنڈہ کی نفسیات،سیاست اور ہتھکنڈوں سے واقف ہیں اور انہوں نے خاص اس موضوع پر لکھی گئیں بعض مغربی مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ ضرور اس شعر کو پراز معنیٰ بتائیں گے۔اور جو اتنا جانتے ہیں وہ یقینی طور سے یہ بھی جانتے ہیں کہ گلوبل ولیج کے نام سے مشہورہماری معاصر دنیا میںپروپیگنڈے کو فتح وشکست کی فیصلہ کن جنگ میں ایک اساسی اور بنیادی قوت کی اہمیت حاصل ہے اور جو اتنا جانتے ہیں وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ پروپیگنڈے کی سواری صرف اور صرف میڈیا ہے۔پروپیگنڈے کے پلان اور منصوبوں میں جس چیز کے توسط سے رنگ آمیزی کی جاتی ہے وہ یہی ہے۔
جب ہم معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت وضرورت پر روشنی ڈال رہے ہوں گے تو ہمیں لامحالہ ہندوستان میں اردوصحافت کے حوالے سے جدو جہدِ آزادی میں اس کے کردار کاجائزہ لینا ہوگا۔ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اردو زبان وادب کا اوربطور خاص اردو صحافت کا جو رول رہا ہے وہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں،نظریں تو چرائی جاسکتی ہیں،پہلو بھی بچایا جاسکتاہے تاہم اس صداقت سے بالکلیہ انکار نہیں کیا جا سکتا۔
قلم سے ٹپکنے والی روشنائی اور شہید کے بدن سے ٹپکنے والا لہو ، ان دونوں میں یہ خصوصیت ہے کہ جب ان میں سے کوئی بھی ٹپکتاہے جو جم جاتاہے:
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
کم وبیش ڈیڑھ سو سال کے طویل عرصے پر پھیلی ہوئی جدوجہد آزادی ہندوستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس میں اردو کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اردو صحافت کے بے باک اور نڈر،علم وعمل کے شیدائی اور فکر وفن کے سرتاج صحافیوں نے اپنے قلم کو بیرونی طاقت کے خلاف جیسے وقف کررکھا تھا۔ ان کے نزدیک صحافت کوئی پیشہ یا محض تفریح طبع بہم پہونچانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا،انہوں نے صحافت کو فنکارانہ ہنرمندی کے ساتھ ضرور برتا مگر وہ اسی میں الجھ کر نہ رہ گئے۔وہ فن اور لوازمات فن سے آگے اور بہت آگے تک چلے گئے ،انہوں نے اس سے وہی کام لیا جو کسی زمانے میں شمشیر وسناں اور تیر وتفنگ سے لیا جاتا تھا۔انہوں نے ایک طرف ہندوستانی عوام کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ کی تو دوسری طرف اس کے جذبہ ایمان کو گرمانے ،اس کے تن من میں آزادی کی تڑپ پیداکرنے اور آپس میں اتحادواتفاق اور باہم بھائی چارے کو فروغ دینے کی پوری کوشش کی۔”انقلاب زندہ باد“ کا نعرہ اردو صحافت ہی کی دین ہے۔اردو اخبارات ہی نے ہندوستانیوں کے دلوں میں آزادی کی روح پھونکی اور ان کو انقلاب کے لیے آمادہ کیا۔اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت جو ملک کی آزادی کی خاطر پہلا منظم اقدام تھااس کے پس پردہ فوج میں کارتوسوں کی تقسیم کے جس منحوس واقعہ کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں آتاہے،اس کو پر لگاکر ہوا کے دوش پر اڑاکر پورے ملک میں پھیلانے اور عوام کے ضمیر کوجھنجھوڑنے اوران کے دلوں میں بغاوت کی روح پھونکنے کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ صرف اردو اخبارات ہی کا حصہ ہے۔
عتیق صدیقی نے اپنی کتاب ”ہندوستانی اخبار نویسی“ میں فرانسیسی مورخ گارساں دتاسی کا جو بیان نقل کیا ہے اس کی روشنی میں یہ بات سمجھنا آسان ہوگا کہ اردو اخباروں نے آزادی ہند میں کیا کردار اداکیا اور کس طرح سے اپنا فرض نبھایا۔بطور خاص اٹھارہ سو ستاون کے اس یاد گارواقعہ کے تعلق سے کیا کارنامہ انجام دیا۔گارساں دتاسی کا بیان ہے:
”ان منحوس کارتوسوں کی تقسیم کے موقع پر ہندستانی اخباروں نے، جو بد دلی پھیلانے میں پہلے ہی سے مستعدی دکھارہے تھے،اپنی غیر محدود آزادی سے فائدہ اٹھایا اور اہل ہند کو کارتوسوں کو ہاتھ لگانے سے انکار کرنے پر آمادہ کیا، اور یہ باورکرادیا کہ اس حیلے سے انگریز ہندستانیوں کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں“ [محمد عتیق صدیقی ،ہندوستانی اخبارنویسی،صفحہ ۹۵۳] انگریز حکومت اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتی تھی اور اردو اخبارات کو اپنے لیے فال بد تصور کرتی تھی۔وہ معاشرے میں ان کے اثرونفوذ اور عمل وکردار کو لے کر ہمیشہ مضطرب رہا کرتی تھی۔اس لیے اس نے ان اخبارات کے خلاف کئی طرح کے اقدامات کیے،نئے نئے قانون بناکر ان کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی ،اردو ایڈیٹروں کو ہر طر ح سے ڈرایا دھمکایا اور قید وبند کی سزائیں دیں،یہاں تک کہ مولوی محمد باقر کو اسی جرم کی پاداش میں تختہ دارپر بھی لٹکادیا۔
ہر طرح کی داروگیر کے باوجود اردو صحافیوں کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ ہوئی ،وہ بلا خوف وتردد تختہ دار پر چڑھ گئے، سلاخوں کے پیچھے جانے کو تیار ہوگئے مگر اپنے مشن سے سر موانحراف انہیں گوارہ نہ ہوا۔وہ دیوار زنداں سے سر ٹکراتے رہے اور علم وادب کی آب یاری کرتے ہے:

ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
انورعلی دہلوی اپنی کتاب ’اردو صحافت‘جو اردو صحافت سمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے،میں جد وجہد آزادی میںاردو صحافت کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا اس نے زمانے کے بہت سے نشیب وفراز دیکھے ہیں اس کی تاریخ بہت ہنگامہ خیز رہی ہے۔۷۵۸۱ء سے لے کر۵۳۹۱ء تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اورقومی اتحاد کے لیے جدوجہد کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔اردو کے اخبارات ہی نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس ہی کا صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر جنگِ آزادی میں شہید ہوا۔ اردو اخبارات ہی کے مالکان اور مدیران سب سے زیادہ سامراج کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ۔قید وبند کی صعوبتیں سہیں۔ پریس اور ضمانتیں ضبط ہوئیں لیکن اس سب کے باوجود وہ سنگین سے سنگین حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ہندی کے اخبار برائے نام شائع ہوتے تھے انگریزی کے اکثر اخبار انگریزوں کے حامی اور ہم نوا تھے دوسری زبانوںمیں شائع ہونے والے اخبار اتنے با اثر نہیں تھے لہذا اردو اخبارات اور اردو صحافیوں ہی نے برطانوی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔انہوں نے سیاسی بیداری اور تحریک آزادی کے ہراول دستے کا کام کیا۔[از مقدمہ” اردو صحافت“مرتبہ: انورعلی دہلوی،صفحہ ۰۲] دہلی اردواخبار سے لے کر آزاد ہند تک سینکڑوں اردواخبار ہیں جنہوں نے ملک وقوم کی آزادی کی خاطر تن من دھن کی بازی لگادی اور سر بکف میدان جہاد وعمل میں نکل کھڑے ہوئے اور اس وقت تک اپنے مشن میں جٹے رہے جب تک ان کے دم میں دم رہا یا آزادی کا سپیدہ صبح نمودار نہیں ہوگیا۔
گربچن چندن نے اپنے ایک مضمون میںجو ”تحریک آزادی میں اردو صحافت کا حصہ“ کے عنوان سے ان کی کتاب ”اردو صحافت کا سفر“میں شامل ہے، اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے اور بڑی باریک بینی اور ژرف نگاہی کا ثبوت دیاہے۔وہ اپنے اس مضمون میں اردو صحافت کے ابتدائی دورکی داروگیر کا ہلکا سانقشہ کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں:
”جب انگریزدہلی پر قابض ہوگیا تو ’دہلی اردو اخبار‘ کے اڈیٹر مولوی محمد باقر کو گولی ماردی گئی۔ یہ ہندوستان کی آزادی کی قربان گاہ پر مطبوعہ دیسی صحافت کی اولین شہادت تھی۔’صادق الاخبار‘ کے اڈیٹر جمیل الدین ہجر کو بغاوت کے ایک مقدمے میں ماخوذ کیا گیا اور اسے تین سال قید کی سزاہوئی۔مولانا محمد حسین آزاد کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے لیکن وہ دہلی سے روپوش ہوگئے۔صوبہ سرحد کے اخبار ’مرتضائی‘ کے مدیر کو باغیانہ مضامین لکھنے پر پشاور میں قید کردیا گیا۔ پورے پریس کا گلا گھونٹ دینے کے اقدام کئے گئے۔“[گربچن چندن،اردو صحافت کا سفر،صفحہ۰۳۱ ] اردوصحافت کا نعرہ ”انقلاب زندہ باد“ تھااوراس کا پیغام و مشن اور اس کی آرزو وتمنایہ تھی:
شہیدِ قوم ہوجانا ہی عمرِ جاودانی ہے
جو وقفِ ملک ہو بس وہ مبارک زندگانی ہے
اردو کے ترقی پسند شعراءکے سرخیل فیض احمد فیض نے ایک بڑی انقلابی نظم کہی ہے۔اس کا ایک ایک لفظ دل ودماغ میں جسے اترتا چلا جاتا ہے اور جسم وجان میں جوش وولولہ کی ہزاروں جوت جگا دیتاہے:

بول؛ کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول؛ کہ زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول؛ کہ جاں اب تک تیری ہے
بول؛ یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم وجاں کی موت سے پہلے
بول؛ کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول؛ جوکچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض احمد فیض کے یہ بول، چاہے انہوں نے جس کے لیے بھی تخلیق کئے ہوں سب سے زیادہ جس برادری پر صادق آتے ہیں اور جسے ان کے اولین اور اصلی مخاطبین ہونے کا استحقاق حاصل ہو ناچاہئے میرے خیال میں وہ صحافتی برادری ہے۔
ہر فرد اور ہر طبقے کے ساتھ مصلحتیں جڑی ہوتی ہیں،ایک عام آدمی سے لے کر وقت کے حاکم تک جو درجہ بدرجہ عربوں افراد اور ہزاروں،لاکھوں برادریاں پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر کوئی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر خود کو مجبور پاتاہے۔اور کئی بار شکوہ کنا ں ہوتاہے:
یہ کیسا قانونِ زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
ان کی مجبوریوں کے دراز تر سلسلے میں ایک مجبوری وہ بھی ہے جو حقیقتِ اظہار سے متعلق ہوتی ہے اور حق گوئی وبے باکی سے براہ رست منسلک کی جاسکتی ہے ۔یہ مجبوری کوئی ایسی ویسی مجبوری نہیں بلکہ مجبوریوں کی فہرست میں سرفہرست رکھے جانے کی ہر لحاظ سے حقدار وروادارہے۔تاہم اس آباد گیتی میں ایک شخص اور ایک برادری ایسی ضرور ہے جو کسی بھی طرح کے ”قانونِ زباں بندی“ کی پابندی اٹھانے کی روادار اور متحمل نہیں ہوسکتی ۔وہ انسان کی اس عمومی مجبوری کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے کبھی خودکو تیار نہیں پاتی اور وہ وہی ہے جسے ہم نے چند سطور قبل ’صحافتی برادری‘ کہا ہے۔
۷۵۸۱ءکے انقلاب کے آغاز پر گورنر جنرل لارڈ کیننگ نے ایک صحافتی قانون نافذ کیا،اسے ”قانونِ زباں بندی“ کے نام سے یاد کیا جاتاہے، اس قانون کے مطابق ہر چھاپہ خانے کے لیے لائسنس لینا ضروری قرار دیا گیا اور حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ جس اخبار کو چاہے بند کردے اور جس اخبار پر چاہے سنسر شپ کی پابندی لگادے ۱ مگر صحافت آج بھی زندہ ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ فعال بھی ہے ،اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس طرح کا کوئی بھی قانون صحافت کو پابند سلاسل نہیں کرسکتا۔

اگر صحافی کے لب سی دئے گئے یا اس کے منہ میں ایک گھونٹ پانی یا سیال سونا دیکر اس کو نگلنے اوراگلنے کی پابندی لگادی گئی تو دنیا بہت جلد دیکھ لے گی کہ انسانی آبادی میں پوری طرح جنگل راج نافذ ہوچکا ہے۔
صحافی کا مذہب ہے بولنا ۔دنیا خاموش رہ سکتی ہے ،غلاموں کے لب سئے جاسکتے ہیں حاکم وقت مصلحتوں اور مجبوریوں کا لبادہ اوڑھ سکتے ہیں مگر صحافی خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔اس کا کام ہے بولنا اور کھل کر بولنا۔
محمد شاہد حسین لکھتے ہیں:
”سچ بولنا جہاں صحافی کا مذہب ہونا چاہئے وہیں سچ بولنے کی چھوٹ سرکار کی طرف سے بھی ہونی چاہئے۔اسی چھوٹ کا نام پریس کی آزادی ہے جو دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں کڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔شروع شروع میں ان ملکوں کے حکمرانوں نے اس پر زبردست پابندیاں عائد کررکھی تھیں۔ انہوں نے صحافت کے ابتدائی دور میں وہ باتیں ہرگز نہیں چھپنے دیں جن سے ان کے عمل وارادے کی نقاب کشائی ہو۔شاید وہ بائبل کے اس قول کی صداقت سے واقف تھے کہ ”سچ تمہیں آزاد اور نڈر بنائے گا“[ماہنامہ”آجکل“دہلی،اکتوبر ۳۰۰۲ئ] ہم اپنے اس باب کو گربچن چندن کے اسی مضمون کے آخری پیراگراف پر ختم کرتے ہیں جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں آچکا ہے،وہ لکھتے ہیں:
”غلامی کا اندھیرا چھٹ گیا اور آزادی کا سورج طلوع ہوگیا۔اس طلوع کے لیے اردو صحافت نے جو جاں فشانی، جگر سوزی اور قربانی کی راہ اپنائی،وہ تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ اس کے کالموں میں آزادی کی جدوجہد کی نہایت اہم تقریریں،قراردادیں او ریادداشتیں محفوظ ہیں۔ آزادی کی کوئی صداقت پسند تاریخ اس کی خدمات کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ اسے فرقہ واریت کے اس رجحان سے مسلسل سابقہ رہا جسے فرنگی سامراج نے بڑی حکمت اور شاطری سے فروغ دیا لیکن یہ بیشتر حصول آزادی کے لئے سرگرداں رہی۔“
۰۳۸۱ءمیں انگریزوں نے فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان بنا دیا۔ظاہر ہے ایسا کرنے میںوہ مخلص نہیں تھے بلکہ اس کے پس پردہ مغلوں اور ان کی سرکاری زبان یعنی فارسی سے تعصب ودشمنی کارفرما تھی ۔ ڈاکٹر مسکین علی حجازی کی زبان میں فارسی زبان سے انگریزوں کا یہی تعصب اور دشمنی اردو کے فروغ کا بالواسطہ طور پر ذریعہ بنی۔
یہ تو برطانوی حکومت کی چال تھی، اب ذرا قدرت کی چال بھی دیکھئے کہ یہی اردو زبان جو اس وقت عوامی زبان تھی برطانوی حکومت کو گھر کاراستہ دکھانے میں ہندوستان کی دیگر تمام زبانوں میں ہراول دستہ کے طور پر پیش پیش رہی۔ ہندوستان کی عوام میں جذبہ حریت پیدا کرنے میں جو کردار اردو نے ادا کیاشاید فارسی عوامی زبان نہ ہونے کی وجہ سے اس درجہ کا کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی تھی۔
یہ کتنا تعجب خیز امر ہے کہ یہی اردو جس کو انگریزوں نے ازرہ تعصب سرکاری زبان کا درجہ دیاتھامختصر سے عرصہ میں جب وہ پل بڑھ کر جواں سال ہوگئی تو اسی نے ان کو باہر کا راستہ دکھانے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔
صحافی خواہ وہ کسی زبان اورکسی بھی ملک سے تعلق رکھتا ہو عوام الناس کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتاہے۔ان کے دکھ درد میں شریک رہتاہے اور خوشی ومسرت کے مواقع پر ان کی خوشیوں میں ہاتھ بٹاتا ہے بلکہ ایک طرح سے ان کو دوچند اور سہ چند کرتا ہے۔
غیر جانبداری اور عدم طرف داری صحافت کی سب سے بڑی خصو صیت ہے ،وہ ایک طرف حکومت کا کاروبار چلانے میںتعاون کرتی ہے،رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم رول اداکرتی ہے اور دوسری طرف خود سرکار اور سرکاری کاروبار کے غلط اور بے جارویوں سے عوام کو روشناس کراتی ہے۔
آج کے اس دور میں صحافت اور حکومت لاز وملزوم سے ہوگئے ہیں،کوئی حکومت اس وقت تک اپنا کام مکمل طور پر انجام نہیں دے سکتی جب تک وہ اپنے یہاں صحافت کوقبول نہیں کرتی اور اس کو پوری آزادی نہیں دیتی، اسی لیے صحافت کو چوتھے ستون کی اہمیت حاصل ہے۔ کسی بھی ملک میں پہلی پوزیشن سیاسی لیڈروں کی ہوتی ہے دوسری مذہبی رہنماوں کی ، تیسری عوام کی اور چوتھی صحافت کی۔صحافت کو یہ باعزت مقام سب سے پہلے لارڈ میکالے نے دیا تھا جب اس نے برطانوی پارلیمان میں اخباری نمائندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہاں باہر گیلری میںاخبارات کے جو نمائندے موجود ہیںوہ اقلیم کا چوتھا طبقہ ہیں۔اہل علم وفن نے جمہوریت کے فروغ کے لیے صحافت کولازمی قرار دیا ہے ۔ایک جمہوریت ہی کیوں آج کے زمانے میںہر طرح کے علم وفن اور ہر طرح کی آئڈیالوجی اورنقطہ نظر کو عام کرنے اور اس کو دوردراز کے ملکوں تک پہونچانے کے لیے صحافت سے زیادہ کارگر کوئی دوسرا طریقہ ¿ کار ابھی تک ایجاد نہیں ہواہے۔جمہوریت کو عام کرنے کی بات ہو یا مذہب کووسعت دینے کی بات،علم کی اشاعت مقصود ہویافن کی ترویج،معاشرتی ومعاشی مسائل حل کرنے کی بات ہویا صحت کے عام اصولوں کے تئیں عوام میں بیداری لانے کی بات ،دنیا جہان کو بنانے کی بات ہو یا اس کو بگاڑنے کی بات،کسی ملک وقوم سے دوستی رچانا ہو یا دشمنی نکالناہو، صلح وآشتی کو عام کرناہو یا جنگ وجدال کا ماحول گرماناہو، کسی کو رات ورات سُریّا پر پہونچانا ہو یا جشم زدن میں تحت الثری میں دفن کرناہو۔تہذیبوں کے درمیان جنگ کراناہو یا ان کے درمیان صحت بخش اور امید افزاڈائلاگ کو ترویج دیناہو، غرض کوئی بھی کام ہو اور کوئی بھی ہاتھ ،کوئی بھی مقام ہو اور کوئی بھی زمانہ ،ہر حالت اور ہر گام پر ،زندگی کے ہر موڑ پر اور شاہ راہِ حیات کی ہر رہ گزر پر صحافت ہی اول ہے اور صحافت ہی آخر۔پیرروم مولانا جلال الدین رومی نے کہاتھا:
از محبت مسّہا زرِّیں شود
از محبت نار نورے می شود
از محبت دیو حورے می شود
ان کا ماننا تھا کہ محبت ہر درد کی دوا ہے اور عدم محبت یعنی نفرت وعداوت ہر برائی کی جڑ۔محبت وہ شئی ہے کہ آگ کو نور میں تبدیل کردیتی ہے، بدشکل دیو کوحور نمابنادیتی ہے۔محبت سے پہلے دوست کے رخساروں پر مسّے بدنما لگتے ہیںمحبت کے بعد وہی مسّے خوشنما معلوم ہونے لگتے ہیں۔ہما ری معاصر دنیا میں صحافت کو جو اہمیت حاصل ہے اور زندگی کے تمام معاملات اس کو محرم درونِ مے خانہ ہونے کا جو اعزاز حاصل ہے ،شیش محل کے بالا خانوںاور سیاسی ایوانوں سے لے کر غربت کدوں کی بوسید دیواروں تک اورکھیل کے میدانوں سے لے کر زنداں کے روشن دانوں تک اس کو جو اذن باریابی حاصل ہے ، اس کی بنیاد پر ہم بلا تکلف رومی کے لفظ’ محبت‘ کی جگہ لفظِ’ صحافت‘ کو رکھ سکتے ہیں۔
صحافت کوملک وقوم کی آئینہ دار اور صحافی کو تاریخ کا گواہ کہا گیا ہے، لیکن آج کی تاریخ میں صحافت کا کردار صرف اتنا ہی نہیں رہ گیا ہے کہ وہ عصری تاریخ کے رازہائے سربستہ کو محفوظ رکھے اور آنے والی نسلوں تک بے کم وکاست اور کسی طرح کی کتروبیونت کے بغیر پہونچادے، آج کی تاریخ میں صحافت کا رول اس سے بہت زیادہ ہے وہ کسی ملک یا قوم کی نہ صرف یہ کے تاریخ رقم کرتی ہے اور نہ صرف یہ کے آنے والی نسلوں کو گزشتہ قوموں کے عروج وزوال کی داستانیں سناتی ہے بلکہ اس کے کردار کی سچی اور درست تصویر یہ ہے کہ وہ قوموں کی تقدیر رقم کرتی ہے ، ان کو عروج وزوال سے آشنا کراتی ہے اور ان کو سردو گرم کے مزے چکھاتی ہے۔ افراد اور اقوام کی تقدیر رقم کرنا بلاشبہ قدرت کا کام ہے تاہم آج کے دور میں قدرت کے فیصلوں میں جو چیز رنگ بھرتی ہے اور ان کو شرمندہ معنیٰ کرنے میںبالواسطہ ذریعہ بنتی ہے وہ اس کے سوا اور کیا ہے۔محمد اسلم ڈوگر معاشرے میں صحافت کے کردار وعمل کا جائزہ پیش کرتے ہوئے خلاصہ ¿ کلام کے طور پر لکھتے ہیں:
”اس بحث سے ہم بآسانی یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ معاشرے کی تشکیل میں صحافت بنیادی کردار اداکرتی ہے اور معاشرہ انہی خطوط پر استوار ہوجاتاہے جن پر صحافت اسے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔“[محمد اسلم ڈوگر، علم صحافت،صفحہ ۴۲، ناشر تاج بک ڈپو،اردو بازار ،لاہور] بیسویں صدی کی دو عالمی جنگوں اور ان کے بعد عراق وافغانستان کی حالیہ جنگومیںمیڈیا نے،بطور خاص مغربی میڈیانے جو سراسر منفی کردار اداکیا اور کررہاہے اس سے کوئی بھی صاحب فراست انکار نہیں کرسکتا۔بلا شبہ یہ جنگیں اسلحہ کے زور پر لڑی گئیں اور لڑی جارہی ہیں مگر میڈیا کے ذریعہ پروپیگنڈے کے جو تانے بانے بنے گئے ہیں اور ان کے ذریعہ ایک مخصوص قوم کو نشانہ بنایا جارہاہے اور ساری دنیا کے لئے خطرہ بناکر پیش کیا جارہاہے اور دنیا اس کا اثر بھی لے رہی ہے ،طرفہ تماچہ تو یہ ہے کہ وہ پروپیگنڈے کی نفسیات اور اس کی خطرناک طاقت کو جانتے ہوئے بھی بہت ساری بے سر پیر کی باتوں پر یقین کررہی ہے، یہ سب میڈیا ہی کی سحرآفرینی اور کرشمہ سازی ہے۔
مولانا نذرالحفیظ ندوی نے اپنی کتاب ”مغربی میڈیا اور اس کے اثرات“ میں صہیونی پروٹوکول کے بارہویں دستاویز سے ایک اقتباس نقل کیاہے۔جس سے اس بات کا پتہ چلتاہے کہ یہودیوں نے صحافت کو کتنی اہمیت دی ہے اور ا س سے نہ صرف دفاعی بلکہ اقدامی اور جارح طریقہ کارکا کام لیاہے۔ذیل میں اس اقتباس سے مشتے نمونہ از خروارے کے طورپر چھوٹے چھوٹے دو اقتباس نقل کئے جاتے ہیں:
”ادب اور صحافت عوام کا ذہن تیار کرنے کے لیے اہم ستون ہیں،اس لیے بیشتر اخبارات اور رسالے ہم اپنی حکومت کی ملکیت میں رکھیں گے، یہ ذرائع ابلاغ نجی ملکیت کے پریس کے منفی اثرات زائل کریں گے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے ہمارے ہاتھوں میں زبر دست طاقت ہوں گے،اگر عوام کو ہم دس رسالوں کے اجراکی اجازت دیں گے تو یہ اجازت اپنے تیس رسالوں کو دیں گے اور جتنے بھی رسالے چھپیں گے ان کا تناسب یہی ہوگا“
اورآگے پڑھئے:
”ہمارے یہ سب اخبارات ہندوں کے دیوتا وشنو کی طرح ہوں گے جس کے سو ہاتھ ہوتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک انگلی حسب ضرورت رائے عامہ کے ہر شعبہ پر رکھی ہوئی ہوگی، جب نبض کی رفتار تیز ہوگی یہ ہاتھ رائے عامہ کا رخ ہمارے نصب العین کی طرف موڑ دیں گے، ہمارے مخالفین کے پاس چونکہ پریس کے ذرائع نہیںہوں گے جن کے ذریعہ وہ اپنے خیالات کا کما حقہ اور حتمی طور پر اظہار کرسکیں، ہم پریس کو ان کے خلاف استعمال کرکے فتح حاصل کرلیں گے۔دراصل رسمی تردید کے ہمیں ان کی تردید کرنے کی ضرورت پیش بھی نہیں آئے گی۔“[نذرالحفیظ ندوی، مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، صفحہ ۷۸۴۱، ناشر،ندوة العلماءلکھنو،طبع سوم ۲۰۰۲ئ] صحافت اور ادب میں تال میل کو لے کرخاصی بحث ہوئی ہے اور لکھنے والے اب بھی لکھ رہے ہیں لیکن زیادہ صحیح اور درست بات یہ ہے کہ صحافت اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے،دونوں ایک دوسرے کے معاون ومددگارہوتے ہیںاور ایک دوسرے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ادب صحافت کا مددگار ہویا نہ ہو تاہم صحافت ادب کی نشرواشاعت اور توسیع کا خاصہ اہتمام کرتی ہے۔اخبارات میںلکھنے والے بہت سارے حضرات ادیب ہوتے ہیں،ایک طرف ان کی تحریریں اخبارات کی زینت ہوتی ہیں اور دوسری طرف خود ان کے انٹرویوز اور افکاروخیالات نیزان کے شخصی حالات اور ان کے علمی وادبی کارنامے بھی اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور اس طرح ادیب بھی معاشرے سے جڑے رہتے ہیں اور ان کے نظریات ادب کے مخصوص ومحدود پلیٹ فارم کے برخلاف صحافت عمومی دائرہ اشاعت کے توسط سے عام لوگوں تک پہونچتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے اس خاص موضوع پر رشید حسن خان کچھ اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:
”اس ساری بحث سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اصل چیز لکھنے والے کاطرزِ عمل ہے، اس انداز فکر اور انداز نظر سے بہت اچھے صحافی کی تحریر ادبی ہوسکتی ہے اور بہت اچھے ادیب کی تحریر صحافیانہ ہوسکتی ہے۔ادب اور صحافت میں دور کی نسبت ہے،مگر یہ دونوں نسبتیں ایک ہی شخص میں بخوبی جمع ہوسکتی ہیں اور اس کی تحریر وں میں نمایاں ہوسکتی ہیں۔ صحافت کا جومزاج اور انداز ہے اس سے ہم سب واقف ہیں، جب ادیب بھی اسی طرز اور اسی انداز کو اپنائے گا تو وہ صحافیانہ ادب کی تشکیل کی ذمہ داری کو اپنے اوپر مسلط کرے گا۔“[ادب اورصحافت۔رشید حسن خاں،اردو صحافت ،مرتبہ انور علی دہلوی،اردو اکادمی دہلی] (بصیرت فیچرسروس)

Satyapal Anand

unread,
Jun 7, 2014, 7:47:13 AM6/7/14
to bazme...@googlegroups.com
افروزہ ایم کاٹھیاواڑی کا جلال الدین رومی کی زندگی سے متعلق مضمون قارئین کو تشنہ چھوڑ جائے گا، اس غرض سے یہ عریضہ لکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔  گذشتہ بیس  تیس برسوں سے مولانا رومی مغرب میں کتنے مقبول ہیں، اس کا اندازہ میرے اس مضمون سے ایک حد تک لگایا جا سکتا ہے، لیکن یہ مقبولیت کس قسم کی ہے،  اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

ستیہ پال آنند


From: kathiawa...@gmail.com
Date: Sat, 7 Jun 2014 08:10:06 +0530
Subject: [بزم قلم:36251]
To: BAZMe...@googlegroups.com
Maulana Roomi.inp

abrar ahmed

unread,
Jun 8, 2014, 10:22:09 AM6/8/14
to bazme...@googlegroups.com




علم البیان  از نجم السحر


علم ادب

                   ادب کا لغوی مطلب

        ’’ادب ‘‘ عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے ابواب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ لفظ’’ ادب ‘‘ باب ’’کَرُمَ‘‘ سے بھی آتا ہے اور ’’ضَرَبَ‘‘ سے بھی، کَرُمَ سے اس کا مصدر ا دَباً (دال پر زبر کے ساتھ) آتا ہے، ’’ادب والا ہونا‘‘ اور اسی سے’’ ادیب‘‘  ہے جس کی جمع ادباء ہے اور باب ’’ضَرَبَ‘‘ سے اس کا مصدر اَد’باً (دال پر جزم کے ساتھ) دعوت کا کھانا تیار کرنے اور دعوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی سے اسم فاعل ’’آداب‘‘ ہے۔ ’’ادب ‘‘ باب ’’افعال‘‘ سے بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے، باب ’’تفعیل‘‘ سے علم سکھلانے کے معنی میں مستعمل ہے۔ باب ’’استفعال‘‘ اور باب ’’تفعل‘‘ دونوں سے ادب سیکھنے اور ادب والا ہونے کے معنی میں آتا ہے۔

        اردو میں سب سے پہلے ۱۶۵۷ء کو[گلشنِ عشق ] میں مستعمل ملتا ہے۔ اردو لغات میں ادب کے معنی :کسی کی عظمت و بزرگی کا پاس و لحاظ، حفظ مراتب، احترام، تعظیم، پسندیدہ طریقہ، ضابطہ یا سلیقہ، قاعدہ، قرینہ، وغیرہ ہیں۔

                   ادب کا اصطلاحی مفہوم

        ادب کی اصطلاحی تعریف میں علماء کی مختلف آرا ملتی ہیں۔ علامہ مرتضیٰ زبیدی کے بقول:

الادب ملکۃ تعصم من قامت بہ عما یشینہ۔ [۱]

                ’’ادب ایک ایسا ملکہ ہے کہ جس کے ساتھ قائم ہوتا ہے ہر ناشائستہ بات سے اس کو بچاتا ہے۔ ‘‘

         ابو زید انصاری نے ادب کی تعریف کچھ یوں کی ہے:

الادب یقع علی کل ریاضہ محمودہ یتخرج بھا الاانسان فی فضیلہ من الفضائل۔ [۲]

                ’’ادب ایک ایسی اچھی ریاضت ہے جس کی وجہ سے انسان بہتر اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ ‘‘

        ابن الاکفانی کے نزدیک:

وھو علم یتعرف منہ التفاھم عما فی الضمائر بادلۃ الالفاظ والکتابۃ۔ وموضوعہ الفظ والخط ومنفعتہ اظھار مافی نفس انسان۔ [۳]

’’(علم ادب )ایسا علم ہے جس کے ذریعےسے الفاظ اور کتابت کے ذریعے اپنا ما فی الضمیر دوسروں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اور اس کا موضوع لفظ اور خط ہے۔ اس کا فائدہ ما فی الضمیر کا اظہار ہے۔ ‘‘

        معروف عربی لغت ’’المنجد‘‘ میں علم ادب کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:

ھو علم یحتر زبہ من الخلل فی کلام العرب لفظاً وکتابۃ۔

’’علم ادب وہ علم ہے جس کے ذریعہ انسان کلام عرب میں لفظی اور تحریری غلطی سے بچ سکے۔ ‘‘

        یعنی اپنے ما فی الضمیر کو قرینے اور سلیقے سے بیان کرنا۔ کلام خواہ نثر ہو یا نظم، اس کے الفاظ جچے تلے ہوں، مفہوم واضح، اچھوتا اور دلنشین ہو، اسے ادب کہا جاتا ہے۔

                   علم ادب کی اہمیت

        ادب خوب صورت پیرائے میں اظہار مدعا کا نام ہے۔ ادب، دراصل اخلاق کے چہرے کا حسن اور زبان کی زینت کا نام ہے۔ کسی زبان کا ادب اس کی ثقافت کا بہترین عکس ہوتا ہے۔ ادب ہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کسی قوم کی ثقافت تہذیب و تمدن، اس کے اخلاق، ماحول کا معیار اور اس معاشرے کی بلندی یا پستی دیکھی جا سکتی ہے۔ بقول صاحبزادہ خورشید گیلانی:

                ’’ادب معاشرے کی آنکھ، کان، زبان اور ذہن ہوتا ہے، انسانی زندگی میں پھیلے ہوے ہزاروں بے جوڑ و سنگین واقعات، طبقاتی امتیازات، روزمرہ کے معمولات، رموز و کنایات، سنگین حادثات، فطرت کی نوازشات، یہ سب کچھ ایک ادیب کو دکھائی اور سنائی دیتے ہیں، جس سے اس کا ذہن منفی یا مثبت طور پر متاثر ہوتا ہے، ان مناظر کو وہ زبان عطا کرتا ہے اور پھر سے وہ معاشرے کو لوٹا دیتا ہے۔ ‘‘ [۴]

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے شعر  سنتے اور اچھے اشعار پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرماتے۔ کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کا قصہ مشہور ہے، یہ فتح مکہ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف اشعار کہا کرتے تھے۔ جب مکہ فتح ہوا تو ان کے بھائی بحیر نے ان کو پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ایسے شعراء کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، الا یہ کہ کوئی تائب ہو کر مسلمان ہونے کا اعلان کر دے۔ کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اپنا لافانی قصیدہ  ’’بانت سعاد ‘‘ کہا جو آج بھی عربی ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی چادر انعام کے طور پر مرحمت فرمائی۔

                    علوم ادب

        علم ادب، دراصل مختلف علوم پر مشتمل ہے۔ ان سب علوم کا مقصد کلام میں حسن اور تاثیر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون نے چار علوم، لغت، نحو، بیان اور ادب کو عربی زبان کا رکن قرار دیا ہے۔ [۵]

         ابن الاکفانی (م۸۴۹ھ)نے علم الادب کو دس انواع میں تقسیم کیا ہے۔ [۶]

        اسی طرح صاحب منتہی الادب نے دو اور علوم کا اضافہ کر کے درج ذیل بارہ علوم علوم ادب میں شامل کیے ہیں۔

ا۔ علم لغت

        الفاظ کی حقیقت، مادے اور ہیئت سے متعلق جاننے کا علم ’’علم لغت‘‘ کہلاتا ہے۔ اس میں مفرد الفاظ پر بحث کی جاتی ہے اور اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ کسی بھی ادیب، شاعر یا نثرنگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس زبان کے الفاظ، ان کے مادوں اور استعمالات سے پوری طرح آگاہ ہو۔

۲۔ علم صرف

        یہ علم کلمات اور صیغوں کے متعلق ہے۔ جب تک انسان کلمات، صیغوں اور تصریف و تعلیل سے واقف نہ ہو تو اس کے لیے کلام کی مراد کوسمجھنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

۳۔ علم اشتقاق

        علم اشتقاق مادہ اصلی سے مشتق ہونے والے الفاظ سے بحث کرتا ہے۔ جب تک الفاظ کے اصلی مادوں اور ان کے استعمال سے واقفیت نہ ہو تب تک کلام کے معنی و مفہوم کوسجمھنا ممکن نہیں ہوتا۔

۴۔ علم نحو

        علم نحو کو علم الاعراب بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ عربی زبان کے الفاظ کا دارومدار اعراب پر ہوتا ہے۔ اعراب کی معمولی تبدیلی سے الفاظ کے معانی میں نہایت بنیادی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس علم کی مدد سے عربی زبان کے الفاظ کی حرکات، مرکب کلمات، ان کی ہیئت ترکیبی اور ان کے معانی پر بحث کی جاتی ہے۔

۵۔ علم معانی

        علم معانی علوم بلاغت کی اہم شاخ  ہے اور اس کا تعلق الفاظ کے ان استعمالات سے ہے جن کے لیے وہ بنیادی طور پر تخلیق کیے گئے ہوں۔ اس علم کی مدد سے گویا الفاظ کو ان کے حقیقی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

۶۔ علم بیان

        یہ علم بھی بلاغت کی ایک شاخ ہے۔ کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور مجازی معنوں میں بھی۔ اس علم کے ذریعے سےتشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجا زمرسل کی مدد سے ایک معنی کو کئی انداز سے بیان کیا جاتا ہے، جن کے لیے لغت سے استناد نہیں کیا جا سکتا۔(۶)

۷۔ علم بدیع

        فصیح و بلیغ کلا م کو مختلف لفظی یا معنوی خوبیوں سے آراستہ کرنے کو بدائع اور صنائع کہتے ہیں۔ اس علم سے کلام کو مزین کرنے اور خوش نما بنانے کا سلیقہ آتا ہے۔ یعنی اس علم کی بدولت ’سجع‘، ’تجنیس‘، ’ترصیع‘  اور ’توریہ‘ اور اسی قبیل کے دوسرے محاسن کلام کے ذریعے سے انسان اپنے کلام کو آراستہ کرتا ہے۔

۸۔ علم عروض

         علم عروض دراصل صنف نظم میں اس علم کو کہتے ہیں جس میں بحر یعنی شعر کے وزن اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مکمل ذکر کیا جائے۔

۹۔ علم قافیہ

        قافیہ کے لغوی معنی ’’پیچھے آنے والے‘‘ کے ہیں۔ قافیہ شعر کے آخری کلمے کو کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک ساکن مقدم سے پہلا حرف مع حرکت قافیہ کہلاتا ہے۔ خلیل بن احمد کے نزدیک: ’’ شعر میں سب سے آخری ساکن سے پہلے جو ساکن آئے اس کے ماقبل متحرک سے آخر تک سب قافیہ ہے‘‘۔ جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے یہ تعریف صحیح ہے لیکن اردو زبان کے معاملے میں یہ درست نہیں ہے۔ اردو میں قافیہ ان حروف اور حرکات کا مجموعہ ہے۔ جو الفاظ کےساتھ غیرمستقل طور پر شعر یا مصرعے کے آخر میں بار بار آئے۔ یہ مجموعہ کبھی کبھی مہمل معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا کچھ مضائقہ نہیں بالعموم اس پورے لفظ کوجس میں یہ مجموعہ آتا ہے قافیہ کہہ دیتے ہیں چونکہ قافیہ ابیات کے آخر میں واقع ہوتا ہے یا ایک قافیہ دوسرے قافیہ کے پیچھے آتا ہے لہذا اس نام سے موسوم ہوا۔ چنانچہ قافیہ وہ مجموعہ حروف و حرکات ہے جو اواخر ابیات میں دو یا زیادہ لفظوں کی صورت میں بطور وجوب یا استحسان مقرر لایا جاتا ہے۔

۱۰۔ علم رسم الخط

        اس علم میں وہ تمام تر علوم زیر بحث لائے جاتے ہیں جو رائج رسوم الخط پر مبنی ہوں۔ علاوہ ازیں ا س علم میں طرز تحریر کا مکمل تذکرہ کیا جاتا ہے۔

۱۱۔ علم انشا

        علم انشاء دراصل نثر میں اس بحث کو کہتے ہیں جس کا موضوع عبارت لکھنے یا مضمون نویسی پر مبنی ہو۔ مزید یہ کہ علم انشاء میں خط و کتابت کے تمام تر قواعد کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

۱۲۔ علم محاضرات، تاریخ

محاضرات کہتے ہیں عربی زبان میں گزری ہوئی کہانیاں بیان کرنے کو، لہٰذا اس علم میں تاریخ سے متعلق مکمل بحث کی جاتی ہے اور عموماً ماضی سے مکمل آگاہی کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔

علم بیان

        علم بیان، علوم بلاغت کی ایک اہم شاخ ہے۔ ’’بیان‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’ظاہر کرنا‘‘، کھول کر بات کرنا اور کسی معاملے کی شرح و وضاحت اس انداز سے کرنا کہ مخاطب کو جزئیات کے ساتھ معاملے کی پوری طرح آگاہی حاصل ہو جائے۔ یہ علم کلام میں ‌معنوی خوبیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو دل نشین بھی بناتا ہے۔

         اردو ادب کی اصطلاح میں علم بیان ایسے قاعدوں اور ضابطوں کے مجموعے کا نام ہے جس کو جان لینے کے بعد ہم ایک ہی بات یا مضمون کو مختلف طریقوں سے ادا کر سکیں۔ اور ان میں سے ہر طریقہ دوسرے سے زیادہ واضح اور موثر ہو۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کلام کے سمجھنے میں غلطی کا امکان کم ہو اور معانی میں خوبصورتی پیدا ہو۔

        علم بیان دراصل الفاظ کے چناؤ کا تعین کرتا ہے۔ اس کا موضوع لفظ ہے جسے دو طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

                   ا۔ حقیقی معنوں میں یا بدیع لفظی

        یعنی لفظ کو ان معنوں میں استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ وضع ہوا ہے یا بنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کلام کی زیبائی یا حسن الفاظ سے وابستہ ہے۔ اگر لفظ کی جگہ اس کے معنی استعمال کیے جائیں تو کلام کا حسن ختم ہو جائے۔ مثلاً اگر لفظ شیر کسی کے لیے استعمال کیا جائے اور اس سے مراد وہی درندہ ہو۔

                   ب۔ مجازی معنوں میں یا بدیع معنوی

         یعنی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ اس کے مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے۔ مثلاکسی کے لیے لفظ شیر استعمال کر کے اس شخص کی بہادری مراد لی جائے۔

        اس علم میں تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجاز مرسل کی مدد سے ایک معنی کو کئی انداز سے بیان کیا جاتا ہے۔ بقول ڈاکٹر مزمل حسین :

’’ یہ علم ایسے اصول و قواعد کا مجموعہ ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک معنی کو کئی طریقوں سے بیان کرنے کا کیا انداز اور سلیقہ ہے۔ یعنی شاعر یا نثر نگار اپنے مقصد کو بیان کرنے کے لیے مختلف راہوں کو اختیار کر سکتا ہے۔ ‘‘[۷]

        یعنی شاعر یا نثر نگار اپنے کلا م یا  تحریر میں لفظ کو حقیقی معنوں میں بھی استعمال کرسکتا ہے اور مجازی معنوں میں بھی۔ علم معانی میں الفاظ کو ان کے حقیقی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات جب انشاء پرداز یا متکلم کا کام الفاظ کے حقیقی معنوں سے نہیں چلتا تو وہ انھی الفاظ کو غیر حقیقی یا مجازی معنوں میں استعمال کرتا ہے، جن کے لیے لغت سے استناد نہیں کیا جا سکتا۔ الفاظ کے ایسے استعمال کا تعلق علم البیان سے ہے۔ لیکن جب الفاظ اپنے معانی غیر وضعی میں استعمال ہوتے ہیں تو ایسے استعمال کا کوئی جواز اور قرینہ ضرور موجود ہوتا ہے۔

        بقول نجم الغنی رام پوری:

        ’’علم بیان ایسے قاعدوں کا نام ہے کہ اگر کوئی ان کو جانے اور یاد رکھے تو ایک معنی کو کئی طریق سے عبارات مختلفہ میں ادا کر سکتا ہے جن میں سے بعض طریق کی دلالت معنی پر بعض طریق سے زیادہ  واضح ہوتی ہے۔ ‘‘[۸]

        علم بیان کا دارومدار ان چار چیزوں پر ہے:تشبیہ، استعارہ، مجاز مرسل، کنایہ۔ [۹]

        عام قاعدہ یہی ہے کہ الفاظ کو جن معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے انھی کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن  بعض لوگ ایسی قدرت بھی رکھتے ہیں کہ ایک مفہوم کو ایک ہی زبان میں مختلف عبارتوں سے ظاہر کرسکیں۔ اظہار مدعا کی یہ خصوصیت اور قدرت ایک تو زبان کی وسعت پر منحصر ہے اور دوسرے متکلم کی ذہنی قوت، تخیل اور ذکاوت پر منحصر ہے کہ وہ الفاظ کے ہیر پھیر سے کس طرح مدعا کا اظہار مختلف انداز سے کرتا ہے۔ ان اصول و قواعد کو جن کے ذریعہ سے ایک معنی مختلف عبارتوں میں اس طرح سے ادا کرسکیں کہ ایک معنی بہ نسبت دوسرے کے زیادہ یا کم واضح ہوں، علم بیان کہتے ہیں۔ [۱۰]

        عابد علی عابد علم البیان کے متعلق اساتذہ متقدمین کی تعریفات پر نقد کرتے ہوئے اور ان سے پیدا ہونے والے اشکالات کا ذکر کرنے کے بعد اپنی طرف سے ایک جامع تعریف پیش کرتے ہیں :’’علم بیان وہ علم ہے جو مجاز[(ا)تشبیہ (۲) استعارہ (۳) مجاز مرسل (۴) کنایہ]سے اس طرح بحث کرتا ہے کہ اس پر حاوی ہونے کے بعد فن کار، انشا پرداز یا خطیب اپنے مفہوم کے ابلاغِ تام میں کامیاب ہو سکے۔ ‘‘[۱۱]

        معانی، بیان اور بدیع کے مباحث پرسب سے پہلی کتاب ’’مجاز القرآن ‘‘ ہے جو خلیل بن احمد (۱۰۰ھ۔ ۱۷۰ھ)  کے شاگرد ابو عبیدہ نے تصنیف کی اور بعد کے علماء نے اس کی پیروی کی۔ اس علم سے متعلق متقدمین میں سے جعفر بن یحیٰ، ابن المعتز، جاحظ اور قدامہ بن جعفر(م۳۱۰ھ) نے کتابیں لکھیں۔ اس کے بعد عبد القاہر  جرجانی(م۴۷۱ھ)نے علم معانی میں ’’دلائل الاعجاز‘‘ اور علم البیان میں ’’اسرارالبلاغۃ‘‘ جیسی عظیم الشان کتابیں تصنیف کیں۔ اس کی زیادہ تفصیل اور توضیح ابو یعقوب سراج الدین یوسف السکاکی  الخوارزمی (م ۶۲۶ ھ )نے اپنی کتاب ’’مفتاح العلوم‘‘ میں بیان کی ہے۔ [۱۲]

تشبیہ

        تشبیہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی مشابہت، تمثیل اور کسی چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دینا ہیں۔ علم بیان کی رو سے جب کسی ایک چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سےیامشترک خصوصیت کی بنا پر دوسری کی مانند قرار دے دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔

        بنیادی طور پر تشبیہ کے معنی ہیں مثال دینا۔ چنانچہ کسی شخص یا چیز کو اس کی کسی خاص خوبی یا صفت کی بنا پر کسی ایسے شخص یا چیز کی طرح قرار دینا، جس کی وہ خوبی سب کے ہاں معروف اور مانی ہوئی ہو۔۔۔ تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثلاً ہم یہ کہیں کہ بچہ  چاند کی مانند حسین ہے،  تو یہ تشبیہ کہلائے گی کیونکہ چاند کا حسن مسلمہ ہے۔ اگرچہ یہ مفہوم بچے کو چاند سے تشبیہ دیے بغیر بھی ادا کیا جا سکتا تھا کہ بچہ تو حسین ہے، لیکن تشبیہ کی بدولت اس کلام میں فصاحت و بلاغت پیدا ہو گئی ہے۔

        اسی طرح یہ کہنا کہ عبداللہ شیر کی طرح بہادر ہے بھی تشبیہ کی ایک مثال ہے کیونکہ شیر کی بہادری مسلمہ ہے اور مقصد عبداللہ کی بہادری کو واضح کرنا ہے جو عبداللہ اور شیر دونوں میں پائی جائے۔ تشبیہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مشبہ کی کسی خاص خوبی یا خامی مثلاً بہادری، خوب صورتی، سخاوت، بزدلی یا کنجوسی کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس وصف کی شدت کو بھی بیان کیا جائے۔ اس سے مشبہ کی تعریف یا تذلیل مقصود ہوتی ہے۔

                   ارکانِ تشبیہ

تشبیہ کے مندرجہ ذیل پانچ ارکان ہیں

ا۔ مشبّہ

        جس چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دیا جائے وہ مشبّہ کہلاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں بچہ اور عبداللہ مشبہ ہیں۔

۲۔ مشبّہ ِبہ

        وہ چیز جس کے ساتھ کسی دوسری چیز کو تشبیہ دی جائے یا مشبہ کو جس چیز سے تشبیہ دی جائے، وہ مشبہ ِبہ کہلاتی ہے۔ مثلاً چاند اور شیر مشبہ بہ ہیں۔ ان دونوں یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفین تشبیہ بھی کہتے ہیں۔

۳۔ حرفِ تشبیہ

        وہ لفظ جو ایک چیز کو دوسری چیز جیسا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے حرف تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثلاً اوپر کے جملوں میں مانند اور طرح حروف تشبیہ ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی حروف تشبیہ ہیں جیسا کہ مثل، ہو بہو، صورت، گویا، جوں، سا، سی، سے، جیسا، جیسے، جیسی، بعینہ، مثال، یا، کہ وغیرہ، انہیں اداتِ تشبیہ بھی کہتے ہیں۔

۴۔ وجہِ شبہ

        وجہ شبہ سے مراد وہ خوبی ہے جس کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ مثلاً:چاند کی مانند حسین میں وجہ شبہ حُسن ہے۔ اسی طرح شیر کی طرح بہادر میں وجہ شبہ بہادری ہے۔

۵۔ غرضِ تشبیہ

        وہ مقصد یا غرض جس کے لیے تشبیہ دی جائے، غرض تشبیہ کہلاتا ہے۔ اس کا تشبیہ میں ذکر نہیں ‌ہوتا۔ صرف قرائن سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہ کس غرض یا مقصد سے دی گئی ہے۔ مثلاً بچے کے حسن کو واضح کرنا غرض تشبیہ ہے۔ اسی طرح عبداللہ کی بہادری کو واضح کرنا بھی غرضِ تشبیہ ہے۔

                   مثالیں

        قرآن مجید اپنے انداز بیان اور اسلوب کے لحاظ سے ایک معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بکثرت علوم بلاغت کا استعمال کیا ہے۔ مثلاً: كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا۔ (الجمعہ۶۲:۵)( اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حاملین تورات کو اس گدھے سے تشبیہ دی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔ گویا جس طرح کتابیں لادنے سے گدھے کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی اسی طرح یہود بھی عمل کے بغیر، محض حامل کتاب ہونے کے باعث کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔

        اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد ہے:

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاء َتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ۔ (البقرۃ۲:۱۷)

’’اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ ‘‘

        اس آیت میں وہ منافقین مشبہ ہیں جو یہاں زیر بحث ہیں۔ آگ جلانے والا مشبہ بہ، آگ جلانے والے کی آگ کا بجھنا وجہ شبہ ہے کہ اس طرح منافقین کے اعمال ضائع ہو گئے۔ اور كَمَثَلِ  حرف تشبیہ ہے۔

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے        ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

        اس شعر میں زندگی کو طوفان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مشبہ:زندگی، مشبہ بہ:طوفان، وجہ تشبیہ: زندگی کے مصائب وآلام کا طوفان، غرض تشبیہ: زندگی کے مصائب و آلام کا تذکرہ  اور حرف تشبیہ : یا  ہے۔

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے

        اس شعر میں مشبہ: اہل ایمان، مشبہ بہ: خورشید، حرف تشبیہ: صورت، وجہ شبہ :عروج و زوال اور غرض تشبیہ: مومن کی متحرک اور انقلابی شخصیت کو پیش کرنا ہے۔

ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا ہے ابر      فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر

        اس شعر میں مشبہ: ابر یعنی بادل ہے، مشبہ بہ :فیل بے زنجیر، حرف تشبیہ :صورت، وجہ شبہ: مستی میں جھومنا اور غرض تشبیہ :مستی کی کیفیت کو واضح کرنا ہے۔

                   مزید مثالیں

۱۔ کمرہ آئینے جیسا چمک رہا ہے،

۲۔ پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

۳۔ نازک کلائیوں میں حنا بستہ مٹھیاں

شاخوں میں ‌جیسے منہ بندھی کلیاں گلاب کی

۴۔ ان کے عارض پہ دمکتے ہوئے آنسو، توبہ

ہم نے شعلوں پہ مچلتے ہوئے شبنم دیکھی

۵۔ غیر کو دیکھ کے غیرت سے پگھل جاؤں گا

صورت شمع تری بزم میں جل جاؤں گا

۶۔ عرق آلودہ ہونا، اس رُخِ رنگین کا ایسا ہے

کہ جیسے برگِ گل پہ ہو نمایاں بوند شبنم کی

۸۔ یہ آب و تابِ حسن، یہ عالم شباب کا

تم ہو، کہ ایک پھول کھلا ہے گلاب کا

                   اقسام تشبیہ

        تشبیہ کی پانچ اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ ان اقسام کی بنیاد اس کے ارکان کو حذف کرنے پر ہے۔ کیونکہ مخاطب کے علم کی بنیاد پر بعض اوقات اس کے بعض حصوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔

۱۔ تشبیہ مرسل

        تشبیہ مرسل وہ تشبیہ ہے جس میں حرف تشبیہ کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً: مثل نورہ کمشکاۃ(اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چراغ) اس مثال میں حرف تشبیہ ک موجود ہے۔

۲۔ تشبیہ موکد

        تشبیہ کی اس قسم میں حرف تشبیہ کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ اس حذف کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ متکلم اس بات پر زور دے رہا ہوتا ہے مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت بہت زیادہ ہے۔ جیسے : انت نجم فی الضیاء والرفعۃ۔ (تم روشنی اور بلندی میں ستارےہو) یعنی ستارے کی طرح نہیں، بلکہ خود ستارہ ہو، کہہ کر بات میں زور پیدا کیا ہے۔

۳۔ تشبیہ مفصل

        تشبیہ کی اس قسم میں تشبیہ کی وجہ کو بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے :ھو کالاسد فی الشجاعۃ۔ (وہ بہادری میں شیر کی طرح ہے۔ ) یہاں تشبیہ کی وجہ بہادری کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔

۴۔ تشبیہ مجمل

        تشبیہ کی اس قسم میں وجہ تشبیہ کو حذف کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ وجہ مخاطب پہلے ہی سے جانتا ہوتا ہے۔ مثلاً کان الشمس دینار۔ (سورج گویا دینا رہے) یہاں وجہ تشبیہ کو اس لیے حذف کر دیا گیا ہے کہ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ نیا سکہ چمک میں سورج کی طرح لگتا ہے۔

۵۔ تشبیہ بلیغ

        تشبیہ کی اس قسم میں تشبیہ میں زور پیدا کرنے کے لیے حرف تشبیہ اور وجہ تشبیہ دونوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ اس سے یہ باور کرانا مقصود ہوتا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں اتنی زیادہ مشابہت ہے کہ گویا دونوں ایک ہی ہیں۔ مثلاً الاسلام حیاتنا۔ (اسلام ہماری زندگی ہے۔ ) اس مثال میں اسلام کو زندگی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چونکہ اسلام کی ہدایت کے بغیر زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا اس لیے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے تشبیہ کی علامت اور وجہ دونوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔

استعارہ

        اردو لغت میں استعارہ کے معنی ’عارضی طور پر مانگ لینا، مستعار لینا، عاریتاً مانگنا، اُدھار مانگنا، کسی چیز کا عاریتاً لینا ‘ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں ایک شے کو بعینہ دوسری شے قرار دے دیا جائے، اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دئیے جائیں، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ استعارہ مجاز کی ایک قسم ہےجس میں ایک لفظ کو معنوی مناسبت کی وجہ سے دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کسی لفظ کو مختلف معنی میں استعمال کرنے کے لیے ادھار لینا۔  استعارہ میں حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق پایا جاتا ہے، لیکن اس میں حرف تشبیہ موجود نہیں ہوتا۔ جیسے’ لبِ لعل‘ اور ’سروقد‘ یہاں لب کو لعل سے اور قد کو سرو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور کبھی مشبہ کہہ کر مشبہ بہ مراد لیا جاتا ہے جیسے:’چاند ‘کہہ کر چہرہ اور’ شیر‘ کہہ کر شجاع مراد لینا۔ لیکن تشبیہ میں واضح الفاظ میں موازنہ موجود ہوتا ہے۔ مثلاً: زید کالاسد (زید شیر کی طرح ہے)تشبیہ اور زیداسد (زید شیر ہے) استعارہ ہے۔ اسی طر ح اگر ماں اپنے بچے کو یہ کہے کہ میرا چاند آگیا  یا کوئی شخص یہ کہے کہ خالد شیر ہے۔ پہلے جملے میں بچے کو چاند سے اور دوسرے میں خالد کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے، لیکن دونوں جملوں میں حرف تشبیہ موجود نہیں ہے۔ اسی طرح چاند اور شیر کو حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔ تشبیہ کے اس انداز کو استعارہ کہتے ہیں۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہوتے ہیں لیکن استعارہ میں مشبہ بہ کو عین مشبہ تصور کرلیا جاتا ہے، اور مشبہ بہ کی تمام صفات کو مشبہ کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے۔

        بعض اوقات استعارہ کا استعمال زبان میں اتنا عام ہو جاتا ہے کہ حقیقی معنی میں اس لفظ کا استعمال ختم یا بہت کم ہو جاتا ہے۔ جیسے لفظ متقی کا معنی ’محتاط شخص‘ ہے، لیکن اسے بطور استعارہ خدا کے معاملے میں محتاط شخص یا ’پرہیزگار‘ کے معنی میں اتنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اس کا استعمال اپنے اصل معنی میں بہت کم رہ گیا ہے۔ اسی طرح لفظ ’فاسق‘ کا لغوی معنی ’کاٹنے والا‘ ہے، لیکن یہ ’سرکش اور گناہ گار‘ کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے، کیونکہ گناہ گار خدا سے اپنا رشتہ کاٹتا ہے۔ یہ لفظ اب اپنے لغوی معنی میں بہت ہی کم استعمال ہوتا ہے۔

        سجادمرزابیگ استعارہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

        ’’وہ لفظ جو غیر وضعی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کا علاقہ ہو، نیز مشبہ یا مشبہ بہ کو حذف کر کے ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی ایسا قرینہ بھی ساتھ ہی ظاہر کرتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے کہ متکلم کی مراد حقیقی معنوں کی نہیں ہے۔ ‘‘  [۱۳]

          استعارہ اور تشبیہ میں یہ فرق ہے کہ تشیبہ میں حرف تشبیہ کا ہونا لازمی ہے۔ جسے وہ شیر کی مانند ہے۔ استعارے میں حرف تشبیہ نہیں ہوتا جیسے شیر خدا۔ استعارے کی دو قسمیں ہیں۔ استعارہ بالتصریح جس میں فقط مشبہ بہ کا ذکر کریں۔ مثلاً چاند کہیں اور معشوق مراد لیں۔ دوسرے استعارہ بالکنایہ جس میں صفر مشبہ کا ذکر ہو مثلاً موت کے پنجے سے چھوٹے۔ موت درندے سے استعارہ بالکنایہ ہے اور لفظ پنجہ قرینہ ہے۔

                   ارکان استعارہ

مستعار لہ

        وہ شخص یا چیز جس کے لیے کوئی لفظ یا خوبی ادھار لیا جائے۔ مثلاً اوپر کے جملوں میں بچہ اور خالد مستعار لہ ہیں۔

مستعار منہ

        وہ شخص یا چیز جس  سے کوئی لفظ یا خوبی مستعار لی جائے۔ مثلاً اوپر کی مثالوں میں چاند اور شیر مستعار منہ ہیں۔ مستعار لہ اور مستعار منہ کو طرفین استعارہ بھی کہتے ہیں۔

وجہ جامع

        مستعار لہ اور مستعار منہ میں جو وصف اور خوبی مشترک ہو اسے وجہ جامع کہتے ہیں۔ مذکورہ بالا مثالوں میں بچے اور چاند کے درمیان خوب صورتی اور خالد اور شیر کے درمیان بہادری وجہ جامع ہے۔

                   اقسام استعارہ

استعارہ مطلقہ

        وہ استعارہ جس میں مستعار لہ اور مستعار منہ میں سے کسی کے کسی قسم کے مناسبات کا ذکر نہ کیا جائے۔

استعارہ مجردہ

        جس میں مستعارمنہ کے مناسبات کا ذکر ہو۔

استعارہ تخییلیہ

        وہ استعارہ جس میں متکلم ایک چیز کودوسری شے کے ساتھ دل ہی میں مماثلت طے کرکے سوائے مستعار لہ کے کسی کا ذکر نہ کرے۔

استعارہ وفاقیہ

        وہ استعارہ جس میں مستعار لہ اور مستعار منہ دونوں کی صفات ایک ہی چیز یا شخص میں جمع ہو جائیں۔ یعنی ان دونوں کا ایک ساتھ ہونا ممکن ہو۔

استعارہ عنادیہ

        وہ استعارہ جس میں مستعارلہ اور مستعار منہ کی صفات کا کسی ایک چیز میں جمع ہونا ممکن نہ ہو۔

استعارہ عامیہ

        وہ استعارہ جس میں وجہ جامع بہت واضح ہو۔ اسے مبتذلہ بھی کہتے ہیں۔

استعارہ خاصیہ

        وہ استعارہ جس میں وجہ جامع غیر واضح ہو۔ جسے لوگ آسانی سے نہ سمجھ سکیں۔

                   استعارہ کی مثالیں

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

        اس شعر میں مستعار لہ محبوب ہے اور مستعار منہ گل ہے اور وجہ جامع خوب صورتی ہے۔

پلکوں سے گر نہ جائیں یہ موتی سنبھال لو

دنیا کے پاس دیکھنے والی نظر کہاں

        اس شعر میں مستعار لہ آنسو اور مستعار منہ موتی ہیں۔ اور چمک وجہ جامع ہے۔

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا

        اس شعر میں مستعار لہ قابل آدمی ہے اور مستعار منہ چراغ اور وجہ جامع روشنی ہے۔

طالع سے کسے تھی ایسی امید

نکلا ہے کدھر سے آج خورشید

        اس شعر میں مستعار لہ محبوب، مستعار منہ خورشید اور وجہ جامع خوب صورتی ہے۔

فلک یہ تو ہی بتا دے کہ حسن و خوبی میں

زیادہ تر ہے تیرا چاند یا ہمارا چاند

        اس شعر میں محبوب کو چاند کہا گیا ہے۔ محبوب مستعار لہ اور چاند مستعار ہے۔ وجہ جامع چاندنی یا خوب صورتی ہے جو دونوں میں قدر مشترک ہے۔

                   تشبیہ اور استعارہ میں فرق

۱۔ تشبیہ حقیقی ہوتی ہے  اور استعارہ مجازی ہوتا ہے

۲۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ کا ذکر ہوتا ہے اور استعارہ میں مشبہ بہ کو مشبہ بنا لیا جاتا ہے۔

۳۔ تشبیہ میں حروف تشبیہ کے ذریعے ایک چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دیا جاتا ہے، جبکہ استعارہ میں وہ ہی چیز بنا دیا جاتا ہے۔

۴۔ تشبیہ کے ارکان پانچ ہیں اور استعارہ کے ارکان تین ہیں۔

۵۔ تشبیہ علم بیان کی ابتدائی شکل ہے اور استعارہ اس علم کی یک بلیغ صورت ہے۔

۶۔ تشبیہ کی بنیاد حقیقت پر ہوتی ہے اور استعارہ کی بنیاد خیال پر ہوتی ہے۔

مجازمرسل

        عمومی قاعدہ یہ ہے کہ لفظ کو اسی معنی کے لیے استعمال کیا جائے جس کے لیے اسے وضع کیا گیا ہو۔ لیکن ادیب اور شاعر بعض اوقات لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے کسی اور معنی میں بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ اس کا مقصد کلام یا تحریر میں خوب صورتی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ لفظ کے اس استعمال کو مجاز کہتے ہیں۔ اصطلاح میں مجاز وہ لفظ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو۔ مثلاً:’’خاتون آٹا گوندھ رہی ہے۔ ‘‘  یہاں آٹا اپنے حقیقی معنوں میں ‌استعمال ہوا ہے۔ یعنی آٹا سے مراد آٹا ہی ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ  ’’اس کے ہاتھ پر زخم ہے۔ ‘‘  اس میں زخم انگلی، انگوٹھے، ہتھیلی یا ہاتھ کی پشت پر ہو گا، لیکن انگلی، انگوٹھے یا ہتھیلی کی جگہ ہاتھ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ’’  فاتحہ پڑھیے۔ ‘‘  اس سے مراد یہ ہے کہ پوری سورہ فاتحہ پڑھیے، نہ کہ صرف لفظ فاتحہ۔ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ’’  احمد چکی سے آٹا پسوا لایا ہے۔ ‘‘ یہاں آٹا، گندم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جو اس کی ماضی کی حالت ہے۔ یعنی آٹا تو نہیں پسوایا گیا بلکہ گندم پسوائی گئی تھی اور آٹا بنا۔ لیکن آٹا پسوانے کا ذکر ہے۔

        اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی ادب کی اس صنف کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کی درج ذیل تین آیات کو ملاحظہ کریں :

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ۔ (الزمر39:7)۔ ( وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ )

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ۔ (ابراھیم14:1)( یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ۔ )

 وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔ (الانعام6:97)(اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ )

        درج بالا آیات میں سےپہلی آیت میں لفظ ’’ ظلمات‘‘  اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ ماں کے پیٹ میں حقیقتاً اندھیرا ہی ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں ’’ ظلمات و نور‘‘  کے الفاظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوئے۔ اس آیت میں قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی مدد سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ یہاں تاریکی سے مراد حقیقی تاریکی نہیں ہے بلکہ اس سے اخلاقی برائیاں اور راہ حق سے دوری مراد ہے۔ اسی طرح نور یا روشنی سے مراد حقیقی روشنی نہیں بلکہ سیدھا راستہ مراد ہے جو انسان کو اللہ کی طرف لے جائے۔ تیسری آیت میں لفظ ’’ ظلمات‘‘  کا استعمال حقیقی یا مجازی دونوں اعتبار سے ممکن ہے۔ کیونکہ سمندر یا خشکی میں سفر کرتے ہوئے مسافر کو حقیقت میں رات کا اندھیرا بھی پیش آ سکتا ہے اور راستوں کا علم نہ ہونا بھی گویا مجازی معنی میں اندھیرا ہے جو اسےصحیح راستے سے بھٹکا سکتا ہے۔

                   مجاز کے اجزا

مجاز کے پانچ اجزا ہیں :

۱۔ لفظ مجاز

        یہ وہ لفظ ہے جسے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہو۔ جیسے لفظ ’’ ظلمات‘‘۔

۲۔ مجازی معنی

        یہ وہ معنی ہے، جسے اصل معنی کی جگہ اختیار کیا جا رہا ہو۔ مثلاً لفظ ’’ ظلمات‘‘  کے اصل معنی کی جگہ اسے ’’ گمراہی‘‘  یا ’’ لاعلمی ‘‘کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

۳۔ سبب

        کسی لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنے کی کوئی وجہ ضرور ہونی چاہیے۔ مثلاً گمراہ یا لاعلمی میں بھٹکنے والے شخص کی کیفیت اس شخص سے بہت ملتی ہے جو اندھیرے میں بھٹک رہا ہو۔ اس وجہ سے لفظ ’’ ظلمات‘‘  کا گمراہی یا لاعلمی کے معنی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

۴۔ علاقہ یا تعلق

        لفظ مجاز اور مجازی معنی میں کوئی تعلق ہو۔ یہی تعلق ہی لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنے کا سبب بنتا ہے۔

۵۔ قرینہ یا علامت

        جملے میں کوئی ایسی علامت یا قرینہ موجود ہونا چاہیے جو یہ ظاہر کرے کہ لفظ کو اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ علامت لفظ کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور جملے کے معنی میں پوشیدہ بھی ہوسکتی ہے۔

                   مجاز مرسل کی اقسام

مجاز مرسل کی مشہور اقسام یہ ہیں :

۱۔ جزو کہہ کر کل مراد لینا

        مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ’’  قل شریف پڑھیں ‘‘،   تو اس سے مراد  ان چاروں سورتوں کی تلاوت ہے جن کے آغاز میں لفظ ’’ قل‘‘ آتا ہے۔

۲۔ کل بول کر جزو مراد لینا

        یہ کہا جائے کہ’’  کرسی ٹوٹ گئی ہے۔ ‘‘ اگرچہ کرسی کا کوئی بازو یا ٹانگ ٹوٹی ہو گی تو یہ کل بول کر جزو مراد لیا جائے گا۔

۳۔ ظرف بول کر مظروف مراد لینا

        مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ’’  بوتل پیجیے۔ ‘‘ تو اس سے مراد بوتل کے اندر موجود مشروب پینا ہے۔ یا یہ کہیں کہ اس نے محفل میں کئی جام چڑھائے، تو اس سے مراد جام میں موجود شراب ہے۔

۴۔ مظروف بول کر ظرف مراد لینا

        اس کی مثال یہ جملہ ہے: ’’ دودھ آگ پر رکھ دیجیے۔ ‘‘اس سے مراد دودھ کا برتن چولہے یا آگ پر رکھنا ہے۔

۵۔ سبب کہہ کر مسبب یا نتیجہ مراد لینا

        مثلاً یہ جملہ: ’’ بادل ایک گھنٹہ برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔ ‘‘ بادل سبب ہے بارش کا اور بارش نتیجہ ہے۔ یہاں بادل برسنے سے بارش کا برسنا مراد ہے۔

۶۔ مسبب یا نتیجہ بول کرسبب مراد لینا

        مثلاً یہ جملہ: ’’ اس کے کمرے میں علم ہر طرف بکھرا پڑا تھا۔ ‘‘ یہاں علم سے مراد کتابیں ہیں۔ علم نتیجہ ہے کتاب خوانی کا۔ یہاں علم بول کر علم کا سبب یعنی کتاب مراد لی گئی ہے۔

۷۔ ماضی بول کر حال مراد لینا

        مثلاً یہ کہنا کہ’’  ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسر صاحب گھر پر ہی رہتے ہیں۔ ‘‘ اگرچہ ریٹائرمنٹ کے بعد آدمی پروفیسر نہیں رہتا، لیکن یہاں ماضی بول کر حال کی حالت مراد لی گئی ہے۔

۸۔ مستقبل بول کر حال مراد لینا

        مثلاً دوران تعلیم میں طب کے طالب علموں کو ڈاکٹر کہنا۔ اگرچہ وہ اس وقت تک ڈاکٹر نہیں بنے ہوتے، لیکن ان کی مستقبل کی حالت بول کر حال مراد لیا جاتا ہے۔

۹۔ مضاف الیہ بول کر مضاف مراد لینا

        مثلاً یہ کہنا کہ ’’ آج کل زمانہ بہت خراب ہے اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے۔ ‘‘یہاں زمانہ سے مراد اہل زمانہ یا لوگ ہیں، جن کی خرابی کا ذکر کیا گیا ہے۔

۱۰۔ مضاف الیہ حذف کر کے مضاف کا ذکر کرنا

        یہ جملہ: ’’ بدکردار انسانوں سے سگ اصحاب بہتر ہیں۔ ‘‘یہاں اصل ترکیب ’’ سگ اصحاب کہف ‘‘ہے۔ کہف مضاف الیہ سگ مضاف ہے۔ یہاں کہف حذف کر کے سگ اصحاب کی ترکیب لائی گئی ہے اور کہف کو حذف کر دیا گیا ہے۔

۱۱۔ آلہ بول کر صاحب آلہ مرا د لینا

        مثلاً یہ جملہ: ’’ قلم کا درجہ تلوار سے زیادہ ہے۔ ‘‘یہاں قلم سے مراد اہل قلم اور تلوار سے مراد اہل سیف یا تلوار باز ہیں۔

۱۲۔ صاحب آلہ بول کر آلہ مراد لینا

        ’’ اس کا پہلا وار ہی مخالف کی گردن کو تن سےجدا کر گیا۔ ‘‘یہاں صاحب تلوار بول کر آلہ یعنی تلوار مراد لی گئی ہے۔

۱۳۔ لفظ بول کر متضاد مراد لینا

        مثال کے طور پر کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر یہ کہا جائے: ’’ کیا خوب پڑھائی ہو رہی ہے۔ ‘‘اگرچہ وہ پڑھائی نہیں ہو رہی لیکن پڑھائی بول کراس کا متضاد یعنی پڑھائی کا نہ ہونا مراد لیا گیا ہے۔

کنایہ

         کنایہ: علم بیان کی رو سے یہ وہ کلمہ ہے، جس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوں اور ان کا سمجھنا کسی قرینے کا محتاج ہو، وہ اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہوا ہو کہ اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہوں۔ یعنی بولنے والا ایک لفظ بول کر اس کے مجازی معنوں کی طرف اشارہ کر دے گا، لیکن اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینا بھی غلط نہ ہو گا۔ مثلاً ’’بال سفید ہو گئے لیکن عادتیں نہ بدلیں۔ ‘‘

یہاں مجازی معنوں میں بال سفید ہونے سے مراد بڑھاپا ہے لیکن حقیقی معنوں میں بال سفید ہونا بھی درست ہے۔

        بقول سجادمرزابیگ:

        ’’ کنایہ لغت میں پوشیدہ بات کرنے کو کہتے ہیں اور اصطلاح علم بیان میں ایسے کلمے کو کہتے ہیں جس کے لازمی معنی مراد ہوں اور اگر حقیقی معنی مراد لیے جائیں تو بھی جائز ہو

سرپہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے  طرف کلاہ

مجھ  کو  ڈر ہے کہ  نہ  چھینے  ترا  لمبر  سہرا

سرپہ چڑھنا سے مراد گستاخ ہونا، اپنے تئیں دور کھینچنا مراد ہے اور حقیقی معنی یعنی ٹوپی سرپررکھنا مراد ہوسکتے ہیں۔ ‘‘[۱۴]

        علم بیان کی بحث میں تشبیہ ابتدائی صورت ہے اور استعارہ اس کی بلیغ تر صورت ہے۔ اس کے بعد استعارہ اور مجاز مرسل میں بھی فرق ہے۔ استعارہ اور مجاز مرسل، دونوں میں لفظ اگرچہ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن استعارہ مکمل مجاز ہوتا ہے اور اس میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ جب کہ مجاز مرسل میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح مجاز مرسل اور کنایہ میں بھی فرق ہے، کنایہ میں لفظ کے حقیقی و مجازی معنی دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں جب کہ مجاز مرسل میں حقیقی معنیٰ  مراد نہیں لیے جاتے، بلکہ مجازی معنیٰ ہی مراد لیے جائیں گے۔

        کنایہ کی ایک مثال مشہور عرب شاعرہ حضرت خنساؓ کے قصیدہ کا یہ شعر ہے جواس نے اپنے بھائی کے لیے کہا تھا:

طَوِیلُ النَجَادِ رَفِیعُ العِمَاد َکثیرُ الرَمَادِ  اِذَا مَا شَتَا

         ’’ان کی تلوار کا نیام طویل تھا، ان کےستون اونچے تھے، اور سردی کے موسم میں ان کے ہاں راکھ بہت ہوتی تھی۔ ‘‘

        طویل النجاد حقیقی اور مجازی دونوں معنی میں درست ہے۔ ان کی تلوار کا نیام حقیقت میں بھی طویل ہوسکتا ہے اور یہ ان کی بہادری اور لمبے قد کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح رفیع العماد کا مطلب ان کے گھر کے بلند ستون بھی ہوسکتے ہیں اور قبیلے میں ان کا بلند مقام بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ اور کثیر الرماد  یعنی چولہے میں بہت زیادہ راکھ ہونے کا بیان ان کی سخاوت کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ہاں غریبوں کے لیے بہت زیادہ کھانا پکتا تھا اور اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔

                   کنایہ کی اقسام

۱۔ کنایہ قریب

         کنایہ کوئی ایسی صفت ہو جو کسی خاص شخصیت کی طرف منسوب ہو اور اس صفت کو بیان کر کے اس سے موصوف کی ذات مراد لی گئی ہو۔ مثلاً عزیز لکھنوی کے بقول:

دعوے تو تھے بڑے ارنی گوئے طور کو

ہوش اڑ گئے ہیں ایک  سنہری لکیرسے

        اس شعر میں ’ارنی گوئے طور ‘سے حضرت موسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ کنایہ کی اس قسم سے توجہ فوراً ہی موصوف کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔

۲۔ کنایہ بعید

        کنائے کی اس قسم میں بہت ساری صفتیں کسی ایک موصوف کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور ان کے بیان سے موصوف مراد ہوتا ہے۔ لیکن وہ ساری صفتیں الگ الگ اور چیزوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کو کنایہ بعید اور خاصہ مرکبہ بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً:

ساقی وہ دے ہمیں کہ ہوں جس کے سبب بہم

محفل  میں آب و آتش و خورشید  ایک جا [۱۵]

        آب و آتش و خورشید کے جمع ہونے کی صفت شراب میں پائی جاتی ہے اور یہ صفات الگ الگ بھی موجود ہوسکتی ہیں۔

۳۔ کنایہ سے صرف صفت مطلوب ہو

زندگی کی  کیا  رہی  باقی  امید

ہو گئے موئے سیاہ موئے سفید

        اس شعر میں موئے سیاہ سے جوانی مراد لی گئی ہے اور موئے سفید بڑھاپے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

۴۔ کنایہ سے کسی امر کا اثبات یا نفی مراد ہو

        مثلاً یہ جملہ: زید و عمر دونوں ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یعنی دونوں اپنی شکل و صورت یا عادات و خصائل میں ایک جیسے ہیں۔

۵۔ تعریض

        لغت میں تعریض کے معنی ’چوڑا کرنا، وسیع کرنا، بڑا کرنا، مخالفت کرنا، مزاحمت کرنا، کنایہ سے بات کہنا، اشارہ سے کوئی بات جتانا، کسی معاملے کو مشکل بنا دینا ‘وغیرہ ہیں۔ اصطلاح میں تعریض کنائے کی اس قسم کو کہتے ہیں جس میں موصوف کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اگر کوئی بادشاہ رعایا پر ظلم کر رہا  ہو تو یہ کہا جائے کہ بادشاہی اس کو زیبا ہے جو رعیت کو آرام سے رکھے۔ یعنی وہ بادشاہی کے لائق نہیں ہے۔ تعریض کو بالعموم کسی پر تنقید کرنے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی شخص کسی پر تنقید کرنا چاہتا ہے اور واضح طور پر اس کا نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ اس میں کسی حد تک طنز کا مفہوم بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً داغ دہلوی کا شعر ہے:

ہمی بدنام ہیں جھوٹے بھی ہمی ہیں بے شک

ہم  ستم کرتے ہیں اور آپ کرم کرتے  ہیں

        اس شعر میں داغ نے طنز کی صورت میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ آپ ہی دراصل جھوٹے ہیں اور ہم پر ستم کرتے ہیں۔

        کنائے کی اس قسم کی مثال قرآن مجید کی اس آیت میں بھی موجودہے۔ ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ (آل عمران۲۱:۳)

’’ جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو۔ ‘‘

        یہاں لفظ فَبَشِّرْهُمْ  میں تعریض ہے۔ اس کا معنی’’  خو ش خبری سنا دو‘‘ ہے۔ جبکہ جہنم کا عذاب درحقیقت خو ش خبری نہیں، بلکہ بری خبر ہے، مگر اسے بطور تعریض خوش خبری کہا گیا ہے۔

۶۔ تلویح

        لغت میں تلویح کے معنی’ زرد بنانا، گرم کرنا، کپڑوں کو چمکدار بنانا، تلوار کو صیقل کرنا، اشارہ یا کنایہ کرنا ہیں۔ اصطلاح میں کنائے کی ایسی قسم جس میں لازم سے ملزوم تک بہت سارے واسطے ہوں تلویح کہلاتی ہے۔ اس کی مثال سودا کا یہ شعر ہے:

الغرض مطبخ اس گھرانے کا

رشک ہے آبدار خانے کا

        یہاں مطبخ کا رشک آبدار خانہ ہونا کنایہ ہے نہایت بخل سے۔ کیونکہ آبدار خانہ ہونے کو آگ کا نہ جلنا لازم ہے اور آگ کے نہ جلنے کو لازم ہے کھانے کا نہ پکنا اور کھانا نہ پکنے کو یہ بات لازم ہے کہ صاحب مطبخ نہ خود کچھ کھاتا ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کھلاتا ہے اور اس سے بخل ثابت ہوتا ہے۔ ۱۶۱]

۷۔ رمز

        اردو لغت میں رمز کے معنی ’آنکھوں ‘ بھنوؤں وغیرہ کا اشارہ، ذومعنی بات، پہلو دار بات، مخفی بات، طعنہ دینا، اشارہ آنکھ منہ ابرو وغیرہ سےنوک جھونک، مخفی یا پوشیدہ بات‘ وغیرہ ہیں۔ ادبی اصطلاح میں رمز کنائے کی وہ قسم ہے جس میں زیادہ واسطے نہ ہوں، لیکن تھوڑی بہت پوشیدگی موجود ہو۔ مثلاً یہ شعر رمز کی ایک عمدہ مثال ہے:

سیاہی منہ کی گئی، دل  کی آرزو نہ گئی

ہمارے جامہ کہنہ سے مئے کی بو نہ گئی

        اس میں جامہ کہنہ سے شراب کی بو کا نہ جانا کنایہ ہے اس سے کہ بڑھاپے تک میخواری کرتے رہے۔

۸۔ ایما و اشارہ

        اگر کنائے میں واسطوں کی کثرت بھی نہ ہو اور کچھ پوشیدگی بھی نہ ہو تو اس کو ایما و اشارہ کہتے ہیں۔ جیسے سفید داڑھی والاسے بوڑھا آدمی مراد لیا جاتا ہے۔ اسی طرح میر کا یہ شعر ایما و اشارہ کی عمدہ مثال ہے:

شرکت شیخ و برہمن سے میر

اپنا کعبہ جدا بنائیں گے ہم

        اپنا کعبہ جدا بنانا، سب سے علیحدہ رہنے کی طرف اشارہ ہے۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages