سہیل انجم
پروفسیر محسن عثمانی ندوی عہد حاضر کے ان مصنفوں، مفکروں اور دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جن کو ہر مکتبہئ فکر میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ان کی ملی فکر اور وسیع مطالعہ اور ہر تلخ بات کو نرم لہجے میں کہنے کی صلاحیت ہے۔ انھوں نے اپنی پوری عمر درس و تدریس کے ساتھ ساتھ علم کی تلاش میں گزاری اور قلم و قرطاس کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔انھوں نے اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا ہے جس کا اظہار ان کی گفتگو کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں میں بھی ہوتا ہے۔ وہ ملی مسائل پر بھی لکھتے ہیں اور ان کی تحریروں میں ملت کی زبوں حالی پر ان کا درد و کرب جھلکتا نظر آتا ہے۔ وہ پیرانہ سالی میں بھی اپنے قلم سے ملت اسلامیہ کو جگانے کی مہم میں مصروف ہیں۔ انھوں نے نئی دہلی کے ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی فرمائش پر ’مشاہیر اسلام‘ کی ایک سیریز شروع کی جو سات جلدوں میں جاکر مکمل ہوئی۔ یہ سیریز ’ایک عظیم الشان ورثہ کی چودہ صدیاں‘ نامی سلسلہئ مطبوعات کے تحت شائع ہوئی ہے۔ ان ساتوں جلدوں کی ضخامت تقریباً دو ہزار صفحات ہے۔ اگر اسے مشاہیر اسلام کا انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
ان ساتوں جلدوں کے نام اس طرح ہیں: مشاہیر علوم اسلامیہ اور مفکرین و مصلحین، مشاہیر مسلم سائنس داں اور سائنس و صنعت میں مسلمانوں کا عروج و زوال، مشاہیر شعر و ادب، مشاہیر فاتحین اسلام، مشاہیر خلفاء و سلاطین اسلام، مشاہیر خواتین اسلام اور مشاہیر و معاصر اسلامی شخصیات۔ پہلی جلد میں دو سو شخصیات اور ان کے علمی و دینی کارناموں کا تذکرہ، دوسری میں طب و جراحت ریاضی و فلکیات زراعت و باغبانی اسلحہ سازی اور فن تعمیر ٹیکنالوجی اور ایجادات و اختراعات میں مسلمانوں کی خدمات، تیسری جلد میں تقریباً دو سو اردو عربی اور فارسی شعرا اور ادبا، چوتھی جلد میں اسلام کے سپاہی دین کے فدائی مجاہدین کشور کشا اور سپہ سالاروں،پانچویں میں تاریخ اسلام کے منتخب حکمرانوں، چھٹی میں سو سے زیادہ معروف و مشہور خواتین اسلام اور آخری اور ساتویں جلد میں عہد حاضر میں عرب و عجم کی نمایاں شخصیات اور ان کی خدمات کا تذکرہ ہے۔
چونکہ پروفیسر محسن عثمانی مدارس اسلامیہ اور بالخصوص ندوہ کے فیض یافتہ اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہیں اس لیے آپ کو تعلیمی اداروں خصوصاً اسلامی مدارس میں موضوعات سے متعلق کتابوں کی کمی کا احساس رہا ہے اس لیے انھوں نے یہ انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا۔ جلد اول کے پیش لفظ کے مطابق جو کہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کا تحریر کردہ ہے، کہا گیا ہے کہ اگر چہ اپنے اسلاف کے علمی کارناموں پر بہت سی تحریریں ہیں ’لیکن ایسی تصنیفات کی قلت ہے جو قرآن، حدیث، سیرت، فقہ، تاریخ نویسی، تصوف، فکر و اصلاح اور فلسفہ و کلام کے میدان میں جامعیت و ہمہ گیریت سے متصف ہوں۔ اس کی شدید ضرورت کا احساس کرتے ہوئے پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے مذکورہ میدان میں ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور طویل عرصہ کی جاں فشانی کے بعد اس مہم کو سر کرنے میں کامیابی حاصل کی‘۔ کتاب کے مقدمہ میں پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں کہ ’یہ کتاب طلبہ اور اساتذہ کو مراجع و مصادر کی طرف رجوع اور موضوع سے متعلق دیگر اہم کتابوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں تمام مراجع و مصادر کا اور تمام علمی کتابوں اور تمام علمی شخصیتوں کا استقصاء نہیں کیا گیا ہے لیکن اس میں بیشتر کتابوں کا اور اور ان کے مصنفین کا تعارف آگیا ہے۔ جس سے طلبہ و اساتذہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘۔
انھوں نے اس کتاب میں خود کو محقق اور ناقد قرار دینے کے بجائے صرف ناقل بتایا ہے۔ تاہم اگر ان کی بات تسلیم کر لی جائے تو بھی ان سات جلدوں میں جو کچھ نقل کیا گیا ہے وہ کوہِ گراں اٹھانے سے کم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پہلی جلد میں جو کہ قرآنی علوم اور ان کے خادمین سے متعلق ہے، موضوع کے تعارف کے بعد چوبیس شخصیات کا تذکرہ ہے۔ ان میں عربی اور عجمی سبھی ہیں۔ جیسے کہ ابن جریر طبری، زمخشری، فخر الدین رازی، قرطبی، سیوطی، شوکانی، رشید رضا، شیخ طنطاوی، شاہ ولی اللہ دہلوی، عبد العزیز دہلوی، عبد الماجد دریا بادی، امین احسن اصلاحی، ابو الاعلیٰ مودودی، ابوالکلام آزاداور اشرف علی تھانوی وغیرہ۔ اس کے بعد علوم حدیث اور ان کے خادمین، ہندوستان میں علم حدیث، سیرت نبوی اور سیرت نگار، ہندوستان کے معروف انگریزی سیرت نگار، تصوف، مفکرین و مصلحین اور فلسفہ و متکلمین وغیرہ پر تفصیلات ہیں۔
پروفیسر محسن عثمانی موضوع کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اسلامی علوم میں سرفہرست قرآنی علوم آتے ہیں۔ ہزاروں کتابیں دنیا کی بہت سی زبانوں میں قرآنی علوم سے متعلق لکھی گئی ہیں۔ سیکڑوں تفسیریں اور ہزاروں ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں موجود ہیں۔ قرآنی علوم میں بھی بہت سی شاخیں ہیں۔ ترجمہ، تفسیر، اعجاز القرآن، احکام القرآن، علم تجوید، الفاظ القرآن وغیرہ وغیرہ۔ ہم یہاں دنیا کے اور اسلامی تاریخ کے بہت مشہور اور منفرد مفسرین کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کوشش یہ ہوگی کہ چودہ صدیوں کے چودہ ممتاز مفسرین کو منتخب کیا جائے۔ اگرچہ مفسرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان میں سے چودہ کا انتخاب کرنا ایک مشکل کام ہے‘ لیکن یہ مشکل کام انھوں نے بآسانی کر دیا ہے۔
مشاہیر مسلم سائنسدانوں میں پہلے تو سائنس و صنعت میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی کہانی ہے اس کے بعد مشہور مسلم سائنسدانوں کا تذکرہ ہے۔اس ضمن میں 65 سے زائد سائنس دانوں کا بیان ہے۔ ان میں عہد رفتہ کے بھی ہیں اور عہد حاضر کے بھی ہیں۔ ان میں پاکستان کے ڈاکٹر عبد السلام بھی ہیں تو ہندوستان کے ڈاکٹر عبد الکلام بھی ہیں۔
مشاہیر شعر و ادب میں اردو، عربی اور فارسی کے جن دو سو شعرا، ادبااور نثر نگاروں کا تذکرہ ہے ان میں امیر خسرو سے لے کر مولانا ماہرالقادری تک 74 شخصیات کی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔اسی طرح عربی کے حضرت کعب بن زہیر ؓسے لے کر نجیب محفوظ تک اور فارسی کے رودکی سمرقندی سے لے کر شیخ احمد سرہندی تک کا ذکر ہے۔ اس جلد کے مقدمہ میں پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں کہ اس کتاب سے اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانو ں کے مشاہیر فن سے واقفیت ہو جاتی ہے۔ مشرقی ملکوں میں رہنے والے ادیب و شاعر کے لیے مستحسن بات یہ ہے کہ وہ کم از کم مشرقی ملکوں کی ادبیات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اسی لیے اس کتاب کے لیے مشرق کی تین مشہور زبانوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی اس کتاب سے ادب کا پورا منظرنامہ سامنے آجاتا ہے۔
مشاہیر فاتحین اسلام میں 28 فاتحین کا تذکرہ ہے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ٹیپو سلطان تک شامل ہیں۔ درمیان میں متعدد صحابہئ کرام کے علاوہ طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، شیر شاہ سوری، ظہیر الدین محمد بابر، سراج الدولہ اور حیدر علی کا تذکرہ ہے۔ پروفیسر محسن عثمانی نے اس جلد کے مقدمے میں لکھا ہے کہ اسلام نے حق کی حمایت او رباطل کی شکست کے لیے جنگ کرنا جائز قرار دیا ہے۔ یہ جنگ سلطنت و حکومت کی ہوس پوری کرنے کے لیے نہیں کی جاتی تھی۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ جہاد اسلام میں ایک فریضہ ہے۔ جہاد میں سب سے زیادہ ضروری چیز ڈسپلن ہے۔ جہا دکا مقصد کسی سرزمین پر مخالفتوں کا زور توڑ کرکے دلوں پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہے اور دنیا سے ظلم اور زیادتی کو مٹانا اور عدل و انصاف کو پھیلانا ہے۔ انھوں نے اس مضمون میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں پر نصرت الٰہی کا نزول کیوں نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس کے لیے چار شرطیں بتائی ہیں۔ یعنی جہاد کا مقصد غلبہئ اسلام اور اعلائے کلمتہ الحق ہو۔ اللہ کی راہ میں شہادت کا شوق غالب ہو۔ توجہ الی اللہ اور احکام الٰہی پر عمل ہو اور اسباب کی دنیا میں تمام ضروری اسباب کو اختیار کرنا ہو۔
محسن عثمانی انتہائی جرأتمندی کے ساتھ کہتے ہیں ’اسلام پر یہ الزام غلط ہے کہ وہ تلوار سے پھیلا۔ لیکن یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ دنیا میں اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی رول نہیں تھا۔ دین اسلام قبول کرنے کے لیے کسی کو مجبور کرنا شریعت میں جائز نہیں۔ لیکن جارحیت کا جواب دینے کے لیے اور ناانصافی کا سدباب کرنے کے لیے یا کبھی حفظ ماتقدم کے لیے تلوار اٹھائی گئی ہے۔ ان جنگوں میں سپاہ اسلام نے جذبہئ جہاد اور شوق شہادت کے محیر العقول نمونے پیش کیے ہیں۔ ان واقعات سے مسلمانوں کی نئی نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے‘۔ بہرحال موجودہ جہاد سے قطع نظر حقیقی جہاد ایک پاکیزہ اور اللہ کو پسندیدہ عمل ہے جس سے مسلمان دور ہو گئے ہیں اور شاید اسی لیے خوار ہیں۔
پروفیسر محسن عثمانی نے مشاہیر خلفاء اور سلاطین اسلام میں خلفائے راشدین کے بعد دیگر خلفاء کا ذکر کیا ہے جو کہ نواب میر عثمان علی خاں آصف جاہ سابع پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس ضمن میں 52 خلفاء و سلاطین کے کارناموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تمام جلدوں کے مانند چھٹی جلد مشاہیر خواتین اسلام بھی بہت اہم ہے۔ اس میں سو سے زیادہ اسلامی خواتین کا تذکرہ ہے۔ ابتدا میں صحابیات پر قلم اٹھایا گیا ہے اور بجا طور پر سب سے پہلے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما اور دیگر امہات المومین کی خدمات کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں 99 خواتین پر تفصیلی مضامین ہیں جبکہ سو سے زیادہ خواتین کا تذکرہ ہے۔ اور سب سے آخر میں مادر ہمدرد رابعہ بیگم کا ذکر ہے جو کہ حکیم عبد الحمید اور حکیم محمد سعید کی والدہ تھیں۔ درمیان میں رضیہ سلطانہ، نواب سلطان جہاں بیگم، خالدہ ادیب خانم، مریم جمیلہ، صالحہ عابد حسین اور قرۃ العین حیدر وغیرہ کی خدمات کو یاد کیا گیا ہے۔ آخری جلد مشاہیر و معاصر اسلامی شخصیات میں عہد حاضر کی عرب و عجم کی نمایاں شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں 143 شخصیات آگئی ہیں۔ سب سے پہلے مولانا انور شاہ کشمیری اور آخر میں علامہ یوسف القرضاوی کا تذکرہ ہے۔ درمیان میں علامہ شبلی نعمانی، علامہ اقبال، سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر حمید اللہ، مولانا حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد، یاسر عرفات وغیرہ کو یاد کیا گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر جلد میں موضوع کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ضرورت کے تحت بعض جلدوں میں مقدمہ ہے، بعض میں نہیں ہے۔ آخری جلد کے آخری پیرگراف میں پروفیسرمحسن عثمانی لکھتے ہیں کہ ’زیر نظر کتاب میں شخصیات کا بہت مختصر تذکرہ ہے ورنہ ان میں زیادہ تر شخصیتیں وہ ہیں جن کی علمی خدمات کی وجہ سے ان پر پوری پوری کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اردو داں طبقہ اور مسلمانوں کی نئی نسل بیسویں صدی کی ان شخصیات سے واقف ہو جنھوں نے کسی بھی نوعیت کی اسلامی خدمات انجام دی ہیں‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیراگراف تمام جلدوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ان ساتوں جلدوں میں جتنا علمی سرمایہ سمیٹ دیا گیا ہے محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ اس سیریز سے وہ لوگ تو فائدہ اٹھائیں گے ہی جن کو اسلام کے مشاہیر کی سوانح اور کارناموں کو پڑھنے کا شوق ہو دینی مدارس کے طلبہ بھی اس سے علمی استفادہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو ان تقریباً دو ہزار صفحات میں ہزاروں علمی شخصیات کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔ پروفیسر عثمانی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ’اب دینی مدارس کے فضلاء کے قلم سے ایسی علمی کتابیں بہت کم منظر عام پر آتی ہیں جنھیں تازہ ہوا کا جھونکا اور گلشن علم کا غنچہئ نو شگفتہ کہا جا سکے…… ان مدارس میں شروع سے ہی مصادر و مراجع کو دیکھنے اور پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مدارس کے طلبہ اس سیریز کو اپنے مطالعے میں لائیں تو ان کے سامنے مصادر و مراجع کا پورا دفتر کھل جائے گا۔ اس کو قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نظام الدین نئی دہلی 011- 24352732 سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مجموعی قیمت 1915 روپے ہے جبکہ ایک جلد پر قیمت درج نہیں ہے۔