اتوار۲۷ دسمبر۔ 2015ئ
مطلع:
”غالب کے ہاں جن خصوصیات کی قدر بعد میںہوئی اور جنہیں ہم اس کے پورے شاعرانہ وجود میں اُبھرا ہُوا دیکھتے ہیں،
وہ پرانے اور نئے پن کا امتزاج ہیں۔ پرانے ذخیرے کی بہترین روایات سے غالب نے قطعی طور پر رشتہ نہیں توڑا بلکہ اُن کا رَس اپنے ہاں جذب کر کے اُن پر نئے ذہن، فکر اورفن کے لب و لہجے کا اضافہ کیا۔ وہ دونوں لحاظ سے اہم ہیں۔ ان کی فکر میںفارسی اور اُردو، ادبیات کی بہترین لفظی اور معنوی روایات کے عناصر چھن کر، صاف ہوکر اس طرح آئے ہیں کہ ان میں سوچ کا سامان بھی اتنا ہی ہے
جتنا لفظوں اور آوازوں سے لطف اندوز ہونے کا امکان، یہ صفات الگ الگ شخصیتوں میں بکھری یا پھیلی ہوئی تھیں،
غالب کے ہاں دہ یکجا ہوگئیں اور اس طرح وہ قدیم و جدید کا سنگم بن گئے، اسی میں اُن کا کمال پوشیدہ ہے۔“٭ ڈاکٹر ظ انصاری
خوشبو:
سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آپڑی
مجھ پَہ کیا گزرے گی اِتنے روز حاضر بِن ہوئے
تین دن مُسہل سے پہلے، تین دن مُسہل کے بعد
تین مُسہل، تین تبریدیں، یہ سب کَے دن ہوئے
٭مرزا اسد اللہ خاںغالب
نوٹ : اس قطعے کی (آسان)شرح کےلئے بقول غالب
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کےلئے۔
٭٭
پیر فقیر غالب
آج ہی کی تاریخ (27دسمبر) تھی1797ءکی، جب مغلوں کے اقتدار میں اُردو کے ایک ایسے شاعر نے آگرے میں جنم لیا تھا ، جسے گزرے ہوئے ڈیڑھ سو سال ہونے کو ہیں مگروہ ہماری شاعری میںاب تک اپنی مثال آپ بنا ہوا ہے۔ اُس نے اپنے مکتوبات کے حوالے سے اُردو نثر میں بھی جدت کا جو چراغ روشن کیا تھا وہ بھی ایک منبع ¿ نور بنا ہوا ہے۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب کا نام نامی زمین ِ اُردو میں ایک آسمان بن چکا ہے کہ وہ کون ہے جس کی نگاہ آسمان کی طرف نہ اُٹھتی ہو، نہ اٹھی ہو اور کوئی ایسا بھی ملنا محال ہے جس نے شعوری یا لاشعوری طور پر مرزا غالب سے اکتساب نہ کیا ہو۔ وہ ہماری زبانِ راحت جا ن کا ایک لازمہ بن گیا ہے۔ غالب ہمارے علم و ادب کا ایک ایسا استعارہ ہے کہ جسے لوگوں نے اپنی فکر اور اپنے فن میں کہاں کہاں ،کیسے کیسے برتا اور اس مینارہ ¿ نور سے کس کس طور اِکتساب کیا، بسا اوقات یہ بھی پتہ نہیں چلتا ۔ کتنے ہی شعرا و ادبا ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب کا نام غالب کی لفظیات سے مستعار لیا اور کتنے ہی شعرا ہیں جنہوں نے غالب کی شعری زمینوں پر اپنے افکار کے گل بوٹے سجائے ہیں۔ تضمین اور پیروڈی کرنے والے بھی ایک نہیں بیشمار ملیں گے۔ ہم یہاں اپنے چند مشاہدے بیان کریں گے۔
کراچی میں ہمیں ایک شاعر ملے شاہد اَلوَرِی نہایت پُرگو تھے۔ انھیں تضمین کا بڑا شوق تھا اور وہ اس فن میں خاصی مہارت رکھتے تھے اُن کی مہارت اور پُرگوئی کا اندازہ لگائیں کہ شاہد (الوری)مرحوم کے تین شعری مجموعے ہمیں یاد ہیں کہ جن کا تعلق غالب سے تھا۔ جن میں سے ایک ’چراغ سے چراغ‘ اور دوسرے کا نام ’سخن دَر سخن ‘ ہے۔ چراغ سے چراغ میں شاہد مرحوم نے غالب کے فکری چراغ سے اپنا چراغ جلایا ہے اور دوسرا مجمو عہ ’ سخن دَر سخن ‘ ‘ تو اپنی مثال آپ ہے کہ اس میں اُنہوں نے حمد سے نعت اور پھر چاروںخلفائے عظام اور دیگر بڑی بڑی شخصیات کو موضوع بنایا ہے مثلاً اُنہوں نے خواجہ معین الدین چشتیؒ کی منقبت لکھی مگر اس کا آخری مصرعہ مرزا غالب ہی کا ہے اسی طرح یہ پوری کتاب’ ’ سخن دَر سخن ‘ ‘ بن گئی ہے ۔شاہد مرحوم طنز و مزاح سے بھی تعلق رکھتے تھے ،ان کے ایک شعری مجموعے کا نام ” ففٹی ففٹی“ ہے اس میں ہر صفحے پر قطعے کی صورت ان کے تین مصرعے ہیں اور چوتھا یعنی آخری مصرعہ مرزا غالب کا ہے اور اس کے مقابل صفحے پر بالکل اسی طرح علامہ اقبال کے مصرعے پر شاہد کے قطعے کی چار منزلہ عمارت کھڑی ہوئی ہے اور سار ے قطعے طنزو مزاح کے پیرائے میں ہیں۔ اپنے فن میں کمال حاصل تھا شاہد الوری کو، پاکستان کے ادبی حلقوںمیں تمام ممتاز لوگ ان کو جانتے ہی نہیں مانتے بھی تھے۔ مذکورہ کتاب’ سخن دَر سخن‘ کے ہر قطعے کے ساتھ کسی مو ¿قر اہل ادب کی رائے بھی ہے۔ جس کا ایک نمونہ اسی صفحے پر آپ ملاحظہ کریںگے۔ہمیں یہاں ممبئی کے قدیم شعری حلقے کے شمیم فیض آبادی بھی یاد آتے ہیں یہ مرحوم بھی مرزا نوشہ کے عقیدت مند وں میںتھے ۔ غالب کی زمینوں میں اُنہوں نے بھی اپنے عہد میں اپنی فکر کی خوشبو خوب خوب پھیلائی ۔ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ دِلّی میںبستی حضرت نظام الدینؒ میں آخری آرام گاہ پانے والا غالب بھی اپنے اندرون میںکسی پیر فقیر سے کم نہیں تھا کہ جس نے بھی اس کے آستانے پر حاضری دی تو وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹا ۔ حالی سے عبد الرحمان بجنوری اور پھر طبا طبائی، حسرت موہانی،آسی الدنی سے سہا مجددی تک درجنوں نام ہیں جو غالب کی تفہیم میںسرگرداں رہے اور تنقید کے میدان میں بھی شاید ہی کوئی ہو جوغالب سے بچا ہو۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر حکیم عبد الحمید مرحوم کی مرتب کردہ ایک کتاب ”مطالعات ِ غالب “ ہے جس میں تین درجن سے زائد اہل نقد و نظر نے حق ِغالب ادا کرنے کی سعی ¿ مشکور کی ہے جس میں چند ممتاز اسمائے گرامی یوں ہیں: مولوی سید ہاشمی، سید احتشام حسین، آل احمد سرور، وحید قریشی،ڈاکٹرظ انصاری، شکیل الرحمان، مالک رام، فرمان فتح پوری، یوسف حسین، امتیاز علی عرشی ، سید قدرت نقوی اورکالیداس گپتا رضا وغیرہ۔ دیکھا جائے تو غالب کے حوالے سے ان حضرات نے اپنے نام کو بھی دوام کی راہ پر ڈال دِیا ہے۔ اس صفحے پر ہمارے عہد کے ممتاز شاعر، براڈ کاسٹر اور صحافی زُبیر رضوی کے ایک طویل مضمون ’مرزا غالب اور فنونِ لطیفہ‘ کا ایک حصہ پیش کیا جارہا ہے جس میں یہ بات اپنی دلیل کے ساتھ موجود ہے کہ فقیر غالب کا ایک وجود پارس بھی تھا کہ جو اُس سے مس ہوا وہ بھی سونے جیسا ہوگیا۔ یقینا غالب ، ہماری زبان کا سوناہے سونا۔٭
٭ندیم صدیقی
مضمون:
مرزاغالب اور فنونِِ لطیفہ
٭زُبیر رَضوی (دہلی )
گلزار کا ( مرزا غالب پر)سیریل اپنے ہر ایپی سوڈ میں ایسا پر اثر ہوتا تھاکہ ناظرین اس کی اگلی قسط دیکھنے کےلئے مقررہ وقت پر ٹی وی سیٹ کے سامنے آکر بیٹھ جاتے تھے اس سیریل نے غالب کو عوام میں محبوب بنا نے کے ساتھ ساتھ بقول گلزار” اس نے میری زندگی ضرور بنا دی۔“
یہ واقعہ ہے کہ جس جس نے غالب کو اپنی کسی بھی کاوش کا محور ومرکز بنایا اُس کی زندگی سنور گئی فلم ساز سہراب مودی‘رانی جھانسی‘فلم بنا کر کچھ ایسے خسارے میں پھنسے کہ ان کے لیے مالی بحران سے نکلنا نا ممکن سا ہو رہا تھا ایسے میں سہراب مودی کو افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا غالب پر لکھا ہوا وہ اسکرپٹ یاد آیا جو اُنہوں نے منٹو کی ضرورتوں کا خیال کرتے ہوئے چھوٹی سی رقم دے کر کہیں رکھ دِیا تھااُنہوں نے د ¾ھول چاٹ رہے، منٹو کے اسکرپٹ کی گردجھاڑی اور اس پر فلم بنانے کا اِرادہ کرلیا ایسا سوچتے ہوئے سہراب مودی کے ذہن میں اپنی فلمسازی والی اِمیج اوراس کے تسلسل کومستحکم اور برقرار رکھنا تھا انہیں یہ وہم وگمان بھی نہ تھا کہ فلم ہٹ ہو جائے گی اور غالب کی غزلیں غلا م محمد کی موسیقی میں اور ہیروئن ثریا کی آواز میں سن کر سارا ملک جھوم اٹھے گا فلم کامیاب ہوئی توغالب کے مزار کو سنگ مر مر کا بنانے کے لیے کیسہ ¿ زر اچھال دِیا،اس پورے اپیی سوڈ میں فلم مرزا غالب کا اسکرپٹ رائٹر منٹو پر امید رہا اور پر اعتماد بھی رہا اس کے خیال میں غالب کی زندگی کے تین کردار،یعنی خود غالب،ان کی بیگم امرا و ¿ اور کوتوال شہر فیض الحسن خاں ایسے کردار ہیں جو اگر اپنے اصلی چہروں کے ساتھ فلم کے کردار بنا دِیے جائیں تو وہ فلم کی کامیابی کے ضامن بن سکتے ہیں فلم مرزا غالب کی غیر معمولی مقبولیت نے مذکورہ تینوں کرداروں میں جو مقناطیسی کشش تھی اس پر عوامی پسند کی مہر لگا دی۔
فلم مرزا غالب سے کس قدر مختلف شخص اور شاعر پر بنائی گئی فلم ڈویژن کی وہ دستاویزی فلم بھی بڑے شوق سے ملک بھر کے سنیما ہالوں میں دیکھی گئی جس کا اسکرپٹ کیفی اعظمی نے لکھا اور وہی اس دستاویزی فلم کے راوی بھی تھے کیفی کی خوبصورت آوا ز اور تحریر نے غالب پر بنی اس دستاویزی فلم کو اس کے بعدبننے والی اسی طرز کی فلموں کے لیے راہ ہموار ضرو رکی مگر کسی دوسرے غالب کو کوئی کہاں سے لاتا کہ غالب تو ایک ہی پیداہو ا تھا جسے پیروں کے پیر حضرت نظام الدین اولیاؒ کے قرب خاص میں ابدی نیند سونا نصیب ہوا۔
غالب کی شبیہ سازی کے اس ذکر کو اب کچھ دیر فنون لطیفہ کے حوالے سے خاص طور سے مصوری کے حوالے سے آگے بڑھاتے ہیں مصوری پر غالب کے کچھ منتخب اشعار کو موضوع بنا کر نوجوان مصور چغتائی نے واٹر کلر میں جو تصویریں بنائیں انہیں ’مرقع چغتائی‘کے نام سے 1928ء میں شائع کیاگیاہے۔چغتائی مصوری کی مشرقی روایات کے امین تھے ان کی بنائی تصویریں مصوری کے ایرانی اسکول کے علاوہ چینی اور جاپانی مصوری سے بھی متاثرتھیں۔چغتائی نے مغربی مصوری کے ان نمونوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا جو حضرت عیسیٰ اور بی بی مریم کی ذات مبارک سے موسوم تھے رفائیل اور لینا رڈو کے مصورانہ عمل برسوں مغربی مصوروں کے لیے مشعل راہ بنے رہے تھے مونا لیزا کا ہلکا سا تبسم لینا رڈو کا ایک ایسا مصورانہ عمل تھا جس کا کوئی متبادل مغر ب کا کوئی دوسرا مصور نہ دے سکاچغتائی کا خیال تھا کہ کسی مصور کا پیغام اس صورت میں آفاقی اپیل کاحامل ہو سکتا ہے جب وہ اپنی تہذیب میں رچا بسا ہو اپنی اور قدیم روایات کو اپنے مخصوص انفرادی رنگ میں ڈھال سکے چنانچہ اس روشنی میں مرقع چغتائی کی دید ایک عجیب سے جمالیاتی نشاط سے ہمکنار کرتی ہے۔یہ مرقع غالب کی نازک خیالی اور مضمون آفرینی کو رنگوں کی مد دسے نمایاں کرنے میں بے حد کامیاب ہے چغتائی نے اپنے مصورانہ عمل کے لیے غالب کے ان اشعار کو منتخب کیا تھا جو وڑول میڈیم میں اپنی معنویت کے ساتھ پوری طرح روشن ہوجائیں۔
غالب کے اشعار کو تصویری پیکر دیتے ہوئے چغتائی نے اسی زمانے کے مقبول رنگوں اور لباس کو اپنایا ہے نسائی اور مردپیکر سرسے پا تک لباس سے ڈھکے ہوئے ہیں ان کے نقوش خاصے تیکھے ہیں۔یہ ایرانی بھی لگتے ہیںاور پہاڑی منی ایچر سے بھی ملتے جلتے ہیں رنگ چمکیلے ہیں مگر بنگالی اسکول کی طرح وہ Washرنگوں میں ہیں۔
چغتائی کے مصورانہ عمل میں لائن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ا سکے ساتھ ہی انہوں نے جو Elementsاستعمال کیے ہیں وہ ایرانی یا پھر ہندوستانی اور مسلم ہیں چغتائی چہروں پر زیادہ زور دیتے ہیں ان کے مصورانہ عمل میں چہرے خاصے روشن اورگراو ¿نڈخاصا Darkہے مرقع چغتائی اور نقش چغتائی کی مقبولیت یہ تھی کہ چغتائی نے غالب کی مشکل گوئی اور معنوی تہہ داری سے کم سروکار رکھا شعر پڑھ کر جب ان کی بنائی تصویر پرنظر پڑتی ہے توشعر کا لطف دوبالا ہو جاتاہے چغتائی کے عہد مصوری میں تصور زیادہ حاوی تھا کہ پینٹنگ حقیقی ہو اوراس میں ایمائیت اور تجریدیت کا عنصرحاوی نہ ہو یہی وہ مقبول مصورانہ عمل تھا جس نے غالب کے اشعار کی فوری تفہیم اورترسیل کوکامیابی سے اداکردیا۔
غالب صدی کے دوران غالب اکیڈمی نے اپنے سرپرست حکیم عبدالحمید دہلوی کی ایما پر ہندوستان کے نمائندہ مصوروں کو غالب کے اشعار پینٹ کرنے کی تحریک دی تھی ادب اورمصوری کی تاریخ میں یہ پہلا کامیاب تجربہ تھا جب ملک کے بیس ممتازمصوروں نے غالب کا ایک ایک شعر پینٹ کیا تھا مصورجے سوامی ناتھن نے غالب کا یہ شعر پینٹ کیا تھا۔
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
ایم ایف حسین نے غالب کا یہ شعراپنے مصورانہ عمل کے لیے منتخب کیا تھا۔
لطف خرام ساقی وذوق صدائے چنگ
یہ جنت نگاہ، وہ فردوس گوش ہے
عبدالرحمن چغتائی کے مرقع چغتائی اور نقش چغتائی کی غیر معمولی کامیابی کے بعد جس دوسرے مصور نے کلام غالب کو اپنے مصورانہ عمل کاموضوع بنایا وہ تھے صفِ اول کے پینٹرصادقین تھے۔
صادقین کا غالب نامہ کامصورانہ عمل چغتائی کے مصورانہ عمل سے قطعی مختلف ہے صادقین کے غالب نامے کی تقریظ فیض احمد فیض نے لکھی تھی صادقین کے منتخب کردہ اشعار کے پہلے مصرعے تھے۔
سرپائے ختم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
کی مرے قتل کے بعداس نے جفا سے توبہ
رو سے سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے
ہائے اس زودپشیماں کاپشیماں ہونا
پاکستان کے جدید نامور مصور صادقین کے یہاں چند ایک وہ شعر بھی ہیں جنہیں چغتائی پینٹ کر چکے تھے مگر یہاں فرق ایک دوسرے کے مصورانہ عمل اور لائن کے تخلیقی ادراک کا ہے صادقین کا غالب نامہ کسی عہد یا وقت کا پابند نہیں اس میں وہی آفاقیت ہے جو غالب کے کلام کا طرہ ¿ امتیاز ہے صادقین کی بنائی تصویروں کو دیکھتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے بنائے نسائی یامردپیکر نسلی اور تہذیبی پہچان سے آزاد ہو کر آفاقی پیکروںمیں ڈھل گئے ہیں صادقین کے یہاںمصورانہ اسلوب کا تنوع ہے وہ آج کے مصورانہ میڈیم سے ہم آہنگ ہیںچغتائی کی لائن میں روانی بہت ہے،صادقین کی لائن میں روانی کا احساس نہیں ہوتامگر وہ توانا ہے صادقین کے تصویری پیکروں میں ایمائیت بھی ہے اور تجریدیت بھی کیونکہ وہ ایسے مصور ہیں جسے Formکو Distort کرنے میں تخلیقی سرشاری حاصل ہوتی ہے۔چغتائی کے تصویری پیکر غالب کے اشعار سے فوری ہم آہنگ ہو جاتے ہیں جب کہ صادقین کاغالب نامہ غالب کے اشعار کو کئی زاویوں سے سمجھنے پر اصرار کرتا ہے فیض نے لکھاتھا۔
”جس طرح غالب نے تصور کے آبگینے کوپگھلا کر الفاظ کے ساغر میں اُنڈیلا،بادہ تلخ تر‘شودوسینہ ریش تر اسی طرح صادقین نے الفاظ کے آبگینے کو گداز کر کے رنگ وخط کے ساغر میں ڈھالا ہے۔“
غالب کے اشعار کو انہماک سے پینٹ کرنے میں امینہ آہوجہ بھی نمایاں رہی ہیں امینہ نے گھوڑے کی علامت کے سہارے غالب کے کئی اشعار کی اپنے انداز سے کیلی گرافی کی ہے جو صادقین کی مشہور زمانہ کیلی گرافی سے خاصی مختلف ہے اور کسی قدر رک کر پڑھنے میں آتی ہے’غالب مصور‘کے عنوان سے(ممبئی میں) رام کمار شرما اور فیض مجدد نے غالب کے اشعار کو اس طرح پینٹ کیا ہےکہ وہ فلم کے ہورڈنگ اور کیلنڈر آرٹ سے زیادہ قریب ہے اس لیے وہ اپنا کوئی دیر پاتاثرنہیں چھوڑپایا۔سنگ ریزوں سے غالب کے اشعار کو پیکر یت دینے کا عمل بھی کلام غالب کی تفہیم کا ایک دلچسپ عمل ہے یہ عمل بڑی حد تک میر کے اس شعرکی تفسیر ہے۔
آنکھ ہو توآئینہ خانہ ہے دہر٪منھ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
کیپٹن برجیندرسیال کا کہنا تھا کہ ممبئی میں ساحلِ سمندر پر ٹہلنا ان کا معمول تھا۔یہیں ایک صبح انہیں چٹان کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر بے ساختہ غالب کاایک شعر یاد آگیا سمندر کی طوفانی موجوں کی بوچھار کا سامنا کرنے والی پتھر کی آڑی ترچھی ایک خاص شکل اختیار کرنےوالی چٹان کو باطن کی آنکھ سے دیکھا توغالب کے اشعار کی سنگ ریزی کی زبان میں ایک ساتھ بہت سی شکلیں نظرآنے لگیں۔برجیندرسیال ان سنگ ریزوں کو اپنے انداز سے ترتیب دے کر انہیں اوپر نیچے رکھ کر انگلی یا چھینی سے تراش کے اسے غالب کے کسی شعرکے قریب کردیتے ہیں ان کاایسا سو مرقعوں کامجموعہ کیمرے سے لی گئی تصویروں میں
غالب بہ صدر رنگ‘کے عنوان سے پبلی کیشن ڈویژن نے آرٹ پیپرپر محفوظ کردیاہے یہ بڑا انوکھا کام ہے اس کے کچھ نمونے غالب اکیڈیمی کے پاس ہیں کچھ رام پوررضا لائبریری میں محفوظ ہیں۔٭
( طویل مضمون سے اقتباس)
رابطہ:011 26983804
٭٭
ایوان غزل
بیاد غالب
( آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا)
غم سے بچنا ہے، خوشی سے بھی گریزاں ہونا
کچھ مفر ہے تو اسی میں کہ پریشاں ہونا
اور کچھ روز مِرا ساتھ گوارا کرلو
تم کو آجائے گا تنہا بھی نمایاں ہونا
مَیں گنہگارِ محبت نہ سزاوارِ حیات
باوجود اسکے بھی چھپتا نہیں انساں ہونا
آپ کے طرزِ تبسم کا سہارا لے کر
آگیا راس مجھے چاک گریباں ہونا
فطرتِ عشق بھی سَو رنگ بدل لیتی ہے
مجھ سے چھپ کر مِری صورت سے نمایاں ہونا
لوگ بچتے ہیں محبت میں پریشانی سے
میں نے سیکھا ہے محبت میں پریشاں ہونا
اور بھی ہیں طلب دوست کی راہیں انجم
کچھ نہ بن آئے تو پھر خاکِ بیاباں ہونا
٭انجم فوقی بدایونی (مرحوم)
( کوئی صورت نظر نہیں آتی)
غم نہیں گر سحر نہیں آتی
موت بھی چارہ گر نہیں آتی
میکدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ
کوئی آفت اِدھر نہیں آتی
کوئی صدمہ تو دِل کو پہنچا ہے
بے سبب آنکھ بھر نہیں آتی
کُچھ تمہارا پتہ نہیں چلتا
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
رات مَر تو نہیں گئی شاید
صبح ہوتی نظر نہیں آتی
موت آتی تو ہے مگر اکثر
وقت سے پیشتر نہیں آتی
چاندنی رات کا مزاج نہ پوچھ
ہم غریبوں کے گھر نہیں آتی
نیند بھی موت بن گئی عدم!
بے وفا رات بھر نہیں آتی
٭ عبد الحمید عدم (مرحوم)
(ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے)
رکھ دیتے ہیں حالات بھی کیا کیا مِرے آگے
دُنیا مِرے آگے ، کبھی عقبا مِرے آگے
جس کو مِرے ہونٹوں نے چُھوا سوکھ گیا ہے
ٹھہرا ہی نہیں کوئی بھی دریا مِرے آگے
اب بن کے وہ خاشاک ہے ٹھوکر ہے ہَوا کی
کل شاخ پَہ اِک پھول کھلا تھا مِرے آگے
میں آہوئے یک شہر ہوں رم بھول گیا ہوں
رکھ دے کوئی لاکر مِرا صحرا مِرے آگے
احباب سمجھتے ہی نہیں ہیں مِرا معیار
رکھ دیتے ہیں دُنیا کا تماشا مِرے آگے
کہتا تھا کہ مَیں طاق ہوں شمشیر زنی میں
آیا تھا کوئی دست بریدا مِرے آگے
مَیں جب سے ضیا واصلِ بھوپال ہُوا ہوں
ہیں ہیچ سمرقند و بخارا مِرے آگے
٭ ضیا فاروقی (بھوپال)
رابطہ :09406541986
(اگر شراب نہیں، انتظار ساغر کھینچ )
جگا جنوں کو ذرا نقشہ ¿ مقدر کھینچ
نئی صدی کو نئی کربلا سے باہر کھینچ
مَیں ذہنی طور پَہ آوارہ ہُوا جاتا ہوں
مِرے شعور مجھے اپنی حد کے اندر کھینچ
نئی زمین لہو کا خراج لیتی ہے
دیارِ غیر میں بھی خوشنما سا منظر کھینچ
اُداس رات میں تارے گواہ بنتے ہیں
رگ حباب سے تو قاتلانہ خنجر کھینچ
ابھی ستاروں میں باقی ہے زندگی کی رمق
کچھ اور دیر ذرا نرم گرم چادر کھینچ
وجودِ شہر تو جنگل میں ڈَھل چکا عَالَم
اب اس جگہ سے مجھے جانبِ سَمُندَر کھینچ
٭افروز عَالَم (کویت)
رابطہ :00965 66272697
قطعہ
” ایک شا عر نے غالب کے منتخب مصرعوں کو کس طرح سمجھا، خود غالب کو کس کس انداز سے دیکھا، فکرِ غالب کی بہت سی جہتوں کی شرح سے لے کرتوسیع بھی کرنی چاہی۔ اس طرح کہ وہ لفظ و معنی میں غالب کی مداحی ہی رہے۔ یہ کچھ اور، اور بہت کچھ۔ جن میں ڈاکٹر شاہد الوری کی غالب سے محبت، عقیدت اور اپنی محنت نے اس مجموعہ ¿ قطعات کو ایک خوب صورت جدت بنادِیا ہے۔ جدت میں نےInnovation کا بُرا بھلا ترجمہ کیا ہے۔ عجز بیان کے سبب۔ کاش غالب کو اُن کے دور میں نہ ماننے والے اس دور میں موجود ہوتے۔ کم از کم مولانا محمد حسین آزاد ضرور زندہ ہوتے۔ وہ تک ڈاکٹر شاہد الوری کو سینے سے لگا لیتے۔“٭ جمیل الدین عالی
دبیر الملک مرزا غالب
وہ جس کے زیرِ نگیں ہے قلم کی ہر اقلیم
وہ جس کا سِکّہ ¿ سِطوَت، سدا دِلوں پَہ چلا
وہ جس کی طبع رواں موج ِکوثر و تسنیم
وہ جس کا حُسنِ تخیّل، متاعِ ارض و سما
کیا ودیعت مِژگانِ یار کا بھی حساب
شمار اس نے اگر دِل کی دھڑ کنوں کو کِیا
غزل میں اتنے مضامیں سمو دِیے اُس نے
قیاس جس کا کسی کے گمان میں بھی نہ تھا
شعاعِ حرف سے جذبات کا نہاں خانہ
بڑے قرینے سے سطحِ بیاں پَہ چمکایا
ہیں بزمِ شعر میں یوں تو ہزارہا شاعر
روایتوں کے بھنور سے فراغ کس کو ملا
سماعتوں کے اُفُق پر نئے چراغ جلے
” ادائے خاص سے غالب ہُوا ہے نکتہ سرا“
٭شاہد اَلوَرِی(مرحوم)
NadeemSiddiqui