ایک پاکستانی ماں انگلستان میں ۔۔۔ قسط سوم

1 view
Skip to first unread message

Aapka Mukhlis

unread,
Apr 13, 2015, 1:21:29 PM4/13/15
to bazm qalam

عیسائیوں کا عجب فرقہ

ایک دن ایک خاتون ہاتھ میں بائبل لیے دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ اس نے بتایا کہ وہ عیسائیوں کے ’’شہود یہودہ‘‘ (Jehovah`s Witnesses) نامی فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ نام میں نے پہلی بار سنا تھا۔ تجسس جاگ اٹھا۔ ویسے بھی خاموشی و زباں بندی سے بیزار اور تنہائی سے عاجز آئی ہوئی تھی۔ بات چیت کا سنہرا موقع خود سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کو ضائع نہیں کر سکتی تھی، فوراً اندر آنے کی دعوت دی۔  چائے پیش کی، پھر پوچھا، اب بتائو یہ گواہان کون تھے اور کس بات کی گواہی دیتے تھے؟ خاتون کھل اٹھی۔ اس نے میرے اخلاق کی تعریف کی ورنہ بقول اس کے کئی لوگ تو اس کی شکل دیکھتے ہی دروازہ بند کر دیتے ہیں۔یہاں نہ صرف دروازہ کھلا بلکہ چائے بھی پیش کی گئی۔ ایک گھنٹے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اگلے ہفتے آنے کی اجازت چاہی، جو اسے مل گئی۔ اب میری یہ ملاقاتی ہر ہفتے پابندی سے آتی۔ میری چائے پیتی‘ میرے سموسے کھا کر اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتی اور جاتے ہوئے کچھ کتابیں اور رسالے پڑھنے کو دے جاتی۔

یہ مذہب عیسائیت اور یہودیت کے بین بین ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کو نہ خدا، نہ اس کا بیٹا مانتے ہیں۔ جنت اور دوزخ، دونوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اگر ہر شخص حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لے آئے، تو یہی دنیا جنت بن جائے گی۔ حضرت عیسیٰؑ کی واپسی کا انتظار بھی کرتے ہیں۔ جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے ساتھ شہودہ یہوہ کے کئی پیروکار بھی مارے گئے تھے۔ پاکستان میں گھرگھر گھوم کر تبلیغ کرنے والے لوگ بھی اکثر یہی ہوتے ہیں۔ ’’اے ٹو زیڈ‘‘ ایک دن بچوں کو اسکول سے لیا۔ راستے میں ڈبل روٹی خریدی۔ پھر یاد آیا ڈاک کے کچھ لفافے لیتی چلوں، کئی خط لکھنے تھے۔ اسٹیشنری کی دکان والی گلی میں تھی، وہاں سے ساڑھیوں کی دکان پر نظر پڑ گئی۔ اُدھر سے نکلتے ہوئے بچوں کو آئس کریم کی فرمائش کر دی۔ حافظے پر تکیہ کرتے ہوئے واپسی کی ٹھانی‘ تو پتا چلا راستہ بھول چکی۔ کبھی اس گلی میں کبھی اس میں، کوئی چیز پہچان ہی میں نہ آئے۔ سب گلیاں ایک جیسی سب گھر یکساں، پہچانیں تو کیسے؟ چلتے ہوئے کسی گلی کا نام بھی نہیں پڑھا تھا۔ خوب چکرکھا کھا کر گھر پہنچے۔

میاں کو ہماری مشقت کا جوں ہی علم ہوا‘ انھوں نے ڈھائی تین سو صفحات کی موٹی سی کتاب ’’لندن اے ٹو۔زیڈ‘‘ ہاتھ میں تھما دی اور ہدایت کی کہ اس کے بغیر کبھی گھر سے مت نکلنا۔ پیدل جائو یا ریل سے، بس سے جائو یا ٹیکسی سے، کتاب ساتھ رہے۔ کتاب دیکھ کر سخت وحشت ہوئی۔ نقشوں کے بعد نقشے، لکیروں پر لکیریں، الٹے سیدھے حروف۔ لیکن ایک دفعہ جب سمجھ کر دیکھنا شروع کیا تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کیا غضب کی کتاب تھی۔
کفر کا فتویٰ لگنے کا ڈر نہ ہو‘ تو اسے حضرت خضرؑ کا نعم البدل کہا جا سکتا ہے۔ سیدھی راہ یہ دکھائے، گم ہونے سے بچائے، بھٹکائے بغیر منزل پر پہنچائے۔ روایت کے مطابق یہی کام حضرت خضرؑ کرتے ہیں۔ ہم نے اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ دن بعد تو یوں لگا جیسے اس کے بغیر زندگی لولی لنگڑی تھی۔ یہ کتاب تھی کہ سہارے کی لاٹھی‘ اب کہیں آنے جانے کے لیے کسی سے راستہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔

اپنے وطن کی بات دوسری تھی۔ وہاںلولی لنگڑی، بے سہارا زندگی آسانی سے گزر جاتی ہے۔ لاٹھیوں اور سہاروں کی کمی بھی نہیں ہوتی۔ کوئی نہ کوئی بوڑھی خالہ، ریٹائرڈ ماموں یا بے کار عم زاد آس پاس منڈلایا ہی کرتے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد لوگوں کو یہاں سے وہاں جانے کا راستہ بتانا ہوتا۔ بلکہ وہ آپ کو گاڑی میں بنفس نفیس لا اور لے جا سکتے تھے۔ یہ عیاشی تھی اپنے وطن کی!  دو دفعہ راستہ پوچھ کر خود جانے کی جرأت کی تھی، نتیجے میں خواری کے سوا کچھ نہ ملا۔ کراچی میں لمبا قیام تھا۔ ایک دوست نے چائے پر مدعوکر لیا۔ جانے کے لیے ان کے گھر کا پتا پوچھا۔ جواب آیا، خیام سینما کے سامنے ہے۔ خیام سینما کا پتا پوچھنے پر بتایا کہ بلوبینڈبیکری کے سامنے ہے۔ ہم اس سے بھی لاعلم تھے۔ جرأت کر کے پوچھ ہی لیا، یہ دونوں کہاں ہیں؟ ادھر سے آواز میں گرمی آ گئی۔ جواب ملا ’’نرسری میں اور کہاں۔‘‘

ہم اور بوکھلا گئے اور بے اختیار پوچھ بیٹھے ’’کون سی نرسری؟‘‘  یہ کم علمی کی انتہا تھی۔ ’’آپ کراچی میں ہوں اور آپ کو نرسری کا پتا نہ ہو؟‘‘ پارہ درجہ ابال سے اوپر چلا گیا۔ بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا۔ دوسری مرتبہ زیب النسا اسٹریٹ پر کھڑے ہو کر بند روڈ کا پوچھ لیا، بس جناب غضب ہو گیا۔ وہ صاحب تو گلے کا ہار ہو گئے۔ کہاں رہتی ہیں، کیوں رہتی ہیں، کب سے رہتی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ابھی تک بند روڈ کا پتا نہیں؟ تین پشتوں کی تاریخ بتانے کے بعد گلوخلاصی ہوئی۔ اس کے بعد توبہ کر لی اور سہاروں کا سہارا لینے لگے۔ لیکن اب ہم سہاروں اور لاٹھیوں سے آزاد تھے۔ ’’لندن اے ٹو زیڈ‘‘ ہاتھ میں تھی اور لندن مٹھی میں۔ ایک دعوت نامے کو بڑے زعم اورحوصلے سے قبول کیا۔ ہم لندن کے شمال میں تھے اور منزل مقصود کرائڈن جنوب میں۔ اب یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔

اللہ کا نام لے کر کتاب کھولی، راستہ دیکھا، موڑوں پر نشان لگائے اور موٹر میں جا بیٹھے۔ لیکن قسمت یا تربیت کی کمی کہ تیسرے ہی موڑ پر دائیں یا بائیں لکھنا بھول گئے۔ ابھی ہم میاں بیوی کی بحث میں گرمی نہ آئی تھی کہ پیچھے سے آتی گاڑیوں نے ہارن بجانے شروع کر دیے اور میاں نے جلدی سے گاڑی موڑ دی۔ جب تک اے ٹو زیڈ کھول کر گم شدہ موڑ دیکھتے، کار کسی نامعلوم منزل کی طرف میلوں آگے نکل چکی تھی۔  دو چار چکر کاٹنے اور موڑ توڑ کے بعد ہم مغرب و مشرق کی سمتیں کھو بے راہ رو ہو گئے۔ بحث البتہ گرم ہو کر دہکنے لگی۔ جتنے القاب ایک دوسرے کو دیے جا سکتے تھے، دیے گئے۔ قصور وار ٹھہرانے میں بھی کنجوسی نہ برتی گئی، لیکن منزل گم گشتہ ہاتھ نہیں آئی۔ کئی لوگوں سے راستہ پوچھا۔ کسی نے دائیں گھما دیا کسی نے بائیں! گلی گلی، کوچہ کوچہ ڈھائی گھنٹے گھومنے کے بعد معجزانہ طور پر ہم مطلوبہ گلی میں تھے۔

اب گھر کا نمبر دیکھنے کی کوشش ہوئی۔ معلوم ہوا، کاغذ کا وہ پرزہ جس پر پتا لکھا تھا، گھر ہی رہ گیا۔ حلق خشک اور منہ بند تھا، سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ سر پیٹنے کی ہمت بھوک نے ختم کر دی تھی۔ بے ہوش ہونے کی ادا سے ہم عاری تھے، بچے تھک کر سو چکے تھے۔ کار میں مکمل خاموشی تھی۔ بات چیت کی طاقت تھی نہ ضرورت۔ الزامات کی فہرست پہلے ہی کئی بار دھرائی جا چکی تھی۔میاں بولے ’’سامنے فون بوتھ ہے۔‘‘ سمجھ میں آیا، نہ سمجھنے کی کوشش کی کہ فون بوتھ کا کیا کریں گے۔ گھر کا نمبر اور فون‘ دونوں اسی پرزے پر تھے جو گھر رہ گیا۔ منہ نہ کھولنا ہی مناسب لگا۔ کار سے اتر کر فون بوتھ تک گئے اور مسکراتے ہوئے واپس آئے اور کہا ’’مل گیا۔‘‘ میری حیرانی پر بتایا، فون بوتھ کی ڈائریکٹری میں گھر کے پتے اور فون نمبر، دونوں ہوتے ہیں۔ بوتھ کے بالکل سامنے والا گھر ان کا تھا۔ انگریز کے لیے دل سے ڈھیر ساری پرخلوص دعائیں نکلیں۔

 http://urdudigest.pk/aik-pakistani-maan/

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages