- خوش نصیب نابینا حفاظ کرام توجہ دیں - 1 Update
- Farzana Farahat خوبصورت غزل گرافک میں - 2 Updates
- -Report for publishشریف اکیڈمی (انٹرنیشنل) کینیڈا کی ماہانہ نشست - 1 Update
- [بزم قلم:41894] کتاب: قلمی خاکے (مشہور شخصیات کا جامع تعارف) - 1 Update
- [بزم قلم:41922] Digest for BAZMe...@googlegroups.com - 23 updates in 10 topics - 4 Updates
- [بزم قلم:41848] 02 - Ejra ; Panchi jahaz ka - Nazeer meela 24 -1 015 \ 08:50 P.M. - 1 Update
- آزاد غزل ۔۔۔ خط بنام ۔۔۔ سرور راز ............. آزاد غزل کے پرستاروں کے لیے - 1 Update
- [بزم قلم:41921] ek tabsira - 2 Updates
- Islam may tafreeh ka tasawwur 01 lecture by dr mahmood ahmed ghazi - 1 Update
- قلم قافلہ کی شام یاسمین سحر کے نام - 1 Update
- بحرین میں عالمی مشاعرہ بیاد عرفان صدیقی - 1 Update
- [بزم قلم:41922] خوشتر گرامی - بانی ایڈیٹر بیسویں صدی - 1 Update
ansar azeez <aaza...@gmail.com>: Feb 05 01:52PM +0530
بھٹکل میں 26،27مارچ کو نابینا حفاظ کرام کے مابین ہوگا کل ہند حفظ قرآن
مسابقہ
بھٹکل 04جنوری (فکروخبرنیوز )شہر بھٹکل سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں حفاظ کرام
کی مشہورومعروف تنظیم جمعیۃ الحفاظ بھٹکل کے زیرِ اہتمام جنوبی ہند میں پہلی
بار اپنی نوعیت کا شاندار عالیشان حفظ قرآن کا مسابقہ منعقد کیا جارہا ہے،
جمعیۃ الحفاظ بھٹکل کے صدر حافظ مولانا نعمت اللہ ندوی کے بیان کے مطابق یہ
اپنی نوعیت کا الگ ہی مسابقہ ہوگا ، 26،27مارچ بروز جمعرات و جمعہ دو روزہ
ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ملکی سطح پر کل ہند منعقد ہونے والے اس مسابقہ میں صرف
نابینا حفاظ کرام شرکت کریں گے اور انہیں کے درمیان حفظ کا مسابقہ ہوگا،مولانا
موصوف نے کہا کہ کئی سارے نابینا حفاظ کرام ملک بھر سے حصہ لینے کے لیے دلچسپی
دکھا رہے ہیں اور رابطے کا سلسلہ جاری ہے، یہ مسابقہ بھٹکل کی تاریخ کا ہی
نہیں بلکہ جنوبی ہند میں اپنی نوعیت کا منفرد،پہلا اور مثالی پروگرام ہوگا،:
ملک بھر سے تعلق رکھنے والے حفاظ کرام، مدارس کے ذمہ داران اپنے اپنے علاقے کے
نابینا حفاظ کرام تک اس بات کو پہنچانے کی زحمت فرمائیں۔ اس اجلا س کے مسابقین
قیمتی انعامات و ہدایاسے نوازیں جائیں گے۔
تفصیلات کے لیے ان نمبرات پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
حافظ مولانا نعمت اللہ ندوی : 09343410276
حافظ مولانا وصی اللہ ڈی ایف ندوی : 09901359172
حافظ مولانا سمعان خلیفہ ندوی(کنوینر ) :09916841734
(براہ کرم اس خبر کو اپنے اپنے اخبارات میں شائع کرکے نابینا حفاظ کرام تک اس
خبر کو پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور ثوابِ دارین حاصل کریں)
*Ansar azeez Nadwi*
*Editor*
*www.firkokhabar.com <http://www.firkokhabar.com> (urdu)*
*www.fikrokhabar.i <http://www.fikrokhabar.com>n (English)*
Shamsuddin Road,Nawayath colony,
Bhatkal. Karnataka (UK)
Ph: +91-9620364858, +91-8105666481
Sharif Academy <shafiq...@hotmail.com>: Feb 04 09:01PM +0100
Amjad Mirza `Amjad'
Tel: 0208 279 7244 Mob: 07939830093
E.Mail : mirza...@hotmail.co.ukEditor: Adbi Page of UK TIMES London
G.Secratary : Waltham forest Pakistani Community Forum London
Poet, Critic, Author (14 Books) ,Journalist, TV Presenter,Urdu Composer Publisher
Please subscribe to my YouTube channel on http://www.youtube.com/user/amjadalimirza
خلد بریں کی مثل ہو دنیائے خیر و شر امجد مری نماز میں ہے بس یہی دعاZulfiqar Naqvi <zulfiqar...@gmail.com>: Feb 05 11:46AM +0530
امجد مری نماز میں ہے بس یہی دعا ، واہ واہ بہت عمدہ امجد صاحب
-----Original Message-----
From: "Sharif Academy" <shafiq...@hotmail.com>
Sent: 05-02-2015 10:48 AM
To: "bazme qalam--" <bazme...@googlegroups.com>
Subject: [بزم قلم:41934] Farzana Farahat خوبصورت غزل گرافک میں
Amjad Mirza `Amjad'
Tel: 0208 279 7244 Mob: 07939830093
E.Mail : mirza...@hotmail.co.uk
Editor: Adbi Page of UK TIMES London
G.Secratary : Waltham forest Pakistani Community Forum London
Poet, Critic, Author (14 Books) ,Journalist, TV Presenter,Urdu Composer Publisher
Please subscribe to my YouTube channel on http://www.youtube.com/user/amjadalimirza
خلد بریں کی مثل ہو دنیائے خیر و شر امجد مری نماز میں ہے بس یہی دعا
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Sharif Academy <shafiq...@hotmail.com>: Feb 05 06:43AM +0100
شریف اکیڈمی (انٹرنیشنل) کینیڈا کی ماہانہ نشست اکیڈمی لسانی اورعلاقائی تعصبات سے بالا ہو کر فروغِ علم و ادب کے لیے دنیا بھر میں کام کر رہی ہے (شفیق مراد)(ڈائریکٹر میڈیا شریف اکیڈمی کے مطابق شریف اکیڈمی (انٹرنیشنل) کینیڈا کے ڈائریکٹرز کی ماہانہ نشست محترمہ امتہ المتین خان کی سر براہی میں کینیڈا کے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں منعقد ہوئی جس میں ممبر مشاورتی کونسل علی راجپوت،ڈائریکٹر میڈیا مسٹر جس چاحل ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر رخشی بی احمد اور کوآرڈینیٹر نعیم خان اور شاہدہ طاہر نے شرکت کی ۔شفیق مرا د چیف ایگزیکٹو شریف اکیڈمی نے بزریعہ فون شرکت کی اور اکیڈمی کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر روشنی ڈالی ۔شفیق مراد نے کہا کہ لسانی اور علاقائی تقسیم نے انسان کو بھی تقسیم کر دیا ہے ۔اکیڈمی ایسی تمام چیزوں سے بالا تر ہو کر ہر زبان اور ہر خطہ ارض کے لوگوں کے لییفروغ علم و ادب کا کام کرے گی ۔ہمارا امن وآشتی اور باہمی محبت کا پیغام ہے ۔اکیڈمی کا اگلا پروگرام اکیڈمی کی چھٹی سالگرہ کے حوالے سے’’ ایرن وڈ کمیونٹی ہال ‘‘میں 29مارچ 2015کو منعقد ہو گا ۔جس کے بعد مشاعرہ ہو گاْ جس میں ہر زبان سے تعلق رکھنے والے شعرا ء اپنی تخلیقات سے محفل کو رونق بخشیں گے ۔
"Dr.Syed Yaseen Hashmi" <dr.yase...@gmail.com>: Feb 05 10:36AM +0530
Padha ek kitab par tabsara ke hai jiss mein Mashaheer ka tazkera.
Mubassir hain jisske janab Sohail anjum , huwe naqd karne mai aise woh gum
lage likhne aisa janabe gramy likhe jis tarah se Zafar Ahmed Nizami
Naqad ka hai matlab ke parkhen khoobi wa khaami huwe ohda bar-aa ba
zariye khush kalami
.shuroo mein ginaayee'n sirif khoobiya'n barabar kiya use bata kar khamiya'n
Adhoora magar hai yeh tabsara ke iss mei'n nahi'n kahee'n tazkera
husoole kitab ho kiss tarah, acchha thha karte woh iss ki sharah
Suhail Anjum <sanju...@gmail.com>: Feb 04 03:56AM -0800
ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کے بانی ایڈیٹر جناب خوشتر گرامی کے بارے میں قارئینِ
بزم قلم کی دلچسپی دیکھ کر جی چاہا کہ میں خوشتر گرامی پر لکھا ہوا اپنا مضمون
ان کی نذر کروں۔ یہ مضمون میری کتاب ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘ میں شامل ہے جو
دہلی اردو اکیڈمی سے چھپ کر جلد ہی قارئین کی خدمت میں حاضر ہونے والی ہے۔
سہیل انجم
*خوشتر گرامی*
(بانی ایڈیٹر بیسویں صدی)
خوشتر گرامی کی پیدائش اکتوبر1902 میں سیالکوٹ پنجاب میں ہوئی اور ان کا
انتقال15 جنوری 1988 کو دہلی میں ہوا۔ یوں تو وہ ایک ادیب اور ادبی صحافی کی
حیثیت سے مشہور ہیں لیکن اپنے صحافتی کیرئر کے آغاز میں انھوں نے کئی روزنامہ
اور ہفت روزہ اخباروں اور رسالوں میں بھی کام کیا تھا۔ انھوں نے اپنی صحافت کا
آغاز لالہ لاجپت رائے کی زیر تربیت کیا اور بعد میں مولانا ظفر علی خاں کے
اخبار’’زمیندار‘‘ میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے
لاہور کے مشہور اخبار ’’بندے ماترم‘‘ کے شعبۂ ادارت میں بھی خدمات انجام دیں۔
خوشتر گرامی کا اصل نام رام رکھا مل چڈھا تھا۔ خوشتر گرامی ان کا قلمی نام تھا
جو بعد میں ان کی اصل شناخت ثابت ہوا۔ ان کے اصل نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں
اور اس سے بھی بہت کم لوگ واقف ہیں کہ انھوں نے ابتدائے عمر میں روزنامہ
اخباروں میں کام کیا تھا۔ رام رکھا مل چڈھا ایک وطن پرست انسان تھے۔ ہندوستان
سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’زمیندار‘‘ اور ’’بندے ماترم‘‘ میں
ان کی تحریریں حب وطن کے جذبات سے سرشار ہوتیں۔ ان اخباروں میں کام کے دوران
انھوں نے اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا اور رپورٹنگ کے علاوہ ڈیسک پر بھی
خدمات انجام دیں۔ انھوں نے خبروں کے ترجمے بھی کیے اور تقریباً وہ تمام کام
کیا جو ایک اخبار میں کام کرنے والوں کو کرنے پڑتے ہیں۔ انھوں نے ان اخباروں
میں جو تجربات حاصل کیے ان کا استعمال انھوں نے اپنے ماہنامہ رسالہ ’’بیسویں
صدی‘‘ میں کیا۔ ان کی تحریروں میں شروع سے ہی طنز و ظرافت کی آمیزش تھی۔ وہ
ایک اچھے طنز نگار تھے۔ ان کی اس خوبی کا برملا مشاہدہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کیا
جا سکتا ہے۔
خوشتر گرامی نے ادبی ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کا آغاز ۱۹۳۷ میں لاہور سے کیا
تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ دہلی چلے آئے اور دریا گنج سے اسے دوبارہ شروع کیا۔
اس رسالے کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ اردو والوں کے نزدیک دریا گنج اور بیسویں
صدی لازم وملزوم بن گئے بالکل اسی طرح جیسے خوشتر گرامی اور بیسویں صدی کو ایک
دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
وہ ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ سیالکوٹ میں ان کے دادا دیوان گنپت
رائے ایک بڑے تاجر اور کاروباری تھے۔ شہر کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
لیکن رفتہ رفتہ ان کی تجارت ماند پڑنے لگی اور ان کے والد دیوان بشمبھر ناتھ
تک آتے آتے تجارت تقریباً ٹھپ پڑ گئی۔ زبردست خسارہ ہوا اور اس طرح ایک رئیس
خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود رام رکھا مل چڈھا کو عسرت و تنگ دستی میں
زندگی گزارنی پڑی۔ ابھی ان کی عمر صرف تین سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو
گیا۔ ان کی والدہ نے کسی طرح ان کی پرورش کی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اردو اور
فارسی کی حاصل کی لیکن جب وہ پندرہ برس کی عمر کو پہنچے تو والدہ بھی انھیں
داغ مفارقت دے گئیں۔ حالات نے انھیں میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنے کا موقع
نہیں دیا۔ تاہم انھوں نے منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔
بہر حال حالات نے انھیں اس عمر میں ملازمت کرنے پر مجبور کر دیا جس عمر میں
عام خاندانوں کے لڑکے تعلیمی اداروں میں شب وروز گزارتے ہیں۔ پھر بھی اسے ان
کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا کہ جہاں انھیں لالہ لاجپت رائے اور مولانا ظفر
علی خاں کے زیر تربیت کام کرنے کا موقع ملا وہیں علامہ اقبال، مولانا تاجور
نجیب آبادی، شہید بھگت سنگھ او رمولانا عبد المجید سالک جیسی شخصیات کی قربت
اور شفقت بھی حاصل رہی۔
تقسیم ہند سے قبل دس سال کے عرصے میں بیسویں صدی نے مقبولیت کے عروج پر اپنے
قدم رکھ دیے تھے اور اس سے بڑے بڑے شاعر و ادیب وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن تقسیم
ملک نے جہاں ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا وہیں اس نے اس معیاری رسالے کو بھی
بے گھر کر دیا۔ لیکن خوشتر گرامی نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے اس کا اپنے ذہن
پر کوئی اثر قبول نہیں کیا کہ ان کا دفتر تباہ وبرباد ہو گیا یا پرچے کو
نکالنے کے تمام راستے بند ہو گئے۔ وہ دہلی آگئے اور دریا گنج کے مین روڈ پر
بیسویں صدی کے لیے ایک دفتر لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے نئے سرے سے اس رسالے
کی عمارت تعمیر کی اور پھر ’میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے، مجھ کو
جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے‘ والا معاملہ بن گیا۔ رسالے کو جتنی شہرت و
مقبولیت لاہور میں حاصل ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ دہلی میں حاصل ہوئی۔ پھر تو
بیسویں صدی ادب کا ایک ٹریڈ مارک بن گیا۔ جو اس رسالے میں چھپ گیا سمجھو ایک
مستند ادیب اور شاعر بن گیا۔
رام رکھا مل چڈھا نے بیسویں صدی نکالنے سے قبل اس وقت اپنا نام خوشتر گرامی
رکھا تھا جب وہ صحافت سے کوسوں دور تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں جب ان کی والدہ
کا انتقال ہوا تو انھوں نے اپنی والدہ کا ایک مرثیہ لکھا تھا۔ اس کے بعد ان کے
اندر موجود شاعری کا ذوق و شوق پروان چڑھنے لگا اور انھوں نے حب وطن سے سرشار
بہت سی قومی نظمیں لکھیں۔ لیکن ان کے ایک ادیب اور ادبی صحافی ہونے کا اصل
جوہربیسویں صدی سے کھلا۔ اس رسالے نے اردو ادب کو ایسے ایسے لعل و گہر دیے جس
کی مثال نہیں ملتی۔ اس عہد کا کون سا ایسا شاعر اور ادیب تھا جو اس میں چھپنا
نہیں چاہتا تھا۔ جب کسی کی غزل یا افسانہ اس میں چھپتا اور اسے اس کی خبر ہوتی
تو وہ دوڑا دوڑا بک اسٹال تک جاتا اور رسالہ خرید کر لاتا۔ یہ صورت حال صرف
متوسط شاعروں اور ادیبوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اعلی پائے کے شاعر و ادیب کی
بھی یہی حالت ہوتی۔ بیسویں صدی کا انتظار نہ صرف ادیبوں کے گھروں میں ہوتا
بلکہ اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں اور یہاں تک کہ سیاست سے دلچسپی رکھنے
والوں کو بھی ہوتا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے تو شعری و ادبی حصے کا مطالعہ
کرنے کے لیے اس کا انتظار کرتے لیکن سیاسی ذوق رکھنے والے تیر و نشتر اور قلمی
چہرہ اور خبرنامہ پڑھنے کے لیے اس کے منتظر رہتے۔ قلمی چہرہ تو اتنا جامع اور
دلچسپ ہوتا کہ چند سطروں میں اس شخص کی پوری شخصیت اپنی تمام تر خوبیوں اور
خامیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو جاتی جس کا قلمی چہرہ لکھا جاتا۔ اسی طرح تیر و
نشتر بھی بہت دلچسپ ہوتا۔ پہلے ایک خبر ہوتی اور پھر اس کے جواب میں کوئی جملہ
ہوتا جو اتنا بھرپور ہوتا کہ مزا آجاتا۔ ایک کالم سرگوشیاں ہوتا تھا جس میں
منتخب سوالوں کے مزے دار جواب دیے جاتے۔ تیر و نشتر میں حکمرانوں اور طاقتور
لوگوں کے جبر و ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف ایک زبردست آواز ہوتی۔
بیسویں صدی کسی نظریہ کا مبلغ نہیں تھا۔ وہ اگر کسی بات کی تبلیغ کرتا رہا تو
وہ معیاری ادب کی تبلیغ کرتا رہا۔ بیسویں صدی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے
اپنے صفحات پر بہت اچھے اچھے ادیبوں کو جنم دیا اور انھیں پروان چڑھنے کا موقع
بھی دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں چھپنے والے قلمکاروں کو معقول اعزازیہ بھی
دیا جاتا۔ وہ ۱۹۷۷ تک بیسویں صدی کو نکالتے رہے اور جب پیرانہ سالی کو پہنچے
تو ان سے اس رسالے کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ
انھوں نے ایک معقول رقم کے عوض بیسویں صدی رحمن نیر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن
معروف قلمکار فاروق ارگلی اس کی تردید کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوشتر گرامی
نے پرچہ بیچا نہیں بلکہ اسے ایک ایسے ہاتھ کو سونپ دیا جو اسے زندہ رکھنے کا
صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ۲۵ دسمبر ۲۰۱۳ کے شمارے میں ایک
مضمون ’’بیسویں صدی کا افسانوی صحافی: خوشتر گرامی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ان کی محنت اور صلاحت نے انھیں بے پناہ کامیابی عطا کی۔ قدرت نے انھیں ہر اس
خوشی سے نوازا جس کے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن وقت بدل چکا تھا، ہندوستان کی
نئی نسلیں اردو سے دور ہو رہی تھیں۔ ان کے بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم پا کر باپ کی
ذمہ داری سنبھالنے کے بجائے بیرون ملک کی شاندار ملازمتیں کرنا پسند کیا۔
خوشتر صاحب نے بہت کوشش کی کہ ان کے صاحبزادے کشن کمار پبلشنگ کا کام سنبھال
لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ’’نئی صدی‘‘ کے نام سے ہندی بھاشا کا ایک رسالہ
بھی شروع کیا لیکن بات نہیں بنی۔ 1975 کا سال آتے آتے ضعیفی اور بیمارے نے
گھیر لیا۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا لیکن بیسویں صدی کی پرورش تو خون جگر سے کی
تھی۔ رسالہ ان کی اولاد کی طرح تھا۔ وہ کسی قیمت پر اسے بند نہیں ہونے دینا
چاہتے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے رحمن نیر مرحوم کے ہاتھوں
معقول قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا۔ یہ قطعی غلط ہے۔ در اصل خوشتر صاحب کو
بیسویں صدی بیچنا نہیں زندہ رکھنا تھا۔ انھوں نے صرف اتنی رقم قبول کی جتنی
ایک پرنٹنگ پریس کو واجب الادا تھی۔ جو اندازاً دو سوا دو لاکھ سے زیادہ نہیں
تھی۔ وہ صرف کرسی کی پشت پر لٹکا ہوا اپنا کوٹ پہن کر دریا گنج مین روڈ پر
واقع اپنے دفتر سے اتر کر چلے گئے۔ انھیں رحمن نیر جیسا با ذوق، محنتی اور پر
جوش جانشین مل گیا تھا۔ اگر وہ سچ مچ ’’بیسویں صدی‘‘ کو فروخت کرتے تو دفتر کا
ساز و سامان اور کتابوں کا ذخیرہ ہی لاکھوں کا تھا۔ دفتر کی جگہ کی قیمت اس
وقت پندرہ بیس لاکھ روپے سے کم نہیں تھی۔ انھوں نے بیسویں صدی فروخت نہیں کیا
اسے زندہ رکھنے کے لیے صحیح ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان کا
اندازہ درست تھا۔ رحمن نیر نے خوشتر گرامی کے بعد جس شان کے ساتھ بیسویں صدی
کی اشاعت کی اس میں خوشتر صاحب کا عکس واضح تھا۔۔۔خوشتر گرامی جب تک زندہ رہے
ضعیفی اور علالت کے باوجود تیر و نشتر لکھتے رہے۔ اپنے پرانے پسندیدہ کارٹونسٹ
بلرام سے کارٹون بنواتے رہے۔ سالہا سال تک وہ رسالہ بیسویں صدی کے موسس کے طور
پر اپنی اس معنوی اولاد سے وابستہ رہے‘‘۔ بیسویں صدی میں شائع ہونے والے کالم
تیر و نشتر اور قلمی چہرہ کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ چھپتے تو
خوشتر گرامی کے نام سے تھے لیکن ان کو لکھنے والے دوسرے تھے۔ لیکن فاروق ارگلی
اس کی بھی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کالم خود خوشتر گرامی لکھا کرتے
تھے۔ 1974 میں انھوں نے تیر و نشتر کا انتخاب شائع کیا تھا جس میں کالم قلمی
چہرے بھی شامل تھے۔
Nayeem Javed <nayee...@gmail.com>: Feb 04 03:25PM +0300
*جناب سہیل انجم صاحب۔۔۔۔۔۔۔*
*واہ کیا یاد دلادیا آپ نے ۔۔۔ہمارے بچپن میں ہم کو ادب کی جو گھنی چھاوں
ملی تھی اس میں خوشتر گرامی کی ٹھنڈی ٹھنڈی نثر بھی تھی جس کو پڑھ کر دل میں
تمنا بیدار ہوتی تھی کہ کاش ایسی نثر ہم بھی لکھ پاتے۔ہمارے قاری کو بھی پڑھ
کر دل کو چین اور روح کو آرام ملتا۔۔اچھا لکھنا اور مدتوں لکھنا ۔۔۔ادبی
معجزے سے کم نہیں۔۔*
*سوانحی خوش تر مواد کو آپ نے بہت رواں نثر میں میں پیش کیا۔۔۔جس کی میں
مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔*
*فقط*
*نعیم جاوید*
*دمام۔۔سعودی عرب*"Dr. Shakeel Ahmed" <drshake...@hotmail.com>: Feb 04 01:39PM -0500
واہنعیم جاوید بےشک۔۔اچھا لکھنا اور مدتوں لکھنا ۔۔۔ادبی معجزے سے کم نہیں۔۔ اور آپ کی تحریر اور تقریر میں تو مدتوں کی ادبی کلفتوں کا مداوا ہوتا ہےخوش رہیےٰخیر اندیشڈاکٹر شکیل احمدDate: Wed, 4 Feb 2015 15:25:35 +0300
Subject: Re: [بزم قلم:41923] Digest for BAZMe...@googlegroups.com - 23 updates in 10 topics
From: nayee...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com
جناب سہیل انجم صاحب۔۔۔۔۔۔۔واہ کیا یاد دلادیا آپ نے ۔۔۔ہمارے بچپن میں ہم کو ادب کی جو گھنی چھاوں ملی تھی اس میں خوشتر گرامی کی ٹھنڈی ٹھنڈی نثر بھی تھی جس کو پڑھ کر دل میں تمنا بیدار ہوتی تھی کہ کاش ایسی نثر ہم بھی لکھ پاتے۔ہمارے قاری کو بھی پڑھ کر دل کو چین اور روح کو آرام ملتا۔۔اچھا لکھنا اور مدتوں لکھنا ۔۔۔ادبی معجزے سے کم نہیں۔۔سوانحی خوش تر مواد کو آپ نے بہت رواں نثر میں میں پیش کیا۔۔۔جس کی میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔فقطنعیم جاویددمام۔۔سعودی عرب2015-02-04 14:56 GMT+03:00 Suhail Anjum <sanju...@gmail.com>:
ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کے بانی ایڈیٹر جناب خوشتر گرامی کے بارے میں قارئینِ بزم قلم کی دلچسپی دیکھ کر جی چاہا کہ میں خوشتر گرامی پر لکھا ہوا اپنا مضمون ان کی نذر کروں۔ یہ مضمون میری کتاب ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘ میں شامل ہے جو دہلی اردو اکیڈمی سے چھپ کر جلد ہی قارئین کی خدمت میں حاضر ہونے والی ہے۔ سہیل انجم خوشتر گرامی(بانی ایڈیٹر بیسویں صدی)
خوشتر گرامی کی پیدائش اکتوبر1902 میں سیالکوٹ پنجاب میں ہوئی اور ان کا انتقال15 جنوری 1988 کو دہلی میں ہوا۔ یوں تو وہ ایک ادیب اور ادبی صحافی کی حیثیت سے مشہور ہیں لیکن اپنے صحافتی کیرئر کے آغاز میں انھوں نے کئی روزنامہ اور ہفت روزہ اخباروں اور رسالوں میں بھی کام کیا تھا۔ انھوں نے اپنی صحافت کا آغاز لالہ لاجپت رائے کی زیر تربیت کیا اور بعد میں مولانا ظفر علی خاں کے اخبار’’زمیندار‘‘ میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے لاہور کے مشہور اخبار ’’بندے ماترم‘‘ کے شعبۂ ادارت میں بھی خدمات انجام دیں۔خوشتر گرامی کا اصل نام رام رکھا مل چڈھا تھا۔ خوشتر گرامی ان کا قلمی نام تھا جو بعد میں ان کی اصل شناخت ثابت ہوا۔ ان کے اصل نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں اور اس سے بھی بہت کم لوگ واقف ہیں کہ انھوں نے ابتدائے عمر میں روزنامہ اخباروں میں کام کیا تھا۔ رام رکھا مل چڈھا ایک وطن پرست انسان تھے۔ ہندوستان سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’زمیندار‘‘ اور ’’بندے ماترم‘‘ میں ان کی تحریریں حب وطن کے جذبات سے سرشار ہوتیں۔ ان اخباروں میں کام کے دوران انھوں نے اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا اور رپورٹنگ کے علاوہ ڈیسک پر بھی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے خبروں کے ترجمے بھی کیے اور تقریباً وہ تمام کام کیا جو ایک اخبار میں کام کرنے والوں کو کرنے پڑتے ہیں۔ انھوں نے ان اخباروں میں جو تجربات حاصل کیے ان کا استعمال انھوں نے اپنے ماہنامہ رسالہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کیا۔ ان کی تحریروں میں شروع سے ہی طنز و ظرافت کی آمیزش تھی۔ وہ ایک اچھے طنز نگار تھے۔ ان کی اس خوبی کا برملا مشاہدہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کیا جا سکتا ہے۔خوشتر گرامی نے ادبی ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کا آغاز ۱۹۳۷ میں لاہور سے کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ دہلی چلے آئے اور دریا گنج سے اسے دوبارہ شروع کیا۔ اس رسالے کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ اردو والوں کے نزدیک دریا گنج اور بیسویں صدی لازم وملزوم بن گئے بالکل اسی طرح جیسے خوشتر گرامی اور بیسویں صدی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔وہ ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ سیالکوٹ میں ان کے دادا دیوان گنپت رائے ایک بڑے تاجر اور کاروباری تھے۔ شہر کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کی تجارت ماند پڑنے لگی اور ان کے والد دیوان بشمبھر ناتھ تک آتے آتے تجارت تقریباً ٹھپ پڑ گئی۔ زبردست خسارہ ہوا اور اس طرح ایک رئیس خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود رام رکھا مل چڈھا کو عسرت و تنگ دستی میں زندگی گزارنی پڑی۔ ابھی ان کی عمر صرف تین سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے کسی طرح ان کی پرورش کی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اردو اور فارسی کی حاصل کی لیکن جب وہ پندرہ برس کی عمر کو پہنچے تو والدہ بھی انھیں داغ مفارقت دے گئیں۔ حالات نے انھیں میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا۔ تاہم انھوں نے منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ بہر حال حالات نے انھیں اس عمر میں ملازمت کرنے پر مجبور کر دیا جس عمر میں عام خاندانوں کے لڑکے تعلیمی اداروں میں شب وروز گزارتے ہیں۔ پھر بھی اسے ان کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا کہ جہاں انھیں لالہ لاجپت رائے اور مولانا ظفر علی خاں کے زیر تربیت کام کرنے کا موقع ملا وہیں علامہ اقبال، مولانا تاجور نجیب آبادی، شہید بھگت سنگھ او رمولانا عبد المجید سالک جیسی شخصیات کی قربت اور شفقت بھی حاصل رہی۔تقسیم ہند سے قبل دس سال کے عرصے میں بیسویں صدی نے مقبولیت کے عروج پر اپنے قدم رکھ دیے تھے اور اس سے بڑے بڑے شاعر و ادیب وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن تقسیم ملک نے جہاں ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا وہیں اس نے اس معیاری رسالے کو بھی بے گھر کر دیا۔ لیکن خوشتر گرامی نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے اس کا اپنے ذہن پر کوئی اثر قبول نہیں کیا کہ ان کا دفتر تباہ وبرباد ہو گیا یا پرچے کو نکالنے کے تمام راستے بند ہو گئے۔ وہ دہلی آگئے اور دریا گنج کے مین روڈ پر بیسویں صدی کے لیے ایک دفتر لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے نئے سرے سے اس رسالے کی عمارت تعمیر کی اور پھر ’میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے، مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے‘ والا معاملہ بن گیا۔ رسالے کو جتنی شہرت و مقبولیت لاہور میں حاصل ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ دہلی میں حاصل ہوئی۔ پھر تو بیسویں صدی ادب کا ایک ٹریڈ مارک بن گیا۔ جو اس رسالے میں چھپ گیا سمجھو ایک مستند ادیب اور شاعر بن گیا۔رام رکھا مل چڈھا نے بیسویں صدی نکالنے سے قبل اس وقت اپنا نام خوشتر گرامی رکھا تھا جب وہ صحافت سے کوسوں دور تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو انھوں نے اپنی والدہ کا ایک مرثیہ لکھا تھا۔ اس کے بعد ان کے اندر موجود شاعری کا ذوق و شوق پروان چڑھنے لگا اور انھوں نے حب وطن سے سرشار بہت سی قومی نظمیں لکھیں۔ لیکن ان کے ایک ادیب اور ادبی صحافی ہونے کا اصل جوہربیسویں صدی سے کھلا۔ اس رسالے نے اردو ادب کو ایسے ایسے لعل و گہر دیے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس عہد کا کون سا ایسا شاعر اور ادیب تھا جو اس میں چھپنا نہیں چاہتا تھا۔ جب کسی کی غزل یا افسانہ اس میں چھپتا اور اسے اس کی خبر ہوتی تو وہ دوڑا دوڑا بک اسٹال تک جاتا اور رسالہ خرید کر لاتا۔ یہ صورت حال صرف متوسط شاعروں اور ادیبوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اعلی پائے کے شاعر و ادیب کی بھی یہی حالت ہوتی۔ بیسویں صدی کا انتظار نہ صرف ادیبوں کے گھروں میں ہوتا بلکہ اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں اور یہاں تک کہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو بھی ہوتا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے تو شعری و ادبی حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے اس کا انتظار کرتے لیکن سیاسی ذوق رکھنے والے تیر و نشتر اور قلمی چہرہ اور خبرنامہ پڑھنے کے لیے اس کے منتظر رہتے۔ قلمی چہرہ تو اتنا جامع اور دلچسپ ہوتا کہ چند سطروں میں اس شخص کی پوری شخصیت اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو جاتی جس کا قلمی چہرہ لکھا جاتا۔ اسی طرح تیر و نشتر بھی بہت دلچسپ ہوتا۔ پہلے ایک خبر ہوتی اور پھر اس کے جواب میں کوئی جملہ ہوتا جو اتنا بھرپور ہوتا کہ مزا آجاتا۔ ایک کالم سرگوشیاں ہوتا تھا جس میں منتخب سوالوں کے مزے دار جواب دیے جاتے۔ تیر و نشتر میں حکمرانوں اور طاقتور لوگوں کے جبر و ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف ایک زبردست آواز ہوتی۔بیسویں صدی کسی نظریہ کا مبلغ نہیں تھا۔ وہ اگر کسی بات کی تبلیغ کرتا رہا تو وہ معیاری ادب کی تبلیغ کرتا رہا۔ بیسویں صدی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنے صفحات پر بہت اچھے اچھے ادیبوں کو جنم دیا اور انھیں پروان چڑھنے کا موقع بھی دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں چھپنے والے قلمکاروں کو معقول اعزازیہ بھی دیا جاتا۔ وہ ۱۹۷۷ تک بیسویں صدی کو نکالتے رہے اور جب پیرانہ سالی کو پہنچے تو ان سے اس رسالے کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک معقول رقم کے عوض بیسویں صدی رحمن نیر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن معروف قلمکار فاروق ارگلی اس کی تردید کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوشتر گرامی نے پرچہ بیچا نہیں بلکہ اسے ایک ایسے ہاتھ کو سونپ دیا جو اسے زندہ رکھنے کا صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ۲۵ دسمبر ۲۰۱۳ کے شمارے میں ایک مضمون ’’بیسویں صدی کا افسانوی صحافی: خوشتر گرامی‘‘ میں لکھتے ہیں:’’ان کی محنت اور صلاحت نے انھیں بے پناہ کامیابی عطا کی۔ قدرت نے انھیں ہر اس خوشی سے نوازا جس کے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن وقت بدل چکا تھا، ہندوستان کی نئی نسلیں اردو سے دور ہو رہی تھیں۔ ان کے بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم پا کر باپ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بجائے بیرون ملک کی شاندار ملازمتیں کرنا پسند کیا۔ خوشتر صاحب نے بہت کوشش کی کہ ان کے صاحبزادے کشن کمار پبلشنگ کا کام سنبھال لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ’’نئی صدی‘‘ کے نام سے ہندی بھاشا کا ایک رسالہ بھی شروع کیا لیکن بات نہیں بنی۔ 1975 کا سال آتے آتے ضعیفی اور بیمارے نے گھیر لیا۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا لیکن بیسویں صدی کی پرورش تو خون جگر سے کی تھی۔ رسالہ ان کی اولاد کی طرح تھا۔ وہ کسی قیمت پر اسے بند نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے رحمن نیر مرحوم کے ہاتھوں معقول قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا۔ یہ قطعی غلط ہے۔ در اصل خوشتر صاحب کو بیسویں صدی بیچنا نہیں زندہ رکھنا تھا۔ انھوں نے صرف اتنی رقم قبول کی جتنی ایک پرنٹنگ پریس کو واجب الادا تھی۔ جو اندازاً دو سوا دو لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ صرف کرسی کی پشت پر لٹکا ہوا اپنا کوٹ پہن کر دریا گنج مین روڈ پر واقع اپنے دفتر سے اتر کر چلے گئے۔ انھیں رحمن نیر جیسا با ذوق، محنتی اور پر جوش جانشین مل گیا تھا۔ اگر وہ سچ مچ ’’بیسویں صدی‘‘ کو فروخت کرتے تو دفتر کا ساز و سامان اور کتابوں کا ذخیرہ ہی لاکھوں کا تھا۔ دفتر کی جگہ کی قیمت اس وقت پندرہ بیس لاکھ روپے سے کم نہیں تھی۔ انھوں نے بیسویں صدی فروخت نہیں کیا اسے زندہ رکھنے کے لیے صحیح ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان کا اندازہ درست تھا۔ رحمن نیر نے خوشتر گرامی کے بعد جس شان کے ساتھ بیسویں صدی کی اشاعت کی اس میں خوشتر صاحب کا عکس واضح تھا۔۔۔خوشتر گرامی جب تک زندہ رہے ضعیفی اور علالت کے باوجود تیر و نشتر لکھتے رہے۔ اپنے پرانے پسندیدہ کارٹونسٹ بلرام سے کارٹون بنواتے رہے۔ سالہا سال تک وہ رسالہ بیسویں صدی کے موسس کے طور پر اپنی اس معنوی اولاد سے وابستہ رہے‘‘۔ بیسویںFiroz Hashmi <firoz...@gmail.com>: Feb 05 09:46AM +0530
سہیل انجم صاحب کا لکھا خوشتر گرامی کے بارے میں تفصیلی خاکہ پڑھا۔ یہ موجودہ
دور کے لیے بہت ہی مفید اور معلوماتی مضمون ہے۔ شکریہ۔ مبارکباد قبول فرمائیں۔
اگر سہیل انجم صاحب اپنی کتاب کا ایک ایک مضمون بھی گاہے بگاہے یا ہفتہ میں
ایک روز بزم پر بھیجتے رہے
تو بین الاقوامی طور پر اردو کے خدمت گاروں کے بارے میں موجودہ دور کے لوگوں
کو پڑھنے کا ملے گا اور
اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔
فیروزہاشمی
--
*Dٍr. Mohammad Firoz Alam *
Resi. Shanti Vihar, Mangal Bazar,
Chipiyana Khurd Urf Tigri,
Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
M. 91- 9811742537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Linkedin : http://in.linkedin.com/pub/firoz-hashmi/3a/745/541
Muhammad Ashfaq Ayaz <vo...@yahoo.com>: Feb 05 03:44AM
حنیف سید صاحب (آگرہ أ پنچھی ام جہاز کا) اپنا ای میل ایڈریس عنائت فرمائین تو نوازسش ہو گی۔
اشفاق =o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=o=
The first website based in jalalpur Jattan:
www.vojpj.com
editor: Muhammad Ashfaq Ayaz
e-mail : vo...@yahoo.com
Cell: 0092-333-8402492
Home Address: Muhammad Ashfaq Ayaz
H.No. B-III-69-A, Khizer Colony,
Jalalpur Jattan - 50780 Distt: Gujrat - Pakistan
On Saturday, 31 January 2015, 20:59, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
02 - Ejra ; Panchi jahaz ka - Nazeer meela 24 -1 015
ا لسدا م علیکممیرے افسانوی مجمو عے ( پنچھی ؛ جہاز کا ) کے اجرا کی رپورٹ حاضر ہے ۔ منا سب ہو تو شائع کر د یں مشکور ہوں گا۔ اللہ سب کو سلا مت رکھے ۔ آمین۔حنیف سید 09319529720آگرہ انڈ یا ۔
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Gul Bakhshalvi <gulbak...@gmail.com>: Feb 05 06:54AM +0500
Shadab moien shadab <shada...@gmail.com>: Feb 04 12:16PM +0530
AZAD GHAZAL: Ek Haiyati Tajreba
Sarwar Raz Saheb
Adab
Shaheen Saheb ki shayri par apney mazmoon mein apne unki Azda Ghazal par
tabsara kartey huwe likha he ki "Azad Ghazal" ka naam aaj se pahley sunney
mein nahi aaya.... Aisa nahi hai, dar asl ye ek haiyati tajriba tha.. aur
uski ijad ka dawa Mazhar Imam kartey they.. aur unka israr isey sinf ke
taur par qubool kiyey janey ka tha... kafi din tak ye bahas chalti rahi...
aur bil-akhir hle nazar ne isey sinf ke taur par qubool karney ye kahtey
huwe inkar kar diya ke ghazal ke naam par koi tod-phod naqabile bardasht
hai... Azad Ghazal tajribey ke taur par 100 se zayaed logon ne kahi hai..
ab bhi kuch log taba azmai kar hi letey hain.. azad ghazal par mahnam shair
Bombay ne ek zakheem number bhi nikala tha.. M.Phil ke maqaey bhi likhey
gai... Azad Ghazal mein misrey chotey badey karney ki gujaish hai..lekin
bahar wohi rani chahiye.....
SHADAB MOIEN SHADAB
--------------------------------------------
--
Warm regards,
*Gul Bakhshalvi*
Chief Editor *Kharian Gazette*
Cell: +92 302 589 2786
Web: www.bakhshalvi.com
Sarwar Raz <sarw...@yahoo.com>: Feb 04 05:06PM
والسلام: آپ نے اپنے افسانوں کا ذکر کیا تھا۔ اب آپ مجموعہ کی بات کررہے ہیں۔ کون سا مجموعہ؟ پھر سے بھیج دیں۔ شکریہراز
On Wednesday, February 4, 2015 4:10 AM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
ا لسلا م علیکم
میں نے اپنا مجموعہ آپ کے ای میل پر ارسال کر دیا ہے جہاں تہاں پر نظر ڈال لیں ۔کچھ لگے تو ارسال کردوں گا ۔ پتہ لکھ دیں۔ میں بہت مشکور ہوں گا ۔کبھی آگرہ تشریف لائیں ۔ تو مسرت ہو گی ۔
آپ سب سلامت رہیں۔ آمین ۔حنیف سید
On Wednesday, 4 February 2015 10:36 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
مکرمی حنیف صاحب: سلام مسنونخط کے لئے ممنون ہوں۔ آپ کی کتاب کی ایک جلد اگر مجھ کو مل جائے تو لکھنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ میں امریکہ میں مقیم ہوں۔ آپ سوچ کر بتائیں۔ شکرییہ
سرور راز
On Tuesday, February 3, 2015 10:48 PM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
محترم سرورؔ صاحب ! السلام علیکم ۔محترم شاہینؔ پر لکھا آپ کا مضمون:عشرت آفریں پر علی سردار جعفری کے مضمون کی یاد تازہ کر گیا ۔بہت اچھا مضمون ہے آ پ کا ۔اچھے مضمون کے لیے مبارک باد قبول فرمائیں۔ممکن ہو تو میرے اس افسا نوی مجموعے( پنچھی: جہاز کا ) پر کچھ لکھ دیں ۔آپ کے پا س الفاظ کے بے پناہ ذخیرہ ہے ۔ اور اسلوب بھی پیارا ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ حق گوئی پر گامزن ہیں ۔ڈ ا کٹر خا لد صاحب کا مضمو ن بھی اچھا ہے ۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔حنیف سید 09310520720آ گرہ ۔ انڈ یا۔
On Wednesday, 4 February 2015 6:28 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.Hanif Syed <hanif...@yahoo.com>: Feb 04 06:44PM
السلا م علیکم
جی ہاں میں نے اپنے ہی افسانوی مجموعے (پنچھی جہاز کا ) کے مجموعے کی بات کی تھی ۔ جو اب پھر سے انپیج میں منسک کر رہا ہوں۔
On Wednesday, 4 February 2015 10:36 PM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
والسلام: آپ نے اپنے افسانوں کا ذکر کیا تھا۔ اب آپ مجموعہ کی بات کررہے ہیں۔ کون سا مجموعہ؟ پھر سے بھیج دیں۔ شکریہراز
On Wednesday, February 4, 2015 4:10 AM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
ا لسلا م علیکم
میں نے اپنا مجموعہ آپ کے ای میل پر ارسال کر دیا ہے جہاں تہاں پر نظر ڈال لیں ۔کچھ لگے تو ارسال کردوں گا ۔ پتہ لکھ دیں۔ میں بہت مشکور ہوں گا ۔کبھی آگرہ تشریف لائیں ۔ تو مسرت ہو گی ۔
آپ سب سلامت رہیں۔ آمین ۔حنیف سید
On Wednesday, 4 February 2015 10:36 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
مکرمی حنیف صاحب: سلام مسنونخط کے لئے ممنون ہوں۔ آپ کی کتاب کی ایک جلد اگر مجھ کو مل جائے تو لکھنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ میں امریکہ میں مقیم ہوں۔ آپ سوچ کر بتائیں۔ شکرییہ
سرور راز
On Tuesday, February 3, 2015 10:48 PM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
محترم سرورؔ صاحب ! السلام علیکم ۔محترم شاہینؔ پر لکھا آپ کا مضمون:عشرت آفریں پر علی سردار جعفری کے مضمون کی یاد تازہ کر گیا ۔بہت اچھا مضمون ہے آ پ کا ۔اچھے مضمون کے لیے مبارک باد قبول فرمائیں۔ممکن ہو تو میرے اس افسا نوی مجموعے( پنچھی: جہاز کا ) پر کچھ لکھ دیں ۔آپ کے پا س الفاظ کے بے پناہ ذخیرہ ہے ۔ اور اسلوب بھی پیارا ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ حق گوئی پر گامزن ہیں ۔ڈ ا کٹر خا لد صاحب کا مضمو ن بھی اچھا ہے ۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔حنیف سید 09310520720آ گرہ ۔ انڈ یا۔
On Wednesday, 4 February 2015 6:28 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
"Abdul Mateen Muniri" <ammu...@gmail.com>: Feb 04 10:10PM +0400
www.bhatkallys.com
اسلام میں تفریح کا تصور – 01
خطاب : ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ
سننے کے لئے کلک کریں
http://www.bhatkallys.com/audio/?sermon_id=3309
Description: Muniri Kufi Small
Abdul Mateen Muniri
www.urduaudio.com
<mailto:ammu...@gmail.com> ammu...@gmail.com
Gul Bakhshalvi <gulbak...@gmail.com>: Feb 04 08:24PM +0500
--
Warm regards,
*Gul Bakhshalvi*
Chief Editor *Kharian Gazette*
Cell: +92 302 589 2786
Web: www.bakhshalvi.com
Farogh E Urdu Adab <anjuma...@gmail.com>: Feb 04 05:55PM +0300
مجلس فخر ِ بحرین برائے فروغ اردو کے زیر ِ اہتمام
عالمی مشاعرہ 2015 بیاد ِ عرفان صدیقی
آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ بیادعرفان صدیقی ایک عالمی
مشاعرہ بحرین میں منعقد ہونے جارہا ہے۔
...
تفصیل حسب ِ ذیل ہے
بتاریخ5 فروری 2015... شب 8 بجے
بمقام کلچرل ہال نیشنل میوزیم کامپلیکس
...
مشاعرہ گاہ میں داخلہ مفت ہے
...
فہرست شعرائِ کرام
سید محمد اشرف، زبیر رضوی، مرتضی برلاس، منصور عثمانی، نعیم الحامدی، ندیم
صدیقی، شبینہ ادیب، ترنّم ریاض، سنیل کمار تنگ، اتل اجنبی ، عزیز نبیل اور
مقامی شعراءمیں رخسار ناظم آبادی، خورشید علیگ، طاہر عظیم اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_________
اس موقع پرعزیز نبیل اور آصف اعظمی کی مرتّب کردہ ۰۵۶ صفحات پر مشتمل کتاب
عرفان صدیقی حیات ، خدمات اور شعری کائنات کا اجراءبھی عمل میں آئے گا
_________
بحرین میں مقیم تمام احباب سے گزارش ہے کہ مشاعرہ میں شرکت فرما ئیں
دعوت نامہ اِس ای میل کے ساتھ منسلک ہے
Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>: Feb 04 03:26PM +0300
خوشتر گرامی پر فاروق ارگلی نے بھی ایک دلچسپ مضمون لکھا تھا جو "تعمیر نیوز"
پر گزشتہ سال جنوری میں نقل کیا گیا تھا ۔۔۔۔ یہ رہا :
خوشتر گرامی - بیسویں صدی کا افسانوی صحافی
<http://www.taemeernews.com/2014/01/Khushtar-Girami-legendary-journalist.html>
تقسیم وطن کے بعد ہندوستان میں اردو کے مقبول ترین رسائل وجرائد کی تاریخ میں
رسالہ "بیسویں صدی" اور اس کے بانی و مدیر رام رکھا مل خوشتر رامی کا نام سر
فہرست ہے۔ گذشتہ صدی کے جس اردو فکشن یا افسانوی ادب کی بنیادوں پر آج کی اردو
دانشوری کی بلند بالا عمارت کھڑی ہے۔ اس کی تعمیر اور فروغ میں خوشتر گرامی
اور رسالہ بیسویں صدی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ
احمد عباس، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، سلمی صدیقی اور رام لعل سے لیکر بعد
کے نامور افسانہ نگاروں اور عہد کے تقریباً تمام ہی نامور شعراء کو بیسویں صدی
کے ذریعہ مطلع عام پر چمکنے کا موقع ملا۔ خوشتر گرامی نے اپنی زندگی میں لا
تعداد صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرکے انہیں شہرت و کامیابی سے ہمکنار
کیا۔ رسالہ بیسویں صدی مسلسل نصف صدی سے زیادہ مدت تک برصغیر کے ہزارہا باشعور
گھرانوں کا پسندیدہ رسالہ بنا رہا۔ اس دور میں لاتعداد جریدے شائع ہوتے رہے
لیکن "بیسویں صدی" جیسی کامیابی اور معیار کسی اور رسالے کو نصیب نہ ہو۔ خوشتر
گرانی نہ صرف ایک لائق ترین صحیفہ نگار تھے بلکہ وہ اپنے عہد کے بہت اچھے ادیب
اور طنز نگار بھی تھے، اخبارات کی سرخیوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے تیر و نشر
کے عنوان سے ان کی چٹکیاں ان کی شوخی قلم کی پہچان بن گئیں۔ ان کے بعد بہت سے
کالم نویسوں اور طنز نگاروں نے اس نہج کو اختیار کرکے شہرت پائی۔ عظیم افسانہ
نگار کرشن چندر کے مطابق "اردو کی ادبی و صحافتی زندگی میں طنز و ظرافت کا
ساتھ جڑواں بہنوں کا سا ہے۔ طنز کے میدان میں اردو کے بہترین ادیبوں اور
صحافیوں نے اپنے جوہر دکھائے ہیں، رتن ناتھ سرشار، سجاد حسین، ابولکلام آزاد،
ظفر علی خاں، محمد علی جوہر، چراغ حسن حسرت، عبدالمجید سالدک، یہ سب لوگ بلند
پایہ ادیب بھی تھے اور عظیم صحافی بھی۔ محبی خوشتر گرامی نے انہی بزرگوں کے
نقش قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کی ہے اور ادب و صحافت کی بزم میں طنز و ظرافت
کی ایسی تابناک شمع روشن کی ہے جس کی ضیاء کبھی ماند نہ ہوگی"۔ خوشتر گرامی کی
ادبی صحافت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے بہترین افسانے
لکھوائے اور شائع کئے۔ لیکن انہوں نے تخلیقات کے انتحاب میں کبھی معیار سے
سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے "بیسویں صدی" کو بہترین کہانیوں کے ساتھ اعلیٰ
شاعری کا ایک مرقع بناکر پیش کیا۔ "بیسویں صدی" کے لا تعداد بڑے چھوٹے
قلمکاروں نے جو افسانے لکھے ان میں زیادہ تر اردو فکشن کا یادگار سرمایہ بن
گئے۔
> اس کی بھی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کالم خود خوشتر گرامی لکھا کرتے
> تھے۔ 1974 میں انھوں نے تیر و نشتر کا انتخاب شائع کیا تھا جس میں کالم قلمی
> چہرے بھی شامل تھے۔
--
*Syed Mukarram Niyaz[image: www.taemeer.com]
<http://sa.linkedin.com/pub/mukarram-niyaz/52/ba3/191>|[image:
https://www.facebook.com/taemeer]
<https://www.facebook.com/taemeer>|[image: http://twitter.com/taemeer]
<http://twitter.com/taemeer>|[image:
https://plus.google.com/+MukarramNiyaz]
<https://plus.google.com/+MukarramNiyaz>|[image:
http://www.youtube.com/user/taemeer]
<http://www.youtube.com/user/taemeer>|[image:
http://www.pinterest.com/taemeer/] <http://www.pinterest.com/taemeer/>*
C.E.O Taemeer Web Development <http://www.taemeer.com/>
www.taemeernews.com : the very 1st daily *Urdu* News searchable web portal
on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st *Urdu* cartoon/comics project on the
net
You received this digest because you're subscribed to updates for this group. You can change your settings on the group membership page.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.