پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری

164 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jul 31, 2011, 9:39:54 AM7/31/11
to 5BAZMeQALAM, choudhry naseer, asma anjum
پرانی کتابوں کا اتوار بازار اور جانا ہمارا ہر اتوار
اس بازار پر ایک مضمون بھی لکھ رکھا ہے، لنک یہ ہے:

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=9091
 
یہ ایسی جگہ ہے جہاں ہر مرتبہ حیرتیں منتظر ہوتی ہیں، پرانی کتابوں میں مزید پرانی کتابیں تلاش کرنا ایک ایسا دلپسند مشغلہ ہے جس کی قدر مستقل آنے والے ہی جانتے ہیں، یہ بھی گویا ایک نشہ ہے!

اور یہ کتب فروش بھی کسی سے کم نہیں! اے حمید صاحب نے اپنے ایک ایسے دوست کے بارے میں لکھا تھا کہ تاش کے کھیل کے دوران جن کے پاس اچھے پتے آجاتے تھے تو غیر شعوری طور پر ان کی ایک مونچھ پھڑکنے لگتی تھی اور ادھر یار لوگ اپنے اپنے پتے بھینک کر اٹھ جاتے تھے۔
اتوار بازار میں گاہکوں کی مونچھ پھڑکنے کا علم نہیں لیکن یہ کتب فروش ایسے ہوشیار کہ ادھر گاہک نے کوئی پسندیدہ کتاب اٹھائی اور ادھر اس غریب کے چہرے کے بدلتے رنگ کو یہ بھانپ لیتے ہیں!


آج ہی کی بات لیجیے۔ کون جانتا تھا کہ قاضی عبدالغفار کی بیٹی فاطمہ عالم علی حیدرآباد دکن میں بیٹھ کر اپنے والد کی یادوں کو سمیٹیں گی، جولائی 1989 میں کتاب شائع ہوگی اور پورے 22 برس بعد کتاب راقم السطور کو کراچی کے فٹ پاتھ سے ملے گی۔ رزق کیسے اتارا جاتا ہے، کہاں اگایا جاتا ہے، کن کن لوگوں کی محنت اس میں شامل ہوتی ہے، ہم تک کیسے پہنچتا ہے ۔۔۔۔ کہنے والے نے عش عش کیا اور وہ جملہ کہا جو محاورہ بنا اور قیامت تک زندہ رہے گا "دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام" ------ یہاں کتاب کا معاملہ بھی تو کچھ ایسا ہی پایا ! 

اسی طور ڈاکٹر عالیہ امام کی خودنوشت شاخ ہری اور پیلے پھول کے لیے ہلکان ہوا جاتا تھا سو آج ملی۔ تین عدد کتابیں (ہمراہ اس ای میل کے سراوراق منسلک ہیں) تو ایسی کہ مصنفین کے دستخط موجود ہیں، کسی "بیوفا" کو تحفتا پیش کی گئی تھیں اور ایسا پہلی مرتبہ تو نہیں ہوا ہے!  


صاحبو! یہ کتابوں پر مصنفین کے دستخط کا معاملہ بھی خوب ہے، کچھ کچھ عبرت انگیز بھی!

منورہ نوری خلیق کی یاداشتوں پر مبنی کتاب "میری ساتھی میری یادیں" بھی یہاں شامل ہے، آج ہی خرید کی ہے، اس پر بھی مصنفہ کے دستخط موجود ہیں اور دو عدد فون نمبر بھی! کتاب کسی فرحت نامی محترمہ کو مارچ 2011 میں تحفتا" پیش کی تھی

سو مجھ سے نہ رہا گیا، فون کیا، کسی خاتون نے اٹھایا، نوری صاحبہ کے بارے دریافت کیا، معلوم ہوا کہ امریکہ گئی ہیں، عرض کیا کہ مسمات فرحت کا پتہ تو بتائیے کون ہیں کہ تحفے کی قدر نہ کی اور تین ہی ماہ کے عرصے میں کتاب ریگل کے ٹھکانے پر اس شان سے پہنچی کہ فروخت کرنے والے صاحب پشتو بولتے تھے،آپ نے ایک پچکاری سی ماری اور پھر اول آخر الحمد اللہ پڑھ کر فرمایا:

" خو بائی! یہ ایک سو چالیس سے کم میں نئیں دے گا"

ادھر خاتون کے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دیں، خجل ہورہی تھیں، عرض کیا کہ نوری صاحبہ سے کہیں کہ "ناری" صاحبہ کی گوشمالی تو کریں وغیرہ وغیرہ۔

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
Ata hai yad mukh ko-hashmat ullah lodhi-syed & syed publ khi-dec 2008.jpg
mata e gum gashta-hafiz ludhianvi-1985.jpg
Sakh hair aur peelay phool-alia imam-.jpg
sukhanwar-part 3-sultana meher-meher book found USA-1998.jpg
yadish bakhair-fatima alam ali-hyd daccan-july 1989.jpg
kuch yadain kuch batain kuch app bet kuch jag beti-saeed uddin ahmed khan-aug 1988-by writer from UK.jpg

Editor

unread,
Jul 31, 2011, 12:02:15 PM7/31/11
to bazme...@googlegroups.com, zest...@gmail.com
Rashid Ashraf sahib salam aur adab
Allah kare shauq kutub aur ziyada, magar swal yeh hay ki aap en kitabon ko kahan
aur kaisay mahfuz kartay haun aur koi aap jaisa diwana in nawadir se istifada
karna chahe to faiz yabi ki kiya shakal ho gi?
niazmmand
faruqi

> --
> زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
> کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
> اردو میں آڈیو اور ویڈیوکے لیے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
> سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
> کمپیوٹر پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca
> http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
> راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
> http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
> To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
>
> To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
>
> To invite your friends to Bazm e Qalam group
> http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
>
> To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with
> subject "UNSUBSCRIBE"

Aqeel Jafri

unread,
Jul 31, 2011, 9:46:41 AM7/31/11
to Bazm e Qalam

آج ہمیں اسی بازار سے روزنامہ ڈان کا 15 اگست 1948 کا شمارہ ہاتھ لگا ۔۔۔ کہیے کیسی رہی 

Date: Sun, 31 Jul 2011 18:39:54 +0500
Subject: {4682} پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
CC: choudhr...@gmail.com; asmaa...@gmail.com

shazia andleeb

unread,
Jul 31, 2011, 4:58:07 PM7/31/11
to bazme...@googlegroups.com
wah wah kya khoob likha hai ashraf ahab lutf a gya waqii yai bohot naqdri ki bat hai magar ap nai kis qadar omda triqai sai likha bohot maza aya
shazia Andleeb

2011/7/31 Aqeel Jafri <aqeelab...@hotmail.com>

Rashid Ashraf

unread,
Jul 31, 2011, 9:11:04 PM7/31/11
to bazme...@googlegroups.com
فاروقی صاحب!

حضور، اپنے ذاتی شوق کی بنا پر ان کتابوں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہتا ہوں، کتب خانہ بنا رکھا ہے، حسب مقدور کتابوں کی حفاظت کرتا ہوں، ساتھ ساتھ نوکری بھی کرتا رہتا ہوں، ہفتہ اتوار بہت ہے ان سرگرمیوں کے واسطے


راشد

aijazz...@gmail.com

unread,
Aug 1, 2011, 3:22:23 AM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com
Thank you Rashid Ashraf sahab for this! Your passion for books and old books is almost infectious. This is what I used to do back home in Hyderabad, India--and still do when I am home. There's something heady and addictive about exploring old books on the streets, hoping to catch a gem ignored or overlooked by others. Thank you once again for this beautiful piece of writing and reviving some old and beautiful memories
Best,
Aijaz

Empower your Business with BlackBerry® and Mobile Solutions from Etisalat


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
Date: Mon, 1 Aug 2011 06:11:04 +0500
Subject: Re: {4693} پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری

Sultan Arshad Al-Qadiri

unread,
Jul 31, 2011, 9:43:59 PM7/31/11
to bazme...@googlegroups.com
مکرمی راشد صاحب
بھلا یہ پرانی کتابوں کا بازار کہاں لگتا ھے ۔ فقیر بھی اسی مرض کا دیرینہ شکار ھے' اور آج کل کراچی آیا ھوا ھے ۔
اپنے ایک پیارے دوست شاعر اسلم کولسری کے مذھب و مسلک کا آج کل پیروکار ھوں کہ :
رات  دن   گھر  میں  پڑا  رھتا  ھُوں
یہ عجب طرح کی ھجرت ھے میاں 
اور پھر رمضان المبارک بھی آ گیا ھے' لیکن یہ وفادار و لاعلاج مرض ھو سکتا ھے کسی روز " کوچہء جاناں " میں لے ھی جائے۔
ممنون ھوں گا۔
ارشد

Sultan Arshad Al-Qadiri


Date: Mon, 1 Aug 2011 06:11:04 +0500
Subject: Re: {4693} پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری

Yousuf Reaz

unread,
Aug 1, 2011, 6:12:02 AM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com
راشد اور ارشد کا ’مرض‘ لا اعلاج سے مدت ہوئی گذر ہوا تھا یہ بات ہے جب مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا اور ہماری درسگأہ ۔ رحمت اللہ ہائی اسکول‘ڈھاکا‘ قائد اعظم کالج ڈھاکا‘ اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے اساتذہ کا خیال تھا کہ ‘یوسف کا ذاتی کتب خانہ‘ قیمتی ہے اور خوب ہے۔ بنگلہ دیش بنا تو تنکے چن چن کر بنایا گیا ‘آشیانہ’  جاتا رہا‘ سب کچھہ بکھر گیا۔ صبر تو آہی جاتا ہے البتہ لا اعلاج مرض ذرا قابو میں لگتا ہے۔ در بدر مارے پھرنے والا شخص کتب خانہ کی بھلا کیا سوچے۔
زخم ہرا ہوگیا اس لیے یہ سطور بے ساختہ نوک کمپیوٹر کی سے چھلک پڑے امید کہ برا نہ منائیں گے
دعاگو و دعاخواہ
یوسف ریاض



From: sultana...@hotmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: RE: {4700} پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری
Date: Mon, 1 Aug 2011 07:43:59 +0600

Rashid Ashraf

unread,
Aug 1, 2011, 9:33:49 AM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com, asmaa...@gmail.com, andle...@gmail.com, impact...@gmail.com, yr...@hotmail.com, sultana...@hotmail.com, aqeel abbas


محترم فاروقی صاحب، یوسف ریاض صاحب، عقیل جعفری صاحب، اسماء صاحبہ، شاذیہ صاحبہ، اعجاز صاحب، سلطان ارشد صاحب
تمام احباب کا شکر گزار ہوں

سلطان ارشد صاحب!
کراچی میں صدر کے علاقے میں ایک جگہ ریگ چوک کے ‘عنوان‘ سے ہے، بس وہاں پہنچ جائیے تو منزل دور نہ ہوگی۔ اتوار بازار ریگل سے متصل ایک گلی میں لگتا ہے۔ اگر جناب سحر خیز ہیں تو فدوی سے اگلے اتوار علی الصبح ساڑھے سات بجے ملاقات ہوسکے گی۔ پہچان کے لیے اتنا کافی ہے کہ عینک لگاتا ہوں۔ عینک کے بغیر تو مجھے سنائی بھی نہیں دیتا!   

یوسف ریاض صاحب!
آپ کے پیغام میں شکوہ بھی ہے، شکایت بھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک اپنائیت کا دلنواز پہلو بھی ہے جس کے لیے علاحدہ سے شکریہ

‘یوسف کے ذاتی کتب خانے‘ کا جاتے رہنے کا افسوس میں نے نے بھی محسوس کیا ہے!

جناب نے لکھا:

" در بدر مارے پھرنے والا شخص کتب خانہ کی بھلا کیا سوچے"

عرض کروں کہ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے۔ کراچی میں کتابوں کے ٹھکانے تو ایک طرف رہے، سن 2000 سے 2003 کے درمیانی عرصے میں جب احقر بسلسلہ روزگار ملتان میں مقیم تھا تو تواتر کے ساتھ لاہور جانا ہوتا رہا تھا۔ ڈائیو بس سروس کی عمدہ سروس کی بدولت، چھ گھنٹے کا سفر کرکے جب لاہور میں فروکش ہوتے تھے تو سامان رکھتے ہی سب سے پہلے سنگ میل پبلیکیشنز کا رخ کیا جاتا تھا اور اس کے بعد چل سو چل، لاہور کی سڑکیں اور کتابوں کے ناشرین کے دفاتر کی کھوج۔ آتش فشاں پبلیکیشنز کی شائع کردہ ایک نادر کتاب "قید یاغستان" کی تلاش میں ناشر کے دفتر کی تلاش میں سڑکیں ناپنا آج تک یاد ہے، نہ تو ناشر ملا اور نہ ہی کتاب! ملی تو ایک عرصے بعد!

کتابوں کے اتوار بازار میں اکثر فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب فروش سے بھاؤ تاؤ کرتا ہوں کہ یہ ایسی ‘عاشقی‘ ہے جس میں ‘عزت سادات‘ کے جانے کا غم بھی جاتا رہتا ہے۔ 

"کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر" کے مصداق نجی کتب خانے کو تو جی سے لگا رکھا ہے۔ اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اپنے ہی سر لے رکھی ہے۔ نئی پرانی کتابوں کا اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے مطالعے کا سلسلہ بھی رواں دواں ہے۔ ہندوستانی آرٹ فلموں کا ذخیرہ اس پر مستزاد۔

پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
سینہ جویاۓ زخمِ کاری ہے
پھر اسی بیوفا پی مرتے ہیں
"پھر وہی زندگی ہماری ہے"

خیر اندیش
راشد
کراچی سے


Syed Aijaz Shaheen

unread,
Aug 1, 2011, 9:52:31 AM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com

دو یار زیرک  و از بادۂ کہن دو منے

فراغتے  و  کتابے  و گوشۂ چمنے

شاید بلبل شیراز نے  یہ شعر    خاص ہمارے راشد اشرف صاحب  کے  لیۓ کہا ہے

اعجاز شاہین 




2011/8/1 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

Syed  Aijaz Shaheen

choudhry naseer

unread,
Aug 1, 2011, 11:50:03 AM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com, Rashid Ashraf

پیارے راشد اشرف بھائی
آپ کے ذوق اور دلچسپی کو میں محسوس کر سکتا ہوں کیونکہ میں بھی اسی دشت کا ایک مجنوں ہوں۔
میں تو زمانہ ء طالب علمی سے ہی اس جنون میں مبتلا ہوں۔ پرانی کتابوں کے بازار پر مجھے یاد آیا کہ 1973میں جب میں مولانا آزاد کالج ، کلکتہ میں زیر تعلیم تھااور کولوٹولہ اسٹریٹ(موجودہ مولانا شوکت علی روڈ)کے ایک مکان میں رہتا تھا تو اس کی اتر جانب کی سڑک پرجہاں ناخدا مسجدہے،ٹھیک اس کے سامنے فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں اور رسالےبکتے تھے۔ مجھے وہاں سے اس زمانے میں کئی اہم کتابیں ملیں ،کئی رسالوں کے نمبر ملے۔نقوش کے کئی نمبر مجھے وہیں ملے۔ رسالہ نگارش، امرتسر کا جگر مراد آبادی نمبر ملا۔سب سے نادر چیز جو مجھے وہاں ملی تھی وہ رسالہ "نیرنگ" رامپور  کے کئی شمارے جو1909   کے بعد کےتھے مجلد شکل میں ملے ۔غرض ساری عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزرتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایسے لوگوں سے معاملات میں حد درجہ دلچسپی رکھتا ہوںجو کتابوں ، رسالوں کے پڑھنے اور ان کی خریداری کا ذوق و شوق رکھتے ہیں۔
باقی داستاں پھر کبھی
چودھری ابن النصیر



2011/8/1 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

Abdul Mateen Muniri

unread,
Aug 1, 2011, 2:24:56 PM8/1/11
to bazme...@googlegroups.com, Rashid Ashraf
اب تو ممبئی کو ادبی و علمی لحاظ سے مرحوم ہی کہنا چاہئے ، کبھی ممبئی کی ایک شان تھی جب وہ بمئبی کہلاتی تھی ، اس کے سامنے سبھی شہروں کی ادبی و علمی روشنیاں ماند تھیں ، یہاں پر جہاں تاج کمپنی کے پاکستان متنقل ہونے سے قبل اس کا اولین آفس محمد علی روڈ پر ہوا کرتا تھا، جو اب تاج آفس کے نام  سے موسوم ہے ، اسے کے سامنے چونابھٹی مسجد کے پاس جہاں مرحوم شرف الدین کتبی جیسا عالمی شہرت کا عظیم نشریاتی ادارہ ہوا کرتا تھا ، اب یہاں امپوٹ اکسپورٹ کا کاروبار ہوتا ہے ، اس کے آس پاس علوی بک ڈپو،کتابستان،علی بھائی شرف علی جیسے معروف ومشہور ناشران کتب ہوا کرتے تھے ، یہاں پر ایک پرانی کتابوں کا ایک عظیم بازار لگا کرتا تھا ، ۱۹۷۴ کے آس پاس ہمارا بھی اس بازار سے گذر ہوا کرتا تھا اور قیمتی اور نادر مجلات و کتب یہاں سے بساط بھر سمیٹتا تھا ، یہیں ہمیں نرائن نگم کے زمانہ کانپور کی قدیم فائل دستیاب ہوئی تھی ، اس زمانے میں ایک عجیب و غریب عربی زبان کی کتاب اگلے اور پچھلے صفحات کٹی ہوئی ملی ، جس اسلوب نرا لا تھا ،
تھی تو اصل فقہ شافعی کی کتاب ، لیکں اس کی ہر سطر کے ابتدائی الفاظ ملائیں جائیں تو تاریخ کی ،ہرسطر کے درمیان سے الفاظ جمع کریںتو عربی قواعد کی ، ہر سطر کے آخری الفاظ جمع کیے جائیں قوافی کی ، اس طرح ایک ہی کتاب پانچ فنون کی کتاب اس طرح بن جاتی ہر عبارت دوسرے سے مربوط ، یہ کتاب لے کر قریب ہی ہمارے بزرگ اور عظیم مورخ مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کے پاس جامع مسجد کے سامنے واقع انکی رہائش گاہ مرکز علمی گیا ، تو انہوں ایسی نادر کتاب کے وجود پر حیرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اس کتاب کو دیکھنے کے لئے بچپن سے ترس رہاہوں ، قریب ہی جامع مسجد بمبئی کا عظیم و نادر مخطوطات کا کتب خانہ تھا ، جس میں ہمارے مہربان بزرگ قاری اسماعیل کاپرے 
ذمہ دار تھے ، مرحوم نے اس کتاب کا سات سو سال قدیم نسخہ لا کردیا ، جسے دیکھ کر ہم نے اس کتاب کو مکمل نقل کیا ، کتاب کا نام تھا ، عنوان الشرف الکافی فی الفقہ و النھ

2011/8/1 choudhry naseer <choudhr...@gmail.com>



--
Video And Audio Collection by :
 Abdul Mateen Muniri
Skype Id : ammuniri
 

Sultan Arshad Al-Qadiri

unread,
Aug 4, 2011, 1:42:06 AM8/4/11
to bazme...@googlegroups.com
مکرمی راشد جی 
نہایت عنایت 
ان شاء اللہ کسی اتوار ریگل چوک حاضری کی کوشش کروں گا۔ لیکن یہ " سحر خیزی " جس کے آداب حضرت علامہ سے قیام لندن میں بھی نہ چُھوٹے تھے ' اس فقیر کے لئے نہایت مشکل عمل ھے ' ھم تو طلوع آفتاب کے بعد ھی غروب ھوتے ھیں اور غروب خورشید ھمیں طلوع ہونے پہ اُکساتا ھے۔ ھم " شہری " تو قطعاً  نھیں لیکن اُن بندگان صحرا و مردان کوھستان میں سے بھی نہ ہو سکے  جو فطرت کے مقاصد کی نگہبانی پر مامور ہوتے ھیں- بقول کسے
رات بھر ھوں جا گتا اور صبح دم سوتا ھوں میں           مُدتوں سے چڑھتے سُورج کا سماں دیکھا نھیں
ھمارے ایک بزرگ حضرت رفعت سُلطان نے بھی کہا تھا کہ 
رات کے انتظار میں رفعت     رات بھر جاگتا رھا ھُوں میں
اب کون جانے ' ھمیں بھلا کس " صبح " کا انتظار ھے ؟

بُلھے شاہ نے کہا تھا : " راتیں جاگن کُتے ' بُلھیا ' تیں تھیں اُتے " اور

حضرت سُلطان باھُو فرماتے ھیں

ھک جاگن ' ھک جاگ نہ جانن ' ھک جاگدیاں وی سُتے ھُو
ھک سُتیاں جا واصل ھوئے ' ھک جاگدیاں وی مُٹھے ھُو

آپ نے قیام لاھور مین یقیناً اتنی پنجابی / سرائیکی تو سیکھ ہی لی ھو گی۔


Sultan Arshad Al-Qadiri


Date: Mon, 1 Aug 2011 18:33:49 +0500
Subject: Re: {4706} پرانی کتابوں کا اتوار بازار-31 جولائی کی خریداری
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
CC: asmaa...@gmail.com; andle...@gmail.com; impact...@gmail.com; yr...@hotmail.com; sultana...@hotmail.com; aqeelab...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages