”بیداری تو وہ ہے جسے نیند ختم نہ
کرسکے، بڑی بات کہنے کے لیے پہاڑ سے اترنا پڑتا ہے اور سننے کے لیے پہاڑ پر
چڑھنا“۔ یہ قول ممتاز شاعر، زیرک نقاد، دانش ور اور ہمہ جہت علمی، ادبی شخصیت احمد
جاوید کا ہے۔ آپ کی قومی، دینی، عالمی معاملات پر گہری نظر ہے۔ ادب، مذہب، تصوف،
علم کلام، فلسفہ آپ کے دلچسپی کے اصل میدان ہیں۔ ماہرِ اقبالیات ہیں۔ فارسی، اردو،
انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے کے ساتھ فارسی اور اردو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔
احمد جاوید 18نومبر 1955ءکو ہندوستان کے ضلع الہ آباد (یوپی) کے ایک گاﺅں سید سراواں میں پیدا ہوئے۔آپ کے
والد حسین امیر عثمانی انگریزی کے استاد تھے۔ پڑھنے لکھنے کے شائق اور ادب کا شغف
رکھتے تھے۔ والدہ بھی ادبی مزاج رکھتی تھیں۔ گویا ’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘ والا
معاملہ تھا۔ آپ 1958ءمیں تین سال کی عمر میں ہجرت کرکے کراچی تشریف لائے۔ ابتدا
میں شاہ فیصل کالونی میں رہے جہاں والد کا ذریعہ روزگار انگریزی پڑھانا تھا۔ آپ کی
کراچی کی زندگی میں راحتوں کا کیا ذکر، لیکن مشقت اور نفس کشی کی زندگی ضرور تھی۔
آپ نے سائیکل رکشہ پر سلنڈر ڈھونے کا بھی کام کیا۔ اسی دوران اپنے مزاج اور میلان
کے برخلاف مجبوری میں محکمہ بہبود آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی میں موٹیویٹر کی
ادنیٰ ملازمت پر بھی فائز رہے۔ کھیلنے کودنے کے دنوں سے ہی تنقید، فلسفہ، شاعری کی
کتابوں کی تلاش میں رہے۔ مہنگی کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں تھی لیکن کتاب سے
محبت اور علم کے حصول کے لیے مانگے تانگے کی کتابوں سے بھی کام چلالیا۔ احمد جاوید
کی زندگی میں ایک وقت وہ بھی تھا جب گلے میں سونے کی زنجیر اور جیب میں ہر وقت
سگریٹ کا بھرا پیکٹ ہوا کرتا تھا۔ آپ کے پتھر سے پارس بننے کا سفر بھرپور ہے لیکن
اس میں کئی سرد و گرم راتیں شامل ہیں۔ آپ کا ایک شعر ہے ٭
حالانہ عشق شعلہ حراق گشتہ بود
درفن سوختن دل من طاق گشتہ بود
احمد جاوید نے ابتدائی تعلیم جامعہ ملیہ اسکول ملیر سے
حاصل کی۔ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈ سے میٹرک کیا۔ بہا الدین زکریا یونیورسٹی
ملتان سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ احمد جاوید
بنیادی طور پر دھیمے مزاج کے حلیم الطبع انسان ہیں۔ 1980ءمیںکراچی سے لاہور منتقل
ہوئے۔ آپ نے معروف ادیبوں سلیم احمد، شمیم احمد اور قمر جمیل کی صحبتوں سے فیض
حاصل کیا۔ دینی شخصیات میں مولانا ایوب دہلوی، مولانا اصلح الحسینی جیسی ہستیوں سے
دینی علوم کو راسخ کیا۔ آپ 1985ءمیں اقبال اکادمی لاہور کے ساتھ وابستہ ہوئے اور
اب سابق کا لاحقہ لگ چکا ہے۔ آپ کے تجزیے سنجیدہ اور بے لاگ ہونے کے ساتھ نہایت
حکمت و دانش پر مبنی ہوتے ہیں۔ قدیم وجدید علوم پر گہری نظر ہے۔ آپ اقوام عالم کی
سرگزشت سے بھی بخوبی واقف ہیں اور مغرب کو خوب سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے اور
معاشرے کی خصوصیات سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔ آپ کا معاشرے کی نبض پر نہ صرف ہاتھ ہے
بلکہ بیماری کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں، اور معاشرے کے انحرافات اور کج فکریوں کے
بارے میں مدلل اور منفرد رائے رکھتے ہیں۔
احمد جاوید نے جہاں کراچی کے زیلن کافی ہاﺅس، سلطانیہ ہوٹل، کینٹین ریڈیو
پاکستان اور سلیم احمد کی چوپال میں بیٹھ کر علم و دانش کے موتی سمیٹے، وہیں
بکھیرے بھی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں آپ کو تصوف اور اقبالیات پر ہونے والی کئی
بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مکالمے کے عصری اسلوب پر
گرفت رکھنے والے احمد جاوید کو سحرانگیز علمی گفتگو کا ملکہ حاصل ہے۔ گفتگو میں جب
لفظ کو موتی بناتے ہیں تو سامعین کو گویا مسخر کرلیتے ہیں۔ احمد جاوید کے اسلوب
گفتگو کے حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ وہ ادب اور تصوف کے پیچیدہ مسائل پر سہل
ممتنع میں کلام کررہے ہیں، لیکن کبھی ایسا لگتا ہے کہ ان کے اظہار کا سانچہ پیچیدہ
اور مشکل ہے جس سے وہ دلائل کے ساتھ انکاری ہیں۔ ادب، شاعری، مذہب اور فلسفہ سمیت
کئی موضوعات پر کئی درجن کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ قلم پر دسترس رکھنے کے باوجود
انہوں نے زیادہ تر علمی موضوعات پر لیکچر دیے ہیں جنہیں بعد میں قلم بند کرکے
کتابی صورت میں شایع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کم لکھنے کی وجہ کمر کی تکلیف
بتاتے ہیں۔ پانچ کتابیں شایع ہوچکی ہیں اور پچیس سے زائدکتابیں زیر طبع ہیں، جن
میںآندھی کا رجز (نثری نظموں کا مجموعہ)، ترک رذائل (اصلاحِ اعمال و اخلاق سے
متعلق )، محی الدین ابن عربی، حیات (فارسی سے ترجمہ)، تسہیل پیام مشرق (اقبال،
ترجمہ)، تسہیل جاوید نامہ (اقبال، ترجمہ)، تھیوری کے مباحث (زیر طبع)، دینی ذہن
اور فلسفہ (زیر طبع)، اسلام کا ورلڈ ویو (زیر طبع)، کسب فضائل (زیرطبع)، کشف حقائق
(زیر طبع)، اردو کی کلاسیکی شاعری پر گفتگو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آپ
کے فلسفہ، تصوف اور ادب پر بے شمار لیکچر موجود ہیں۔
ٹی وی پروگراموں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ آپ کی زندگی
کا منفرد اور مقبول عام ٹی وی پروگرام ”حمزہ نامہ“ رہا ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں
کہ وہ جبرا کیا ہے۔ اقبال اکادمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی مصروفیات میں مختلف
ادبی، علمی موضوعات پر تقریباً روزانہ لیکچر دینا شامل ہے۔ ایک آدھ بار تصوف پر مجلس
بھی ہوتی ہے۔ پان کھانے کی عادت پر کہتے ہیں کہ پرانی عادت ہے۔ دورانِ انٹرویو بھی
پان چباتے رہے۔ احمد جاوید گزشتہ دنوں کراچی آئے تو ان کے پرانے دوست اور عزیز کے
گلستان جوہر میں واقع گھر میں پہلے سے طے شدہ وقت پر ملاقات ہوئی۔ پہلی نشست میں
تشنگی رہی تو خواہش پر بہت زیادہ مصروفیات کے باوجود رات بارہ بجے کا دوبارہ ملنے
کا وقت طے پایا اور پھر میں سوال کرتا رہا اور وہ انہماک اور نہایت رسانیت سے سنتے
اور جواب دیتے رہے۔احمد جاوید سے ان کی شخصیت سمیت علم، فکر، مذہب، ادب، اقبالیات،
مغرب، مغربی تہذیب، مسلم امہ کا مستقبل اور اسلام کے ورلڈ ویو سمیت کئی موضوعات پر
گفتگو ہوئی جو نذرِ قارئین ہے۔
٭(ابھی عشق
جلانے والا شعلہ نہ بنا تھا کہ میرا دل جلنے کے فن میں طاق ہوچکا تھا یعنی میں اس
وقت عاشق کامل بن چکا تھا جب عشق ابھی پیدا نہ ہوا تھا)
....٭٭٭........
فرائیڈے اسپیشل:آپ کی شخصیت اور فکر مذہب، فلسفے، ادب
اور تصوف سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا اصل تشخص کیا ہے؟ یعنی آپ اپنے آپ کو
کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
احمد جاوید: یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ میں خود کو ایک مفید
مسلمان کہلوانا یا بنانا پسند کرتا ہوں۔ میرے ذہن میں آدمی کا اصل تشخص وہ ہوتا ہے
جو اُس کے ذہن میں ترجیح کے طور پر ہو۔ اس سوال کا اگر میں بے تکلفی سے جواب دوں
تو وہ یہ ہے کہ میرے ذہن میں خود میری پہچان صوفی، ادیب وغیرہ کے عنوان سے نہیں
ہے، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ”اللہ سے تعلق کی نسبت پر تشخص کے تمام زاویے تیار
ہوجائیں“۔ اپنی ذات کے لیے یہ میرا وہ آئیڈیل تشخص ہے جسے میں اپنے عمل اور خیالات
سے حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہوں کہ بندگی میرا تشخص بن جائے۔ اور آدمی کے
تشخص میں اس کے نظام تعلق کا بہت دخل ہوتا ہے، اس کا بہت حصہ ہوتا ہے۔ میں یہ
چاہتا ہوں کہ جس نظام تعلق میں انسان کو پیدا کیا گیا ہے میرے لیے اس نظام تعلق کا
زندہ مرکز، اللہ کے ساتھ میرا تعلق بنے۔ میں اپنا مطلوبہ تشخص تو حاصل کرنے میں
کامیاب نہ ہوسکوں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا اصل تشخص شخصیت کے مستقبل میں ہوتا
ہے، شخصیت کے حال میں نہیں۔ اس لیے میرا مطلوبہ تشخص تو یہ ہے کہ اللہ سے میرا
تعلق، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ” حق “میرا بنیادی تناظر بن جائے، اور اس
تناظر سے میں خود کو اور اپنی دنیا کو دیکھنے کی عادت ڈالوں۔ لیکن اگر آپ عملی
تشخص پوچھ رہے ہیں تو میں ایک عام آدمی ہوں، جس کی کچھ میدانوں میں تھوڑی بہت کچھ
صلاحیتیں ہیں، مجھے عام آدمی بن کر رہنا پسند ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت کے بارے
میں کچھ بتائیں اور یہ فرمائیں کہ آپ کی فکر کی تشکیل میں کن شخصیات اور عوامل کا
زیادہ اور اہم کردار رہا ہے؟
احمد جاوید: یہ اللہ رب العزت کی بڑی مہربانی ہے اور میں
سمجھتا ہوں کہ میری زندگی میں معنویت پیدا کرنے کا سارا سہرا میرے استادوں اور
دوستوں کے سر جاتا ہے۔ ادب میں سلیم احمد میرے مربی، میرے معلم رہے۔ اسی طرح ایک
اور شخصیت ہے جن سے میں شاگردی کا دعویٰ تو نہیں کرتا، ہاں البتہ استفادہ کی بات
کرسکتا ہوں، ان کا میری شخصیت اور فکر پر غالباً سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ وہ
مولانا ایوب دہلویؒ ہیں۔ اسی طرح کراچی کے ایک شاعر تھے رئیس فروغ صاحب، وہ میرے
بزرگ اور دوست تھے۔ اگر میری شخصیت میں کچھ ادبی عناصر موجود ہیں تو وہ سلیم احمد،
قمر جمیل اور رئیس فروغ کی صحبتوں کی وجہ سے ہیں، اور محمد حسن عسکری کو جم کر شوق
سے پڑھنے کے نتیجے میں۔ باقی یہ کہ اگر میری شخصیت میں کوئی مذہبی عناصر ہیں تو ان
کا دارومدار مولانا ایوب ؒ کے ساتھ اس تعلق پر ہے جو اُن کے لیے میں محسوس کرتا
ہوں۔ مولانا ایوب تو بہت پہلے فوت ہوگئے تھے لیکن سلیم احمد کے ساتھ برسوں تعلق
رہا، رئیس فروغ صاحب اور قمر جمیل کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: جیسا کہ آپ نے بتایا، آپ کی مذہبی فکر
کے سلسلے میں مولانا ایوب دہلویؒ اور ادبی تربیت کے سلسلے میں حسن عسکری اور سلیم
احمد کا کردار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان شخصیتوں کی ہماری اجتماعی زندگی میں اہمیت کیا
ہے؟
احمد جاوید: محمد حسن عسکری اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد
ہیں۔ اس بات پر شبہ کرنے والا ادب اور تنقید سے نابلد ہے۔ عسکری صاحب نے ادب کو
اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہونا سکھایا۔ عسکری صاحب نہ ہوتے تو ہمارا ادب وہ اصول دریافت
نہ کرپاتا جس کی بنیاد پر ادب خودمختار اور خودکفیل حیثیت سے خود کو استوار اور
قائم رکھ سکتاہے۔ ادب کی پوری روایت میں یہ عسکری صاحب کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔
وہ نہ ہوتے تو ہم ادب کو خالص ادبی معیار پر پرکھنے کے اصول حاصل نہ کرپاتے۔ وہ
جامع الکمالات شخص تھے، ان پر گفتگو کے لیے بہت وقت چاہیے۔ سلیم احمد، عسکری صاحب
کے شاگردِ رشید تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ عسکری صاحب کے جانشین تھے۔ سلیم
احمد عسکری اسکول کے سب سے بڑے آدمی تھے۔ سلیم احمد نے عسکری صاحب کے ادبی اصول کو
قبول کرکے انہیں عملی تنقید کا حصہ بنانے میں جو بے مثل کامیابی حاصل کی اس نے بھی
خصوصاً ہماری ادبی تنقیدی روایت پر بہت اثر ڈالا۔ سلیم احمد ایک اعتبار سے عسکری
اسکول کو پھیلانے والی سب سے بڑی قوت کا نام ہے۔ لیکن چونکہ سلیم بھائی کے شعبے
زیادہ تھے، وہ میڈیا سے متعلق بھی تھے، ڈراما نگاری بھی کرتے، ریڈیو، ٹی وی اور
تھیٹر کے ڈرامے بھی لکھتے تھے، اخبار میں کالم نگاری بھی کرتے تھے، تو ان کے ہاں
موضوعات زیادہ ہیں۔ اپنی ہر حیثیت میں سلیم احمد نے ایک پرنسپل کو ملحوظ رکھ کر
دکھایا۔ وہ پرنسپل یہ ہے کہ سیاست سے لے کر ادب تک میں ہماری تہذیب کے بنیادی اصول
حاکمانہ حیثیت سے باقی رہنے چاہئیں۔ سلیم احمد نے ادب اور تنقید وغیرہ میں ایک
ضروری مقصدیت جو درکار ہوتی ہے وہ اپنی شاعری سے بھی اور اپنی تنقید سے بھی پیدا
کرکے دکھائی۔ ان کی شخصیت کا دوسرا بڑا پہلو ان کا شاعر ہونا ہے۔ وہ بہت زبردست
شاعر تھے۔ ہم اپنے ذوق اور فہم کی کمی، یا اپنے تہذیبی اضمحلال کی وجہ سے ان کی
شاعری کی معنویت کو نہیں سراہ پائے۔ ان کی شاعری اپنی تہذیب کے انہدام کا نوحہ ہے،
اور ان کی تنقید اپنی تہذیب کی تعمیرنو کا عمل ہے۔ یہ تھے سلیم احمد۔ رہی بات
مولانا ایوب دہلوی کی، تو بلاخوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہماری روایت کے آخری
متکلم تھے۔ ان کے زیادہ موضوعات کلامی تھے، معقولی تھے۔ اگر کبھی متکلم کی حیثیت
سے ان کا جائزہ لیا گیا تو وہ ہماری علم الکلام کی روایت میں سب سے آگے کے لوگوں
میں شمارکیے جائیں گے۔ مذہبی فکر کے جو مسائل لاینحل چلے آرہے تھے ان میں ایک
مسئلہ جبر و قدر تھا۔ اس طرح کے مسائل کو مولانا ایوب دہلوی صاحب نے اس طرح حل کیا
کہ ان کی دشواری پڑھنے یا سننے والے کی نظر سے غائب ہوگئی۔ عقل اپنے آپ کو پورے کا
پورا ایمان کے تابع رکھنے کا ارادہ رکھنے کے باوجود اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے
سے عاجز رہ جائے تو جو شخص عقل کی اس نارسائی کو دور کرے گا وہ اصل میں متکلم
ہوگا۔ متکلم کہتے ہی اسے ہیں جو عقل کے ایمانی کردار کو اس کے دیگر وظیفوں پر غالب
رکھ کر دکھا دے۔ مولانا ایوب دہلوی گزشتہ سو، دو سو برس کی روایت میں شاید سب سے
بڑا مذہبی ذہن ہیں، جنہوں نے عقل کی نارسائی کا ازالہ کیا اور عقل کو ایمانی بننے
کے لیے جن دلائل کی ضرورت تھی، وہ دلائل فراہم کیے۔ لیکن افسوس، چونکہ بڑے موضوعات
سے ہماری مناسبت ختم ہوچکی ہے اور مولانا کے مخاطبین معمولی لوگ تھے اور اس کے بعد
اس معمولی پن میں اضافہ ہوتا چلا گیا، تو اب تو نہ کسی کو جبر و قدر مشکل محسوس
ہوتا ہے، اور نہ آسان.... کیونکہ وہ اس سے واقف ہی نہیں ہے۔ اس کا یہ مسئلہ ہی
نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کی تعریف و توصیف سامنے نہیں آسکی، ورنہ اگر وہ اچھے زمانوں
میں پیدا ہوتے تو ان کا درجہ اُن متکلمین جیسا ہوتا جو مشکلات کو حل کرنے کی ضمانت
ہوتے ہیں۔ مولانا پر مجھے یہ اعتماد رہا ہے اور ہے کہ ایمانیات میں، عقل کی ہر
مشکل میں، اسے قائل کرنے کی جیسی قوت اُن میں تھی وہ میں نے کسی کی تحریر میں
دیکھی نہ تقریر میں۔ یہ ان کا امتیاز تھا۔ شخصیت کے اعتبار سے وہ بہت بڑے آدمی
تھے، یعنی بلند کردار اور عمیق علم کو اگر ایک شخص میں جمع دیکھنا ہے تو آپ مولانا
ایوب دہلوی کو دیکھیں، یہ تھے مولانا ایوب دہلویؒ۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے جس انحطاط کا ذکر کیا ہے اُس کے
اسباب کیا ہیں؟
احمد جاوید: ہمارا جو سب سے بڑا اجتماعی مرض یا اُم
الامراض ہے وہ یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں۔ ذوق میں، فہم میں، ذہن
میں، اخلاق میں.... ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے
بڑا سبب ہے، اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ہوا ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور
اس چھوٹے پن کو دور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے۔ ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس
معمولی پن سے نکلنے کی کوئی طلب نہیں رکھتے۔ معمولی پن پیدا ہوجانا مرض ہے۔ معمولی
پن پر راضی ہوجانا موت ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: قحط الرجال ہے نہ کوئی بڑا ادیب پیدا
ہورہا ہے، نہ بڑا شاعر پیدا ہورہا ہے۔ علماءکے شعبہ میں بھی بہت اچھی صورت حال
نہیں ہے۔آپ کے خیال میں یہ حالات کس طرح ختم ہوسکتے ہیں؟
احمد جاوید: بڑے لوگ کیوں نہیں پید ا ہورہے؟ اس کا سبب
میں نے بتادیا۔ خواہ شاعری ہو یا دین، دونوں جگہ یہی صورت حال ہے۔ ہم جب تک اپنی
کمزوریوں کی ذمہ داری غیروں پر ڈالتے رہیں گے اُس وقت تک ہم ان کمزوریوں سے نہیں نکل
سکتے۔ پھر آپ کا پورا نظام تعلیم عمومی لوگ پیدا کرنے کی مشین ہے، کیونکہ ہر تہذیب
کا ایک ذہن ہوتا ہے جو اس کے نظام تعلیم سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر کسی معاشرے یا سماج
کا نظام تعلیم اس کے اپنے تصورِ علم سے مناسبت نہ رکھتا ہو اور مانگے تانگے پر
مبنی ہو، تو ظاہر ہے کہ اس تعلیم سے اس تہذیب کے اجتماعی شعورکی تقویت کا کوئی
امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ہر تہذیب کا ایک اجتماعی شعور، ایک اجتماعی قلب اور ایک
اجتماعی ارادہ ہوتا ہے۔ اجتماعی شعور کو حالتِ تسکین، حالتِ سیرابی بلکہ حالتِ نمو
میں رکھنے کے لیے وہ تہذیب اپنا نظام تعلیم بناتی ہے۔ اسی طرح ہر تہذیب کا ایک
اجتماعی ارادہ ہوتا ہے جو اس کی مراد کو پہنچانے میں مددکرتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی
تہذیب اپنی اوریجنل مراد سے دست بردار ہوکر دوسروں کے مقاصد کو اپنا مقصد بنانے کا
فیصلہ کرلے تو اس کا وہ اجتماعی، فطری ارادہ جو اس کی اپنی مراد سے مناسبت رکھنے
کی حالت ہی میں عمل میں آسکتا تھا، وہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ
تخلیقی اعمال بجا نہیں لاسکتے۔ آپ بڑے مقاصد کو حاصل کرنے والی اجتماعی محنت نہیں
کرسکتے، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ایک اجتماعی قلب ہوتا ہے جو اس تہذیب کے محبت اور نفرت
اور اس تہذیب کے احساسات اور جذبا ت کو ایک خاص ہیئت، رنگ اور حالت میں رکھتا ہے۔
ہر تہذیب اپنا نظام احساسات رکھتی ہے۔ اگرتہذیب اپنے نظام احساسات سے خالی اور غیر
مطمئن ہوجائے تو ا س کا قلب دھڑکنا بند کردیتا ہے۔ اس کا قلب معطل ہوجاتا ہے۔ اس
لیے ان تین سطحوں پر اگر دیکھیں تو نظر یہ آتا ہے کہ ہم ان تینوں سطحوں پر بانجھ
پن کا شکار ہیں۔ اب ہم یہ کہنے کے لائق نہیں ہیں کہ یہ رہا ہماری تہذیب کا اجتماعی
ذہن اور یہ اس کے افکار و اقدار۔یہ رہی ہماری منزل، اور یہ رہی ہماری پسند و
ناپسند.... اور ہم اس قدر سے وفادار ی رکھتے ہوئے چیزوں کو پسندو نا پسندکرتے ہیں۔
تو جس تہذیب کے اندر اس کی آبیاری، اس کی نگہداشت کا نظام ختم ہوجائے، اس تہذیب کی
باطنی قوت کو طاقت فراہم کرنے والا نظام تعلیم کی شکل میں، نظام اخلاق کی شکل
میں،نظام انصا ف کی شکل میں وغیرہ وغیرہ، تو پھر وہ تہذیب بڑا آدمی پیدا کرنے سے
معذور ہوجاتی ہے۔ بڑا آدمی کہتے ہیں اپنی تہذیب کے ذہن اور قلب کا مظہر بن جانے
والے کو۔ اس لیے جس تہذیب کے اندر خلا پیدا ہو جائے گا وہ پھر خالی لوگ ہی پیدا
کرے گی، اس لیے ہم اس بحران میں مبتلا ہیں۔ اس بحران سے نکلنے کا اس کے سوا اور
کوئی حل نہیں ہے....
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے فرمایا کہ بلحاظِ نظام تعلیم،
نظام اخلاق اور نظام انصاف ہم بانجھ پن کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ
تبدیلی کے حوالے سے تین قسم کے ماڈل ہمارے سامنے آئے ہیں۔ ان میں اول تبلیغی جماعت
کا ماڈل ہے، دوسرا ماڈل جمہوریت کا ہے، تیسرا ماڈل یہ ہے کہ آپ کے پاس طاقت ہو اور
اس کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرکے خلافت قائم کرلیں۔ آپ ان ماڈلز کو کس طرح دیکھتے
ہیں اور کیا کوئی چوتھا طریقہ یا ماڈل بھی موجود ہے جس کے ذریعے تبدیلی آسکتی ہے؟
احمد جاوید: دیکھیے اتفاق یہ ہے، بلکہ اتفاق کیا شاید ہم
سب کا یہ مشاہدہ ہے کہ یہ تینوں ماڈل (یعنی تبلیغی جماعت، جمہوریت اور طاقت سے
خلافت قائم کرنے کے خواہش مند) اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرلینے کے باوجود
بے اثر، بے نتیجہ اور ناکام ہیں۔ اس وقت دنیا کے کسی بھی مذہب میں تبلیغی جماعت سے
بڑا دعوتی نیٹ ورک نہیں، لیکن اس کے کام کا مسلمانوں کے اجتماعی وجود پر کوئی اثر
نہیں پڑا اور مسلم زندگی کو چلانے والے نظام کی تبدیلی کی شکل میں نظر نہیں آتا۔
ہم اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بڑے دائرے میں ناکام ہے، چھوٹے چھوٹے دائروں میں
کامیاب ہے۔ اسی طرح دین کی سیاسی تعبیر کرکے غلبہ دین کی وہ جدوجہد جس میں جمہوریت
کو ذریعہ مان لیا گیا ہے، جسے آج کل کی اصطلاح میں مذہبی سیاسی جماعتیںکہتے ہیں،
یہ جماعتیں مضحکہ خیز صورت اختیار کرچکی ہیں۔ مثال کے طور پر اس کا بڑا اور شاید
سب سے مضبوط نمونہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک بڑی فکر بھی ہے،
کارکنوں کا اخلاص اور عمل کی قوت بھی ہے۔ جو ایک سیاسی جماعت کی خوبیاں ہوسکتی ہیں
وہ ان کے پاس ہیں، ان کا ایک بیانیہ بھی ہے، اس بیانیے کو عمل میں لانے کے لیے
جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی فوج بھی موجود ہے، اور اپنی جماعت کو چلانے والا ایک
فیئر ڈسپلن بھی حاضر ہے، مگر یہ سب خوبیاں رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی پہلے دینی
شناخت یا تشخص رکھنے میں کامیاب ہوئی، اس کے بعد اس میں غائب ہوگئی۔ سیاسی وجود یا
شناخت کچھ حاصل ہوئی، لیکن اب سیاست سے بھی غائب ہوگئی ہے۔ اب موجودہ صورت یہ ہے
کہ جماعت اسلامی کی نہ کوئی دینی وقعت رہ گئی ہے، نہ سیاسی اہمیت۔ یہ گویا ایک
ماڈل کی مکمل ناکامی کا ایک نمونہ ہے۔ اور تیسرا ماڈل جس کا آپ نے ذکر کیا کہ غلبہ
بذریعہ طاقت برائے قیام خلافت، تو یہ ڈسپائریشن میں اٹھی ہے، یہ گویا احتجاج میں
اٹھی ہے، یہ پچھلے دو ماڈلز کی مسلسل اور مکمل ناکامی کے مشاہدے سے پیدا ہوئی ہے،
کیونکہ یہ ردعمل ہے۔ ہر زمانے میں عالمگیر سطح پر تبدیلی کا ایک میکنزم ہوتا ہے،
جس کی حق اور باطل دونوں کے ترجمانوں کو پابندی کرنا پڑتی ہے۔ یہ جو تیسرا گروپ ہے
ان کا المیہ یہ ہے کہ جو موجودہ یونیورسل میکینکس آف چینجز ہیں ان سے کسی بھی طرح
کا کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ایک عالمگیر مزاج کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی سے خود
کو بالکل لاتعلق رکھ کر دنیا میں تبدیلی لانے کا خواب دیکھنا گویا ناممکن کو ممکن
فرض کرلینا ہے۔ جو عسکریت پسند جماعتیں ہیں یا خلافت کے قیام کی پُرامن جدوجہد
کرنے والی تحاریک ہیں، یہ دونوں اپنے زمانے کی روح سے لڑرہی ہیں اور روحِ عصر سے
لڑائی کامیاب نہیں ہوتی۔ اسلام نے غلامی وغیرہ کے رد میں خود بھی یہ کچھ نہیں کیا۔
کیونکہ جمہوریت پوری دنیا کے اجتماعی لاشعور کا عقیدہ بن چکی ہے، اب اس سے بلاوجہ
کی لڑائی چھیڑ کر لوکل تبدیلی لانے کے لیے پوری دنیا کو اس کی اساس سے ہٹانے کی
کوشش کرنا ایک ناسمجھی کا کام ہے۔ یہ ایسا کام ہے کہ ذہن میں آتے ہی ناکام ہوجاتا
ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس پر جو عمل ہورہا ہے افسوس کہ وہ عسکریت پسندی کی شکل میں
ہورہا ہے۔ عسکریت پسندی جو ہے وہ قدیم زمانے کی بناوٹ کے مطابق تو تبدیلی کا ذریعہ
بن سکتی تھی لیکن جدید دنیا کی ساخت یہ ہے کہ کسی گروپ کی عسکریت پسندی سوشل یا
ریاستی سطح کے چیلنج کا باعث کبھی نہیں بن سکتی اور نہ کبھی بنی ہے۔ اس لیے جو لوگ
عسکریت میں ملوث نہیں مگر ان کے مقاصد سے متفق ہیں، ان کے لیے یہ ایک المیہ بھی
ہے۔ دوسرا یہ ایک دہشت کا سا تصور ہے کہ آپ اپنے تصور میں کھلے ہوئے پھول کو باہر
کی زمین میں اگانے کے لیے اس زمین میں آگ لگا رہے ہیں اور پہلے سے کھلے ہوئے
پھولوں کو پاو ¿ں تلے روند رہے ہیں۔ یہ بہت پست ذہنی اور کمی کی علامت ہے۔ میرے
خیال میں ہمیں حقیقت میں جس ماڈل کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر تو دعوتی ہے۔ اس
میں کچھ طاقتور عناصر ظاہر ہے کہ سیاسی ہوں گے۔ تو دعوت اور سیاست کو ملا کر
معاشرے کو اپنی بنیادی اقدار پر ری اسٹرکچر کرنے کی کوشش کرنا ضروری بھی ہے اور
ممکن بھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری جو غالب مذہبی قوتیں ہیں وہ ریاستی اسٹرکچر میں
تبدیلی لانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں بہ نسبت معاشرتی دروبست میں انقلاب لانے
کے۔ جبکہ انسانوں میں دیرپا انقلاب کی ہر قسم، فرد سے شروع ہوتی ہے، معاشرے میں
اپنے حق پر ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے اور معاشرے کی تبدیلی کے نتیجے میں ریاستی
نظام خودبخود بدلنے لگتا ہے۔ تو ہمارے یہاں معاشرے کو بدلنے کا کوئی مربوط تصور
موجود نہیں ہے۔ فرد کو بدلنے کا تصور ہے جسے تبلیغی جماعت بہت اچھی طرح استعمال
کررہی ہے۔ لیکن یہ مسلم معاشرہ کسے کہتے ہیں؟ مسلم معاشرے کے قیام کو اپنا مقصد
بناکر اس کے لیے فکری اور عملی جدوجہد کرنا، اس کی تحریک چلانا.... یہ دستیاب
مذہبی جماعتوں کا موضوع یا مقصد نہیں ہے جو میرے خیال میں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ اب
اگر ہماری تہذیب یعنی مسلم تہذیب کی تجدید یا بقا کا کوئی بھی کام ہوگا تو وہ اپنی
صورت اور معنویت میں معاشرتی ہوگا.... سیاسی یا ریاستی نہیں ہوگا۔
فرائیڈے اسپیشل:کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں اسلامی
نظام کے لیے کام کرنے والی جماعت یا جماعتیں ناکام ہوگئی ہیں؟ تو پھر تبدیلی کیسے
آئے گی، جماعتوں میں اصلاحات کے ذریعے؟ یا پھر کسی نئی جماعت یا تحریک کی ضرورت
ہے؟
احمد جاوید: یہ ثانوی باتیں ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دینی
جماعتیں اپنے اندر بنیادی اور مو ¿ثر تبدیلی لائیں۔ جیسے مسلم لیگ۔ جس مسلم لیگ نے
پاکستان بنایا ہے، یہ پہلے جاگیرداروں کا کلب تھا، اس نے خود کو بدل کر پاکستان
بنایا تھا۔ لیکن یہ ثانوی باتیں ہیں کہ یہ خود کو بدلیں یا اس کی جگہ نئی جماعت
بنائیں، دونوں صورتوں میں نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔ اصل میں سب سے زیادہ ضروری
یہ سمجھنا ہے کہ دین کس طرح کی اجتماعیت ہم سے طلب کرتا ہے۔ اس طلب کو درست انداز
میں سمجھ کر اسے اپنی ذہنی اور اخلاقی قوتوں سے عمل میں لانا.... یہ ہماری ذمہ
داری ہے۔ مسلم معاشرے کا اگر ایک نمونہ بھی مسلمان پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو
ان پر مغرب کی یلغار ہی نہیں رک جائے گی بلکہ مغرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوجائے
گا۔ کیونکہ مغرب کو ایک روحانی معاشرے کی پیاس لگی ہوئی ہے جو وہاں کے حساس اور
ذہین طبقات محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم روحانی بنیادوں پر ایک فلاحی اور انسانی معاشرہ
بناکر دکھادیں تو مغرب ایک گولی چلائے بغیر فتح ہوسکتا ہے۔ لیکن ہماری مجبوری یہ
ہے کہ ہم اس کو تو روتے ہیں کہ عالم اسلام میں کوئی حکومت اسلامی نہیں ہے، لیکن اس
طرف نظر نہیں کرتے کہ عالم اسلام میں کوئی معاشرہ اسلامی ہے یا نہیں؟ ہمیں اس بات
کی کسک محسوس نہیں ہوتی کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایک معاشرہ بھی اسلامی
معاشرہ نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ معاشرے میں تبدیلی آجائے تو ریاست میں خود بخود آجاتی
ہے۔میرے خیال میں تبدیلی کا یہ نظریاتی طریقہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عالم اسلام میں کئی اسلامی تحریکیں کام
کررہی ہیں، آپ ان کی جدوجہد کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
احمد جاوید: سب کی خامیاں ایک جیسی ہیں۔ اخوان المسلمون
ہے، الجزائر کی اسلامک فرنٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔جو بھی سیاسی جدوجہد کرنے والی جماعتیں
ہیں، وہ ایک جیسی ہیں۔ وہ سب نظام بدلنے کی بات کرتی ہیں۔ جبکہ تبلیغی جماعت کے
مقابلے میں دعوتی جماعتیں بہت کم ہیں اور چھوٹی ہیں۔ تو اس میں ہمیں اسی ماڈل کو
سامنے رکھ کر عالم اسلام کی دعوتی فضا پر اپلائی کرنا ٹھیک لگتا ہے۔ ہمارے ہاں دین
کی دعوت کا ایک نظام ہے، دین کو دعوت بنانے کی ایک تحریک ہے، اور یہ دونوں ناکام
ہیں۔ پورے عالم اسلام میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ کوئی مذہبی، اسلامی سیاسی
تحریک کامیاب ہوئی ہو۔
فرائیڈے اسپیشل: اب ہم ادب سے متعلق کچھ گفتگو کرلیتے
ہیں۔ ادب کے دائرے میں مختلف نکتہ ہائے نظر موجود ہیں۔ کچھ لوگ ادب برائے ادب کے
قائل ہیں، کچھ لوگ ادب برائے مقصدیت کے قائل ہیں۔ آپ کی نظر میں ایک انسانی معاشرے
میں ادب کا حقیقی کردار اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
احمد جاوید: اب یہ سوال موجود ہی نہیں ہے کہ ادب برائے
زندگی ہوتا ہے کہ ادب برائے ادب ہوتا ہے۔ وہ تنازع کی فضا گزر چکی ہے۔ اب وہ ہمارا
ماضی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اشتراکیت اور جدیدیت سے پیدا ہونے والی تحریک میں
تصادم کی فضا تھی۔ اشتراکی کہتے تھے کہ ادب مقصد کے تحت ہوتا ہے، جبکہ جدیدیت پسند
کہتے تھے کہ نہیں ادب کا مقصد ادب ہی ہوتا ہے۔ یعنی ادب ایک جمالیاتی مشغلہ ہے، اس
کا کوئی سیاسی اور اخلاقی پہلو نہیں ہوتا۔ وہ دور اب گزر گیا۔ آج کے ادیب کو ان
دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔اب فضا یہ ہے کہ ادب زندگی
میں انسان کی داخلی اور خارجی صورت حال میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ اس کا سادہ سا
جواب یہ ہے: اگر میرا جمالیاتی شعور اور احساس نظرانداز ہوجائے تو میرے شعور اور
میرے وجود میں ایک بنیادی نقص رہ جائے گا۔ یعنی یہ کہ آپ کا مذہبی شعور بھی بہت
پختہ ہو، آپ کا عقلی شعور بھی بہت پختہ ہو، آپ کا اخلاقی شعور بھی بہت پختہ ہو
لیکن آپ چیزوں کو خوبصورتی اور بدصورتی میں تقسیم اور اس کا فیصلہ نہ کرسکتے ہوں
تو گویا آپ کا ادراک اور آپ کی سطح وجود کم تر ہے۔ جمالیاتی شعور یعنی چیزوں کو
خوبصورتی اور بدصورتی کے تناظر میں دیکھنا اور ان میں فرق کرنا، جیسے عقل کرتی ہے
کہ یہ صحیح ہے اور یہ غلط ہے، یہ مفید ہے یا مضر ہے۔ مذہبی شعور کہتا ہے کہ حق ہے
یا باطل ہے، یہ حلال ہے یا حرام ہے۔ اخلاقی شعور کہتا ہے کہ یہ بھلا ہے یا برا ہے،
خیر ہے یا شر ہے۔ یہ سب ان کے وجودِ کار ہیں۔ تو اگر ہم حق و باطل، حلال و حرام،
مفید و مضر اور خیر و شر تک ہیں تو ہم تعمیر ہوئے۔ لیکن چیزیں اپنا جمیل ہونا اور
بدصورت ہونا میرے اندر پیدا نہ کریں تو ان چیزوں کے بارے میں میرا فہم، ان چیزوں
سے میرا تعلق ناقص رہ جائے گا۔ اور میری عقل نے ان چیزوں کا جس طرح ادراک کیا ہے
اس میں کمی رہ جائے گی۔ یعنی میری عقل بھی سیرابی کے تجربے سے محرو م رہ جائے گی،
میری مذہبیت بھی اطمینان کے تجربے سے خالی رہ جائے گی، میرے اخلاق بھی دل کی نرمی
سے، دل کی حرارت سے منقطع حالت میں رہ جائیں گے۔ تو گویا جمالیاتی شعور اور طرزِ
احساس کی یہ اہمیت ہے کہ یہ انسان کے شعور اور وجود دونوں کی تکمیل میں لازمے کی
حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ کمزور یا معدوم حالت میں ہیں تو انسان شعور اور وجود
دونوں سطح پر ایک کم تر ہستی رہ جائے گا۔ یہ تو رہا اصولی مطلب۔ اب دوسرا مطلب یہ
ہے کہ میری سب سے بڑی آرزوو ¿ں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جو جانے، جو مانے، جو کرے
اس میں اس کا دل لگے۔ اس میں اسے تسکین محسو س ہو۔وہ اسے ایک خوبصورتی کی فضا میں
رکھے کہ جس مورتی کو اس نے ڈھونڈ کرنکالا ہے اسے ٹاٹ کے بورے میں جمع نہ کرے بلکہ
اس کے لیے اچھا صندوق بنائے۔اخلاق بھی یہ چاہتا ہے کہ عمل صرف مبنی بر خیر نہ ہو،
بلکہ میرے خیر میں ایک کشش اور جمال بھی ہو۔ مذہبی شعور بھی یہ چاہتا ہے کہ اللہ
کی طرف آپ یکسو ہوں۔احسان کے ساتھ ہو۔خوبصورتی کے ساتھ ہو۔ حسن کے ساتھ ہو۔گویا
حسن ہر شعورکے ہر حاصل میں ایک نئی چمک دمک پیدا کرتا ہے، ایک کشش پیدا کرتا ہے،
وہ عقل کے لیے معقول کو،مذہبی ذہن کے لیے عقیدے کو پر کشش بناتا ہے۔ جو ان عقائد
اور ان نظریات سے تسکین پانے کے لیے ضروری ہے۔ تو جمالیاتی شعور میرے عقائد،نظریات
اور اعمال کو پرکشش بنانے کا کام کرتا ہے۔ان کو بدلے بغیر، ان کو چھیڑے بغیر۔لیکن
اگر فرض کیا کہ خدا میرے لیے پرکشش نہ رہے تو خدا کو ماننے کی تمام تفصیلات رکھنے
کے باوجو د مجھے اس سے تسکین نہیں حاصل ہوگی، مجھے اس سے ایک زندہ تعلق کا تجربہ نصیب
نہیںہوگا۔ ا ن معنوں میں جمالیات علم الحضور ہے۔یہ حضوری کا احساس ہے۔یہ غیب میں
حضوری کی لگن پید اکرنے کی قوت ہے۔ اگر یہ نہ رہے تو اس کے نتیجے میں پھر شعور کی
اور طبعیت کی حالتیں، خام اور ناتمام رہ جائیں گی۔بڑا ادب یہ کام کرتا ہے کہ وہ
انسانی شعور اور اس کی طبعیت کو بلند کرتا ہے۔ اس کی تمام صلاحیتوں کو، تمام
قابلیتوں کو حالتِ تسکین میں کرتے ہوئے اس کے تمام عقائد و تصورات کو حسین اور
پرکشش بناتا ہے۔ جمالیات مجھے کوئی نظریہ نہیں دیتی، جمالیات میرے مانے ہوئے نظریے
کی تزئین کردیتی ہے۔ اسے خوبصورت بنادیتی ہے۔ تو ادب اگر واقعی تخلیقی ادب ہے تو
اس کا یہ کردار، اس کا یہ کارنامہ سامنے کی چیز ہے۔ اسی وجہ سے افلاطون نے کہا تھا
کہ ”یونانی تہذیب کا بانی ہومر ہے“۔ اس نے کسی فلسفی کا نام نہیں لیا کیونکہ اس نے
یونانی تہذیب کے جو آئیڈیلز تھے انہیں پُرکشش بنادیا تھا، انہیں خوبصورت کردیا
تھا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ”احسان کیا ہے؟“ کا جواب دیتے ہیں تو
فرماتے ہیں: ”اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔“ تو گویا اللہ کو
دیکھنے کا حال ایک پختہ جمالیاتی شعور کے بغیر ناممکن ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے بڑے ادب کا ذکر کیا۔ بڑا ادب کس
طرح تخلیق پاتا ہے؟ یا بڑا ادیب کیسے پیدا ہوتا ہے؟
احمد جاوید: جب کوئی زبان اور تہذیب بڑائی کی سطح پر ہو
یا بڑائی سے تازہ تازہ گری ہو تو بڑا ادیب اور بڑا ادب پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر
تہذیب اور زبان میں مادہ عظمت رہ ہی نہ جائے اور اس مادہ کو دیر ہوگئی ہو تو پھر
بڑے ادیب اور بڑے ادب کا پیدا ہونا محال ہے۔ زبان اور تہذیب میں بڑائی کا جوہر
عملی حالت میں موجود نہ ہو تو بڑا ادب نہیں پیدا ہوسکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے ادبی استاد سلیم احمد ؒ نے آج سے
تیس، پینتیس سال پہلے ”ادب کی موت“کا اعلان کیا تھا۔ اس جملے کی معنویت کیا ہے؟
اور اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟کیا ادب کی واقعی موت واقع ہوگئی ہے؟
احمد جاوید: جب انہوں نے یہ بات کہی تھی تو اُس وقت میں
بھی موجود تھا۔ اُن کے یہاں ہونے والی نشستوں میں یہ ایک موضوع بھی تھا کہ ”ادب کی
موت“ کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے کہ جس نے یہ بات کہی ہے اگر اُس شخص نے اس کی تشریح
کردی ہے تو اسی بات کو حتمی کہیں گے۔ سلیم احمد نے ایک سلسلہ کلام میں یہ بات کہی
تھی۔ وہ سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے نطشے سے، نطشے نے کہا تھا کہ ”خدا مر گیا ہے“۔ اس
پر سلیم احمد کی تعبیر کے مطابق نطشے کہہ رہا ہے کہ وہ آدمی فنا ہوگیا ہے جس کا سب
سے بڑا مسئلہ ”خدا“ تھا، تو نطشے نے اصل میں خداپرست آدمی کی موت کا اعلان کیا۔
اسی طرح اگلا نعرہ لگا کہ ”انسان مر گیا ہے“۔ اس پر سلیم بھائی فرماتے تھے کہ وہ
انسان مرگیا ہے جو خود کو اپنا مقصود سمجھتا تھا، یا خود کو مرکزِ کائنات سمجھتا
تھا۔ ایک تبدیلی آئی کہ پہلے خدا مرکز کائنات تھی، اس کی موت کا اعلان نطشے نے
کردیا اور اس کی جگہ آدمی کو مرکز کائنات بنایا، پھر پتا چلا کہ اب آدمی بھی مر
گیا ہے یعنی اب آدمی بھی کائنات کا مرکز نہیں رہا تو اس تسلسل میں سلیم احمد نے
کہا کہ ”ادب مرگیا ہے“۔ یعنی وہ آدمی غائب ہوگیا ہے جس کے لیے ادب ایک سنجیدہ
مسئلہ اور مشغلہ تھا۔ یہ اُن کے اس اعلان کا انہی کے بیان کردہ الفاظ میں براہِ
راست مطلب ہے۔ اس لیے میرے نکتہ نگاہ سے یہ بات بالکل درست ہے کہ ادب کی موت واقع
ہوگئی ہے۔ اس بات کو دو چیزوں پر غور کرکے بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے: (1) کیا
ہماری تہذیب اپنے اصول پر زندہ رہنے کا دعویٰ کرسکتی ہے؟کیا ہم یہ دعویٰ کرسکتے
ہیں کہ ہماری تہذیب اپنے اصول پر زندہ ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ ہم کہیں گے ہماری تہذیب
مر گئی ہے۔ (2) کیا ہماری زبان اپنے سیمنٹکس(semantics) معنویاتی کے ساتھ، اپنے
لسانیاتی اسٹرکچرز کے ساتھ، اپنی علامات (symbolism) کے ساتھ زندہ رہ گئی ہے؟ تو
ہم کہیں گے کہ نہیں۔ تو جب ہم اپنی تہذیب اور اپنی زبان کی زندگی کا انکار کررہے
ہیں تو ادب انہی دونوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والا بچہ ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ تہذیب
مر گئی ہے کہنا درست ہو، زبان فوت ہوگئی ہے کہنا درست ہو، اور ان دونوں اموات کی
موجودگی میں ہم یہ امکان روا رکھیں کہ ادب زندہ رہ جائے گا۔ یہ ناممکن ہے۔ تو ادب
بھی مر گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے مذہب اور ہماری تہذیب میں انسان
کی فضیلت دو چیزوں کی بنیاد پر ہے: تقویٰ اور علم۔ اس کا کیا سبب ہے؟ اور کیا یہ
دو فضیلتیں ہمارے معاشرے میں فضیلتوں کی حیثیت میں موجود ہیں؟
احمد جاوید: آپ علم و تقویٰ کے جو اصول بتارہے ہیں،
بلاشبہ ہماری روایت میں انسانی فضیلت کی یہ دو بنیادیں ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے
جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری روایت میں اس کے معنی ہیں: حق کا علم، علم ہے اور اس علم سے
نفس پر مرتب ہونے والا حال تقویٰ ہے۔ علم اللہ کی معرفت ہے اس کی تخلیقی قدرت سے
آگاہی کے ساتھ۔ اللہ کو جاننا ہے اس کی تخلیق کے اندر تک جھانک لینے کی صلاحیت کے
ساتھ