You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to Aligarh_...@yahoogroups.com, BAZMe...@googlegroups.com
یہ شعر کس شاعر کی تخلیق ہے؟ شکست و فتح نصیبوں پہ ہے ولے اے میر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا ہمارے اکثر محققین یہ شعر میرتقی میر کے کھاتے میں ڈال کر دور کی کوڑی لاتے ہیں۔کئی محقق بزعم خود اسے یو ں پڑھتے ہیں
شکست و فتح تو قسمت سے ہے ولے اے امیر مقابلہ تودل نا تواں نے خوب کیا اس طرح وہ اس شعر کوامیرمینائی کی تخلیق قرار دے کرداد تحقیق دیتے ہپیں حقیقت میں محولہ بالا دونوں قیاس درست نہیں ۔یہ شعر نواب محمد یار خاں امیر کا ہے جو ٹانڈہ کے رئیس تھے۔ان کا شعر اس طرح ہے
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن مقابلہ تودل ناتواں نے خوب کیا باقی تمام صورتیں تحریف اور خود ساختہ متن ہیں ۔جن پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ حوالہ مآخذ و استفادہ مجنوں گورکھپوری: نکات مجنوں،مکتبہ عزم و عمل،کراچی، 1962،صفحہ118۔--
Prof.Dr.Ghulam Shabbir Rana