گدھے کہیں گِدھ نہ بن جائیں
زبیر حسن شیخ
گدھوں پر قلم اٹھانا ہو یا گدھوں پر، صرف زیر و زبر کا فرق ہوتا ہے- لیکن جیسے جیسے آپ ان دونوں پر غور کرتے جائیں فرق واضح ہوتا جاتا ہے- مشرقی ادب میں گدھوں کو زبر کے ساتھ زیادہ لکھا، پڑھا اور سمجھایا گیا ہے- جبکہ مغربی ادب میں خاصکر انگریزی ادب میں، گدھوں کو زیر کے ساتھ ہی لکھا پڑھا اور سمجھایا جاتا ہے- کیا کیا جائے کہ دونوں کا اپنا اپنا ظرف اور اپنا اپنا ذوق ہے- لیکن ہمارا مقصد یہاں موضوع کو زیر کرنا ہے کہ ہم اپنے پچھلے مضامین میں گدھوں کا ذکر زبر کے ساتھ کرچکے ہیں- اسے زبر کے ساتھ پڑھیے تو یہ ایک پالتو جانور مانا جاتا ہے اور زیر کے ساتھ ایک مردار خور پرندہ- جہاں تک گِدھوں کا تعلق ہے تو بقول معتبر ذرائع ابلاغ، جیسے وائی کی پیڈیا، نیشنل جغرافیہ اور اینیمل چینلز، اس کی اعلی نسل صرف مغرب اور خاصکر امریکہ میں ہی پا ئی جاتی ہے- اب پتا نہیں امریکی گنجینۂ معنی میں اسکے متعلق کیسے کیسے اشارے اور کنائے موجود ہوں، پچھلی دو دہائی میں وہاں گِدھوں کی نسل میں تبدیلی پا ئی گئی ہے اور "ہائی بریڈ" یا اختلاط عمل سے مختلف نسل وجود میں آئی ہے، اور وہ عالمی منظرنامے پر ایک غلغلے کے ساتھ یا عرف عام میں کہیے تو "نیو ورلڈ آرڈر " اور نسل پرستی کی بیماری کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں- حالانکہ مغربی انسائیکلو پیڈیا نے اپنے گنجینۂ معنی میں اسکا ذکر اب تک نہیں کیا! پتا نہیں کیوں- ہاں ، تاریخ میں اس کا ذکر ڈھونڈنے سے مل جاتا ہے، انہیں بھیڑیے جیسے خونخوار جانوروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے-
زبر
کے ساتھ پڑھیے تو گدھوں کی اعلی نسل، بقول ماہرین مشرق اور خاصکر بر صغیر میں پا
ئی جاتی ہے- گنجینۂ معنی میں اسکا ذکر کرنے کی حاجت نہیں ہوتی ، اسکے معنی
معروف العام ہیں- کیونکہ گدھوں کے گلے کا
طوق زریں انکی خصلت کی خود علامت بن گیا ہے- اب گھوڑوں کا یہاں کیا تذکرہ جو مشرق
وسطی کی علامت ہیں - اور وہ بھی اب عنقا ہو
چلے ہیں، اور جو بچے کھچے ہیں وہ بہ زیر
پالان زخمی ہیں، ابھی لنگڑے نہیں ہوئے ورنہ بقول شخصے لنگڑا گھوڑا بے موت مارا
جاتا ہے- پھر وہ چاہے درندوں کے جنگل میں
ہو یا تہذیب و تمدن کے جنگل میں، اور گدھ
اسے چٹ کرنے میں دیر نہیں کرتے- خیر گدھ کا کیا ہے اسکے لئے کیا گدھا اور کیا
گھوڑا، وہ بس مردار کھاتا ہے، دوسروں کا شکار کیا ہوا- الغرض ہمارا موضوع گدھ ہے اور
ہمیں اپنے قلم سے آج اسے زیر کرنا ہے-
بقول ماہرین، گِدھوں کی بھی کمیٹی ہوتی ہے اور یہ اپنا کام دو گروہ میں بانٹ دیتے ہیں- مردار نوچ نوچ کر جمع کرنے کا گروہ اور پھر اسے تقسیم کرنے کا الگ گروہ ہوتا ہے- یہ دیکھنے میں بے حد حسین و جمیل اور اپنے برتاؤ میں بے حد نفیس ہوتے ہیں- انکے چہروں پر ہر وقت انجانا سا سکون اور ایک مکروہ مسکراہٹ ہوتی ہے، جس سے یہ اپنے شکار کے عالم سکرات کو آسان کرنے میں مدد کرتے ہیں- انکی پرواز بہت اونچی ہوتی ہے جبکہ انکا کام بے حد نچلی سطح کا ہوتا ہے- ان میں صبر کا مادہ بہت ہوتا ہے اور یہ اپنے شکار کی موت کے انتظار میں پہروں بلکہ دنوں تک انتظار کرسکتے ہیں، اور وہ بھی بغیر کسی شورش و گریہ اور آپسی اختلافات کے- ماہرین کہتے ہیں ان میں یہ تمام اوصاف ماضی میں ایک طویل آپسی لڑائی اور نوچ کھسوٹ کے بعد پیدا ہوئے ہیں، اور اس میں جغرافیائی وجوہات زیادہ نظر آتی ہیں- اب ظاہر ہے ادبی وجوہات تو ہونے سے رہی- گدھ بہ نسبت دیگر پرندوں کے عقلمند واقع ہوا ہے، اور عادتا سہل پسند بھی- اس کی بہت سی تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی ارتقا ئی وجوہات ہیں، اور جس میں ایک یہ ہے کہ آجکل اسے شکار آسانی سے دستیاب ہورہا ہے- ایک طرح سے وہ نئے نئے اوزاروں سے لیس ہوتا جارہا ہے، اب ایسے میں ماہرین کو کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ اس میں شکار کے مکافات عمل کا دخل ہے یا شکاری کے اعمال کا امتحان- اسکے جسم میں اسقدر نقصان دہ کیما ئی مادے ہوتے ہیں کہ اسے کوئی اور جانور شکار نہیں کرتا - ماہرین نے تجزیہ کر حالیہ دنوں میں یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ سائینسی ارتقائی نظریات کے تحت گدھ جدید سوچ کے حامل ہوتے جا رہے ہیں، اور اپنے شکار کے قریب جانے میں احتیاط برتنے لگے ہیں، انکے شکار کے رشتے داروں کو بھی اسی سائینسی اصولوں کے تحت عقل آرہی ہے، اور وہ مردار کی موت کا ذمہ دار گدھ کو ماننے لگے ہیں-
ہم ابھی گدھوں اور گدھوں کو زیر و زبر کر ہی رہے تھے کہ معلوم ہوا گدھوں میں چھوٹی موٹی لڑائی چھڑ گئی ہے اور ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز سے خطہ میں کہرام برپا ہوگیا ہے، ماہرین کے مطابق چند دہائی قبل گدھوں نے خود کہرام مچانے والا خاص طبقہ متعارف کرایا ہے- انکے سردار، انکے اہل اقتدار، اہل قوت و جاہ و حشمت اور انکے ہمنوا سب ایکدوسرے کو گیدڑ بھپکی دے رہے ہیں- گیدڑ بھی حیرت زدہ ہیں- شیر کی کھال میں بھیڑیے بھی منظر عام پر نظر آرہے ہیں- گدھ اپنی پرواز نیچی کر منڈلانے لگے ہیں- شیفتہ ہمیشہ کہا کرتے کمبخت گدھے ایک تو زعفران کی قیمت نہیں جانتے اور گھاس کھاتے ہیں ، اور پھر آپس میں لڑ مر کر گِدھوں کو شکار فراہم کرتے ہیں، خونخوارجنگلی جانور انکی ہیکڑی دیکھ دیکھ کر ہنستے ہیں کہ جب تک ہم ان گدھوں کا شکار نہ کرلیں یہ مرنے مارنے والے نہیں- الله خیر کرے!! سائینسی ارتقائی اصولوں میں آجکل بہت خرد برد ہورہی ہے اور ڈر ہے گدھے کہیں گدھ نہ بن جائیں-