ایک لیڈر کے عوامی خواب

23 views
Skip to first unread message

Ainee Niazi

unread,
Apr 3, 2012, 2:00:09 AM4/3/12
to Bazm e Qalam


اسلا م علیکم
میں نے یہ مضمو ن ذولفقار علی بھٹو  کی یوم وفات جو کہ 5 اپریل کو ہے اس پر لکھا ہے امید ہے پسند آئے گا  شکریہ
 ایک لیڈر کے عوامی خواب
عینی نیا زی
عین الیقین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’میں لیاری کو یورپی ممالک کی صف میں لا کھڑا کروں گا ‘‘آج جب لیاری آگ وخون کی لپیٹ میں ہے دہشت گردی و لا قانو نیت کی بد ترین مثال نظرآتاہے تو مو جودہ دور حکومت کے لیڈر کا یہ جملہ کا نوں میں گو نجتا ہے انھوں نے بڑی یقین سے لیا ری کے عوام کو خواب دکھا ئے تھے اور اسی دکھا ئے گئے خو بصورت خواب کی قیمت کا خراج لیار ی کے عوام ادا کر رہے ہیں اس لیے کہ انھیں پنے عوامی لیڈر پر مکمل بھروسہ تھا اعتما دتھا انھیں اپنے لیڈر کے جملوں میں سچا ئی کی خو شبو آتی تھی کہ ان کا لیڈر مر تو سکتا ہے مگر اپنی عوام سے غداری نہیں کر سکتا اورکسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ سچ اور سولی کے درمیاں گہرا رشتہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اس کے اجزا ئے تر کیبی میں زہر کا پیالہ ، لکڑی کی سلیب اور پھا نسی گھا ٹ وہ حقیقتیں ہیں جو تا ریخ کے ہر دور میں ان لو گوں کا مقدر بنتی ہیں جنھوں نے حق کا دامن مضبو طی سے تھا مے رکھا  بنا ء کسی لا لچ و خود غر ضی اور ذا تی مفا د کے دنیاکو خو بصو رت اور امن کا گہوارہ بنا نے کے خواب دیکھے تو اسیے لو گو ں کو غد ار ،جنو نی اور پا گل قرار دیا گیاان کا قصور تھاکہ انھوں نے حق کا دامن نہ چھوڑا پا کستا ن کی ۲۶ سا لہ سیا سی تاریخ میں ذولفقار علی بھٹو وا حدسیا سی لیڈر ہیں جنھوں نے حق با ت کی خاطر سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پینا پسند کیا اور عوام کے دلوں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے ۔
 ۵ جنور۸۲ ۹۱ء کو لا ڑ کانہ میں انھوں نے ایسے گھرانے میںآنکھ کھو لی جہا ں غربت و آلام کا پر ندہ بھی پر نہیں ما ر سکتا تھا دو لت کی ریل پیل اعلیٰ تعلیم وتربیت اور بہتر ین معیارزندگی وروشن مستقبل کے ساتھ زندگی بسر کر تے تو ایک لمبی عمر پا تے لیکن انھوں نے اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اپنے آس پا س پھیلی غربت ، نا انصا فی ، جہا لت ،دکھ اور بیما ری کی دیواریں دیکھی تو وہ ان دو انتہا وں کے فرق کو بر داشت نہ کر پا ئے انھو ں نے عوام کے مسائل حل کر نے کے لیے سیا ست کے خار زار پر قدم رکھا۔
پاکستا ن کی تا ریخ میں جس جمہوری سیا سی لیڈر کو سب سے زیا دہ شہرت، عزت اورپذ یرائی حا صل ہو ئی وہ بلا شبہ سا بق وزیر اعظم ذولفقا ر علی بھٹوتھے انھوں نے اپنی تقریروں میں عوام کو سنہرے مستقبل کی نو ید سنا ئی دیتی تھی وہ پا کستان کے کو نے کونے تک سر حد، بلو چستا ن ، پنجا ب اور سند ھ کے دورافتا دہ علا قو ں تک گئے جہاںکوئی سیا ست داں آج بھی نہ پہنچ سکا ہے عوام کی وارفتگی اور انکی محبو بیت نے ذوالفقار علی بھٹو کو  خو اص کے دل فریب حصارکے بجا ئے عوام کی محبتوں کے حصا ر میں محفو ظ کر دیا انھو ں نے غریب عوام کو خواب دکھا یا کہ انکے بچے بھی اسکو  لوں اور یورنیورسٹیوں میں اعلی ٰ تعلیم حا صل کر سکتے ہیں ان کا بھی حق ہے کہ علا ج کے لیے بہتر سہولتیں انھیں دستیا ب ہو ان کے تن پر اچھے کپڑے ہوں ان کے ارد گرد پھیلی بے بسی خو شحالی بن کر ابھرے بقول منیر نیا زی کہ’’ اک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو ِ‘‘ ذوالفقار علی بھٹو  کے مشہور زمانہ’  نعرہ روٹی ،کپڑااورمکا ن نے انھیں اقتدار کی مسند پر بھٹا یا،پاکستا ن کی غریب عوام نے انھیں اپنا نجا ت دہندہ جا نا۔
 مگر بد قسمتی سے بھٹو کے اقتدار میں زیادہ عر صہ نہ رہ پا ئے اور ۵ جو لائی ۷۷۹۱ء کو ایک فوجی آمر جنرل ضیا ء الحق نے عوام کی حکو مت پر شب خون ما را اور ذوالفقار علی بھٹو کو پا بند سلا سل کر دیا ڈکٹیٹر کو زندہ بھٹو ان کی آمرانہ خوا ہش کے ا ٓگے دیوار محسوس ہوا اور اس نے یہ دیوار گرانے کا فیصلہ کر لیاان پر جھوٹا مقدمہ چلا یا گیا اورعدالت نے حکومتی خو اہشا ت کے عین مطا بق فیصلہ دے دیا ۔پنجاب کے راولپنڈی جیل میں۴ اپریل  ۹۷۹۱ء کی درمیا نی شب جس کی نحو ست سے پا کستا نی سیا ست آج تک نہیں نکل پا ئی جب نمود سحر سے قبل جنا ب ذالفقار علی بھٹو کو پھا نسی دی گئی جب ان کی عمر محض اکیا ون بر س تھی راو یا ن بتا تے ہیں کہ بھٹو نے اپنی کا ل کو ٹھری سے پھا نسی گھا ٹ تک کا سفر ا نتہا ئی سکون اور بر داشت سے طے کیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ مضروب تھے ا نھیں ضربا ت اور جسما نی ا ذیتیں دی گئی تھیں یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ اپنے قول کہ’’ میں فوج اور ضیا ء کے ہا تھوں مر نے کو تا ریخ میں مر نے کو تر جیح دوں گا  ‘‘۔
 ذوالفقار علی بھٹو نے پس زنداں میں لکھا تھا کہ ’’مفاد پرستوں کا ٹولہ مجھے اس لیے نا پسند کر تا ہے کہ میں پہلا اور واحد رہنما ہو ں جس نے  ان کی اجا رہ داری کا آہنی حصار توڑا ہے اور میرا عوام سے براہ راست رابطہ ہے وہ چا ہتے تھے کہ میں ان کی تقلید کروں میں نے انکا ر کر دیا ‘‘  ذو لفقار علی بھٹو اس دور حکو مت میں ہم سب کو اس لیے بھی زیا دہ یا د آتے ہیں کہ ان کے ہاتھو ں جس پیپلز پارٹی کی بنیا د رکھی گئی وہ آج پا کستا ن  میںبرسر اقتدار ہے بھٹو سے زندگی نے وفا نہ کی مگر ان کے لگا ئے ہو ئے پودے کی آبیاری کرنے والی مو جودہ حکو مت نے انکے نعر ے رو ٹی کپڑا اور مکان کو الیکشن میں خوب استعمال کیا بر سر اقتدار ہونے کے بعد نعرہ ہی رہا غریب عوام، غریب ہی رہے جو کھلے آسما ن تلے رہتا تھا اس کا سر اسی طر ح بے سایہ ہی رہا جس کو تن پر کپڑا میسر نہ تھا وہ بد ستور ننگا ہی رہا جو بھو کے پیٹ سونے پر مجبور تھا وہ اسی طرح سونے پر مجبور رہا ہاں! البتہ بھٹو صاحب کے جا نے کے بعد انکے نعرے نے ان کی پا ر ٹی کے سیاست دانو ںپر کامیا بی کے دروازے کھو ل دیے انھیں عوام کی د کھتی رگ پر ہا تھ رکھنے کا  فن آگیا سو بھٹو صا حب کے بعد جو بھی سیاست داں آیااس نے عوام کو’  ووٹ دو خواب لو ‘ کے مصادق خوب استعمال کیا مگررو ٹی ،کپڑاا ورمکا ن ہر دور کی طرح آج بھی عوام کی پہنچ سے دورہے آج بھی عوام ز ندگی کی بنیادی سہو لتوں سے محروم ہیں ا پیپلز پا ر ٹی الیکٹ ہو نے کے بعد حسب دستور کر پشن لوٹ کھسوٹ ،  اقربا ء پروری اور بے قاعدگی کی ایسی شا ندار مثا لیں قا ئم کی کہ عقل دنگ ہے پیپلز پا ر ٹی ہر وہ کا م کر گزرناچا ہتی ہے جس سے عوام میں اسکے خلا ف نفرت اور اشتعال بڑ ھتا جا ئے اس کی درجنوں مثالیں اس کے دور حکومت میںمنظر عام پر آتی رہی ہیںپیپلزپا رٹی کی حکومت برسر اقتدار آنے سے ہمیں کو ئی آئیڈل حکومت کی توقع نہ تھی لیکن اتنی امید ضرور تھی کہ ایک جمہوری پارٹی ہو نے کے نا طے اسے عوام کے دکھ درد کا کچھ تو اندازہ ہو گا اور وہ جو کہا جاتا ہے کہ بہترین آمر یت سے بد ترین جمہوریت اچھی ہے مگر آج حکو مت کے اس چارسالہ دور حکو مت میں مہنگا ئی میں ریکا ر ڈاضافہ ہو اہے بجلی گیس پٹرول اور دیگرتما م چیزوں میں ہر چند مہینے بعد نئے اضافے منی بجٹ کی صور ت میں عوام پر نازل ہوتے رہے ہیں عوامی مسائل میں نا قابل حد تک اضافہ ہو چکا ہے اس وقت تما م پاکستانی قوم کے دل میں ایک ہی سوال ہے کہ کو ئی ہے جو حکومت سمیت تما م سیا سی جما عتوں سے پو چھ سکے حکومت ا س اضافے سے کتنا کما رہی ہے ان سب کے مفا دات کبھی ختم بھی ہوں گے ؟کیاکبھی ا ن کا پیٹ اور نیت سیر بھی ہو گی یا یو ں ہی عوام کی کھا ل کھینچتے رہیں گے ؟ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اگر حکو مت کے یہی کر توت جاری رہے تو وہ دن دور نہیں جب غا صب آمر لوگوں کے ہیرو کہلا ئیں گے اوربھٹو صاحب نے وہ خواب جو رو ٹی ،کپڑا اور مکا ن کی صورت میں عوام کو دکھا یا تھا اب صرف خواب بن کر رہ جائے گا۔ ۔
 ایک لیڈر کے عوامی خواب

































Zulfikar Ali Bhutto.inp

Abida Rahmani

unread,
Apr 3, 2012, 6:48:21 PM4/3/12
to bazme...@googlegroups.com
 عینی میں آپکو یقینا داد دونگی کہ آپ خاص دنوں کا خیال رکھتےہوئےمضمون نویسی کرتی ہیں-
بھٹو صاحب یقینا پاکستانی سیاست میں اعلےٰ مقام رکھتے ہیں انہوں نے کئ اچھے کام بھی کئے لیکن انکی فاش غلطیوں کا پلڑا بھاری ہے 
وہ بہت اچھے مقرر تھے اور انکو عوام کے جذبات ابھارنے یا اس سے کھیلنے کا فن آتا تھا بھٹو کا سیاسی کیرکٹر کیسے بنا شہاب نامہ اگر آپ نے پڑھا ہو تو اسکی تفصیلات ہیں اسکندر مرزا کے تعلق سے نصرت بھٹوکا حصول اور پھر ایوب خان کو ڈیڈی کہنے والاجب مخالفت پر آمادہ ہوتا ہے تو ایوب خان کا تیا پانچا کرکے دم لیتا ہے- میرے خیال میں ایوب خان کا دور پاکستان کا سنہرا دور تھا 
سب سے فاش غلطی انکی مشرقی پاکیستان کی علیحدگی پرمھر تصدیق ثبت کرنا تھا جب وہ کسی صورت پر مجیب کو وزیر اعظم کا درجہ دینے پر راضی نہ ہوۓ ادھر تم ادھر ھم کانعرہ لگایا ،جب وہاں آرمی ایکشن ہواتو فرمایا "thanks God Pakistan has been saved."
1971 کی جنگ کے دہران جب جنرل اسمبلی میں پولینڈ کی قرارداد جنگ بندی کے لئے پیش وہئی تو  جذباتی تقریر کرکے قراردادپھاڑ دی حالانکہ وہ جنگ بندی پاکستان کے لئے باعث عزت ہوتیٓ
بعد میں انہوں نے اسکولوں اور کار خانوں کو قومیا کر تعلیم اور صنعت دونوں کا بہٹہ بٹھا دیآ اس امر سے مجہے پورا اتفاق ہے کہ تختہ دار انکا مقدر ہرگز نہیں ہونا چا ہئے تھا اور یہ تمام عمل غیر حقیقی تھا-
 
اپنی راۓ کا اظہارکرنا
 
شکریہ
 
 
 
 

 
Abida Rahmani




--- On Mon, 4/2/12, Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> wrote:
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Ainee Niazi

unread,
Apr 5, 2012, 3:48:51 PM4/5/12
to bazme...@googlegroups.com
پیاری عا بدہ آپا محترم ریا ض اور جمیل صا حب ۔ آپ تما م کے تبصر ے،تجزئے اور خیالا ت سر آنکھوں پر  کیا آپ کو ایسا نیہں لگتا کہ کوئں بھی خامی سے مبرا نہیں ہاں یہ اور با ت ہے کہ جو جتنے بڑی کرسی پر ہو گا اسکی غلطیوں کی با ز گشت بھی اتنی ہی دور تک جا ئے گی اگر قیام پا کستا ن کے بعد جیسی بھی لو لی لنگڑی جمہوریت تھی اس کے تسلسل کو چلنے دیا جا تا تو شائد  آج حالا ت اس نہج پر نہ آتے بھٹو صآحب نے بھی کئی غلطیاں کیں لیکن آمریت سے تو بہتر کام کیے شا ئد یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے آج عوام پا کستانی میڈیا کی آزادی سے خوش بھی اور کبھی کبھی خا ئف بھی ہوتے ہیں خود میڈیا ابھی اپنا راستہ صیح سمت لے جا نے کی جد وجہد میں مصروف ہے ۔۔۔۔۔۔

Abida Rahmani

unread,
Apr 6, 2012, 2:28:56 AM4/6/12
to bazme...@googlegroups.com
 عینی آپ بلکل صحیح کہ رہی ہیں لولی لنگڑی جمہوریت بھی یقینا آمریت سے بہتر ہے
ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں وھاں کی جمہوریت اتنے عرصے سے روان دوان ہے

On Thu, Apr 5, 2012 at 12:48 PM, Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> wrote:
پیاری عا بدہ آپا محترم ریا ض اور جمیل صا حب ۔ آپ تما م کے تبصر ے،تجزئے اور خیالا ت سر آنکھوں پر  کیا آپ کو ایسا نیہں لگتا کہ کوئں بھی خامی سے مبرا نہیں ہاں یہ اور با ت ہے کہ جو جتنے بڑی کرسی پر ہو گا اسکی غلطیوں کی با ز گشت بھی اتنی ہی دور تک جا ئے گی اگر قیام پا کستا ن کے بعد جیسی بھی لو لی لنگڑی جمہوریت تھی اس کے تسلسل کو چلنے دیا جا تا تو شائد  آج حالا ت اس نہج پر نہ آتے بھٹو صآحب نے بھی کئی غلطیاں کیں لیکن آمریت سے تو بہتر کام کیے شا ئد یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے آج عوام پا کستانی میڈیا کی آزادی سے خوش بھی اور کبھی کبھی خا ئف بھی ہوتے ہیں خود میڈیا ابھی اپنا راستہ صیح سمت لے جا نے کی جد وجہد میں مصروف ہے ۔۔۔۔۔۔

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"



--
السلام علیکم

دعاؤں کی طالب
عابدہ

Abida Rahmani

hammad hasan

unread,
Apr 5, 2012, 5:48:30 PM4/5/12
to bazme...@googlegroups.com
Ainee Niazi saheba,
Pakistan kay liyay sub say bara masla yeh hay kay wahan kay logon ko jamhooriat nay hypnotize kardiya hay.Agar looli landri jamhooriat bhee rahti to aaj pakistan main na khanay ko hota na peenay ko.Muk ki achayee kay liyay saray kaam aamiron nay kiyay.Ayub khan nay 3 dams banaey.Wah factory lagayee,Musharraf nay mulk ko Jf thunder17, door maar missiles hydrogen bomb waghaira say mulk ki difayee taqat ko dushman say muqablay kay liyay tayyar kiya.Jabkay aapkay jamhoori sadr sahab America kay dollars kay liyay fauj ko kamzoor karnay  kay liyay tayyar thay.Kiya aap meri ittela kay liyay bataengi kay Pakistan main jitni bhee jamhooriat rahi .Jamhoori leaderon nay Pakistan ki taraqqi kay liyay keya kiya.Main yeh to jaanta hoon kay in sub nay mulk ko loota aur aaj bhee jee bhar kay loot rahay hain laikin phir bhee log jamhooriat kay gun garahay hai.Ab agar aisay logon ki dimaghee halat per shak kiyay jaey to ghalat na hoga.Sub say bari baat yeh hay kay Alhamdolillah sub musalmaan hain aur Islam main jamhooriat ka koyee taswwur naheen hay.To phir hum log kaisay musalmaan hai.Agar Pakistanion ki nazron say dekha jaey to choonkay khulafaa kay zamanay main jamhooriat naheen thee lehaza Hazrat Abu Bakr,Hazrat Umar,Hazrat Usman aur Hazrat Ali sub kay sub Aamir thay.Kiya kisi kay pass iska jawab hay.Afsos kay Pakistanion kay sir to bahot baray hain laikin unmain Dimagh naheen.Doosri baat hum Pakistani ek manfi soch rakhnay wali qaum hain her leader ki sirf burayiyyan dekhtay hain,achayyiya kabhee naheen.Agar yahee soch rahi aur log Jamhooriat kay peechay lagay rahay to HAMARI DASTAN TAK BHEE NA HOGEE DASTANON MAIN."Wa maa alaina illal balagh."

Hammad Hasan.


From: Ainee Niazi <ainee...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Thursday, April 5, 2012 2:48 PM
Subject: {10655} ایک لیڈر کے عوامی خواب

پیاری عا بدہ آپا محترم ریا ض اور جمیل صا حب ۔ آپ تما م کے تبصر ے،تجزئے اور خیالا ت سر آنکھوں پر  کیا آپ کو ایسا نیہں لگتا کہ کوئں بھی خامی سے مبرا نہیں ہاں یہ اور با ت ہے کہ جو جتنے بڑی کرسی پر ہو گا اسکی غلطیوں کی با ز گشت بھی اتنی ہی دور تک جا ئے گی اگر قیام پا کستا ن کے بعد جیسی بھی لو لی لنگڑی جمہوریت تھی اس کے تسلسل کو چلنے دیا جا تا تو شائد  آج حالا ت اس نہج پر نہ آتے بھٹو صآحب نے بھی کئی غلطیاں کیں لیکن آمریت سے تو بہتر کام کیے شا ئد یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے آج عوام پا کستانی میڈیا کی آزادی سے خوش بھی اور کبھی کبھی خا ئف بھی ہوتے ہیں خود میڈیا ابھی اپنا راستہ صیح سمت لے جا نے کی جد وجہد میں مصروف ہے ۔۔۔۔۔۔

Yousuf Reaz

unread,
Apr 7, 2012, 7:21:20 AM4/7/12
to bazme...@googlegroups.com, ibner...@yahoo.com, Syed Sayeed Ahmad [Jan], Muhammad Aqueel Alam Khan, Dr. Syed Niaz Ahmad, Mumtaz Alam, Dr. Sajjad Afzal, S. M. Fakhrul Alam, Mohammad Asif Qureshi, Muhammad Jamil Ahmed, Arshad Shamim, Mohammad Akram Virk, Hassan Imam /yasimeen, ZeeShan Hassan, Dr. S.A.M Jamil Rizvi, Sharfuddin Manzooruddin, Ghayas Munir Shaiq, Ghulam Nabi Lone, Brother Ghulam Mustafa Hussain, Taha Ismail Qazi, Qaiser Rizvi, M. Qaisar Imam (Shahnaz)
باتیں تو اچھے انداز میں لگتی ہیں مگر حقائق کا تفصیلی علم ہماری نظروں میں تجزیہ کے لیے ضروری ہے۔
پہلی بات: باکستان کسی جنرل کے ہاتھون وجود میں نہیں آیا۔
دوسری بات: پاکستان بنتے ہی سازشوں کا شکار ہوگیا۔ پہلے کمانڈر ان چیف نے چیف اگزیکیتو کا حکم ماننے سے انکار کیا۔
تیسری بات: پاکستان ’دشمن‘ طاقتوں نے ہر طرح زور لگایا کہ پاکستان دستور طور پر وہ نہ رہے جس کے لیے اسے حاصل کیا گیا۔
چوتھی بات:  تمام تر دباؤ کے بعد(1949) کا قراردادِ مقاصد پاس کرنا پڑا یہ دوسری نہ چبائے جانے والی ہڈی تھی جو نظریاتی دشمنوں کو ہضم نہ ہوسکی اور فوج کے ساتھ مل کر اکھاڑے تیار ہونے لگے۔ غلام محمد بنیادی کردار ادا کرتے رہے۔  یہاں تک کہ اسکندر مرزا سریرآرائے اقتدار ہوئے اور کمانڈر ان چیف کو اپنا وزیر دفاع مقرر کیا۔
پانچویں بات:  دستور ساز اسمبلی بالآخر (1956) کا دستور بنانے میں کامیاب ہوگئی اور (1959) انتخاب کا سال مقرر ہوا۔
چھٹی بات:  اسکندر مرزا کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہ گیا کہ  خالقین پاکستان کے منظور کردہ  دستور سے جان چھڑایا جائے۔
ساتویں بات:    مارشل لاء لگا دیا گیا اور دستور کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ ملک کے نام سے ’اسلامی‘ کا لفظ نکال دی گیا۔ مگر اس سے فائدہ ان کے مقررکردہ وزیردفاع اور کمانڈر ان چیف محمد ایوب خاں نے اُٹھایا۔ اسکندرمرزا کو دیس نکالا دے کر خود سو فی صد اقتدار کے مالک بن گئے۔ اور ملک فتح کرنے کے سلسلہ میں تحفتاً فیلڈ مارشل بن گئے۔  اور کمال مہربانی سے قوم کو ایک دستور عطا فرمایا۔ لوہے کے چنے چبانا ان کے بس میں بھی نہ تھا اورپاکستان کو پھر اسلامی جمہوریہ قرار دینا پڑا اور بعض ایسی شقیں داخل کرنی پڑیں کہ ملک کو آگے واقعتاً اسلامی جمہوریہ بنانے کی صورت پیدا ہوگئی۔ ان کے اختیار کردہ دوسری صورتوں نے انھیں مجبور کیا کہ جمہوری رویہ اختیار کریں تو شراب میں ہردم غرق رہنے والا وقت کا کمانڈر ان چیف نے مجبور کیا تم چھٹی کرو اب ہماری باری ہے۔
آٹھویں بات:   اپنے شرابی اور زانی ہم نوالہ و ہم پیالہ طاقتور جنرلوں اور سویلین بھٹو سے مل کر پاکستان کو دو لخت کیا‘ مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان فوج کو بے وقعت کیا گیا (اور یہ سب سازش کا حصہ تھا)۔
نویں بات:    جاتے جاتے ہم نوالہ و ہم پیالہ جنرلوں کی مدد سے بھٹو صاحب کو تاریخ کا پہلا سویلین مارشل لا ایڈمنسڑیٹر بنا ڈالآ۔
دسوی بات:    ایوب صاحب نے ملک  میں نظر آنے والی چند ترقیاتی کاموں کو اپنے کھاتے میں ڈالآ۔ جبکہ یہ خاکے اور منصوبے سویلینز نے بنا ئے تھے جس میں پیش پیش جناب محمد علی‘ خالق دستو (1956) تھے۔ عمل درآمد کا موقع نہ دیا گیا۔ بلکہ کچھ مزید آگے جانے کے بجائے منصوبوں می کتربیونت کرکے کچھ نقصانات کی راہ بھی ہموار کردی گئی۔
گیارہویں بات:   مشرف صاحب نے جو کچھ کیا ان کے احوال تفصیل سے آنے لگے ہیں اس لیے فی الوقت ہم اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہ ضرور ہے کہ مشرف نے امریکی حکومت کے چنگل میں اس طرح ڈأل دیا ہے کہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں جانے اور کتنی جانیں قربان ہوں گی وقت اور سرمایہ برباد ہوگا۔
اگر ان باتوں پر بھی نظر رہے تو امید ہے تجزیہ میں سہولت ہوگی۔
یوسف ریاض 

 

Date: Thu, 5 Apr 2012 14:48:30 -0700
From: ibner...@yahoo.com
Subject: Re: {10662} ایک لیڈر کے عوامی خواب
To: bazme...@googlegroups.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages