wah wah
kya baat hai
bohat khoob
On 5/15/14, Rashid Ashraf <
zest...@gmail.com> wrote:
> *راشد اشرفکراچی سے "ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" دکن سے تعلق
> رکھنے والی پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر خاتون شاہانہ مریم کے ایم فل کا مقالہ ہے
> جو کتابی شکل میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوا ہے۔ اس تحقیقی تصنیف پر
> شاہانہ مریم کو بہار اردو اکیڈمی نے اردو تحقیق کے زمرے میں "حسن عسکری
> ایوارڈ" سے بھی نوازا ہے۔ مذکورہ مقالے کے نگران پروفیسر محمد انور الدین تھے۔
> ایجوکیشنل ہاؤس سے یہ کتاب جس کی قیمت 450 روہے ہے، حاصل کی جاسکتی ہے۔ رابطے
> کی تفصیلات یہ ہیں:EDUCATIONAL PUBLISHING HOUSE3108,Vakil Street, Kucha
> Pandit, Lal Kuan, Delhi-6 (INDIA) Ph : 23216162, 23214465, Fax :
> 0091-11-23211540 <0091-11-23211540>E-mail:
in...@ephbooks.com
> <
in...@ephbooks.com>,
ephd...@yahoo.com <
ephd...@yahoo.com>website:
>
www.ephbooks.com <
http://www.ephbooks.com> *
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
> *اس کے علاوہ انجمن بکڈپو۔اردو ہال۔حمایت نگر، حیدرآباد ہندوستان سے بھی حاصل
> کی جا سکتی ہے۔ شاہانہ مریم کی جانب سے راقم الحروف کو کتاب بھیج دی گئی ہے جو
> منزلیں اور مسافتیں طے کرتی کب کراچی پہنچے گی، یہ کہنا مشکل ہے البتہ راقم نے
> اس گراں قدر کام کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کی اجازت خاتون سے طلب کی جسے انہوں
> نے بخوشی دیا اور پی ڈی ایف فائل بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ہندوستان کی
> یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" کی فہرست اس طرح سے ہے: یونیوسٹیوں کی جانب سے
> اسناد کا اجراءیونیوسٹیوں میں تحقیقی موضوعاتعہد حاضر میں یونیوسٹیوں میں
> تحقیق کا معیار-صورت حال-تدارکتحقیقی مقالات کے اشاریے کی اہمیت فہرست مقالات
> یونیوسٹیزکتابیاتشاہانہ مریم نے یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کی زمرہ بندی
> کار سنہ ایوارڈواضح رہے کہ لاہور سے راقم کے کرم فرما ڈاکٹر رفیع
> الدین ہاشمی 2008 میں "جامعات میں اردو تحقیق" کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب مرتب
> کرچکے ہیں جس میں پاک و ہند کی جامعات سے ہونے والی تحقیقی کاموں کی مفصل
> تفصیل پیش کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب 249 صفحات مشتمل ہے اور بڑے سائز میں شائع
> کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے شائع ہوئی تھی اور
> اس انتہائی اہم اور گراں قدر کام کا وہی حشر ہوا تھا جو کسی سرکاری ادارے سے
> اشاعت کے بعد ہوتا ہے۔ نہ تو یہ کتاب کتب فروشوں کے پاس پہنچی تھی اور نہ ہی
> عام لوگوں تک اس کی رسائی ممکن ہوپائی تھی۔ جو لوگ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
> صاحب کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہ ایک فرشتہ صفت اور درویش صفت انسان ہیں،
> کھرے محقق ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے ہیں لہذا ڈاکٹر صاحب نے اس بات
> کی پرواہ نہ کی کہ مذکورہ کتاب پر تبصرے لکھوائے جائیں یا اس کی تشہیر کی
> جائے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری اداروں سے شائع کردہ کتابیں عموما ڈھیر کی
> صورت میں گوداموں میں پڑی رہتی ہیں اور ان کی نکاسی کا متعلقہ لوگوں کے پاس
> سرے سے کوئی پلان ہی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی کتاب میں مقالوں کی تفصیلات
> ان عنوانات کے تحت پیش کی گئی ہیں:مصنف مقالہ
> یونیورسٹی/سنہ نگران حوالہ "جامعات میں اردو تحقیق"
> میں ایم فل، پی ایچ ڈی، ڈی لٹ، ایم لٹ اور ڈی فل کے مقالوں کی تفصیل شامل ہے
> اس کے علاوہ زیر تحقیق مقالوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔*
>
> * جبکہ شاہانہ کی کتاب میں پی ایچ ڈی، ایم فل کی تفصیلات ہی درج کی گئی
> ہیں۔*
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
> * ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب 2008 تک کے تحقیقی کاموں کا احاطہ کرتی ہے
> جبکہ شاہانہ مریم نے اپنا مقالہ 2010 میں مکمل کیا تھا، اس لحاظ سے دونوں کے
> مابین دو برس کا فرق ہے۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستانی
> جامعات میں ہونے والے تحقیقی کاموں کی جو تفصیل جمع کی ہے وہ اپنی جگہ نہایت
> اہم ہے مگر شاہانہ مریم کے مقالے کا موضوع چونکہ خالصتا ہندوستانی جامعات تک
> ہی محدود تھا اس لیے امید کی جاتی ہے کہ اس میں اضافی تفصیلات بھی شامل کی گئی
> ہوں گی۔ راقم الحروف ڈاکتر رفیع الدین ہاشمی سے ان کی کتاب کی اسکیننگ اور
> اسے انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے سلسلے میں تحریری اجازت لے چکا ہے اور اب شاہانہ
> مریم کی جانب سے یہ اجازت اور پی ڈی ایف فائل موصول ہونے کے بعد دونوں کتابوں
> کو پیش کردیا جائے گا۔ پس نوشت:اب سے چند ساعت قبل شاہانہ کی جانب سے ایک برقی
> پیگام موصول ہوا جسے یہاں درج کررہا ہوں:اسلام علیکم. ..جی اس میں فہرستیں
> ہے.....انشاءاللہ اگلے اڈیشن میں اس کی خامیاں دور ہو جائے گی...یہ کتاب دراصل
> ایم فل کا مقالہ ہے...وقت کی ضرورت کو سمجهتے ہوئےمیںنےاسے یونی ترتیب دے
> دی....ابهی میں ایک نوعمر ریسرچ اسکالر ہوں...آپ سب کی طرح زہین ...نامور ادیب
> یا نقاد نہیں ہوں...میر ی کتاب میں خامیاں تو اپ کو بہت ملے گی..کیونکہ یہ
> میری پہلی کاوش ہے....جو بهی آپکو لکهنا ہے اس کتاب پر کهل کرتبصرہ کیجئے تاکہ
> آئندہ کتاب میں میں اپنی غلطی کو سدهار سکوں۔[image: Inline image 1]*
>
> --
> You received this message because you are subscribed to the Google Groups
> "بزمِ قلم" group.
> To post to this group, send email to
BAZMe...@googlegroups.com.
> Visit this group at
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
>