ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق- مقالہ

436 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
May 15, 2014, 4:14:18 AM5/15/14
to 5BAZMeQALAM

راشد اشرف
کراچی سے

"ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" دکن سے تعلق رکھنے والی پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر خاتون شاہانہ مریم کے ایم فل کا مقالہ ہے جو کتابی شکل میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوا ہے۔ اس تحقیقی تصنیف پر شاہانہ مریم کو بہار اردو اکیڈمی نے اردو تحقیق کے زمرے میں "حسن عسکری ایوارڈ" سے بھی نوازا ہے۔ مذکورہ مقالے کے نگران پروفیسر محمد انور الدین تھے۔

ایجوکیشنل ہاؤس سے یہ کتاب جس کی قیمت 450 روہے ہے، حاصل کی جاسکتی ہے۔ رابطے کی تفصیلات یہ ہیں:

EDUCATIONAL PUBLISHING HOUSE
3108,Vakil Street, Kucha Pandit, Lal Kuan, Delhi-6 (INDIA)
Ph : 23216162, 23214465, Fax : 0091-11-23211540
E-mail: in...@ephbooks.com,ephd...@yahoo.com
website: www.ephbooks.com


اس کے علاوہ انجمن بکڈپو۔اردو ہال۔حمایت نگر، حیدرآباد ہندوستان سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

شاہانہ مریم کی جانب سے راقم الحروف کو کتاب بھیج دی گئی ہے جو منزلیں اور مسافتیں طے کرتی کب کراچی پہنچے گی، یہ کہنا مشکل ہے البتہ راقم نے اس گراں قدر کام کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کی اجازت خاتون سے طلب کی جسے انہوں نے بخوشی دیا اور پی ڈی ایف فائل بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" کی فہرست اس طرح سے ہے:

یونیوسٹیوں کی جانب سے اسناد کا اجراء
یونیوسٹیوں میں تحقیقی موضوعات
عہد حاضر میں یونیوسٹیوں میں تحقیق کا معیار-صورت حال-تدارک
تحقیقی مقالات کے اشاریے کی اہمیت
فہرست مقالات یونیوسٹیز
کتابیات


شاہانہ مریم نے یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کی زمرہ بندی کی ہے انہوں نے جن زمروں کی نشاندہی کی ہیں ان میں شخصیات، تقابلی مطالعہ ، علاقائی ادب ، دکنیات، تحقیق، اشاریہ وکتابیات،قومی یکجہتی،تنقید، لسانیات، صحافت،تصوف،دبستان اور تحریکات،نسوانی کردار،،بچوں کا ادب نثری اصناف،لغت وفرہنگ سازی، سیرت قرآنیات،ابلاغیات میڈیا،ترتیب وتدوین وغیرہ شامل ہیں۔اور ان عنوانات کے تحت کونسی یونیورسٹی میں کیا کام ہورہا ہے۔اس سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ (بحوالہ:محمد عبدالعزیز سہیل)

مقدمے میں شاہانہ لکھتی ہیں:
زیر نظر کتاب کی تکمیل کے سلسلہ میں راقمتہ الحروف نے ہندوستان بھر کی اسّی (80) جامعات کے شعبہ اردو کے صدور صاحبان کو خط لکھے،فون پر بات چیت کی،شخصی ملاقاتیں کیں۔ الحمداللہ بہت سی یونیورسٹیوں سے مجھے تعاون حاصل ہوا۔میں ان تمام دانش گاہوں کے ذمہ داران کی بے حد ممنوں ومتشکر ہوں جنھوں نے اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود میرے تحقیقی کام میں بھر پور معاونت فرمائی۔"

شاہانہ نے اپنی کتاب میں کئی موقعوں پر نہایت اہم معلومات درج کی ہیں، مثال کے طور پر ایک جگہ لکھتی ہیں:
اس وقت ہندوستان کی سترّ (70) یونیورسٹیو ں میں تحقیقی کام ہور ہے ہیں،چھیانسی(86)یونیورسٹیوں میں شعبہء اردو(ایم۔اے)تک قائم ہے۔چودہ(14)یونیورسٹیوں میں ایم۔فل کا کورس شامل ہے۔میری تحقیق کے مطابق سترّ (70) یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے مقالات قلم بند ہورہے ہیں ، بارہ (12) یونیورسٹیوں میں تحقیقی مقالوں پر ڈی۔لٹ کی ڈگری دی جارہی ہے۔"

کتاب کے مطالعے سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ الہ آباد یونیورسٹی سے 1942 میں ڈاکٹر رفیق حسین کو اردو کی پہلی پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کی گئی تھی۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 1939 میں پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد صادق کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے چکی تھی مگر ان کا وہ مقالہ انگریزی میں تھا جو بعد ازاں 1976 میں اردو کے قالب میں ڈھلا اور زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ اسی طرح اردوتحقیق کا پہلا مقالہ سودا پر شیخ چاند نے عثمانیہ یونیورسٹی سے 1932ءمیں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی نگرانی میں مکمل کیا تھا۔ اور یہ مقالہ ایم۔اے کا ہے۔ پہلے ایم۔اے میں مقالہ لکھا جاتا تھا۔

یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات نامی باب میں تمام معلومات انتہائی قیمتی ہیں جن کا یہاں درج کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے کتاب ہی پر انحصار کرنا ہوگا۔

شاہانہ نے اپنی فہرست کو ان عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے:

سلسلہ نمبر            
محقق کا نام           موضوع               نگران کار           سنہ ایوارڈ

واضح رہے کہ لاہور سے راقم کے کرم فرما ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی 2008 میں "جامعات میں اردو تحقیق" کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب مرتب کرچکے ہیں جس میں پاک و ہند کی جامعات سے ہونے والی تحقیقی کاموں کی مفصل تفصیل پیش کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب 249 صفحات مشتمل ہے اور بڑے سائز میں شائع کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے شائع ہوئی تھی اور اس انتہائی اہم اور گراں قدر کام کا وہی حشر ہوا تھا جو کسی   سرکاری ادارے سے اشاعت کے بعد ہوتا ہے۔ نہ تو یہ کتاب کتب فروشوں کے پاس پہنچی تھی اور نہ ہی عام لوگوں تک اس کی رسائی ممکن ہوپائی تھی۔ جو لوگ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہ ایک فرشتہ صفت اور درویش صفت انسان ہیں، کھرے محقق ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے ہیں لہذا ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ مذکورہ کتاب پر تبصرے لکھوائے جائیں یا اس کی تشہیر کی جائے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری اداروں سے شائع کردہ کتابیں عموما ڈھیر کی صورت میں گوداموں میں پڑی رہتی ہیں اور ان کی نکاسی کا متعلقہ لوگوں کے پاس سرے سے کوئی پلان ہی نہیں ہوتا۔ 

ڈاکٹر ہاشمی کی کتاب میں مقالوں کی تفصیلات ان عنوانات کے تحت پیش کی گئی ہیں:

مصنف         
مقالہ             یونیورسٹی/سنہ                  نگران          حوالہ

"جامعات میں اردو تحقیق" میں ایم فل، پی ایچ ڈی، ڈی لٹ، ایم لٹ اور ڈی فل کے مقالوں کی تفصیل شامل ہے اس کے علاوہ  زیر تحقیق مقالوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
   جبکہ شاہانہ کی کتاب میں پی ایچ ڈی، ایم فل کی تفصیلات ہی درج کی گئی ہیں۔
  
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب 2008 تک کے تحقیقی کاموں کا احاطہ کرتی ہے جبکہ شاہانہ مریم نے اپنا مقالہ 2010 میں مکمل کیا تھا، اس لحاظ سے دونوں کے مابین دو برس کا فرق ہے۔

البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستانی جامعات میں ہونے والے تحقیقی کاموں کی جو تفصیل جمع کی ہے وہ اپنی جگہ نہایت اہم ہے مگر شاہانہ مریم کے مقالے کا موضوع چونکہ خالصتا ہندوستانی جامعات تک ہی محدود تھا اس لیے امید کی جاتی ہے کہ اس میں اضافی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہوں گی۔   

راقم الحروف ڈاکتر رفیع الدین ہاشمی سے ان کی کتاب کی اسکیننگ اور اسے انٹرنیٹ  پر پیش کرنے کے سلسلے میں تحریری اجازت لے چکا ہے اور اب شاہانہ مریم کی جانب سے یہ اجازت اور پی ڈی ایف فائل موصول ہونے کے بعد دونوں کتابوں کو پیش کردیا جائے گا۔

پس نوشت:

اب سے چند ساعت قبل شاہانہ کی جانب سے ایک برقی پیگام موصول ہوا جسے یہاں درج کررہا ہوں:

اسلام علیکم. ..
جی اس میں فہرستیں ہے.....انشاءاللہ اگلے اڈیشن میں اس کی خامیاں دور ہو جائے گی...
یہ کتاب دراصل ایم فل کا مقالہ ہے...وقت کی ضرورت کو سمجهتے ہوئےمیںنےاسے یونی ترتیب دے دی....
ابهی میں ایک نوعمر ریسرچ اسکالر ہوں...آپ سب کی طرح زہین ...نامور ادیب یا نقاد نہیں ہوں...
میر ی کتاب میں خامیاں تو اپ کو بہت ملے گی..کیونکہ یہ میری پہلی کاوش ہے....جو بهی آپکو لکهنا ہے اس کتاب پر کهل کرتبصرہ کیجئے تاکہ آئندہ کتاب میں میں اپنی غلطی کو سدهار سکوں۔

Inline image 1
shanaha maryam-title.jpg

Maqsood Hasni

unread,
May 15, 2014, 4:50:10 AM5/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com
wah wah
kya baat hai
bohat khoob

On 5/15/14, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:
> *راشد اشرفکراچی سے "ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" دکن سے تعلق
> رکھنے والی پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر خاتون شاہانہ مریم کے ایم فل کا مقالہ ہے
> جو کتابی شکل میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوا ہے۔ اس تحقیقی تصنیف پر
> شاہانہ مریم کو بہار اردو اکیڈمی نے اردو تحقیق کے زمرے میں "حسن عسکری
> ایوارڈ" سے بھی نوازا ہے۔ مذکورہ مقالے کے نگران پروفیسر محمد انور الدین تھے۔
> ایجوکیشنل ہاؤس سے یہ کتاب جس کی قیمت 450 روہے ہے، حاصل کی جاسکتی ہے۔ رابطے
> کی تفصیلات یہ ہیں:EDUCATIONAL PUBLISHING HOUSE3108,Vakil Street, Kucha
> Pandit, Lal Kuan, Delhi-6 (INDIA) Ph : 23216162, 23214465, Fax :
> 0091-11-23211540 <0091-11-23211540>E-mail: in...@ephbooks.com
> <in...@ephbooks.com>,ephd...@yahoo.com <ephd...@yahoo.com>website:
> www.ephbooks.com <http://www.ephbooks.com> *
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
> *اس کے علاوہ انجمن بکڈپو۔اردو ہال۔حمایت نگر، حیدرآباد ہندوستان سے بھی حاصل
> کی جا سکتی ہے۔ شاہانہ مریم کی جانب سے راقم الحروف کو کتاب بھیج دی گئی ہے جو
> منزلیں اور مسافتیں طے کرتی کب کراچی پہنچے گی، یہ کہنا مشکل ہے البتہ راقم نے
> اس گراں قدر کام کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کی اجازت خاتون سے طلب کی جسے انہوں
> نے بخوشی دیا اور پی ڈی ایف فائل بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ہندوستان کی
> یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق" کی فہرست اس طرح سے ہے: یونیوسٹیوں کی جانب سے
> اسناد کا اجراءیونیوسٹیوں میں تحقیقی موضوعاتعہد حاضر میں یونیوسٹیوں میں
> تحقیق کا معیار-صورت حال-تدارکتحقیقی مقالات کے اشاریے کی اہمیت فہرست مقالات
> یونیوسٹیزکتابیاتشاہانہ مریم نے یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کی زمرہ بندی
> کار سنہ ایوارڈواضح رہے کہ لاہور سے راقم کے کرم فرما ڈاکٹر رفیع
> الدین ہاشمی 2008 میں "جامعات میں اردو تحقیق" کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب مرتب
> کرچکے ہیں جس میں پاک و ہند کی جامعات سے ہونے والی تحقیقی کاموں کی مفصل
> تفصیل پیش کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب 249 صفحات مشتمل ہے اور بڑے سائز میں شائع
> کی گئی تھی۔ مذکورہ کتاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے شائع ہوئی تھی اور
> اس انتہائی اہم اور گراں قدر کام کا وہی حشر ہوا تھا جو کسی سرکاری ادارے سے
> اشاعت کے بعد ہوتا ہے۔ نہ تو یہ کتاب کتب فروشوں کے پاس پہنچی تھی اور نہ ہی
> عام لوگوں تک اس کی رسائی ممکن ہوپائی تھی۔ جو لوگ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
> صاحب کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہ ایک فرشتہ صفت اور درویش صفت انسان ہیں،
> کھرے محقق ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے ہیں لہذا ڈاکٹر صاحب نے اس بات
> کی پرواہ نہ کی کہ مذکورہ کتاب پر تبصرے لکھوائے جائیں یا اس کی تشہیر کی
> جائے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری اداروں سے شائع کردہ کتابیں عموما ڈھیر کی
> صورت میں گوداموں میں پڑی رہتی ہیں اور ان کی نکاسی کا متعلقہ لوگوں کے پاس
> سرے سے کوئی پلان ہی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی کتاب میں مقالوں کی تفصیلات
> ان عنوانات کے تحت پیش کی گئی ہیں:مصنف مقالہ
> یونیورسٹی/سنہ نگران حوالہ "جامعات میں اردو تحقیق"
> میں ایم فل، پی ایچ ڈی، ڈی لٹ، ایم لٹ اور ڈی فل کے مقالوں کی تفصیل شامل ہے
> اس کے علاوہ زیر تحقیق مقالوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔*
>
> * جبکہ شاہانہ کی کتاب میں پی ایچ ڈی، ایم فل کی تفصیلات ہی درج کی گئی
> ہیں۔*
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
>
> * ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب 2008 تک کے تحقیقی کاموں کا احاطہ کرتی ہے
> جبکہ شاہانہ مریم نے اپنا مقالہ 2010 میں مکمل کیا تھا، اس لحاظ سے دونوں کے
> مابین دو برس کا فرق ہے۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستانی
> جامعات میں ہونے والے تحقیقی کاموں کی جو تفصیل جمع کی ہے وہ اپنی جگہ نہایت
> اہم ہے مگر شاہانہ مریم کے مقالے کا موضوع چونکہ خالصتا ہندوستانی جامعات تک
> ہی محدود تھا اس لیے امید کی جاتی ہے کہ اس میں اضافی تفصیلات بھی شامل کی گئی
> ہوں گی۔ راقم الحروف ڈاکتر رفیع الدین ہاشمی سے ان کی کتاب کی اسکیننگ اور
> اسے انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے سلسلے میں تحریری اجازت لے چکا ہے اور اب شاہانہ
> مریم کی جانب سے یہ اجازت اور پی ڈی ایف فائل موصول ہونے کے بعد دونوں کتابوں
> کو پیش کردیا جائے گا۔ پس نوشت:اب سے چند ساعت قبل شاہانہ کی جانب سے ایک برقی
> پیگام موصول ہوا جسے یہاں درج کررہا ہوں:اسلام علیکم. ..جی اس میں فہرستیں
> ہے.....انشاءاللہ اگلے اڈیشن میں اس کی خامیاں دور ہو جائے گی...یہ کتاب دراصل
> ایم فل کا مقالہ ہے...وقت کی ضرورت کو سمجهتے ہوئےمیںنےاسے یونی ترتیب دے
> دی....ابهی میں ایک نوعمر ریسرچ اسکالر ہوں...آپ سب کی طرح زہین ...نامور ادیب
> یا نقاد نہیں ہوں...میر ی کتاب میں خامیاں تو اپ کو بہت ملے گی..کیونکہ یہ
> میری پہلی کاوش ہے....جو بهی آپکو لکهنا ہے اس کتاب پر کهل کرتبصرہ کیجئے تاکہ
> آئندہ کتاب میں میں اپنی غلطی کو سدهار سکوں۔[image: Inline image 1]*
>
> --
> You received this message because you are subscribed to the Google Groups
> "بزمِ قلم" group.
> To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
> Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
>

Khadim Ali Hashmi

unread,
May 15, 2014, 8:36:34 AM5/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com
عزیزِمحترم راشد اشرف صاحب
سلام مسنون۔ ہر دو کتابیں دلچسپی کا موجب ہوں گی۔ جب آپ انہیں پیش کریں تو پروفیسر معین الدین عقیل صاحب کا جامعات میں تحقیق کے بارے میں چشم کشا مقالہ بھی شامل کر دیں۔ اس سے بعض قارئین کو ان کتابوں پر تبصرہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
خیراندیش
خادم علی ہاشمی 

Rashid Ashraf

unread,
May 16, 2014, 2:43:47 AM5/16/14
to 5BAZMeQALAM, Khadim Hashmi
گزشتہ برس اسے بزم پر پیش کرچکا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کی پی ڈی ایف بھیج دی تھی

راشد

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages