adabi safha

88 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Mar 26, 2018, 10:32:32 AM3/26/18
to
اتوار۲۵مارچ۲۰۱۸
ممبئی اُردو نیوز کا تازہ ادبی صفحہ
مطلع
’’تم شاعری کیوں کرنا چاہتے ہو ؟اگر کوئی جوان مجھے اس سوال کا جواب یوں دے کہ مَیں کچھاہم باتیں کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ تو وہ شاعر نہیں ہے، اس کے بر عکس اگر وہ یہ کہے کہ مَیں جاننا چاہتا ہوں کہ میرے گردو پیش جو الفاظ ہیں
وہ کیا بول رہے ہیں۔۔۔ تب ممکن ہے کہ وہ شاعر بننے والا ہو۔‘‘٭عاصی کرنالی
خوشبو
ادب تو کرتے ہیں چھوٹے مگر غرور کے ساتھ
بزرگ خوف زدہ ہو کے پیار دیتے ہیں
٭مظفر وارثی
انٹرویو
اُردو کے ممتاز نقاد، شاعر اور اورؔاق کے مدیر
وزیر آغا (مرحوم)کا ایک یادگار انٹرویو
:
’’گہری بات کرنے والے اپنے زمانے میں کم ہی مقبول ہوتے ہیں‘‘
تحریک دو طرح کی ہوتی ہے ، ایک وہ جس کیلئے پہلے سے پروگرام بنتا ہے ، انجمنیں اور حلقے بنائے جاتے ہیں اور نظریاتی ، یا سیاسی تحریکوں کیلئے تو ممبر شپ کا پورا نظام بھی وضع ہو تا ہے ۔ ایسی تحریک کے واضح مقاصد ہو تے ہیں ، جن کیلئے اس کے کارکُن زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ دوسری تحریک خود رَو پودے کی طرح زمین سے اُگتی ہے اور فطرت کی آغوش میں پروان چڑھتی ہے ۔ دُنیا والوں کو اس کی آمد کی خبر اس وقت ملتی ہے ، جب اس کی شاخوں پر پھول کھِلتے ہیں اور پھولوں کی خوشبو دور دور تک پہنچتی ہے ۔ اس سارے عمل کو آپ ایک ایسا رویہ بھی قرار دے سکتے ہیں، جو غیر شعوری سطح پرپروان چڑھتا ہے اورمیم (Meme) کی سی ثقافتی قوت کا مالک ہونے کے باعث چہار اکناف میںپھیلنے لگتا ہے ، جیسے فیشن پھیلتے ہیں ، ادبی تحریک اس وضع کی ہوتی ہے، وہ رویے کی صورت میں جنم لیتی ہے لیکن مآلِ کار ایک ایسی تحریک میں ڈھل جاتی ہے ، جو بغیر کسی تگ ودو کے دِلوں پر راج کرنے لگتی ہے جدیدیت ایسی ہی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے ۔
اُردو کے مشہور اور دور جدید کے اہم تر نقاد ، شاعر و ادیب وزیر آغا نے اس سوال کے جواب میں یہ باتیں کیں کہ جدیدت تحریک ہے یا رویہ ؟ وزیر آغا بہ اصرار کہتے ہیں کہ یہ(جدیدت ) ایک رویے کی صورت میں سامنے آئی لیکن بالآخر ایک زبر دست ادبی تحریک بن کر ادب کے منظر نامے پر چھا گئی ،لہٰذا اَب اسے رویہ کہنا مناسب نہیں ، یہ اب تحریک کا درجہ رکھتی ہے ۔
گزشتہ صدی میں فکری تحریکوں کا بڑا زور رہا ہے ، مگر اس صدی ’’میں اب تک کوئی بڑی فکر ی یا ادبی تحریک سامنے نہیں آئی‘‘ اس سوال پر ۱۸ ؍مئی ۱۹۲۲ء کو سرگودھا( پنجاب) میں پیدا ہو نے والے ڈاکٹر وزیر آغا جنہوں نے معاشیات میں ایم اے کیا تھا اب جدید اردو ادب کے اوّل اوّل نقادوں میں شمار کیے جاتے ہیں، کہتے ہیںکہ وجہ صرف یہ ہے کہ ابھی تو اِکیسویں صدی کوشروع ہوئے صرف چار پانچ برس کی ہی مدت گزری ہے ۔ ابھی اس صدی کو مزید ۹۵؍ سنگ ہائے میل عبورکر نے ہیں، لہٰذا آگے چل کر یقیناً کئی فکری ادبی تحریکیں وجود میں آئیں گی تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ جو تحریکیں بیسویں صدی کے ربع آخر میں نمودار ہوئی تھیں، اِکیسویںصدی کے خمس ِ اوّل میں ان کی توسیع ہوگی اور پھر اِن سے بھی تحریکیں پھوٹیں گی۔ چراغ سے چراغ جلنے کا عمل ازلی و ابدی ہے۔
وزیر آغا اُردو ادب میںجتنے مشہور اورجتنے مقبول ہیں اُن کا جریدہ ’’ اوراق‘‘ بھی اُسی شہرت کا حامل ہے ۔ اس جریدے نے انشائیے کو مقبول عام کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ’اوراق ‘ کے مدیر کہتے ہیں کہ ہم نے انشائیے کی پہچان کے معاملے میں بھی خاصی تگ دو کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آج اگر نوجوان انشائیہ نگاروں کی پور ی ایک کھیپ سامنے آگئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صنف کی پہچان بنانے میں ’’ اوراق‘‘ نے بطور خاص اہتمام کیا اور انشائیہ نگاروںکے حوالے سے نوجوانوں کو تربیتی مراحل سے گزارا ، اور اب اس صنف کے امکانات کافی روشن ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں رنگ وبوؔ اور گُلبُن ؔپاکستان میں اوراقؔ کے علاوہ ارتکاز ، حریم ادب، پارسا ، کا غذی پیراہن جیسے جرائد نے بھی انشائیہ فہمی نیز اس کے فروغ کیلئے خاصا کام کیا ہے اور کرر ہے ہیں ۔
ہند وستان میں جدید یت کا بانی اور اُسے فروغ دینے والا اُردو کا ایک اہم جریدہ’’شب خون ‘‘ کی اشاعت گزشتہ دنوں بند کر دی گئی جو بہر حال ایک سانحہ ہے اِس حوالے سے جب وزیر آغا سے پوچھا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ میں اسے شمس الرحمٰن فاروقی کی دانشمندی قرار دیتا ہوں کہ انہوں نے ’’ شب خون ‘‘ کو ایک ایسے وقت میں بند کرنے کا اعلان کیا ، جب وہ اپنی شہرت اور مقبولیت کی بلندی پر تھا ۔ بھرے میلے سے رُخصت ہونا اسی کو کہتے ہیں اکثر مقتدر رسائل آہستہ آہستہ سِسک سِسک کر جاں بحق ہو تے ہیں، بالخصوص رِسالے کے مالک و مدیر کے رُخصت ہوجانے کے بعد ان کا انجام دیدنی ہوتا ہے ، لہٰذا میرا خیال ہے کہ فاروقی صاحب نے ’’ شب خون ‘‘ کے سلسلہ ٔ اشاعت کو قطع کرنے جو فیصلہ کیا ہے وہ ہر اعتبار سے درست ہے۔
’’گزشتہ دو سو برس کا ہمارا فکری تجربہ بس یوروپ سے گزر جا نے سِوا کیا ہے؟‘‘ نرمل ورما کے اِس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر آغا کہتے ہیں کہ نرمل ورما کی یہ بات جس کا مطلب صاف ہے کہ ہم نے گزشتہ دو سو برس کے دوران فکر ی سطح پر فقط مغرب کی تقلید کی ہے ، ایک سطح پر تو درست ہے، کیونکہ برصغیر نے مغربی علوم سے ( اور اس سے بھی زیادہ مغربی تہذیب سے ) بڑے پیمانے پر استفادہ کیا ہے۔
سرسیّد احمد خاں کے زمانے سے لے کر( جب پیرویٔ مغرب کی تحریک کو فروغ ملا تھا ) اکیسویں صدی کے آخر تک ، مغرب سے استفادہ کرنے کی روش بتدریج بڑھتی چلی گئی ہے مگر زیر ِسطح دیکھا جائے تو بر ِصغیر نے یہ سب کچھ آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا ،اس نے مشرقی دانش کو اس میں آمیز کرکے ایک امتزاجی صورت کو بھی جنم دیا ہے ،جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کی اہم ترین مثال علامہ اقبال کے لیکچرز میں ملتی ہے ، جہاں مغربی فکر کو کلیتاً قبول کر نے کے بجائے اسے مشرق کے برتر عِلم کی روشنی میں از سر نو مُرتّب کرنے کی کاوِش کی گئی ہے ۔ یوں امتزاج کی وہ صورت پیدا ہوئی ہے جس میں مشرق اور مغرب باہم آمیز ہوئے ہیں اور حقیقت کو دیکھنے کو اور پرکھنے کا وہ زاویہ اُبھرا ہے ، جو مغرب کے عام روّیے سے مختلف ہے، ویسے انسانی فکر کی تاریخ پر غور کریں ،تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ مختلف خطّوں کے فکری دھارے بار بار ایک دوسرے سے ملتے اور منقلب ہوتے رہے ہیں ۔ یونانی مشرقی اثرات سے کون واقف نہیں ، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں یونانی افکار کو پناہ ملی اور پھر مسلمان فلسفیوں کی مساعی سے ، یہ افکار یوروپ پہنچے اور نشاۃالثانیہ کا باعث بنے ۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ دُنیا ایک گلوبل وِیلج بن گئی ہے اور پوری دُنیا کے فکری دھارے آپس میں ملنے لگے ہیں ۔
لہٰذا یورپی اثرات پہنچ رہے ہیں ، تو یہاں کے فکری دھارے بھی مغربی ممالک میں پھیل رہے ہیں ۔ یہ روِش اسی طرح جاری رہی تو وہ دن دوُر نہیں جب پوری دُنیا کا ایک ایسا فکری نظام سامنے آجائے گا ، جو امتزاجی ہوگا، تاہم وہ محض مختلف فکری دھاروں کا حاصل جمع نہیں ہوگا ، امتزاج اور انجذاب کے باعث اس کا اپنا منفرد روپ بھی اُبھرآئے گا!
وزیر آغا اردوتنقید کے شعبے میں سکۂ رائج الوقت کے طور پر شہرت رکھتے ہیں مگرسلطنت شاعری میں بھی ان کی وزارت کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنی پہچان کو کس حوالے سے اہمیت دیتے ہیں تو اُنہوں نے کہا : میرے معاملے میں شاعری ، تنقید اور انشائیہ نگاری نے ایک تثلیث بنائی ہے ۔
یہ تینوں باہم مربوط ہیں ، لہٰذا میری پہچان کے حوالے سے ان تینوں کی کارکردگی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ یہ زاویہ ٔ نگاہ تو اہلِ نظر کیلئے مناسب ہے ۔ رہا میری ترجیح کا مسئلہ تو میں نے اپنی تخلیقی کار کردگی کا آغاز بھی شاعری ہی سے کیا ہے اور اب اس کا انجام بھی شاعری ہی پر ہوتا نظر آنے لگا ہے ۔ گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران میں نے تنقیدی مضامین اور انشائیے بہت کم لکھے ہیں ، تاہم اس عرصے میں میری نظموں کے ۶؍ مجموعے شائع ہوئے ہیں ۔ میں نے خود ان مجموعوں کی بہت سی نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور یوں یہ نظمیں دُنیا کی متعدد زبانوں میں منتقل ہوئی ہیں ، لہٰذا میں شاعری، بالخصوص نظم نگاری کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔
وزیر آغا ،ادب سے اپنی رغبت کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بنیادی محرک تو داخلیت پسندی تھی جس کے آثار میری ابتدائی زندگی ہی میں نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ میں اپنے ہم جماعت طلبا سے الگ الگ سا رہتا ، فطرت سے گہرا لگاؤ تھا ، مجھے پرندے ، درخت اور بادل بہت اچھے لگتے تھے ، میرے ایک استاد ،جو شاعر تھے، سیّد عباس حسین زیدی ، ان کے ہاں ادبی رسائل بھی آتے تھے ، انہوں نے مجھے ادب کے مطالعے کی طرف راغب کیا ، ساتھ ساتھ ادب سے لطف اندوز ہونے کی تربیت بھی دی۔
میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تب میرے ہاںانگریزی ادب سے دلچسپی بڑھی ، یہاں ایک انگریز استاد تھے ، جو ہمیں انگریزی ادب پڑھاتے تھے اور ایسے جذب کے عالم میں پڑھاتے تھے کہ مجھے بہت سی انگریزی نظمیں حفظ ہوگئیں اور پھر میں نے بھی نظمیں لکھنا شروع کردیں مگر نہ تو محفلوں میں سنائیں اور نہ ہی اشاعت کیلئے بھیجیں ۔بعد ازاں میں نے وہ نظمیں ضائع کردیں ۔ جب میں کالج سے فارغ ہواتو اُردو ادب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اُن دنوں ’’حلقہ ارباب ذوق ‘‘ لاہور کی جانب سے سال کی بہترین نظموں کا انتخاب شائع ہوتا تھا ، اس انتخاب کے مطالعے نے مجھے اُردو نظم کا گرویدہ بنا دیا ۔ اسی زمانے میں مولانا صلاح الدین احمد سے ملاقات ہوئی ، تو پورے ادب کے در وازے کھل گئے اور میں ادب کے جادو کا اس طور اسیر ہوا کہ آج تک اس سحر سے باہر نہ آسکا ۔
وزیر آغا آزاد نظم کےتعلق سے کہتے ہیں کہ ابتدا میں جب آزاد نظم کا چرچا ہوا تو اس پر کئی جانب سے حملے ہوئے اور اسے شاعری تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ، مگر جیسے جیسے وقت گزرا ، آزاد نظم نے اپنے لئے جگہ بنانا شروع کردی اور اب تو یہ حال ہے کہ پابند نظم نگاری ، پس ِپشت جا پڑی ہے اور آزاد نظم نے میدان جیت لیا ہے ۔
آزاد نظم کے حوالے سے میرا جی ، ن۔ م۔ راشد ، فیض ، مجید امجد اور ان کے بعد شعرا کی ایک پوری کھیپ نے آزاد نظم کو پروان چڑھایا اور اس کی ڈکشن کے تقاضوں کے عین مطابق اسے رواج دیا ۔ وزیر آغا یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی بھی تعداد کم نہیں، جنہیں آزاد نظم کا صحیح شعور حاصل نہیں ہوسکا ۔ ان لوگوں نے غزل کی امیجری ، تراکیب اور اس کے موضوعات کو آزاد نظم میں داخل کرکے اسے نقصان پہنچایا ہے ۔ ایسے شعرا بھی بڑی تعداد میں ہیں جو آزاد نظم کے ذریعے نیم پختہ اذہان کے لئے رومانی ، نیم رومانی اور پامال موضوعات تھوک کے حساب سے مہیا کر رہے ہیں ، ایسا کرنے سے انھیں سستی شہرت تو مل گئی ہے لیکن وہ آزاد نظم کے زندہ رہنے والے نمونے تخلیق کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں ۔
وزیرآغا مشورہ دیتے ہیں کہ ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو آزاد نظم کے مقتضیات سے آگاہ کیا جائے اور اسے اچھی آزادنظم کہنے کی تربیت دی جائے۔
اسی دوران گفتگو شاعری اور شہرت کے حوالے سے انہوں نے ایک بڑی بات آہستہ سے کہی کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ شاعر کی بڑائی آ ہستہ آہستہ اذہان پر منکشف ہوتی ہے ، اس لئے گہری بات کرنے والے شعرا اپنے زمانے میں کم ہی مقبول ہوتے ہیں اور دوسری طرف اپنے زمانے میں بڑے شاعر قرار پانے والے شعرا رُخصت ہونے کے بعد جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں ۔ وزیر آغا اپنی اس بات کو یوں مدلل کرتے ہیں کہ اردو نظم کے حوالے سے اسرار الحق مجاز اور اختر شیرانی اس سانحے کی نمایاں مثال ہیں۔ ٭
تازہ رسائل و جرائد کاتعارف و تذکرہ
اُردو بک ریویو (دہلی) کا تازہ شمارہ اپنے روایتی مشمولات کے ساتھ بازار میں آ گیا ہے ۔ جسکے کالم ’’کتابِ زندگی‘‘ میں اس بار ڈاکٹر قطب سرشار( محبوب نگر)، ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں(رامپور)، بی ایس جین جوہر (میرٹھ)، ڈاکٹر ق م سلیم(حیدرآباد) اور سید غلام مہدی اعظمی(ممبئی) جیسے ممتاز اہلِ علم حضرات کے اِجمالی اِنٹرویوز شامل ہیں۔ جزائر انڈمان ونکوبار: ماضی و حال، لداخ کی تاریخ کے اہم گوشے، فکر انقلاب،سیرت شبلی،غالب اور راجستھان،ادبی صحافت: جنگ آزادی اور قومی یکجہتی، کلیات نشور واحدی کے ساتھ کئی اہم کتابوں پر بھی تفصیلی اور اِجمالی تبصرے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔اس کا وفیات کا کالم ہماری آنکھیں نم کرتا ہے ۔ ’’ ہندوستانی سیاست کا فریب اور عوام: ایک لمحۂ فکر‘‘ کے زیر ِعنوان مدیر محترم نے ملکی حالات پر غور طلب گفتگو کی ہے۔ رابطہ:9953630 788
شاعر (ممبئی)کی نئی اشاعت اُردو کے مدرس اورشاعر خان حسنین عاقب کے گوشے سے عبارت ہے جس میں موصوف کاایک طویل انٹرویو ان کے افکارِ حسنہ کے پیش وعقب کو واضح کر رہا ہے۔ جبکہ اسلم مرزا،کوثر صدیقی،ظفر گورکھپوری، وغیرہ نے فنِ عاقب پر روشنی ڈالی ہے۔ اسی کے ساتھ شاعر کے اس شمارے میں علامہ اقبال اور عصری اُردو شاعری مذاکرے کی چوتھی قسط بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ جس میں تارا چند رستوگی،سری نواس لاہوٹی، سید حامد حسین، عمیق حنفی، وامق جونپوری جیسے ممتاز اہل ادب کی تحریریں اس حصے کی رونق بنی ہوئی ہیں۔ جبکہ شاعر کے دیگر مشمولات بھی حسب سابق معیار کے حامل ہیں جن میں وحید اشرف، احمد وصی ویریندر پٹواری، انور سلیم اور عبد السلام کوثر جیسے مشہور قلمکاروں کی تخلیقات نمایاں ہیں۔ رابطہ:9324515157
شگوفہ(حیدرآباد) کا موصولہ شمارہ حیدر آباد کے ممتاز شخص اور معروف آرکیٹکٹ عبد الرحمان سلیم کے گوشے کا حامل ہے۔ آرکیٹکٹ عبد الرحمان سلیم اپنے اخلاق اور اخلاص کے روشن پہلو کے ساتھ ہمارے ذہن میں بھی موجود ہیں ،ان سے سعودی عرب ریاض میں ذاتی ملاقاتیں رہی ہیں وہ ایک اچھے انسان تو ہیں ہی مگر ان کی تحریر ’’برقع: صنف نازک کی پہچان‘‘ پڑھ کر خوشی ہوئی جس میں وہ ایک سلیقے کے قلم کار بھی ثابت ہورہے ہیں ، وہ نیک طینت اورشریف النفس تشخص رکھتے ہیں ان کی قلمکاری بھی ان کے تشخص میں ایک توازن پیدا کرتی محسوس ہوئی۔ میر فراست علی خسرو نے اپنی نظم میں صاحب ِسلیم کے اوصافِ حمیدہ کو خوب خوب موضوع بنایا ہے جبکہ کے این واصف نے موصوف کے خا کے کی عمارت کھڑی کی ہے جس کے روشندان اور بام و دَ حسن تعمیر کی ایک مثال ہیں۔ شگوفہ کی دیگر چیزیں اس کے سابقہ معیار کی کڑیوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔ رابطہ:9885202364
پرواز(لندن) کا نیا شمارہ مولانا محمد علی جوہر کے گوشے کیساتھ منظر عام پر آیا ہے جس میں مولانا شوکت علی،ڈاکٹر معین الدین عقیل، ملا واحدی، ثنا ٔالحق صدیقی،محمد ایوب قادری، محمد عبد اللہ قریشی، نورالصباح بیگم، ثریا خورشید نے نہ صرف مولانا جوہر کی شخصیت اور اُن کی شاعری پر بلکہ بی اماں اور بیگم جوہر پر بھی گفتگو کی ہے۔ جبکہ مولاناجوہر کا کلام بھی اس گوشے کی رونق ہے۔
رابطہ
:maera...@gmail.com
انشا(کولکاتا) کی نئی اشاعت اپنی روایتی محاسن سے بھر پور ہے۔ جس کے لکھنے والوں میں مخدوم اطہر، احمد سعید ملیح آبادی، شیخ بشیر احمد ، شمس الہدیٰ انصاری، جاوید نہال حشمی، رونق جمال، سیفی سرونجی، شکیل افروز ، ڈاکٹر آفاق فاخری اور قاضی مشتاق احمد جیسےممتاز اشخاص شامل ہیں۔ انشا کا اداریہ اس بار ایک دل چسپ موضوع پر لکھا گیا ہے جس کا عنوان’’ قہقہہ پارلیمنٹ میں‘‘ ہے۔۔۔ ایسی تحریریں ہمارے ادبی پرچوں میں شاذو نادر ہی ملتی ہیں۔ رابطہ:9830483810
کاروان ادب(بھوپال) جاوید یزدانی اور محمود ملک کی ادارت میں شائع ہونے والا ایک سہ ماہی جریدہ ہے جس کے مشمولات اعلیٰ درجے کے اور لکھنے والوں میں ممتاز نام شامل ہیں جن میں ڈاکٹر نریش، شارق عدیل، کوثر صدیقی ،کمار پاشی،ڈاکٹر محمود شیخ،حمید سہروردی، طارق قمر ،اسلم چشتی جیسے مشہور اشخاص ہیں۔ حال ہیں میں رِحلت کر جانے والے ممتاز شاعر شاہد میر کا ایک انٹرویو بھی ’کاروان ادب‘ کو موقر کر رہا ہے ۔رابطہ:9300497627
ایوان غزل
گھر گھر تھے طاق طاق صحیفے پڑے ہوئے
پھر کیا ہُوا کہ شہر تھے اوندھے پڑے ہُوئے
کاندھے پہ ہیں سفر کی دُعائیں رکھی ہوئیں
تھیلے میں ہیں جُدائی کے قصے پڑے ہوئے
ہر یاد اپنا حصہ الگ مانگنے لگی
دل میں ہیں جائداد کے جھگڑے پڑے ہوئے
اولاد میری سات سمندر کے اُس طرف
اجداد میرے خاک کے نیچے پڑے ہوئے
چلّہ ہے اور چاند کی تاریخ کا حساب
قبروں کے گرد ورد وظیفے پڑے ہُوئے
اے رنج روزگار! کڑکتی تری دوپہر
دالان سارے عشق کے سُونے پڑے ہوئے
ساون میں آنسوئوں کا ہے ٹپکا لگا ہوا
باغوں میں حسرتوں کے ہیں جھولے پڑے ہوئے
گدڑی میں ہیں لگے ہوئے پیوند خاک کے
کشکول میں ہیں صبر کے سکّے پڑے ہوئے
تقویم‘ کھانستی ہوئی‘ لیٹی ہے کھاٹ پر
کونے میں سال اور مہینے پڑے ہوئے
قالین خشُک گھاس کا مٹّی کے فرش پر
باہر وضو کی ناند پہ کُوزے پڑے ہوئے
٭ اظہار الحق
میں ڈر رہا ہوں نجومی کے پاس جاتے ہوئے
وہ رو پڑے نہ مِرا زائچہ بناتے ہوئے
میں اس لیے بھی بہت چیختا ،کراہتا ہوں
کہ تھک نہ جائے کوئی مجھ پہ ظُلم ڈھاتے ہوئے
زمانہ یاد دِلاتا ہے مجھ کو میرا نام
یہاں تک آ گئی نوبت تجھے بھلاتے ہوئے
بتا اے دربدری لفظ ہیں کہ اینٹیں ہیں
مکاں بنا لیا میں نے غزل بناتے ہوئے
اسی لیے تو مِرے گھر میں روشنی نہ ہوئی
ہَوا سے پوچھتا تھا مَیں دِیا جلاتے ہوئے
عطا ہے جس کی وہی مجھ میں بولتا ہے میاں!
سو مَیں بھی مَیں نہیں ہوتا غزل سناتے ہوئے
یہ مَیں جو تم کو فلک پر دکھائی دیتا ہوں
یہ پر لگے ہیں کسی اور کو اُڑاتے ہوئے
گلی کے موڑ کا میں بُوڑھا پیڑ ہوں‘ تابشؔ
نظر میں رکھتا ہوں سب، لوگ آتے جاتے ہوئے
٭ عباس تابش

--
NadeemSiddiqui

Nadeem Siddiqui

unread,
Mar 31, 2018, 1:54:20 PM3/31/18
to

اتواریکم اپریل ۲۰۱۸

 ممبئی اُردو نیوز کا تازہ ادبی صفحہ
مطلع
مصحفیؔ  کےشوق کا یہ حال تھا کہ لکھنؤ میں ایک شخص کے پاس کلیاتِ نظیری تھا۔ اُس زمانے میں کتاب کی قدر بہت تھی ۔ مالک اس کابسبب ِنایابی کے کسی کو عاریۃََ بھی نہ دیتا تھا۔ ان سے اتنی بات پر راضی ہوا کہ خود آکر ایک جزلے جایا کرو۔ وہ دیکھ لو تو واپس کر کے اور لے جایا کرو اُن کا گھر شہر کے اس کنارہ پر تھا اور وہ اس کنارے پر ،چنانچہ معمول تھا کہ ایک دن درمیان وہاں جاتے اور
 جز بدل کر لے آتے ۔ ایک دفعہ جب وہاں سے لاتے تو پڑھتے آتے ۔
 گھر پر آکر نقل یا خلاصہ کرتے اور جاتے ہوئے پھر پڑھتے جاتے ۔ ہم لوگوں کے حال پر افسوس ہے کہ آج چھاپے(پریس) کی بدولت وہ وہ کتابیں دُکانوں میں پڑی ہیں جو ایک زمانے میں دیکھنے کو نصیب نہ ہوتی تھیں۔ مگر بے پروائی ہمیں آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھنے دیتی ۔ تعجب ہے ان لوگوں سے جو شکایت کرتے ہیں کہ پہلے بزرگوں کی طرح اب لوگ صاحبِ کمال نہیں ہوتے۔ پہلے جو لوگ کتاب دیکھتے تھے تو اس کے مضمون کو اس طرح دل و دماغ میں بسا لیتے تھے جس سے اسکے اثر دلوں میں نقش ہوتے تھے۔ آجکل کے لوگ پڑھتے بھی ہیں تو اس طرح صفحوں سے عبور کرجاتے ہیں گویا بکریاں ہیں کہ باغ میں گھس گئی ہیں ۔ جہاں منہ پڑ گیاایک بکٹا بھی بھر لیا، باقی کچھ خبر نہیں ہَوَس کا چروانا ان کی گردان پر سوار ہے۔ وہ دَبائے لئے جاتا ہے۔ یعنی امتحان پاس کرکے ایک سند لو اور کوئی نوکری لے کر بیٹھ رہو اور افسوس یہ ہے کہ نوکری بھی نصیب نہیں ۔
 ٭محمد حسین آزاد
 خوشبو
اک غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اِک نمی سی،مِری دیوار میں آ جاتی ہے
٭خرم مشتاق
انشائیہ
’’ادب میں آجکل وبائیں بہت عام  ہیں‘‘
محمد بشیر مالیرکوٹلوی(مالیرکوٹلہ،پنجاب)
کسی چیز کی پرکھ کرنا اورپھر فیصلہ دینا بہت ہی مشکل اورذمہ داری کاکام ہے مثال کے طور پرآپ ایک سنار ہیں آپ کو آزمانے کی غرض سے آپ کو ایک پیتل کا ٹکڑا دِیا جاتاہے آپ کسی مجبوری ،دباؤیا لالچ کے تحت فیصلہ سناتے ہو کہ دِیا گیا ٹکڑا سونا ہے جب اصلیت کا پتہ چلے گا کہ یہ سونا نہیں پیتل ہے۔توہمیشہ کے لیے آپ کی کسوٹی ، پرکھ،نظر پر سوالیہ نشان لگ جائے گا آپ عوام کا بھروسہ کھودیں گے۔ آپ کے بارے میں لوگوں کی ایک منفی  رائے قائم ہو جائے گی اپنی اس بدنامی کی وجہ آپ خود ہوں گے کوئی دوسرا نہیں۔اسی طرح دورِ حاضرکے نقادصاحبان آنکھیں موند کرکمزورادب تخلیق کرنے والوں کی تعریفیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پیسے کے زور پرکتابیں شائع کروا کر چھٹ بھیّے اورکچے پکے ادیب ادب میں زبردستی گھستے آرہے ہیں۔ایسے لوگ اپنے مسودوں پر سینئر ادیبوں سے سفارش یادوسرے ذرائع سے بڑے بڑے تعریفی نوٹ لکھوا لیتے ہیں۔سینئر لوگ اپنے مضامین میں تعریفوں کے ساتھ اُن کو پڑھنے کی سفار ش بھی کردیتے ہیں۔بڑوں کی سرپرستی کو دیکھ کر قاری کتاب خرید لیتا ہے۔جب پڑھتا ہے توسرپیٹ لیتا ہے ۔اس طرح بڑوں کی رہنمائی سے قاری دھوکا کھا جاتاہے ۔اب قاری بھی کتنے دھوکے کھائے گا.....؟ایک.....؟دو......؟شاید اس سے زیادہ نہیں۔چھٹ بھئیے بغیرمحنت کئے ادب کے بیک ڈور سے آرہے ہیں۔آج کل ا س دھوکے سے بچنے کا سیدھا طریقہ یہ ہے کہ جس کتاب میں بیساکھیوں یعنی تعریفی نوٹ ہوں وہ سمجھ لیجئے کمزورادب ہے۔سیدھی سی بات ہے بیساکھیوں کا سہارا تواپاہج اورکمزور انسان ہی لیتا ہے جس کو اپنے آپ پر بھروسہ نہ ہو کہ وہ چل بھی پائے گا یانہیں۔سو،جن کتابوں میں سفارشوں کے سہارے ہوں سمجھو اُن میں فن کی چاشنی نہیں۔
ادب میں آج کل وبائیں بہت پائی جانے لگی ہیں، جس میں ایک وبا ایسی ہے جو عام ہونے لگی ہے وہ ڈاکٹری کی وبا ایک طالب علم ایک استاد پروفیسر کی نگرانی اوراصلاح میں پی ایچ ڈی کی ڈگری پا لیتاہے استاد ہر طرح سے اُس کے کام کی اصلاح کرتا ہے یہاں تک کہ املا بھی درست کرتا ہے۔زبان بھی سنوارتا ہے۔ناموں کی فہرست، حوالے بلکہ اگرکام کسی تخلیق کا رپرہورہاہے تواس کی تخلیقات بھی جوں کی توں دے دی جاتی ہیں ۔ اسّی فیصد مقالہ توایسے ہو جاتا ہے بیس فیصدگائیڈیا استاد کے کرم سے تیا رہو جاتاہے۔ہوگیا کام مکمل، ڈ اکٹریٹ کی ڈگری مل گئی۔ڈاکٹر بن کر طالب علم ادیب بن جاتا ہے پھر وہ اسی مقالے پر جس پر گائیڈ کی مد د سے کام ہوا۔اُستادوں کی آراحاصل کرلیتا ہے۔روپئے خرچ کرکے کتاب شائع کروا لیتا ہے۔ہوگئے صاحبِ کتاب؟اب ادب میں داخل ہونے سے اُسے کون مائی کالعل روکے گا۔نام کے آگے ڈاکٹر لگ گیا اورصاحب کتاب بھی ہوگئے اپنے تعارف میں دوکتابوں کا اورحوالہ دے دیا کہ زیرِ طباعت ہیں۔بن گئے ادیب مگر املا درست نہیں۔زبان اورتذکیروتانیث کی تمیزنہیں۔ زہر کو مونث گردانتے ہیں اورسائیکل کو مذکر۔ایسے چھٹ بھّیے داخل ہو رہے ہیں  ادب میں۔یہ وبابہت پھیل چکی ہے جو لاعلاج ہے۔
بہرحال بات ادب میں جبراًداخل ہونے کی ہو رہی ہے،توصاحب ایسے لوگوں کے تخلیق کردہ خاص کر افسانے جب منظرعام پرآئیں گے تونقاد حضرات توکہیں گے کہ آج کا افسانہ رپورٹنگ بن کر رہ گیا ۔ آج کل کوئی منٹو اوربیدی پیدا نہیں ہوتا۔تعجب اس بات پرہے کہ کمزور اورچھٹ بھیّوں کے ادب کو بڑھاوا بھی نقاد دیتا ہے اورعصری ادب میں کیڑے بھی خود ہی نکالتا ہے۔الزامات لگانے سے پہلے یہ نہیں سوچتا کہ کمزورادب کوآگے لانے کاذمہ دارکون ہے؟ .......وہ خود ہی ذمہ دارہے.......!وہ بغیر سوچے سمجھے کسی دباؤیا لالچ کے کیوں چھٹ بھیّوں کی تعریف کرتا ہے۔یہ ادب کے ساتھ ایمانداری نہیں ہوتی ۔کل کوئی جب اس دورکے ادب کی تاریخ مرتب کرے گاتو موردِالزام آپ کو ہی ٹھہرائے گا۔وقت ایک نہ ایک دن آپ سے سوال کرے گا۔منٹو اوربیدی توتمہارے دورمیں بھی تھے اُن کو دیکھنے کی تمہارے پاس فرصت کیوں نہیں تھی.....؟ معیاری ادب توتمہارے دورمیں بھی تخلیق ہوا مگرتم توروپئے، ایوارڈز اورفارن ٹورزسمیٹنے میں لگے رہے اورسچے ادب کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔سفارشوں اورتحائف کا چشمہ لگا کر غیر معیاری ادب کو معیاری کہتے رہے۔ایسی ادبی وبائیں شاید ماضی میں نہیں ہوتی تھیں۔ اس دور کی سب سے مہلک وباہے’پی آراو‘ جو ادب کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔آپ کتنا ہی بہتراورمعیاری ادب تخلیق کرلیں اگرآپ کاPROکمزورہے توسمجھ لیجئے کوئی نقادکوئی مضمون نگارآپ کو ادیب نہیں مانے گا۔آپ ادیبوں کی فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ایسا ہرگز نہیں کہ بہترلکھنے والے اپنی تخلیقات کو فائلوں میں دبا کر رکھ لیتے ہیں۔ایسی بہترتخلیقات منظرعام پرنہیں آتیں۔بہتربلکہ بہترین افسانے اکثرفعال جرائد میں شائع ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے اُن پر کسی کی نظرانتخاب نہیں پڑتی۔آئیے ذرا غورکریں کہ یہ پی آراو کی بیماری ہے کیا.....؟اورادب کے لیے کیوں مہلک ثابت ہو رہی ہے۔پی آراو عام زبان میں پبلک ریلیشن آفیسر ہی کو کہا جاتاہے۔  اُردو ادب میں اسے عوامی رابطے کے طورپرنہیں لیا جاتا نقادوں اورمضمون نگاروں کے رابطے کے طور پرلیا جاتاہے۔جوافسانہ نگارواقعی فن کارہے اپنی صنف کی تیکنک اوراُس کے رموز سے اچھی طرح واقف ہے اوراپنی تخلیقات سے مطمئن ہے اُسے احساس ہے کہ وہ معیاری ادب تخلیق کر رہا ہے وہ بڑی خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہےاُسے پروانہیں ہوتی کہ لوگ اُس کے فن کو پہچانیں اوراُس کی تعریف کریں ۔اُس پہ تعریفی مضامین لکھے جائیں۔اُس کے اعزاز میں تقاریب منعقد ہوں۔وہ صوبائی اورقومی اعزازات سے نوازا جائے ان معاملات میں وہ درویش صفت ہوتا ہے۔وی پی آراوکی وبا سے محفوظ ہوتا ہے۔اُس کے مقابلے میں چھٹ بھیئے، ادب کے نوآموزلونڈے جو راتوںرات بڑا ادیب بننا چاہتے ہیں پی آراو کا سہارا لیتے ہیں۔ایسے گھٹیا ادب کے لیے سفارش لڑا کر یا پیسے کے زورپراپنی تخلیقات پر بڑے ادیبوں سے تعریفی مضامین لکھوا کر کتابیں  چھپوا لیتے ہیں اس طرح وہ ادب میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔نقادوں سے ملتے ہیں اُن کی چاپلوسی کرتے ہیں تحائف دیتے ہیں کوئی براہ راست قابو میں نہ آئے تواس کے کسی دوست کوپکڑلیتے ہیں۔بات اتنی سی ہوتی ہے کہ’’بھائی صاحب کوئی افسانے کے بارے میں مضمون لکھیں تواس چھوٹے بھائی کا خیال رکھیں۔حوالوں میں نہیں توافسانہ نگاروںکی فہرست میں تونام ضرور لکھیں۔موبائیل فون نے اس بیماری کو زیادہ تقویت بخشی ہے۔صبح شام فون کرتے ہیں۔کیسے ہیں بھائی......؟جی .....بس سلام کرنے کو جی چاہا تھا۔سنا ہے فلاں جریدہ افسانہ نمبر نکال رہاہے اور آپ سے مضمون مانگا ہے۔بھائی میرا ضرور ذکر کریں۔۔۔پلیز!کتابیںتو میری آپ کے پاس ہیں۔میرے کسی افسانے کاذکر ضرو رکردیں۔‘‘
جب وہ مضمون چھپ کر منظرعام پرآجاتاہے توچھٹ بھیا صاحب خوش ہوتے ہیں کہ وہ ایسٹیبلشڈ (Established) افسانہ نگارہوگئے۔یہ اس دَورکا المیہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہلکا اوربے معنی ادب آگے آرہاہے۔یادرکھئے کہ آپ کو بڑا فن کارآپ کی محنت، آپ کا مطالعہ بناتے ہیں۔تاکہ آپ کا مضبوط پی آراوآج سعادت حسین منٹو قبر سے اٹھ کر ہمیں نہیں کہتاکہ ہم اُس کے فن کا لوہا مانیں۔ اس کی تعریف میں کاغذا ت کالے کریں۔یہ اس کافن ہے اس کی محنت ہے اُس کی خداداد صلاحیتیں ہیں جوہمیں مجبورکرتی ہیں کہ ہم اُس کانام لیں۔اُس کو اپنے ہم عصروں میں بڑا مانیں۔فن کارعظیم تھا تبھی منٹو کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جارہاہے۔یہ پی آراو  کے غلام ذرا غورکریںکہ جب کل وہ نہ ہو ں گے تواُن کا کون نام لیوا ہوگا۔ یادرکھئے آپ کا تخلیق کردہ معیاری ادب ہی مرنے کے بعدآپ کوزندہ رکھے گاقارئین کے ذہنوں میں ۔ورنہ کمزور ادب کی پی آراوکے زیر اثرتعریفیں کرنے والے نقادوں پرآنے والاوقت لعنت بھیجے گا۔یہ سچ ہے بلکہ کڑوا سچ ۔ایسے لوگ اپنی تعریف کا اپنے قد کو زبردستی بڑھانے کاچانس کبھی نہیں کھوتے۔افسانے کی ایک بڑی تقریب  میںایک بڑا نقاد مسند صدارتِ پر رونق افروزتھا ایک افسانہ نگار دوست میری بغل  میں بیٹھا تھا۔تقاریر کاسلسلہ شروع تھا۔ افسانہ نگار دوست نے اپنی جیب سے ایک سفید کاغذ کاٹکڑا نکالا اوراُس پہ کچھ لکھنے لگے۔مجھے اُس کایہ عمل اچھا نہ لگا میں نے کروٹ بدل کر پڑھاتو وہ اپنے فن کی عظمت کے بارے میں جملے لکھ رہا تھا۔جب تقریب ختم ہوئی توافسانہ نگاربھیڑ میں آگے بڑھا اور بڑے نقاد کے آگے وہ کاغذپھیلا کر بولا۔
’’ سرپلیزدستخط کردیجئے۔‘‘بڑے نقاد نے وہ تحریر پڑھی اورمسکرا کر آٹو گراف دے دئیے۔ایک  عرصہ بعد اس افسانہ نگارکے افسانوں کا نیا مجموعہ دیکھا تووہی تحریر اُس کے فلیپ پرچھپی تھی۔جس پر نقادصاحب نے آٹو گراف دئیے تھے۔
آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ کتابوں پر تعریفی نوٹ کس کس طرح سے حاصل کرلیے جاتے ہیں۔آج کا نقادمصروف بہت ہے عصری ادب کامطالعہ کرنے کے لیے اُس کے پاس وقت ہی نہیں اگرکسی موضوع پرمضمون لکھنادرکارہے تووہ آٹھ دس کتابوں کو نہیں کھنگالتا۔ اس موضوع پر لکھے ہوئے دوچار مضامین ڈھونڈ لیتا ہے کیوں کہ اُس میں حوالے تخلیقات اورافسانہ نگاروں کے ناموں کی فہرست سب کچھ تیارمل جاتاہے۔پرانے حوالے پرانی فہرستیںاٹھائیں اور مضمون ہوگیاتیار ،پھر وہ کسی اکادیمی یایونیورسٹی کی تقریب میں مضمون پڑھتا ہے اورموٹی رقم حاصل کرتا ہے۔حوالے چاہے کمزورہوں چاہے چھٹ بھیّوں کے ہوں کیا فرق پڑتا ہے۔اُسے تواعزازات،پے مینٹس اورفارن ٹورز تک مطلب ہے۔فارن ٹور پرمجھے یادآیا۲۰۱۲ء میں مجھے یوکے جانے کا اتفاق ہواوہاں کے شعرا اورادبا نے بڑی محبت کا اظہار کیاواپسی پر ایک ادب میں نووارِدافسانہ نگار صاحب نے مجھے دوکتابیں تھماتے ہوئے کہا کہ میں ہندوستان میں جا کر فلاں نقاد کو اُس کے افسانوں کے یہ مجموعے پہونچادوں۔افسانہ نگار دوست نے مجھے بتایا کہ نقاد صاحب جو ترقی پسندی کے بڑے نقاد ہیں،انہوں نے خود مطالبہ کیاتھا۔وہ اُس فارن افسانہ نگار کے فن سے اس قدرمتاثرہوئے کہ انہوں نے مجموعوں کا مطالبہ کیا کیونکہ اُن کی خواہش ہے وہاں صاحب پر مضمون لکھیں۔ہم افسانہ نگار ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے میں جانتا ہوں کون کیا لکھتا ہے ۔بلکہ یہ بھی کہ یہ کس سے لکھواتا ہے۔لوگ مجھے بھی جانتے ہیں کہ میں کیا لکھتا ہوں میری تخلیقات کا کیا  معیار ہے۔کئی سال پہلے میں نے اسی صف ِاوّل کے نقاد کو کتابیں بھیجیں اورباربار التجا کی کہ صاحب مضمون لکھ دیجئے۔ چنددوستوں سے بھی کہلوایا۔وعدہ کرکے بھی انہوں نے میرے لیے قلم نہ اُٹھایا۔اِن صاحب سے خود یہ کہہ رہے ہیں.......؟ٹھیک توہے۔میرے پاس لینے دینے کو کیاہے۔اُس امپورٹڈافسانہ نگارکی جیب میں قیمتی تحائف،پونڈ اورفارن ٹورز تھے۔مکھی میٹھے پر گری ہے نمک پرمکھیاں کب بھنبھناتی ہیں۔فارن ٹور کی کشش ہی کچھ اورہے۔ہندوستان میں مشرق کے ایک زمانہ ساز ایڈیٹر ہیں جو قلم کے زورپرکمانا خوب جانتے ہیں۔قومی سطح پر ہم ادیبوں نے ادب کے دو بڑوں کو بڑا مان رکھا ہے۔بات قابلیت کی نہیں پاورکی ہے۔دونوں بڑوں میں سے ایک بڑے کے لیے اُس مشرقی مدیر نے اپنے جریدے کاگوشہ نکال مارا بلامعاوضہ لئے ،اورجم کر چمچہ گیری کی،کوشش ثمرآورہوئی۔بڑے صاحب جن کے ہاتھ میں ہمیشہ قومی بین الاقوامی سطح کے ایوارڈ رہتے ہیں، انہوں نے خوش ہو کر ایڈیٹرکے لیے فارن ٹورعطا کردئیے ایڈیٹر خوش ہوئے۔ تو صاحب یہ جولین دین کا معاملہ ہے یہ بھی ادب میں مہلک وبا ہے۔یہ اندھی ہوتی ہے ،معیار یامقام نہیں دیکھتی بس اگرتم نے مجھے حاجی کہہ دیا اگرحاجی ہےبھی نہیں تو بھی مجھے تیرے احسان کا بدلہ چکانا ہے۔بعد میں شریعتِ ادب یادنیاکچھ بھی کہے کہتی رہے۔ تونے مجھےاپنے مضمون میں پناہ دی تعریف کی تومیں تجھے کیسے بھول جاؤں گا۔اسی طرح کی ایک وباعلاقائی وباہے۔اگرآپ پنجابی ہیں اورمیں آپ کے صوبے کاآدمی ہوں توآپ کی ساری کمزوریاں برطرف آپ کو ہر حالت میں مجھے صفِ اوّل کا افسانہ نگارقراردینا ہے۔لوگ تومؤقرجرائد کے دفاتر میں جاکر گذارش کرتے نہیں شرماتے کہ جناب ہماری اسٹیٹ کے ادیبوں کو زیادہ چھاپئے۔
چاہے جواب یہ ملے کہ بھائی ہم تو معیار دیکھتے ہیں وہ چاہے کسی صوبے  کاہو ہمیں کوئی مطلب نہیں۔(جاری ہے)
٭  رابطہ:9417423788

 تازہ رسائل و جرائد  کاتعارف  و تذکرہ
 نیا ورق(ممبئی) کا نیا شمارہ گزشتہ دنوں قتل کی جانے والی کنڑ زبان کی مشہور اور بیباک اہل قلم گوری لنکیش سے منسوب ہے ہماری ناقص معلومات کے مطابق کسی اُردو رسالے میں گوری لنکیش پر یہ اوّلین پیش کش ہے، سچ تو یہ ہے کہ نیا ورق کے مدیر شاداب رشید نے  اُردو والوں کی طرف سے ایک فریضہ ادا کر دِیا ہے۔ اس گوشے میں مشہور سماجی کارکن اور جری خاتون ٹیسٹا سیتل واد نے آنجہانی پر خاصی درد مندی سے لکھا ہے ۔ اس وقت جس طرح ہمارا ملک دھرم کے نام پر ایک کالی آندھی کا شکار ہے اس پر بھی ٹیسٹانے تبصرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیا ورق کے لکھنے والوں میں ناصر بغدادی، جیتندر بلو، فیاض رفعت، مصحف اقبال توصیفی، کرشن کمار طور، راشد انور راشد، ارمان نجمی، وید راہی ، ریحانہ کوثر اور محمد کاظم وغیرہ کئی ممتاز نام ہیں۔
 مشہور فکشن نگار لالی چودھری پر گوشہ بھی نیاورق کے اس شمارے کی رونق  ہے۔ جس میں لالی کے افسانے، وارث علوی ، مغنی تبسم اور مجتبیٰ حسین کی تحریریں توجہ کا دامن پکڑتی ہیں۔
اسی شمارے میں نیا ورق  کے بانی مدیر ساجد رشید کا افسانہ’کٹے ہوئے تار‘ اور محمد اسلم پرویز کا ایک تجزیہ بہ عنوان: ’ساجد رشید کا فنی رویہ‘ بھی  شامل ہے۔ الیاس شوقی، شاہد عزیز، فاروق راہب وغیرہ کی نظمیں بھی اس  رسالے کو ایک رنگ دے رہی ہیں۔ ملک کی ممتاز فکشن نگار ارندھتی رائے کے تازہ ناول’’ بے پناہ شادمانی کی مملکت‘‘ کے ایک باب کا ترجمہ ارجمند آرا نے پیش کیا ہےجو نیا ورق کے منفرد ہونے کی ایک تصدیق بن گیا  ہے۔
 اسی طرح اقبال مجید کی  سوانحی سرگزشت بھی خاصے کی چیز ہے۔ اس میں  دور گزشتہ کی کئی چیزیں ایسی ہیں جنہیں  پڑھ کر  دل و دماغ میںروشنی سی محسوس ہوتی ہے۔
 شاداب رشید نے  اداریے میں ادبی حالات پر تیکھے انداز سے کلام کیا ہے اسی طرح خطوط کے کالم میںبھی نمک   ہے۔ یہ شمارہ پچاس روپے میں کتاب دار اور مکتبہ جامعہ(ممبئی) میں دستیاب ہے: رابطہ:9869321477
مژگاں(کولکاتا)  نے چند ماہ قبل وفیات کے زیر عنوان ایک خاصا وقیع و ضخیم شمارہ پیش کیا تھا اور اب اس کا’ ’بِہار کا معاصر ادب نمبر‘‘ آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل شمارہ ہمارے ہاتھوں میں ہے واضح رہے کہ یہ  شمارہ اپنے موضوع پر پہلی جِلد ہے۔ بہار سے دیش دُنیا، ادبیات بہار اور نیا قلم  نئی تحریر کے زیرِ عنوان اس شمارے کو تین باب میں تقسیم کیا گیا  ہےجس کے چند ذیلی عنوانات درج  ہیں: ادبیات بِہار میں اپنی مٹی کی خوشبو، بہار میں سیرت نگاری، بہار میں اُردو نعت کا آغاز و ارتقا،بہار میں اُردو تحقیق کا ارتقائی جائزہ، اُردو غزل اور دبستانِ بہار، بہار میں اردو نظم کا منظر نامہ، بہار کا نسائی شعری اُفُق، شعرائے بہار کی شاعری میںحب الوطنی، بہار کی ادبی صحافت،  بہارمیں اُردو صحافت آزادی کے بعد، بہار میں جرائد نسواں، عظیم آباد کے یادگار مشاعرے، بہار  میں اُردو  کی صورت حال ۔۔۔۔ یعنی مدیر مژگاں نوشاد مومن نے کسی  عنوان کوچھوڑا نہیں یہاں تک کہ  بہار کا وہ حصہ جو، اب جھارکھنڈ کے نام سے وجود رکھتاہے اس کے تعلق سے بھی  تحریریں موجود ہیں مثلاً جھارکھنڈ کے نمائندہ افسانہ نگار، جھارکھنڈ کے ادبی مرکز میں کہانی کی کہانی۔۔۔۔
اِجمالاً مژگاں کا یہ خاص شمارہ ایک دستاویزی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ جس کےلئے نوشاد مومن بجا طور پرداد کے حق دار ہیں۔ مضراب کے زیرِ عنوان اداریے میں نوشاد مومن نے اس خصوصی (بہار کا معاصر ادب)نمبرکی اشاعت کے تعلق سے خاصی گفتگو کی ہے۔  انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ہرگز غلط نہیں مگر اس گفتگو کو طول دینے کی ضرورت نہیں تھی کہ بسا اوقات وضاحت کی زیادتی بھی ذہنوں میں کچھ سے کچھ رنگ کا سبب بن جاتی ہے۔
 مژگاں  اس شمارے سےگولڈن جبلی کے پائیدان پر پہنچ چکا ہے جو یقیناً باعث مسرت ہے۔ رابطہ:9830126311

--
NadeemSiddiqui
litr page-01-Apri-2018 copy.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages