از گزشتہ
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
-- زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیاپہلے مصرع میں ’ کیا ، تحقیر کے لئے ہے اور دوسرے مصرع میں استفہام
انکاری کے لئے ، یعنی میرے ناخن کاٹنے سے کیا فائدہ ، کیا پھر بڑھ نہ آئیں گے۔
بے نیازی حد سے گذری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا ؟
کہتے ہیں تمہاری بے توجہی حد سے گذرگئی کہ میرا حال متوجہ ہوکر نہیں سنتے
اور ہر بار تجاہل سے کہتے ہو کہ ’ کیا کہا ، اس شعر میں کیا ، محل حکایت میں
ہے جس طرح آگے مصنف نے کہا ہے :
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
حضرتِ ناصح گر آویں ، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھادو کہ سمجھائیں گے کیا
صاف شعر کا کیا کہنا گو دوسرے مصرع میں سے ’ مگر ، محذوف ہے مگر خوبی
یہ ہے کہ اس طرح سے اور کیا ہے کہ دیوانگی کی تصویر کھنچ گئی۔
آج وہاں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا ؟
یعنی اگر اس کے پاس تلوار نہ ہو گی تو میں دے دوں گا۔
گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا ؟
’ کیا ، استفہام انکاری کے لئے ہے اور قید ہونا اور چھٹ جانا دونوں کا اجتماع
لطف سے خالی نہیں۔
خانہ زادِ زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا زنداں سے گھبرائیں گے کیا
فاعل یعنی لفظ ’ ہم ، محذوف ہے۔
ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسد ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھائیں گے کیا
ہمیں تو غم کھانے کا مزہ پڑا ہوا ہے اور وہی یہاں نہیں یعنی اس شہر میں ایسے
معشوق نہیں جن سے محبت کیجئے۔
_______
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
یعنی مرجانا ہی بہتر ہوا۔
ترے وعدہ پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
یعنی ہم نے جو یہ کہا کہ فقط وعدہ وصل سن کے ہم مرنے سے بچ گئے تو ہم نے
جھوٹ جانا دوسرا احتمال یہ ہے کہ تیرا وعدہ سن کر جو ہم جیے تو اس کا یہ سبب
تھا کہ ہم نے اُسے جھوٹا وعدہ خیال کیا اور جان منادی ہے۔
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
’ جانا ، کا فاعل ’ ہم نے ، محذوف ہے اور نازکی بمعنی نزاکت۔
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
’ جو ، کا واؤ وزن سے ساقط ہو گیا اور یہ درست ہے بلکہ فصیح ہے لیکن اُس کے
ساقط ہو جانے سے دو جس میں پیدا ہو گئیں اور عیب تنافر پیدا ہو گیا لیکن خوبی
مضمون کہ ایسی باتوں کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ تیر نیم کش وہ جسے چھوڑتے وقت
کمان دار نے کمان کو پورا نہ کھینچا ہو اور اسی سبب سے وہ پار نہ ہو سکا۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
دوستوں کی شکایت ہے کہ اُنھوں نے نصیحت پر کیوں کمر باندھی ہے۔
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
یعنی جس طرح دل میں غم چھپا ہوا ہے اگر اسی طرح شرار بن کر پتھر میں یہ
پوشیدہ ہوتا تو اُس میں سے بھی لہو ٹپکتا ، حاصل یہ کہ غم کا اثر یہ ہے کہ دل و
جگر لہو کر دیتا ہے ، پتھر کا جگر بھی ہو تو وہ بھی لہو ہو جائے۔
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
’ پہ ، بمعنی مگر اور ان معنی میں ’ پر ، فصیح ہے اور آخر مصرعہ میں ’ ہے ،
تامہ ہے اور پہلا ’ ہے ، ناقصہ ہے۔
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
’ کیا ہے ، میں ضمیر مستقر ہے مرجع اس کا شبِ غم ہے جو دوسرے جملہ میں
ہے کہ اگر اس شعر میں اضمار قبل الذکر اور ضمیر کو ستتر نہ لیں بلکہ ’ ہے ، کا
فاعل شبِ غم کو کہیں تو لطف سجع جاتا ہے تاہم خوبی اس شعر کی حدِ تحسین سے
باہر ہے۔
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
یعنی جنازہ اُٹھنے اور مزار بننے نے رُسوا کیا ڈوب مرتے تو اچھے رہتے۔
اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں وہ چار ہوتا
دو چار ہونے سے دکھائی دینا مراد ہے۔
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
اس مقطع کی شرح لکھنا ضرور نہیں بہت صاف ہے لیکن یہاں یہ نکتہ ضرور
سمجھنا چاہئے کہ خبر سے انشاء میں زیادہ مزہ ہوتا ہے پہلا مصرع اگر اس طرح
ہوتا کہ غالب تیری زبان سے اسرارِ تصوف نکلتے ہیں الخ تو یہ شعر جملہ خبریہ
ہوتا ، مصنف کی شوقی طبع نے خبر کے پہلو کو چھوڑکر اسی مضمون کو تعجب
کے پیرائے میں ادا کیا اور اب یہ شعر سارا جملہ انشائیہ ہے۔
_______
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا
یعنی رقیب بوالہوس کی ہوس کو نشاط کا رو لطف وصل نگار حاصل ہے اب
ہمارے جینے کا مزہ کیا رہا ، مصنف کی اصطلاح میں ہوس محبت رقیب کا نام ہے
، اسی غزل میں آگے کہتے ہیں :
ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دُنیا میں انسان کو ہوا و ہوس سے رہائی نہیں ، اگر
مرنا نہ ہوتا تو اس طرح کے جینے میں کچھ مزا نہ تھا یعنی حاصل زندگانی مرنا
تھا۔
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
یعنی میرا حال سن کر تم کب تک ’ کیا کیا ، کہہ کر ٹالوگے ، اس تجاہل شعاری
سے آخر تمہارا کیا مطلب ہے۔
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نوازش بے جا وہ جو رقیب پر ہو اور جب رقیب پر تم التفات کرو تو میری شکایت
سے کیوں برا مانو اور اُس کا گلہ کیوں کرو۔
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
بے تکلف و بے حجاب ہوکر مجھ سے آنکھ چار کرو اور یہ تغافل صبر آزما کیسا
یعنی میرا دل دیکھنے کے لئے اور میرے ضبط آزمانے کے لئے یہ چشم پوشی
کیسی۔
فروغِ شعلۂ خس اک نفس ہے
ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
اس شعر میں رقیب پر طعن ہے کہ اُسے عشق نہیں ہے ہوس ہے اس کی محبت
شعلہ خس کی طرح بے ثبات ہے اُسے ناموس وفا کا پاس بھلا کہاں ، اُس کا فروغ
عشق چار دن کی چاندنی ہے۔
نفس موج محیطِ بے خودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
یعنی یہاں بے شراب پئے بے خودی ہے پھر بے التفاتی ساقی کا گلہ کرنا کیا
ضرور ہے جسے اُس کی صورت دیکھ کر بے خودی ہو جائے اُسے وہ شراب نہ
دے تو کیا شکایت۔
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غم آوارگی ہائے صبا کیا
صبا سے بوئے گل مراد ہے اس سبب سے کہ صبا ہی کے چلنے سے پھول کھلتے
ہیں تو اُس میں بوئے گل ملی ہوئی ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر صبا آوارہ و
پریشان نہ ہوتی تو سب پھولوں کی خوشبو ایک ہی جگہ جمع ہو جاتی لیکن شاعر
کہتا ہے کہ مجھے پیراہن کے بسانے ہی کا دماغ نہیں ہے آوارہ مزاجی صبا کی کیا
پروا ہے ہوس دُنیا نہ ہو اُسے بے وفائی دُنیا کا کیا غم ہے۔
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اُس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
یعنی ہر قطرہ کو دریا کے ساتھ اتحاد کا دعویٰ ہے اسی طرح ہم کو بھی اپنے مبدأ
کے ساتھ عینیت کا دعویٰ ہے وہ دریا ہے اور ہم اسی دریا کے قطرہ ہیں اور قطرہ
دریا میں مل کر دریا ہو جاتا ہے۔
محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا ؟
’ ادھر دیکھ ، دو معنی رکھتا ہے ایک تو مقام تنبیہ میں یہ کلمہ کہتے ہیں دوسرے
یہ کہ تو میری طرف دیکھ تو سہی اگر میں شہید نگاہ ہو جاؤں تو ذمہ کرتا ہوں کہ
تجھے خون بہا نہ دینا پڑے گا۔
سن اے غارت گر جنس وفا سن
شکست قیمت دل کی صدا کیا
یعنی تو جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں شکست دل کی خبر نہیں تو کہیں شکست دل میں
آواز ہوتی ہے جو تجھے سنائی دیتی مصنف نے شکست دل کو شکست قیمت دل
سے تعبیر کیا ہے اور اسی لئے جنس و غارت اُس کے مناسبات ذکر کئے ہیں
دوسرا پہلو اس بندش میں یہ نکلتا ہے کہ شکستِ دل کی صدا تجھے اچھی معلوم
ہوتی ہے تو دل شکنی تو کئے جا اور سنے بھلا دل کی اور صدائے شکستِ دل کی
کیا حقیقت ہے جو تو تامل کرے۔
کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
شکیب خاطر عاشق بھلا کیا
یعنی مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہے کہ بے تمہارے مجھے چین نہ آئے گا۔
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
یہ کافر فتنۂ طاقت رہا کیا
اسی وعدۂ صبر آزما کو دوسرے مصرع میں فتنۂ طاقت ریا سے تعبیر کیا ہے اس
شعر میں جس طرز کی بندش ہے مصنف کا خاص رنگ ہے اور اس میں منفرد ہیں۔
بلائے جاں ہے غالب اُس کی ہر بات
عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا
’ کیا ، اس شعر میں حرفِ عطف ہے جسے معطوف و معطوف علیہ میں بیان
مساوات کے لئے لاتے ہیں۔
_______
در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہو
یعنی پھر ہمارا کہناکیا غلط ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا اور ہمسا کوئی آفت زدہ نہ
ہوا۔
بندگی میں بھی وہ آزاد و خودبیں ہیں کہ ہم
اُلٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
یعنی پھر کسی اور کی ہم کیوں اُٹھانے لگے۔
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
روبرو کوئی بت آئینہ سیما نہ ہوا
یعنی کسی نے مقابلہ نہ کیا۔
کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
یعنی اگر میں بیمار رہا تو چشم معشوق بھی تو بیمار ہے یہ ہم نامی کا فخر کیا کم
ہے۔
سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
یعنی جس طرح کہ قطرہ خاک میں جذب ہوکر ایک داغ خاک پر پیدا کرتا ہے اُسی
طرح نالہ ضبط کرنے سے سینہ میں داغ پڑجاتا ہے۔
نام کا میرے ہی جو دُکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
صاف ہے۔
ہر بن مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خوناب
حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا
یعنی یہ نہیں ممکن کہ خوناب نہ ٹپکے ، اس شعر میں استفہام انکاری ہے کہ بھلا یہ
ہو سکتا ہے کہ خوناب نہ ٹپکے۔
قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے جزو کل میں
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
یعنی عارف کی نظر کھیل تھوڑی ہے ؟ اس شعر کو بھی استفہام انکاری کے طرز
سے پڑھنا چاہئے۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے یہ تماشا نہ ہوا
اپنی رُسوائی اور موردِ تعذیر ہونے کا اظہار ہے کہ لوگ اُسے تماشا سمجھے
ہوئے ہیں۔
_______
اسد ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشتِ خار اپنا
اسد اور آہو کا تقابل تو ظاہر ہے ، جنون جولان ہونے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ آہو
بھی میرے پیچھے رہ جاتا ہے اور پشتِ خار سے پیچھے ہی کھجاتے ہیں۔ گدا کی
لفظ پشتِ خار کی مناسبت کے لئے ہے ، بے سر و پا کہنے سے یہ مقصود ہے کہ
پشتِ خار تک میرے پاس نہیں ہے ، اگر ہے تو مژگانِ آہو ہے پنجہ میں اور مژگان
میں اور پشتِ خار میں ، وجہ شبہ جو ہے وہ ظاہر ہے یعنی شکل تینوں کی ایک ہی
سی ہے ، مژگان کو پہلے پنجہ سے تشبیہ دی ، پھر پنجہ کو پشتِ خار سے تشبیہ
دی۔
_______
پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نارسائی کا
بخوں غلطیدۂ صد رنگ دعوے پارسائی کا
یعنی کریم کو نذر دینے کے لئے میری شرم و ندامت اُس دعویٰ پرہیزگاری کا تحفہ
لے کے چلی ہے جس کا سو گناہوں کے ہاتھ سے خون ہو چکاہے ’ شرم نارسائی کا
تحفہ ، اسم ہے ’ہے ، کا اور دوسرا مصرع سارا خبر ہے ’ پئے نذر کرم ، تحفہ
دینے کا سبب و غایت ہے ، درگاہ کریم سے تقرب نہ ہونا اور دُور رہنا نارسائی کے
معنی ہیں۔
نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بمہر صدِ نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
شاعر معشوق آوارہ مزاج پر طعن کرتا ہے کہ بھلا تمہیں کون بے وفا کہہ سکتا ہے
؟ اگر سو آدمیوں کی آنکھ تم پر پڑی تو گویا سو مہریں ہو گئیں کہ تم پارسا ہو اور
اس طعن کا مفہوم مخالف ہے کہ تماشا دوست ہوکر اور اغیار سے جھانک تاک کر
کے پارسائی کجا اور خیانت و بے وفائی کی رُسوائی سے کہاں بچ سکتے ہو۔
جاری