طلاق کے رجحان کو کم کرنے کیلئے کچھ کرنا چاہئے

273 views
Skip to first unread message

Humayun Rasheed

unread,
Jul 25, 2014, 7:53:22 PM7/25/14
to bazmeqalam
جناب زبیر حسن صاحب، حسب گفتگو موضوع تبدیل کر دیا تاکہ پہلی نظر میں معلوم ہو کہ بات کس موضوع سے متعلق ہے۔
طلاق کا بڑھتا رجحان بھی بد قسمتی سے ہمارے ھاتھوں کی کمائی ہے۔ جب دین ہمارے لئے ثانوی حیثیت رکھتا ہے تو دین بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے۔
طلاق کے رجحان کو کم کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے بہت سے کام کرنے ہوں گے، مثلا پہلے تو لڑکے اور لڑکی کی تربیت کرنی ہو گی کہ زندگی کو حقیقت سمجھ کر جئے اور بےجا لاڈ نہ کیا جائے۔ دوسرا اہم کام یہ کہ نکاح سے پہلے لڑکا کسی عالم کے پاس باقائدہ کچھ دن جائے اور سلسہ وار مسائل اور دیگر ضروری باتیں سیکھے کہ جن سے عموما شادی کے بعد واسطہ پڑتا ہے اور علماء اس بارے میں ایک نصاب بنا لیں۔ تیسرا یہ کہ نبی علیہ السلام کے اس حکم کی سختی سے پابندی کی جائے کہ نکاح کیلئے لڑکی کے حسب نسب دولت اور حسن وغیرہ کی بجائے سیرت دیکھی جائے اور اسی طرح لڑکے کی تنخواہ سے زیادہ اخلاق دیکھا جائے۔ چوتھا یہ کہ بالکل انجان میں نکاح نہیں کرنا چاہئے بلکہ جان پہچان میں کرے۔ پانچواں یہ کہ لڑکے کو سختی سے کہا جائے کہ کچھ ہو جائے طلاق نہیں دینی یہاں تک کہ پہلے بڑوں سے بات نہ کر لے۔

ظاہر ہے یہ آسان کام نہیں لیکن طلاق کے شرعی قوانین کو تو بدلا نہیں جا سکتا تو تربیت ہی کرنی ہو گی۔

لیجئے بطور ابتدا کچھ ذکر کر دیا، اہل علم ہی اس بارے میں کچھ مشورہ دے سکتے ہیں۔

مع السلام،
ہمایوں رشید۔
2014-07-25 0:00 GMT+03:00 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>:
سبحان الله، آپ تمام محترم و موقر حضرات نے اخلاص اور مستند حوالوں کے ساتھ طلاق کے مسایل پر مدلل بحث کی ہے ... الله تعالی سب کو جزائے خیر دے.... جو کچھ بھی مسلکی اختلافات واقع ہوئے ہیں وہ جب تک الله سبحان تعالی چاہے رہے یا نہ رہے لیکن یہ بات تو طے ہے کہ تمام ایمہ کرام اور علمائے کرام نے اپنی تمام زندگی تقوی کے ساتھ دینی خدمات میں عرق ریزی کرتے ہوئے گزاردی اور انکا اجر الله کے پاس محفوظ ہے، اور سب کا بڑا اجر ہی ہوگا انشا الله ، اس لئے اس کے آگے انکی تاویلوں اور دلیلوں پر بحث انہیں کے قائم مقام کر سکتے ہیں....مسلکی بحث و مباحث اور قران و حدیث کی تاویلوں اور دلیلوں کا ماشاالله کافی ذخیرہ موجود ہے اور اسے صرف دین سے قربت رکھنے والے پڑھتے ہیں اور انہیں کے درمیان یہ بحث بھی ہوتی رہتی ہے جو بلکل ضروری بھی ہے، لیکن اسکے ساتھ ساتھ مسلمان الناس کی کثیر تعداد کے مسئلہ کا قابل نفاذ حل بھی ضروری ہے..اور طلاق کے مسئلہ میں .. Preventive Measures   کے تحت ضروری ہے...

الله تعالی اس خاکسار کا مدعا اہل علم و نظر تک پہنچائے اور ان کے ذریعہ علمائے دین تک.. اس طالب علم کا یہاں موقف مسلکی بحث اور دلیل و تاویل کے بجائے یہ ہے کہ دین کے دائرے میں وہ حل پیش کیا جائے جس سے عام مسلمانوں میں غیر ضروری اور غیر اصولی طلاق کا رحجان کم ہو.... ایک خلا ہے جسے پرکرنا بے حد ضروری ہے اور جو فی الحقیقت مسلمان الناس اور علمائے کرام کے درمیان پایا جاتا ہے اور جس کا سبب ایک کثیر تعداد کی دین سے دوری ہے... جہاں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ دین کو صرف طلاق اور نماز جنازہ تک محدود کر کے رکھتا ہے اور پیدائیش سے لے کر بقیہ تمام عمر غیر دینی اصولوں کی پیروی میں گزارتا ہے... انہیں قرآن واحادیث کی ان دلیلوں اور تاویلوں کی نہ ہی سوجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ اسے سمجھنا چاہتے ہیں .... لیکن نہ ہی دین نے اور جید ایمہ کرام اور علمائے کرام نے انکی اس کوتاہی کا یہ مطلب لیا ہے کہ انکے دینی مسائل کے حل پیش کرنے سے پہلو تہی کی جائے..... بلکہ انکی تو یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایسے دین سے دور مسلمانوں تک پہنچنا چاہتے ہیں... اب کسی نہ کسی کو یہ خلا پر کرنا ہوگا اور پل کا کام کرنا ہوگا اور زمینی حقائق علمائے کرام اور مفتیان کرام تک پہنچانے ہونگے تاکہ طلاق کے مسائل کا حل بطور 'حفظ ما تقدم'  حاصل کیا جائے...   Preventive Measures لیتے ہوئے اور    pro-active ہوتے ہوئے.... اور دور جدید میں اس پل کی ذمہ داری اہل علم و نظر و خبر بہتر طور سے انجام دے سکتے ہیں، خاصکر وہ جو دور جدید کے عوام الناس کے بھی قریب ہیں اور دین اور علمائے دین کے بھی....

زمینی حقائق وہی ہیں جس کا تذکرہ بارہا اہل فکر و نظر کرتے ہیں....  اول تو نکاح اور طلاق کے ضمن میں جو دلیلیں اور تاویلیں ہیں انہیں دور جدید کے مسلمانوں کی اکثریت نہ ہی سمجھتی ہے اور نہ سمجھنا چا ہتی ہے.... انکی کی دینی تربیت ایک الگ مو ضوع ہے جس پر یہاں بحث بے جا ہے .... اس لئے نکاح نامہ کے ساتھ ایک قانونی قرار داد ہوسکتی ہے جس میں عام فہم زبان میں، بلکہ انکی اپنی اپنی مادری زبان میں اختصار کے ساتھ نکاح و طلاق کے معاملات کو پیش کیا جاسکتا ہے، مسلکی ترجیحات کے ساتھ لیکن بغیر مسلکی بحث کے ساتھ کہ عام مسلمان کو اس بحث سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی وہ رکھنا چاہتا ہے، بھلے یہ اسکی نا اہلی ہے...... لیکن وہ نکاح کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر انجام دینا ضرور چاہتا ہے، اور یہ نکتہ بے حد اہم ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں دین سے جڑا ہے اور مستقبل میں قوی امکانات ہیں کہ وہ دین سے اور بھی قریب ہوجائے ..... الغرض نکاح اور طلاق کے ضمن میں ایک مختصر عام فہم قانونی قرارداد اور ممکن ہوسکے تو دس منٹ کا مختصر تربیتی پروگرام اگر نکاح سے قبل یا عین نکاح خوانی کے وقت دونوں فریق کے لئے لازم کر دیا جائے تو اس خاکسار کے خیال میں دین میں اسکی کوئی مماںعت نہیں ہوگی.... دور جدید کے اکثر نکاح یا نکاح ناموں کی حیثیت دین سے دور رہنے والوں کے نزد قانونی قراردار کی نہیں ہے .. عام بول چال کی زبان میں اسے نکاح کے دو بول ہی کہا جاتا ہے... نکاح کو آسان کرنے کے احکام کا اس قدر غلط مطلب اخذ کیا گیا ہے کہ اس کی اہمیت اب شادی کی طویل رسموں میں اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی ہوائی جہاز میں چڑھنے کے لئے بے قرار مسافر کو بورڈنگ پاس کے حصول کی ہوتی ہے... دنیا کے اکثر مسلم ممالک کے قانون دنیوی اور دینی نظام کا مجموعہ وا قع ہوئے ہیں اور خالص اسلامی نہیں ہیں اس لئے بھی نکاح نامہ کی مسلم حیثیت تبھی تک قائم رہتی ہے جب تک طلاق در پیش نہیں ہوتی...
واللہ ہو عالم بالصواب ....
خاکسار 
زبیر       







2014-07-24 19:30 GMT+05:30 Sabir Rahbar <sabirr...@gmail.com>:
ڈاکٹر سید شجاعت علی قادری




طلاق ثلاثہ کے احکام ومسائل
 
ہمارے معاشرے میں اب طلاق کارواج کچھ بڑھتا ہی چلاجارہا ہے، جہاں ذراغصّہ آیافوراً طلاق دے دی، پھر ایک دودی جائیں تب بھی معاملہ ہاتھ میں رہتا ہےمگر جانتے ہیںکہ بالکل تعلق اُسی وقت ختم ہوگا جب تین طلاق دی جا ئے ، اس لیے تین دیتے ہیں۔ پھر فوراً ہی ندامت ہوتی ہے، اب علماء کی طرف ر جو ع کرنے سے قبل بڈھے بڑھیوں سے مسئلہ دریافت ہوتا ہے، کوئی کچھ کہتا ہےاورکوئی کچھ۔بہر حال پھر کسی نہ کسی طرح علماءتک پہنچتے ہیںاورکو شش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح بیوی ان کے پاس حسب سابق رہے۔ علماء سے کہتے ہیں کہ کچھ گنجائش نکالئے، مگر یہ معلوم نہیں کہ تمام دنیا کے علماء مل کر بھی شریعت کے احکام میں سے کسی حکم کا نقطہ بھی اِدھر سے اُدھر نہیں کرسکتے، کبھی یہ کہتے ہیں کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرلیا جائے تو کیسا ہے؟ بڑاافسوس ہے،آج اپنی ضرورت کے تحت اپنے امام کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوگئے توکل خدانخواستہ اپنی غرض سے مذہب تبدیل کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کردیں گے، پھر چاروں اماموں میں سے کوئی بھی نہیں کہتا کہ تین طلاقوں کے بعد بھی بیوی حسب سابق  بیوی رہ سکتی ہے ، کبھی غیر مقلد وں کی مسجد سے فتویٰ لے آتے ہیں، غرض چاہتے ہیں مذہب کا نام لے کر یا فتویٰ کا سہارا لے کر حرام کو حلال کرلیں، یہ نہیں سوچتے کہ یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے، یہ اولاد کا معاملہ ہے اورپھر تمام نسب کا معاملہ ہے ۔جب دولفظوں سے ایک اجنبی عورت آپ کی بیوی بن گئی توتین لفظوں سے اگر زوجیت سے خارج ہوجائے تواس میں حیرت کی کیا بات ہے۔
مسلمان بھائیو!نماز،روزہ اوردوسری عبادات میں ہماری کوتاہیاں ظاہر ہیں، خدا راکم ازکم ایسے گناہوں سے ضروربچئے جن میں خدانخوستہ اگر آپ مبتلا ہوگئے توتمام زندگی بلکہ اس کے بعد بھی آپ گناہوں کے سمندرمیں غرق رہیں گے۔ اپنے غصہ کو شرعی حدود میں رکھئے اورتین طلاق دینے سے بچیئے۔ اس مختصر مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تین طلاق بیک وقت بھی واقع ہوجائیں گی۔ یہی فیصلہ قرآن، حدیث، صحابہ اوراُمت کے اتفاق سے ثابت ہے، اس کے خلاف سب غلط ہے۔ بحث میں مخالفین کے صرف اُن دلائل کا رد کیا گیا ہے جن پر انہیں بہت گھمنڈ ہے اورجوعام طور پر وہ استعمال کرتے ہیں، ظاہر ہے اس موضوع پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے اورہمارے بزرگوں نے بہت کچھ کہا ہے ۔ بالخصوص مبسوط، فتح القدیر، بدائع الصنائع ،فتاویٰ اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خاں بر یلو ی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ کا فیصلہ ہی کردیا ہے۔
تین طلاق کا مسئلہ:آج کل عموماً مرد کو جب غصّہ آتا ہے، وہ اپنی بیوی سے اس قسم کے الفاظ کہہ دیتا ہے۔ جا میں نے تجھ کو تین طلاق دیا، بلکہ کبھی کبھی تو تین سے زائد طلاق بھی دیدی جاتی ہے ، یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ لوگ تین طلاق اسی لیے دیتے ہیں کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ بیوی سے اس سے کم میں پیچھا نہیں چھوٹ سکتا ہے۔ بعد میں جو کچھ ہوتا ہے وہ صرف بہانہ سازی، دروغ گوئی اورحرام شدہ چیز کو حلال کر نے کی سعی لاحاصل ہوتا ہے۔
اگر کسی مولوی سے غلط بیانی کرکے حلال لکھوابھی لیا ہے، تو حقیقت پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہے گی، تمام زندگی حرا م کاری ہوگی اور اولاددراولاد اس گناہ کے ناپاک اثرات چلتے رہیں گے۔
تین طلاق کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے:قرآن کریم میں ہے ’’اَلْطَّلاَ قُ مَرَّتٰنِ فَاِمسَاکٌ بِمَعْرُوْف اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانِ‘ (سورہ البقرہ۲۲۹) 
طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تواچھے طریقہ سے روک لینا ہے یا اچھائی کے ساتھ (بیوی) چھوڑ دینا ہے۔
تفسیر کبیر اوردوسری تفاسیر میں ہے کہ یہ آیت اس موقعہ پر نازل ہوئی جب اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک عورت نے شکایت کی کہ میرا شوہر مجھ کو طلاق دیتا رہتا ہے اورپھر رجوع کرلیتا ہے ۔آپ نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ( اما م محمد فخرالدین رازی تفسیر کبیر صفحہ۲۴۷:جلد:۲)
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ طلاق جس کے بعد رجوع کا حق باقی رہتا ہے دومرتبہ ہے (گویا جو مقصود ہے وہ حق ہے رجوع کا بیان ہے نہ یہ کہ طلاق علٰیحدہ علیٰحدہ دینا لازم ہے۔) دوطلاق کے بعد اب دوہی صورتیں ہیں ، یا تورجوع کرلیا جائے اوراگر یہ سلسلہ مزید چلنا ممکن نہ ہوتو پھر تیسری طلاق بھی دے دی جائے۔
چنانچہ مشہور مفسر ابوبکر الجصاص اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ’’قد ذکرت فی معناہ وجوہ احدھا انہ بیان للطلاق الذی تثبت معہ الرجعۃ والثانی انہ بیان لطلاق السنۃ‘‘( احکام القرآن جلد :۱)
یعنی اس آیت کے معانی میں مختلف وجوہ ذکرکی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ اُس طلاق کا ذکر ہے جس میں رجعت کاحق باقی رہتا ہے ا و ر دو سرے یہ کہ یہ طلاق سنت کا طریقہ ہے۔
ابوبکر جصاص نے اورتاویلات بھی لکھی ہیں، لیکن اہل علم سے مخفی نہیں کہ مفسّرین قوی اورضعیف، اپنوں اور غیروں سبھی کے اقوال نقل کرتے ہیں ۔ اصل قدروقیمت ائمہ مذہب کے اقوال ہی کی ہے۔ لہٰذا کسی مفسر کی مفسرانہ بحث سے خواہ مخواہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ہم حنفی بھی یہی کہتے ہیں کہ طلاق متفرق طور پر دی جانی چاہیئے، یہی سنت طریقہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ کہاں سے ہواکہ اگرکوئی مسنون طریقہ اختیار نہ کرے تووہ فعل جوایک عاقل وبالغ سے صادر ہورہا ہے اوربالکل صریح ہے، واقع ہی نہ ہو؟ ہاں سنت طریقہ ترک کرنے کا گناہ ہوگا۔ ہماری شریعت میں لاتعداد احکام ایسے ہیں جن کے اداکرنے کے لیے مسنون طریقے بتائے گئے ہیں، مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص ان کاموں کو مسنون طریقہ پرادا نہ کرے تب بھی وہ ادا ہوجائیں گے اگر چہ ترک سنت کا گناہ رہے گا۔
عام طور پر مفسرین نے جوکچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ یہی ہے کہ طلاق متفرق طورپر دینا چاہیے، نہ یہ کہ تین طلاقوں کے دینے کی ممانعت کی گئی ہے، تواس قدر میں ہم بھی متفق ہیں۔
اگرکوئی شخص اپنی بیوی کوایک دم دوطلاقیں دے توکیا واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ اگرنہیں تو دلائل سے ثابت کیجئے، اوراگر دوطلاقیں یکدم واقع ہوسکتی ہے توتین کیوں واقع نہیں ہوسکتی ہیں:’’وَلِلْمُطَلِّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْر و ف ‘‘ (سورہ البقرہ آیت ۲۴۱)
اور طلاق دی گئی عورتوں کے لیے رواج کے مطابق سامان ہے’’وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوھُنَّ ‘‘(سورہ البقرہ آیت ۲۳۷)
اوراگر تم ان کو صحبت سے پہلے طلاق دے دو۔
’’ یآ ایھا الّذین اٰمنوا اِذا نکحتم المؤمنات ثم طلّقتموھنّ‘‘اے ایمان والو! جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو طلاق دو۔ 
ان آیات میں اوران ہی جیسی آیات میں طلاق اوراس کے احکام کا ذکر ہے مگر یہ کہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ طلاق علیٰحدہ علیٰحدہ دی گئیں ہوں یا یکدم، جب دونوں امور کا مذکور نہیں تواس کو قواعد کے مطابق عام ہی رہنا چاہئے۔
احادیث شریفہ:احادیث صحیحہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں ، خواہ یک دم دی جائیں یا کہ علیٰحدہ علیٰحدہ۔
 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی تھی، پھر آپ نے یہ سوچا کہ دوحیضوں میں دوطلاق مزید دے دیں، جب رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی توفرمایااے ابن عمر!اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ حکم تو نہیں دیا ہے، تم نے خلاف سنّت کیا، سنّت طریقہ یہ ہے کہ تم ہرطہر میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دو۔ چنانچہ آپ نے مجھے رجوع کا حکم دیا (کیونکہ ایک ہی طلاق دی تھی) اورفرمایا کہ جب پاک ہوجائے تو تم اس کو طلاق دے دینا ، یا روک رکھنا، اُنہوں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اگرمیں اس کو تین طلاق دے دیتا تو کیا میرے لیے پھرحلال ہوجاتی؟ آپ نے فرمایا نہیں اوریہ گناہ کی بات ہوتی۔
    (قاضی محمدثناء اللہ تفسیر مظہری صفحہ: ۳۵۱جلد:۱)
سند حدیث:اس حدیث کو دار قطنی اورابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کیا ہے، بیہقی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کی سند میں عطاء خراسانی نے کچھ زیادات کی ہیں جن میں اُن کا کوئی متابع نہیں اور چونکہ وہ ضعیف ہیںاس لیے ان کی زیادات غیر متابعہ مقبول نہ ہوں گی مگر خدا بھلا کر ے علامہ ابن ہمام کا کہ انہوں نے متابعت ثابت کردی اورفرمایا کہ رزیق نے اس روایت کی متابعت کی ہے اور طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے ۔ ( فتح القدیر)
طلاق دے دی تھی مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر بھی رجوع کرادیا تھا۔ یہ عجب اہل حدیث ہیں کہ صحیح حدیثوں کو مانتے ہی نہیں اِن سے زیادہ اچھے اہل حدیث تو وہ ہوئے جو اپنے اوپر اہلحدیث کا لیبل نہیں لگاتے ہیں، اوروہ حدیثوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
مُسلم شریف کے شارح جلیل القدر محدث اسی حدیث کی بابت فرماتے ہیں ’’اماحدیث ابن عمر نالروایات الصحیحۃ التی ذکرھا مسلم وغیرہ انّہ طلقہا واحدۃ‘‘(ابوزکریا نواوی شرح مسلم صفحہ:۴۷۸جلد: ۱)
ابن عمر کے واقعہ میں صحیح روایات جن کو امام مسلم وغیرہ نے ذکرکیا ہے ، یہ ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق دی تھی۔
امام بخاری نے تو بخاری شریف میں مستقل ایک باب قائم کیا ہے جس کا نام ہے۔’’ من اجاز الطلاق الثلث‘‘یعنی اس باب میں ان لوگو ں کے لیے دلائل ہیں جو تین طلاق کو واقع قرار دیتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اہلحدیث صاحبان اس سلسلے میں امام بخاری تک کو اچھا نہیں سمجھتے حالانکہ وہ اورموقعوں پر ان کا ذکر بڑے زور شور سے کرتے ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ : فطلّقہا ثلاثا، یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور یہ واقعہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی موجودگی کا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہاں میاں بیوی میں جدائی کرا د ی گئی۔(بخاری و مسلم صفحہ:  ۴۸۹جلد :۱)
 ظاہر ہے اگر تین طلاق واقع نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فر ماتےکہ یہ واقع نہ ہوئیں اورکبھی بھی آپ ایک لغوکام کے ہوتے ہوئے خا مو ش نہ رہتے۔
سندحدیث:اس حدیث کی صحت میں کسی کو کلام نہیں اس حدیث کو بخاری شریف صفحہ:91 جزدوم اورمسلم کے علاوہ نسائی اورابوداؤد وغیرہ نے بھی بیان کیا ہے۔
 صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے’’انّ رجلا طلّق امراتہ ثلٰثاً فتزوّجتْ فطلّق فسئل النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم اتُحلِ للاَوّل قال لا حتیّٰ یذوق عسیلتہا کما ذاق الاوّل‘‘
(بخاری شریف صفحہ: ۷۹۱جلد :۲)
ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی اس نے دوسرے شخص سے شادی کرلی اُس نے بھی طلاق دے دی پھر آپ سے دریافت کیا گیاکہ کیا وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں،تا وقتیکہ پہلے شوہر کی طرح دوسرا بھی اس سے صحبت نہ کرے۔
اس حدیث سے ثابت ہواکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے تواب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے بلا حلالہ شرعیہ حلال نہیں ہوتی۔ یہ فتویٰ خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ کا ہے۔ اس میں یہ نہیں لکھا کہ اُنہوں نے تین طلاق علیٰحدہ علیٰحدہ دی تھیں اورخود نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی یہ تفصیل معلوم نہیں کی۔ اگر یہ ضروری ہوتا تو حضور ضرور اُن سے یہ تفصیل معلوم کرتے کہ الگ الگ طلاق دی یا ایک بار۔
’’طلق رجل امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بہا ثم بدالہ یندحہا فجاء یستفتی قال فذہبت معہ فسال ابا ھریرۃ وابن عباس فقال لا ینکحہا حتی تنکح زوجا غیرہ فقال انما کان الطلاق ایاھا واحدۃ قال ابن عباس أرسلت من یدک ماکان لک من فضل‘‘( موطا امام محمد صفحہ :۲۵۹)
ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیا صحبت کرنے سے پہلے پھر اس نے چاہا کہ اس سے نکاح لوٹا لے توفتوی لینا چاہا۔ کہتے ہیں کہ میں استفتاء لے کر گیا اورابوہریرہ سے پوچھا توانہوں نے فرمایا تم اس سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے، تواس شخص نے کہا یہ توایک ہی طلاق ہوا، توابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میرے پاس تمہارے لیے جو بھلائی کی بات تھی تمہیں بتایا۔
مخالفین کا استدلال اوراس کا جواب :وہ حضرات جن کے نزدیک بیک وقت تین طلاق دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے، عام طور پر مندرجہ ذیل احادیث پیش کرتے ہیں:
 ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی نشست میں تین طلاق دے دی، پھران کو اس کا شدید صدمہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا، تم نے کیسے طلاق دی تھی؟ وہ بولے میں نے ان کو تین طلاق دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک ہی نشست میں؟ وہ بولے، جی ہاں! آپ نے فرمایا بے شک یہ ایک ہی ہے،اگرتم چاہو تو رجوع کرلو، چنانچہ آپ نے رجوع کرلیا ۔(مسند اما م احمد)
جواب : اس حدیث کے بارے میں صحاح ستّہ میں سے ایک کتاب کے مصنف جلیل القدر محدث ابوادؤد فرماتے ہیں’’حدیث نافع بن عجیر وعبداللّٰہ بن علی بن یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہٖ ان رکانۃ طلق امرأتہ فردھا الیہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اصح لان ولدالرجل واہلہ اعلم بہ ان رکانہ طلق امرأتہ البتۃ فجعلہا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واحد ۃ ‘‘ (ابوداؤد صفحہ: ۴۱۹)
نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی روایت اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے رجوع کرادیا زیادہ صحیح ہے۔( یعنی ابن عباس کی حدیث کی بہ نسبت) کیونکہ انسان کی اولاد اورگھر والے ہی ایسے معاملات کی زیادہ خبر رکھتے ہیں۔بے شک رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی، اس کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک طلاق قراردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت امام ابوداؤد کا استدلال بالکل عقل کے عین مطابق ہے۔ طلاق ایک گھریلو واقعہ ہوتی ہے،ظاہر ہے کہ ابن عباس کی بہ نسبت خود رکانہ کے بیٹے و پوتے اس معاملہ پرزیادہ صحیح روشنی ڈال سکتے تھے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے ’’ صاحب البیت ادریٰ بما فیہ‘‘  یعنی گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ چنانچہ انہو ں نے بیان کردیا کہ یہ طلاق البتہ تھی۔ لفظ البتہ کنایات میں سے ہے، اس سے ایک طلاق کا ارادہ کرنا درست ہے ۔ رہی ابن عباس کی روایت تو وہ انہوں نے اپنی فہم کے مطابق البتہ کو بمعنی ثلاث کے لیتے ہوئے روایت کردی ہوگی۔ چنانچہ شارح بخاری علامہ ابن حجر نے اس توجیہ کو معقول قراردیا ہے ۔(علامہ ابن حجر، فتح الباری)
علاوہ ازیں ابن عباس والی روایت میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہیں جو حدیث میں ضعیف ہیں، اور پھرسب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا فتویٰ خود اپنی روایت کے خلاف موجود ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ:حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے لڑکے کے پاس تھا، اسی اثنا میں ایک شخص آیا اوراس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہے ۔ابن عباس قدرے خاموش ہوئے تومیں سمجھا کہ اب یہ اس کو رجوع کا حکم دیں گے(کیونکہ ان کی روایت سے یہی ثابت ہوتا  ہے۔) پھر وہ بولے تم لوگ احمقانہ باتیں کرتے ہو۔(یعنی بیک وقت تین طلاق دیتے ہو۔) پھر کہتے ہو اے ابن عباس! اے ابن عباس!
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو حمید اعرج نے مجاہد سے ، شعبہ نے عمروبن مرہ عن سعید بن جبیر، ایوب نے اورابن جریح نے عکرمہ بن خالد عن سعید بن جبیر، اور ابن جریح نے عمروبن دینار سے ان سب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے تین طلاقوں کو واقع مانا۔ یعنی یہ کہ تین طلاق تین ہی ہوںگی۔ (ابوداؤد شریف صفحہ : ۲۱۸،جلد: ۱)
جب ایک شخص خود ہی اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ صادر کررہا ہے توکیا یہ اس امر کا کُھلا ہواثبوت نہیں کہ یا تواس نے روایت سے رجوع کرلیا، کیوں کہ روایت اس کی اپنی فہم سے تھی یااس نے اس کی کوئی تاویل کی۔ بہر حال جو خود ابن عباس کا فتوی بھی ہے کہ بیک وقت دی جانے والی تین طلاق نافذ ہے تواب جھگڑا کیا رہ گیا؟ اسی روایت میں ’’طلق امرأتہ ثلاثا‘‘کا لفظ موجود ہے جو متفقہ طورپر بیک وقت تین طلاقوں کے لیے مستعمل ہیں۔اس سے پتہ چلا کہ دوسرے مقامات پران الفاظ کو علیٰحدہ علیٰحدہ تین طلاقوں پرمحمول کرنا تکلف ہے۔
دوسری حدیث غیر مقلدین یہ پیش کرتےہیں’’عن ابن عباس قال کان الطلاق علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابی بکر وسنتین من خلافہ عمر طلاق الثلاث واحدۃً فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃً فلومضـیناہ علیہم فامضاہ علیہم‘‘  
  (مسلم شریف صفحہ: ۷۸جلد:۱؍ا  بوداؤدشریف صفحہ: ۲۱۸)
ابن عباس سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر کے عہدمیں اورحضرت عمر کے زمانہ خلافت میں دوسال تک تین طلاق ایک تھی توعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک لوگوں نے اس کام میں جلدی کی جس میں ان کے لیے مہلت تھی، کاش ہم اس کو ان پرنافذ کردیں پھر آپ نے اس کو ان پرنافذ کردیا۔
یہی حدیث طاؤس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو الصہبا نے ابن عباس سے دریافت کیا ’’اتعلم انماکانت الثلاث تجعل واحدۃ علے عہدہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابی بکر وثلاثا من امارۃ عمر فقال ابن عباس نعم‘‘
(مسلم شریف صفحہ: ۴۷۸جلد:۱) 
( ترجمہ)کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر کے عہد میں اورحضرت عمر کے زمانۂ خلافت کے تین سال تک تین طلاقوں کو ایک ہی کردیا جاتا تھا توابن عباس نے فرمایا، ہاں’’ان ہی‘‘ ابوالصہباء نے ابن عباس سے کہا’’ھات من ھناتک الم یکن صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابی بکر واحدۃ فقال قدکان ذالک فلما کان فی عہد عمر تتابع الناس فی الطلاق فاجازہ علیہم‘‘      (مسلم شریف صفحہ: ۴۷۸جلد:۱)
لائیے! اپنی عجیب باتوں سے کیا تین طلاق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر کے عہد میں ایک نہ تھی، وہ بولے بیشک ایسا ہی تھا،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ پے درپے طلاق دینے لگے توآپ نے اس کو ان پر نافذ کردیا۔
یہ ہے وہ روایت جس سے غیر مقلدین استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر کے عہد میں تین طلاق ایک ہی سمجھی جاتی تھی۔ لہٰذا اب بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔
جواب:یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ یہ مسئلہ معمولی نوعیت کا نہیں حلال وحرام کا مسئلہ ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس کی شان یہ ہے کہ حق عمر کی زبان پرجاری ہوتا تھا،جو آپ کے دل میں آتا، وہ وحی بن کرنازل ہوتا، جن کی پیروی کا خود سرکارِدوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کی سنت کو بدل دیں؟ اورحلال کو حرام قرار دے دیں ؟ اورپھر صرف حضرت عمر ہی  کا معاملہ نہیں، حضرت عثمان، حضرت علی، عشرہ مبشرہ، اورخود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم اورتمام صحابہ رضی اللہ عنہم ،حضرت عمر کے اتنے اہم فیصلے پر متفق ہوگئے، برائے نام اختلاف نہیں کیا، اورنہ کسی نے یہ کہا کہ اے عمر !تم کوسنّت رسول اورسنت ابوبکر بدلنے کا کیا حق ہے؟ حالانکہ اس زمانہ میں خلیفہ کی ذات تنقید سے بالاتر نہیں تھی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے کرتے کا واقعہ مشہو رہے۔ کئی مسائل میں اپنے دوسرے صحابہ کے اقوال کی طرف رجوع کرلیا تھا، کیا یہ سب کچھ اس امر کی واضح دلیل نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ سنت رسول اللہ اورسنت ابوبکر کے مطابق ہی تھا، کیوں کہ وہ حضرات منشاء رسول کو بہ نسبت ہماری زائد سمجھتے تھے، اورہماری بہ نسبت عمل پر بھی زائد حریص تھے، اب ہمارے سامنے دوراستے ہیں۔ ایک طرف توتما م صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع اوراتفاق (جو یقینا منشاء رسول کے خلاف نہیں ہوسکتا ہے) اوردوسری طرف غیر مقلدین کے چندمولوی صاحبان کا دعوائے حدیث دانی ہے۔ اب مسلمان خودفیصلہ کرلیں انہیں کس کی بات ماننا ہے؟
آئیے اب ذرامحدثین نے اس روایت کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:
 امام نووی ابن عباس کی اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں’’ھٰذہ الروایۃ لابی داؤد ضعیفۃ رواہ ایوب السنحتیانی عن قوم مجہولین عن طاؤس عن ابن عباسٍ فلا یحتج بہا‘‘
ابوداؤد کی یہ روایت ضعیف ہے۔ اسے ایوب سختیانی نے مجہول لوگوں سے، طاؤس سے، ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں۔
اس حدیث میں ابن عباس تین طلاق کا حکم نہیں بیان کررہے ہیں، بلکہ محض ایک واقعہ کا ذکر کررہے ہیں کہ لوگ پہلے زمانہ میں آج کل کی طرح تین طلاق نہیں دیتے تھے بلکہ ایک ہی دیا کرتے تھے۔ حدیث کے الفاظ اس سلسلے میں بہت واضح ہیں۔’’ انما الثلاث تجعل واحدۃ‘‘ یعنی تین طلاق جو آج کل دی جارہی ہے (کیو ں کہ الف لام عہد کا ہے) ان کی بجائے ایک ہی دی جاتی تھی۔ قرآن کریم میں بہت مقامات پرجعل اس معنی میں مستعمل ہوا ہے جیسے ‘’’اجعل الالہۃ اِلٰہًا وّاحدۃ‘‘ کیااس نے کئی معبودوں کوایک کردیا ہے؟ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ مثلاً سوپچاس معبودوں کو چھوڑ کر ایک ہی معبود برحق کا اعتقاد کیا ہے۔لہٰـذا لوگوں کا یہ کہنا کہ جب حضور کے زمانہ میں تین طلاق دی ہی نہیں جاتی تھی توایک کس چیز کو کہا جاتا تھا، درست نہیں۔
علامہ نووی فرماتے ہیں ، اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ابتداء میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ’’ انت طالق،انت طالق،انت طالق‘‘ کہتا اورا س کی مُراد اس سے نہ تو تاکید کی ہوتی اورنہ استیناف، بلکہ مطلق کہہ دیتا‘‘ توایک ہی طلاق کے واقع ہونے کا حکم دیا جاتا تھا، کیوں کہ وہ حضرات اس سے عام طورپر استیناف مراد نہیں لیتے تھے بلکہ تاکید کا ارادہ کرتے تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس لفظ کا استعمال بہت ہوگیا اورلوگ عام طور پر اس سے استیناف کا ارادہ کرنے لگے تو اس کو غالب پرمحمول کرتے ہوئے تین طلاقوں کا حکم کیا جانے لگااوردوسرے جوابات بھی ہیں، جو مبسوط کتب میں درج ہیں۔
چاروں اماموں کا فیصلہ:بعض لوگ سوچتے ہیںکہ کسی دوسرے امام کے مسلک پرایسے وقت عمل کرلینا چاہیے، مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت ان چار اماموں کی مقلدہے، ابوحنیفہ، مالک، شافع، احمد بن حنبل، اوران چاروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تین طلاقوں کے بعدعورت حرام ہوجاتی ہے۔(شرح امام نووی علی مسلم شریف صفحہ:۴۷۸)
یکدم تین طلاق دینا بُری بات ہے:یک دم تین طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجائے گی مگریہ گناہ کی بات ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس  پرسخت ناراـضگی کا اظہار فرمایا ہے۔
محمود بن لبید سے روایت ہے کہ’’أخبررسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبانا ثم قال ایلعب بکتاب اللّٰہ وانا بین اظہر کم حتی قام رجل وقال یا رسول اللّٰہ الا اقتلہ‘‘
(ترجمہ)حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبری دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک دم دیدیں، آپ سن کر ناراضگی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا میرے ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب سے مذاق کیا جاتا ہے؟ یہاں تک کہ ایک صحابی اٹھ کھڑے ہوئے اورعرض کی یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟
ضروری گذارش:بعض دوستوں کا خیال ہے کہ عورتوں کے مصائب اور ان کی تکالیف دیکھتے ہوئے اس مسئلے میں کچھ لچک اورگنجائش پیداکرنی چاہیے۔ میں خود شدت سے اس امر کا قائل ہوں کہ فروع میں جہاں تک ممکن ہو اہل حضرات اجتہاد فرمائیں اورمسلمانوں کے لیے راہیں تلاش کریں، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہوتے ہیں،اگرکوئی مسئلہ نیا ہوتو اس پرکچھ بحث وتمحیص ہوسکتی ہے اور آسا ن سے آسان راہ تلاش کی جاسکتی ہے لیکن جس مسئلہ کا فیصلہ ہوچکا ہو،صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین فیصلہ دے چکے ہوں اورامت مسلمہ کی بڑی اکثریت اس فیصلہ کو تسلیم کرچکی ہوتو اب اس میں مزید کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
رہے وہ مصائب جو طلاق کے بعدطرفین کے لیے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ضروری ہےکہ لوگوںکو اس مصیبت میں پڑنے سے پہلے ہی مطلع کردیا جائے ۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب دنیاوی قوانین جو خود انسانوں نے بنائے ہیں،ان کے مطابق سخت سے سخت سزائیں موجود ہیں اورنافذ ہیں ان پرکچھ اعتراض نہیں ہوتا، واللہ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جس قا نو ن سے مجرمین کو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے، اگریہی رجحان رہا تواسلام کی بنیادی تعلیمات کا تحفظ بھی ناممکن ہوجائے گا۔
انتباہ :قارئین پرواضح ہوکہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے سے تینوں طلاق واقع ہونے کے سلسلے میں علماء دیوبند بھی متفق ہیں۔ ان سے بھی فتویٰ حاصل کرکے شامل اشاعت کردیا گیا ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
سوالات:(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید اپنی بیوی کوایک ہی وقت میں اگر تین طلاق دے توکیا حکم ہے آیا طلاق ہوگی یا نہیں؟
(۲) نیز بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں تین طلاق ایک ہی ہوگی۔
برائے کرم مسئلہ کا جواب مدلل تحریر فرما کر ممنون فرمائیں۔
سائل : سیّد شاہ تراب الحق قادری ،اپریل 1981ء 
الجواب باسمہٖ تعالی:۔ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک کلمہ میں تین طلاق دے توتینوں طلاق واقع ہوتی ہیں اوراگر تین طلاق بیک وقت تین کلمات میں دیں توپھر تینوں واقع ہوں گی اگر بیوی مدخو ل بہا ہو، اسی پرسلف صالحین کا اجماع ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری جلدنمبر۹؍ میں اس پراجماع نقل کیا ہے اوریہی مذہب عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے جس کو حافظ نے فتح الباری میں نقل فرمایا ہے۔
قرآن کریم سے بھی یہی مفہوم ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دوطلاقوں کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا’’فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلَُ لَّہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ‘‘فاء تعقیب مع الوصل کے لیے ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ تیسری طلاق اگردو طلاقوں کے بعد متصل ہوتو تینوں طلاق واقع ہوکر بغیر حلالہ کے کوئی صورت تحلیل کی نہیں ہے۔ قرآن سے یہی مسئلہ واضح طورپر معلوم ہوتا ہے اوراسی پرامام نووی نے شرح مسلم جلد۲؍پرائمہ اربعہ اورسلف وخلف کا اجماع نقل کیا ہے صفحہ:۴۰۸؍ بخاری شریف کی حدیث ہے’’عن عائشۃ ان رجلا طلق امرأتہ ثلاثا فتزوجت فطلق نسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل الاول قال لا حتی یذوق علیتہا کما زاتہا الاول‘‘( بخاری شریف صفحہ:۷۹۱جلد: ۲)
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ۔اس کے متعلق آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا پہلے خاوند کے لیے حلال ہوسکتی ہے؟ آنحضور نے فرمایا کہ نہیں جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے لطف اندوز نہ ہو، جیسا پہلا خاوند لطف اندوز ہواتھا۔
اسی قسم کی ایک اورروایت بھی حضرت عائشہ سے موجود ہے۔ سنن کبریٰ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے توجب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے پہلے کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہی مذہب عبداللہ بن عباس کا ہے جس کو سنن کبریٰ صفحہ:۵۴ جلد:۸ میں نقل کیا ہے ۔مسند اما م احمد میں انس بن مالک سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی پھر اسی عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کیا اوراس نے اس کو طلاق قبل الدخول دی ،تو کیا یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں،جب تک شوہر ثانی شوہراوّل کی طرح مباشرت نہ کر ے ۔ (تفسیر ابن کبیر)
سنن بیہقی میں سویدبن غفلہ سے مروی ہے کہ عائشہ خثمیہ حضرت حسن بن علی کی زوجیت میں تھیں، جب حضرت علی شہید ہوئے توخثمیہ نے حضرت حسن کوخلافت کی مبارکباددیحضرت حسن کو یہ بات ناگوار گذری کہ آپ کو حضرت علی کی شہادت سے خوشی ہوئی۔
فرمانے لگے’’ اذھبی فانت طلالق ثلاثا‘‘حضرت حسن نے اس کا بقیہ مہراوردس ہزار درہم بھیج دیئے، عائشہ خثمیہ کو صدمہ ہوا، حضرت حسن نے فرمایا کہ اگرمیں اپنے جدامجد کا یہ قول نہ سنتا تورجوع کرتا۔ وہ قول یہ ہے کہ جوشخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے حیض کے وقت یا اورکسی طرح تووہ اس کے لیے حلال نہیں، یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور بھی بہت سے روایات ہیں جن کے نقل کرنے کی یہاں گنجائش نہیں۔
دوسرے مسئلہ میں بعض مدعیان حدیث نے دوسرا مسلک اختیار کیا ہے اوروہ یہ کہ تین طلاق بیک وقت ایک ہوتی ہے جن کا استدلال اس حدیث سے ہے جوابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے راوی حضرت طاؤس ہیں، وہ یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  اورحضرت ابوبکر اورحضرت عمر کے ابتدائی دوسال میں تین طلاق ایک ہوتی تھی ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں نے اپنے معاملہ میں جلد بازی سے کام لیا ، حالانکہ ان کو سمجھنے کا وقت حاصل تھا۔ ہم کیوں تینوں کو ان پر نافذ نہ کریں چنانچہ حضرت عمر نے تینوں نافذ کیں ۔ (مسلم شریف)
اس روایت کے بہت سے معقول جوابات دیئے گئے ہیں جن میں سب سے آسان جواب یہ ہے کہ یہ غیر مدخول بہا کے بارے میں ہے جس کو’’انت طالق، انت طالق، انت طالق‘‘ کہا جائے تو اس صورت میں ایک طلاق واقع ہوتی ہے، پھر جب لوگوں نے مدخول بہا کو بھی کہنا شروع کیا توحضرت عمر نے فرمایا کہ تینوں نافذ ہوں گی۔ نیزقاضی شوکانی نے امام احمدبن حنبل سے نقل کیا ہے کہ طاؤس کی روایت اپنے دوسرے ساتھیوں کے خلاف ہے، کیوں کہ وہ اس کے خلاف نقل کرتے ہیں۔ (نیل الاوطار) یایہ روایت منسوخ ہے۔ جیسا کہ ابوداؤد کی روایت سے معلوم ہوتاہے یا پہلے زمانے کے لوگ تثلیث تاکید کے لیے کرتے تھے۔ مجھے بعدمیں تاسیس کرتے ہوئے بھی تاکیدظاہر کی توحضرت عمر نے ظاہر پرعمل کرتے ہوئے تاکید کوکالعدم بنایا ۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یہ گمان کرنا کہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ کیا، نہایت بعید اورحضرت عمر کی شان اتباع سے کوسوں دُور ہے۔
فقط واللہ السلام
کتبہ رضاء الحق عفا اللہ عنہ 
جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر5
3جمادی الثانیہ 1401ھ 
الجواب دوم 
(تلخیص فتو یٰ دارالعلوم کراچی)
قرآنی آیات و احادیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، اجماع صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اورجمہورامت کا اس پر اتفاق اوراجماع چلا آرہا ہے کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے توتینوں واقع ہوجائیں گی، چاہے ایک ہی لفظ میںدے۔ (ہر حالت میں تین طلاق واقع ہوں گی) البتہ عورت اگر مدخولہ بہا ہوتوالگ الگ کہنے کی صورت میں صرف پہلی طلاق واقع ہوگی، اوراس سے وہ بائن ہوجائے گی اورباقی دولغو ہوجائیں گی۔
اس مسئلہ میں چند غیر مقلدین کے علاوہ جن میں حافظ ابن تیمیہ اورحافظ ابن قیم اوران کے متبعین شامل ہیں۔ جمہور کی کسی نے بھی مخالفت نہیں کی اور مخالفت کیونکر کرتے ، جب کہ خود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارکہ میں تین طلاق کو تین ہی قرار دیا گیا اورآپ کے بعد صحابۂ کرام کا اس پر اجماع رہا ہے۔جو حضرات ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کوایک طلاق ہونے کے قائل ہیں، ان کے پاس ایک بھی صحیح مرفوع روایت موجود نہیں ہے جو ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے ایک طلاق ہونے پر دلالت کرنے والی ہو، اس کے برخلاف ذخیرۂ احادیث میں عہدِ رسالت کے متعدد واقعات موجو دہیں جن سے ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے ہی طلاق واقع ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جمہورِ امت کے ساتھ منسلک رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واللہ اعلم بالصواب               
احقر عبدالشکور کشمیری             
دارالافتاء دارالعلوم کراچی  13؍6؍1401ھ
الجواب صحیح: احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ، دار الافتاء دارالعلوم کراچی 
٭٭٭



طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور
مفتی محمد نظام الدین رضوی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’اَلْطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ فَاِمسَاکٌ بِمَعْرُوْفِِاَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَا نِ ‘‘ 
(سورہ البقرہ۲۲۹)
طلاق دو بارتک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ۔
اس کے بعد آیت ۲۳۰؍میں فرمایا گیا’فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلَُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ
پھر اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے شوہر کے پاس رہے۔
ان آیات میں تینوں طلاقوں کا حکم بیان کیا گیا ہے :
٭ایک اور دو طلاق تک شوہر کو رجعت کا اختیار ہے، چاہے تو عورت کو واپس کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
٭تیسری طلاق کے بعد رجعت کا اختیار نہ رہے گا اور عورت بغیر حلالہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔
حکم تینوں طلاق کا بیان کر دیا گیا، لیکن کسی بھی طلاق کے ساتھ یہ شرط نہیں ذکر کی گئی کہ وہ الگ مجلس میں ہو، بلکہ ان احکام کو مطلق ،بلاشرط و قید رکھا اور قاعدہ یہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔لہذا قرآن حکیم میں ہر طلاق کا جو حکم بیا ن کیا گیا ہے وہ بہر حال جاری ہوگا، خواہ شوہر نے ایک ہی مجلس میں دوسری یا تیسری طلاق دی ہویا الگ الگ مجلس میں۔ ہاں اگر قرآن پاک میں یہ ہوتا:’’فان طلقہا فی مجلس اٰخر‘‘( اگر تیسری طلاق الگ مجلس میں دے دی) تو مجلس کی شرط قابل اعتناء ہوتی لیکن قرآن حکیم میں ایسا کہیں بھی نہیںاس لیے یہ شرط قرآن پر زیادتی ہے ۔ 
علاوہ ازیں عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ ’’فائ‘‘ تعقیب مع الفور کے لیے ہے یعنی جس چیز پر فاء داخل ہوتی ہے وہ چیز فاء کے ماقبل کے بعد فوراً ہوتی ہے، جیسے کسی نے کہا’’جاء نی زید فعمرو‘‘ آیا زید پھر عمرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر و زید کے بعد فوراً آیا اور اگر آنے میں کچھ دیر ہو تو عرب فاء کے جگہ ’’ثم‘’ لا تے ہیں ۔ قرآن حکیم میں تیسری طلاق کا ذکر ’’ثم ‘‘ کے لفظ سے نہیں، بلکہ فاء کے لفظ سے ہے ،تو اس کا صریح مطلب یہ ہوا کہ دو طلاق کے بعد اگر اسی مجلس میں فوراً بلا تاخیر تیسری طلاق دے دی تو یہ طلاق بھی نافذ ہو جائے گی کہ ’’فوراً‘‘ کا لفظ اسی وقت صادق آئے گا جب کہ مجلس ایک ہو، اصول فقہ کی مشہور کتاب ’’منار‘‘ اور‘‘ نور الانوار‘‘ میں ہے:
’’والفاء للوصل والتعقیب، ای لکون المعطوف موصولا بالمعطوف علیہ متعقبا لہ بلا مہلۃ فیتراخی المعطوف عن المعطوف علیہ بزمان، و ان قل ذلک الزمان بحیث لا یدرک اذ لو لم یکن الزمان فاصلاًاصلا کان مقارنا تستعمل فیہ کلمۃ مع‘‘(صفحہ:۱۲۳)
حرف فاء تعقیب مع الوصل کے لیے ہے یعنی یہ بتانے کے لیے ہے کہ معطوف، معطوف علیہ کے بعد ہے اور ساتھ ہی بلا مہلت اس سے متصل بھی ہے، تو معطوف کا زمانہ معطوف علیہ کے بعد ہوگا، اگر چہ وہ زمانہ اتنا کم ہو کہ اس کا احساس نہ ہو سکے، کیوں کہ اگر زمانہ بالکل ہی فاصل نہ ہو تو مقارن ہوگا اور مقا ر نت بتانے کے لیے ’’مع‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
غیر مقلدوں کے نزدیک بھی حرف فا ء کا یہی مفہوم ہے۔چنانچہ ان کے امام مجتہد ملا نذیرحسین دہلوی نے اپنی کتاب’’ معیار الحق‘‘ کے آخر میں جمع بین الصلاتین کی بحث میں یہ لکھا ہے:’’فاء ترتیب بے مہلت کے لیے ہے۔‘‘
یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ کتاب و سنت کا نام لےکر جو فتنہ قرب قیا مت میں اٹھایا جانے والا تھااس کا سد باب اس نے اپنے نظم بیان کے ذریعہ تنزیل کے وقت ہی فرمادیا۔
 صحاح ستہ کی مشہور کتاب ’’سنن ابن ماجہ شریف‘‘ میں ایک باب ہے’’باب من طلق ثلاثا فی مجلس واحد‘‘ ایک مجلس میں تین طلاق کا بیان۔
پھر اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے:حضرت عامر شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلا ق کا واقعہ بتائیں، تو انہوں نے کہا:’’طلقنی زوجی ثلاثا، وہو خارج الی الیمن فاجاز ذلک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم‘‘
(ترجمہ)میرے شوہر نے یمن کے لیے( گھر سے) نکلتے وقت مجھے تین طلاق دے دیں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تینوں طلاق نافذ فرما دیں۔                         (سنن ابن ماجہ صفحہ:۱۴۷)
’’یمن کو نکلتے وقت تین طلاق دینے‘‘ کے لفظ سے عیاں ہو رہا ہے کہ فا طمہ بنت قیس کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی، اس کی تائید اسی حدیث کی دوسری روایت سے ہوتی ہے، جسے حدیث کی مستند کتاب ’’دار قطنی‘‘ میںان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے’’ان حفص بن المغیرہ طلق امرا تہ فاطمۃ بنت قیس علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثلث تطلیقات فی کلمۃ واحدۃ فابانہا منہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔‘‘
حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زما نے میں ایک ہی جملہ میںتین طلاق دے دی، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ سلم نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ (دار قطنی صفحہ۴۳۰، جلد:۲)
حدیث پاک کی دونوں روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس میں اور ایک ہی جملہ میں دی گئی تین طلاقوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نافذ کر دیا، یہی وجہ ہے کہ محدث ابن ماجہ نے اس حدیث کو ’’ایک مجلس میں تین طلاق‘’ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔
مشہورصحابیٔ رسول حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ان کے والد نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا’’بانت بثلث فی معصیۃ اللّٰہ تعالٰی و بقی تسع مائۃ و سبع و تسعون عدوانا وظلما‘‘
(ترجمہ)تین طلاقوں سے عورت نکاح سے نکل گئی، مگر شوہر اللہ کا نافر ما ن و معصیت کار ہوا ،اور بقیہ نو سو ستانوے (۹۹۷) طلاق ظلم و سرکشی ہے۔
 (  صنف عبد الرزاق، صفحہ:۳۹۳، جلد:۶؍ دارقطنی، صفحہ:۴۳۳، جلد:۲)
ظاہر ہے کہ یہ ہزار طلا ق ہزار مجلسوں میں نہیں دی گئیں،بلکہ غصہ کی وجہ سے ایک ہی مجلس میںسب طلاق دی گئیں، خواہ ایک کلمہ میں، یا لگاتار کئی کلموں میں۔سب جانتے ہیں کہ جب شوہروں کو طلاق کا جوش آتا ہے تو وہ ایک ساتھ بہت سی طلاق دے بیٹھتے ہیں۔
 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میںطلاق دے دی تو اس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے اور انہیں رجعت کا حکم دیا، تو انہوں نے پوچھا  یارسو ل اللّٰہ !ارایت لو طلقتہا ثلاثا؟ قال اذا قد عصیت ربک،و بانت منک امراتک‘‘
یا رسول اللہ !اگر میں نے اسے تین طلاق دے دی ہوتی تب کیا حکم ہوتا؟ آپ نے فرمایا تم خدا کے نافرمان ہوتے اور تمہاری بیوی تمہارے نکاح سے نکل جاتی ۔
اس حدیث پاک سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا گناہ ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غضب ناک ہوئے تھے، یوں ہی تین طلاق ایک ساتھ دینا بھی گناہ و معصیت ہے۔
دوسری بات یہ کہ حیض کی حالت میں بھی اگر کوئی ایک ساتھ تین طلاق دے دے تو تینوں طلاق پڑ جائیں گی اورعورت نکاح سے نکل جائے گی کیوں کہ حضرت ابن عمر نے جو سوال پوچھا تھا اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک طلاق پر تو رجعت کا حکم ہے لیکن اگر میں نے ایک کے بجائے تین طلاق دے دی ہوتی تب کیا حکم ہوتا؟ کیا اس صورت میں بھی رجعت کا اختیار رہتا؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا سوال ایک ساتھ تین طلاق کے بارے میں تھا اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ عورت حائضہ ہو۔
غورفرمائیے، یہاں دو طرح سے خدائے پاک کی نافرمانی کا ارتکاب ہو رہا ہے:
(1) ایک تو حیض کی حالت میں طلاق دینے کا۔
(2) دوسر ے ایک ساتھ تین طلاق دینے کا۔
پھر بھی رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں یہ حکم سنا دیا کہ طلاق پڑ جائے گی۔ عورت نکاح سے نکل جائے گی، تو اگر کوئی ایک ہی نافرمانی کا ارتکاب کرے کہ طہر کی حالت میں ایک ساتھ تین طلاق دے دے تو اس صور ت میں بدرجۂ اولیٰ تینوں طلاق پڑ جائیں گی۔
نافع  بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ’’طلاق بتہّ‘‘ دے دی پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واقعہ کی خبر دی اور عرض کیا کہ خدا کی قسم میں نے صرف ایک طلاق کی نیت کی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا: خدا کی قسم تو نے صرف ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی؟تو رکانہ نے عرض کیا کہ خدا کی قسم میں نے صرف ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں لوٹا دی۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ:۳۰۰، جلد :1؍ابن ماجہ صفحہ:۱۴۰)
یہ روایت ہے حضرت رکانہ کے ایک پوتے حضرت نافع بن عجیر کی اور انہیں کے دوسرے پوتے عبد اللہ بن علی نے بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا ہے۔ البتہ ان کی روایت میں سرکار کے جواب کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں’’ہو علی مااردت ‘‘ طلاق وہی پڑی جس کی تو نے نیت کی۔(ایضا)
’’بتّہ ‘‘ کا لفظ مصدر ہے اور مصدر فرد حقیقی کا بھی احتمال رکھتا ہے اور فرد حکمی کا بھی۔ طلاق کا فرد حقیقی ایک ہے اور فرد حکمی تین، تو طلاق بتّہ کے لفظ میں ’’ایک‘‘ اور ’’تین‘‘ دونوں ہی افراد کا احتمال ہے۔اب کسی بھی ایک احتمال کی تعیین ہو گی’’ بیانِ نیت‘‘ سے۔ اسی لیے حضرت رکانہ نے خود ہی اپنی نیت بتادی کہ میں نے ایک طلاق مرادلی ہے، مگر ایک طلاق مراد لینے میں چوں کہ تہمت کا شبہ ہے کہ بیوی کو بچانے کے لیے احتمال کا فائدہ اٹھایا، اس لیے انہوں نے قسم بھی کھالی کہ شبۂ تہمت کی صورت میں بیانِ نیت کا اعتبار قسم کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور اس کی مزید توثیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے دوبارہ قسم لی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت رکانہ نے’’طلاق بتّہ‘‘ سے تین طلاق مراد لی ہوتی تو ان کی بیوی پر تین طلاق مغلظہ واقع ہوتی۔ اگر تین طلاق کے پڑنے کا احتمال نہ ہوتا تو حضرت رکانہ، نہ تو قسم کھاتے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قسم لیتے، ایسی صورت میں قسم لینا اور قسم کھانا دونوں لغو ہوتا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قسم لی اور حضرت رکانہ نے قسم کھائی تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر ان کی نیت تین طلاق کی ہوتی تو گو کہ وہ لفظ انہوں نے ایک مجلس میں اور ایک ہی دفعہ میں کہا تھا ،تاہم سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فیصلہ یہی ہوتا: ’’ہوعلی ما اردت‘‘طلاق وہی پڑی جس کی تو نے نیت کی،یعنی تین طلاق۔
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور عرض کی کہ ’’انہ طلق امراتہ ثلاثا‘‘اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہیتو حضرت ابن عباس خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ اسے رجعت کا حکم دیں گے، کچھ دیر بعد فرمایا : تم میں ایک آدمی حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس، اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے:’’و من یتق اللّٰہ یجعل لہ مخرجا‘‘جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (گنجائش کی) راہ نکال دیتا ہے۔اور تم تو اللہ سے ڈرے نہیں، تو میں تمہارے لیے کوئی گنجائش کی راہ نہیں پاتا’’عصیت ربک و بانت منک امراتک‘‘تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تیرے نکاح سے نکل گئی۔(سنن ابی داؤد شریف، صفحہ ۲۹۹،جلد:۱)
حضرت مجاہد کے علاوہ حضرت سعید بن جبیر، حضرت عطائ، حضرت مالک بن حارث، حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی حضرت ابن عباس کا یہی فتویٰ بیان کیا ہے۔ چنانچہ ابو داؤد شریف میں ہے’’روی ہذا الحدیث حمید الاعرج وغیرہ عن مجاہد و عن سعید بن جبیر و عن عطاء و عن مالک بن الحارث و عن عمرو بن دینار عن ابن عباس، کلہم قالوا فی الطلاق الثلاث انہ اجازہا، قال: وبانت منک‘‘
اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد، سعید بن جبیر، عطا، مالک ابن حارث اور عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے کہ یہ سب حضرات بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے سائل کی تینوں طلاقوںکو نافذ کر دیا اور فرمایا کہ تیری عور ت نکاح سے نکل گئی۔ 
(اودائود شریف ص:۲۹۹ جلد:۱)
 اسی نوع کے ایک دوسرے واقعہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہی فتویٰ صادر کیا۔ چنانچہ حدیث کی مستند کتاب مؤطا امام مالک میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے کہا’’انی طلقت امراتی مائۃ تطلیقۃ فماذا تری علیّ؟‘‘میں نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے ڈالی ہیں، تو آپ مجھے کیا فرماتے ہیں؟
اس کے جواب میں حضرت ابن عباس نے فرمایا’’طلقت منک بثلاث، و سبع و تسعون اتخذت بہا اٰیات اللّٰہ ہزوا، رواہ فی المؤطا‘‘تیری عورت پر تین طلاق پڑ گئیں اور ستانوے طلاق دے کر تو نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا ہے۔            
( مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ مؤطا امام مالک ،صفحہ:۲۸۴)
 ان ابن عباس و أبا ہریرۃ و عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص سئلوا عن البکر یطلقہا زوجہا ثلاثا؟ فکلہم قالوا: لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ۔‘‘
حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سوال کیا گیا کہ دوشیزہ کو اس کا شوہر تین طلاق دے دے تو اس کا حکم کیا ہے؟ تو ان سب حضرات نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے شوہر کے لیے حلال نہ رہی، تا وقتیکہ حلالہ نہ ہو جائے۔ 
( طحاوی  شریف، صفحہ:۳۳، جلد:۲؍ مصنف عبد الرزاق ،صفحہ: ۳۳۳ جلد:۶)
’’دوشیزہ‘‘ سے مراد وہ عورت ہے جس کے ساتھ اس کے شوہر نے ابھی جماع نہ کیا ہو نہ خلوت واقع ہوئی ہواسے فقہاء کی اصطلاح میں ’’غیر مدخولہ‘‘ کہتے ہیں۔غیر مدخولہ کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ اگر اس کا شوہر الگ الگ نشستوں میں اسے تین طلاق دے تو اس پر صرف ایک ہی طلاق پڑے گی، کیوں کہ اس عورت کا رشتۂ نکاح شوہر سے خوب مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے ایک ہی طلاق سے وہ نکاح سے نکل جاتی ہے اور بقیہ طلاق لغو ہوتی ہیں، بلکہ اگر ایک ہی مجلس میں شوہر اسے طلاق دے لیکن تین بار میں دے تو بھی بالاتفاق ایک ہی طلاق پڑے گی۔ وجہ وہی ہے جو بیان ہوئی ، غیر مدخولہ پر تین طلاق پڑنے کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ:
٭ شوہر اسے ایک ہی مجلس میں طلاق دے ۔
٭ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی کلمہ میں تین طلاق دے، مثلاً یہ کہے کہ میں نے تم کو تین طلاق دیا۔
اس لیے غیر مدخولہ کے بارے میں حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا درج بالا فتویٰ اس امر کا قطعی و یقینی ثبوت ہے کہ ایک مجلس اور ایک کلمہ میں دی ہوئی تینوں طلاق تین واقع ہوتی ہیں۔
اس حدیث کی دوسری روایت مؤطا امام مالک میں ہے، اس وجہ سے یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو کر ثابت ہو جاتا ہے، اب دوسری روایت بھی ملاحظہ کیجیے:
محمد بن ایاس بن بکیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ دخول سے پہلے اسے تین طلاق دے دی، پھر ان کا خیال اس عورت سے نکاح کا ہوا تو وہ فتویٰ پوچھنے آئے، میں بھی ان کے ساتھ گیا، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابو ہریرسے اس کے بارے میں دریافت کیا،تو دونوں حضرات نے فرمایا’’لانری أن تنکحہا حتیٰ تنکح زوجا غیرہ، قال: فانما کان طلاقی ایاہا واحدۃ؟ فقال ابن عباس: انک ارسلت من یدک ما کان لک من فضل۔‘‘
اس عورت کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں تاآنکہ وہ دوسرے شخص کے پاس رہے، (یعنی حلالہ کرائے) اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اسے صرف ایک دفعہ طلاق دی ہے؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تیرے لیے جو مزید (دو دفعہ طلاق دینے کا) اختیار تھا تو نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے گنوا دیا۔  (فتح القدیر صفحہ: ۴۶۹؍ ۴۷۰، جلد:۳)
یعنی ایک ہی دفعہ میں جب تو نے تینوں طلاق دے دی تو تجھے اب مزیدطلاق دینے کا اختیار نہ رہا کہ شوہر تین ہی طلاق کا مالک ہوتا ہے۔
اس حدیث پاک سے بہت کھل کر یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایک مجلس اور ایک کلمہ میں دی ہوئی تین طلاق تین پڑتی ہیں۔
 حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی’’انی طلقت امراتی تسعا و تسعین فقال لہ ابن مسعود، ثلاث تبینہا و سائر ہن عدوان‘‘میں نے اپنی بیوی کو ننانوے (۹۹)طلاق دی ہیں تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا: تین طلاقوں سے وہ نکاح سے نکل گئی اور بقیہ طلاق تیری سرکشی ہیں۔ (مصنف عبدالرزاق، ص:۳۹۵)
 حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی بن ابو طالب کی خدمت میں آیا اور عرض کی’’انی طلقت امرأتی ألفا ،فقال لہ علی :بانت منک بثلاث و اقسم سائرہن علی نسائک‘‘ 
میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار(۱۰۰۰) طلاق دے دی ہے تو حضرت علی نے فرمایا: تین طلاق سے تو تیری عورت تجھ سے جدا ہو گئی اور بقیہ طلاقیں اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کردو۔                  (مصنف عبد الرزاق، نقلہ فی فتح القدیر)
ایک شخص نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا’’انی طلقت امرأتی ثمانی تطلیقات فقال ما قیل لک؟ فقال : قیل لی: ’’بانت منک‘’ قال صدقوا، ہو مثل ما یقولون۔‘‘ 
میں نے اپنی بیوی کو آٹھ(8) طلاق دے دی ہے تو حضرت ابن مسعود نے پوچھا، تمہیں اس کا حکم کیا بتا یا گیا؟، سائل نے کہا مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تیری عورت تجھ سے جدا ہو گئی، تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا صحابہ نے سچ بتایا، حکم وہی ہے جو وہ بتا رہے ہیں۔(مؤطا امام مالک)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق سے ظاہر یہی ہے کہ اس حکم پر صحابۂ کرام کا اجماع تھا۔
یہ اور اس طرح کے بہت سے آثار صحابہ نقل کرنے کے بعد امام ابن ہمام کمال الدین حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے پر صحابۂ کرام کا اجماع ظاہر ہے، کیوں کہ جس وقت خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تینوں طلاق نافذ فرمائی تھی، کہیں منقول نہیں کہ اس وقت کسی بھی صحابیٔ رسول نے آپ کی مخالفت ہو۔
علاوہ ازیں نقلِ اجماع میں صرف اس نقل کا اعتبار ہے جو مجتہدین سے منقول ہو ،اور ایک لاکھ صحابۂ کرام میں فقہا کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں۔جیسے خلفاء، عبادلہ زید بن ثابت ،معاذ بن جبل، انس، ابو ہریرہ، اور چند صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم، باقی صحابہ انہیں کی طرف رجوع کرکے مسائل دریافت کرلیا کرتے تھے اورہم نے اکثر مجتہدینِ صحابہ سے یہ صریح نقل پیش کردی کہ مجلس واحد کی تین طلاق تین ہی ہوتی ہے اوراس باب میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہ ہوا، توحق کے بعدکیا رہا ، سوائے گمراہی کے، اسی وجہ سے ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی حاکم نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ نافذ نہ ہوگا، کیوں کہ اس میں اجتہاد جائزنہیں‘‘۔(فتح القدیر، صفحہ:۴۷۰،جلد:۳)
حجۃ الاسلام امام جصاص رازی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کتاب وسنت وآثارِ صحابہ سے استدلال کے بعد فرماتے ہیں’’فالکتاب والسنۃ وإجماع السلف توجب إیقاع الثلاث معاً وإن کانت معصیۃ‘‘ 
حاصل کلام یہ کہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اوراجماع صحابہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ساتھ دی گئی تینوں طلاق لازماً ایک ساتھ واقع ہوتی ہیں اگرچہ یہ گناہ ہے۔ 
(احکام القرآن صفحہ:۳۸۸، جلد:۱)
طحاوی شریف میں ہے’’لمّا کان فِعل أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم  جمیعا فعلاً یجب بہ الحجۃ کان کذلک ایضا، اجماعہم علی القول إجماعاً یجب بہ الحجۃ‘‘ 
جب تمام اصحاب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فعل واجب الحجت ہے تویوں ہی قول عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پران کا اجماع بھی واجب الحجت ہوگا۔
(صفحہ:۴۱۹؍۴۲۰،جلد:۲ )
طحطاوی علی الدر المختار میں ہے’’من أنکر وقوع الثلاث فقد خالف الإجماع ولو حکم حاکم بان الثلٰث تقع واحدۃ لم ینفذ حکمہ لأنہ لا یسوغ فیہ الإجتہاد‘‘
جس نے ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے کا انکار کیا، اس نے اجماع کی مخالفت کی، لہٰذا اگرکوئی حاکم تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا فیصلہ صادر کردے تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہوگا کیوں کہ اجماعی مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی۔
اجماع کی مخالفت جائز نہیں، اس کی دلیل قرآن حکیم کی یہ آیت کریمہ ہے ’’ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیِّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتّبِعْ غَیْرَسَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ ماَتَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیْراً۔‘‘( سورہ نسائ: آیت: ۱۱۵)
اورجورسول کا خلاف کرے بعداس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اورمسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اوراسے دوزخ میں داخل کریں گے اورکیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔ 
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے ، اس کی مخالفت جائز نہیں ۔ 
(مدارک شریف) 
اوراس سے یہ بھی ثابت ہواکہ مسلمانوں کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔
ازالہ شبہ:کتاب وسنت اوراجماع صحابہ کے برخلاف دو روایتوں سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین نہ ہوں گی،بلکہ ان سے صرف ایک طلاق واقع ہوگی،وہ روایتیں یہ ہیں:
 ابن جریح کہتے ہیں کہ مجھے ابورافع کے لڑکوں میں سے بعض نے خبر دیا کہ عکرمہ نے بتایا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا’’طلّق أبورکانۃأمّ رکانۃ…ثم قال: راجع امرأتک أمّ رکانۃ، قال: إنّی طلقتہاثلاثا یا رسول اللّٰہ!قال قد علمت راجعہا‘‘ 
ابو رکانہ نے ام رکانہ کوطلاق دے دی،رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا’’اپنی بیوی ام رکانہ کولوٹا لو‘‘ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے تواسے تین طلاق دے دی ہے، آپ نے فرمایا’’ مجھے معلوم ہے، تم اسے (نکاح کرکے) لو ٹا لو ‘ ‘ 
(سنن ابی داؤد،صفحہ:۲۹۸،جلد:۱)
 حضرت طاؤس روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں نیز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوسال تک تین طلاق ایک مانی جاتی تھی توحضرت عمر بن خطاب نے فرمایا’’جس بات میں لوگوں کے لیے ڈھیل تھی اس میں انہوں نے جلد بازی کردی،ہم اسے ان پر نافذ کردیں گے پھرآپ نے ان پر اسے نافذ فرمادیا۔
 (مسلم شریف صفحہ:۴۷۷،۴۷۸، جلد:۱)
ان حدیثوں سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں تین طلاق کو تین قرار دیاگیا۔ اس سے پہلے تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا،لیکن اس استدلال کی حیثیت ایک شبۂ ضعیف سے زیادہ نہیں اس کی قدرے تشریح یہ ہے:
(1) حدیث اول ضعیف ومنکر ہے، اس کے راوی مجہول لوگ ہیں’’أما الروایۃ التی رواھا المخالفون أنّ رکانۃ طلّق ثلاثاً فجعلہا واحدۃ فروایۃ ضعیفۃ عن قوم مجہولین‘‘ 
یہ روایت کہ رکانہ نے تین طلاق دی تھی اوررسول اللہ نے اسے ایک طلاق قرار دیا، ضعیف روایت ہے جس کے راوی مجہول لوگ ہیں۔(شرح صحیح مسلم ص:۴۷۸، جلد:۱) 
امام ابوزکریا نووی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ انکشاف فرمایا۔
(2) طلاق کا معاملہ عموماً گھرمیں پیش آتا ہے۔ اس لیے گھر والوں کو واقعہ کا صحیح علم ہوتا ہے اورگھر کے لوگوں کی روایت یہ ہے کہ رکانہ نے ’’طلاقِ بتّہ‘‘ دی تھی اور خود رکانہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں قسم کھا کریہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی نیت ایک طلاق کی تھی لیکن اس کے برخلاف تین طلاق کی روایت گھر والوں کے علاوہ دوسروں کی ہے تومعاملہ طلاق میں گھر والوں کی روایت کے خلاف دوسروں کی روایت مقبول نہ ہوگی۔ چنانچہ محدث جلیل الشان حضرت امام ابوداؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نافع بن عجیر اورعبداللہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی’’طلاقِ بتّہ‘‘ والی روایتوں کو نقل کرکے فرماتے ہیں:’’قال أبو داؤد: وھٰذا أصحّ من حدیث ابن جریح أنّ رکانۃ طلّق امرأتہ ثلاثاً لأنہم أھل بیتہٖ وہم أعلم بہ وحدیث ابن جریح رواہ عن بعض بنی أبی رافع‘‘   (سنن ابی داؤد شریف، صفحہ:۳۰۰؍۳۰۱ جلد:۱)
ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابن جریح کی اس روایت سے رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی صحیح ہے، اس لیے کہ ’’طلاق بتہ‘‘ کے راوی رکانہ کے گھروالے ہیں اورگھر والوں کو واقعہ کا صحیح علم زیادہ ہوتا ہے اورابن جریح کی روایت توابورافع کے بعض لڑکوں نے کی ہے۔(جورکانہ کے اہل خاندان سے نہیں)۔
 محدث ابوداؤد ایک اورمقا م پرابن جریج والی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:ابوداؤد نے کہا کہ نافع بن عجیر اورعبداللہ بن علی کی یہ روایت کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی اورنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں رکانہ کو لوٹا دیا تھا صحیح ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ رکانہ کی اولاد ہیں اوراہل وعیال کواس بات کا خوب علم تھا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کوصرف طلاق بتہ دی ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے (رکانہ سے قسم لے کر) اسے ایک طلاق قراردیا۔(سنن ابی داؤد،ص: ۲۹۹ ، جلد : ۱ )
امام ابوزکریا نووی شرح صحیح مسلم شریف میں یہ لکھنے کے بعدکہ تین طلاق والی روایت کے راوی مجہول لوگ ہیں اوروہ روایت ضعیف ہے، صراحت فرماتے ہیں کہ’’وإنّما الصحیح منہا ما قدّمناہ أنّہ طلّقہا البتۃ‘‘
صحیح روایت توصرف وہ روایت ہے جو ہم پہلے نقل کرآئے کہ رکانہ نے’’طلاق بتّہ‘‘دی تھی۔   (صفحہ:۴۷۸،جلد:۱)
ایک اورمحدث امام ابن حجر شافعی فرماتے ہیں’’إنّ أباداؤد رجّح أنّ رکانۃ إنما طلّق امرأتہ البتۃ کما أخر جہ ھومن طریق اہل بیتِ رکانۃ وھو تعلیل قويّ لجواز أن یکون بعض رواتہٖ حمل ’’البتۃ‘‘ علی الثلاث، فقال، طلّقہا ثلاثا فبہٰذہ النکتۃ یقف الإ ستدلال بحدیث ابن عباس۔‘‘
محدث ابوداؤد نے اس روایت کو ترجیح دیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کومحض’’ طلاقِ بتّہ‘‘ دی تھی، کیو ںکہ اس حدیث کے راوی رکانہ کے اہل وعیال ہیں اوریہ مضبوط دلیل ہے اورابن جریج والی روایت میں یہ ممکن ہے کہ بعض راویوں نے لفظ’’ البتۃ‘‘ کوتین طلاق پرمحمول کرکے یہ روایت کردیا ہو کہ انہوں نے تین طلاق د ی تھی تواس نکتہ کی وجہ سے ابن عباس کی اس روایت سے استدلال ساقط الاعتبار ہوگا۔
(فتح الباری صفحہ: ۳۶۳،جلد:۹)
مطلب یہ ہے کہ لفظ’’البتۃ ‘‘ایک طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے اورتین طلاق کا بھی جیسا کہ گزرا توکسی راوی نے اس لفظ کے دوسرے احتمال کوسامنے رکھتے ہوئے’’ البتۃ‘‘ کی جگہ’’ ثلاثاً‘‘ ’’تین‘‘ روایت کردیا، حالانکہ رکانہ نے لفظ ’’ثلثاً‘‘ سے طلاق نہ دی تھی ، بلکہ لفظ’’البتۃ‘‘ سے دی تھی۔
 (3) حضرت ابن عباس رـضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے مجہول راویوں نے جوحدیث روایت کی ہے کہ رکانہ نے تین طلاق دی اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا، یہ حدیث اس لیے بھی ناقابل عمل اورساقط الاستدلال ہے کہ حضرت ابن عباس کے فتاویٰ اس کے برخلاف ہیں جن میں سے چار فتاویٰ ہم نے گذشتہ صفحات میں نقل کیے ہیں۔صحابۂ کرام میں سے کسی بھی صحابی سے یہ ناممکن ہے کہ وہ رسول اللہ کی حدیث روایت کریں پھر اس کے بعداس کے خلاف فتویٰ صادر کریں۔اسی لیے علما فرماتے ہیں کہ اگرکوئی صحابی حدیثِ رسول کی روایت کے بعداس کے خلاف عمل کرے، یافتویٰ دے تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث یا توبعد میں منسوخ ہوگئی یاکسی کی گڑھی ہوئی ہے، اس لیے قابل عمل نہیں۔ چنانچہ’’ نوالانوار‘‘ میں ہے’’والمروی عنہ اذا عمل بخلافہٖ بعدالروایۃ مما ھو خلاف یقین سقط العمل بہٖ لأنہاِمّا خالفہ للوقوف علیٰ نسخہٖ أو موضوعتہٖ فقد سقط الاحتجاج بہ‘‘ (نورالانوراصفحہ:۱۹۴/۱۹۵)
حدیث کا راوی روایت کے بعد جب اس کے خلاف عمل کرے اوریہ عمل حدیث کے خلاف ہونا یقینی ہوتواس حدیث سے عمل ساقط ہوجائے گا، اس لیے کہ راوی نے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر آگاہ ہوکر اس کی مخالفت کی ہے یا وہ حدیث گڑھی ہوئی ہے۔ لہٰذا اس سے استدلال ساقط ہوجائے گا۔غرض کہ تین طلاق کوایک قرار دینے والی حدیث تین تین طرح سے ناقابل عمل اورناقابلِ استدلال ہے : 
(1): اس لیے کہ یہ حدیث ضعیف ومنکر ہے، اس کے راوی مجہول افراد ہیں۔
(2): اس لیے کہ یہ حدیث حضرت رکانہ کے اہل وعیال کی روایت کے خلاف ہے۔
(3): اس لیے کہ راوی حدیث حضرت ابن عباس کا فتویٰ اس کے خلاف ہے۔
دوسری حدیث جسے حضرت طاؤس نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورمیں اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں تین طلاق ایک مانی جاتی تھی، یہ بھی دووجہ سے ناقابل استدلال ہے:
(1) یہ حدیث مطلق ہے،جس کے عموم میں مدخولہ کو تین طلاق دے یا غیر مدخولہ کو، ایک ساتھ ایک کلمہ میں تین طلاق دے یا کئی دفعہ میں اورکئی کلموں میں،ایک مجلس میں تین طلاق دے یا الگ الگ کئی مجلسوں میں، بہرحال تین طلاق ایک ہی طلاق مانی جاتی تھی، حالانکہ یہ بلاشبہ قطعاً یقینا اجماع امت کے خلاف ہے اورامت کا اجماع گمرہی پرنہیں ہوسکتا، اس لیے یہ حدیث اپنے عموم واطلاق کے لحاظ سے ناقابل حجت ہے۔
(2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتاویٰ اس حدیث کے بھی خلاف ہیں، لہٰذا اس حیثیت سے بھی ہے حدیث اپنے عموم کے ساتھ قابل حجت نہ رہی۔
ان دونوں وجوہ کے پیش نظر اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ  ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوئی ہے، کیوں کہ اس حدیث کے عموم میں جیسے ایک مجلس داخل ہے، ویسے ہی تین مجلسیں بھی توداخل ہیں، ساتھ ہی تین طہر بھی توشامل ہیں،توپھر یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ تین مجلس میں اورتین طہر میں اورتین کلمات میں دی گئی تین طلاق بھی ایک ہی طلاق ہوگی، حالا نکہ اس کا قائل کوئی بھی نہیں، تومعلوم ہواکہ یہ حدیث مؤو ل ہے، اسی لیے علمائے امت نے اس کی کئی تاویلیں فر ما ئیں ان میں سے ایک تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث خاص غیرمدخولہ کے متعلق ہے۔ عہدرسالت اورعہد صدیقی میں اورخلافت فاروقی کے ابتدائی دوسالوں تک غیر مد خو لہ کوجب کوئی طلاق دیتا تو الگ الگ ایک ایک طلاق دیتا،اس لیے بعد کی دوطلاق لغوہوجاتی اوراعتبار صرف پہلی والی طلاق کا ہوتا، لیکن بعدمیں حضرت عمر فاروق رـضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں لوگ ایک ساتھ اسے تین طلاق دینے لگے۔ اس لیے اب تینوں طلاقوں کا اعتبار ضروری تھا، یہی پوری امت مسلمہ کا موقف بھی ہے۔اس تاویل کی تائید ابوداؤد شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ ابوالصہباء نام کے ایک شخص حضرت ابن عباس سے اکثر سوال پوچھتے رہتے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شوہر اپنی غیر مدخولہ بیوی کوتین طلاق دے دیتا تواسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اورابوبکر صدیق کے زمانے میں اورعمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی دورمیں ایک طلاق قراردیا جاتا تھا؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیو ںنہیں، شوہر جب اپنی بیوی کے ساتھ دخول (خلوت یا جماع) سے پہلے تین طلاق دے دیتا توعہد رسالت وعہد صدیقی میں اورعمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی عہدمیں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا پھر جب حضرت عمر نے یہ مشاہدہ کیا کہ لوگ ایک ساتھ تین طلاق دینے لگے ہیں توآپ نے فرمایا کہ تینوں طلاق ان پرفافذ کردو۔
(صفحہ:۲۹۹،جلد:۱)
مسلم شریف کی حدیث جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس کے الفاظ’’قد استجعلوا فی أمرٍ کانت لہم أناۃ‘‘ کا بھی مفاد یہی ہے کہ الگ الگ تین طلاق میں ڈھیل تھی، لیکن انہوں نے جلدبازی کرکے ایک ساتھ تینوں طلاق دینا شروع کردیا۔
اس حدیث پاک سے بہت کھل کریہ ثابت ہواکہ حضرت ابن عباس کی دوسری روایت جس سے تین طلاق کے ایک ہونے کا شبہ پیداہورہا تھا اس کا تعلق خاص اس صورت سے ہے جب کہ شوہر نے اپنی غیر مدخولہ کوتین بار تین طلاق دی ہواوراس باب میں ہمارا مذہب یہی ہے کہ غیر مدخولہ کواس طرح طلاق دی جائے تو صرف ایک طلاق پڑے گی،ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوگیا کہ خلافت فاروقی میں لوگوں کی عادت تبدیل ہوچکی تھی اوروہ تین بار میں طلاق دینے کے بجائے ایک ساتھ ہی دفعۃً تین طلاق دینے لگے تھے، اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے صحابۂ کرام کی موجودگی میں تین طلاق قراردیا ، کیوں کہ اب صورت مسئلہ بدل چکی تھی اوریہی ہمارا مذہب ہے۔ چونکہ حضرت عمر کا یہ فیصلہ شریعت اسلامیہ کے عین مطابق تھا، اس لیے صحابہ کرام نے بلاانکار نکیراسے تسلیم فرمایا جوان کے اجماع کی دلیل ہے۔
الحاصل کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اوراجماع امت سے یہ ثابت ہوگیا کہ اگر کوئی مسلمان اپنی مدخولہ بیوی کوایک مجلس میں تین طلاق دے دے خواہ ایک دفعہ میںیا کئی دفعہ میں توبہر حال اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اوراگر اپنی غیر مدخولہ بیوی کوایک مجلس میں ایک ساتھ تین طلاق دے توبھی تینو ں طلاق پڑجائیں گی، ہاں اگرغیرمدخولہ کوایک مجلس میں یا متعدد مجالس میں، کئی مرتبہ میں، یا کئی کلمات میں الگ الگ تین طلاق دے تو صرف پہلی طلاق پڑے گی اوربعدکی دوطلاق لغو ہو ں گی ۔ 
یہی مذہب تمام حنفیوں،مالکیوں،شافعیوںاورحنبلیوں کا ہے اوریہی مذہب صحابۂ کرام کا ہے اور یہی احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے خلاف اگرکوئی حاکم مسلم یا غیر مسلم فیصلہ دے گا تو وہ نافذ نہ ہوگا بلکہ کالعدم وباطل ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
٭٭٭








طلاق ثلاثہ اورمختلف افکارو نظریات
مولانا غلام رسول سعیدی
تلخیص:محمدصابررہبر مصباحی
بیک وقت تین طلاقوں کاحکم:امام ابوحنیفہ اورامام مالک کے نزدیک بیک وقت تین طلاق دینا بدعت اور گناہ ہے ۔ اما م شافعی کے نزدیک بیک وقت تین طلاق دینا ہرچند کہ مستحب کے خلاف ہے تاہم گناہ نہیں ہے اور اس مسئلہ میں دو قول ہیں: ایک قول میں امام شافعی کے موافق ہیں اوردوسرے قول میں امام ابوحنیفہ کے ساتھ ہیں۔
 علامہ ابن قدامہ حنبلی، امام احمد کے دونوں قولوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:بیک وقت تین طلاقوں کے دینے میں امام احمد سے مختلف روایات ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ یہ حرا م نہیں ہے اوریہی امام شافعی کا مذہب ہے۔ حضرت حسن بن علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف اورشعبی کا بھی یہی نظریہ ہے ۔کیوںکہ حضرت عویمر عجلانی نے جب اپنی بیوی سے لعان کیا توکہا، یا رسول اللہ! اب اگر میں نے ا س کو اپنے پاس رکھا تومیرا اسے تہمت لگانا جھوٹ ہوگا،اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اس کو تین طلاق دے دی۔ (بخاری ومسلم)
 اوراس سلسلے میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار منقول نہیں ہے، نیزبخاری اورمسلم میں ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق البتّہ(مغلّظہ) دے دی اورحضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے پیغام کے ذریعہ ان کو تین طلاقیں بھیجیں، اورعقلی دلیل یہ ہے کہ جب طلاق متفرق طورپر دینا جائز ہے توایک ساتھ تین طلاق دینا بھی جائز ہے۔
 امام احمد سے دوسری روایت ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینا بدعت اورحرام ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، اورحضرت ابن عمر کا یہی نظریہ ہے۔امام مالک اورامام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت علی نے فرمایا جو شخص سنت کے مطابق طلاق دے گا وہ نادم نہیں ہوگااورایک روایت میں فرمایا،ایک عورت کو طلاق دے کر تین حیض تک چھوڑے رکھو، اس مدت میں جب چاہو، رجوع کرسکتے ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب ایسے شخص کو لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوں تووہ اس کو خوب پیٹتے تھے۔ مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا۔’’ میرے چچا نے اپنی بیوی کو(بیک وقت) تین طلاق دے دی ہیں۔‘‘ آپ نے فرمایا تیرے چچا نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اورشیطان کی اطاعت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی مخرج نہیں رکھا۔(یعنی اب وہ رجوع نہیں کرسکتا)(المغنی جلد:۷صفحہ:۲۸۱،۲۸۰، بیروت 1405ھ )
سیّدابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں"بیک وقت تین طلاق دے کر عورت کو بذر کرکود ینا نصوص صریحہ کی بناء پرمعصیت ہے۔علماء امت کے درمیان اس مسئلہ میں جوکچھ اختلاف ہے وہ صرف اس امرمیں ہے کہ ایسی تین طلاق ایک طلاق رجعی کے حکم میں ہیں یا تین طلاق مغلظہ کے حکم میں،لیکن ا س کے بدعت اورمعصیت ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں"
حالانکہ امام شافعی کا اس میں اختلاف ہے ۔وہ بیک وقت تین طلاقوں کو بدعت اورگناہ نہیں، مباح کہتے ہیں اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے ۔(حقوق زوجین، ص:۱۵۰) 
سیدابوالاعلیٰ نے مذاہب فقہاء کی تحقیق کیے بغیر یہ لکھ دیا ہے۔
 جمہورعلماء اہلسنت وجماعت کا موقف:جمہور علماء اہل سنت کے نزدیک بیک وقت دی گئی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ علامہ یحیٰ ابن شرف نووی شافعی (متوفی 676ھ)لکھتے ہیں: امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ اورقدیم وجدیدجمہور علماء کے نزدیک یہ تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں- (شرح مسلم ج:1ص:478، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی،)
علامہ ابومحمدعبداللہ ابن قدامہ حنبلی (متوفی 620ھ)لکھتے ہیں: جس شخص نے بیک وقت تین طلاقیں دیں وہ واقع ہوجائیں گی ،خواہ دخول سے پہلے دی ہوں یا دخول کے بعد۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابن مسعود اورحضرت انس کا یہی نظریہ ہے( رضی اللہ عنہم) اوربعدکے تابعین اورائمہ کا بھی یہی موقف ہے۔   (المغنی جلد:۷صفحہ:۲۸۲، مطبوعہ دارالفکر بیروت،۱۴۰۵ھ)
 جمہور فقہاء کا یہی موقف ہے کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں۔    (بدانۃ المجتہد جلد:۲صفحہ:۴۶ ،مطبوعہ دارالفکربیروت)
...

[Message clipped]  

--
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM
 
www.urduaudio.com
 
http://hudafoundation.org/

Aapka Mukhlis

unread,
Jul 26, 2014, 1:55:26 AM7/26/14
to bazm qalam

ہمایوں رشید صاحب اور زبیر صاحب نے طلاق کا رحجان کم کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کے لیے مناسب تجاویز دی ہیں۔ عاجز کی نظر میں بھی اس سلسلے میں چند اہم نقاط ہیں جو آپ سب احباب کی توجہ کے لیے پیشِ خدمت ہیں

 

1۔ہمایوں صاحب کی بیان کردہ تجاویز کےعلاوہ بدکرداری کے تحت کی جانے والی شادی جس کو محبت کی شادی کہا جاتا ہے، کا سد باب کرنا ہوگا کیونکہ زیادہ تر طلاقیں ایسی ہی شادیوں کا انجام بنتی ہیں۔ اور اس کے لیے ایسے ماحول کو ختم کرنا ہو گا جو اس بدکرداری کا راستہ کھولتا ہے

 

2-گھروں سے بھاگ کر کورٹ میرج کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا اور لڑکی کے لیے ولی کی موجودگی لازمی قرار دینا ہوگی

نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ شادی صرف شادی ہی نہیں بلکہ سنت عمل ہے۔اور سنت عمل کو سنت طریقے سے انجام دینا چاہیے۔ غلط طریقہ اختیار کرنے سے اس کا تقدس پامال ہوگا اوربے برکتی اور نحوست جنم لے گی۔

 

3-ارینج میرج کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی کیونکہ اس کے نتیجے میں خاندان کے تمام افراد اور فریقین سے متعلقہ لوگ شادی کو کامیاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر قسم کی تلخیوں کو ختم کرنے اور گھریلوماحول بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

 

4-شادیوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر تاخیر کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔کیونکہ اس کے نتیجے میں مزاج اور طبیعت میں لچک ختم  ہو جاتی ہے جو عائلی زندگی میں تلخیوں اور انجام کار طلاق کا موجب بنتی ہے۔

 

5-یہ تصور اجاگر کرنا ہو گا کہ بہو کو اب اپنے گھر کاباقاعدہ اور مکمل فرد تصور کیا جائے

 

6-اپنے فرائض اور حدود اور دوسرے کے حقوق سے آگاہی دلانی ہوگی اور ان کی انجام دہی کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوگا جیسا کہ ہمایوں رشید صاحب اور زبیر صاحب نے ذکر کیا ہے،لڑکیوں کو بھی گھریلوذمہ داریوں کی ادائیگی کی تربیت اور امورخانہ داری نبھانے کی تربیت دینا ہوگی جو کامیاب عائلی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں اس پہلو سے کمزور ہوتی ہیں۔

 

7-لڑکیوں کو اس بات کا احساس دلانا ہوگا کہ ان کا گھر ان کے کیریر سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ گھر اور عائلی زندگی آخری سانس ک انسان بالخصوص خواتین کی شدید ترین نفسیاتی اور معاشرتی اور جذباتی ضرورت ہے جبکہ کیریئر عمر کے ایک خاص حصے میں جا کر بالآخر اختتام پذیر ہو جائے گا اور گھراور شریک حیات کی ضرورت باقی رہ جائے گی۔لہذا کیریر کے لیے گھر کو قربان نہ کریں یہ سخت نقصان دہ ہوگا۔ گھر کے لیے کیریر کو قربان کرنا منافع کا سودا ہے۔ ڈاکٹر شائستہ واحدی کی مثال سب کے سامنے ہے۔

 

8-معاشرے میں مردوں کو ملازمت اور کاروباری مواقع دینے کو فوقیت اور ترجیح دینی ہوگی۔ کیونکہ کسی مرد کی بےروزگاری کسی دوسرے گھر کے میاں اور بیوی دونوں کی ملازمت سے بہت زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔غیر شادی شدہ بے روزگار مرد کی شادی میں تاخیر ہوگی جب کہ شادی شدہ بے روز گار مرد کی عائلی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ اور دوسرے گھرانے میں کارِ معاش میں مصروف بیوی عائلی ذمہ داریوں کو کما حقہ انجام نہیں دے سکے گی، ذمہ داریوں کی تقسیم میں عدم توازن پیدا ہوگا،بہت سے معاملات میں ایک دوسرے پر انحصار جو ایک مضبوط بندھن بن سکتا ہے ختم ہو جائے گا اور طلاق کا راستہ آسان ہو جائے گا

 

9-مخلوط ماحول، بے پردگی اور نامحرموں سے میل جول کا قلع قمع کرنا ہوگا کیونکہ اس سے بھی شادی شدہ افراد بھی ناجائز تعلقات استوار کر بیٹھتے ہیں جو ظاہر ہے کہ آشکار ہونے پر خاندان کی تباہی پر منتج ہوتے ہیں۔ 

 

مجھے معلوم ہے کہ خواتین خصوصا جلد شادی اور ملازمت کے نکات پر اختلاف کریں گی لیکن اگر دور اندیشی سے کام لیں تو حقیقت میں یہی ان کے لیے بہتر ہے بلکہ سارے معاشرے کے لیے بہتر اور ضروری ہے۔

 

مخلص




Firoz Hashmi

unread,
Jul 26, 2014, 4:39:18 AM7/26/14
to BAZMe...@googlegroups.com
بہتر مشورہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فیروزہاشمی
Mohammad Firoz Alam 
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
M.                   91- 9811742537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages