93 views
Skip to first unread message

omair manzar

unread,
May 21, 2016, 8:01:08 AM5/21/16
to bazmeqalam, Aijaz Shaheen
IMG_20160521_171843.jpg

Nadeem Siddiqui

unread,
May 21, 2016, 11:10:25 AM5/21/16
to

 ممبئی اردو نیوز کا تازہ ادبی صفحہ

توار مئی ۲۰۱۶
 ممبئی اردو نیوز کا تازہ ادبی صفحہ
مطلع
ایک  ہزار قابل انسانوں کے مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہو تا
 جتنا ایک ’’ احمق‘‘ کے صاحب  ِاختیار ہوجانے سے ہوتا ہے۔
٭ مولانا جلال الدین رومی
 خوشبو
اُس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ مِلانا پڑا مجھے
٭احمد فراز (مرحوم)
اِک اُس کو دیکھنے کےلئے بزم میں مجھے
اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا
٭فنا نظامی (مرحوم)
 مضمون
زندہ رہنے والی شاعری کوکسی منصوبہ بندکوشش یا کسی نقاد کی ضرورت نہیں ہوتی:
 معین احسن جذ بی
٭پروفیسر سید امین اشرف
    جذبیؔ سب سے آسانی سے کھلتے نہیں تھے، بس قریبی احباب سے۔ان ساری ملاقاتوں میں کبھی اپنا شعر سناتے نہ کسی دوسرے کاشعر سنتے۔اگرکوئی فرمائش بھی کرتا توجواب ہوتا’’ابھی ورک شاپ میںہے۔‘‘اس ۵۵سال کی دوستی میں صرف ایک بار حسن مثنٰی کی درخواست پرجذبیؔ صاحب نے میری ایک غزل سنی۔ہونٹوں پرایک تبسمِ خفی تھا مگر تعریف وتوصیف نہ تنقید۔ اس ۵۵سالہ مدت میں بڑی خوشامد کے بعداُنہوں نے ایک باراپنی غزل سنائی:
شمیم زلف و گل ترنہیں تو کچھ بھی نہیں
دماغ عشق معطر نہیں توکچھ بھی نہیں
    یہی غزل جذبیؔ صاحب  نے ترنم کے ساتھ کشمیر ریڈیو کے مشاعرے میں پڑھی تھی اورچند اشعار ایسے تھے کہ مشاعرہ لوٹ لیا تھا،مثلاً:
یہ کہہ کے چھوڑدی راہِ خرد مِرے دِل نے
قدم قدم پَہ جو ٹھوکر نہیں تو کچھ بھی نہیں
نسیم بنکے ہم آئے ہیں اس گلستاں میں
کلی کلی جو گل ترنہیں توکچھ بھی نہیں
    جذبیؔ صاحب بیرونِ علی گڑھ مشاعروں میںاپنی شرط پرشرکت ضرورمنظور کرتے تھے مگر راقم الحروف نے کبھی نجی محفل میںیاشعبۂ اردو کے پروگرام میں یایونین کے سالانہ مشاعرے میںان کوپڑھتے نہیں دیکھا۔ اگرچہ راقم الحروف کاتعلق کبھی شعبۂ اردو سے نہیں رہا مگر یہ خاکسار اورجاوید کمال مرحوم، شعبۂ اردو میں’’انجمن اردوئے معلیٰ‘‘کے ہر پروگرام میں ترنم سے غزل سناتے تھے۔اس طرح P.W.Aکے جلسے میں بھی۔اول الذکر کی صدارت رشید احمد صدیقی کرتے اورترقی پسندوں کے جلسوں کی صدارت ڈاکٹر عبدالعلیم یاڈاکٹر عابد حسین ۔جذبیؔ صاحب کومیں نے کسی بھی جلسے میں شریک نہیں پایا۔گفتگو سے لگا کہ جیسے ترقی پسندوں سے کچھ disillusioned ہوں۔ بہرحال باہر کے مشاعروں میں ماہانہ تنخواہ سے حاصل آمدنی کو supplementکرتے تھے۔جذبیؔ کے نام پر مشاعروں میں بھیڑ لگ جاتی۔یہ جگرمرادآبادی کابڑکپن ہے اورجذبیؔ کی مقبولیت ومحبوبیت بھی کہ جگرؔ جب بھی علی گڑھ آتے،خواہ ذرا دیر کیلئے ہی سہی،جذبیؔ سے ضرورملتے۔رشید احمد صدیقی توجگر مراد آبادی ؔکے مداحوں میں سے تھے۔
    جذبیؔ صاحب کہتے تھے کہ شروع شروع میں جگرؔ کے رنگ میں شعر کہناچاہتاتھا مگر ہوتا تھافانیؔ کے رنگ میں ۔سچی بات یہ ہے کہ جذبیؔ صاحب کی کچھ خلقی طور پراورکچھ حالات کے جبرکی وجہ سے الم پسندی کاغلبہ تھا توجگرؔ کابھرپور نشاطیہ لہجہ اور جگرؔکی سرشاری یاوالہانہ سرمستی کہاں سے پیدا ہوتی ہے۔جذبیؔ صاحب ایک ایک شعر کو ٹھونک بجا کر کہتے تھے۔معنوی سیاق وسباق میںموزوں اورمناسب الفاظ کی تلاش میں ہفتہ ہفتہ سوچتے رہتے۔
    جذبیؔ صاحب کہا کرتے تھے کہ غزل کہنا بہت آسان ہے مگر اچھی غزل کہنا،ہر کس ناکس کے بس کی بات نہیں۔غیرمعمولی ریاض درکار ہے۔یہ آزاد غزل ،کالی غزل،نیلی پیلی غزل ،معیاری غزل گوئی سے فرار ہے۔مجروحؔ ومخدومؔ کو فیضؔ سے بہتر شاعر مانتے تھے۔ویسے ان دونوں کوبھی نہیں سیٹھتے تھے۔نظم نگاری میں اقبالؔ کے بعدجوشؔ ،ن ۔م ۔راشدؔ اور اختر الایمان کے قائل تھے۔ان کا خیال تھا کہ باقی سب شاعری نہیں بلکہ versification
ہے۔بلاشبہ جذبیؔ کی غزلوں میں بمقابلتاً مجاز thought contentزیادہ ہے مگر دونوں کی غزلیں چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔اسکی وجہ شاعرانہ سلیقہ مندی،لفظوں کاجمالیاتی انتخاب اورڈکشن کی چستی ہے ۔میں نے کبھی کبھی تین ہم عصر شاعروں کا ذکرکیا۔خلیل الرحمن اعظمی،ابن انشاء اورناصر کاظمی توانہوں نے ان میں سے کسی پرکوئی تبصرہ نہیںکیا،خاموش ہوجاتے تھے۔
    کہتے تھے کہ شاعری ایک ایسا روگ ہے کہ جب لگ جاتا ہے توجاتا نہیں،جب تک فطرت سے شعر گوئی کاملکہ نہ ملاہوآدمی سے اس سے دور ہی رہے تو اچھا ہے۔بہ کمال خاکساری کہتے تھے کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرے بعد جب میری شاعری کا  evaluationہوگا تو  وہ زندہ بھی رہ سکے گی یا نہیں۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے ہم عصر شاعروں میں یا اپنے سے چھوٹے شاعروں پرکوئی منفی تبصرہ نہیں کرتے تھے،رائے لیجئے توخاموش ہوجاتے۔ان میں رشک یاحسد کاجذبہ نہیں تھا۔وہ اپنی دنیامیں خود مگن رہتے تھے۔کہاکرتے تھے کہ بڑے بڑے جغادری شاعر بن کرآئے،یوپی سے اور پنجاب سے۔اب انہیںکوئی جانتابھی نہیں۔زندہ رہنے والی شاعری کوکسی منصوبہ بندکوشش یا کسی نقادکی مدد کی ضرورت نہیں۔وہ اپنے دَم خم سے ،اپنے آپ زندہ رہنے والی چیزہے۔    راقم الحروف نے خورشید الاسلام کی شاعری کے بارے میں رائے چاہی تو اُنہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے شاعر ہیں جیسے احتشام حسین،اورآلِ احمد سرور وغیرہ۔یہ حقیقت بھی ہے کہ رشید احمد صدیقی کے بعدایک انسان اور ایک شاعر کی حیثیت سے جذبیؔ صاحب کوجو مقبولیت اپنے شعبے میں اوریونیورسٹی میں حاصل تھی اس کاعشرعشیر کسی کوحاصل نہ تھی۔
    جذبیؔ صاحب نے ادبی شہرت حاصل کرنے کے لیے اندر باہر سازش کی نہ جوڑ توڑ نہ انھوں نے سستے اور گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ ضرورت بھی کیاتھی کہ
 فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
     ایک فطری تخلیق کار کیلئے اس طرح کی ریشہ دوانیاں لائق ملامت اور باعثِ ننگ ہیں۔
    جذبیؔ صاحب نے ایک مدت تک یونیورسٹی کی خدمت کی مگر انتظامی عہدوں سے دوردور رہے ‘ وارڈن نہ پرووسٹ نہ پراکٹر ۔ ایک بار میں نے کہا جذبی صاحب آپ کسی ہال کے پرووسٹ ہوتے تو مجھ جیسے بدحال کے کھانے کا مفت انتظام ہوجاتا ۔ فوراًً بولے ’’میاں اسی لیے تو میں نے پرووسٹی یا وارڈنی نہیں کی میرے جاننے والوں کا دائرہ وسیع ہے‘ کس کے کس کیلئے مفت کام کرتا اور بدنامی کا تاج سر پر ہوتا۔ دوسرے یہ کہ انتظامی معاملات میں پھنسے رہنے سے اندر کا فن کار مرجاتا ہے۔ اللہ نے مجھے جو کچھ دیا ہے میری ضرورت کیلئے کافی ہے، اس کا شکر ہے، جو نہیں دیا اس کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ جو مشاعروں سے مل جاتے ہیں ‘ میرے لیے کافی ہیں ‘‘
    بندیل کھنڈ کے کسی علاقے میں کسی مشاعرے کا ذکر کرنے لگے کہ وہاں میں تھا ‘ مجاز، نشورواحدی اور دیگر شعرا ۔یہ جذبی صاحب کی اٹھان کا زمانہ تھا ۔ مشاعرہ پڑھا ‘ اہل ِبصیرت نے پسند کیا ۔
     اب سب کو لفافے کی فکر ہوئی تو وہاں کا تھانے دار آیا، بڑے رعب دار لہجے میں کہا کہ شاعر و!ایک لائن میں کھڑے ہوجاؤ ۔ مجھے یہ بات بری لگی ‘کل ۱۵،۱۶  شعراتھے ۔ وہ ایک نمبر سے آواز دیتا ہوا آگے بڑھااور ایک ایک شاعر کے لئے ایک ایک لفظ ایک ایک جملہ کہتا چلاگیا۔
    میں نے کوئی اچھی غزل سنائی مگرجب میرا نمبرآیاتو کہنے لگا کہ اس کا گلاب خراب ہے۔اس کوپڑھنا نہیںآتا۔لفافہ رکھ لیا، جب کھولا تو کل بیس روپئے تھے،اس سے کچھ پانچ دس زیادہ مجازؔ کو ملے ہونگے۔نشورؔ کو پچاس روپیہ ملے تھے۔پھر جذبیؔ صاحب اس قدر متاسف اورنادم ہوئے کہ دو سال تک مشاعروں میںشرکت نہیں کی۔اس عرصہ میں ان کی بیگم شوکت نے کہا کہ ہر مشاعرے میں تھانے دار تو ہوتا نہیں،مشاعرے میں جایاکیجئے اورانہوں نے پھر جاناشروع کیامگر دھڑکا لگا رہتا تھا کہ پھر کہیں ایسا ہی نہ ہو۔یہ تھی شاعر کی توقیر افزائی۔
    جذبیؔ صاحب بہت کمزور ہو گئے تھے۔ اکثر سہیل نے دیکھا کہ ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر انگلیوںسے کچھ گن رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ا بّا یہ آپ کیا کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا درودشریف پڑھتا رہتا ہوں ، نمازروزے سے توزندگی بھر غافل رہا،شاید اس طرح حضورؐ کی شفاعت نصیب ہو۔
    جذبیؔ صاحب میں تکبر چھو کر بھی نہیں گزراتھا۔شاعری پر غرور نہ مقبولیت پر نازاں۔  بلاتفریق سب سے نہایت گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہی مخاطب سے جو جی میںآتا پھٹ سے کہہ دیتے۔ کوئی بھی ان کے کمنٹ کو بُرا نہیں مانتا۔
     بیٹے سہیل نے مکان بنوانا شروع کیا توجذبیؔ صاحب نے مخالفت کی اورکہا کہ عزت، مکین سے ہوتی ہے،کسی عالیشان مکان سے نہیں ہوتی۔سہیل نے کہا’’ابا میں یہ نکتہ جانتا ہوں مگرمجبوری یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں گے کہ انہیں زندگی بسر کرنے کا ڈھنگ نہیں ہے،اتناکماتے ہیں اورماں باپ کیلئے کوئی مکان بنوانے کاکوئی خیال نہیں ہے۔‘‘جذبیؔ صاحب کے خیال کی تائید خوداُن کے ایک شعر سے ہوتی ہے:
جسکو کہتے ہیں محبت،جسکو کہتے ہیں خلوص
جھونپڑوں میں ہو تو ہو پختہ مکانوں میں نہیں
سہیل نے پوچھاابا اپنے دونوںبچوں کو میں کس لائن پرلے جاؤں۔جذبیؔ صاحب نے کہا کہ شرفا میں یاتو علمِ طب کی روایت رہی ہے یاسپہ گری کی۔روپے پیسے کاحصول ثانوی اہمیت رکھتاہے۔ بنیادی چیزبچوں کی شخصیت کی تعمیر ہے اور یہ کہ ان میں اخلاقی صفات پیداہوں۔مجھے معلوم ہے کہ جذبیؔ صاحب  نے کوئی اندوختہ نہیں چھوڑا،ان کے گھر میں پیسہ کبھی نہیں رہا،اللہ نے اتنا دے رکھاتھا کہ آسانی سے دال روٹی چلتی تھی اور وہ اچھی طرح رہتے تھے۔کہتے تھے انسان پرلازم ہے کہ چادر دیکھ کرپاؤں پھیلائے ۔ شیکسپیئر نے بھی یہی بات کہی ہے۔ Neithera lendernor a borrower beکہتے تھے سہیل! ہمارے پاس سوائے تعلیم کوئی ذریعۂ معاش نہیں ہے،بچوں کواچھی سی اچھی تعلیم دلواؤ۔چنانچہ جذبیؔ صاحب کی پوتی ایم بی بی ایس کر رہی ہے اورپوتا تابشؔ بی ٹیک۔
    جذبیؔ صاحب ایک مشفق باپ،ذمہ دار اُستاد،وفادار شوہر اورمخلص دوست تھے۔وسیع القلبی کی صفت سے مزّین ہونے کے باوجود اگر کسی سے دِلی تکلیف پہنچتی، اِنتقام تونہ لیتے مگر دوستی کی تجدید یاکسی قسم کی مفاہمت امرِمحال۔
ہم چھوٹوں کی لغزشوں پراُن کی نظر ضرورپڑتی،اس لیے نہیں کہ وہ کمزوری کی تلاش میں رہتے بلکہ فوراً ٹوک دیتے یاچند کلمات بطوراصلاح ادا کرتے۔  ٭
ایوانِ غزل
آسانی کا اِک مطلب دُشواری ہوتا ہے
مَیں وہ پتھّر چُنتا ہوں جو بھاری ہوتا ہے
ایک غرض ہر رشتے کی تقدیر میں لکّھی ہے
اِک  جملہ  ہر منھ میں کاروباری ہوتا ہے
ہمدردی تو ایک بڑا پاکیزہ جذبہ ہے
لیکن تیرا مقصد دل آزاری ہوتا ہے
مَیں نے اچھے اچھوں کو سَر دُھنتے دیکھا ہے
خاموشی کا وَار   نہایت  کاری   ہوتا  ہے
مالک سب کی تنخواہوں کا وقت مقرّر کر
رشتوں پر افلاس ذرا سا بھاری ہوتا ہے
کتنا صابر، کتنا قانع، کتنا محنت کش
دِلّی میں ہر چَوتھا شخص بِہاری ہوتا  ہے
پانی سَر سے اونچا ہوجانے پر  کھلتے  ہیں
یاروں کا گھٹیا پن بھی معیاری ہوتا ہے
٭شکیل جمالی(دہلی)
  رابطہ:09990816874
کہیں پَہ جسم کہیں پر خیال رہتا ہے
محبتوں میں کہاں اعتدال رہتا ہے
فلک پہ چاند نکلتا ہے اور دریا میں
بلا کا شور، غضب کا اُبال رہتا ہے
دیارِ دل میں بھی آباد ہے کوئی صحرا
یہاں بھی وجد میں رقصاں غزال رہتا ہے
چھپا ہے کوئی فسوںگر سَراب آنکھوں میں
کہیں بھی جاؤ اسی کا جمال رہتا ہے
تمام ہوتا نہیں عشقِ ناتمام کبھی
کوئی بھی عمر ہو یہ لازوال رہتا ہے
وصالِ جسم کی صورت نکل تو آتی ہے
دلوں میں ہجر کا موسم بحال رہتا ہے
خوشی کے لاکھ وسائل خرید لو عالمؔ
دلِ شکستہ مگر پُرملال رہتا ہے
٭عالم خورشید(پٹنہ)
  رابطہ:09835871919
وہ طرزِ گفتگو وہ روانی کدھر گئی
اگلے دنوں کی خندہ گمانی کدھر گئی
اب قتل و خون بن گئے موضوعِ گفتگو
پریوں کے دیس والی کہانی کدھر گئی
دور آسماں پَہ چاند کے ہالے میں بیٹھ کر
جو سوت کاتتّی تھی وہ نانی کدھر گئی
تسخیرِ کائنات کے جذبے وہ کیا ہوئے
شعلوں سے کھیلتی وہ جوانی کدھر گئی
اب کیا ہوئیں جمیلؔ جنوں کی حکایتیں
اب وہ تمہاری شعلہ بیانی کدھر گئی
٭ ڈاکٹر بدر جمیل(ناگپور)
  رابطہ:09890637343
میرے بارے میں جو کہتا ہے کہ یوں ہے یوں ہے
اس کے ہی غم میں مرا حال زبوں ہے یوں ہے
اِس طرف رقصِ ستم، رنج و الم، چشمِ نم
اُس طرف مستقل آرام و سکوں ہے یوں ہے
آپ رستہ مرا، رہبر مرے،  منزل میری
میرا دل آپ کے آگے ہی نگوں ہے یوں ہے
راہ دے دے گا، مقابل میں کہاں ہے دَم خم
حق سے وابستہ میرا جوش و جنوں ہے یوں ہے
مدعی میرے سِوا کوئی نہیں ہو سکتا
بہ رہا ہے جو زمیں پر مرا خوں ہے یوں ہے
خُلقِ احمد، دمِ عیسٰیؑ، یدِ موسٰی بیکار
اپنا اخلاق و کردار ہی دوں ہے یوں ہے
راہ ہموار بھی،  سیدھی بھی،  نظر میں بھی سہی
دل پَہ غازی کے پَہ دنیا کا فسوں ہے یوں ہے
٭محمد اسلم غازی(ممبئی)
   رابطہ:09029226105
 حیرت سے مجھے کون یہ تکتا ہے کہ مَیں ہوں
آئینہ ہے کوئی مِرے جیسا ہے کہ مَیں ہوں
 اِک سمت اُجالا ہی اُجالا ہے کہ تم ہو
اِک سمت اندھیرا ہی اندھیرا ہے کہ مَیں ہوں
 کھِلتی ہوئی کلیوں کی سی خواہش ہے کہ تم ہو
 سوکھے ہوئے پھولوں سی تمنّا ہے کہ مَیں ہوں
 آندھی ہے کہ طوفاں ہے کہ صَرصَر ہے کہ تم ہو
 کاغذ ہے کہ پتّہ ہے کہ تنکا ہے کہ مَیں ہوں
 چنچل سی کہستان کی ندیا ہے کہ تم ہو
 تپتاکوئی پیاسا کوئی صحرا ہے کہ مَیں ہوں
 ماتھے پَہ دمکتی ہوئی بِندیا ہو کہ تم ہو
 تلوے میں تپکتا ہُوا چھالا ہے کہ مَیں ہوں
 منزل پَہ چمکتا ہوا تارہ ہے کہ تم ہو
 رستے میں پڑا نقشِ کف ِپا ہے کہ مَیں ہوں
اِک چھیڑ تھی مقصود نقیبؔ آج سخن میں
 تم  بِن مجھے کب ورنہ یہ دعویٰ ہے کہ مَیں ہوں
  ٭فصیح اللہ نقیب (اکولہ)
رابطہ:07242471052ز
 کبھی کبھی
 فحش کلامی سے پرہیز  کیجیے!
 دِلّی کے زمانے میں شاہدؔ(احمد دہلوی) نے اپنا موسیقی کاعلم اور گانے کا ہنر بھی ہم سے بہت چھپائے رکھا ۔ کراچی آن کرپتہ چلا کہ اس ہنر میں بھی انھیں بڑا کمال حاصل ہے ۔ گو اس کمال کو ظاہر نہ کر نا اُن کااور بڑا کمال تھا ۔ کراچی ریڈیو سے شاہد گانا نشر کر نے لگے تھے اور موسیقی کے سبق بھی برا ڈ کاسٹ کیا کر تے تھے ۔ اسی زمانے کا ایک لطیفہ یاد آیا ۔حکومت نے قومی اصلاح کی غرض سے حکم جاری کیا کہ پروگراموں کے درمیانی وقفوں میں مختلف قسم کے مقولے براڈ کاسٹ کئے جایا کریں۔ مثلاً ’’جھوٹ مت بول‘‘ ،’’ تھوکئے نہیں‘‘،’’سڑکوں پر گندگی نہ پھینکئے ‘‘وغیرہ وغیرہ ۔ ہر اناؤنسر کے سامنے بیس تیس مقولوں کی ایک فہرست رکھی ہو تی تھی اور وہ حسب منشا اُن میں سے انتخاب کر کے مختلف وقفوں پر براڈ کاسٹ کردِیا کر تا تھا ۔ ایک شام شاہد گا رہے تھے ، گانا ختم ہونے پر اناؤنسر کی آواز سنائی دی ’’ ابھی ابھی شاہد احمد ،حفیظ جالندھری کا کلام سنا رہے تھے ۔ فحش کلامی سے پرہیز کیجئے! بعد میں پتہ چلا کہ اس پر شاہد سے زیادہ حفیظ،اور حفیظ سے زیادہ شاہد ناراض ہیں۔ لیکن اس ’’حادثے‘‘ کے بعد مقولوں کو نشر کر نے کا دستور ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ۔ اناؤنسر مرزا یاس یگانہ چنگیزی کے صاحبزادے تھے ۔ شاہد نے کہا ’’ کاش،اس بر خوردار نے یہی نصیحت اپنے والدِ بزرگوار کو کی ہو تی ‘‘!
٭ن۔م۔راشد
ایڈیٹر نے شاعر کی توہین کی
ڈاکٹرملک زادہ منظور احمد(مرحوم) اپنی کتاب’ شہر ِ سخن  ‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ’’ میں نے فنا(نظامی کانپوری) صاحب سے دریافت کیا کہ فنا صاحب آپ اپنی غزلیںاشاعت کیلئے رِسائل میں کیوں نہیں بھیجتے،   تو اُنہوں نے میرے اس سوال کا  بہت دِلچسپ جواب دِیا۔
    بولے:ایک بارمیں نے اپنی کوئی غزل رِسالے میں بھیجی تھی ،ایڈیٹر نے جواباً لکھا: آپ کی غزل مل گئی ہے اگلے شمارے میں شائع کی جائے گی ،آپ مطمئن رہیے۔ اس کے بعد میں نے رِسالوں میں غزلیں بھیجنا بند کر دِیا۔
     میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا، میں نے کہا: جواب تو معقول تھا، آخر اس میں کون سی قباحت تھی کہ آپ نے اِتنا خطرناک اِرادہ کر لیا۔
    فنا صاحب نے فرما یا: آپ کے خیال میں قباحت نہ ہوگی مگر میرے خیال میں اس طرح ایڈیٹر نے شاعر کی توہین کی۔ جب اُس کو میری غزل مل گئی تھی تو مطمئن  اسے ہوجانا چاہئے تھا ،یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ آپ مطمئن رہئے۔‘‘ ٭

--
NadeemSiddiqui
litr page-22-May-16.pdf
litr page-22-May-16 copy.jpg

Maqsood Sheikh

unread,
May 21, 2016, 1:47:28 PM5/21/16
to BAZMe...@googlegroups.com

عمیر منظر صاحب ہماری طرف سے ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی کو مبارکباد پہنچا دیجئے ۔ شکریہ ۔

ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ 

بریڈفورڈ (یو کے)

 

From: bazme...@googlegroups.com [mailto:bazme...@googlegroups.com] On Behalf Of omair manzar
Sent: 21 May 2016 13:01
To: bazmeqalam <bazme...@googlegroups.com>; Aijaz Shaheen <aijazs...@bazmeqalam.net.tc>
Subject: [
بزم قلم:50948]

 

--
www.kitaabistan.com
 
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam


Virus-free. www.avast.com

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
May 22, 2016, 4:31:35 AM5/22/16
to bazme...@googlegroups.com
فحش کلامی سے پرہیز  کیجیے!
’ کاش،اس بر خوردار نے یہی نصیحت اپنے والدِ بزرگوار کو کی ہو تی ‘‘!
مرزا یاس یگانہ چنگیزی ki rooh bhi shayad Shahid ko muaf na kare 
Ummeed hai aap ma al-khair honge
Khair Andesh
Mirza

Date: Sat, 21 May 2016 20:39:48 +0530
Subject: [بزم قلم:50957]
From: nade...@gmail.com
To:

Jamshaid Sahil

unread,
May 30, 2016, 10:44:55 AM5/30/16
to Aijaz Shaheen
میٹھا زہر اور اونگھتی انتظا میہ
جمشید ساحل
ایک طر ف لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے سے ابتک تیس سے زائد اموات ہو چُکی ہیں، ابھی بُہت سے افراد ایسے ہیں جو مختلف اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں اُکھڑے اُکھڑے سانس لے رہے ہیں۔ دوسری طرف محکمہ صحت اور زراعت کے احکام بالا دوڑ دھوپ کر کے اُن وجوہات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا کہ ایسا کونسا زہر ہے جس نے انسانوں کو بے موت مار دیا ہے تا دمِ تحریر بتایا جا رہا ہے کہ بھائیوں کی آپس کی دشمنی کی وجہ سے جان بوجھ کر زہرمٹھائی میں ملایا گیا تھالیکن ابھی تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا ایک عجیب اندھیر نگری ہے تمام تر وسائل اور مراعات کے باوجود متعلقہ ادارے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں جونہی کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے تو یہ ادارے کروٹ بدل کر بیدار ہو جاتے ہیں اور حالات کی سنگینی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان واقعات کو سرسری انداز میں یوں دیکھتے ہیں جیسے عوام پر احسان کر رہے ہوں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے انسان ،بستیاں ،گاؤں ،شہر اور ملک اجڑ جاتے ہیں لیکن یہ بازی گر، باز نہیں آتے اور نئی بستیوں کا رُخ کرتے ہیں۔
ہمارے گردوپیش کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والے گلی محلوں،سڑکوں اور چوراہوں پر وہ سب کچھ بیچ رہے ہیں جن کا تریاق ہمارے کسی چھوٹے بڑے اسپتال میں سرے سے موجود ہی نہیں، صحت کے بنیادی مراکز اور تحصیل لیول پر بنائے گئے اسپتال کا کوئی پُر سان حال نہیں جس سے عوام کے اندر زندگی کی رہی سہی کسر خود بخود دم توڑ رہی ہے۔
زہریلی مٹھائی کھانے سے یکے بعد دیگرے اموات نے ہنستے بستے گھر ویران کر دئیے،طبعی ماہرین پر مشتمل تحقیقاتی ٹیمیں اس واقعہ کی تحقیق کے بعد رپورٹس مرتب کریں گی جو ’’ اربابِ اختیار‘‘ کی خدمت میں پیش کر دی جائیں گی لیکن ان عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے گا جن کی وجہ سے تیس سے زائد انسان موت کی ابدی نیند جا سوئے، پھر وہی ’’پُرانے راگ ‘‘ الاپے جائیں گے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا شعور عوام بھی نہیں جو اپنے گرد و پیش سے آنکھیں بند کیے سب اچھا ہے کی رٹ لگائے مسلسل زیر عتاب چلی آرہی ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء کھلے عام سڑکوں پر بِک رہی ہیں،دھول مٹی میں شامل کھربوں کی تعداد میں جراثیم مسلسل اُن پر گر رہے ہیں لیکن عوام ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے کھانے پر تُلی ہوئی ہے۔ پہلا فرض اِنہی لوگوں کا بنتا ہے جو ایسی مضرِصحت اشیاء بنانے اور بیچنے والوں کا محاسبہ کریں اور انہیں روکیں اگر وہ پھر بھی اپنے کام کو جاری رکھتے ہیں تو ان سے خریداری بند کر دیں اور زائدالمعیاد ایسی تمام اشیاء کو اپنے سامنے تلف کروائیں وہ اگرانہیں تلف نہیں کرائیں گے تو نتیجتناً ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرتے رہیں گے۔
محکمہ صحت کے جو حالات بیس سال پہلے تھے آج اُس سے بھی بد تر ہیں،تمام تر وسائل اور غریب عوام کے ٹیکسوں سے مالامال متعلقہ سرکاری ادارے خوابِ غفلت سے نہ جانے کب بیدار ہونگے ؟چیکنگ کا مربوط نظام نہ ہونے سے اور منظورِ نظر افراد سے صرفِ نظر برتنے سے یہ مسائل اگلے چالیس سال میں بھی ختم نہیں ہونگے، عوام یونہی مرتی رہے گی اور انکوائریوں کے نام پر عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شُدہ رقومات کی بندر بانٹ یونہی جاری و ساری رہے گی۔
ہمارے پیشتر اسپتالوں میں سانپوں اور باؤلے جانوروں کے کاٹنے سے جسم میں پھیلنے والے زہر کا تریاق سرے سے موجود ہی نہیں، آئے روز اخبارات کی شہ سُرخیوں اور اداریوں میں لکھا جا رہا ہے لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور سنگین نوعیت کے ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو یہ ادارے ایک دوسرے سے دست وگریباں ہو جاتے ہیں۔ کیا حکومت کے پاس ایسا نظام موجود ہے جس سے ایسی ادویات کے معیار اور مقدار کے بارے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس مرتب ہوتی ہوں اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟
کیا انسان اسقدر ارزاں ہے جنہیں وہ اپنے ٹیکسوں سے تمام عمر پالتا ہے وہ اُسے یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی بُہت بڑی مصیبت اُن کے گلے آن پڑی ہو۔صحت کے دیہی مراکز، تحصیل اور ضلع کی سطح پر بنائے گئے اسپتال اور اُن میں تعینات ڈاکٹر اگر ایک عام انسان کی زندگی نہیں بچا سکتے تو پھر ایسے مراکز اور اسپتال کیوں برقرار رکھے جا رہے ہیں ؟حکومت ایسے صحت کے دیہی ،تحصیل اور ضلع سطح کے اسپتالوں کا مکمل آڈٹ کروائے اور روزانہ کی بنیاد پر موجود ایسی ادویات جن کے میسر نہ ہونے سے انسان ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں ، کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔
کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی کہ آیا وہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر کار بند ہیں بصورتِ ہمارے پاس آہوں ،سسکیوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا اور متعلقہ ’’ارباب اختیار ‘‘ کمیٹیوں کی تشکیل اور انکوائریوں کی رپورٹس بنا کربری الزمہ ہوتے رہیں گے۔
بنے ہیں اہل ہوس،مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں ،کس سے منصفی چاہیں

جمشید ساحل

Khalid Zahid

unread,
Jun 6, 2016, 7:22:06 AM6/6/16
to bazmeqalam
برائے مہربانی، مندرجہ مضمون کا عنوان "ایک نافرمانی کی سزا " غلطی معاف اگر ممکن ہو تو گروپ ایڈمن اس کی تصحیح کر کہ شائع کردیں۔ شکریہ

---------- Forwarded message ----------
From: Khalid Zahid <shzah...@gmail.com>
Date: 2016-06-06 9:58 GMT+05:00
Subject:
To: bazmeqalam <BAZMe...@googlegroups.com>


قلم سے قلب تک

" میرے عزم کا کوئی عنوان نہیں "

(شیخ خالد ذاہد)

 

دنیا اپنی بھر پور رعنائیوں کہ ساتھ چلی جا رہی ہے۔۔۔۔لوگوں کی آمد و رفت لگی ہوئی ہے۔۔۔۔دنیا میں لاتعداد زندگیاں روزانہ جنم لیتی ہیں اور انگنت لوگ زندگی کی بساط سمیٹ کر دارِ فانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔۔۔۔انسان کہ پیدا ہونےکی خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور فوت ہونے والے آہوں اور سسکیوں میں رخصت کئے جا رہے ہیں۔۔ ۔۔ دنیا میں آسائشوں اور سہولیات کہ لحاظ سے لوگوں کی مختصر تعداد خوشحال ہے اور اس کہ بر عکس دوسری طرف ایک بہت بڑی تعداد دنیاوی آسائشوں اور سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے بدحال ہے۔۔۔۔۔ قدرت کا کاروبار چل رہا ہے اور چلتا رہےگا ۔۔۔۔

 

اللہ نے حضرت آدم علیہ اسلام کوتخلیق کیا اور تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں۔۔۔۔اللہ کہ حکم کی فرشتوں سے زیادہ کون بجا آوری کریگا۔۔۔۔مگر ایک فرشتے نے جو کہ فرشتوں کہ سرداروں میں تھا ایک حکم کی تعمیل سے منکر ہوگیا اور حضرت آدم علیہ اسلام کو سجدہ کرنے سے منع کردیا۔۔۔۔ جواز پیش کیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے میں یہ سجدہ کیسے کروں ۔۔۔۔مشیتِ الہی ۔۔۔۔اس اہم ترین فرشتے سے ساری اہمیت چھین لی گئی۔۔۔۔ اسے جنت سے نکال دیا گیا۔۔۔ اسے ابلیس قرار دیا گیا اور رہتی دنیا تک کیلئے راندائے درگاہ قرار دے دیا۔۔۔۔خدا کے بندوں کوورغلانے کی ذمہ داری اس ابلیس نے اٹھالی۔۔۔۔بس یہ وہی وقت تھا کہ انسان کی مشکلات کا سلسلہ شروع ہوگئی ۔۔۔۔خیر اور شر کی جنگ شروع ہوگئی۔۔۔۔اسی دن سے انسان حق اور باطل کی جنگ میں برسرِپیکار ہوگیا۔۔۔۔اورگناہوں کہ دلدل میں پھنستا گیا۔۔۔۔

 

ہمارے آباؤاجداد کو یہ اس نافرمانی کا بہت اچھی طرح پتہ تھا۔۔۔ہمارے والدین کو بھی اس نافرمانی کا بہت اچھی طرح پتہ ہے۔۔۔۔اب ہم اپنی اولاد کو یہی سبق پڑھا رہے ہیں۔۔۔۔شیطان کی پیروی نافرمانی سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔۔۔غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے آباؤاجداد نے یا ہمارے والدین نے اس بات پر اتنا غور کیا کہ نافرمانی کی شروعات کہاں سے ہوئی ۔۔۔۔نہیں لگتا نہیں کہ اس اہم ترین سانحہ کو اتنی اہمیت دی گئی ۔۔۔۔نافرمانی پر نافرمانیاں ہوتی گئیں۔۔۔۔

 

یہ مسلئہ ہمارے خاندان کا نہیں۔۔۔۔مسلئہ کراچی شہر کا نہیں۔۔۔۔پاکستان کا بھی نہیں۔۔۔۔یہ مسلئہ یقینا دنیا کا ہے ۔۔۔۔ساری دنیا اس نافرمانی کی لپیٹ میں ہے ۔۔۔۔معاشرے میں بنیادی نافرمانی اپنے والدین سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔اساتذہ اس کا نشانہ بنتے ہیں۔۔۔۔اور پھر یہ نا فرمانی پیشہ ورانہ ماحول میں ساتھ ساتھ گھومتی پھرتی ہے ۔۔۔۔اس نافرمانی سے ہوتا کیا ہے ۔۔۔۔۔اس نافرمانی سے ، نافرمانی کرنے سے ہم اس پہلے (ابلیس) نافرمان کہ اہلکار بن جاتے ہیں۔۔۔۔اب جو ابلیس کا اہلکار ہوگا اس سے کیا کسی اچھے اور نیک کام کی توقع کیا جاسکتی ہے ۔۔۔۔یقینا نہیں!

 

اگر ہم اپنی معاشرتی نافرمانیاں لکھنا شروع کریں تو ایک طویل فہرست بن جائے گی۔۔۔۔بلکل ایسا ہی حال ہے ہماری ان نافرمانیوں کاہے جو ہم اپنے مذہب یا اپنے رب کہ ساتھ کررہے ہیں۔۔۔۔ایک طرف تو دنیاوی نافرمانیاں ہیں تو دوسری طرف اللہ رب العزت کی نافرمانیاں ۔۔۔۔پھر ہم کہتے ہیں سکون نہیں ہے زندگی میں ۔۔۔۔سکون کہاں سے آئے گا ۔۔۔۔ہم تو کسی اور کہ اہلکار بنے پھر رہے ہیں۔۔۔۔جو بے ترتیبی کا بانی ہے ہم اس کی مان رہے ہیں۔۔۔۔سجدے پر سجدے ۔۔۔۔زار زار رونا۔۔۔۔نظر نیاز۔۔۔۔چڑہاوے۔۔۔۔یہ سب کچھ فرمانبرداری سے بچنے کیلئے کر رہے ہیں۔۔۔۔ کیا نہیں کر رہے اپنے رب کو منانے کیلئے ۔۔۔۔ فرمانبردار ہوجائیں کچھ بھی نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔سوائے نافرمانیوں سے پیچھا چھڑوانے کہ۔۔۔فرمانبرداری ہی تو عبادت کا اہم ترین جز ہے۔۔۔۔فخر سے، ادب سے، تعظیم سے  آپ اسکے ہی سامنے کھٹرے ہوسکتے ہو جس کہ آپ فرمانبردار ہوتے ہو۔۔۔ورنہ توسب وقت کا ضیاع ۔۔۔۔

 

نہ صرف ایک عام انسان کی بلکہ خاص انسانوں کی (جن کہ ذمہ انسانیت کو سدہارنے کا ذمہ دیا گیا ہے یا خود انہوں نے لیا ہے) ۔۔۔۔ایک نافرمانی کی ایسی سزا ہوتی ہے کہ اپنے انتہائی خاص فرشتے کو بھی نہ بخشاجائے۔۔۔۔ ہم نے نافرمانیوں کی دکان کھول رکھی ہے۔۔۔۔نافرمانی در نافرمانی۔۔۔۔

 

اگر اس تحریر سے اتفاق ہے تو پھر نافرمانیوں سے پیچھا چھڑوانے کا عہد کریں ۔۔۔۔عہد کس سے کریں۔۔۔۔جناب اپنے ساتھ فرمانبرداری کریں اور اپنے ساتھ عہد باندھیں۔۔۔۔اللہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائیں۔۔۔۔


--



--

Khalid Zahid

unread,
Jun 6, 2016, 7:22:06 AM6/6/16
to bazmeqalam

moudud sid

unread,
Jun 6, 2016, 8:20:32 AM6/6/16
to bazmeqalam

Ziya Farooqui

unread,
Jun 7, 2016, 7:23:08 AM6/7/16
to amara Samaj, ABDUL NASEEM, abdussalam asim, abgeena jmi, abgeena.nazar, Abu Zahir Rabbani, Afzal Misbahi, aiccmediasecy media, Aijaz .Shaheen, akhbare...@gmail.com, akh...@gnnnews.tv, Karim Raza, akm...@gmail.com, Al-...@hotmail.com, alam mashkoor, alyau...@yahoo.co.in, Amjad Ahad, Andalib urdu, Anjum Jafri, anjuman....@gmail.com, Milp Standbay, Zubair Ahmad Farooqui, araiss...@yahoo.co.in, Arif Nisar, Arshia Khanam, asadr...@yahoo.co.in, Asgar Ansari, ashok kumar Meena, asia express, asif...@hotmail.com, aurangab...@rediffmail.com, avadh nama, Roznama Awam, awazem...@sify.com, ayub...@yahoo.co.in, azadhi...@hotmail.com, azizb...@gmail.com, azizburn...@gmail.com, banni...@rediffmail.com, bpln...@gmail.com, burneyaz...@hotmail.com, The Siasat Daily, custom...@relianceada.com, daily....@yahoo.in, dailykai...@gmail.com, daily...@gmail.com, Udaan Jammu, danish iqbal, ed...@milligazette.com, edi...@etemaaddaily.com, edi...@inquilab.com, edi...@ncpul.in, edi...@urdutimes.net, edito...@chauthiduniya.com, edito...@gmail.com
Adab
 

 Barahe Karam Is Report Ko Apne Akhbar Mein Shai Kar Ke Mamnoon Karein

Ziya Farooqui

9270146777
ek sham.jpg
Ek sham.inp

Urdu Khabar.com

unread,
Jun 7, 2016, 7:23:19 AM6/7/16
to Shakil Rahman, Wadood Sajid, Habeeb Saifi, Anis Fatima, Ta Naseem, Khalid Anwar, Islamic Research Institute, Siyasi Ufuque Urdu Daily, WELFARE WPI, Seerat Society, Caravan Daily, intl.mus...@gmail.com, popular front of india, Ghalib ins, Nazish Huma Qasmi, bazmeqalam, mosharraf alam zauqui, Nusrat Zaheer Ahmed, ChannelOneNews Noida, Saira Aslam, Jamshed Rahmani, Jawaid Rahmani, Haryana Urduakademi, Urdu Academy, Nand Vikram, urdu, Mohammad Umar Qadri, Hussain Kavish, Maktaba Jamia Limited
for these two website sent your Press release in Urdu and Hindi

--
Editor
Urdu Khabar Dot Com
Mob: 9818893658
Email: writetojou...@gmail.com
Web: www.urdukhabar.com

dr shahid Siddiqi

unread,
Jun 7, 2016, 11:05:18 AM6/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Please note
Email address for urdu Khaber
is incorrect, emails are bouncing back.
Wassalam

Sent from my iPhone

Nadeem Siddiqui

unread,
Jun 9, 2016, 11:18:30 AM6/9/16
to


(پیر۶ جون ۲۰۱۶)
  روزنامہ ممبئی اردو نیوز کا اداریہ
از : عالِم نقوی
جہد للبقا اور حفاظت خود اختیاری کی منصوبہ بندی !
ہریانہ کے سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس (لاء اینڈ آرڈر) وکاس نارائن رائے (فون نمبر 9818603345ای میل آئی ڈی vnra...@gmail.comکی ایک تحریر ایڈوکیٹ عاصم خان کے ذریعے سے ہمیںجمعہ ۳ جون کی رات۱۱ بج کر ۲۷ منٹ پر وہاٹس ایپ کے اردو جرنلسٹ فورم نام کے گروپ  پر موصول ہوئی۔آج (۴ جون کو )ہم نے فون پر ان سے تصدیق چاہی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ میل سوشل ایکٹی وسٹ شبنم ہاشمی اور راہل رائے کے توسط سے ملا ہے ۔ پھر بھی ہم نے 15.56پرمندرجہ بالا نمبر پر کال کی ۔ فون اٹھانے والے نے تصدیق کی کہ وہ وکاس نارائن ہیں ۔ ہم نے اپنے تعارف کے بعد مذکورہ وہاٹس ایپ پوسٹ کے بابت سوال کیا تو انہوں نے تصدیق کی وہ پوسٹ انہی کی ہے اور درست ہے ۔ اب اس پوسٹ کا  ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :
                              ۔۔ ایک (ٹی وی ) نیوز چینل نے آج مجھ سے رابطہ کیا اور قریب ایک بجے دن میں ان کے رپورٹر اور کیمرہ مین میرے گھر  پہونچ گئے ۔ انہوں  نے کیمرہ وغیرہ سٹ کرنے کے بعد اسٹوڈیو میں بیٹھے ہوئے  اپنے اینکر (مسٹر راہل )سے  میری بات کروائی جنہوں نے فروری 2007 کے سمجھوتہ ایکس پریس بم دھماکہ کیس کے تعلق سے مجھ سے متعدد سوالات پوچھے جن کے جواب میں دیتا رہا ۔ یہ (ٹیلی فونک ) گفتگو  قریب بیس سے پچیس منٹ جاری رہی ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ بات چیت  شام کے نیوز ٹیلی کاسٹ میں نشر کی جائے گی ۔ میں اس خصوصی تفتیشی ٹیم SITکا سربراہ تھا جو (سمجھوتہ ایکس )پریس بم دھماکے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی تھی ۔ میں نے  بہت صاف  اور واضح لفظوں میں  انہیں  بتایا کہ SIT اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اس بہیمانہ جرم  میں کسی پاکستانی یا SIMI گروپ کاہاتھ نہیں ہے ۔ بلکہ ،میں نے انہیں بتایا ، کہ ان دھماکوں میں ہندو عناصر کے  ملوث  ہونے کے اشارے ملے تھے اور یہ بات SITاور وزارت داخلہMHAکے ساتھ ڈسکشن میں رکھی جا چکی تھی ۔ میں نے (مسٹر راہل کو) یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں سنیل جوشی کا نام سامنے آ چکا تھا ۔میں نے مہاراشٹرا اے ٹی ایس ATSچیف  (آنجہانی )ہیمنت کرکرے سے بھی گفتگو کی تھی  جنہوں نے ان بم دھماکوں میں ہندو عناصر کا ہاتھ ہونے کی تصدیق کی تھی ۔ ۔لیکن شام کو جب میں نے مذکورہ نیوز چینل پر متعلقہ پروگرام دیکھا تو میری حیرت اور دہشت کی انتہا نہیں رہی جب میں نے نہ صرف اپنے پورے انٹر ویو کو غائب پایا بلکہ اینکر مسلسل یہ جھوٹ بولتا رہا کہ ہریانہ SITنے سمجھوتہ بم دھماکوں میں SIMIکا ہاتھ ہونے کا پتہ لگایا تھا ۔ یہ ایک صریح جھوٹ اور من گھڑت داستان ہے جس کی ذمہ داری پوری طرح مذکورہ ٹی وی چینل اور ان کے اینکر پر عائد ہو تی ہے ۔ ۔
                            ہم بہت دنوں سے اپنے قارئین کو نہ صرف حالات کی سنگینی سے آگاہ کر رہے ہیں بلکہ اپنی دانست اور اپنے علم و یقین بھر یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اب ہمارا مستقبل کا قلیل مدتی اور طویل مدتی لائحہء عمل کیا ہونا چاہیے ۔ ہم پچھلے چودہ برسوں سے (۲۸ فروری ۲۰۰۲ سے)کم و بیش روزانہ(تقریبا ً بلا ناغہ ) لکھ رہے ہیں اور تاحال کم از کم چار ہزار کالم ضرور لکھ چکے ہیں جن میں سے قریب ایک ہزار کالموں کا تعلق اسی مخصوص موضوع سے ہو گا ۔ ان چودہ برسوں میںشایع کالموں کے چھے مجموعے کتابی شکل میں موجود ہیںاور کم از کم پندرہ مجموعوں کا مواد موجود ہے جسے اگر کتابی صورت میں محفوظ نہ کیا جا سکا تو ضایع ہو جائے گا کیونکہ اخبار کی زندگی معلوم ! ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے ،ابھی مزید کیا کچھ دیکھنا باقی ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ،ان تمام سوالوں کے جواب ہماری سابقہ تحریروں میں موجود ہیں ۔ پھر بھی کچھ باتیں آج پھر اختصار سے ۔
                              ہم رسول ہاشمی ﷺکی امت ہیں ۔ہمیں دیگر مشرقی یا مغربی اقوام پر قیاس کر کے دیا جا نے والا کوئی بھی مشورہ اور  اٹھایا جانے والاکوئی بھی قدم درست نہ ہو گا اگر اس کی بنیاد قرآن و سنت پر نہ ہو ۔ قرآن پورے کا پورا اسلام میں داخل ہو نے ،ہر حال میں عدل (انصاف ) کرنے اور  ہر طرح کے ظلم سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کا حکم دیتا ہے ۔خالق و مالک پروردگار اللہ سے ڈرنے اور اس کے سوا کسی اور سے ہرگز نہ ڈرنے اور روز آخرت کے حساب کو ہمہ وقت نگاہ میں رکھنے ،اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہنے اور کفران نعمت سے بہ ہر صورت محفوظ رہنے کی ہدایت کرتا ہے ۔اس نے ہمیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ یہ فانی دنیا عالم امکان ،عالم اسباب اور جائے امتحان و آز مائش ہے جس سے کسی فرد بشر کو مفر نہیں ۔ دنیا میں ہمارے دشمن کون کون ہیں اور دشمنوں پر اپنی ہیبت قائم رکھنے کے لیے کیا کیا کرنا ضروری ہے یہ ساری تفصیل محکم آیات قرآنی میں پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ کسی بھی احتمال اور شک کے شائیبے کے بغیر موجود ہے ۔ان سولہ فقروں کے اجمال کی تفصیل پچھلے سولہ برسوں میں سولہ سو سے زائد بار لکھی جا چکی ہے اور انشآ اللہ ء آیندہ بھی  بشرط توفیق و زندگی ،ضبط تحریر میں لائی جاتی رہے گی ۔لیکن آج بس اتنا ہی ۔


--
NadeemSiddiqui
edit-16 copy.jpg
edit-16.pdf

iqbal rizvi

unread,
Jun 10, 2016, 5:56:48 PM6/10/16
to Adabdotcom, Aijaz Shaheen

سلام
سید اقبال رضوی شارب
 
مجھ پر مرے اجداد پہ  خالق کی عطا ہے
ہم کو در شبّیر جو ورثے میں ملا ہے
 
تکمیل بشر کی حد آخر ہیں محمّد
پھر اس سے پرے  صرف خدا صرف خدا ہے
 
دو ٹکڑے ہیں اک نور کے یہ احمد  و حیدر
 اس واسطے وہ نفسِ رسولِ دو سرا ہے   
 
سب وار دیا دین پہ قاسم ہو کہ اکبر   
سر شکر کے  سجدے میں کٹایا کہ خدا ہے 
 
جب بھی  کبھی تنہائی ہو  محتاط بھی رہنا
خلوت میں ہی ابلیس نیں کتنوں کو  ٹھگا ہے
 
مولا کے مقولات  میں اک یہ بھی ہے شارب
*مکسور ارادوں نے بتایا کہ خدا ہے
(حضرت علی کا ایک  ارشاد یہ بھی  ہے کہ میں نے  الله کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا )

biswinsadi biswinsadi

unread,
Jun 11, 2016, 3:20:44 AM6/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com

بہت khoob

--

iqbal rizvi

unread,
Jun 11, 2016, 5:39:04 AM6/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com
bht shukria

mir ali

unread,
Jun 11, 2016, 8:52:57 AM6/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com
SubhanAllah Sharib bhai.  Kya kahnay. Jazakallah 
Yousuf 


On Sat, 11 Jun, 2016 at 3:20 AM, biswinsadi biswinsadi

Ghousia Sultana

unread,
Jun 11, 2016, 9:07:01 AM6/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com



Sent from my T-Mobile 4G LTE Device
Mohammad Ali.eml

iqbal rizvi

unread,
Jun 12, 2016, 2:43:24 AM6/12/16
to BAZMe...@googlegroups.com
bahot manoon hun Yusuf sb aap ne izhar e rai kiya
sharib


On Saturday, June 11, 2016 3:52 PM, 'mir ali' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:


SubhanAllah Sharib bhai.  Kya kahnay. Jazakallah 
On Sat, 11 Jun, 2016 at 3:20 AM, biswinsadi biswinsadi
بہت khoob
On 11-Jun-2016 3:26 am, "'iqbal rizvi' via بزمِ قلم" <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

سلام
سید اقبال رضوی شارب
 
مجھ پر مرے اجداد پہ  خالق کی عطا ہے
ہم کو در شبّیر جو ورثے میں ملا ہے
 
تکمیل بشر کی حد آخر ہیں محمّد
پھر اس سے پرے  صرف خدا صرف خدا ہے
 
دو ٹکڑے ہیں اک نور کے یہ احمد  و حیدر
 اس واسطے وہ نفسِ رسولِ دو سرا ہے   
 
سب وار دیا دین پہ قاسم ہو کہ اکبر   
سر شکر کے  سجدے میں کٹایا کہ خدا ہے 
 
جب بھی  کبھی تنہائی ہو  محتاط بھی رہنا
خلوت میں ہی ابلیس نیں کتنوں کو  ٹھگا ہے
 
مولا کے مقولات  میں اک یہ بھی ہے شارب
*مکسور ارادوں نے بتایا کہ خدا ہے
(حضرت علی کا ایک  ارشاد یہ بھی  ہے کہ میں نے  الله کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا )
--

 
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam

Nadeem Siddiqui

unread,
Jun 18, 2016, 12:49:50 PM6/18/16
to



 ممبئی اردو نیوز کا تازہ کالم ’’ شب و روز ‘‘

’’ خلیل آئس کریم والااور دیپوچمار کا بیٹا۔۔۔؟‘
     بھیونڈی کے محمد ابراہیم انصاری ( 1984   میں بھیونڈی کے فساد میں جن کا مکان وغیرہ جلا دِیاگیا تھا۔) کے نام سے ہمارے پرانے لوگ  ناواقف نہیں ہونگے۔  اس مرحوم کرم فرما نے ہمیں ایک دن بتایا تھا کہ  میں نے  (بھیونڈی کے)نارپولی  علاقے میں کرانے کی ایک بڑی دُکان کھولی  جہاں اکثریت گجراتی برادرانِ وطن کی تھی۔  ایک مدت گزر گئی مگر   یہاں کے لوگوں نے میری دُکان کی طرف نگاہِ غلط انداز بھی نہیں ڈالی۔ تو میں نے یہاں کےکچھ شناسا   لوگوں سے اس کی وجہ پوچھی تو ، جواب ملا کہ آپ لوگوں سے ہم کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں خریدتے۔ میں نے کہا : مگر ساری چیزیں تو  پیکPack کی ہوئی ہیں۔ تو  اُس شناسا نے تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ ہماری طرف دیکھا اور مَلِچھ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا اور آخر ایک دن ہمیںیہ دُکان بڑھانی ہی پڑی ۔
   آج برسوں بعد یہ بات  ہمیں  ایک تازہ خبر نے یاد دِلا دی۔ اس خبر میں بھی ہم آپ کو شریک کرتے ہیں :
    ’’ ایک گاؤں میں 42 سالہ خلیل نامی آئس کریم فروش کو مسلمان خواتین اور بچوں کو آئس کریم بیچنے پر کچھ لوگوں نے مارا پیٹا۔ خلیل کو مارتے ہوئے اس گروہ نے نعرہ بازی بھی کی کہ تم  اچھوتوں میں سے ہو،اس لئے  تم کو اس کی اجازت نہیں کہ ہمارے بیچ کھانے پینے کی اشیا فروخت کرو۔خلیل  نے بتایا کہ 17 مئی 2016 کو وہ آئس کریم بیچنے کیلئے گیا، دو افراداسکے پاس آئے اور چوڑا کہتے ہوئے  ذِلت آمیز الفاظ استعمال کرنے لگے (چوڑا اُس علاقے میں نچلی ذات کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔)۔خلیل نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے مجھے چوڑا  ہی نہیںکہا  بلکہ مجھ پر الزام لگانے لگے کہ میں ان کے بچوں اور خواتین کو گندی اور ناپاک اشیا بیچ رہا ہوں،میں نے  اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا نہیں ہے لیکن انہوں نے میر ی بات سنی ہی نہیںاور کوئی 20  افرادکے قریب  ہجوم ہوگیا اور ان سب نے  غصے میں مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا،مجھے مارا ہی نہیں بلکہ میری سائیکل بھی توڑ ڈالی اور میری آئس کریم بھی زمین پر بکھیر دی۔ ہجوم سمیت پاس کھڑے مسلمان مرد اور خواتین تکبر کے نعرے لگاتے رہے ا  ور کہتے رہے کہ تم ا چھوت ہو ، تم ہمارے نبی کو نہیں مانتے۔تم کو مسلمانوں  میں کھانے پینے کی اشیا بیچنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔‘‘

     یہ واقعہ کہیں اور کا نہیں  بلکہ اس  ملک(پاکستان)   کاہے  جو  اسلام ہی کے نام پر وجود میں آیا  ہے۔ہمارا قاری حیرا ن ہوگا کہ آخر ماجرا  ہے کیا  کہ آئس کریم بیچنے والا تو  خلیل ( یعنی مسلم)ہے۔!!  یقیناً یہ خلیل ہے مگر کم لوگوں کو پتہ  ہوگا کہ پاکستان میں  خاصی تعداد میں عیسائی آباد ہیں اور ان کے اکثر نام ہی نہیں بلکہ رہن سہن اور لباس تک بالکل مسلمانوں جیسے ہیں۔ یہ سنی سنائی نہیں بلکہ  ہمارامشاہدہ  بھی ہے یہ عیسائی بہت اچھی اُردو بھی بولنے پر قادر ہیں۔
     ہم نے ابراہیم انصاری مرحوم کے واقعے کا ذکر کیا ہے، اللہ نے انھیں نوازا  تھا  انہوں نے دوسرا کاروبار اختیار کر لیا۔ مگر وہ لوگ جو چھوٹے  چھوٹے  پیشے اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کےلئے یہ مرحلہ کس قدر  روح فرسا  ہوگا!! اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
    وہ خلیل مسیح کی آئس کریم   کی سائیکل ہو یا ابراہیم انصاری کی کرانے کی دُکان۔  ہم نے تو یہ سوچا کہ ایسا  ہوتا کیوں ہے، اس کی جڑ بنیاد کہاں اور کیوں ہے۔؟ ہمیں  اپنے بزرگوں کا دَور یاد آتا ہے جو   اپنے ہم مذہب پیشہ ور لوگوں کے تعلق سے نہایت منفی رویہ روا رکھتے تھے۔ مثلاً  نائی( اب سلمانی کہلاتے ہیں)، کپڑا بننے والے یعنی جُلاہے ( انصاری وغیرہ ) جیسی برادری  کے لوگوں کے ساتھ۔
    اپنے ایک بزرگ  کا  بہت ہی طمطراق کے ساتھ سنایا ہوا واقعہ بھی  نذرِ قارئین کرتے چلیں۔

         ’’ہمارے  دادا جان گاؤں کے  زمیں دار تھے۔ گاؤں کے  دیپو چمار کا بیٹا شہر سے کچھ پڑھ و ڑھ کر گاؤں لوٹا  ۔ گرمی کا موسم تھا  ،شام   سے کچھ قبل ہمارے   دادا جان   برآمدے میں   نیم دراز تھے، انہوں نے دیکھا کہ دیپو چمار کا بیٹاسامنے سے گزرا اور اس نے  دادا جان کی طرف دیکھتے ہوئےدونوں ہاتھ جوڑ کر’’ میاں! سلام‘‘ کہا اور آگے بڑھ گیا۔
         دادا جان کو بہت گراں گزرا۔ انہوں نے اپنے قریب ہی دو چار مسٹنڈے جو  اینڈ رہے تھے اُنھیں اشارہ کیا کہ ذرا  دیپو چمار کے اس کپوت کو گھسیٹ لاؤ۔ اُس کی یہ  مجال’ سلام مار  کے آگئے بڑھ گیا‘۔  دادا جان کے مسٹنڈے آن کی آن حکم بجا لائے۔ اب  مسٹنڈوں کو حکم ہوا کہ ذرا میری نعلین شریف سے اس کی   دس بار ’تاج پوشی‘ کرو۔  دِیپو چمار کا بیٹا کہتا ہی رہ گیا کہ  میاں جی! ہم  سے کیا گلتی ( غلطی)ہوگئی؟ اور مسٹنڈے ہاتھوں میں نعلین اٹھائےگنتے جاتے اور اس کی تاج پو شی کرتے جاتے تھے۔ اب حکم ہوا کہ  جاؤ اس کے باپ دیپو  ؔ کو بلا  لاؤ۔ باپ بھی دوڑا دوڑا آیا ، اس کی  بُدھی تیز تھی معاملہ سمجھ گیا ۔  دادا جان  نے غیظ و غضب   سے بھری آواز میں ڈانٹا کہ ’’  شہر  میں یہی پڑھوانے کےلئے بھجوایا تھا کہ یہ گاؤں کی ریت رواج بھول جائے۔ لے جاؤ، آج  اس نے صرف   دس جو تیاں کھائی ہیں  اگر اس نے آئندہ ایسا کیا تو اس کا کیا حشر  ہوگا ،سو چ لینا۔۔
۔‘‘
      انگریزوں  کے جا نے کے بعد نہ زمیں داری رہی اور نہ میاں جی کا طمطراق اور یہ بھی دیکھا گیا کہ دیپو چمار جیسوں کے بیٹوں نے تعلیم ہی نہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور  میاں    جی کی اولادیں محض فخر و  غرور کے قصے ہی سناتی  رہیں  اور میاں جی کی تیسری نسل کا حال تو  مت پو چھئے۔  دیپو چمار کے بیٹے  بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے اور اب سوچئے کہ دیپو چمار کے بیٹوں نے میاں جی کی نعلین اور   اپنی تاج پوشی   بھلا دِ ی ہوگی۔۔۔! ۔۔۔اور اس وقت ذرا ہمیں اپنا  احتساب بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے  ہی ہم مذہب جو  تعداد میں کم  یا کسی طور پچھڑے ہوئے ہیں ان سے کس طرح پیش آتے ہیں اور ذرا یہ قولِ صادق بھی یاد کریں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ہم زمانے کو   ادلتے  بدلتے بھی رہتے ہیں۔ 
                                                                             ن۔ ص


--
NadeemSiddiqui
Shab o Roz 18-06-16.pdf
Shab o Roz 18-06-16 copy.jpg

Maqsood Sheikh

unread,
Jun 18, 2016, 1:44:25 PM6/18/16
to BAZMe...@googlegroups.com

ندیم صدیقی صاحب ! بہت اچھا کیا یہ واقعات تحریر میں لائے ۔ خدا س ذہنیت کے افراد و اشخاص سے بچائے ۔  انسانیت سوز مغرور ذات پات کے اندھے یہی تو ہمارے ماتھ پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ان کی جو مذمت نہ کرے وہ بھی قابل مذمت!

--

iqbal rizvi

unread,
Jun 19, 2016, 4:55:43 AM6/19/16
to BAZMe...@googlegroups.com
achchi tahreer hai
lekin  lafz " .xxxxar"  ka istemal ab hindostan mein qanoon mumnooa hai.
Lehaza ijtenab karien.
wassalam
sharib
 


Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Jun 19, 2016, 5:29:40 AM6/19/16
to bazme...@googlegroups.com, Nadeem Siddiqui, Urdu Times
Nadeem Saheb
Bar waqt yaad dahani hai
ہمیں اپنا  احتساب بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے  ہی ہم مذہب جو  تعداد میں کم  یا کسی طور پچھڑے ہوئے ہیں ان سے کس طرح پیش آتے ہیں اور ذرا یہ قولِ صادق بھی یاد کریں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ہم زمانے کو   ادلتے  بدلتے بھی رہتے ہیں۔  
Mirza


From: nade...@gmail.com
Date: Sat, 18 Jun 2016 22:19:09 +0530
Subject: [بزم قلم:51416]
To:

Urdu Khabar.com

unread,
Jun 23, 2016, 1:51:57 PM6/23/16
to md.ya...@gmail.com, allindiaim...@gmail.com, Habeeb Saifi, Mohammad Talha, aainaehaque@yahoo.com <aainaehaque@yahoo.com>, aftabehind@yahoo.com <aftabehind@yahoo.com>, aimmc2006@yahoo.com <aimmc2006@yahoo.com>, akhbarenaunews@gmail.com <akhbarenaunews@gmail.com>, aliabidipress@gmail.com <aliabidipress@gmail.com>, alihaq_ainain@yahoo.com <alihaq_ainain@yahoo.com>, almomin.delhi@gmail.com <almomin.delhi@gmail.com>, almomin_delhi@rediffmail.com <almomin_delhi@rediffmail.com>, altarek2@yahoo.com <altarek2@yahoo.com>, alyaumdaily@yahoo.co.in <alyaumdaily@yahoo.co.in>, andaliburdu@gmail.com <andaliburdu@gmail.com>, anjumjafri@yahoo.com <anjumjafri@yahoo.com>, ansarimustafa1972@gmail.com <ansarimustafa1972@gmail.com>, ashrafbastavi@gmail.com <ashrafbastavi@gmail.com>, atharsahara@gmail.com <atharsahara@gmail.com>, avinaash.chandra@gmail.com <avinaash., asgar ansari, Qasim Ansari, a majid nizami, Wadood Sajid, KHALID MUSTAFA, Ghalib ins, Urdu Academy, musharraf alam, Kamran Ghani, DR RAGHIB, Nazish Huma Qasmi, Jawaid Rahmani, Nusrat Zaheer Ahmed, Nand Vikram, sadaeansari sadaeansari, Shams Aghaz, Rashid Rahmani, Abul Kalam Khan, bazmeqalam, ChannelOneNews Noida, Falahuddin Falahi, Shakil Rahman
میرے عزیز دوستو!
اردو خبر ڈاٹ کام (اردو نیوز پورٹل)اور ANN24x7(ہندی نیوز پورٹل)میں اپنی نیوز شائع کرانے کے لیے اپنی خبر اس میل آئی ڈی پر ارسال کریں


-- 
Editor
Urdu Khabar Dot Com
ANN 24x7 . Com
Mob: 9818893658
Email: writetojou...@gmail.com
Web: ann24x7.com
Web: www.urdukhabar.com

Nadeem Siddiqui

unread,
Jun 24, 2016, 2:20:00 PM6/24/16
to
 ممبئی اردو نیوز کا تازہ کالم
شب و روز

’’  اگر آج   اقبالؔ ہوتے تو کیااُن کا بھی حشر  امجدؔ صابری جیسا ہوتا؟‘‘
      کراچی کا ایک  فیشن ا یبل بازار طارق روڈ کے نام  سے مشہور ہے۔ کراچی میں جہاں ہمارا قیام تھا وہاں سے یہ بازار سیدھا  بہادر آباد سرکل تک  چلا گیا ہے اس کا فاصلہ یوں سمجھیے ،جیسے ممبئی کے بھنڈی بازار کے جوہر چوک سے کرافورڈ مارکیٹ کے سرکل تک۔ طارق روڈ پر طرح طرح کی چیزوں کی بڑی بڑی دُکانیںہیں جن سے یہ علاقہ بار ونق ہے۔ ایک شام ہمیں اپنی  پھوپھی کے گھر (واقع بہادر آباد سرکل)  جانا تھا، ہم کوئی سواری    نہ لیتے ہوئے  پیدل  چل پڑے۔ بازار کی رونق سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کوئی بیس پچیس منٹ میں ہم  اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ وہاں گپ شپ  میں وقت کا خیال ہی نہیں رہا۔  جب احساس ہوا کہ وقت خاصا ہو چکا ہے  چلنا چاہیے وہاں دادا، دادی   پریشان ہونگے۔ ہم   اُٹھے تو  پھوپھی نے  روکا کہ کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ اور پھر چلے جانا ۔ ہم تکلف میں کچھ نہ کہہ سکے اور بیٹھ گئے۔ جب کھانے سے فراغت ہوگئی تو واپسی کا بھی وہی طریق اختیا رکیا۔ یعنی پیدل چل دِیے۔  چونکہ دو تین گھنٹے گزر چکے  تھے۔  دادا، دادی کو فکر ہوئی، کوئی تین دہے قبل موبائیل کا تصور بھی نہیں تھا ۔    دادا نے اپنی بیٹی کو( بہادر آباد) فون لگایا کہ ندیمؔ کہاں ہے ۔؟ جواب ملا: یہاں سے نکل چکا ہے۔  ہوسکتا ہے راستے  میں ہو ا ور کچھ دیر میں پہنچ جائے۔ پھر کچھ دیر میں دادا کا فون آیا کہ ندیم اب تک نہیں پہنچا۔  اس طرح کوئی تین چار  بار اُنہوں نے فون کر ڈالا۔ اب ہم جب گھر پہنچے تو  بہادر آباد سے  فون کھڑ کھڑا رہا تھا، ہم نے رِیسور اٹھا یا تو   ہماری پھوپھی تاسف کے انداز میں کہہ رہی تھیں ’’کہ دیکھو ، ابّا تمہیں تین چار سال کابچہ سمجھ رہے ہیں،چار بار فون کر چکے ہیں کہ ندیم اب تک گھر نہیں پہنچا، آخر کہاں رہ گیا، تم نے اسے اتنی دیر کیوں روک رکھا۔ ہم اور تمہاری ماں پریشان ہیں۔ ‘‘۔۔۔ ہم نے کہا کہ جانے دِیجیے۔ فون کا ریسیور رکھا تو  دادا نے اپنی طرف بلایا  اُن کے پاس  پہنچے اور  انہوں نے جو کچھ کہا ، وہ یہاں  بیان کرنا مقصودہے۔  بزرگوار کہنے لگے کہ میاں یہاں کے حالات بہت خطر ناک ہیں کس وقت  اور کس کے ساتھ یہاں کیا ہوجائےگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ہمارے علم  میں ہے کہ ایک ہٹا کٹا  نوجوان جو اپنے کسی عزیز کے ہاںمیرٹھ سے آیا تھا، اسے سرِ راہ اٹھا لیا گیا۔ یہاں اس کے  تمام اعزہ اور میرٹھ میں اس کے والدین بری طرح پریشان تھے۔  اس کی قسمت نے یاوری کی کوئی ڈیڑھ ماہ بعد وہ کراچی سے  بہت دور   افغانستان  سے قریب سرحدی علاقے  میںپایا گیا ۔ ایک لمبی روداد ہے، مختصر یہ کہ جب اسے یہاں لایاگیا  تو وہ بہت کمزور کیا، بالکل لاغر تھا ۔ ہسپتال  لے جایا گیا جب پورا چیک اپ ہوا تو پتہ چلا کہ کوئی بیس  پچیس دن قبل اس کا ایک گردہ نکال لیا گیا ہے۔ یہ تو  اللہ کا کرم  ہوا کہ  وہ مل گیا بعض  لوگوں کا تو سراغ ہی نہیں لگا کہ وہ زِندہ بھی ہیں یا  دُنیا سے اٹھا دِیے گئے۔ ایسے ایک دو نہیں نجانے کتنے واقعات ہیں۔ جو یہاں معمول بن چکے ہیں۔ ایسے میں اتنی دیر تک تمہارا گھر نہ پہنچنا ہمارے  لئے بہت تکلیف دِہ تھا۔۔۔
اسی  سفرِکراچی میں ہم مشہور شاعر اور جید عالم رئیس امروہوی سے بھی ملے تھے ۔ کوئی تین دہے قبل کی یہ   باتیں ہیں۔ کراچی سے لوٹے ہوئے کوئی ماہ بھر گزرا ہوگا کہ خبر آئی کہ رئیس امروہوی کو کسی نے گولی مار دِی۔ مشہورِ زمانہ مجلے’’  تکبیر‘‘ کے مدیر صلاح الدین  ، روزنامہ جنگ میں فتوے لکھنے والے ممتاز عالم ِدین مولانا یوسف لدھیانوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مشہور ذاکر ِ اہل بیت مولانا عرفان حیدر اور یاد آئے نہایت شریف اوردرد مند شخصیت  کے حامل عالِم اور طبیب حکیم محمد سعید اور مشہورِ عالَم پینٹر اسماعیل گُل جی کو قتل کردِیا گیا۔ یہ تو چند نام ہیں جو اِس وقت یاد آگئے ورنہ  اس طرح کے بہیمانہ قتل کے نجانے کتنے واقعات ہیں۔ مسجدوں اور امام بارگاہوں تک وہاں کوئی محفوظ نہیں۔  ایک نہایت دردناک واقعہ اوریاد آیا اگر ہمارا حافظہ خطا نہیں کرتا تو2006 میں  بارہ ربیع الاوّل کا دن تھا  اور رسول کریمؐ کے جشن ِ پیدائش  کے جلوس  میں عین نماز مغرب  کے وقت کراچی کے نشتر پارک میں بم دھماکہ کیا گیا۔ کوئی پچاس انسان شہید  اور سو سے زائد افراد بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ ان تمام واقعات کو دہے گزر  گئے ان کے حقیقی مجرمین گرفت میں نہیں آسکے۔
گزشتہ بدھ کو کراچی ہی میں مشہور قوال امجد ؔصابری کے قتل نے ہم جیسے نجانے کتنےدرد مندوں کو ہلا کر رکھ  دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امجد کی خطا اتنی تھی کہ وہ اکثر  ایک  نعت پڑھتے تھے جس میں یہ شعر بھی تھا:’’ مَیں قبر اندھیری میں، گھبراؤں گا جب تنہا ÷ امداد کو میری تم  آجانا رسول  اللہ۔‘‘  جس میں کسی  کو توہین رسالت  محسوس ہوئی ۔جو  لوگ شعر و شاعری کی معمولی سی بھی فہم یا نعت وغیرہ کا شغف رکھتے ہیں۔ وہ سوچیں کہ ان لفظوں میں کیا کوئی ایک   لفظ بھی ایسا ہے جس میں اُنﷺ کی توہین کا شائبہ بھی ہو۔ اس طرح کے تو نجانے کتنے اشعار ہمارے  بزرگوں نے کہے ہیں اور اب بھی کہے جاتے ہیں۔۔۔ پاکستان میں  علامہ اقبالؔ کو غیر معمولی عقیدت  سے دیکھا جاتا ہے۔ یقیناً اقبال ؔاس کا حق بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اُردو شاعری میں جس طرح  اپنا مقام بنایا وہ  بے مثال ہے۔ مگر آج امجدؔ صابری کےقتل کی جو وجہ بیان کی گئی ہے اس پس منظر میں ہم سوچ رہے ہیں کہ اقبالؔ کے ’’تصورِ پاکستان‘‘پر کوئی تبصرہ نہیں مگر  اب جس پاکستان کا وجود ہے وہ کس قدر ’’ ظالم اورسفاک‘‘ ہے۔ !!۔۔۔اگر آج علامہ اقبال ہوتے تو عجب نہ ہوتا کہ’’ شکوہ‘‘ لکھنے کی پاداش میں  انھیں بھی بم سے اُڑا دِیا جاتا یا گولیوں سے بھون دیا جاتا کہ’’ نعوذ باللہ  اس شاعر نے  ربِ کریم  سے شکوے کی جرأت کی ہے،  اسے فوراً سے پیشتر جہنم رسید کرو۔‘‘۔۔۔   قومِ مسلم پرکسی  دوسرے کاایک تبصرہ بھی اس وقت ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ۔۔۔’’ انھیں  ان کے حال پر چھوڑ دویہ آپس  ہی میں ایک دوسرے کو جہنم رسید کرتے رہیں گے۔‘‘۔۔۔ ہم آدمی ہیں بقول مرزا غالبؔ پیالہ و ساغر نہیں۔ ایسے واقعات دِل کو خون کر دیتےہیں۔ دُنیا کہاں پہنچ رہی ہے  اور ہم ہیں کہ ایک دوسرے کو جہنم رسید کرنے کے عمل میں سبقت لے جانے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا کیا ’غسلِ ذہنی‘ کردیا گیا ہے کہ ہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ’’ جس نے کسی ایک انسان کا بھی قتل کیا  تو یہ گویاایسا ہے جیسے پوری  انسانیت کا قتل۔‘‘                                                                                            ندیم صدیقی


--
NadeemSiddiqui
Shab o Roz26-06-16 copy.jpg
Shab o Roz26-06-16.pdf

Syedain Shuja Naqvi

unread,
Jul 4, 2016, 10:50:25 AM7/4/16
to BAZMe...@googlegroups.com

Janab e aali meN poochhna chahta huN sahi lafz barkat (برکت) ya barakat yani rey( ر) ke oopar harakat he ya nahiN

Dr. Shakeel Ahmed

unread,
Jul 4, 2016, 11:14:14 AM7/4/16
to SHAHEEN SIDDIQUI
بٓرٓکٓۃ  جمع برکات
مثلاً ؛ السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ



Date: Mon, 4 Jul 2016 16:47:06 +0530
Subject: [بزم قلم:51733]
From: nashta...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com


Janab e aali meN poochhna chahta huN sahi lafz barkat (برکت) ya barakat yani rey( ر) ke oopar harakat he ya nahiN



Virus-free. www.avast.com

Imran Haq

unread,
Jul 4, 2016, 12:23:59 PM7/4/16
to BAZMe...@googlegroups.com, nashta...@gmail.com, drshake...@hotmail.com
اردو میں برکت (Barkat) مستعمل ہے جس میں ر پر سکوں  ہے 
یہ لفظ چونکہ عربی سے ماخذ ہے اور عربی میں برکه "ر " پر فتح یعنی زبر کے ساتھ ہے اس لئے اس کا تلفّظ (Barakah) مخلتف ہے 
 
-Imran



From: Dr. Shakeel Ahmed <drshake...@hotmail.com>
To: SHAHEEN SIDDIQUI <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Monday, July 4, 2016 10:13 AM
Subject: RE: [بزم قلم:51735]

Syed

unread,
Jul 4, 2016, 4:42:26 PM7/4/16
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم جناب شکیل صاحب کی رائے درست ہے
Sent: ‏4/‏7/‏16 6:14 رات
To: SHAHEEN SIDDIQUI

Subject: RE: [بزم قلم:51735]

Syed

unread,
Jul 4, 2016, 4:59:57 PM7/4/16
to BAZMe...@googlegroups.com
نور اللغات میں صفحہ ۵۶۹ پر اور فیروز اللغات میں صفحہ ۱۹۶ پر ر پر زبر کی حرکت تحریر ہے

From: Syedain Shuja Naqvi
Sent: ‏4/‏7/‏16 5:50 رات
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: [بزم قلم:51733]

Janab e aali meN poochhna chahta huN sahi lafz barkat (برکت) ya barakat yani rey( ر) ke oopar harakat he ya nahiN

--

Shabbir Sayed

unread,
Jul 5, 2016, 1:48:57 AM7/5/16
to BAZMe...@googlegroups.com
 عربی میں صحیح لفظ برکہ ہے جس میں ت خاموش ہے۔ اردو برکت بولتے ہیں۔ برکات جمع ہے برکہ کا 

On Monday, July 4, 2016, 4:17 PM, Syedain Shuja Naqvi <nashta...@gmail.com> wrote:

Janab e aali meN poochhna chahta huN sahi lafz barkat (برکت) ya barakat yani rey( ر) ke oopar harakat he ya nahiN

--

Syedain Shuja Naqvi

unread,
Jul 6, 2016, 4:30:13 PM7/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com
---------- Forwarded message ----------
From: "Syedain Shuja Naqvi" <nashta...@gmail.com>
Date: 6 Jul 2016 03:16
Subject:
To: "Syedain Shuja Naqvi" <nashta...@gmail.com>
Cc:

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ برکت کی ر پر زبر ہے ہے یا نہیں

Aalim Naqvi

unread,
Jul 9, 2016, 9:18:06 AM7/9/16
to BAZMe...@googlegroups.com, qasimsyed2008, DR. QASIM RASOOL ILYAS, gulbunlucknow, RASHEED AFROZ, obaiddu...@gmail.com
HUM SUKHAN.inp

Ahmad Ali

unread,
Jul 12, 2016, 6:25:37 AM7/12/16
to Haseeb Ejaz Aashir, Barqi Azmi, 5BAZMeQALAM, Ghufran Sajid Baseerat Onlie, adabd...@googlegroups.com, Muhammad Ali, HASAN CHISHTI, Shakeel Hasan Shamsi, RAZA UL HAQ Siddiqi, Mhasan Kamal, G.R Kanwal, Aligarh_...@yahoogroups.com, Fazil Parvez, Gawah Urdu Weekly, Muslim Saleem, Bihar Inquilab, Mansoor Khushter, Shams Tabrez Qasmi, afzal naqavi, Mazameen .com, Rahatmazahiri Mazahiri, Mazhar Hasnain
NahiN Karte-Ghazal barqi Azmi Diya 98.jpg

Akramulla baig

unread,
Jul 13, 2016, 5:53:23 AM7/13/16
to BAZMe...@googlegroups.com
 !محترمی برقی صاحب تسلیمات
-بہت دنوں بعد آپ کی تحریر دیکھی؛ فی البدیہہ ''طرح'' پر ایسا بہترین کلام ۔ ۔ ۔ ۔ دلی مبارکباد
گر قبول افتد زہے عزوشرف
. . . آپ کی تراکیب کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں- ''جمعیتِ خاطر'' اور ''مہربلب''  یہ ہے زبان دانی-

حقیقت پر مبنی یہ شعر دل کو چھو گئے

در پردہ  ہیں  ظالم کے مظالم میں وہ شامل
مظلوم کی  جو  لوگ  حمایت  نہیں  کرتے

جوحق کے پرستار ہیں گر ٹوٹ بھی جائیں
کچھ بھی کریں باطل کی کالت نہیں کرتے

Wasi Akhtar

unread,
Jul 16, 2016, 1:09:08 AM7/16/16
to Saharakurnool Kurnool, Urdu Book Review Quarterly, monthlybus...@yahoo.com, monthly.revi...@gmail.com, Mohammed Ilyas, zanjeer...@hotmail.com, hamid Ali Akhtar, ilyasr...@rediffmail.com, tour...@yahoo.com, muhammadah...@gmail.com, MisganNewsNet, Mazhar Hasnain, masood_a...@yahoo.co.in, jtar...@gmail.com, Engr.Moazam Ali, manan_qa...@yahoo.com, maht...@hotmail.com, Akbar Zahid, khalid Anjum, Nehal Sagheer, media...@gmail.com, Nasir Malik, Nasir Nakagawa, tariqna...@yahoo.com, nidai...@nawaiwaqt.com, urdudun...@yahoo.co.in, edi...@ncpul.in, shugo...@yahoo.com, mahanamakhu...@gmail.com, ahmedt...@yahoo.com, paiker_pu...@yahoo.com, Aakif book depot, editorma...@gmail.com, jamiat...@gmil.com, Wajood Times, adab...@gmial.com, Milli Ittehad, gul bootey, shai...@gmial.com, gulbun...@gmail.com, alfurq...@yahoo.com, shaairul...@yahoo.co.in, zehne...@gmail.com, al_m...@yahoo.com, Huda Times, Awami Times, Danishgah Islamia, Jawed Anwar, Mohd Rafi, madar...@rediffmail.com, imama...@yahoo.com, Mohd Naqi, awamitimesmumbai awamitimes, hamdamur...@yahoo.com, SyedAbdul Samad, Abdul Khuddus, ajka...@rediffmail.com, maa...@shibliacademy.org, sahafie deccan, salahudd...@yahoo.com, Shanawa...@yahoo.com, Tamhe...@yahoo.com, Afroz Alam, Islami Book Service, Nusrat Zaheer Ahmed, Mfur...@yahoo.com, aaina...@yahoo.com, fouzi...@yahoo.com, Rahatmazahiri Mazahiri, Shafi Iqbal, awamiti...@rediffmail.com, awamitim...@rediffmail.com, Khursheid Akbar, hamdamur...@ymail.com, nito...@rediffmail.com, td.als...@yahoo.com, alhij...@yahoo.com, f_a...@rediffmail.com, Waseem Farhat Karanjvi Alig, sohail.star, Shahid Saaz, fikre...@rediffmail.com, SEH Imam Azam, Afroz Alam, Naushad Ahmad, Jaame Noor Monthly, naqeebe...@yahoo.com, فاروق صاحب VRP, فرانس کے دوست محمود صاحب, فضل الرحمٰن, فضیل احمد امبر ناصری دیوبند, فکر نو مسعود تنہا, فیروز میسوری نیویارک, فیصل حبیب new, فیصل سید, فیصل عزیز, فیصل عزیز رانا صاحب, قمر نقوی صاحب, گل ریزہ ناز, گلد ستہ تعلیم, گواہ اردو ویکلی, گواہ اردو ویکلی فاضل پرویز, لاریب ماہ نامہ, ماہ نامہ نقوش عالم masoodazizi, ماہنامہ ماہ نور دہلی, محبوب پیراں بیجاپور, محمد اِلیاسmohammed ilyas, محمد شفیع واری منی, محمد صابر حسین ارریہ, محمد صلاح الدین ناگپورSala, محمد عرفان IMA, محمد فاتح متاع آخرت, محمد یاسین راہی بلگام, معین الدین صاحب میسور, مکرم نیاز, ملک العزیز چنائی, منصور خوشتر قومی تنظیم, موجِ ادب عالمگیر ساحل, نثار بھائی باگل کوٹ, نشاط اُردو 2, نشاطِ اُردو صابر عمر, نشیمن ویکلی, نفیسہ اختر, نقوشِ اِسلام مسعود, نقوشِ عالم حبان صاحب, نقوشِ عالم عثمان حبان, نور جمشید پوری, نوشاد مومن, نیر آلدوری, ںاصر ناکاگاوا yahoo, ھفت روز کاوشِ جمیل, ہدایت اللہ شاہ, ہدایت خان صاحب جدہ, ہفت روزہ جوہرِ صحافت, ہفت روزہ رہبر, ہفت روزہ نظام, ہماری ویب, ہمشہری, ہنڈ سم پرنس, وائس آف پی جے vojpj, وحید گلشن ورنگل, وصی اخبر 2, وصی اختر دہلی, ویکلی الحارث, ویکلی پریس, یاس چاند پوری اوکھلا دہلی, یم اے سلیم, یو کے ٹائمز قیصر اِمام, یو ین ین UNN, یونیورسل اردو پوسٹ, زبیر صاحب جاپان, زرین شعاعیں فریدہ, سائبان روزنامہ, ساجد حیات یادگیر, ساحل آن لائن 4, سالار قادری صاحب, سالار ہند وسیع الدین صدیقی, سب رنگ 1, سب رنگ 2, ستار کڑچی, سخنور, سراغ سری نگر, سلام اُردو, سلمان صاحب, سلیم بھائی نجمی اکادمی, سلیم ماڈی والے بلگام, سہ روزہ دعوت, سہ ماہی عطا, سیاست بنگلور, سیاست جدید, سیاست رضوان صاحب, سیاست روزنامہ, سیاست روشن بیگ, سیاسی تقدیر روزنامہ, سید شاہد رضا عابدی, سیما یاسمین, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست, شاعر دوست احمد علی برقی, شاعر دوست اکرم اللہ اکرم, شاعر دوست خالد انجم, شاعر دوست عالم خورشید, شاعر دوست عبیدالرحمٰن, شاعر دوست عبیدالرحمٰن عارف, شاعر دوست عنایت امین, شاعر دوست گلفام, شاعر دوست مبین منور, شاعر دوست وحید انجم, شاعردوست, شاعرہ دوست, شاہد شاہ جی جرمنی, شبیر قاضی رون, شعر و سخن, شمس تبریز, شیما نذیر, صدائے انصاری دہلی۱, صدائے انصاری دہلی۲, صدائے چنار, صدائے قلندر, صدائے وطن, صفدر دانش, صفورہ حیدرآباد, صفی حسن, صلاح الدین صاحب سارم, طارق گدگ, طاہر usa, طاہر مومن بلگامی, طرزِ ادا, طلوع سحر مشتاق سہر وردی, عادل فخر, عاطف مرزا, عالم نقوی, عالمی اخبار, عالمی خبر, عالمی خبر 2, عالمی سہارا, عالمی سہارا نئی دہلی, عالمی سہارا2, عام آدمی پارٹی Aadmi Party, عبد العزیز, عبد المتین منیری, عبدالسلام رضوان رشید, عبدالصمد صیفی, عبدالمناف قاضی کڑچی, عتیق الرحمٰن بھٹکل, عثمان نیوز, عدن زری, عرفان منیری, عزیز بلگامی, عزیز بلگامی, عزیز بلگامی, عزیز بلگامی, عسکر واسطی, عطا سہ ماہی, علی عابدی امروہویETV, عمران عاکف بصیرت, غفران ساجد بصیرت, aabshaar_daily, aakifk...@gmail.com, Aampakumar Hembrom, Abdus salam, abrarr...@rediffmail.com, abul kalam Qasmi, academic...@gmail.com, ad...@inquilab.com, adbistanpu...@gmail.com, adexam...@gmail.com, adiljawed, adns...@hotmail.com, af.nud...@gmail.com, aftab ahmad, aftab gilani, afzalmisbahi, Ahmad Jawed, ahmad.jawed, dr.ahmad.shakeel, ajit azad, ajit azad, akmish...@yahoo.com, aligarh, aftabgilan...@gmail.com, aligarh@inquilab.com sheenmeem1@gmail.com. uniurduservice, ali...@inqulab.com, amjed babar, Amlendu shekhar Pathak, Anis Ahmad, anis nayeem, anis...@rediffmail.com, ansar Ahmad, anwarp...@gmail.com, apagar...@gmail.com, aphb...@vsnl.net, Arshia Khanam, asadr...@gmail.com, Asfar Faridy, Ashok Mehta, Aslam Jawedan, ato...@hotmail.com, Axis Books Pvt. Ltd., Azad Hind Daily, Azad Hind Daily, azadhi...@gmail.com, aziz Buney, Aziz Burney, bandhu.liv...@gmail.com, bazmeqalam, bazmeqalam+...@googlegroups.com, bazme...@yahoo.co.in, bazme...@yahoo.com, Bhasha Sangam, Bihar Inquilab, Bihar Inquilab, binod....@livehindustan.com, Central Desk Ranchi, dailyamin, Danish Hasan, DAR HINDUSTAN, darabdu...@yahoo.in, darabu...@gmail.com, darabu...@yahoo.co.in, darabu...@yahoo.com, Darbhanga Jagran, Darbhanga Prabhat Khabar, dastave...@gmail.com, Deo Chandra Choudhary, delhi, delhi, dheera...@nic.in, edi...@inquilab.com, edu bih, ephdelhi, ex...@exam.du.ac.in, examcons...@gmail.com, Farhat Reyaz, firoj akhter, Gandhi Smirti Darshan Smiti, Gandhi Smriti, gia.proj...@gmail.com, Hamara Samaj, hamaramaqsad, urduyou...@gmail.com, haqqanialqasmi, Harekrishna choudhary, Hasan .Zafirul, Hassan Raza, h...@nic.in, Impact Advertisers, info, in...@mail.edu, Ins India, Jameel Manzar, jameela...@yahoo.co, jameela...@yahoo.com, javed...@gmail.com, Jawaid Mahmood, jay...@yahoo.com, kau...@yahoo.com, kbli...@sancharnet.in, khanj...@yahoo.com
Assalam o Alaikum
MAAZRAT NAMA!
meri is Id se jo File gai hai woh Galati se gai hai is file ka mujh se koi matlab nahin hai.
is ke liye main maazrat khah hoon.
wassalam!

On Thu, Jul 14, 2016 at 3:55 PM, Wasi Akhtar <wasi.a...@gmail.com> wrote:

Sub Editor

Adress: D-210,211
Noida Sector 63 (U.P) Pin Code:201301
Mob- +91 9868349444, +91 9311687781
Direct-120-3915800
Fax -  120-2406786

Email:wasia...@inquiblab.comwasi.a...@gmail.com


Khalid Zahid

unread,
Jul 21, 2016, 3:44:11 AM7/21/16
to bazmeqalam
قلم سے قلب تک
" فوزیہ عظیم اور پاکستانی بصیرت"
(شیخ خالد ذاہد)

ہم اسلامی جہموریہ پاکستان میں رہتے ہیں جہاں ہمارے لیئے کم و پیش ہر دن یومِ سیاہ کہ طور پر نمودار ہوتا ہے یا کبھی کبھار دن کہ بیچ سے شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ہم اسی دن کی تیاری میں اپنے دن گزارے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم جن کیلئے یومِ سوگ منا رہے ہوتے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ پاکستان بھی کوئی ملک ہے۔۔۔۔۔ہمارے معمولاتِ زندگی میں اہم ترین معاملات جنازے اٹھانا، سوگ منانا ، شمعیں جلانا ، سیلفیاں بنانا اور آنسو بہانا رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہم پاکستانی اس حادثے، اس سانحے کہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ متاثرین شمار کرتے ہیں اور خوفزدہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آج دنیا میں پاکستانی بطور دہشت گرد، اشتعال انگیز، غیرت مند اور اس طرح کہ دیگر کئی القابات سے یاد کئے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔دنیا ہمیں پاکستانی مسلمان سمجھی ہے اور ہم ایک دوسرے کو پنجابی، مہاجر، پٹھان، بلوچی اور سندھی سے پہچانتے ہیں یا پھر دیوبندی، بریلوی، شیعہ، شافعی نا معلوم کن کن حوالوں سے تفریق کر کہ جانتے ہیں۔۔۔۔۔ کسی پر انگلی اٹھانا ہمارے معاشرے کا سب سے محبوب مشغلہ ہے اور جو کہ بہت ہی آسان ہے ۔۔۔۔۔ اصلاح کرنا یا اصلاح کی بات کرنا، کوتاہیوں کا ازالہ کرنا نہایت ہی مشکل بلکہ ناممکن کام دیکھائی دیتاہے۔۔۔۔۔۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس رنگ و روشنی کی دنیا میں اس کا حصہ بننا یا مشہور ہونے کا شوق کسی بھی انسان کہ دل میں کبھی بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔شوق بھی عقل سے ماوراء اور جذبات سے بھرپور ہوتا ہے بلکل محبت کی طرح۔۔۔۔۔ کبھی تو انسان دل میں انگڑائیاں لیتے شوق کو وقت کی بے رحمی کی نظر کردیتا ہے اور دو وقت کی روٹی کمانے کی تگ و دو میں مگن ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔کچھ لوگ اپنے شوق کی تکمیل کر پاتے ہیں اور بہت کم لوگ اس بات خاطر میں رکھتے ہیں کہ وہ بلندی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے صحیح یا غلط راستے سے گزر رہے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ استعمال بھی ہوجاتے ہیں کبھی صحیح لوگوں کہ ہاتھ تو اکثر معاشرے کہ برے لوگوں کہ ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ شہرت کا بھوکا شخص بھول جاتا ہے کہ اسے کبھی مشہور ہونے کا شوق تھا۔۔۔۔۔

بیسویں صدی کی آمد سے معاشروں میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہم ٹوٹے پھوٹے اسلامی معاشرتی نظام کا حصہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ معاشرتی ترجیحات بہت تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوئیں۔۔۔۔۔۔ معاشرے میں وقت کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی اس وقت کہ طفیل گھر کہ امور و معاملات میں بھرپور شرکت کی جاتی تھی رشہ داروں اور محلہ والوں کی خبر گیری کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ مسلئے مسائل بیٹھ کر حل کیئے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔ غرض یہ کہ ایک دوسرے کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی روایات تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ پھر وقت قلیل ہونا شروع ہوا۔۔۔۔۔۔وقت کی قلت کہ سبب نئی نسل کی تربیت میڈیا نے لے لی۔۔۔۔۔میڈیا پر کسی کی حکمرانی ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔۔۔۔۔ اسلامی اقدار معدوم ہونا شروع ہوئیں۔۔۔۔۔۔ میڈیا سے متعلق سارے وسائل ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نئی نسل کہ حوالے کر دئیے۔۔۔۔۔جن میں کمپیوٹر سے شروع کرتے ہوئے بات موبائل ٹیبلیٹ اور دیگر پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔ اس طرح کی چیزوں نے انسانوں میں طبعی دوریاں پیدا کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اب طبعی ملاقاتوں کا سلسلہ بہت قلیل ہوچکا تو سماجی اقدار کی منتقلی کا کام بھی کم و پیش متروک ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ بچے بہت جلدی بڑے ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔۔۔۔۔۔ ہماری مصروفیتوں کہ باعث احساس سے عاری پرورش ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ ان تمام تر خرابیوں کا الزام کسی ایک رشتے پر نہیں ڈالا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔ پورے کا پورا معاشرہ اور معاشرے کی ہر اکائی اس سارے بیگاڑ میں برابر کی شراکت دار ہے ۔۔۔۔۔

فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ بھی پاکستان کہ ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتی تھی جہاں رات تاریکی سے پہلے ہی ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔گھریلو کام کاج بھی جلدی سمٹ جاتے ہیں اور بظاہر کرنے کیلئے کچھ نہیں بچتا۔۔۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں میں یہ لوگ سرشام ہی بستروں میں چلے جاتے تھے اور منہ اندھیرے اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتے تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن جب سے کیبل (ہم سب اس سے واقف ہیں) کی نشریات عام ہوئی ہے اور اس کا ایک نا ٹوٹنے والا تسلسل جاری و ساری ہے تو یہ سادہ لوح لوگ بھی اس کہ چنگل میں پھنستے چلے گئے ۔۔۔۔۔دوسری طرف انٹر نیٹ کی سہولت بھی ان لوگوں تک پہنچ گئی ہے وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ اب نئی نسل کیلئے باقی سارا وقت ان چیزوں کیلئے بچتا ہے۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ تعلیم ہو نہ ہو مگر انٹرنیٹ کیلئے استعمال ہونے والی تمام مصنوعات کا بہت احسن طریقے سے چلائی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔

مذکورہ بالا سطور کو ذہن میں رکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا صرف قندیل بلوچ کا بھائی مجرم قرار دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں کتنی فوزیہ اب تک غیرت کہ نام پر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکی ہیں اور انکو خاموشی سے انکے مدفن میں دفن کردیا گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔پورا معاشرہ، پورا پاکستانی معاشرہ اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔۔۔۔۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔ بچوں کہ ساتھ زیادتی کہ کتنے ہی کیسس میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔۔۔۔۔ کیا ہم اسلام سے پہلے والے دور میں واپس جارہے ہیں۔۔۔۔۔ دنیا نے ہمیں پیچھے دھکیلنے کیلئے ہمارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ ہم خود بخود اندھی گہرائی میں گرتے چلے جائیں۔۔۔۔۔ دنیا کی چکا چوند کسی کی بھی آنکھیں خیرہ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔ جہالت کا دور دورہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی بے راہ روی اپنے عروج پر ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا ہم لوگ جانتے بوجھتےاپنی بڑھتی ہوئی آنے والی نسلوں کو اپنی آنکھوں کہ سامنے تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں گے؟؟؟۔۔۔ فراز نے کہا تھا " قصہ ظلمتِ شب سے کہیں بہتر ہے ۔۔۔۔ اپنے حصے کا چراغ جلاتے جائیں"۔۔۔۔۔۔سینہ کوبی، نوحہ خوانی اور آہ و فغاں سے کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔۔۔عملی اقدامات کرنے ہونگے۔۔۔۔۔ اپنی نسلوں کو معاشرتی ضابطہ اخلاق مرتب کر کہ دینے ہونگے انہیں اقدار منتقل کرنے ہونگے۔۔۔۔۔ان میں رشتوں کی پاسداری کا فن پیدا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔وہ نہ بھی چاہیں تو ان سے وقت مانگنا پڑیگا۔۔۔۔۔

" ابھی عشق کہ امتحاں اور بھی ہیں "۔۔۔۔۔۔۔پھر کسی قندیل بلوچ کے موت کا ذمہ اٹھانے کیلئے تیار ہوجائیں۔۔۔۔۔ ہمیں اپنی بصیرت کی روشنی تیز کرنی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہمیں 1400 سال پہلے فراہم کیا گیا ضابطہ حیات و ضابطہ اخلاق دوہرانا ہوگا۔۔۔۔۔ ہمارے لئے حدیں مقرر ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا ہم ان حدوں کے تعین کرنے میں کوئی غفلت تو نہیں برت رہے ۔۔۔۔۔ لاتعداد سوالات ہیں اور ان لاتعداد سوالات کہ انگنت جوابات ہیں۔۔۔۔۔ الجھنا چاہتے ہو تو الجھتے چلے جاؤ گے۔۔۔۔۔۔ ورنہ " سیدھا راستہ تو بتا دیا گیا ہے " فیصلہ کرناہے سمت کا تعین کرنا ہے ۔۔۔۔۔ معلوم نہیں کتنا کچھ لکھا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ کتنا کچھ بولا جارہا ہے ۔۔۔۔۔ سب لکھنے والے سب بولنے والے ہمارے لئے قابلِ احترام ہیں۔۔۔۔۔ قابلِ تقلید نہیں۔۔۔۔۔ مکھی پر مکھی بیٹھانے والے کی طرح یا لکیر کہ فقیر کی طرح زندگی تو گزر جاتی ہے لیکن آخیر (مرتے وقت) میں ایک سوال پیدا کر دیتی ہے کہ " کیا یہاں تک کا سفر اسی راستے پر چلا جس پر چلنا تھا " اس وقت بہت سارے ابھام ہوتے ہیں بہت سارے " اگر اور لیکن " ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے ہماری باعزت اور قابلِ احترام خواتین کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔۔۔۔۔ اسکا مطلب قطعی یہ نہیں کہ مرد اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہیں، مردوں کی ذمہ داری دہری ہے ایک گھر کہ اندر اور دوسری گھر سے باہر۔۔۔۔۔۔ 

دشمن اپنی بھرپور تیاریوں سے ہمیں ہر طرح سے نقصان پہنچانے پر کمر بستہ ہے ۔۔۔۔۔ جس کا اندازہ گزشتہ کچھ ماہ میں بہت واضح ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمارے لئے ہر طرح کی چالیں چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ قندیل بلوچ بھی انہی چالوں کا حصہ تھی۔۔۔۔۔۔اسکا قتل بھی انہی چالوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں اپنی من کی آنکھیں کھولنی ہونگی اپنی بصیرت سے کام لینا ہوگا اور بہت حقیقت پسندی سے، بہت بردباری سے بدلتے ہوئے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آگے کا لائحے عمل اپنی نئی نسل کو ساتھ بٹھا کر طے کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔انشاءاللہ قدرت ہماری مدد ضرور کرے گی۔۔۔۔

--

Amna Alam

unread,
Jul 21, 2016, 7:26:41 AM7/21/16
to bazmeqalam

قابل فکر تحریر ان باتوں پر عمل کیا جانا چاہیے

--

Aalim Naqvi

unread,
Jul 21, 2016, 9:23:56 AM7/21/16
to BAZMe...@googlegroups.com, bazme yaran
BUS AIK HI NAAM.inp

Muhammad Syed

unread,
Jul 23, 2016, 11:33:58 AM7/23/16
to bazme qalam
From: Muhammad Syed <mmsye...@gmail.com>
Date: 2016-07-23 18:24 GMT+03:00
Subject: Kitab per tabserah 

Jb Aali
Adab

Abu Tariq Hejazi ki taleef Mukhtasar Islami Tareekh per tabserah peshe khidmat hai. Shukriyah


Muhammad Mujahid Syed
Jeddah KSA
Muhammad

Amna Alam

unread,
Jul 30, 2016, 2:11:36 PM7/30/16
to bazme...@googlegroups.com

کل بھرے بازار میں قتل ہوا جو انساں
جرم اتنا تھا کہ اک گاءے کو گالی دی تھی

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 5, 2016, 11:25:46 AM8/5/16
to
 
روزنامہ’’ ممبئی اردو نیوز‘‘ کا تازہ کالم ’’شب و روز‘‘

 کیا آپ سہا ؔکو جانتے ہیں۔۔۔؟
      آج ایک  ایسے اہل علم، صاحبِ دانش  اور فن کار کا تذکرہ مقصود ہے جو اپنے زمانے میںنابغۂ روزگار جیسا تھا۔  وہ زمانہ جب عرصہ ِ علم و ادب  میں  ایک سے ایک  ماہر اور قد آور موجود تھے۔ انہی اکابر  میں سے ایک تھے ممتاز احمد سہا۔ جو اپنے   عہد کے قد آوروں سے متضاد تھے۔ قد آور جب کہا جاتا ہے تو اس کے معنی جسمانی قد نہیں بلکہ معنوی قد مراد ہوتا ہے۔ یہ سہا ، جن کے نام کے ساتھ لاحقہ کے طور پر مجددی بھی لگا ہوا ہے۔ اپنے زمانےکےایک ایسے یادگار شخص گزرے ہیں کہ اب ان کے جیسا کوئی صاحبِ علم و دانش اُن کے  وطن بھوپال میں بھی  شاید و باید ہی ہو۔ یہ موصوف9 فروری1892 میں جنمے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اُس زمانے میں بھوپال عالموں، دانشمندوں اور  باکمالوں  کے باوصف’’بغداد الہند ‘‘ بنا ہوا تھا۔ اسی دور میں  ریاست بھوپال کے نائب ناظم سید یحییٰ حسن کے فرزند ارجمند تھے ممتاز احمد جو بعد میں سہاؔ مجددی کے  نام سے ایک  زمانے میں اسم بامسمیٰ ثابت ہوئے۔ بتایاجاتا ہے کہ کوئی بیس برس کے رہے ہونگے کہ فن ِ  خطابت میں وہ نمایاں ہو چکے تھے اور مستزاد یہ کہ  وہ صرف اُردو زبان میں تقریر کرتے تھے ،نہیں جناب، جس طرح  اُردو میں  خطاب کرتے  تھے اسی طرح انگریزی میں بھی وہ   خطابت پر قادر تھے۔
     کچھ لوگ اپنی   ظاہری وضع قطع یا معروف  لفظوں میں شخصیت(پرسنالٹی) کے ذریعے بھی لوگوں کو اپنی جانب  فوراً   متوجہ کر لیتے ہیں  ممتاز احمد سہا ؔکا معاملہ اس کے بر عکس تھا  قدرت نے ا نھیں ظاہری کشش سے محروم رکھا تھا وہ اپنی کوتاہ  قامتی کے سبب،  ایک عجوبۂ روزگارتھے ۔  راویت ہے کہ سہاؔ اپنے قد میںسوا تین یا ساڑھے تین فٹ کے تھے۔مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم ، اپنی دانش کے سبب بہت  سے قدآوروں میں ایک امتیازی حیثیت کے حامل شخص تھے۔ وہ ہمارے ادب میں ’  شارحِ غالب‘ کے طور  پربھی اپنا ایک امتیازی تشخص رکھتے ہیں۔ سہا ؔکے معنی  ایک مخصوص ستارے کے ہیں جو بہت کم عمر ہوتا ہے۔ ممتاز احمد سہا    نے بھی  عمرکم ہی  پائی ، صرف پچپن برس، مگر انہوں نے  اتنی کم زندگی میں بھی وہ کارنامے انجام دِیے ہیں کہ فی زمانہ ایسی مثال تلاشِ بسیار کے باوجود ملنا محال ہے۔
     کئی برس قبل جب ہم   ایک سفر میں بھوپال پہنچے اور مدھیہ پردیش اُردو اکادیمی کے دفتر میں حاضری  دی تو  اکادیمی ہٰذا کی ناظم  بی بی نصرت مہدی نے  اپنی اکادیمی مطبوعات دینے کیلئے  فہرستِ کتب ہمارے سامنے رکھدی اور کہا کہ’’ آپ اس میں سے کتابیں منتخب کرلیں توہم حاضر کردیں۔ ہم نے تکلفاً  اُن سے کہا کہ اس نوازش کی کیا ضرورت ہے۔  نصرت مہدی کی طرف سےجواب ملا: ہمیں اپنی مطبوعات تو بہرحال پیش کرنی ہیں، اگر وہ آپ کی پسند کی ہوں تو سبحان اللہ، ہمیں خوشی بھی ہوگی۔‘‘
تو جواباً ہم نے سہا ؔ مجددی کی  شرح’’مطالب الغالب‘‘ پر اُنگلی رکھ دی۔ ہمیں اس انتخاب پر نصرت بی بی کی طرف سے یہ بھی سننے کو ملا:اسی کی توقع تھی آپ سے۔   بھوپال سے  واپسی کے سفر میںسہا ؔکی یہ شرحِ کلام ِغالب کھولی اور صرف اس کا دیباچہ ہی پڑھ کر اس نتیجے پرپہنچے کہ اگر سہا ؔکے  دور میں ہم جیسے ہوتے تو  اُن کے منشی بننے کے بھی اہل  نہ گردانے جاتے۔
  قدرت کے منصوبے عجب ہوتے ہیں وہ پیدا کہیں کرتا ہے  پروان کہیں چڑھاتا ہے ، کام کہیں اور لیتا ہے۔ یہ جو   بھوپال میں ندیمِ دوست ضیا ؔفاروقی ہیں، ان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ وہ جنمے تو سندیلےؔ میں ،  ایک عمر کانپور جیسے  شہر میں گزار کرمنظوم ’کانپور نامہ‘ لکھا، شاعری تو یقیناً ان کی سرشت میں شامل تھی مگر ان کی حالیہ کارکردگی جو ہمارے سامنے  ایک کتاب’’ سہا مجددی‘‘ کی شکل میں ہے وہ اس کی شہادت بنی ہوئی ہے کہ صناعِ  ازل و ابد کو اس فرزند ِ سندیلہ سےسہا  جیسے مجدد پر بھی کام کروانا مقصود تھا۔  اُردو اکادیمی (دہلی) کےلئے لکھا گیا یہ مو  نوگراف بظاہر قد و قامت(حجم و ضخامت) میں  سہاؔ ہی کی طرح ہے مگر یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے کہ یہ کتاب اپنے متن کے لحاظ سے سہا ؔکے علم و فضل اور ان کی شخصیت کی طرح بھرپور ایک روشنی کی حامل ہے۔    128   صفحات کی یہ کتاب ممتاز احمد سہا مجددی کا  اِجمالی تعارف ہی نہیں کراتی بلکہ ان کے تعلق سے ہمارے ذہن و قلب میں ایک  ایسا چراغ روشن کرتی ہے کہ جس کی روشنی یہ احساس دِلاتی ہے کہ ۔۔۔’’ ہم جو چاہیں خود ہی لکھ دیں سادہ کاغد ہیں تقدیریں‘‘۔۔۔ شاعروں کے تعلق سے  بے پروا اور لا اُبالی جیسی  باتیں عام طور پر کی جاتی ہیں ۔  اسی کتاب میں سہاؔ کے ایک خط کے اقتباس نے اسکی تصدیق بھی کر دی۔آپ بھی ملاحظہ کریں:’’۔۔۔ ہر اُس شخص کیلئے جو کسی دوسرے  ذریعے سے اپنی معاش سےمستغنی نہ ہو ،ادب و شعر کا شغل جرم سمجھتا ہوں۔‘‘ ایسی دانش کی بات سہا ؔ جیسا شخص ہی کر سکتا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ لفظِ شاعر توشعور ہی سے مشتق ہے مگر ہمارے اکثر شعرا  شعور کی اس ’’رَو‘‘ سے نا آشنا ملتے ہیں۔ضیا فاروقی نے اس کتاب کے ذریعے نئی نسل کو سہاؔ جیسے مجدد سے نہ صرف  متعارف کروایا ہے بلکہ اُنہوں نے خود بھی اپنے باشعور اور صاحبِ  نقد ونظر اور محقق ہونے کا  ثبوت  فراہم کر دِیا ہے۔ کتا ب کےآخری صفحات پر کلام ِ سہا ؔکا جامع انتخاب بھی  ضیا کے  فاروقی ہونے پر دال ہے۔۔۔ جو لوگ اپنے با کمالوں اوردانش مندوں سے باخبر ہی نہیں مستفید ہونے کی خٗو رکھتے ہیں اُن کےلئےاس کتاب کا  مطالعہ بہر طور مفید تر ہوگا۔ اس کتاب   کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفیض ہوں،یقیناً اسی لئے کتاب کی قیمت برائے نام صرف پینتالیس روپے رکھی گئی ہے۔  اتنی قیمت تو   فی زمانہ چھپائی ،کاغذ اور جِلد سازی کی بھی نہیں ہوتی۔  بیش بہا متن کی حامل اس کتاب کو جلد از جلد منگا لینا چاہیے ورنہ جواب یہ ملےگا کہ ’’ختم ہوگئی۔‘‘ اور ہاں  سہا ؔمجددی پر کام کرنے والے کی تحسین بھی تو واجب ہے لہٰذا حق بہ حق دار اس موبائل نمبر پر پہنچایا جاسکتا ہے۔:    09406541986                     ندیم صدیقی



--
NadeemSiddiqui
Shab o roz-06-08-16 copy.jpg
Shab o roz-06-08-16.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 5, 2016, 12:46:22 PM8/5/16
to
--
NadeemSiddiqui
Shab o roz-06-08-16 copy.jpg
Shab o roz-06-08-16.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 5, 2016, 1:28:16 PM8/5/16
to
--
NadeemSiddiqui
Shab o roz-06-08-16 copy.jpg
suha mujaddedi.jpg
Shab o roz-06-08-16.pdf

Tanvir Aijaz Siddiqui

unread,
Aug 6, 2016, 9:17:13 PM8/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com

حضرت سہا پر کتاب سے متعارف کرانے کا بہت  بہت شکریہ ندیم صاحب۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ انکے قد سے متعلق لوگوں نے لطیفے مشہور کر کررکھے ہیں۔

--

Khalid Nadeem

unread,
Aug 6, 2016, 11:58:42 PM8/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com

سچی بات تو یہ ہے کہ جب ہم کسی کے علمی و ادبی قد کاٹھ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ہم اس کی جسمانی کمزوریوں کا تمسخر اڑا کر خود کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ سہا صاحب کے جن اوصاف کی طرف ندیم صاحب نے توجہ مبذول کرائی ہے، اس سے ان کے متعلق مزید جاننے کا اشتیاق بڑھا ہے۔

Abdul Mateen Muniri

unread,
Aug 9, 2016, 1:05:57 AM8/9/16
to Bazm E Qalam Groups
مزید دلچسپی کے لئے مولانا سہا مجددی پر شوکت تھانوی کا خاکہ منسلک ہے

 
________________________________________________________

عبد المتین منیری

اندروئیڈ موبائل کے لئے بھٹکلیس ڈاٹ کام کی urduaudio ایپ یہاں سے انسٹال کریں


--
Suha Mujaddidi_Page_1.pdf

iqbal rizvi

unread,
Sep 22, 2016, 2:27:56 AM9/22/16
to BAZMe...@googlegroups.com
maaf keejiyega der se nazar padi 

bahot shukria



On Sunday, June 12, 2016 9:43 AM, iqbal rizvi <iqbal...@yahoo.com> wrote:


bahot manoon hun Yusuf sb aap ne izhar e rai kiya
sharib


On Saturday, June 11, 2016 3:52 PM, 'mir ali' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:


SubhanAllah Sharib bhai.  Kya kahnay. Jazakallah 
Yousuf 


On Sat, 11 Jun, 2016 at 3:20 AM, biswinsadi biswinsadi
بہت khoob
On 11-Jun-2016 3:26 am, "'iqbal rizvi' via بزمِ قلم" <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

سلام
سید اقبال رضوی شارب
 
مجھ پر مرے اجداد پہ  خالق کی عطا ہے
ہم کو در شبّیر جو ورثے میں ملا ہے
 
تکمیل بشر کی حد آخر ہیں محمّد
پھر اس سے پرے  صرف خدا صرف خدا ہے
 
دو ٹکڑے ہیں اک نور کے یہ احمد  و حیدر
 اس واسطے وہ نفسِ رسولِ دو سرا ہے   
 
سب وار دیا دین پہ قاسم ہو کہ اکبر   
سر شکر کے  سجدے میں کٹایا کہ خدا ہے 
 
جب بھی  کبھی تنہائی ہو  محتاط بھی رہنا
خلوت میں ہی ابلیس نیں کتنوں کو  ٹھگا ہے
 
مولا کے مقولات  میں اک یہ بھی ہے شارب
*مکسور ارادوں نے بتایا کہ خدا ہے
(حضرت علی کا ایک  ارشاد یہ بھی  ہے کہ میں نے  الله کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا )
--
http://www.kitaabistan.com/

 
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages