قصہ ایک صوفی اور پنڈت نہرو کا

45 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Oct 5, 2022, 7:16:48 AM10/5/22
to bazme qalam
قصہ ایک صوفی اور پنڈت نہرو کا
سہیل انجم
مولانا محمد اسحق بھٹی ایک عالمی شہرت یافتہ کثیر التصانیف مصنف، معروف عالم دین اور صحافی و ادیب تھے۔ ان کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان میں مشرقی پنجاب کی ایک ریاست فرید کوٹ کے قصبہ کوٹ کپورہ میں ہوئی تھی لیکن تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چلے گئے تھے۔ دسمبر 2015 میں لاہور میں 91 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ میں نے ان کی کئی تصانیف کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ مسلکاً اہلحدیث تھے لیکن اپنی سادہ طبیعت اور غیر متنازع شخصیت کی وجہ سے دوسرے مسلکوں میں بھی مقبول تھے۔ میں نے ان کی خودنوشت ”گزر گئی گزران“ کا بہت پہلے مطالعہ کیا تھا لیکن وہ اتنی دلچسپ ہے کہ ایک بار پھر زیر مطالعہ ہے۔ یوں تو یہ ایک خود نوشت ہے لیکن اس میں متعدد تاریخی واقعات بھی درج ہیں۔ انہی میں سے ایک ناقابل فراموش واقعہ کا ذکر میں یہاں کرنا چاہوں گا۔ یہ واقعہ دراصل آزاد ہند کے ابتدائی دنوں کی سیاست اور سیاست دانوں اور علما و صوفیا کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچ گئے۔
اس واقعہ کے مرکزی کردار ایک متبحر عالم دین صوفی نذیر احمد کاشمیری ہیں۔ موصوف علمی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ انھو ںنے اسلام کی تبلیغ جس انداز میں کی اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ ان کی متعدد کتب ریختہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ صوفی نذیر احمد کاشمیری بھی مسلکاً اہلحدیث تھے لیکن وہ نہ صرف دوسرے مسالک میں بلکہ غیر مسلموں اور ان کے علما اور ہندو شنکرآچاریوں میں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مولانا اسحق بھٹی صوفی صاحب کا تعارف کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ کشمیر کے پونچھ میں 1901 میں پیدا ہوئے۔ وہ عقیل ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی، عربی، اردو، انگریزی، کشمیری اور پنجابی زبانوں پر انھیں عبور حاصل تھا۔ تقسیم ملک کے بعد ہندوستان میں سکونت پذیر ہوئے۔ اس ملک میں وہ اسلام کے بہت بڑے مبلغ تھے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ ہندوو ¿ں کے مراکز میں جا کر اسلام کی تبلیغ کرتے۔ بارعب شخصیت کے مالک، لمبی داڑھی، لمبا قد، موٹی آنکھیں، گرجدار آواز، پرجوش مقرر، شلوار قمیص میں ملبوس، ہاتھ میں ڈنڈا، تیز رفتار، تیز نویس، بے خوف و بیباک۔ انھوں نے ایک درجن درویشوں کے ساتھ جگت گرو شنکرآچاریہ کے مٹھ میں بھی جا کر اسلام کی تبلیغی کی تھی۔ شنکرآچاریہ نے ان کو نہ صرف خطاب کا موقع دیا بلکہ قرب وجوار کے ہندوو ¿ں کو بھی ان کے خطاب سے مستفید ہونے کے لیے مدعو کیا۔ انھوں نے ایک کمرے کو مورتیوں سے پاک کرکے ان کو اوران کے رفقا کو نماز کے لیے جگہ دی۔ انھوں نے خود بھی اپنے مذہب کے مطابق خطاب کیا۔
مولانا محمد اسحق بھٹی نے صوفی نذیر احمد کاشمیری کے مخلص دوست اور کشمیر طبیہ کالج کے سابق پروفیسر حکیم ابوالحسن عبید اللہ کی تصنیف ”اسلام کا اجتماعی نظام“ کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ واقعہ کے مطابق پنڈت سندر لال الہ آبادی او رمنی سشیل کمار جینی اور ان کے رفقا نے دہلی میں ایک عالمی بین المذاہب کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ملک کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو تھے۔ طے یہ پایا کہ پنڈت نہرو کو کانفرنس کی صدارت کے لیے رضامند کیا جائے ورنہ ہمہ شما کی صدارت میں کانفرنس کی کامیابی کی امید کم ہے۔ اب سوال تھا بلی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کا۔ کیونکہ پنڈت نہرو تو پکے ناستک اور بے دھرم تھے۔ وہ مذہب کا نام سننا بھی برداست نہیں کرتے تھے، مذہبی کانفرنس کی صدارت کیسے قبول کر لیتے۔ اس کے لیے تو ضرورت تھی کسی ”دمادم مست قلندر کی“ جو پنڈت جی سے صرف درخواست ہی نہیں کرے بلکہ بوقت ضرورت جھگڑ بھی سکے اور ان سے لوہا منوا کر دم لے۔ چنانچہ سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آج پنڈت جی سے صوفی صاحب کو بھڑا دیا جائے۔ صوفی صاحب اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مقیم تھے اور کسی ضرورت سے مدرسہ ریاض العلوم جامع مسجد آئے ہوئے تھے۔ یہ حضرات جامعہ ملیہ پہنچے پھر انھیں وہاں نہ پاکر مدرسہ ریاض العلوم جا دھمکے۔ وہاں صوفی صاحب مسجد میں ایک اینٹ کا تکیہ بنائے ہوئے پنکھے تلے آرام فرما رہے تھے۔ وہ فوراً وہاں سے صوفی صاحب کو لے کر نہرو جی کی کوٹھی پر پہنچے۔ صوفی صاحب کو پنڈت جی کی مسند پر بٹھا کر ان کے سامنے آسن مار کر بشکل نصف دائرہ بیٹھ گئے۔ پندرہ بیس منٹ بعد پنڈت جی ملاقات کے کمرے میں داخل ہوئے تو صوفی صاحب کو ان کی بے ہنگم داڑھی اور ڈنڈے کے ساتھ اپنی مسند پر براجمان پا کر مسکرائے۔ ہاتھ ہلا کر کہا صوفی صاحب آداب عرض۔ صوفی صاحب نے ایک ہاتھ کی انگلی اور ابرو کے اشارے سے جواب دیا۔ پھر انہی کی بغل میں بیٹھ کر پنڈت جی نے تشریف آوری کی وجہ دریافت کی۔ صوفی صاحب نے پنڈت سندر لال اور منی جی کی طرف اشارہ کیا۔ پنڈت جی نے طنزیہ لہجے میں منی سشیل کمار جی سے کہا کہ کیوں منی جی کوئی دھارمک سمیلن ہونے جا رہا ہے؟ کہا جی ہاں اور سب کی خواہش ہے کہ آپ اس کی صدارت قبول کریں۔ پنڈت جی نے کہا کہ آپ سبھی حضرات کو معلوم ہے کہ میں نے آج تک کسی مذہبی جلسے میں شرکت تک نہیں کی تو صدارت کی بات تو دور کی رہی۔ اب صوفی صاحب پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے پنڈت جی آپ صریح جھوٹ بول رہے ہیں۔ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ میں آپ مہاتما بدھ کی سرومنی میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے تھے اور وہ یقیناً ایک مذہبی تقریب تھی۔ انھوں نے اسی طرح مذہبی تقریب میں شرکت کا ایک اور حوالہ دیا۔ بس پھر کیا تھا پنڈت جی کا توازن بگڑ گیا۔ نہایت غصے اور تیز لہجے میں بولے ارے اس دھرم و مذہب کو تو ہم اس کی بنیادوں کے ساتھ اس سیکولر ملک سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ اب صوفی صاحب کی باری آئی۔ وہ بھی اپنے بھاری بھرکم جسم و قد اور بڑی ہیبت ناک داڑھی، سرخ آنکھوں اور موٹے ڈنڈے کے ساتھ چیخ کر اچھل کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم نے بھی یہ پکا تہیہ کر لیا ہے کہ آپ جیسے نام نہاد ناستک اور دھرم دشمن وزیر اعظم کو اس کرسی سے اٹھا کر پھینک دیں گے۔ پانچ سات منٹ تک پوزیشن سنبھالے صوفی صاحب اسی طرح کھڑے رہے پھر واک آو ¿ٹ کر گئے۔ بس کام ہو گیا تھا اور پنڈت جی کا انداز گفتگو بدل چکا تھا۔ وہ بڑے ناصحانہ انداز سے بولے ارے آپ لوگ یہ کیا تماشہ کرتے ہیں۔ جلسے کی صدارت کی بات تھی تو ایسے آدم خور کو لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک میٹر کی داڑھی چڑھائے ہوئے، وزیر اعظم کے سر پر ڈنڈا تان کر کھڑے ہو گئے اور مفت میں ہمارا موڈ خراب کر گئے۔ ایسے ملنگوں کا وزیر اعظم کی کوٹھی پر کیا کام۔ مذہب کے ایسے جنونی کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں، ان کا کیا ٹھیک ہے۔ آپ لوگ ان کے بغیر بھی آسکتے تھے۔ اچھا یہ بتاو ¿ کانفرنس کس تاریخ کو ہے۔ پنڈت جی نے ڈائری میں تاریخ نوٹ کر لی اور صدارت قبول کر لی۔
یہ لوگ خوش ہو کر وہاں سے نکلے تو صوفی صاحب کو باہر نہ پاکر فکرمند ہوئے۔ ایک لڑکے سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جن سنگھ کے آفس کے کمرہ نمبر نو میں گئے ہیں۔ پنڈت سندر لال دبے پاو ¿ں سیڑھی سے اوپر چڑھے تو دیکھا کہ نہرو کے خلاف ایک آتش بار مضمون لکھ کر جن سنگھ کے آفس سکریٹری کو سنا رہے ہیں۔ اس انگریزی مضمون میں صوفی صاحب نے پنڈت نہرو کو گاندھی جی کی بنیادی سیاست سے کھلا انحراف کرنے والا، دین دھرم کا کھلا دشمن اور ملک و قوم کو دھرم دشمنی کی سمت میں رہنمائی کرنے والا سیاسی رہبر قرار دیتے ہوئے پوری قوم سے اپیل کی تھی کہ ایسے شخص کو وزیر اعظم کی کرسی سے اکھاڑ پھینکنا ملک و قوم کی عظیم ترین خدمت ہوگی۔ آفس سکریٹری سن رہا تھا اور واہ واہ کر رہا تھا۔ پنڈت سندر لال الٹے پیروں سیڑھی سے نیچے آئے اور منی جی سے کہا کہ میں اور آپ دونوں آگے پیچھے اوپر چڑھیں گے۔ میں صوفی صاحب کو کمر سے پکڑوں گا اور آپ فوراً باز کی طرح جھپٹ کر کاغذ ان کے ہاتھ سے چھین کر چبا ڈالنا۔ پھر ہم دونوں پر جتنے گھونسے مکے برسیں گے انھیں گوارہ کر لیں گے۔ ورنہ اگر مضمون آفس سکریٹری کے ہاتھ میں چلا گیا تو وہ اسے ضرور شائع کر دے گا اور پھر سارا بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا اور صوفی صاحب نے بھی نہرو کا غصہ ان دونوں پر اتار دیا۔ پھر وہ صوفی صاحب کو کسی صورت منا کر اور انھیں کار میں بٹھا کر اشوکا ہوٹل پہنچے۔ سندر لال نے ان سے پوچھا کیا لیں گے گرم یا ٹھنڈا۔ صوفی صاحب بپھر کر بولے کچھ نہیں چاہیے۔ کمبخت نے میرا انتہائی بیش قیمت مضمون بکری کی طرح چبا ڈالا۔ سندر لال نے کہا ارے صوفی صاحب! ایسے کتنے ہی مضامین تو آپ خواب میں ہی مرتب کر ڈالیں گے۔ اصل قابل قدر اور قابل ذکر تو آپ کا ڈرامہ تھا جسے آپ کے علاوہ کوئی مائی کا لال اسٹیج نہیں کر سکتا۔ ہم لوگوں کا تو پاخانہ خطا ہوتے ہوتے رہ گیا اور نہرو جی کا پائجامہ میں پیشاب نکل گیا۔ آپ کے جانے کے آدھا گھنٹے بعد تک ہائے ہائے اور رام رام کرتے رہے۔ فوراً ڈائری میں تاریخ اور وقت نوٹ کیا اور صدارت قبول کر لی اور آپ کو آدم خور کا خطاب بھی دے ڈالا۔ ہمیں انتہائی خیر اندیشانہ نصیحت کی کہ ایسے آدم خور، بے ہنگام ملنگ کو آئندہ کبھی ہمارے سامنے مت لانا۔ گو وہ آپ کو دیکھنے سے لرزتے ہیں لیکن دل مضبوط کرکے کانفرنس میں پھر ایک بار آپ کے جلال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے۔ یا تو بنے بنائے کام کو خود اپنے ہاتھوں بگاڑ دیں یا آپ کے قابل قدر مضمون پر ڈاکہ ڈال کر بکری کی طرح چبا جائیں۔ ہم نے دوسرے ہی کام کو مناسب جانا اور آپ کے گھونسوں اور مکوں کی بارش اپنے کمزور جسموں پر برداشت کی۔صوفی صاحب کا غیظ و غضب بڑی حد تک فرو ہو چکا تھا۔ ان کے لیے لسی کے ایک درجن بڑے گلاس منگوائے گئے اور وہ ایک ایک کرکے غٹا غٹ پیتے چلے گئے۔ پھر انھیں ان کی جائے قیام پر پہنچا دیا گیا۔
(اب کہاں ایسے صوفی اور عالم دین اور کہاں ایسے سیاست داں)۔
موبائل: 9818195929 
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages