قارئین کرام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی
اکثر لوگ جزاک اللہ خیراً کو جزاک اللہ خیر لکھتے ہیں جو درست نہیں
اھل علم واقف ہیں کہ جزا کا ترجمہ بدلہ ہے جو برائی کا بھی ہو سکتا ہے اور اچھائی کا بھی ۔ قران کریم میں دونوں مفاہیم ہیں
جزاک اللہ خیراً کا مطلب یہ ھے کہ اللہ تعالی آپ کو اس نیکی کا اجر دے۔ عربی گرامر کی رو سے یہ ایک جملہ فعلیہ ہے جس میں خیراً بطور حال استعمال ہوا ھے اور حال ہمیشہ منصوب ہوتا ہے
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صُنِعَ
إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا
؛ لوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي قَوْلِهِ لِأَخِيهِ: جَزَاكَ
اللَّهُ خَيْرًاقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه
خیر اندیش
ڈاکٹر شکیل احمد