ابتداءً نصوح کو نماز وغیرہ کا اہتمام کرتے دیکھ کر گھر والوں نے اچنبھا کیا تھا لیکن پھر تو بے کہے دوسروں پر خود بخود ایک اثر سا ہونے لگا اور نصوح اسی کا منتظر تھا کہ لوگ اس طرزِ اجنبی سے کسی قدر مانوس اور خوگر ہو لیں تو اپنا انتظام شروع کروں۔ نصوح کی جہاں اور عادتیں بدلی تھیں وہاں ایک یہ بھی تھی کہ وہ خلوت پسند ہو گیا تھا، تمام تمام دن اکیلا بالا خانے پر بیٹھا رہتا، بے بلائے اگر کوئی جاتا تو یہ بھی نہ تھا کہ اس سے بات چیت نہ کرے مگر حتی الوسع مجمع سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ بعض کو یہ خیال ہوتا تھا کہ شاید نیند بڑھ گئی ہے، کوئی یہ سمجھتا تھا کہ اترنے چڑھنے کی توانائی نہیں آئی مگر فہمیدہ کو اکثر جانے کا اتفاق ہوتا تھا، کبھی نماز پڑھتے دیکھا کبھی چپ بیٹھے ہوئے۔ آخر ایک روز پوچھا کہ "اکیلے چپ چاپ بیٹھے ہوئے تمھارا جی نہیں گھبراتا، تھوڑی دیر کو نیچے ہی اتر آیا کرو کہ بال بچوں کی با توں میں دل بہلے، مجھ کو گھر کے کام دھندے سے فرصت نہیں ملتی۔ "
نصوح۔ "میں تم سے اس بات کی شکایت کرنے والا تھا کہ جب سے میں بیمار ہو کر اٹھا ہوں تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا، کیوں ہوا۔ کیا تم کو میری عادات میں فرق معلوم نہیں ہوتا؟"
فہمیدہ۔ "رات دن کا تفاوت، زمین و آسمان کا فرق اور پوچھنے کو تمھارے سر کی قسم کئی بار منہ تک بات آئی مگر تمھارا ڈھنگ دیکھ کر جرأت نہ ہوئی کہ پوچھوں۔ "
نصوح۔ "ڈھنگ کیسا؟"
فہمیدہ۔ "برا ماننے کی بات نہیں، مزاج تمھارا سدا کا تیز ہے، یونہی سب لوگ تم سے ڈرتے رہتے ہیں، جب سے بیمار ہو کر اٹھے ہو سب کو خوف تھا کہ ایک تو کریلا دوسرے نیم چڑھا۔ پہلے ہی سے بلا کا غصہ ہے اب بیماری کے بعد کیا ٹھکانا ہے۔ ادھر تم کو دیکھا تو کسی کی طرف ملتفت نہ پایا، سمجھے کہ ضرور طبیعت برہم اور مزاج نادرست ہے۔ پھر کس کی جرأت، کس کو اتنی ہمت جو پوچھے، دریافت کرے؟"
نصوح۔ "کیوں صاحب، کبھی تم نے مجھ کو میرے مزاج کی خرابی پر متنبہ نہ کیا؟"
فہمیدہ۔ "تنبیہ کرنا در کنار، بات کرنے کا تو یارا نہ تھا۔ "
نصوح۔ "لیکن ان دنوں تو میں کسی پر نا خوش نہیں ہوا۔ "
فہمیدہ۔ "گھر بھر کو اس کا تعجب ہے۔ "
نصوح۔ "آخر لوگ اس کا کیا سبب قرار دیتے ہیں؟"
فہمیدہ۔ "لوگ یہ کہتے ہیں کہ وبا میں کثرت سے لوگوں کو مرتے دیکھا، اپنے گھر میں تین موتیں ہو گئیں، خود بیمار پڑے اور خدا کے گھر سے پھر کر آئے، دل میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔ تمھارے بڑے صاحبزادے یہ تجویز کرتے ہیں کہ ڈاکٹر نے جو اسہال بند کرنے کی دوا دی، دماغ میں گرمی چڑھ گئی ہے، بہر کیف سب کی یہی رائے ہے کہ علاج کرنا چاہیئے۔ "
نصوح۔ "نہ گرمی ہے، نہ خللِ دماغ، خوف البتہ ہے۔ "
فہمیدہ۔ "مرد ہو کر اتنے ڈر گئے، آخر ہم سب بھی تو اس آفت میں تھے۔ "
نصوح۔ "تم ہر گز اس آفت میں نہ تھیں۔ "
فہمیدہ۔ "یعنی یہ کہ میں نے ہیضہ نہیں کیا، لیکن تمھارا ہیضہ کرنا مجھ کو اپنے مرنے سے زیادہ شاق تھا۔"
نصوح۔ "نہیں ہیضہ کرنے کی بات نہیں، بیماری اگرچہ ظاہر میں سخت تھی مگر میں تم سے کہتا ہوں کہ شروع سے آخر تک میرے ہوش و حواس درست تھے۔ تمھاری ساری باتیں میں سنتا اور سمجھتا تھا۔ ابتدائے علالت میں جو تم لوگوں نے ہیضہ امتلائی تجویز کیا، پھر صبح کو حکیم صاحب تشریف لائے اور میری کیفیت تم نے ان سے بیان کی، پھر ڈاکٹر آئے اور انہوں نے دوا پلائی، مجھ کو سب خبر ہے۔ جب تم لوگوں نے ڈاکٹر کے کہنے سے مجھ کو علیحدہ دالان میں لٹایا تو مجھ کو غنودگی سی آ گئی اور میں نے اپنے تئیں دوسرے جہان میں دیکھا۔ "
اس کے بعد نصوح نے خواب کا سارا ماجرا حرف بحرف بی بی سے بیان کیا، مردوں کی نسبت عور توں کے دلوں میں نرمی اور رقت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذہبی تعلیم عور توں میں جلد اثر کرتی ہے۔ فہمیدہ نے جو میاں کا خواب سنا، اس قدر خوف اس پر طاری ہوا کہ قریب تھا کہ غش آ جائے۔ نصوح اگرچہ تنہائی میں اپنے گناہوں پر تاسف کر کے ہر روز دو چار مرتبہ رو لیا کرتا تھا اور ظاہر میں نہیں بھی روتا تھا تو اندر سے اس کا دل ہر وقت روتا رہتا تھا، اب بی بی کی ہمدردی اور ہمدمی کا سہارا پا کر تو اتنا رویا کہ گھگھی بندھ گئی۔ فہمیدہ پہلے ہی خوفزدہ تھی، میاں کا رونا اس کے حق میں اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہوا، اس نے بھی بلبلا کر رونا شروع کر دیا۔ پھر تو میاں بی بی ایسا روئے کہ ساون بھادوں کا سماں بندھ گیا۔ وہ بھی ایک عجیب وقت تھا کہ دو میاں بی بی اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہے تھے۔
آخر نصوح نے اپنے تئیں سنبھالا اور بی بی سے کہا کہ دنیا میں اگر کوئی چیز رونے کے قابل ہے تو میرے نزدیک گناہ اور خدا کی نا فرمانی ہے اور بس، کیونکہ کوئی معصیت، کوئی آفت، گناہ سے بڑھ کر نہیں۔ دنیا کے نقصانوں پر رونا بے فائدہ دیدے کھونا ہے مگر گناہ پر رونا گویا داغِ الزام کو دھونا ہے۔ رونا کفارۂ معصیت ہے، رونا گنہگار کے لیے بہترین معذرت ہے، رونا رحمت کی دلیل اور مغفرت کا کفیل ہے۔ لیکن ہم کو اپنی آئندہ زندگی کا انتظام بھی کرنا ضرور ہے۔ ندامت وہی سند ہے کہ افعالِ ما بعد میں اس کا اثر ظاہر ہو۔ توبہ وہی پکی ہے کہ آدمی جو دل سے سوچے یا منہ سے کہے ویسا ہی کر دکھائے۔
فہمیدہ۔ "لیکن اتنی عمر اس خرابی میں بسر کی اب نجات اور مغفرت کی کیا امید ہے، میں تو جانتی ہوں کہ ہمارا مرض علاج سے در گزرا۔ "
نصوح۔ "خدا کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کفر ہے۔ وہ بڑا بے نیاز، بڑا غفور الرحیم ہے۔ کچھ اس کو ہماری عبادت کی پرواہ نہیں، اگر روئے زمین کے تمام آدمی اس کی نا فرمانی کریں تو اس کی ابدی اور دائمی سلطنت میں ایک سر مو برابر بھی فرق نہیں آئے گا اور اس طرح اگر تمام زمانہ فرشتہ سیرت ہو جائے اور عبادت ہی کرانی منظور ہوتی تو وہ نافرمان، گنہگار، سرکش، متمرو انسان کی جگہ فرشتے پیدا کرسکتا تھا۔ پھر یہ باتیں جو ہم پر فرض و واجب کی گئی ہیں ہماری ہی اصلاح و بہبود کے لیے اور اس میں شک نہیں کہ اس میں پرلے سرے کا رحم اور غایت درجے کا حلم ہے۔ لاکھ گناہ کرو، جہاں عجز و الحاح کیا، منت سماجت سے پیش آئے، بس پھر کچھ نہیں۔
اگر خشم گیر و بہ کردار زشت
چو باز آمدی ماجرا در نوشت
وہ معبود جابر نہیں، سخت گیر نہیں، کینہ ور نہیں۔ مگر ہے کیا کہ غیور بڑا ہے، اس کی مطلق برداشت نہیں کہ کس کو اس کا شریکِ خدائی گردانا جائے۔ "
فہمیدہ۔ "کتنا ہی عفو و درگزر کیوں نہ ہو، مگر اپنے گناہوں کی بھی کچھ انتہا ہے۔ ماں باپ کو جیسی اولاد کی مامتا ہوتی ہے، ظاہر۔ مگر دیکھو کلیم کی حرکتوں سے میرا تمھارا دونوں کا جی آخر کھٹا ہو ہی گیا، کتنی برداشت، کہاں تک چشم پوشی؟"
نصوح۔ "خدا کی پاکیزہ اور کامل صفتوں کو آدمی کی ناقص و ناتمام عاد توں پر قیاس کرنا بڑی غلطی ہے۔ تمام دنیا کے ماں باپوں کو جو اولاد کی محبت ہے، وہ ایک کرشمہ ہے اس عنایتِ بے غایت اور لطف و شفقتِ بے منت کا جو خداوند کریم ہر حال میں اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔ گناہ اور نا فرمانی انسان کے خمیر میں ہے، اگر بندوں کے گناہ پر اس کی نظر ہوتی تو ہر متنفس کشتنی اور گردن زنی تھا، دنیا کا ہے کو بستی، لیکن اللہ رے در گزر، گناہ بھی ہو رہے ہیں اور رزق کا راتب جو سرکار سے بندھا ہوا ہے موقوف ہونا کیسا، کبھی ناغہ بھی تو نہیں ہوتا۔ سانس لینے کو ہوا تیار، پینے کا پانی موجود، آرام کرنے کو رات، کام کرنے کو دن، رہنے کو مکان، وہی چاند، وہی سورج، وہی آسمان، وہی زمین، وہی برسات، وہی فواکہ و نباتات۔ جملہ اعضاء، ہاتھ پاؤں، آنکھ کان اپنی اپنی خدمت پر مستعد، نہ ماندگی، نہ کسل، نہ تکان۔ پس جبکہ خدا ایسے ایسے گناہ اور ایسی ایسی نا فرمانیوں پر نیکی سے نہیں چوکتا تو یہ بات اس کی ذات ستودہ صفات سے بہت ہی مستبعد معلوم ہوتی ہے کہ اس کی درگاہ میں معذرت کی جائے اور نہ بخشے، توبہ کی جائے اور قبول نہ کرے۔ "
اسی وقت میاں بی بی دونوں نے دعا کے واسطے ہاتھ پھیلا دیے اور گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے اور ایک دوسرے کے گناہوں کی مغفرت چاہی۔ اس کے بعد فہمیدہ مسرت و اطمینان کی سی باتیں کرنے لگی مگر نصوح کی افسردہ دلی بدستور باقی تھی۔ تب فہمیدہ نے پوچھا کہ جب توبہ کرنے سے گناہوں کا معاف ہو جانا یقینی ہے اور آئندہ کے واسطے ہم عہد کرتے ہیں کہ پھر ایسا نہ کریں گے تو کیا وجہ ہے کہ تم اداس ہو؟
نصوح۔ "ایمان خوف و رجا کا نام ہے، توبہ کا قبول کیا جانا کچھ ہمارا استحقاق نہیں، خدائے تعالیٰ قبول کرے تو اس کی عنایت اور قبول نہ کرے تو ہم کو نہ گلہ ہے نہ محلِ شکایت۔ آئندہ کے عہد پر کیا بھروسا ہو سکتا ہے، انسان مخلوق ضعیف البنیان ہے، غفلت اس کی طینت ہے اور نا فرمانی اس کی طبیعت۔ خدا ہی توفیق خیر دے تو عہد کا نباہ اور وعدے کا ایفا ممکن ہے، ورنہ آدمی سے کیا ہو سکتا ہے۔
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہو گاہم کیا ہیں کہ کوئی کام ہم سے ہو گا
جو کچھ کہ ہوا، ہوا کرم سے تیرےجو کچھ کہ ہو گا، تیرےکرم سے ہو گا
اور میری افسردگی کی ایک وجہ اور ہے کہ اس طرح اس سے میرا قلب مطمئن نہیں ہوتا۔ "
فہمیدہ۔ "وہ کیا؟"