تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
کوہ کن پر طعن ہے کہ رسم و راہ کی پابندی جو دیوانگی و آزادی کے خلاف ہے ، اس قدر اس کو تھی کہ جب تیشہ سے سر پھوڑا تو کہیں مرا ، اگر نشہ عشق کامل ہوتا تو بغیر سر پھوڑے مرگیا ہوتا ، خمارِ نشہ اُترنے سے جو بے کیفیتی اور بے مزگی ہوتی ہے ، اُسے کہتے ہیں رسوم و قیود کو بے مزہ و بے لطف ظاہر کرنے کے لئے اُسے خمار سے تشبیہ دی ہے۔
_______
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مدعا پایا
یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے ، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے ، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی کہ عشق اُس کی دوا ہو گیا اور خود وہ درد بے دوا ہے۔
دوست دارِ دُشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نا رسا پایا
یعنی آہ میں اثر نہیں ، نالہ میں رسائی نہیں ، دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دُشمن کا دوست ہے۔
سادگی و پرکاری بے خودی و ہوشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
یعنی حسینوں کا تغافل کرنا اور عشاق کے حال سے بے خبر بننا یہ فقط عشاق کا دل دیکھنے کے لئے اور جرأت آزمانے کے واسطے ہے ، اصل میں پرکاری و ہوشیاری ہے اور ظاہر میں سادگی و بے خبری ہے۔
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
ایک عاشق بے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے کہ یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا تھا۔
حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
ڈھونڈا اور پایا کا مفعول بہ دل ہے۔
شورپند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
’ آپ ، کا اشارہ ناصح کی طرف ہے اور اس میں تعظیم نکلتی ہے اور مقصود تشنیع ہے اور مزہ اور شور نمک کے مناسبات میں سے ہیں ، مصنف نے ’ مزہ ، کو قافیہ کیا اور ہائے مختفی کو الف سے بدلا ، اُردو کہنے والے اس طرح کے قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں ، وجہ یہ ہے کہ قافیہ میں حروفِ ملفوظہ کا اعتبار ہے ، جب یہ ’ہ ، ملفوظہ نہیں بلکہ ’ ز ، کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اُسے حرف روی قرار دینے سے ، اسی طرح سے فوراً اور دُشمن قافیہ ہو جاتا ہے ، گو رسم خط اس کے خلاف ہے ، لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتے اور وجہ اُس کی یہ ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حرف روی ہونے کے قابل نہیں جانتے۔

5دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کے مانند گویا جل گیا
یعنی چپکے چپکے کس طرح جلا کیا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی ، ’ گویا ، کا لفظ خاموش کی مناسبت سے ہے ، ’ مانند ، کا لفظ بول چال میں نہیں ہے ، مگر شعراء نظم کیا کرتے ہیں۔
دل میں ذوقِ وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
یعنی رشک کی آگ ایسی تھی کہ معشوق کو دل سے بھلادیا اور اس کا غیر سے ملنا دیکھ کر ذوقِ وصل جاتا رہا۔ گھر سے دل مراد ہے اور آگ سے رشکِ رقیب۔
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
مصنف کی غرض یہ ہے کہ میری نیستی و فنا یہاں تک پہنچی کہ اب میں عدم میں بھی نہیں ہوں اور اس سے آگے نکل گیا ہوں ، ورنہ جب تک میں عدم میں تھا ، جب تک میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے ، عنقا ایک طائر معدوم کو کہتے ہیں اور جب وہ معدوم ہوا تو وہ بھی عدم میں ہوا اور ایک ہی میدان میں آہِ آتشیں و بالِ عنقا کا اجتماع ہوا ، اسی سبب سے آہ سے شہپر عنقا جل گیا ، لیکن مصنف کا یہ کہنا کہ میں عدم سے بھی باہر ہوں ، اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں نہ موجود ہوں ، نہ معدوم ہوں اور نقیضین مجھ سے مرتفع ہیں ، شاید ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالب شعر بے معنی کہا کرتے ہیں اور اُس کے جواب میں مصنف نے یہ شعر کہا
نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
پرے کا لفظ اب متروک ہے ، لکھنؤ میں ناسخؔ کے زمانہ سے روزمرہ میں عوام الناس کے بھی نہیں ہے ، لیکن دلی میں ابھی تک بولا جاتا ہے اور نظم میں بھی لاتے ہیں ، میں نے اس امر میں نواب مرزا خاں صاحب داغؔ سے تحقیق چاہی تھی ، اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ لوگوں کی خاطر سے ( یعنی لکھنؤ والوں کی خاطر سے ) اس لفظ کو چھوڑ دیا ، مگر یہ کہا کہ مومنؔ خاں صاحب کے اس شعر میں
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منھ
اے شبِ ہجر تیرا کالا منھ
اگر پرے کی جگہ اُدھر کہیں تو برا معلوم ہوتا ہے ، میں نے کہا کہ ’ پرے ہٹ ، بندھا ہوا محاورہ ہے ، اس میں ’ پرے ، کی جگہ ، اُدھر ، کہنا محاورہ میں تصرف کرنا ہے ، اس سبب سے برا معلوم ہوتا ہے ، ورنہ پہلے جس محل پر ’ چل پرے ہٹ ، بولتے تھے اب اُسی محل پر دور بھی محاورہ ہو گیا ہے ، اس توجیہ کو پسند کیا اور مصرع کو پڑھ کر الفاظ کی نشست کو غور سے دیکھا : ’ دور بھی ہو مجھے نہ دکھلا منھ ، اور تحسین کی۔
عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
یعنی یہ کہاں ممکن ہے کہ اپنی طبیعت کی گرمی ظاہر کر سکوں فقط دشت نوردی کا ذرا خیال کیا کہ صحرا میں آگ لگ اُٹھی اور یہ مبالغہ غیر علوی ہے کہ طبیعت میں ایسی گرمی ہو کہ جس چیز کا خیال آئے وہ چیز جل جائے عرض کو لوگ جوہر کے ضلع کا لفظ سمجھتے ہیں حالاں کہ جوہر کے مناسبات میں سے عرض بہ تحریک ہے نہ بہ سکون۔
دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
باب نبرد یعنی لائق نبرد مطلب یہ ہے کہ جو شخص مرد میدانِ عشق نہ تھا وہ اس کی دھمکی ہی میں مرگیا ، میر ممنون ؔ کے کلام میں باب ان معنی پر بہت جگہ آیا ہے۔
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اُڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
یعنی رنگ میرا جب نہیں اُڑا تھا جب بھی زرد تھا ، ورنہ مرنے کے وقت تو سبھی کا رنگ اُڑکر زرد ہو جاتا ہے اور مردنی چہرہ پر پھر جاتی ہے ، یعنی اُڑنے سے مرنے کے وقت اُڑنا رنگ کا مقصود ہے
تالیف نسخہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
یعنی فن عشق میں مجھے اور بھی مرتبۂ تصنیف حاصل ہو چکا تھا ، میرے عقل و ہوش کا مجموعہ تک فرد فرد غیر مرتب ہورہا تھا یعنی ناتجربہ کاری کا زمانہ تھا۔
دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے آب
اس رہ گذر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
یعنی میرے دل سے لے کر جگر تک اب تو ایک دریائے خون ہے آگے اسی رہ گذر میں وہ بہاریں تھیں کہ جلوۂ گل جس کے آگے گرد ہوا جاتا تھا ، یعنی کسی زمانہ میں ہم بھی دلِ شگفتہ و رنگین رکھتے تھے اور اب خاطر افسردہ و غمگین رکھتے ہیں۔
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی طرح اندوہِ عشق کم ہو جائے ، دل بھی جاتا رہا ، جب بھی اسی طرح دردِ دل باقی رہا ، وہی کے معنی ، اسی طرح دوسرا پہلو یہ ہے کہ دل کا جانا خود ہی دردِ دل ہے۔
احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
یعنی میں زنداں میں بند تھا ، مگر میرا خیال بیاباں میں تھا ، کچھ قید سے چارہ سازی ، وحشت نہ ہوئی۔
یہ لاش بے کفن اسد ؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
یعنی عجب آزاد تھا کہ لاش بے کفن ہے۔
8
شرح غالب نظم طبا طبا ئ
شمار سبحہ مرغوب بتِ مشکل پسند آیا
تماشائے بیک کف بردنِ صد دل پسند آیا
مرغوب آیا ، یعنی مرغوب ہوا ، مشکل پسند بت کی صفت ہے محض قافیہ کے لئے حاصل اس شعر کا یہ ہے کہ اُسے ایک ہتھے میں سو سو دل عاشقوں کے لے لینا پسند ہے ، پھر اس سو دل کی ایک تسبیح بھی مصنف نے بنائی ہے اور کہتے ہیں کہ گویا اُسے تسبیح کا شمار بہت مرغوب ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مصنف نے بیک کف بردن صد دل میں حساب عقد انامل کی طرف اشارہ کیا ہے اور عقدِ صد کی یہ شکل ہے کہ چھنگلیا کی سر کو انگوٹھے کی جڑ میں لگا کر انگوٹھا سارا اُس کی پشت پر جمادیتے ہیں ، عرب میں اس حساب کا رواج تھا ، رسولِ خدا انے جس حدیث میں فتنۂ چنگیز و ہلاکو و تیمور وغیرہ کی زینب بنت جحش ؓسے پیشین گوئی کی ہے ، اس میں ذکر ہے : حضرت ایک دن ڈرے ہوئے ان کے پاس آئے اور فرمایا : ’’ لا الہ الا اﷲ ویل للعرب من شرقد اقترب فتح الیوم من روم ، یاجوج وماجوج مثل ہذہ ‘‘ یہ کہہ کر آپ نے کلمہ کی اُنگلی کو انگوٹھے سے ملا کر حلقہ بنایا ذہیب اور سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو روایت کر کے عقدِ تسعین کی شکل دونوں اُنگلیوں سے بنائی ، یعنی کلمہ کی اُنگلی کا سر انگوٹھے کی جڑ میں سے لگا کر انگوٹھے کو اس کی پشت پر جمادیا ، فتنۂ تاتار سے کئی سو برس پیشتر کی کتابوں میں بخاری وغیرہ کی یہ حدیث موجود ہے ، خوارزم شاہ نے جب دیوارِ ترکستان کو کھدوا ڈالا جب ہی سے چنگیز و ہلاکو و تیمور کو ملی اور سلطنت عرب کو تباہ کرڈالا ، اُس زمانہ میں شاہ خوارزم قطب الدین سلجوقی تھے۔
بفیض بے دلی نومیدی جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
یعنی دُنیا کی طرف سے جو بے دلی و بے دماغی ہم کو ہے اس کی بدولت صدمہ نومیدی و یاس کا اُٹھا لینا ہم کو سہل ہے ، ہمیں دُنیا پر خود رغبت نہیں ہے ، کشود کار کی اُمید ہو تو کیا اور نا اُمیدی ہو جائے تو کیا۔ یہ پہلے مصرع کے معنی ہوئے اور دوسرے مصرع کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا عقدۂ مشکل کشائش کو پسند آگیا ، یعنی اب کبھی اس کی کشائش نہ ہو گی ، اس سبب سے کہ کشائش کو اس کا عقدہ ہی رہنا پسند ہے اور پسند اس سبب سے ہے کہ ہمیں پرواہ نہیں ، پھر ایسی بے نیازی کشائش کو کیوں نہ پسند آئے۔
ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہری قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا
یعنی اسے تماشائے گل کی خواہش ہونا اُس کی بے مہری کا آئینہ ہے اور اس کی جفاجوئی کی دلیل ہے ، اس وجہ سے کہ گل میں بسمل بخوں غلطیدہ کا انداز ہے ، پہلے مصرع میں سے فعل محذوف ہے۔
_______
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
یعنی لوگ جو دُنیا میں وفا کرتے ہیں ، اس کے معنی یہی ہیں کہ تسلی چاہتے ہیں ، جب وفا کر کے تسلی نہ ہوئی تو فقط وفا بے معنی و مہمل رہ گیا ، حاصل یہ کہ وفاداریٔ عشاق بے معنی بات ہے۔
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دم افعی نہ ہوا
مشہور ہے کہ زمرد کے سامنے سانپ اندھا ہو جاتا ہے ، مگر تیرا سبزۂ خط کیا زمرد ہے کہ افعی زلف پر اس کا اثر نہ ہوا ، یعنی خط نکل آنے کے بعد بھی زلف کی دل فریبی میں فرق نہیں آیا۔

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
یعنی مر کے غم سے پیچھا چھڑانا چاہا تو اس نے رسوائی و بدنامی کے اندیشہ سے اسے بھی گوارا نہ کیا ، معنوی خوبیاں اس شعر میں بہت سی ہیں ، کثرتِ اندوہ علاج میں درماندگی اس پر بھی دل آزاری و جفاکاریٔ معشوق ، پھر اس حالت میں بھی اسی کی مرضی پر رہنا۔
دل گذرگاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفس جادۂ سرمنزل تقوی نہ ہوا
تار اور رشتہ اور خط اور جادۂ نفس کے تشبیہات میں سے ہیں ، غرض شاعر کی یہ ہے کہ اگر تقویٰ نہ حاصل ہوا تو رندی ہی سہی ، قافیہ تقویٰ میں فارسی والوں کا اتباع کیا ہے کہ وہ لوگ عربی کے جس جس کلمہ میں ہی دیکھتے ہیں اُس کو کبھی ’ الف ، اور کبھی ’ ی ، کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔ ’’ تمنی و تمنا ، تجلی و تجلیٰ وتسلی و تسلیٰ و ہیولی و ہیولیٰ و دینی و دُنیا ‘‘ بکثرت اُن کے کلام میں موجود ہے۔
_______
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کش گل بانگ تسلی نہ ہوا
یعنی اگر تو وعدۂ وصل کرتا تو جب بھی میں خوش تھا ، اس وجہ سے کہ وہ عین مقصود ہے اور تو نے وعدہ نہیں کیا تو اس پر بھی میں خوش ہوں کہ احسان سے بچا اور اُس احسان سے جو کبھی نہیں اُٹھایا تھا۔
کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجئے
ہم نے چاہا تھا کہ مرجائیں سو وہ بھی نہ ہوا
یعنی آخری خواہش میں نے یہ کی تھی کہ موت ہی آجائے اُس سے بھی محروم رہا۔
مرگیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریف دمِ عیسیٰ نہ ہوا
اس شعر میں معنی کی نزاکت یہ ہے کہ شاعر حرکتِ لبِ عیسیٰ کو صدائے عیسیٰ کی حرکت سے مقدم سمجھتا ہے ، کہتا ہے کہ میں پہلے حرکتِ لب ہی کے اوجھڑ سے مرگیا اور حریفِ دمِ عیسیٰ نہ ہوا ، یعنی دمِ عیسیٰ سے معاملہ نہ پڑا اور ناتوانی کے سبب سے صدائے عیسیٰ کے سننے کی نوبت ہی نہ آنے پائی۔
_______
ستائش گر ہے زائد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
کسی شئے کو طاق پر رکھنا یا بالائے طاق رکھ دینا محاورہ ہے اس کا خیال ترک کر دینے کے معنی پر اور طاق نسیاں پر رکھنا اور بھی زیادہ مبالغہ ہے اور یہاں گلدستہ کی لفظ نے یہ حسن پیدا کیا ہے کہ گلدستہ کو زینت کے لئے طاق پر رکھا کرتے ہیں ، دوسرے یہ کہ باغ کو مقام تحقیر گلدستہ سے تعبیر کیا ہے ، یہ بھی حسن سے خالی نہیں لیکن یہ حسن بیان و بدیع سے تعلق رکھتا ہے ، معنوی خوبی نہیں ہے۔
بیاں کیا کیجئے بیداد کاوشہائے مژگاں کا
کہ ہر اک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
یعنی سوزن مژگاں نے ایسی کاوشیں کیں کہ میرے جسم میں ہر ایک قطرۂ خوں تسبیح مرجان کا دانہ بن گیا ہے یعنی ہر قطرۂ خون سوراخ پڑگیا۔
نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
دستور ہے کہ کسی کے رعب و سطوت کے اظہار کرنے کے لئے جو مرعوب ہو جاتا ہے وہ اپنے دانتوں میں گھانس پھونس اُٹھا کر دبالیتا ہے تاکہ وہ شخص اسے اپنا مطیع و مغلوب سمجھے اور قصدِ قتل سے باز آئے ، شاعر کہتا ہے کہ قاتل کے رعب و سطوت سے بھی میری نالہ کشی نہ موقوف ہوئی میں نے جو تنکا اظہارِ رعب کے لئے دانتوں میں دبایا وہ ریشہ نیستاں ہو گیا اور یہ ظاہر ہے کہ نیستاں میں نے پیدا ہوتی ہے اور نے صاحبِ نالہ
10ہے غرض کہ وہ تنکا نالہ کشی کی جڑ ہو گیا۔
دکھاؤں گا تماشا ، دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل ایک تخم ہے سروِ چراغاں کا
یعنی ایک ایک داغ سے نالۂ پرشرر نکلے گا جو سرو چراغاں سے مشابہ ہو گا تو گویا داغ دل وہ بیج ہے جس سے سروِ چراغاں اُگے گا۔
کیا آئینہ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوہ نے
کرے جو پرتوِ خورشید عالم شبنم ستاں کا
یعنی جس طرح آفتاب کے سامنے شبنم نہیں ٹھہرسکتی اُسی طرح تیرے مقابلہ کی تاب آئینہ نہیں لا سکتا آئینہ خانہ کی تشبیہ شبنم ستاں سے تشبیہ مرکب ہے۔
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کاہے خون گرم دہقاں کا
یعنی میں وہ دہقان ہوں جس کی سرگرمی خود اُسی کے خرمن کے لئے برق کا کام کرتی ہے یعنی خرمن کو جلا ڈالتی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حرارت غریزی جو کہ باعثِ حیات ہے خود وہی ہر وقت تحلیل و فنا بھی کر رہی ہے۔ ہیولیٰ بمعنی مادہ اور مصنف نے صورت کی لفظ ہیولیٰ مناسبت سے استعمال کی ہے اور تعمیر سے تعمیر جسم خاکی مقصود ہے خون گرم بھنی ہوئی سرگرمی۔ اس شعر میں جو مسئلہ طب مصنف نے نظم کیا ہے اُسے آگے بھی کئی جگہ باندھا ہے۔
اُگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
سبزہ سے مراد سبزۂ بیگانہ ہے اس سبب سے کہ جو سبزہ بے موقع اُگتا ہے اُسے سبزۂ بیگانہ کہتے ہیں اور گھر میں سبزہ کا اُگنا بے موقع ہے تو مراد مصنف کی یہ ہے کہ ویرانی کی نوبت یہ پہنچی ہے کہ سبزۂ بیگانہ میرے گھر میں اُگا ہے اور دربان کا کام ہے کہ بیگانہ کو گھر کے اندر سے نکال دے ، تماشا کر یعنی یہ سیر دیکھ۔
خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مردہ ہوں میں بے زباں گورِ غریباں کا
خاموش آدمی کو بے زبان کہتے ہیں اور چراغ کی لو کو زبان سے تشبیہ دیتے ہیں تو بجھے ہوئے چراغ کو بے زبان آدمی کے ساتھ مشابہت ہے اور اسی طرح سے خوں گشتہ آرزوؤں کو گورِ غریباں سے مشابہت ہے۔
ہنوز اک پرتوِ نقشِ خیالِ یار باقی ہے
دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
ہنوز کی لفظ سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ خیال بھلانے پر بھی کچھ پرتو اس کا باقی رہ گیا ہے اور اس پرتو میں بھی یہ نور ہے کہ دل پر حجرۂ زندان یوسف کا عالم ہے اور اس شعر میں لفظ افسردہ سے دل کا حجرہ ہونا ظاہر ہوا اور خیال یار کے بھلانے کا سبب بھی اسی لفظ سے پیدا ہے یعنی جب دل افسردہ ہوا تو پھر خیالِ یار کیسا اور افسردگی کو تنگی لازم ہے ، اس سبب سے حجرہ اُسے کہا کہ تنگ کوٹھری کا نام حجرہ ہے۔
بغل میں غیر کے آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
مصنف کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رقیب کی بغل میں جو چپکے چپکے تو ہنس رہا ہے مجھے وہ ہنسی خواب میں دکھائی دے رہی ہے اور اُسی ہنسی کا اندازہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ اس انداز کی ہنسی وصل ہی کے وقت ہوتی ہے ورنہ تو میرے خواب میں آ کر میرے ساتھ تبسم پنہاں کرے میرے ایسے نصیب کہاں۔

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سر شک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
لہو پانی ایک ہونا رونے کے معنی پر ہے یعنی تیری آنکھ میں آنسو دیکھنے کی تاب کس کو ہے اور اشارہ اس بات کی طرف بھی کیا ہے کہ مژگانِ معشوق جو ہمیشہ دل و جگر عشاق میں کھٹکا کرتی ہے اُس کا آنسو وہی آنسو ہیں جو عشاق کے دل میں پیدا ہوکر آنکھوں کی طرف جایا چاہتے تھے یعنی تیری پلکوں پر جو آنسو ہیں وہ تیرے دل سے نکلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ یہ آنسو وہی ہیں جو عشاق کے دل و جگر میں پیدا ہوئے تھے اور تیری مژہ پر آنسو ہونا اس کی علامت ہے کہ عشاق کا لہو پانی ایک ہو گیا۔
نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
یعنی جس رشتۂ فنا میں تمام اوراقِ عالم سئے ہوئے ہیں اُن سے بھولا ہوا نہیں ہوں یعنی فنا ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے ہے۔
_______
نہ ہو گا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
ذوق سے صحرا نوردی مراد ہے اور رفتار کو موج اور نقش قدم کو حباب کے ساتھ تشبیہ دینے سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح موج کا ذوق روانی کبھی کم نہیں ہوتا اسی طرح میرا بھی ذوق کم نہیں ہو گا ، ایک بیابانِ ماندگی خواہ صد بیابانِ ماندگی کہو مراد ایک ہی ہے یعنی ماندگی مصرع ایک بیابان کہہ کر ماندگی کی مقدار بیان کی ہے گویا بیابان کو پیمانہ اُس کا فرض کیا ہے۔
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
بوئے گل دم کھنچنے کے ساتھ ناک میں آتی ہے تو یہ کہنا کہ بوئے گل سے ناک میں دم آتا ہے بیجا نہیں اور ناک میں دم آنا بیزار ہونے کے معنی پر ہے ، یہاں دوسرے معنی مقصود ہیں اور پہلے معنی کی طرف ابہام کیا ہے۔
_______
سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کیا
اس شعر میں عشق کو برق اور ہستی و خرمن سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں رہن عشق بھی ہوں اور جان بھی عزیز ہے میری دہائی ہے جیسے کوئی آتش پرست برق کی پرستش بھی کرے اور خرمن کے جل جانے کا افسوس بھی کرے ، پہلے مصرع میں فعل ’ ہوں ، محذوف ہے حاصل کے معنی خرمن۔ ناگزیر اُلفتِ ہستی ہوں یعنی جان کو عزیز رکھنے پر مجبور ہوں جس طرح یہ کہتے ہیں کہ فلاں امر ناگزیر ہے یعنی ضرور ہے اسی طرح فارسی میں یوں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص ارفلانِ ناگزیر است۔
بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
ساحل کی تشنگی مشہور ہے اور اس کا کج دوا کج ہونا خمیازہ کی صورت پیدا کرتا ہے اور خمیازہ خمار کی علامت ہے مطلب یہ ہے کہ شراب پلانے میں جس قدر تیرا حوصلہ بڑھا ہوا ہے پینے میں اُسی قدر میرا ظرف بڑھا ہوا ہے۔