--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
--
جزاک اللہ جزاک اللہ
سلامت رہیے جناب والا
"آپ اتنے دن بعد حج سے واپس کیوں آئے ہیں ? " مولانا نے اس صاحب سے دریافت کیا
وہ صاحب بولے: " حضرت، جب شمع جل رہی ہو تو پروانہ اندھیرے کی طرف کیسے جائے "
مولانا بپھر گئے، ضبط کھو بیٹھے، ڈپٹ کر کہا : " سالے! تو یوں کروں، اس کا مطلب ہے کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں، تُو قرض لے کر روشنی میں گیا تھا
نکل یہاں سے تیری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔""
وہ صاحب جوتیاں چھوڑ کر بھاگے۔
--------
تقسیم ہند کے بعد مولانا عبدالسلام نیازی کے کئی دوست پاکستان چلے گئے۔ جوش ملیح آبادی جانے سے پہلے ان سے ملنے گئے لیکن اس مرتبہ مولانا نے انہیں بھی بے نقط کی سنائیں۔ دلی کا یہ روڑہ گھر تک محدود ہوکر رہ گیا۔ بلاآخر 30 جون 1966 کو چند دن بیمار رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔
--
جامع مسجد دہلی کے پاس ایک کتب خانہ ہے کتب خانہ عزیزیہ ۔ اس کے مالک تھے مولوی عبد السمیع ، یہ کتب خانہ داراصل آزادی سے قبل اور بعد اہل علم کا مرکز ہوا کرتا تھا ،بیخود دہلوی مولانا عبد السلام نیازی وغیرہ یہاں پابندی سے آیا جایا کرتے تھے ، ماہر القادری مرحوم نے اس کا تذکرہ بار ہا کیا ہے ، مولانا عبد السمیع کے فرزند ہیں ، مولانا عبد السلام ، ان سے ملاقات ہوئے کافی عرصہ گذرگیا ، چونکہ ہمارے لئے دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہے ، لہذا ان کے حال احوال کا کچھ پتا نہیں ہے ، اگر ان سے ربط ہوجائے تو دلی کے پرانے لوگوں کے سلسلے میں کافی معلومات مل سکتی ہیں ۔عبد المتین منیری
نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ
Abdul Mateen Muniri
Skype ID:ammuniri
2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
کچھ عرصہ قبل راقم کو ایک اہم و دلچسپ کتاب ملی، یہ سید مقصود زاہدی کے خاکوں کی کتاب "یادوں کے سائے" ہے۔ 1976 میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی مرحوم کا خاکہ ہے۔ راقم ان بزرگ پر لکھی تحریروں کو جمع کررہا ہے اور اس سلسلے میں مدد کی ایک درخواست پہلی بھی کرچکا ہے خاص کر ہندوستانی احباب سے لیکن کسی جانب سے جواب نہ آیا۔دلی میں قیام پذیر احباب اگر مولوی صاحب کے بارے میں کچھ بتاسکیں کہ ان کی تدفین کہاں ہوئی تھی ? شاید وفیات کی کسی کتاب سے معلومات مل جائیں۔یہ وہی مولوی عبدالسلام نیازی ہیں جس کا تذکرہ جوش نے یادوں کی برات میں کیا ہے، اخلاق دہلوی نے اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔ خلیق انجم اور اسلم پرویز نے اپنی کتابوں میں خاکے لکھے ہیں اور شاہد احمد دہلوی نے اجڑا دیار میں تذکرہ لکھا ہے۔ اجڑا دیار میں تو شاہد دہلوی مرحوم نے مولوی صاحب کی ایک تصویر بھی شائع کی تھی جو بعد کے ایڈیشنز سے حذف کردی گئی تھی:۔عنقریب یہ تمام تحریریں یکجا کرکے پیش کی جائیں گی، دریں اثناء مزید کچھ تحریریں یا تحریر مل جائے تو اچھا ہو۔ مقصود زاہدی کی "یادوں کے سائے" میں مولوی صاحب کے خاکے کا تو کیا ہی کہنا ہے، تحریر کا حق ادا کردیا ہے۔ مولوی صاحب پر لکھنے والے مذکورہ بالا حضرات کی تحریروں میں کہیں کہیں جو مبالغہ آرائی ہے، مقصود زاہدی نے اس کا ازالہ و تصحیح بھی کی ہے۔مولوی عبدالسلام نیازی ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ کچھ عرصہ پیشتر راقم، معروف صحافی و ادیب قاضی اختر جونا گڑھی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ معراج جامی صاحب بھی موجود تھے۔ مولوی صاحب کا ذکر نکلا تو قاضی صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ کہنے لگے "بھئی! یہ بھی کمال کے بزرگ ہیں۔ حیرت یوں ہوتی ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد، کچھ برس بعد ان کا ذکر کہیں نہ کہیں نکل آتا ہے۔ کسی تحریر میں، کسی محفل میں۔ اب دیکھیے اس وقت بھی آپ مولوی صاحب پر لکھی تحریروں کے حوالوں پر حوالے دیے چلے جارہے ہیں اور ان میں سے اکثر سے میں لاعلم ہوں۔ آپ ان پر لکھی تحریروں کو جمع کیجیے۔ یہ ایک اہم کام ہوجائے گا۔
"تو صاحبو! یہ ہے معاملہ۔ مدد کی درخواست ہے۔راشد اشرف
کراچی سے
--
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM