دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی-ایک درخواست

182 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 1:45:49 AM10/2/13
to bazme...@googlegroups.com


کچھ عرصہ قبل راقم کو ایک اہم و دلچسپ کتاب ملی، یہ سید مقصود زاہدی کے خاکوں کی کتاب "یادوں کے سائے" ہے۔ 1976 میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی مرحوم کا خاکہ ہے۔ راقم ان بزرگ پر لکھی تحریروں کو جمع کررہا ہے اور اس سلسلے میں مدد کی ایک درخواست پہلی بھی کرچکا ہے خاص کر ہندوستانی احباب سے لیکن کسی جانب سے جواب نہ آیا۔
 
دلی میں قیام پذیر احباب اگر مولوی صاحب کے بارے میں کچھ بتاسکیں کہ ان کی تدفین کہاں ہوئی تھی ? شاید وفیات کی کسی کتاب سے معلومات مل جائیں۔
 
یہ وہی مولوی عبدالسلام نیازی ہیں جس کا تذکرہ جوش نے یادوں کی برات میں کیا ہے، اخلاق دہلوی نے اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔ خلیق انجم اور اسلم پرویز نے اپنی کتابوں میں خاکے لکھے ہیں اور شاہد احمد دہلوی نے اجڑا دیار میں تذکرہ لکھا ہے۔ اجڑا دیار میں تو شاہد دہلوی مرحوم نے مولوی صاحب کی ایک تصویر بھی شائع کی تھی جو بعد کے ایڈیشنز سے حذف کردی گئی تھی:۔
 
 
عنقریب یہ تمام تحریریں یکجا کرکے پیش کی جائیں گی، دریں اثناء مزید کچھ تحریریں یا تحریر مل جائے تو اچھا ہو۔ مقصود زاہدی کی "یادوں کے سائے" میں مولوی صاحب کے خاکے کا تو کیا ہی کہنا ہے، تحریر کا حق ادا کردیا ہے۔ مولوی صاحب پر لکھنے والے مذکورہ بالا حضرات کی تحریروں میں کہیں کہیں جو مبالغہ آرائی ہے، مقصود زاہدی نے اس کا ازالہ و تصحیح بھی کی ہے۔
    
مولوی عبدالسلام نیازی ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ کچھ عرصہ پیشتر راقم، معروف صحافی و ادیب قاضی اختر جونا گڑھی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ معراج جامی صاحب بھی موجود تھے۔ مولوی صاحب کا ذکر نکلا تو قاضی صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ کہنے لگے "بھئی! یہ بھی کمال کے بزرگ ہیں۔ حیرت یوں ہوتی ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد، کچھ برس بعد ان کا ذکر کہیں نہ کہیں نکل آتا ہے۔ کسی تحریر میں، کسی محفل میں۔ اب دیکھیے اس وقت بھی آپ مولوی صاحب پر لکھی تحریروں کے حوالوں پر حوالے دیے چلے جارہے ہیں اور ان میں سے اکثر سے میں لاعلم ہوں۔ آپ ان پر لکھی تحریروں کو جمع کیجیے۔ یہ ایک اہم کام ہوجائے گا۔
"
تو صاحبو! یہ ہے معاملہ۔ مدد کی درخواست ہے۔
 
راشد اشرف
کراچی سے
 


zaheer uddin danish

unread,
Oct 2, 2013, 1:53:07 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
انشائ اللہ 
راشد بھائی مجھ سے جو مدد ہوسکتی ہے کرنے کے لئے تیار ہوں۔اپنے قریبی کتب خانوں میں تلاش کروںگا ان کے حوالے سے اگرکوئی کتاب یامضـمون ملتا ہے تو آپ کو فوری روانہ کردوںگا 
فقط 
آپ کا بھائی 
ظہیردانش 
حیدرآبادسے 

Shahji

unread,
Oct 2, 2013, 2:04:27 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
راشد آشرف صاحب،

بعد السلام، بہت بہت مبارک ہو کہ آپ نے مولوی عبد السلام نیازی صاحب پر مواد جمع کرنے کا قصد کیا ہے۔  گذرگاہِ خیال فورم میں بھی اپنی بات رکھئے وہان محترم محسن نقوی اور اب یہاں اقبال شیخ صاحب جیسے ادب نواز لوگ ہیں۔  یہ مسج لکھنے سے پہلے میں نے بھی ایک  ادب نواز اور بزلہ سنج ہستی جو ہمارے یہاں ہے، محترم مکرم خان صاحب جو علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سے ہیں اور اب اس جامعہ میں زائد از دو دہائیوں سے کام کر رہے ہیں کال کیا لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔  قوی امکان ہے کہ کوئی نہ کوئی کارآمد مواد مل ہی جائے گا، انشاء اللہ۔ رابطہ ہونے اور کوئی مواد کی امید ہوئی تو اطلاع ضرور دوں گا۔

خیر اندیش
سید منصور شاہ


2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Abdul Mateen Muniri

unread,
Oct 2, 2013, 2:05:22 AM10/2/13
to Bazm e Qalam
جامع مسجد دہلی کے پاس ایک کتب خانہ ہے کتب خانہ عزیزیہ ۔ اس کے مالک تھے مولوی عبد السمیع ، یہ کتب خانہ داراصل آزادی سے قبل اور بعد اہل علم کا مرکز ہوا کرتا تھا ،بیخود دہلوی مولانا عبد السلام نیازی وغیرہ یہاں پابندی سے آیا جایا کرتے تھے ، ماہر القادری مرحوم نے اس کا تذکرہ بار ہا کیا ہے ، مولانا عبد السمیع کے فرزند ہیں ، مولانا عبد السلام  ، ان سے ملاقات ہوئے کافی عرصہ گذرگیا ، چونکہ ہمارے لئے دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہے ، لہذا ان کے حال احوال کا کچھ پتا نہیں ہے ، اگر ان سے ربط ہوجائے تو دلی کے پرانے لوگوں کے سلسلے میں کافی معلومات مل سکتی ہیں ۔
عبد المتین منیری

  نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ

Abdul Mateen Muniri
Skype ID:ammuniri



2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
--

Abdul Mateen Muniri

unread,
Oct 2, 2013, 2:06:49 AM10/2/13
to Bazm e Qalam
کیا مقصود زاہدی کا کالم  یادوں کے سائے مل سکتا ہے ۔
عبد المتین منیری

  نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ

Abdul Mateen Muniri
Skype ID:ammuniri



2013/10/2 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 2:13:05 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, zahee...@yahoo.com


جزاک اللہ جزاک اللہ
سلامت رہیے جناب والا

راقم 8 اپریل 2012 کو سپرد قلم کیے گئے اپنے ایک مضمون کو آپ کے اور بزم کے احباب کے لیے قند مکرر کے طور پر یہاں درج کررہا ہے، امید ہے اس کی مدد سے مولوی عبدالسلام نیازی مرحوم کی زندگی کے چند گوشے ان پڑھنے والوں پر بے نقاب ہوں گے جو اس بارے میں زیادہ واقفیت نہیں رکھتے
 
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
 
---------------------
دو روز قبل شاہد احمد دہلوی کے دلی کی نابغہ روزگار شخصیٰت مولانا عبدالسلام نیازی پر لکھے خاکے کی طلب ہوئی، اور اتفاق دیکھیے کہ شاہد دہلوی کی کتاب اجڑا دیار ایک ایسے کتب فروش کے پاس کتابوں کے ڈھیر میں پڑی ملی جہاں "ہر مال بیس روپیہ" کی آوازیں لگائی جارہی تھیں۔مولانا عبدالسلام نیازی کا خاکہ کتاب مذکورہ میں موجود ہے، مولانا کی ایک نادر تصویر بھی کتاب میں شامل ہے، اس سے قبل ہمیں مولانا کی کوئی تصویر دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ روڑہ دلی کا ہو اور مولانا کے تذکرے کے بغیر آگے بڑھ جائے ، یہ ناممکن ہے۔
شاہد دہلوی کے علاوہ اخلاق احمد دہلوی نے بھی اپنی خودنوشت ’یادوں کا سفر‘میں مولانا عبدالسلام نیازی کا ذکر کیا ہے۔
 
نوعمری کا زمانہ تھا، اخلاق احمد دہلوی اپنے والد کے ہمراہ مولانا کے پاس پڑھنے کی غرض سے تھر تھر کانپتے ہوئے پہنچے۔ لطف کی بات یہ تھی کہ ان کے والد بھی خوف سے کانپ رہے تھے۔ بقول اخلاق دہلوی یہ وہ بزرگ تھے جن کے سامنے مفتی اعظم ہند مولوی کفایت اللہ کا پتہ بھی پانی ہوتا تھا ۔
سراکبر حیدری نظام حیدرآباد کا کوئی پیغام لے کر مولانا سے ملاقات کی خاطر ان کے مکان کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے کہ مولانا کی پاٹ دار آواز آئی
کون ہے ؟
اکبر حیدری نے اپنا نام اور مقام بتایا۔
مولانا نے جواب دیا: بس، آپ کی خدمت میں مولوی عبدالسلام کے کوٹھے کی یہ تین سیڑھیاں ہی لکھی تھیں۔ چوتھی سیڑھی پر قدم نہ رکھنا اور اپنے رئیس سے کہنا کہ اگر اس کی ساری دولت ایک پلڑے میں ترازو کے رکھ دی جائے اور دوسرے حصے میں ہمارے جسم کا کوئی رواں ، تو ترازو کا یہ پلڑا زمین پر لٹکا رہے گا اور پہلا پلڑا معلق رہے گا۔ خدا خوش رکھے۔۔خدا خوش رکھے۔
سر اکبر حیدری مایوس واپس لوٹ گئے!
 
کچھ ایسا ہی اخلاق احمد دہلوی کے ساتھ بھی ہوا۔
 
مولانا عبدالسلام نیازی نے اخلاق دہلوی کے والد سے پوچھا ۔اچھا، خدا خوش رکھے، تو یہ وہی صاحبزادے ہیں آپ کے جو مفتی صاحب سے فقہ پڑھنے میں ان کا ناطقہ بند اور قافیہ تنگ کرتے رہے ۔ یہ کہہ کر مولانا نے اخلاق دہلوی کی جانب دیکھا اور کہا: خدا آپ کو علم کا پہاڑ بنا دے، ماشاءاللہ، خدا خوش رکھے ۔بس جائیے اور اپنے والد کو بھی اپنے ساتھ لے جائیے۔
ایسی کیا بات تھی کہ ایک عالم مولانا سے ملاقات کا متمنی رہتا تھا۔ جوش ملیح آبادی نے بھی یادوں کی برات میں مولانا عبدالسلام نیازی کا ذکر کیا ہے۔
 
" وہ مشرقی علوم کے حرف آخر انسان اور شہنشاہ تھے۔ قران، حدیث، منطق، حکمت، تصوف، عروض، معنی و بیان، علم الکلام، تاریخ، تفسیر، لغت، لسانی فوائد، ادب اور شاعری کے امام تھے۔ جید عالم ہونے کے باوجود علمائے سو کے تشابہ سے بچنے کے لیے انہوں نے داڑھی مونچھ کا صفایا کردیا تھا۔ وہ تصوف و حسن پرستی کے متوالے، اور اپنے عہد شباب میں تمام اولیائے ہند کے مزارات کے چکر لگاتے، اور اپنی محبوبہ کو ساتھ لے کر تمام عرسوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ اس قدر سختی کہ ساتھ خلوت پسند اور خودنشیں ہوگئے تھے کہ تقریبا بائیس برس کی مدت میں، وہ اپنے دہلی کے ترکمان دروازے کی پتلی سی گلی کے بالا خانے سے کبھی ایک بار بھی نیچے نہیں اترے تھے۔
 ""
اپنی اس متشددانہ طبیعت کی بنا پر مولانا کے رویے بھی اسی جیسے ہوگئے تھے۔ جوش اکثر ان سے ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، مولانا نے جوش کو حکم دے رکھا تھا کہ خبردار! جب تک کہ کوئی شخص حسین یا عالم نہ ہو، میرے پاس ہرگز مت لے کر آنا۔ جوش ایک مرتبہ اپنے ہمراہ ساغر نظامی کو لے گئے۔ مولانا خوش ہوئے اور فرمایا:
"اچھی چیز لائے ہو "
جوش ملیح آبادی نے مولانا عبدالسلام نیازی کے بیان میں جو باتیں مذکورہ بالا بیان کے علاوہ لکھی ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ یہاں نقل کی جاسکیں ۔ ۔ "خوف فساد خلق" کا خدشہ لاحق ہے۔ جن احباب کو یقیں نہ آئے، یادوں کی برات کا مطالعہ کرلیں۔
 
ایک مرتبہ جوش مولانا عبدالسلام نیازی کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک وردی پوش نے آکر کہا کہ نیچے ہزہائی نیس فلاں فلاں کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ اجازت دیں تو حاضر ہوں۔
مولانا نے کہا کہ اگر وہ میرے سامنے آکر یہ کہیں کہ میرے تاج سے عبدالسلام کی جوتی اونچی ہے تو شوق سے آئیں ورنہ گاڑی بڑھا دیں۔
"ہزہائی نیس" سمجھدار تھے، اوپر آئے اور مولانا کے پاس بیٹھ کر نہایت ادب سے باتیں کیا کیے۔

حیدرآباد کے وزیر تعلیم نواب مہدی یار جنگ، مولانا کے کوٹھے سے نیچے اتر رہے تھے کہ جوش سے ملاقات ہوئی۔ جوش نے کہا حضرت خیریت، آپ یہاں۔
نواب صاحب نے کہا کہ خواجہ حسن نظامی نے مجھے مولانا عبدالسلام نیازی کے پاس بھیج کر ذلیل کروا دیا۔ جوش حیران ہوکر سیڑھیاں چڑھے اور مولانا سے قصہ دریافت کیا۔ مولانا کا جواب ملاحظہ کیجیے:
" مہدی یار جنگ نے جب مجھ سے یہ کہا کہ میں آپ کو حضور نظام سے ملواؤں گا، آپ میرے ساتھ حیدرآباد چلیے، وہ آپ کا وظیفہ مقرر کردیں گے تو میرا ناریل چٹخ گیا اور میں نے اسے کہا کہ آپ کے نزدیک کیا یہ بات ممکن ہے کہ میں اس جاہل نظام کے سامنے، اپنی وجاہت علمی کی کمر میں، ذلت کی پیٹی باندھ کر جاؤں اور اس مسخرے کو خداوند نعمت اور اپنے آپ کو فدوی کہوں ? "
جوش نے اس کے بعد جو کچھ لکھا ہے اسے یہاں نقل کرنے کی تاب راقم میں نہیں ہے۔
 
یہ جرات تو ڈاکٹر خلیق انجم بھی نہیں کرسکے جنہوں نے 2008 میں خاکوں کی کتاب "مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا" میں مولانا عبدالسلام نیازی کا خاکہ لکھا تھا۔
 
خلیق انجم لکھتے ہیں کہ اس کے بعد مولانا نے نظام حیدرآباد کی شان میں کو قصیدہ پڑھا میں اسے یہاں نقل نہیں کرسکتا، آپ خود ہی یادوں کی برات میں پڑھ لیجیے۔ (مولانا عبدالسلام نیازی ، صفحہ 208، مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، انجمن ترقی اردو ہند )
 
خلیق انجم کے تحریر کردہ خاکے میں کئی دلچسپ باتیں ہیں۔ ہم نے بین السطور جوش ملیح آبادی کی یادوں کی برات میں درج خاکے سے یہ اقتباس نقل کیا تھا کہ:
"وہ تصوف و حسن پرستی کے متوالے، اور اپنے عہد شباب میں تمام اولیائے ہند کے مزارات کے چکر لگاتے، اور اپنی محبوبہ کو ساتھ لے کر تمام عرسوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔
 "
خلیق انجم کی تحریر سے اس پر مزید روشنی پڑتی ہے، وہ لکھتے ہیں:
"
جے پور کی دو "گانے والیاں" تھیں، ببو اور گوہر۔ مولانا ان دونوں کے گانے کے مداح اور اور حسن کے شیدائی تھے۔ جے پور کی ایک اور گانے والی تھیں، اس کا نام بے نظیر تھا، مولانا کو ان سے عشق تھا۔ اکثر مزاروں پر اس محبوبہ کے ساتھ جاتے تھے، جوش نے یادوں کی برات میں اسی کا ذکر کیا ہے۔""
(صفحہ 203)
مولانا عبدالسلام نیازی کو ایک مرتبہ ہندو مذہب کے مطالعے کا شوق ہوا۔ اس موضوع ہر بہت سی کتابیں پڑھیں لیکن تسلی نہیں ہوئی۔ بلاآخر ہندؤں کا بھیس بدل ہری دوار کی راہ لی، بارہ برس ہری دوار، لکشمی جھولا اور رشی کیش میں رہے۔ ہندو سادھوں کی طرح سمادھی لگاتے تھے۔ ایک روز انہیں خیال آیا کہ مجھے اتنے برس ہوچکے ہیں ان لوگوں کے ساتھ رہتے رہتے، اب تک نہیں پہچان سکے کہ میں مسلمان ہوں، جب یہ لوگ مجھے نہیں پہچان سکے تو خدا کو کیا پہچانیں گے ?
اسی شام کو مولانا جنگل سے گزر رہے تھے۔ جھٹ پٹے کا وقت تھا۔ دیکھا کہ سادھو سامنے سے چلا آرہا ہے۔ اس جنگل میں سادھو کو دیکھ کر مولانا حیرت میں پڑ گئے اور ایک درخت کی آڑ میں چھپ گئے۔ جب وہ آگے نکل گیا تو مولانا اس کے پیچھے چلے، تھوڑی دور پر ایک جھونپڑی تھی۔ سادھو اس جھونپڑی میں چلا گیا۔ مولانا باہر چُھپے کھڑے رہے۔ انہیں پھر یہ خیال آیا کہ جب یہ لوگ مجھے نہیں پہچانتے تو خدا کو کیا پہچانیں گے۔ اچانک جھونپڑی میں سے سادھو کی آواز آئی، عبدالسلام! چھپو نہیں، آجاؤ۔ مولانا اپنا نام سن کر خائف ہوگئے اور بے اختیار ان کے قدم اس جانب اٹھ گئے۔ جھونپڑی میں داخل ہوئے تو سادھو نے کہا کہ تم بے وجہ پریشان ہورہے ہو، ہم نے دس گیارہ سال پہلے جب تمہیں دیکھا تھا، اسی وقت پہچان گئے تھے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ تم دہلی واپس چلے جاؤ، وہاں خلق خدا کی زیادہ خدمت کرسکو گے۔
مولانا دہلی واپس لوٹ گئے!
 
مولانا کا مزاج ایسا تھا کہ اچھے اچھوں کو بے طرح جھڑک دیا کرتے تھے۔ ایک عالم ان کے پاس اکتساب علم کے حصول کی غرض سے آنے کا خواہشمند رہتا تھا۔ مسائل دریافت کرنے والے اس پر مستزاد۔
 
ایک صاحب حج سے واپس آئے تو مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کسی نے مولانا کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ ان صاحب کی دو غیر شادہ شدہ لڑکیاں گھر بیٹھی ہیں، بہت کم آمدنی ہے پھر بھی قرض لے کر حج پر گئے ہیں۔ یہ سن کر مولانا بھڑک ہی تو گئے۔

"آپ اتنے دن بعد حج سے واپس کیوں آئے ہیں ? " مولانا نے اس صاحب سے دریافت کیا
وہ صاحب بولے: " حضرت، جب شمع جل رہی ہو تو پروانہ اندھیرے کی طرف کیسے جائے "
مولانا بپھر گئے، ضبط کھو بیٹھے، ڈپٹ کر کہا : " سالے! تو یوں کروں، اس کا مطلب ہے کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں، تُو قرض لے کر روشنی میں گیا تھا
نکل یہاں سے تیری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔""
وہ صاحب جوتیاں چھوڑ کر بھاگے۔
--------
تقسیم ہند کے بعد مولانا عبدالسلام نیازی کے کئی دوست پاکستان چلے گئے۔ جوش ملیح آبادی جانے سے پہلے ان سے ملنے گئے لیکن اس مرتبہ مولانا نے انہیں بھی بے نقط کی سنائیں۔ دلی کا یہ روڑہ گھر تک محدود ہوکر رہ گیا۔ بلاآخر 30 جون 1966 کو چند دن بیمار رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔  



 

2013/10/2 zaheer uddin danish <zahee...@yahoo.com>

--

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 2:15:56 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, ammu...@gmail.com
بہت بہتر ہے متین صاحب
پیش رفت کا انتظار رہے گا۔

راشد

On 10/2/13, Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com> wrote:
> جامع مسجد دہلی کے پاس ایک کتب خانہ ہے کتب خانہ عزیزیہ ۔ اس کے مالک تھے
> مولوی عبد السمیع ، یہ کتب خانہ داراصل آزادی سے قبل اور بعد اہل علم کا مرکز
> ہوا کرتا تھا ،بیخود دہلوی مولانا عبد السلام نیازی وغیرہ یہاں پابندی سے آیا
> جایا کرتے تھے ، ماہر القادری مرحوم نے اس کا تذکرہ بار ہا کیا ہے ، مولانا
> عبد السمیع کے فرزند ہیں ، مولانا عبد السلام ، ان سے ملاقات ہوئے کافی عرصہ
> گذرگیا ، چونکہ ہمارے لئے دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہے ، لہذا ان کے حال
> احوال کا کچھ پتا نہیں ہے ، اگر ان سے ربط ہوجائے تو دلی کے پرانے لوگوں کے
> سلسلے میں کافی معلومات مل سکتی ہیں ۔
> عبد المتین منیری
>
> * نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ*
> *www.urduaudio.com + www.b <http://www.urduaudio.com>hatkaltv.com*
> *
> *
> *Abdul Mateen Muniri*

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 2:19:55 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, ammu...@gmail.com
جناب متین صاحب

یادوں کے سائے، کوشش ہوگی کہ مکمل کتاب ہی پیش کرسکوں۔ خاصے کی چیز ہے۔
میں تو اسے پڑھ کر دنگ رہ گیا، 76ء میں شائع ہوئی اور وہ بھی شہر ملتان
سے۔ اس سے قبل تو ہم لاعلم ہی تھے۔ جن شخصیات کے خاکے اس میں شامل ہیں وہ
یہ ہیں:
مولوی عبدالحق
اقبال
ظفر علی خان
حسرت موہانی
یلدرم
ڈاکٹر عابد حسین
آغا طاہر نبیرہ آزاد
نیاز فتح پوری
مجید امجد
ناصر کاظمی
آغا اعجاز اکرم

مذکورہ کتاب سے مولوی صاحب کا خاکہ تو ان تمام تحریروں کا لازمی حصہ بنے
گا جو خاکسار کے پاس موجود ہیں۔ اک ذرا انتظار۔

راشد


On 10/2/13, Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com> wrote:
> کیا مقصود زاہدی کا کالم یادوں کے سائے مل سکتا ہے ۔
> عبد المتین منیری
>
> * نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ*
> *www.urduaudio.com + www.b <http://www.urduaudio.com>hatkaltv.com*
> *
> *
> *Abdul Mateen Muniri*
> Skype ID:ammuniri
>
>
>
> 2013/10/2 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
>
>> جامع مسجد دہلی کے پاس ایک کتب خانہ ہے کتب خانہ عزیزیہ ۔ اس کے مالک تھے
>> مولوی عبد السمیع ، یہ کتب خانہ داراصل آزادی سے قبل اور بعد اہل علم کا
>> مرکز
>> ہوا کرتا تھا ،بیخود دہلوی مولانا عبد السلام نیازی وغیرہ یہاں پابندی سے
>> آیا
>> جایا کرتے تھے ، ماہر القادری مرحوم نے اس کا تذکرہ بار ہا کیا ہے ، مولانا
>> عبد السمیع کے فرزند ہیں ، مولانا عبد السلام ، ان سے ملاقات ہوئے کافی
>> عرصہ
>> گذرگیا ، چونکہ ہمارے لئے دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہے ، لہذا ان کے حال
>> احوال کا کچھ پتا نہیں ہے ، اگر ان سے ربط ہوجائے تو دلی کے پرانے لوگوں کے
>> سلسلے میں کافی معلومات مل سکتی ہیں ۔
>> عبد المتین منیری
>>
>> * نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ*
>> *www.urduaudio.com + www.b <http://www.urduaudio.com>hatkaltv.com*
>> *
>> *
>> *Abdul Mateen Muniri*

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 2:26:35 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, shah...@gmail.com
محترم منصور صاحب
وعلیکم السلام


گذرگاہِ خیال فورم کا رکن نہیں ہوں، آپ یہاں سے مواد وہاں بھیج سکتے ہیں۔

آپ نے مکرم خان صاحب سے رابطہ کیا، اللہ آپ کو خوش رکھے۔ اسی نوعیت کی
مدد کا خواستگار ہوں۔ کتنی ہی ایسی شخصیات رہی ہوں گی جو مولوی صاحب کے
بارے میں جانتی ہوں گی۔ دلی کے کوئی کرم فرما شاید یہ بھی بتاسکیں کہ کیا
مولوی صاحب پر کوئی تحقیقی کام بھی ہوا ہے ?

آپ نے لکھا:
" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے مولوی عبد السلام نیازی صاحب پر مواد جمع کرنے کا قصد کیا ہے۔"

عرض کروں کہ جن کتابوں/خودنوشتوں کا حوالہ میں نے تحریر میں دیا ہے، وہ
تمام کی تمام میرے پاس موجود ہیں۔ یعنی جوش، اخلاق دہلوی، شاہد دہلوی،
خلیق انجم اور اسلم پرویز صاحبان کی کتب جن میں مولوی صاحب پر گراں قدر
مواد موجود ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کرچکا ہوں، مقصود زاہدی صاحب کی "یادوں
کے سائے" میں شامل مولوی صاحب کا خاکہ ایک جداگانہ حیثیت کا حامل ہے۔

"یادوں کے سائے" ان کتابوں میں سے ہے جنہیں پڑھ کر راقم کو انہیں بذریعہ
انٹرنیٹ، دنیا کے سامنے پیش کرنے کی دھن سوار ہوجاتی ہے۔ سو جلد ہی انشاء
اللہ۔

راشد

Syed Ahmed

unread,
Oct 2, 2013, 3:58:31 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب عالی منیری صاحب          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ مزاج گرامی بخیر وعافیت ہوں گے، جناب عبد السلام صاحب سے متعلق مجھے بھی معلومات درکار ہیں، جناب عبد السلام صاحب سے احقر کے روابط دیرینہ یا یوں کہ لیجئے کہ یہ روابط بہت قدیم، خاندانی اورموروثی جیسے ہیں، لیکن ادھر چند سالوں سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، اس
ضمن میں ایک قصّہ پیش کئے دیتا ہوں کہ احقر جب سنہ 1982ء میں سعودی عرب آر رہا تھا تو انہوں نے مجھ سے ایک سوال بسبیل تفنن کیا تھا کہ
آپ یہ بتائیے کہ اسلامی ارکان کتنے ہیں، میں بڑا متحیر ہوا اور کچھ جواب نہ بن بڑنے سے انہوں نے پھر سوال دہرایا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ
یہ تو ایک ادنی مسلمان بھی جانتا ہے کہنے لگے کہ نہیں آپ بتائیے کہ کتنے تو ان کے اصرار پر میں نے جب متردد انداز میں انگلیوں سے پانچ کا اشارہ
دیا تو انہوں نے نفی کرتے ہوئے پھر اسرارانہ انداز میں کہا بھائی سعودی عرب میں ارکان اسلام چھ عدد ہیں، میں نے اپنے ہوش سنبھالتے ہوئے دریافت
 کیا تو کہنے لگے کہ چھٹا رکن اقامہ ہے، سوتے جاگتے اپنے سے جدا نہ کرنا۔ میں بھی ان کی تلاش میں تقریبا ایک سال قبل ان کے کتب خانہ کے دو
پھیرے لگا آیا، بس جو صاحب بیٹھے تھے انہوں نے گول مول سا جواب دیا اور علالت کی خبر دی، بہر اللہ سے دعاء ہے کہ بخیر وعافیت ہوں، تس لئے التماس ہے کہ اگر آپ کو ان سے متعلق کچھ معلومات مل جائیں تو احقر کو بھی مطلع فرما دیں، ممنون رہوں گا۔
طالب روابط دوستاں
سید احمد
چہار شنبہ
26-11-1434ھ
2-10-2013
From: Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
To: Bazm e Qalam <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, October 2, 2013 9:06 AM
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:28378] دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی-ایک درخواست

کیا مقصود زاہدی کا کالم  یادوں کے سائے مل سکتا ہے ۔
عبد المتین منیری
  نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ

Abdul Mateen Muniri
Skype ID:ammuniri

2013/10/2 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
جامع مسجد دہلی کے پاس ایک کتب خانہ ہے کتب خانہ عزیزیہ ۔ اس کے مالک تھے مولوی عبد السمیع ، یہ کتب خانہ داراصل آزادی سے قبل اور بعد اہل علم کا مرکز ہوا کرتا تھا ،بیخود دہلوی مولانا عبد السلام نیازی وغیرہ یہاں پابندی سے آیا جایا کرتے تھے ، ماہر القادری مرحوم نے اس کا تذکرہ بار ہا کیا ہے ، مولانا عبد السمیع کے فرزند ہیں ، مولانا عبد السلام  ، ان سے ملاقات ہوئے کافی عرصہ گذرگیا ، چونکہ ہمارے لئے دلی ہنوز دور است والا معاملہ ہے ، لہذا ان کے حال احوال کا کچھ پتا نہیں ہے ، اگر ان سے ربط ہوجائے تو دلی کے پرانے لوگوں کے سلسلے میں کافی معلومات مل سکتی ہیں ۔
عبد المتین منیری
  نادر تقاریر اور شعر وسخن کے آڈہو اور وہڈیو کا منفرد ویب سائٹ

Abdul Mateen Muniri
Skype ID:ammuniri



2013/10/2 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>


کچھ عرصہ قبل راقم کو ایک اہم و دلچسپ کتاب ملی، یہ سید مقصود زاہدی کے خاکوں کی کتاب "یادوں کے سائے" ہے۔ 1976 میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی مرحوم کا خاکہ ہے۔ راقم ان بزرگ پر لکھی تحریروں کو جمع کررہا ہے اور اس سلسلے میں مدد کی ایک درخواست پہلی بھی کرچکا ہے خاص کر ہندوستانی احباب سے لیکن کسی جانب سے جواب نہ آیا۔
 
دلی میں قیام پذیر احباب اگر مولوی صاحب کے بارے میں کچھ بتاسکیں کہ ان کی تدفین کہاں ہوئی تھی ? شاید وفیات کی کسی کتاب سے معلومات مل جائیں۔
 
یہ وہی مولوی عبدالسلام نیازی ہیں جس کا تذکرہ جوش نے یادوں کی برات میں کیا ہے، اخلاق دہلوی نے اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔ خلیق انجم اور اسلم پرویز نے اپنی کتابوں میں خاکے لکھے ہیں اور شاہد احمد دہلوی نے اجڑا دیار میں تذکرہ لکھا ہے۔ اجڑا دیار میں تو شاہد دہلوی مرحوم نے مولوی صاحب کی ایک تصویر بھی شائع کی تھی جو بعد کے ایڈیشنز سے حذف کردی گئی تھی:۔
 
 
عنقریب یہ تمام تحریریں یکجا کرکے پیش کی جائیں گی، دریں اثناء مزید کچھ تحریریں یا تحریر مل جائے تو اچھا ہو۔ مقصود زاہدی کی "یادوں کے سائے" میں مولوی صاحب کے خاکے کا تو کیا ہی کہنا ہے، تحریر کا حق ادا کردیا ہے۔ مولوی صاحب پر لکھنے والے مذکورہ بالا حضرات کی تحریروں میں کہیں کہیں جو مبالغہ آرائی ہے، مقصود زاہدی نے اس کا ازالہ و تصحیح بھی کی ہے۔
    
مولوی عبدالسلام نیازی ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ کچھ عرصہ پیشتر راقم، معروف صحافی و ادیب قاضی اختر جونا گڑھی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ معراج جامی صاحب بھی موجود تھے۔ مولوی صاحب کا ذکر نکلا تو قاضی صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ کہنے لگے "بھئی! یہ بھی کمال کے بزرگ ہیں۔ حیرت یوں ہوتی ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد، کچھ برس بعد ان کا ذکر کہیں نہ کہیں نکل آتا ہے۔ کسی تحریر میں، کسی محفل میں۔ اب دیکھیے اس وقت بھی آپ مولوی صاحب پر لکھی تحریروں کے حوالوں پر حوالے دیے چلے جارہے ہیں اور ان میں سے اکثر سے میں لاعلم ہوں۔ آپ ان پر لکھی تحریروں کو جمع کیجیے۔ یہ ایک اہم کام ہوجائے گا۔
"
تو صاحبو! یہ ہے معاملہ۔ مدد کی درخواست ہے۔
 
راشد اشرف
کراچی سے
 


--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

abdulhayee abid

unread,
Oct 2, 2013, 5:37:51 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, zest...@gmail.com
السلام علیکم
مکرمی راشد اشرف
 مولانا عبدالسلام نیازی کا ذکر سید ابوالاعلیٰ مودودی کے اساتذہ کی فہرست میں بھی موجود ہے۔ راقم کو ایم فل کے مقالے کی تدوین کے دوران میں، سید مودودی کے مختلف سوانح میں  ان کا ذکردیکھنے کو ملا۔ فی الحال ایک حوالہ ذہن میں ہے:ترجمان القرآن،مئی 2004ء،میں ہارون الرشید کے مضمون"مردآزاد" میں ان کا ذکر موجودہے۔ شاید مفید ثابت ہو۔
والسلام
عبدالحی عابد


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, October 2, 2013 10:45 AM
Subject: [مراسلہ نمبر:28374] دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی-ایک درخواست

abdulhayee abid

unread,
Oct 2, 2013, 5:37:40 AM10/2/13
to BAZMe...@googlegroups.com, zest...@gmail.com
السلام علیکم
مکرمی راشد اشرف
 مولانا عبدالسلام نیازی کا ذکر سید ابوالاعلیٰ مودودی کے اساتذہ کی فہرست میں بھی موجود ہے۔ راقم کو ایم فل کے مقالے کی تدوین کے دوران میں، سید مودودی کے مختلف سوانح میں  ان کا ذکردیکھنے کو ملا۔ فی الحال ایک حوالہ ذہن میں ہے:ترجمان القرآن،مئی 2004ء،میں ہارون الرشید کے مضمون"مردآزاد" میں ان کا ذکر موجودہے۔ شاید مفید ثابت ہو۔
والسلام
عبدالحی عابد


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, October 2, 2013 10:45 AM
Subject: [مراسلہ نمبر:28374] دلی کے مولوی عبدالسلام نیازی-ایک درخواست

Rashid Ashraf

unread,
Oct 2, 2013, 5:48:32 AM10/2/13
to abdulhayee abid, BAZMe...@googlegroups.com
وعلیکم السلام
 
بہت بہت شکریہ حئی صاحب

راشد

2013/10/2 abdulhayee abid <lectur...@yahoo.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages