اقبال اور آفاقیت
شاہ نواز فاروقی
ایاز امیر نے اپنے ایک حالیہ کالم میں کہا ہے کہ اقبال کی شاعری آفاقی ہے مگر اس
میں جلیا نوالہ باغ کے اس سانحے کا ذکر نہیں ملتا جس نے پورے بھارت کو ہلا دیا
تھا۔ ایاز امیر نے اپنے کالم میں بھگت سنگھ کا بھی ذکر کیا ہے اور تاثر دیا ہے کہ
اقبال کی شاعری میں بھگت سنگھ کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ حالاںکہ ایاز امیر کے مطابق
بھگت سنگھ ایک انقلابی تھا۔ ان باتوں کے ذریعے ایاز امیر نے دراصل یہ کہنا چاہا ہے
کہ اقبال کی آفاقیت جعلی تھی کیوںکہ وہ صرف مسلمانوں کے شاعر تھے۔
اقبال کی فکر اور شخصیت کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ اقبال کی وسیع المشربی مشہور زمانہ ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں صرف مسلم شخصیتوں کی تعریف نہیں کی۔ انہوں نے رام کو امام ہند کہا ہے۔ گوتم کی تعریف کی ہے بابا گرو نانک کی شخصیت اور پیغام کو سراہا ہے۔ لیکن شاعری کا بنیادی مسئلہ الہام یاInspiration ہے اور الہام یا Inspiration کے بارے میں دو بنیادی باتیں یاد رکھنے کی ہیں۔ ایک یہ کہ الہام پر خود شاعر کا بس نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ الہام شاعر کے شعور سے متعلق ہوتا ہے تو اس کا کچھ حصہ شاعر کے مذہب سے آتا ہے۔ کچھ مواد شاعر کی تہذیب سے فراہم ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں شاعر کی تاریخ سے مہیا ہوتی ہیں۔ کچھ امور کا تعلق شاعر کی ذاتی زندگی یا اس کی سوانح سے ہوتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جلیا نوالہ باغ کے واقعے اور بھگت سنگھ کا تعلق نہ اقبال کے مذہب سے ہے، نہ ان کی تہذیب سے ہے۔ نہ ان کی تاریخ سے ہے نہ ان کی سوانح سے ہے چناںچہ تخلیقی سطح پر ان دونوں کی اثر انگیزی ایسی نہیں تھی کہ وہ اقبال سے شعر کہلوا سکتی۔ اب مثال کے طور پر اقبال نے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں ایک خوب صورت نظم لکھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اقبال ایسی نظم اپنی والدہ کے حوالے ہی سے لکھ سکتے تھے۔ حالاںکہ ان کی والدہ نہ شہید تھیں نہ انہوں نے جنگ آزادی میں کوئی کردار ادا کیا تھا اور نہ ہی ان کی موت کسی المناک سانحے کا نتیجہ تھی۔ مگر وہ اقبال کی ماں تھیں۔ اقبال کا دل تھیں۔ ان کا دماغ تھیں۔ چناںچہ ان کے انتقال پر نظم لکھنے کے لیے اقبال کو کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑی ہوگی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اقبال کی شاعری میں جلیا نوالہ باغ اور بھگت سنگھ کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ جلیا نوالہ باغ اور بھگت سنگھ نے اقبال کو اتنا متاثر یاInspire نہیں کیا کہ وہ ان پر کوئی نظم لکھ سکتے۔ اس کے برعکس رام، کرشن،گوتم، بدھ اور گرونانک نے کیا کارل مارکس تک نے اقبال کو منفی معنوں میں سہی مگر اپنا متاثر کیا کہ اس کے بارے میں اقبال نے لکھا
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
یعنی مارکس پیغمبر تو نہیں مگر بہرحال وہ داز کیپیتال نام کی ایک کتاب اپنے پاس رکھے ہوئے ہے اور یہ کتاب دراصل کتاب انقلاب ہے۔ شاعروں کا ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ انہیں کسی واقعہ یا فرد میں علامتی معنی نظر آنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر مجنوں اور فرہاد محبت کی علامت ہیں چناںچہ اردو اور فارسی شاعری میں ان کا ذکر تواتر سے ہوا ہے اور ہورہا ہے لیکن اگر شاعر کو کسی واقعہ یا فرد میں علامتی معنی نظر نہ آئیں تو اس کے تخیل کو مہمیز نہیں ملتی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اقبال کی آفاقیت اسلام اور مسلمانوں تک محدود ہے تو اس بات کو سمجھنے کے لیے بھی ایک سطح اور تناظر درکار ہے۔ اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ اور خود امت مسلمہ کی آفاقیت ایسی ہے کہ اسے مزید آفاقیت کی ضرورت نہیں۔ اسلام زمان ومکان کی حدود سے ماورا حقیقت ہے اور اسلامی تہذیب نے نسل، جغرافیے، زبان اور رنگ کی حدود کو پھلانگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ پوری انسانیت کا خلاصہ ہے۔ اس کے دائرے میں ہر براعظم ہر نسل ہر رنگ اور ہر زبان کے لوگ شامل ہیں۔ چناںچہ جو شخص اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ اور امت مسلمہ کے لیے شاعری کرتا ہے وہ دراصل پوری انسانیت کے لیے شاعری کرتا ہے۔ اقبال کا معاملہ یہی ہے۔ اقبال کا مومن اور اقبال کا شاہین اپنی اصل میں آفاقی کردار ہیں۔ اقبال کی شاعری میں موجود عشق بھی آفاقی اور عالم گیر ہے۔ یہی معاملہ اقبال کے فقر کا ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو ایاز امیر صاحب نے اقبال کی آفاقیت کو چیلنج کیا ہے مگر وہ اپنے کالم میں جلیا نوالہ باغ اور بھگت سنگھ پر جس طرح اصرار کرتے نظر آتے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اقبال ’’مقامی‘‘ کیوں نہیں ہیں…؟ اتنے مقامی کے وہ ’’لازماً‘‘ جلیا نوالہ باغ اور بھگت سنگھ سے متاثر ہوں۔ لیکن کیا کسی شاعر کے ساتھ اتنا جابرانہ رویہ اختیار کرنا حد درجہ غیر شاعرانہ بات نہیں ہے؟
ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ بائیں بازو میں تو بہت انقلابی تھے، جن میں سرفہرست سبھاش چندر بوس کا نام آتا ہے مگر مسلمانوں میںکوئی انقلابی نہیں تھا۔ انہوں نے قائداعظم کا ذکر احترام سے کیا ہے مگر فرمایا ہے کہ وہ اوّل وآخر قوم پرست تھے۔ تجزیہ کیا جائے تو یہاں بھی ایاز امیر صاحب نے ’’انقلابیت‘‘ کا مخصوص تصور مسلمانوں پر تھوپ دیا ہے۔ ورنہ مسلمانوں میں انقلابیوں کی کمی نہ تھی۔ اقبال کی شاعری اپنی نہاد میں انقلابی شاعری ہے۔ اس لیے کہ یہ شاعری دنیا کو بدلنے کی بات کرتی ہے۔ انسان کو بدلنے کا عزم ظاہر کرتی ہے۔ یہ شاعری انسان کو خواب دیکھنا اور اس کی تعبیر تلاش کرنا سکھاتی ہے۔ ایاز امیر نے محمد علی جناح کو قوم پرست کہا ہے لیکن محمد علی جناح نے جغرافیے کو بدلا ہے۔ تاریخ کو تبدیل کیا ہے اور ایک نیا ملک تخلیق کر کے دکھایا ہے اور یہ تمام کام اپنی نہاد میں انقلابی ہیں۔
ایاز امیر نے اقبال پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ایک نئے ملک کی بات تو کی مگر ان کی بصیرت یہ نہ دیکھ سکی کہ اس نئے ملک کے قیام کی صورت میں کتنا کشت وخون ہوگا…؟ اقبال شاعر تھے پیغمبر نہیں تھے اور پیغمبروں کا معاملہ بھی یہ ہے کہ ہر بات تو انہیں بھی معلوم نہیں ہوتی۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی برصغیر میں جو کچھ ہوا اس کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تحریک پاکستان ایک پرُامن تحریک تھی اور قیام پاکستان کا مطالبہ ایک دلیل پر کھڑا تھا۔ غور کیا جائے تو جو دلیل ایاز امیر صاحب نے پاکستان کے سلسلے میں دی ہے وہ دلیل تو خود جلیا نوالہ باغ پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ جلیا نوالہ باغ میں پر امن احتجاج کے لیے جمع ہونے والوں کو انگریزوں کی درندگی معلوم تھی چناںچہ انہیں جلیانوالہ باغ میں احتجاج کے لیے جمع نہیں ہونا چاہیے تھا۔ نہ وہ جلیانوالہ باغ میں جمع ہوتے نہ جنرل ڈائر کو ان پر فائرنگ کاموقع ملتا چناںچہ ایاز امیر کی دلیل کی رو سے جلیانوالہ باغ کے سانحے کا ذمے دار جنرل ڈائر نہیں لوگوں کو جلیانوالہ باغ میں جمع کرنے والوں کی ’’بے بصیرتی‘‘ تھی۔ ایاز امیر نے اقبال کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے انگریزوں سے سر کا خطاب لیا۔ سر کا خطاب اقبال کی عزت افزائی نہیں تھی بلکہ اس سے خود سر کے خطاب کی عزت افزائی ہوئی۔ اہم بات یہ ہے کہ سر کے خطاب نے اقبال کے قلب وذہن کو رتی برابر متاثر نہ کیا اور اقبال آخری وقت تک مغرب کے بارے میں اپنی رائے پر قائم رہے۔
…شاہنواز فاروقی…
![]() |
| Ayaz Amir. Image from The News International |
[Translation]:
Jalianwalla Bagh Amritsar
The sacred land urges to every pilgrim of the garden
Not to remain inattentive in this world to the ways their destiny works.
Its seed has been watered by martyrs’ blood
Do not withhold your tears from its saplings.
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
--