بقول ڈارون، بندروں میں کو ئی میر بھی تھا! .

32 views
Skip to first unread message

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 15, 2013, 12:32:30 AM11/15/13
to bazme...@googlegroups.com

بقول ڈارون، بندروں  میں  کو ئی میر  بھی تھا! .

زبیر  حسن  شیخ 


اردو ادب کسی بھی دور میں دین سے  مبرا    ہو کر ترقی نہیں کر سکا-   یہ سوال بارہا اٹھایا گیا کہ کیا دین کو ادب سے خارج کردینا چاہیے؟ یا کیوں دین کو ادب میں شامل رکھا جائے؟ ... خیر اس کا آسان جواب تو یہی ہے کہ اپنی  ہیت اور فطری تقاضوں اور اصولوں کے مد نظر ادب اسی ایک درخت کی شاخ ہے جس کا نام دین ہے .... سوال یہ  بھی  تو  پیدا ہوتا ہے کہ دین کو ادب میں کس نے شا مل کیا؟...عموما  علمایے  دین  نے  ادبی تخلیقات    سے احتراز فرمایا ہے  اور دینی  افسانے    یا  ناولز تخلیق  نہیں  کیے  ،    نہ ہی اسکی  ضرورت پیش آئی  ا ور  نہ کبھی آئیگی،  کیونکہ د  ین  تو یہی کہتا  ہے کہ ،   اہل خیال جو یہ فسانے سناتے ہیں....وہ سب ہمارے ان سے گفت و شنیدہ ہیں-    شعر و سخن سے افکار و تحریر و بیان کو اکثر علما نے  مزین ضرور کیا ہے،    جو فی الحقیقت ادب کی شاخ کو ہر بھرا رکھنے کا  ایک اور   ذریعہ بنا-  اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ادبا و شعرا نے ہی دین کو ادب میں شامل کیا ،      اسکے بغیر ادب مکمل بھی کہاں  ہوپاتا...... کوئی ایسی تحریر، کوئی ایسا کلام یا بیان جس میں دینی اصول و احکام کا ذکر بصورت انکار و اقرار نہ ہو یا    مطابقت یا مخالفت  نہ رکھتا  ہو،   تخلیق نہیں کیا جا سکا..... ہاں کچھ ادبا  ایسے ضرور ہوئے جو سائینس  اور فلسفہ کا سہارا لے کر دین کا انکار کر بیٹھے اور سائینس یا فلسفہ کو تہذیبی ارتقائی منازل کی ابتدا قیاس کر بیٹھے–  لیکن یہ بھول بیٹھے کہ  افکارت   جو تہذیبی ارتقا کے لئے لازمی ہیں، اگر  انسان  کے ظہور میں آنے سے پہلے بھی  موجود تھے تو لا محالہ بندروں میں  بھی موجود ہونگے،  ورنہ تہذیبی  ارتقا   کی  ابتدا    ہی     کہا ں  ہو پاتی  -   اور جب بندروں میں افکا رات ہونگے تو   لازما  ادب بھی موجود ہوگا، اور جہاں ادب ہوگا وہاں کوئی میر بھی ہوگا -   تو کیا    جناب  ڈارون   کے نقطہ نظر کے تحت   یہ کہا جا  ئیگا  کہ ؟..... ریختے   کے  تمہیں  استاد نہیں ہو  بھیا    ...بقول ڈارون، بندروں  میں  کو ئی میر  بھی تھا! .( معتقد  میر حضرات بد گمان نہ ہوں ،  راقم کا منشا  ڈارون کی تھیوری  سے ہے)  ..نیز  یہ بھی کہ  ایسے ادب کی بندر بانٹ میں کوئی بندر ڈارون بھی رہا ہوگا ؟    جس نے بندروں کے ادب پر تحقیق کی ہوگی،  اور یہ ثابت کیا ہوگا کہ ادب انسانی عقل سلیم کی دین نہیں بلکہ بندروں کی دین ہے...اب بندر  شر  و خیر  میں کسقدر   تمیز  کر سکتا ہے  ، کسقدر  روحانیت  اور مادیت میں فرق کر سکتا ہے اور  انسانیت  کے لئے کتنا بہتر سوچ سکتا ہے   یہ   تو  ڈارون اور کارل مارکس کے مقلدوں کے افکار و اعمال    سے ہی ظاہر ہے. -


فی الحقیقت کسی مورخ نے آج تک یہ دعوی نہیں کیا کہ تاریخ کی ابتدا سے پہلے دین کے علاوہ بھی کوئی موضوع تھا -  ہاں انسانی معاشرے، رہن سہن، تہذیب و تمدن کے موضوعات جو تاریخ و فلسفہ نے اخذ کیے ہیں وہ تو دین و مذہب کے ہی پیش کردہ ہیں اور اسی سے تاریخ اور فلسفہ وجود میں بھی آئے ہیں- تاریخ کے علم سے پہلے علم دین موجود تھا اور یہ بات خود تاریخ سے ثابت ہے....اسی طرح کوئی سائینس داں ایسا نہیں ہوا جسکے افکارات دین و مذہب کی یا تو موافقت، مطابقت   یا  پھر مخالفت سے وجود میں نہ آئے ہوں... الغرض  ادب، تاریخ فلسفہ اور سائینس کا وجود دین و مذہب کی  بنیاد پر  تشکیل پاتا رہا ہے-  یعنی اس بات کو آسانی سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ سب سے قدیم علم دین و مذہب کا ہے اور باقی سب علوم اسی شجر کی شاخیں ہیں... بلکل اسی طرح منطقی دلائل سے یہ بھی  ثابت کیا جا سکتا ہے کہ دین میں اول اول افکار، اصول وحدانیت پر ہی قائم رہے اور رفتہ رفتہ انکار و شرک و کثرت الوجود  اور وسیع المشربی کے افکارات ظہور پذیر ہوئے- اگر کسی چیز کا وجود ہی نہیں ہوگا اور ابتدا   اکا ئی میں نہیں ہوگی تو انکار  اور کثرت کیا معنی!   سائینسی ارتقائی اصول کےتحت بھی دنیا میں ہر ایک شہ کی ابتدا  اکائی سے ثابت ہے ... منطقی طور پر بھی کسی اشیا کا وجود دوئی اور کثرت کی ابتدا سے غیر ممکن ہے بلکہ  اکا ئی سے ہی ممکن ہے- (راقم کا  ایک  پرانا  مضمون  بزم قلم   میں  شائع ہو چکا ہے   جس میں  سائینس سے ثابت شدہ   اکا ئی  کے  ذرہ نایاب  پر   بحث کی گی ہے،    اور جس کا عنوان   ہے "یقیں  محکم ، عمل پیہم  ہوا شیوا فرنگی کا.") –

البتہ  "عدم سے وجود " میں آنے کے متعلق   سائینسی علوم   کچھ بھی کہنے سے قاصر رہے ہیں- کیوں نہ ہو اس نکتہ پر پہنچ کر سائینسی علوم کے پاس دلیلیں ختم ہو جاتی ہیں، الله ری  بے بسی ! ... ہاں فلسفہ و ادب اس نکتہ سے آگے جاتے ہیں اور پھر دین میں ضم ہونے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا........ اسی نکتۂ بے بسی سے ادب میں دین بیزاری کا آغاز ہوتا ہے.. ادب اور ادبا میں دین بیزاری کی ابتدا اعمال بد پر عائد کردہ پابندی سے ہوتی ہے ، اور جسے  اہل مغرب کی تقلید میں  افکار کی آزادی پر قد غن لگانے پر محمول کیا  گیا-   اولا، جو حضرات دین بیزا ر ہوتے رہے انہیں ایک درمیانی راستے کی ازحد ضرورت محسوس ہوئی،  جو تہذیب جدیدہ نے وسیع المشربی کی شکل میں مہیا کردی- لیکن ادیب و شاعر چاہ کر بھی دین سے الگ نہیں رہ سکے اور کہیں نہ کہیں جانے انجانے پابند شریعت رہتے ہی ہیں-   پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ،   جب ادبا ہی پابند شریعت ہوگئے.....اب ادب کو بھی پابند ہونا چاہیے-

 

اس بات سے بھی کسی  کو انکار نہیں ہوگا کہ اردو ادب کے اکثر نامور ادبا و شعرا کا  تعلیمی  اور تربیتی پس منظر دینی رہا ہے، پھر چاہے وہ مختلف وجوہات کی بنا پر با غی ہو کر ادبی مکاتب فکر کے ذریعہ اپنے دور عروج کو جا پہنچے ہوں -  یا پھر عروج کو پہنچنے کے بعد باغی ہوئے ہوں- میر و غالب ہوں یا متاخرین و متقدمین..... کوئی بھی دین سے فرار حاصل نہ کرسکا...کچھ تو انتہائی کوششوں کے بعد بھی فرار حاصل  نہ کر سکے.... آج بھی اردو ادب میں کو ئی ایسا ادیب و شاعر نہیں ہے جو ادب سے دین کو خارج کرسکا ہو...کسی نہ کسی حیلے بہانے سے دین کے موضوعات کو لے کر ہی وہ ادبی ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا رہتا ہے- کبھی صنائع و بدائع کا سہارا لے کر تو کبھی کہاوتوں اور محاروں کا،  کبھی تمثیلات کی بیساکھی اٹھائے تو کبھی تشبیہات و استعارات کے لین دین کے تحت.... کبھی ناصح کو لے کر تو کبھی کٹھ ملا کو لے کر،  کبھی شکوہ سنج ہو کر تو کبھی رجائیت اور غنائیت کو لے کر.... کبھی تشکیک کا شکار ہو کر تو کبھی منتہائے کمال کے سامنے مجبورو بے بس ہوکر... کبھی خود ناصح بن کر تو کبھی نصیحت خواہ بن کر  ........ اور کچھ نہ ہو سکا تو اپنی اور اوروں کی قسمت کو رو دھو کرکہ... جو کھویا ہے یہاں ہم نے ستم ظریفی ہے قسمت کی......... جو پایا ہے یہاں ہم نے وہ اپنی جاں فشانی ہے- الغرض اردو ادب کی تاریخ شاہد ہے کہ  دین کو مکمل طور سے نظر انداز کر نہ ادب کو اور نہ ہی کسی ادیب کو عروج حاصل ہوا....اور نہ کبھی ہوگا..... تجدد کے لاکھ اصول بنا لئے گئے ہوں لیکن وہ سب کے سب کہیں نہ کہیں دین کی مخالفت یا موافقت سے ہی وجود میں آئے ہیں... ادب نے آج تک ایسا کوئی بھی ایک مو ضوع، کو ئی بھی ایک خیال یا تصور، یا کلیہ تشکیل نہیں کیا کہ دعوی کرسکے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں-  یہ دعوی تو سائینس بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی دنیا کا کوئی علم، یا فلسفہ یا منطق....ملاحظہ کیجیے کسقدر فراریت، وابستگی اور انکار و اقرار کی کیفیتوں سے اردو  ادب کے پہلوو ں کو گرما یا گیا ہے... 

نا خدائے سخن میر سے شروع  کریں تو بے بسی کا عالم دیکھیے، حسن خیال و معنی بھی اور ادب و سخن کو دینی افکار سے مزین کرنے کا والہانہ پن بھی.....الہی! کہاں منہ چھپایا ہے تو نے؟  ہمیں کھو دیا ہے، تری جستجو نے-   ناسخ کی سخنوری  ملاحظہ کیجیے  کہ   فرماتے ہیں.....  منہ ان کا نہیں ہے، شکر ورنہ....ہر بت کہتا کہ میں خدا ہوں-    پھر دین سے کیسے فرار ہونے کی کوشش  کرتے ہیں کہ.... میکدے تک محتسب کو میکشو آنے تو دو......دیکھ کر پیمانے کو پیماں شکن ہو جائیگا-   کچھ یہی  طرز فکر مو من کی بھی تھی کہ ..... کیوں سنے عرض مضطر، اے مومن.....صنم آخر خدا نہیں ہوتا-   لیکن مومن کسی قدر اسم با مسمی واقع ہوئے تھے،   فرماتے ہیں ...... نہ مانوں گا نصیحت، پر نہ میں سنتا تو کیا کرتا.......کہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھا-   شہنشاہ  غزل مرزا   غالب بھی کہاں دین سے فرار حاصل کرسکے، فرماتے ہیں..... ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک رسوم...... ملتیں جب مٹ گئیں، اجزائے ایماں ہو گئیں-   اور یہ بھی کہ..... نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا......ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا؟-     برج نرائن چکبست بھی خدا اور آخرت کے اقرار سے کہاں چھوٹ پائے، اور نہ ہی رحمت خدا وندی سے مایوس ہوئے، فرمایا .......لکھا یہ داور محشر نے میری فرد عصیاں پر.....یہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا-  اس درمیان حالی، شبلی، حسرت اور اقبال کے افکارات اور کمالات سخن کا کیا ذکر کریں، ان ہستیوں کا شمار تو ویسے بھی علما اور ادبا دونوں میں ہوتا آیا ہے-   غالب شکن اورایک حد تک  دین بیزار یگانہ کا کیا حال تھا جو وہ فرماتے ہیں....خدا ہی جانے یگانہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟...خود اپنی ذات پہ شک دل میں آیے ہیں کیا کیا...

تشکیک و لادینیت کے دعویدار، فراق وجوش، ساحر و مجروح اور فیض و فراز بھی خدا کے خیال اور اسکے وجود   سے لاکھ کوششوں کے باوجود بھی فرار حاصل نہیں کرسکے .... فراق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ...توڑا ہے لا مکاں کی حدوں کو بھی عشق نے....زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے..... پھر وحدت الوجود کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ .....وحدت و کثرت اسی کے جلوے ہیں آنکھیں تو کھول....زندگی خلوت کی خلوت، انجمن کی انجمن-   فیض بھی کہاں خدا کے خیال سے بچ پائے گر چہ لاکھ کوشش کر چکے،  فرماتے ہیں....خدا وہ وقت نہ لائے کہ سو گوار ہو تو-   اور رہے فراز تو کیا کچھ نہیں سوچا اور کہا، لیکن مجبوری حالا ت میں خدا کو پکارنے سے نہیں چوکے کہ،  اے خدا جو مجھے پند شکیبا ئی دے ..اس کی آنکھوں کو میرے زخم کی گہرا ئی دے –

 

تمام ادبا و شعرا ، نازک اور لطیف احساسات کے حامل،  انسانیت نواز اور انسانی دکھ درد کو اپنے افکار و قلم سے دوام بخشنے والے  یہ تمام با کمال حضرات خالق حقیقی اور دین حق سے اپنے آپ کو مکمل طور پر الگ نہ کرسکے- دین کو ادب میں شامل کئے بغیر نہ رہ سکے- ان سب کا تعلیمی اور تربیتی پس منظر دینی تھا- کچھ اسی طرح سے نثری ادب بھی دینی افکارات کے بغیر نا مکمل رہتا..اب  دین کو  ادب سے کیسے خارج کیا جائے،   اور یہ  کب   ممکن ہے !  اس میں کو ئی  شک نہیں کہ ادب کو اس کی فطری   وسعتوں  کے  ساتھ قائم  رکھا جانا چاہیے لیکن  ادب کے لوازمات سے سمجھوتہ    کیے بغیر ،  اور جس میں سب سے اہم  اخلاص   اور ایمانداری    ہیں -    جب  ادب میں  دین  باقی رہے   گا تو  دیگر سارے   علوم کا احاطہ  خود  بہ خود ہو تا  رہے  گا ...اور  ادب  منفی اثرات  سے پاک بھی  رہے گا –  ادب میں توازن  بھی قائم رہے گا -   دین کو ادب سے خارج  کرنا  ایسا  ہی ہوگا جیسے  جسم   سے   روح کو  با ہر کرنا ....

aapka Mukhlis

unread,
Nov 15, 2013, 2:05:12 AM11/15/13
to BAZMe...@googlegroups.com

جزاک اللہ خیراً زبیر صاحب. آپ نے بڑے مدلل طریقے سے حقیقت کو واضح کیا ہے. اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمان بھائیوں کا سینہ کهول دے اور حقیقتوں کو سمجهنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین . مخلص

Sent from Yahoo Mail on Android



From: Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>;
To: <bazme...@googlegroups.com>;
Subject: [مراسلہ نمبر:30116] بقول ڈارون، بندروں میں کو ئی میر بھی تھا! .
Sent: Fri, Nov 15, 2013 5:32:30 AM

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Humayun Rasheed

unread,
Nov 15, 2013, 5:20:45 AM11/15/13
to BAZMe...@googlegroups.com

جزاک اللہ.
محترم آپ کے حسن بیان کا قائل ہوئے بغیر نہیں رها جا سکتا.
ادب (یا کوئی بهی صنف) دین کو متاثر کرنے کیلئے ہو تو منع ہے ورنہ کس نے روکا ہے.
اگر آپ کسی کو گهر کی چاردیواری کی طرف اشارہ کر کے کہیں اس کے ساته بیٹه جاو. یہ گهر کے اندر بهی ہو سکتا ہے باہر بهی. دونوں کا دیوار سے لگ کےبیٹهنا ان کی ایک حیثیت کو ظاہر نہیں کرتا. تاریخی شعراء اور ادباء حد تک بهی گئے تو اندر اندر، انہیں دلیل بنا کر حد کے دوسری طرف آنا کیسے جائز ہے؟ بات حد پر موجودگی کی نہیں بلکہ سمت کی ہے.

سیکیولر ازم کے بارے میں اگر آپ کی کوئی تحریر ہے تو پیش کیجئے.

مع السلام
ہمایوں

--

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 15, 2013, 8:52:40 AM11/15/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی، بعد از سلام و دعا عرض ہے کہ بالخصوص سیکیولرازم پر خاکسار نے قلم اٹھانے کے بجا ئے سیکیولرازم سے منسلک ایسے کئی موضوعات ہیں جس پر اپنا مطالعہ بزم میں پیش کیا ہے- اس سے خاکسار کو نہ یہ کہ صرف اپنے مطالعہ کا خلاصہ پیش کرنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ افکار و تحریر کو غیر جانبدارانہ طور پر پیش کرنے میں بھی -   ذیل میں ایک مضمون پیش خدمت ہے-  اس کے علاوہ چند اور مضامین بھی ہیں جو بزم میں شائع ہوچکے ہیں اور یہاں دوبارہ پیش کرنے میں شاید اجازت درکار ہو- اگر بزم کی انتظامیہ اجازت دے تو یہ خاکسار انہیں جستہ جستہ آپ حضرات کی خدمات میں پیش ضرور کرنا چاہے گا-  
خاکسار 
زبیر



"کانٹوں کی زباں سوکھ گئی  پیاس سے یا رب ! .... اک آبلہ  پا،  وادیء  پرخار میں آوے "

.!

 

زبیر حسن شیخ

 

سیاسی ادب کی پرخار وادی میں  آبلہ پائی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ چند ایسے با کمال حضرات بھی ہوئے ہیں جنہوں  نے اس پر خار وادی کو اپنے خون جگر  سے لالہ زار  کر دیا.

انسانی تاریخ میں سیاست کا تصور قدیم مصری، یونانی، ساسانی، سندھی اور  دیگر تہذیبوں سے ثابت ہے، بلکہ ان تہذیبوں سے قبل قبائلی دور زندگی سے بھی سیاست کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے. دنیا کے اکثر مذاہب سیاست کی اہمیت پر زور دیتے ہیں،  بلکہ اسکی تعلیم بھی دیتے ہیں. مختلف دینی کتابوں، علوم، ادب و فلسفہ اور روایات سے سیاست کی تعریف کا کم و بیش یہی خلاصہ سامنے  آتا ہے کہ:  وہ نظام جس کے تحت حکومت کا کام کاج جاری و ساری  رہے اور  وہ حکومتی قوانین و اصول جو عوام کے انفرادی اور اجتماعی حقوق و فرائض کے لیے وضع کیے گئے ہوں. جہاں تک انسانی فرائض و حقوق کا تعلق ہے تو انکی پیچیدگیوں سے کسی  بھی عاقل شخض کو انکار نہیں ہوگا. کئی فرائض ایسے ہیں جو حقوق کا درجہ رکھتے ہیں اور کئی حقوق ایسے ہیں جو فرائض کا. سیاست کی تعریف یا تشریح سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیاست کا کام انسان کی اخلاقی نشو نما کرنا ہے یا انسان کے اخلاق کو سنوارنا ہے.  نہ ہی سیاست کی یہ ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ اسکی مجاز ہے. سیاسی نظام میں انسان کو اصولوں کا پابند کرنا مشکل نظر آتا ہے،  اور عقل اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ کوئی ایسا عنصر ہو جو انسان کو سیاسی حیوان یا سماجی جانور بنانے کے بجائے مہذب سیاسی انسان بنائے. بالآخر جذبہء خیر اور اعلی اخلاقی اقدار کے علاوہ کوئی اور عنصر نظر نہیں آتا. اخلاقیات سے انسان فطرتا وابستہ رہا ہے. جہاں دینی عقائد اس وابستگی کو پختگی عطا کرتے ہیں اور انسان کے اندر جذبہء خیر کو پروان چڑھاتے ہیں  ونہیں سیاسی اصول و ملکی قوانین  انسان کو اخلاق کا پابند کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں.

 

ارسطو کا قول ہے کہ  انسان فطری طور پر سیاسی حیوان واقع ہوا ہے. اس ایک جملہ میں جہاں سیاست کی اہمیت واضح ہوتی ہے  ونہیں اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ انسان کو انسان ہونے کے لئے یا حیوان نہ ہونے کے لئے جس عنصر کی ضرورت ہے وہ اس طرز فکر میں ناپید ہے.  مغربی طرز  فکر میں جن اصولوں کو سیاسی نظام کی کلید مانا جاتا ہے وہ دراصل خام خیالی ہے . ایک عام انسان،  غیر شعوری طور پر کار  کی "اگنیشن کی" کو  اصل کلید یا محرک سمجھتا ہے جو بظاہر کار کو اسٹارٹ کرنے کا باعث دکھائی دیتی ہے. جبکہ کسی کار کو اسٹارٹ کرنے کے لئے اسکے باطن میں وہ ایک نادیدہ چنگاری کارفرما ہوتی ہے جو "کمبسشن چیمبر"یعنی آتش خانہ میں سلگتی ہے، اور دوسرا وہ  خالص ایندھن ہوتا ہے جو اس چنگاری سے  قوت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے،  جس سے گاڑی کا اجمالی نظام متحرک ہو اٹھتا ہے اور  گاڑی کو  مسلسل قوت فراہم کرنے کا باعث بنتا ہے. مغربی فلسفہء حیات، اصول و قوانین میں تقریبا  تمام پرزے موجود ہیں  جز چنگاری اور خالص ایندھن کے. ضمیر کی چنگاری کو دینی عقاید پر مشتمل اخلاقیات کا خالص ایندھن درکار ہوتا ہے جو اس قوت کو پیدا کرتا ہے جسے جذبہء خیر کہتے ہیں. غیردینی اخلاقی اصولوں سے جذبہء خیر پیدا نہیں ہوتا، جسکا ثبوت تہذیب جدیدہ کی تاریخ میں موجود ہے. یہی وہ نکتۂ فکر ہے جو قدیم فلاسفہ کے افکار میں مفقود نظر آتا ہے اور جسکا فقدان آسمانی صحائف کے نزول کے بعد بھی مختلف مغربی فلاسفہ کے افکار میں نظر آتا رہا. روسو، والٹیرز،  کومتے، مل جان اسٹیوارٹ، گوئیتے، بیکن، فشر، ہیملٹن، ہیگل، اسپینسر، اور ایسے ہی دیگر مغربی فلاسفہ اور ماہر اخلاقیات نے بنیادی "ایتھکس اور مورالیٹی"  کے اصولوں کو واضح کیا اور خوب کیا، اور سیاسی و جمہوری نظام اور قوانین میں اسکی اہمیت کو اجاگر بھی کیا. لیکن دین کو خارج از بحث رکھا. اور اگر کبھی ان میں سے کسی نے دین کی اہمیت کو واضح کیا بھی تو یہ بھول گئے کہ جس دین کا وہ حوالہ دے رہے ہیں اور جسے مغربی معاشرہ میں مادی ترقی کا ذمہ دار مانتے ہیں اس دین کی اصل تو رد و بدل کی نذر ہوگئی.  اورپھر تغیر شدہ دین سے بھی انکی وابستگی باقی نہیں رہی. یعنی نہ وہ چنگاری رہی اور نہ ہی وہ ایندھن. ڈارون اور سگمنڈ فرائیڈ اور انکے  پیروکاروں نے تو انسان کو یونانی سیاسی حیوان اور سماجی جانور سے جنسی حیوان اور بندر کی اولاد بنا کر چھوڑ دیا. دینی تفکرات سے خالی سوچ اکثر انسان کو دو پائے جانور کے مشابہ اور ہم رتبہ خیال کرتی رہی..

 

دین ہو یا دنیا، انفرادی ہو یا اجتماعی، سیاسی، معاشی ہو یا معاشرتی، مادی ہو یا روحانی، انسان اپنی زندگی کے ہر ایک شعبے میں معاہدات پر انحصار  کرتا ہے.  اوران معاہدات کا قیام فی الحقیقت اخلاقیات پرمنحصر ہوتا ہے. اخلاق جتنا بلند ہوتا ہے اتنا ہی معاہدہ کی پابندی پرانسان انفرادی اور اجتماعی طور پر کاربند رہتا ہے، پھر چاہے وہ معاہدہ ملکی قانون سے ہو یا خالق حقیقی سے ہو یا انسان کا انسان سے. انسانی معاہدات کا قیام و دوام  فی الحقیقت جذبہء خیر کا ہی رہین منت رہا ہے،  ورنہ انسان جب چاہے معاہدہ توڑ سکتا ہے اور توڑتا آیا ہے . لیکن  اس کا سد باب سیاسی قوانین اور انسان کے بنائے گئے اصولوں سے ممکن نہیں ہوسکتا.

مذکورہ بحث سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ دین و سیاست کو ایکدوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور اخلاقیات کے دینی اصولوں کو مانے بغیر صرف سیاست کے اصول اور قانون سے ملک میں نظم و ضبط لانا غیر ممکن ہے.  یہ اور بات ہے کہ نظم و ضبط کی اور سیاست کی کوئی مختلف تعریف لکھے اور اسے منوائے.

 

جمہوریت کی بگڑی ہوئی موجودہ شکل مغربی  افکار  کی دین ہے،  جو  فی الحقیقت یونانی اور رومی تہذیب سے زیاہ متاثر  رہی ہے، جہاں لا دینیت،   قوم پرستی، تعصب پسندی، نسلی اور طبقاتی امتیازات، عدم مساوات، اجارہ داری اور استبداد و استحصال کا بول بالا رہا اور جسکا تذکرہ یونانی فلاسفہ نے خود کیا ہے. یہ وہی اصول ہیں جو رومیوں نے اپنائے اور صنعتی انقلاب کے بعد جسے اہل مغرب نے اپنایا. انکے بعد طوعا و کرہا  مختلف ممالک نے اسےگلے لگایا. انھیں اصولوں کی بنیاد پر دو عالمی جنگیں لڑی گئیں اور اسکے بعد  بھی کروڑوں انسانوں کا قتل عام ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا. کہیں بھی عالمی امن، عدل و انصاف اور مساوات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے.  اخلاقیات کے اصولوں سے فلسفہ اور ادب کے صفحات بھرے پڑے ہیں اور عالمی درسگاہوں میں ان علوم اور ان اصولوں پر صبح و شام چیخ پکار ہوتی رہتی ہے.  پھر کیا وجہ ہے کہ یہ تمام علوم و اصول ناکام ہیں، کہیں کوئی حل نہیں؟.  جواب صاف ظاہر  ہے کہ سیاست اور اخلاقیات کے اصولوں کے یہ وہ یونانی اور رومی مجسمے ہیں جن میں دینی عقائد کی روح موجود نہیں ہے. بظاہر تو ہر کوئی اخلاقی اصولوں پر اور معاہدات پر کاربند نظر آتا ہے لیکن جذبہء خیر کی قوت ہی جب مفقود ہوگی تو معاہدات غیر معتبر رہینگے .

 

سیاست میں اخلاقیات کی اہمیت اور دینی عقائد سے اسکا گہرا تعلق بھی ثابت ہوچکا. اب انسان چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو،  وہ دینی عقائد سے مستشنی ہو کر اخلاقیات اور معاہدات پر طویل مدت تک قائم نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی جذبہ خیر کی نشوونما کرسکتاہے. دینی عقائد سے حاصل شدہ اخلاقیات کے اصول ہی ایک صحت مند عالمی معاشرہ کے قیام و دوام میں کارگر ہوسکتے ہیں. لیکن یہ سوال جو اکثر سینہ سپر ہو کر کھڑا رہتا ہے اس سے بھی  اعراض نہیں برتا جاسکتا کہ،  اگر دینی عقائد پر مشتمل اخلاقی اصولوں میں ہی نجات پوشیدہ ہے تو پھر وہ کیا وجہ تھی کہ مغربی فلاسفہ کے ساتھ عوام کی کثیر تعداد دین سے متنفر ہوگئی؟ جواب بھی اظہر من الشمس کی طرح عیاں ہے کہ.  جذبہء خیر اور اخلاقی اقدار سے مبرا مذہبی پیشواؤں کی وہ  بے اعتدالیاں اور بد اعمالیاں  ہی تھیں اور صدیوں پرمحیط وہ  ظلم و جبر ہی تھا جس نے اہل مغرب کو دین سے متنفر کردیا.  اور انجام کار اہل مغرب  نے غیر دینی خود ساختہ اصول وضع کرلیے، جس کا خمیازہ مغرب کے ساتھ ساتھ آج ساری دنیا بھگت رہی ہے. اہل مغرب نے جس تنفر کے رد عمل میں بغض و عناد سے  بھر پور اصول اور  قوانین  وضع کئے تھے انجام کار  وہ بھی ایک نئے تنفر  کو  پیدا کرنے کا باعث بن گئے جسکا نظارہ  آج دنیا اور خاصکر  اہل مغرب دیکھ رہے ہیں .

 

ہر سلیم الفطرت انسان دل سے چاہتا ہے کہ معاشرہ میں بلکہ تمام عالم میں امن، عدل و انصاف، اخوت، بھائی چارگی، خوشحالی کا دور دورہ ہو. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں ہزاروں ادیان و مذاہب ہوں اور جہاں انسان کے پیدا کردہ مختلف ازم اور سیاسی نظام  مذاہب کی صورت اختیار کر چکے ہوں وہاں انسان کس دین کو اختیار کرے.  ہر ایک دین و مذہب کا اپنا دعوی ہے اور ہر پیروکار اپنے دین و مذہب اور ازم کو دوسرے سے بہتر مانتا ہے. 

 

 اگر خالص دین اسلام کی بات کریں تو تاثرات مختلف گروہ میں تقسیم ہوجاتے  ہیں. کوئی اسے مثالی سجھتا ہے، کوئی متعصب ہوکر اسکے وجود کو ہی سرے سے خارج کرتا ہے، کوئی اس میں نقص نکالتا ہے،  کوئی اسے مذہب و عقائد اور عبادات تک محدود کردیتا ہے. کوئی کروڑوں اربوں کی تعداد میں سے  انگلیوں پر گنے جانے والے چند حضرات سے اسلام کو جوڑ  دیتا ہے جو  مغربی استحصال و استبداد اور سازشوں کی مخالفت میں  دہشت گرد کہلائے جاتے ہیں. اسلام  کو  بطور  ایک آزمودہ اور کامیاب  نظام حیات قبول کرنے سے اکثر تعصب برتا جاتا ہے،  اور  یہ خوف دلایا جاتا ہے کہ  اسلامی نظام  حکومت  میں جبرا مسلمان بنایا جاتا ہے. جبکہ ایک عام  پڑھا لکھا انسان بھی یہ بات جانتا ہے کہ اسلام میں اعمال و  آزمائش، جزا و سزا اور دنیا و آخرت کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے  اور  اس پس منظر میں جبر کی موجودگی غیر منطقی ہے. اگر دین اسلام میں جبر کی ذرا بھی گنجائش ہوتی تو  اسلام میں جبری بھرتی کرنا  تو  دور  موروثی مسلمانوں کی تعداد انکے اعمال کی بدولت ہونے والے جبری خروج سے  نصف سے بھی کم ہوجاتی. انسان نے موجودہ سیاسی نظاموں کو بھر پور  موقع دیا ہے اور جو  اب  بری طرح ناکام ثابت ہوچکے ہیں. پھر کیا وجہ ہے کہ انسان کسی دوسرے دعویدار کو موقع دینے سے  خوف کھاتا ہے اور بربادی کی طرف گامزن رہنا چاہتا ہے. انسان کا فرض ہے کہ وہ ہر ایک دعویدار کو موقع دے. عقل و فراست کی ارتقائی منازل کو طے کر کے انسان مہذب اور متمدن ہوا ہے اور مختلف علوم  پر کمال بھی حاصل کر چکا ہے. اب  اسکے لئے دعویدار کے دعووں کو  پرکھنا اور انکا تجزیہ کرنا بےحد آسان ہوگیا ہے.  انسان کو چاہیے کہ وہ سچ کا سامنا کرے، خاصکر کہ  جب  یہ سچ اسکے مفاد میں ہے اور اسے اس سچ کی بے حد ضرورت بھی ہے..

بازارِ مصر میں چل، یوسف کا سامنا کر۔۔۔کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں"

انسان کو  چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ، خلافت اور ملوکیت  کا فرق اور اصل  اسلامی نظام کے متعلق جو  بدگمانیاں اور شبہات  ہیں اسکا تصفیہ بھی دیانت داری سے کرنا ضروری ہے، تاکہ اسے حق کو قبول کرنے میں کوئی بھی عذر مانع نہ ہو . خلافت راشدہ کے  بعد مسلم حکمرانوں  نے  خالص  اسلامی نظام کو دوحصوں میں بانٹ دیا تھا. ایک حصے میں جسم یعنی اقتدار، قانون، طاقت و قوت، شان و شوکت اور مادیت کو رکھا اور دوسرے حصے میں روح  یعنی اسلامی شریعت اور  فقر  و استغنا سے بھر پور عشق حقیقی کو . یہی وہ روح ہے جو اللہ کے  آخری رسول ص اور انکے خلفائے راشدین کے توسط سے اقتدار اور سیاسی نظام کے جسم میں پھونکی گئی تھی.  اس روح  کو جسم میں قائم رکھنے میں علما اور ائمہ کی مسلسل جد و جہد شامل رہی اور جسکے آگے طو عا و کرہا  اقتدار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے. جس لمحہ بھی یہ روح جسم میں داخل ہوئی  عارضی خلافت راشدہ کی تصویر  پیش کر کے دکھا دی،  جبکہ  اسلام کا منشا عارضی تصویر کشی نہیں بلکہ روح کا جسم میں مستقل قیام ہے. پھر یہ روح آہستہ آہستہ جسم سے علیحدہ ھوگئ،  کیونکہ  اس جسم کے  کچھ اعضاء اخلاقی بیماری کا شکار  ہو رہے تھے.  بغیر روح کا یہ جسم  وہی سیاسی یا ملکی نظام ہے جو  تقریبا  تیرہ صدیوں بعد بھی صرف اس لئے زندہ ہے کیونکہ اس جسم کے کئی حصے اب بھی مذکورہ روح کی ابتدائی پچاس سالہ رفاقت کے سبب صحت مند اور توانا ہیں ،  اور زخمی ہونے کے با وجود بھی یہ جسم دنیا کے موجودہ تمام نظام حکومت سے صد درجہ بہتر ہے . یہ وہی جسم ہے جس پر مغربی ممالک نے پچھلے تین سو سال تک تحقیق کی اور جس کا  ثبوت مغرب کے کتب خانوں میں موجود ہے. پھر  اسی جسم کی"کلوننگ" کر اس میں یونانی اور  رومن اعضا جوڑ دیے،  اور مختلف نقائص سے بھر پور نئے اجسام  بنالیے جس میں سے ایک کو انہوں نے جمہوریت کا نام دے دیا. یہ کلوننگ زدہ جسم اب سڑ گل رہا ہے اور یہ  کلوننگ ناکام ہو رہی ہے. وہ جو اصل جسم  تھا اسے ملوکیت نے زخمی کر رکھا ہے.  اور اس زخم آلودہ جسم میں وہ روح دوبارہ سمانے سےگریز پا ہے، وہ  جسم کا مکمل علاج چاہتی ہے. اور  اس مرض کے معالج، جراح اور متخصص خود ہی مریض عشق دنیا ہوچلے ہیں. جبکہ روح  یہی تقاضہ  کرتی آئی ہے کہ:

" اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا !....قلندری سے ہوا ہے، تونگری سے نہیں"

 




2013/11/15 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

Mehr Afroze Kathiawari

unread,
Nov 15, 2013, 6:55:32 AM11/15/13
to BAZMe...@googlegroups.com
AOA.ZUBAIR,saheb,achi tehrer aur bahut achi behas,insan ka wajood baghair khaliq ke kuch bhi nahi.adab ki buniyad wo alfaz wo asmaa hain jo Allah ne Hazrat Adam(A S)ko sikhaye,phir adab deen s mubbarra ho to bemaani hai,apki tehreer bahut tez nashtar hote huwe bhi bhi behtareen adab para hai,bahut bahut mubarak ho,aap jaise likhne wale jab bazm se der tak ghayeb rehte hain tab bazm ghair adbi lagti hai.waqt ka taqaza hai ke suljhe zahan bazm par likhte rahen aur afraaat wo tafreet ki rah se hat kar darmiyani rah par bazm ka twazun banaye rakhen ek aur bar mubarakbaad.


2013/11/15 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM



--

With Regards

 

Afroza.M.Kathiawari. 

Co-ordinator,

British Council Trainings,

DIET, Dharwad.Karnatak,India

http://hudafoundation.in

Abid Anwar

unread,
Nov 15, 2013, 11:27:29 AM11/15/13
to Aijaz .Shaheen
بقول ڈارون، بندروں  میں  کو ئی میر  بھی تھا! .
bahut khubsoorat andaz me tahreer kiya he. bahut bahut mubarak ho. jazakallaho khairan jaza
abid anwar


2013/11/15 Mehr Afroze Kathiawari <kathiawa...@gmail.com>

Tanwir Phool

unread,
Nov 15, 2013, 3:34:18 PM11/15/13
to 5BAZMeQALAM
ڈارون کا مورث اعلی تو بندر ہے مگر
ہم کو آدم سے ملا ہے آدمیت کا سراغ  (تنویرپھول)
 
کیوں  مے کدۂ غیر   پر اٹھتی ہے نگاہ
خم خانے میں موجود تو سارے خم ہیں
اسلام  کو   محدود   سمجھنے     والو
اسلام کی وسعت میں   دوعالم   گم ہیں   (تنویرپھول)


2013/11/15 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>

بقول ڈارون، بندروں  میں  کو ئی میر  بھی تھا! .

--

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 16, 2013, 8:11:51 AM11/16/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمین و مکرمین، مخلص صاحب، ہمایوں رشید صاحب، مہر افروزہ صاحبہ، عابد انور صاحب اور تنویر پھول صاحب، جزاک الله خیر، یہ آپ سبکا حسن نظر ہے.

تنویر پھول صاحب نے اپنا بے حد عمدہ قطعہ ارسال فرمایا ہے- شکریہ آپ جناب کا 

 مہر افروز صاحبہ، بلکل بجا فرمایا آپ نے کہ اس خاکسار سے یہ کوتاہی ہوتی رہتی ہے کہ بزم میں تسلسل سے حاضری نہیں دے پاتا- بلکہ اکثر اپنے قارئین کرام، اساتذہ اور اہل قلم کی ای میل کا جواب دینے میں بھی تاخیر و تردد کر بیٹھتا ہے-  خاکسار دلی معذرت چاہتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اس بزم سے زیادہ سے زیادہ علم و فیض حاصل کرے اور اہل فکر و قلم سے تعلق خاطر قائم رہے- 

آپ سب کی دعاوں کا طالب 
خاکسار
زبیر

                 


2013/11/16 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Tanwir Phool

unread,
Nov 17, 2013, 12:30:50 AM11/17/13
to 5BAZMeQALAM
بہت بہت شکریہ جناب زبیر صاحب
سلام قبول کیجئے اور ہمیشہ دعا میں یاد
رکھئے ، جزاک اللہ خیر
طالب دعا و دعا گو : تنویرپھولؔ


2013/11/16 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Nov 18, 2013, 2:27:36 PM11/18/13
to BAZMe...@googlegroups.com

السلام علیکم، محترم، بوجہ دیگر مصروفیات آپ کا رسالہ آج پڑه سکا کہ جلدی میں آپ کی تحریر پڑهنا انصاف نہیں. جزاک اللہ خیرا. آپ تحریروں کو کسی بلاگ پر رکها کریں اور دیگر حضرات کی طرح لنک بهیج دیا کریں اس تنبیہ کے ساته کہ پہلے بزم پہ شائع ہو چکا ہے. اگر بلاگ نہیں ہے تو بتائیں تاکہ اس سلسلے میں کچه کیا جا سکے. مع السلام.

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 19, 2013, 2:23:37 PM11/19/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم ہمایوں رشید صاحب 
وعلیکم السلام و رحمتہ الله و برکاتہ 
جزاک الله .... آپ جناب نے بہتر مشورہ دیا ہے اور یہ خاکسار اپنے  مضامین پی ڈی ایف میں منتقل کر وقتا فوقتا اس کے لنکس مہیا کرنے کے متعلق ضرور عمل کرےگا - البتہ خاکسار کی مصروفیات "بلاگنگ" کی ضروریات کی متحمل نہیں ہوپا تی-  خاکسار نے بزم میں اپنے قارئین کرام سے ہمیشہ استدعا کی ہے کہ وہ اس عاجز کی کوئی بھی تحریر، مناسب خیال کرے تو جہاں چاہے آگے ارسال کردے یا شائع کردے، کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں- ہاں جیسا آپ جناب نے فرمایا، بزم قلم میں شا ئع شدہ ہونے کا ذکر، مع تاریخ  کردے، تو بہتر ہے- بزم قلم اور اس کے تمام محترم اہل علم و قلم کا ہم پر یہ حق بنتا ہے کہ ہماری تحریر بزم قلم کی معرفت شائع ہو- 

طالب دعا
خاکسار
زبیر










2013/11/19 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages