kya shayri paighambari hay.?

223 views
Skip to first unread message

shaikh hussain

unread,
Aug 7, 2013, 5:31:51 AM8/7/13
to BAZMe...@googlegroups.com
سب سے پھلے کس نے یہ جملہ استعمال کیا کہ شاعری پیغمبری ھے؟ قران کھتا ھےکہ الشعرا یتبعھم الغاون؛علماء كرام سے درخواست ھےکہ اس موضوع پرحوالہ جات کے ساتھ کچھ روشنی ڈالین
 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,Dr. V.R.K Women's Medical College,Hyderabad
Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913

Tanwir Phool

unread,
Aug 9, 2013, 8:12:26 PM8/9/13
to BAZMe...@googlegroups.com
سلام مسنون
حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے کہ بے شک شعر میں حکمت ہے 
اور بے شک بیان میں سحر ہے یہ حدیث مولانا احمد رضا خان بریلوی کے
نعتیہ مجموعے حدائق بخشش کے سر ورق پر بھی درج ہے
نثر کی طرح شاعری بھی اچھی اور بری ہو سکتی ہے یہ اس کی نوعیت پر
منحصر ہے  سورۃ الشعرا میں استثنا بھی ہے  الا کے بعد جو فرمایا گیا ہے
اسے بھی ذہن میں رکھیں  یہ لنک بھی دیکھیں
حضرت کعب بن زہیر کے قصیدے پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان
کو بطور انعام اپنی چادر مبارک مرحمت فرمائی اور پہلا قصیدہ بردہ شریف یہی
ہے جسے قصیدہ بانت سعاد کہا جاتا ہے اس کی ابتدا میں  سعاد نامی دوشیزہ
کا ذکر ہے جسے اس کا عاشق یاد کرتا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
اس پر اعتراض نہیں فرمایا بعد میں نعتیہ اشعار ہیں ایک شعر میں رسول صلی اللہ
علیہ و آلہ و سلم کو سیف من سیوف الھند یعنی ہند کی تلواروں میں سے ایک تلوارSURATUSH-SHUARAA.gif
کہا گیا تھا جس کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصلاح فرمائی اور اسے
سیف من سیوف اللہ کرنے کا حکم دیا حضرت کعب بن زہیر اس انعام پر بہت فخر
کرتے تھے نیز حضرت حسان بن  ثابت شاعر دربار رسالت کہلاتے تھے    والسلام 
تنویر پھولؔ



2013/8/7 shaikh hussain <muns...@yahoo.co.in>

--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 
 

Aapka Mukhlis

unread,
Aug 10, 2013, 1:24:14 AM8/10/13
to bazm qalam
محترمی
بالکل بجا فرمایا آپ نے۔ 
لیکن "الا" کے بعد جن شعراء کا ذکر ہے اس زمرے میں بہت کم لوگ آتے ہیں۔
آپ نے جس قصیدہ بردہ کا ذکر فرمایا ہے کیا وہ کہیں سے مع ترجمہ مل سکتا ہے؟
شکریہ


2013/8/9 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

shaikh hussain

unread,
Aug 10, 2013, 2:31:49 AM8/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
سلام مسنون؛مولانا مودودی نے سورہ شعراء کی آخری آیت کی تفسیر کرتے ھوے چار خصوصیات کا  ذکر کیا ھے جو شعرا ء کو مذموم شاعری سےمثتثنی کرتی ھین
1۔ایمان
2۔عمل صالح
3۔ذکر کثیر
4۔مظلوم کی نصرت
 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,Dr. V.R.K Women's Medical College,Hyderabad
Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913


From: Aapka Mukhlis <aap...@gmail.com>
To: bazm qalam <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Saturday, 10 August 2013 10:54 AM
Subject: Re: {26571} kya shayri paighambari hay.?

Humayun Rasheed

unread,
Aug 10, 2013, 6:42:11 AM8/10/13
to bazmeqalam
سلام مسنون
تمام حضرات کا شکریہ لیکن میں اس بات کا منتظر تھا کہ  یہ جملہ کس نے استعمال کیا' یعنی جو سوال پوچھا گیا تھا' ورنہ شعر و شاعری کے کم از کم جواز کے تو سبھی قائل ہیں۔
پھول صاحب نے فرمایا کہ "سیف الھند" کا مطلب ہے ھند کی تلوار' یہ مطلب کہاں سے اخذ کیا ہے' اس سے مراد کیا ہے؟ کیا عربوں کیلئے اپنے سے بڑھ کر کسی کو تلوار باز ماننا ممکن تھا؟ اور کیا وہ لوگ ھند یعنی ھندوستان کو جانتے تھے؟ یعنی شاعر نے ایسی تشبیہ کیوں دی؟ شکریہ۔


2013/8/10 shaikh hussain <muns...@yahoo.co.in>

Tanwir Phool

unread,
Aug 10, 2013, 4:58:57 PM8/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
الشعرا تلامیذ الرحمٰن  عربی کا مشہور مقولہ ہے جس کی تائید میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ
قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ نے شاعری کا علم دینے کی نسبت اپنی ہی طرف کی ہے جیسا
کہ فرمایا ہے ،  ہم نے ان کو (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو )شاعری کا علم نہیں
دیا کیونکہ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے      ، ضروری نہیں کہ جو بات آپ کے شایان شان
نہ ہو وہ دوسروں کے لئے بھی ممنوع ہو جیسے کسی دنیوی استاد کا ہونا آپ کے شایان شان
نہ تھا لیکن دوسروں کے لئے ایسا نہیں ہے
اہل عرب ہند یعنی ہندوستان سے واقف تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک حدیث
بھی منقول ہے کہ  مجھے ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے ، اسی کا ذکر علامہ اقبال نے اس
شعر میں کیا ہے

میر عرب (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا          وطن      وہی     ہے     ،    میرا     وطن     وہی    ہے

کربلا میں حضرت امام حسینؓ نے جنگ سے بچنے کے لئے یزیدی فوج کے سامنے جو تین صورتیں
پیش کی تھیں ان میں بھی ہندوستان کا ذکر ملتا ہے ، مجھے واپس جانے دو ، مجھے یزید سے خود
ملنے دو یا مجھے  ہند  کی طرف نکل جانے دو مگر ظالموں نے کوئی بات نہیں مانی
ہندوستان کی تلواریں معیار اور چمک کے لحاظ سے اعلیٰ مانی جاتی تھیں لیکن اہل ہندوستان کو
تلوار باز ماننا ضروری نہیں تھا
مولانا مودودی نے تفسیر میں جن چار خصوصیات کا ذکر کیا ہے وہ قرآنی آیات میں ہی موجود ہیں
جن کا ذکر راقم الحروف کی منظوم تفہیم میں بھی ہے ، لنک پہلے مراسلے میں موجود ہے
پہلا قصیدہ بردہ یعنی قصیدہ بانت سعاد کے سلسلے میں یہ لنکس ملاحظہ کریں 



والسلام 
تنویر پھولؔ



2013/8/10 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Aug 10, 2013, 6:18:50 PM8/10/13
to bazmeqalam
تفصیل کا شکریہ۔ لیکن یہ بات تو اب متفق علیہ ہو چکی ہے کہ شعر و شاعری بنفسہ منع نہیں ہے' قیود کے ساتھ جائز ہے' اس لئے اس پر مزید بات کو موقوف ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
دراصل میں نے لغت کی طرف مراجعت کی کوشش کی تو اس میں ھند کا معنی ھندوستان سے کہیں بھی نہیں جوڑا گیا۔ یہاں ایک صاحب ہیں جن کا نام ہے 'مھند' (بات تفعیل سے اسم فاعل) جس کے معنی ہیں خوب کاٹ والی یا بہت مضبوط تلوار۔ تو لگتا ایسا ہے کہ ھند کا معنی ھندوستان سے نہیں ہے بلکہ سیف من سیوف الھند کا معنی بن سکتا ہے بہت مضبوط تلواروں میں سے ایک تلوار۔
ھند ویسے اونٹوں کے ایک بڑے ریوڑ کو بھی کہتے ہیں۔ اسی نسبت سے عرب اپنا نام ھند بھی رکھتے ہیں' یعنی اونٹوں کے ریوڑ کا مالک' جیسا کہ علی کرم اللہ وجھہ کے ایک ماموں کا بھی ٖغالبا یہ نام تھا۔ آپ نے ھندہ کا نام تو سنا ہو گا' ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی' جنہوں نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو احد میں شہید کروایا تھا اور نعش کی بے حرمتی کی تھی۔ بہرحال اُن کا نام بھی ھندہ اسی نسبت سے تھا کہ بہت اونٹوں کی مالکن۔ پس اگر اس نسبت سے دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ سیف الھند کا معنی بننا چاہئے ریوڑ کی تلوار' گویا ایسی تلوار جو انعام میں اونٹوں کے ریوڑ جیتے' اس سے سیف من سیوف الھند کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے۔
ان دونوں معنوں کو لیا جائے تو اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلا تکلف کی جا سکتی ہے' جیسا کہ شعر میں بھی کیا گیا۔
لیکن آپ اگر مزید روشنی ڈالنا چاہیں تو "موسٹ ویلکم"

آب نے جو ہند والی حدیث کی طرف اشارہ کیا' کیا اُس کا متن مل سکتا ہے؟ ذھن میں نہیں آ رھا کہ ایسی کوئی روایت نظر سے گزری ہو۔ ھاں مشرق کے بارے میں شائد ہے کوئی روایت لیکن اگر آپ ھند کے بارے میں روایت کا متن بھیج دیں تو عنایت ہو گی۔

ہمایوں رشید۔


2013/8/10 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Tanwir Phool

unread,
Aug 10, 2013, 6:27:58 PM8/10/13
to BAZMe...@googlegroups.com
مزید
الشعرا تلامیذ الرحمٰن عربی مقولہ ہے اسی کے زیر اثر فارسی میں شاعری جزو پیغمبریست
کہا جانے لگا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شاعر جو بات بھی کہے وہ درست ہے   شاعری
کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور سماعت ، بصارت ، گویائی بھی اسی نے دی ہے لیکن 
ان سب کا صحیح استعمال انسان کی اپنی ذمہ داری ہے اس سلسلے میں یہ لنک اور اس کے
آخر میں راقم الحروف کا تبصرہ بھی دیکھیں
والسلام  تنویر پھولؔ

2013/8/10 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Tanwir Phool

unread,
Aug 11, 2013, 2:03:22 PM8/11/13
to BAZMe...@googlegroups.com
مکرر
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
جواب کا شکریہ ، مزید پیغام بھیجنے کے بعد یہ تحریر دیکھی  ، ہو سکتا ہے آپ کا خیال
درست ہو لیکن اس کا امکان کم ہے  آپ شاید لنکس بغور ملاحظہ نہیں فرماتے تین لنکس
میں سب سے اوپر دی مون اینڈ ہز اسٹارز جو لنک ہے اس میں تشریح میں انڈین تلوار ہی 
لکھا  ہے اور اس کے معیار کی تعریف بھی ہے ،     یہ صحیح ہے کہ ایک لفظ کے مختلف
معانی ہوتے ہیں لیکن ایسی تلوار جو انعام میں اونٹوں کے ریوڑ جیتے ، یہ بات سمجھ میں
نہیں آتی ۔ آپ کے کہنے کے مطابق اس کی نسبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف
بلا تکلف کی جاسکتی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تو اسے تبدیل فرما دیا
اصل مصرعے میں مھند من سیوف الھند  تھا اسے بدل کر مھند من سیوف اللہ کرنے کا حکم
دیا ۔  ہندوستان کے بارے میں حدیث کا متن میرے پاس نہیں ہے لیکن اس کا ذکر میری نظر
سے بہت گزرا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے شعر میں اسی کا حوالہ دیا ہے جس پر آپ نے
غور نہیں فرمایا    
میر عرب ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا      وطن        وہی        ہے    ، میرا      وطن       وہی   ہے
اس کے علاوہ کربلا کے حوالے میں بھی ہندوستان کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ
اہل عرب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے پہلے بھی ہندوستان سے واقف تھے
اور ان کے تجارتی رابطے بہت پہلے سے قائم تھے ۔ کیرالہ کا راجا شق القمر کا معجزہ دیکھ
کر مسلمان ہو گیا تھا اور ہندوستان میں سب سے پہلی مسجد کیرالہ میں ۶۲۹ عیسوی میں بنی
تھی یعنی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ مبارک میں ان کی وفات سے تین سال 
پہلے ۔  وکی پیڈیا کے یہ لنکس بغور ملاحظہ فرمائیں مسجد کا ذکر بھی ہے اور املی کا بھی۔
اگر اہل عرب ہندوستان سے واقف نہیں تھے تو املی کو تمرھند کیوں کہتے تھے؟ جسے انگریز
کہتے ہیں  tamarind


Tanwir Phool

unread,
Aug 11, 2013, 3:47:13 PM8/11/13
to Aijaz .Shaheen, rana.humay...@gmail.com, Aapka Mukhlis, Hussain Sikandar

Humayun Rasheed

unread,
Aug 11, 2013, 4:34:16 PM8/11/13
to BAZMe...@googlegroups.com

علیکم السلام
نکتہ وار گذارشات حاضر ہیں.
1. دی مون اینڈ سٹار والے لنک کی تشریح بهی تو کسی نے کی ہی ہو گی. میرا سوال ہی یہ تها کہ ایسی تشریح کی بنیاد کیا ہے.
2. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبدیل کرنے کی وجہ کی نسبت دنیاوی چیز کی بجائے اللہ تعالی کی طرف کئے جانے کو پسند کرنا ہے، ورنہ بنفسہ تشبیہ میں شجاعت عیاں ہے.
3. قصیدے میں مهند من سیوف اللہ نہیں بلکہ سیف من سیوف اللہ ہے، یستضاء به مهند جملہ معترضہ ہے.
4. جاننے سے مراد نام سے واقفیت نہیں ہے بلکہ اس حد تک جاننا کہ اس سے تشبیہ دی جائے. مثلا سنده کا نام جاننا ایک بات ہے لیکن سندهی بریانی کو بطور مدح کے استعمال کرنا یا کسی کهانے کی تعریف کیلئے اس سے تشبیہ دینا اور بات ہے. پس یہی مراد تهی.
5. ایک ہندو راجہ کا شق القمر کا واقعہ دیکه کر عرب کا رخت سفر باندهنا مشہور ہے، لیکن اس سے ہماری گفتگو میں کیا فائدہ؟
6. حدیث شریف کا معاملہ کافی نازک ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک شرعی دلیل ہوتی ہے. آپ کو شائد یاد ہو کہ کچه ماہ قبل بهی آپ کے کہنے پر ایک حدیث شریف کا متن آپ سے مانگا تها جو آپ نے پیش نہیں کیا تها. امید ہے اس بار ضرور پیش کریں گے.

مع السلام
ہمایوں رشید.

Sent from Gmail on Galaxy Note 10.1

Tanwir Phool

unread,
Aug 13, 2013, 7:02:21 AM8/13/13
to Hussain Sikandar, Aijaz .Shaheen
Assalaam-o-alaikum wa RAHMATULLAH wa BarakaatuHu
Yeh 29 Eiswi naheeN balke 629 Eiswi hai , Urdu maiN computer
6 ko hamza se Zaahir kar rahaa hai . 8 June, 632 Eiswi ya'ani 11 Hijri 
HUZOOR SALLALLAHU ALAIHI WA AALIHI WA SALLAM ki taareeKh-e-
Wafaat hai , yeh us se taqreeban 3 saal pahlay ki baat hai.
Wkipedia link bhi click kar ke daikhi'ey , ALLAH HAFIZ
Wassalaam , Tanwir Phool

2013/8/12 Hussain Sikandar <muns...@yahoo.co.in>
Kerala ki pehli masjid ke taluq se year 29 eesawi shayed hijri ke bajaye ghalti se likha gaya hayy

Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:



---------- Forwarded message ----------
From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
Date: 2013/8/11
Subject: Re: [bazmeqalam:26591] Re: {26579} kya shayri paighambari hay.?
To: BAZMe...@googlegroups.com


shaikh hussain

unread,
Aug 13, 2013, 10:43:27 AM8/13/13
to BAZMe...@googlegroups.com
tanweer saheb. salam. thanks for clarification. sorry for overlooking629 as 29 .

 
Dr. Sikandar Hussain,
Professor Physiology,Dr. V.R.K Women's Medical College,Hyderabad
Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913


From: Tanwir Phool <tan...@gmail.com>
To: Hussain Sikandar <muns...@yahoo.co.in>
Cc: Aijaz .Shaheen <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, 13 August 2013 4:32 PM
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:26668] Fwd: [bazmeqalam:26591] Re: {26579} kya shayri paighambari hay.?

Tanwir Phool

unread,
Aug 14, 2013, 1:35:12 PM8/14/13
to Aijaz .Shaheen, Hussain Sikandar
Wa alaikumassalaam wa RAHMATULLAH wa BarakaatuHu
Shaikh Hussain Sb. , Thanks for your kind reply.
Wassalaam , Tanwir Phool , http://duckduckgo.com/Tanwir_Phool


2013/8/13 shaikh hussain <muns...@yahoo.co.in>

Tanwir Phool

unread,
Aug 14, 2013, 2:27:21 PM8/14/13
to Aijaz .Shaheen, Tanwiruddin Ahmad
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
نکتہ وار جواب حاضر ہے
۱  ۔  تشریح کی بنیاد شارح ہی بتا سکتا ہے ِ آپ اس لنک پر اپنے ریمارکس لکھ کر استفسار کر سکتے ہیں
۲  ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی مہر شریف پر بھی اپنا نام نیچے اور اللہ کا نام اوپر لکھوایا تھا لیکن راقم الحروف کا سوال ایسی تلوار جو انعام میں اونٹوں کے ریوڑ جیتے 
    کے بارے میں تھا جس میں تشبیہ واضح نہیں
۳  ۔  راقم الحروف نے بھی پہلے یہی لکھا تھا لیکن مذکورہ بالا لنک میں مھند من سیوف اللہ لکھا ہے اس کے بارے میں آپ صاحب لنک سے استفسار کر سکتے ہیں
۴ ۔  علامہ اقبال کے شعر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ شعر غلط ہے؟ آپ نے سندھی بریانی کا حوالہ دیا لیکن املی کو عربی میں تمر ھند کہنے کے بارے میں کوئی رائے نہیں 
     دی؟
۵  ۔  وکی پیڈیا لنک ملاحظہ کریں اور آ خر میں جنگ اخبار کا مضمون بھی جس میں ہندوستانی راجا کو صحابی بتایاگیاہے اس سے ظاہرہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام ہندوستان سے واقف ہوں گے ہندوستان سے اہل عرب کی تجارت کا ذکر بھی وکی پیڈیا میں ہے
۶ ۔  احادیث کی عبارت میں اختلاف پایاجاتا ہے جبکہ  قرآن پاک میں ایسا نہیں قرآن سو فی صد درست ہے لیکن احادیث بیان کرنے میں راوی کی طرف سے بشری غلطی کا امکان موجود ہے
     کسی حدیث  کو ایک شخص شرعی دلیل مانتا ہے مگر دوسرا نہیں  فاتحہ خلف الامام ،  رفع الیدین ۔طلاق و حلالہ اور ایک رکعت وتر جیسے مسائل موجود ہیں
    مذکورہ حدیث کامتن میرے پاس موجود نہیں مفہوم کئی جگہ پڑھ چکا ہوں جس میں علامہ اقبال کا شعر بھی شامل ہے
   آپ جس حدیث کا حوالہ دے رہے ہیں اس کی صحت پر خود مجھے شبہ ہے جس میں لڑکیوں کو سورہ یوسف کا ترجمہ پڑھانے سے منع کیا گیا ہے اور اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ 
  وسلم کا فرمان بتایا گیا ہے  اس زمانے میں تو ترجمے کا سوال ہی نہیں تھا ۔ اگر آپ پاکستان میں ہیں تو جہان حمد پبلی کیشنز نوشین سینٹر اردو بازار کراچی سے جہان حمد کا مولانا احمد
  رضا خان نمبر منگوا لیں اور اس میں مولانا کا مضمون ملاحظہ فرمالیں اور اس پر اپنی رائے بھی دیں تاکہ حقیقت واضح ہو جائے  ،  یہاں میرے پاس کتب کی محدود تعداد ہے اس لئے      قراان کے علاوہ دیگر کتب کا حوالہ دینے میں دشواری ہوتی ہے
مع السلام
تنویرپھولؔ










2013/8/11 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Aug 14, 2013, 6:28:10 PM8/14/13
to bazmeqalam
سلام مسنون کے بعد عرض ہے۔ لنک جو آپ نے بھیجا تھا اُس پر تو اب بات چھوڑتے ہیں کیونکہ آپ نے ایک قسم کا قطع تعلقی کا اظھار کر دیا۔ 

محترم پھول صاحب' یہ حدیث کا معاملہ ہے اس میں سُنی سُنائی بات نہ صرف یہ کہ اہمیت نہیں رکھتی بلکہ آخرت کے وبال کا بھی ذریعہ ہے۔ آپ کا رفع یدین اور نہ جانے کیا کیا باتیں درمیان میں لانا اور لوگوں کی نظر میں حجیت حدیث کی بات کو محل نظر پیش کرنا بتاتا ہے کہ آپ کے پاس جواب نہیں ہے ورنہ ہمیں کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ آپ کے پاس جواب ہو تو آپ کا لہجہ کیا ہوتا ہے۔ یہ علیحدہ ایک موضوع ہے کہ آئمہ اربعہ رحمھم اللہ میں اختلافی مسائل (فاتحہ خلف الامام' رفع یدین وغیرہ) کی بنیاد انکار حدیث نہیں بلکہ اصول فقہ کا فرق تھا۔ دونوں نے کسی حدیث کا انکار نہیں کیا' کبھی موقع ملا تو لوگوں کے اس جھوٹ کی قلعی بھی انشاء اللہ کھولوں گا۔ یہاں بھی آپ نے بات کرتے ہوئے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا اور سنی ہوئی بات بغیر تحقیق کے بیان کر دی۔

ھند کا حدیث میں ہونے کا دعوی آپ کا تھا۔ اور دعوی کر کے دلیل تو مدعی پر ہوتی ہے نہ کہ دعوی آپ کریں اور دلیل میں ڈھنڈوں۔ حدیث میں مشرق کا ذکر ہونا یا ھند کا ہونا دو مختلف باتیں ہیں' یہ تو آپ پر واضح ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے نزدیک اس مشرق کی پیشین گوئی سے مراد موجودہ افغانستان' ایران اور پاکستان کے کچھ حصے ہیں۔ علامہ کے شعر کو حدیث پر منطبق کرتے ہوئے احتیاط حدیث کو حاصل ہونی چاہئے نہ کہ علامہ کو۔

آپ نے کتاب کا کہا' جس طرح لنک کے بارے میں اب آپ فرما رہے ہیں کہ صاحب لنک سے استفسار کروں' پھر آپ فرمائیں گے کہ صاحب کتاب سے استفسار کروں۔ تو اس سب میں آپ کا کام صرف کوئی بات کرنا تھا یہ دیکھے بغیر کہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟ میرے لئے آپ ہی صاحب لنک ہیں۔
دوبارہ مؤدبانہ عرض ہے' حدیث کی بات کرتے ہوئے ایسا نہیں ہونا چاہئے' اللہ تعالٰی ہم سب کی مغفرت فرمائے۔

آپ نے فرمایا املی کو تمر ھند کہتے ہیں' تو جناب یہ بھی بتائیے یہ نام کب پڑا؟ پانچ سو سال پہلے' ہزار یا پندرہ سو سال پہلے؟ یہ بات بھی تو دیکھنی پڑھے گی ناں؟ ہماری بات عربوں کا آج سے پندرہ سو سال پہلے ھند کی تلواروں کی تعریف کرنا اور شاعر کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کسی عربی کی بجائے) ھند کی تلوار سے تشبیہ دینا ہے' اور دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ھند کا نام لیکر کچھ بیان کرنا ہے' بس ان دعووں پر دلیل چاہئے تھی' اتنی سی بات' نجانے کیوں بڑھ گئی ہے زیب داستان کی طرح۔

ہمایوں رشید۔


2013/8/14 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Tanwir Phool

unread,
Aug 17, 2013, 3:05:40 PM8/17/13
to Aijaz .Shaheen
وعلیکم السلام
محترم ! بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ ذاتی حملے کرنے لگتے ہیں اور اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن پاک 
اور صحیح حدیث کے علاوہ کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی ۔ ہم لوگ اس فورم پر تبادلہ خیال کرنے اور کچھ سیکھنے کے لئے آتے
ہیں لڑنے کے لئے نہیں!  یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ لکھی ہوئی باتیں ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے پاس جواب نہیں ِ جواب حاضر
ہے لیکن میں نہ مانوں کا علاج میرے پاس نہیں ہے ! جواب سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے کبھی کوئی دعویٰ نہیں
کیا اور اپنی بات کو حرف آخرنہیں کہا۔ میں نے آپ کی بات رد نہیں کی تھی بلکہ یہ لکھا تھا کہ ہوسکتا ہے آپ کا خیال درست ہو۔میرے
پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں اسے کج بحثی میں ضائع کروں۔ مخلص صاحب نے قصیدہ بانت سعاد کا متن اور اس کا ترجمہ دیکھنے
کی خواہش ظاہر کی تھی اس لئے میں نے وہ لنک تلاش کر کے پیش کیا ، میں صاحب لنک کیسے ہو گیا؟
صحاح ستہ میں شامل سنن نسائی جلد دوم باب کتاب الجھاد ، غزوۃ الھند حدیث نمبر ۲۱۷۷ ، ۲۱۷۸ اور ۲۱۷۹ میں بزبان رسالت مآب
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھند یعنی ہندوستان کا ذکر موجود ہے۔
سنن نسائی میں ہی حدیث نمبر ۲۱۰۸  اور  ۲۱۰۹ (دونوں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہیں) میں ماہ رمضان کے حوالے سے حضور
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان مبارک نقل کرتے ہوئے ایک میں جنت کے دروازے اور دوسری میں رحمت کے دروازے بیان کیا گیا
ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مختلف احادیث کے متن میں اختلاف ہو سکتا ہے جبکہ قرآنی آیات میں ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
ھند یعنی ہندوستان میں ٹھنڈی ہوا کے بارے میں دارالعلوم دیوبند کا یہ جواب حاضر ہے۔
Fatwa No.1257/1176 = D / 1429 , answer No. 6546 dated 13th August , 2008
" It is surely known that the virtue of India has been mentioned in the traditions
of the Prophet (SALLALLAHU Alaihi wa Aa'lihi wa Sallam).There is one Hadith 
saying that HaZrat Adam (AS) was sent down to India , he was accompanied
with the breeze of paradise."
ریح فی الارض الھند کے بارے میں مستدرک الحاکم  کی یہ حدیث دیکھیں
Ibn Abbas (RA) said , Ali (RA) said " I feel cool breeze from Hind" ( Mustadrak Al-Haakim , Hadith
No.3954)

آپ وکی پیڈیا کے حوالے دیتے رہتے ہیں مگر میں نے وکی پیڈیا سے جو حوالے دیئے انھیں آپ نے نہیں دیکھا ۔ تمر ھند یعنی املی
کے بارے میں وکی پیڈیا کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں
"In Arabia , tamarind is found growing wild in Oman , especially Dhofar , where it
grows on the sea-facing slopes of mountains. It reached South Asia likely through
human transportation and cultivation several thousand years prior to the common
Era."
Wassalaam,
Tanwir Phool


2013/8/14 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Aug 18, 2013, 5:46:36 PM8/18/13
to bazmeqalam
سلام مسنون کے بعد عرض ہے۔ آپ جناب تو برا مان گئے۔ جب قرون اولی کے حدیث کے طالبعلموں سے بکثرت منقول ہے کہ وہ بڑے بڑے محدثیں سے بر سر محفل کہ دیا کرتے تھے ہم سے سند بیان کرو تو میں اور آپ کیا ہیں۔ جسطرح وہ جلالت شان کے باوجود اسے برا نہیں مانتے تھے تو ہمیں بھی نہیں ماننا چاہئے۔ آپ سے حدیث شریف کا متن طلب کیا ہے آپ پیش کر دیں‘ یہ کج بحثی کیسے ہے؟ پھر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ آپ شعر کی تشریح میں علامہ کی طرف جھکے چلے جا رہے ہیں‘ ناچیز حدیث شریف کی طرف دیہان منذول کروانے کی کوشش کر رھا ہے تو آپ برا مان رہے ہیں۔
میں نے کون سی بات کہی ہے جسے حرف آخر کہ رھا ہوں؟ سوال کا جواب نہ ملے تو دہرانا حرف آخر نہیں کہلاتا۔ اب بھی آپ نے جو جواب دیا ہے اُس کے بارے میں پڑھئے اور بتائیے یہاں کس طرف کج بحثی ہو رہی ہے؟ یاد رہے ہماری بات ہو رہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ھند کی تلوار سے تشبیہ دی گئی ہے یا نہیں‘ اور اب اپنی پیش کردہ روایات دیکھئے کہ یہ اس پر کیسے دلالت کر رہی ہیں۔

تمر ھندی اصل میں افریقہ میں پیدا ہوتی تھی‘ آپ نے بھی یہی لکھا ہے‘ مصر میں قبل مسیح میں استعمال ہوتی تھی اور یہیں سے آگے ایشیاء اور عرب میں آئی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اس کے نام میں ھند کا لفظ ہونے سے کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اس کا تعلق ھندوستان سے ہے‘ جبکہ میں پہلے آپ کو تفصیل بتا چکا ہوں کہ ھند بذات خود بھی عربی کا لفظ ہے ضروری نہیں جہاں لفظ ھند استعمال ہو وھاں ھندوستان کو درمیان میں لایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس صورت میں تو اسکا نام تمر افریقی ہونا چاہئے تھا۔ اور تیسری بات یہ کہ وکی پیڈیا کا اصولِ تفسیر‘ حدیث اور فقہ سے تعلق نہیں ہے‘ ھاں معلومات موجود ہیں اس کا میں نے کبھی انکار نہیں کیا‘ اور اب بھی یہاں سے کہیں بھی املی کے عربی نام میں ھند ہونے کا تعلق ھندوستان سے نہیں جوڑا گیا حالانکہ آپ کا فرمانا یہی ہے کہ تعلق ہے۔ اب بھی آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے دعوی نہیں کیا تو میں خاموش ہی ہوں۔ اب بھی آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے لنک میں جواب دعوی ہے تو تب بھی میں خاموش ہوں۔

اب آئیے حدیث شریف کی طرف۔
آپ نے علامہ کا شعر پیش کیا؛ میر عرب ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے۔ اور بارھا استفسار پر روایت پیش کی جو کہ مستدرک حاکم سے مکمل یہاں نقل کر رھا ہوں؛
قال علي بن أبي طالب أطيب ريح في الأرض الهند أهبط بها آدم عليه الصلاة والسلام فعلق شجرها من ريح الجنة
علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا زمین کی سب سے اچھی ہوا ہند کی ہے‘ آدم علیہ السلام کو اُتارا گیا تو اس کے درختوں نے جنت کی ہوا سے کچھ حاصل کر لیا۔
آپ ہی بتائیے کہ یہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے یا علی رضی اللہ عنہ کا؟ اسکا مطلب ہے کہ علامہ نے اس شعر سے استدلال نہیں کیا تو اب اسے پیش کرنا حدیث ہی نہیں علامہ پر بھی ظلم ہے۔
دوسرا علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہ کب کہا ہے کہ ٹھنڈی ہوا آتی ہے؟ آپ نے بات حدیث کی کی لیکن بِناء کسی کے غلط ترجمے پر رکھ رہے ہیں؟
تیسرا یہ کہ آپ نے پوری بات ذکر نہیں کی جبکہ قرآن اور حدیث کے معاملے میں جملے کا حصہ حذف کرنا جو کہ معنی کی تفصیل بیان کر رھا ہو جائز نہیں ہے۔
چہارم‘ آپ نے پھر یہ بات کسی لنک سے لیکر محض دفاع کیلئے بھیج دی بغیر دیکھے کہ کون کہ رھا ہے اور کیا کہ رھا ہے‘ مثلا درج ذیل لنک؛

پھر آپ نے ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی۔ ان روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ھند میں شامل ہونے والوں کی تعریف کی۔ اور آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی نہیں بلکہ دوسرے غزوات مثلا قسطنطنیہ کیلئے جانے والوں کی بھی تعریف کی۔ یہ جانے والوں کی تعریف یا ہمت افزائی ہے نہ کہ خود اُس جگہ کی۔ اس روایت کو یا تو کتاب الجھاد میں ذکر کیا جاتا ہے یا دلائل النبوہ میں یعنی یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے وقت کی خبر دے رہے ہیں اور بشارت دے رہے ہیں تاکہ لوگ دل جمعی کے ساتھ اس کی تیاری کریں۔ غزوہ ھند امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کے دور میں باقائدہ تو شروع نہیں ہو سکا لیکن ان کے بعد والے حکمرانوں نے ضرور اس طرف دیہان دیا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ نے ھند پہلی بار فتح کیا‘ غالبا چوتھی صدی ہجری میں۔ یہ بات امام صاحب اسی حدیث کو بیان کر کے بیان کرتے ہیں جو شائد دلالت کرتی ہے کہ سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ اس حدیث کے مصادیق میں سے ہیں جبکہ لوگ ہیں کہ انہیں بُرے القابات دیتے ہیں۔

بہرحال آپ دونوں روایات جو کہ آپ کو پہلی ہی بار بیان کر دینی چاہئے تھیں‘ لیکن بارھا استفسار پر بیان کیں‘ یا شائد تلاش کیں‘ تو آپ کے سامنے ہے کہ اِن سے کہیں بھی ھندوستان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کوئی بہادری کی فضیلت یا تفصیل ثابت نہیں ہوتی کہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ھند کی تلوار کہے یا تشبیہ دے۔ عربوں کیلئے اپنے سے بڑھ کر کسی کو ماننا خلاف اصل یعنی مشکل ہے جس پر ایک انتہائی مضبوط دلیل چاہئے اور وہ ابھی تک تو نہیں مل سکی۔

میں پھر مؤدبانہ گذارش کروں گا کہ یہ حدیث کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں احتیاط کیجئے اور حدیث سے معنی تب اخذ کریں جب خود دیکھ لیں۔ یہ مناسب نہیں لگتا کہ آپ ایک بات کو حدیث کہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیں اور پھر دوسرے کو یہ بتاتے ہوئے تکلیف ہو کہ ایسا نہیں ہے۔ اگر صاحبِ لنک نے غلط لکھا ہے تو آپ پہلی ہی بار کہ دیں کہ معلوم نہیں‘ آپ ہی تو احادیث کا حوالہ دے رہے ہیں تو مجبورا مجھے جواب دینا پڑ رھا ہے۔

مع السلام
ہمایوں رشید۔


2013/8/17 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Aug 19, 2013, 5:14:45 PM8/19/13
to bazmeqalam
محترم سکندر صاحب‘ آپکی ایمیل سے بات شروع ہوئی اور نجانے کس سمت چل نکلی۔ بہرحال آپکی بات کا جواب میرے نزدیک یوں ہے؛

اول تو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ کہا کس نے ہے۔ کیونکہ کہنے والے کے عقیدے کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے۔ اسکی میں پہلے مثال بھی دے چکا ہوں کہ کتب بلاغت میں یہ مثال دی جاتی ہے کہ “بہار نے ہریالی کر دی“ اگر کوئی اللہ کو ماننے والا کہے تو اسناد مجازی ہے اور اگر دہریہ کہے تو اسناد حقیقی ہے۔ پس آپکے کہے ہوئے جملے کو کہنے والا کون ہے‘ تبھی معلوم ہو گا کہ کیا کہنا چاہ رھا ہے۔ دوم‘ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ کسی مسلمان نے کہی‘ تو اب پہلے یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر لفظ کے معنی مقصود میں سیاق و سباق کا دخل ہوتا ہے۔ اسکی مثال قرآن میں یوں ہے کہ اللہ تعالٰی نے اولاد کو فتنہ کہا اور دوسری جگہ کہا فتنہ قتل سے بڑھ کر (جُرم) ہے‘ لیکن ظاہر ہے دونوں جگہ فتنہ کا معنی یکساں نہیں‘ ایک جگہ فساد ہے اور ایک جگہ آزمائش۔ اسی طرح پیغمبری کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو نبی مراد ہوتا ہے اور اگر کسی اور کی طرف ہو تو مراد ہو سکتا ہے بات کو اچھا پہنچانا۔ اگر آپ اپنے کہے ہوئے جملے کا معنی یہ لے لیں کہ شاعری میں بات کو آسانی اور جلدی سے اچھے انداز میں پہنچایا جاتا ہے تو جملے پر کوئی اشکال نہیں رہتا کہ شاعری پیغامبری یعنی پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ‘ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض اشعار حکمت انگیز اور بعض بیانات سحر انگیز ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اُس دور کے مشہور شاعر لبید کی تعریف کی۔ یہ روایت غالبا شمائل ترمذی میں ہے۔ پھر ایک روایت صحیح مسلم میں بھی آئی ہے کہ صحابی فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں اُمیہ کے اشعار آتے ہیں‘ میں نے کہا ھاں‘ فرمایا ھَیہ (یعنی سناؤ) میں نے شعر سنایا‘ فرمایا ھیہ‘ میں نے ایک اور سنایا‘ فرمایا ھیہ‘ یہاں تک کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے۔
پس معلوم ہوتا ہے کہ شعر و شاعری کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ حسان بن ثابت‘ کعب بن مالک‘ عبداللہ بن ابی رواحہ رضی اللہ عنھم وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اشعار کہا کرتے تھے جو کہ مشہور ہیں۔

تیسری اہم بات یہ کہ آپ نے جو آیت پیش کی ہے اُس کا ترجمہ ہے کہ شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ اگر شان نزول دیکھیں تو یہ اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کیا کرتے تھے اور لوگ اِن کی باتوں کو لیکر ہنسی مذاق کرتے تھے تو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ شعراء کی اتباع گمراہ کرتے ہیں۔
اور اگر اسے عمومی معنی میں لیں تو بھی ہمیں چاہئے کہ کسی شاعر کا مقام ایسا نہ بڑھائیں کہ اُس کے اشعار سے قرآن اور حدیث کو بیان کرنا یا سمجھنا شروع کر دیں‘ کہ شعر کو قرآن یا حدیث پر منطبق کرنے کیلئے تفسیر اور شرح کو توڑ موڑ کر پیش کریں لیکن شعر پر ایمان قائم رکھیں۔ بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ شاعر کی تعریف کریں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق بات کرتا ہے اور ساتھ شعر کو آیت یا حدیث کے ذیل میں بیان کریں۔ اگر ہم اس سے اُلٹ کریں گے تو گمراہ ہو جائیں گے کیونکہ جہاں شاعر غلطی کرے گا وھاں ہم بھی کر جائیں گے اور اس بات کا مصداق بن جائیں گے کہ شاعروں کی اتباع گمراہ کرتے ہیں‘ العیاذ باللہ۔
پھر اس آیت کا محمول یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ شعروں کے پیچھے لگ کر زندگی کی حقیقت سے ہٹ کر مجاز کے پیچھے لگ جاتے ہیں‘ پس غزلیں وغیرہ پڑھتے ہیں اور اس سے متاثر ہوتے ہیں‘ اور نوجوانوں میں یہ بات عام پائی جاتی ہے۔ آپ عام زندگی میں ہی دیکھ لیں کہ لوگوں کو کلام پاک اتنا نہیں آتا جتنی غزلیں آتی ہیں اور وجہ یہی ہے کہ متاثر ہوتے ہیں۔ پس آیت کو عمومی عمل پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ اکثر شاعروں کا اتباع کرنے والے لوگ ایسے ہیں کہ گمراہی کی ہی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں‘ لیکن یہاں گمراہی بمعنی کفر نہیں بلکہ بے عملی اور بد مذھبی کہا جا سکتا ہے۔ اس پر اگلی آیت بھی دلالت کر رہی ہے کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی زندگی کا مقصد آخرت کی تیاری ہے اور زندگی ایسے گزرے جیسا کہ سنت ہے اور یہ ایک ہی وادی ہے‘ لیکن شعراء زندگی کے ایسے پہلو پیش کرنے لگتے ہیں کہ اِن کے پیرو اکثر زندگی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔
یہاں جو ہم گمراہ ترجمہ کر رہے ہیں یہ عربی لفظ ہے اغوا‘ اور یہ اُردو میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اغوا ہونے والے کو مغوی اسی لئے کہتے ہیں کہ جس رستے پر جانا چاہئے تھا اُس سے ہٹ گیا‘ وجہ کچھ بھی ہو اگرچہ عرف عام میں اغوا سے معنی یہی لیا جاتا ہے کہ اُچک لیا۔ پس اگر اس طرح سے دیکھا جائے تو معنی بنے گا کہ شاعروں کی اتباع وہ کرتے ہیں جو اغوا ہو چکے ہیں یا ایسے رستے پر ہیں جہاں سے اغوا ہو جانے کا ڈر ہے‘ اور اسطرح یہ اشارہ ہو سکتا ہے شیطان کی طرف جیسا کہ سورہ حجر میں فرمایا؛
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ
جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے۔
پس آپ دیکھیں کہ یہاں بھی غاوین کا کہا کہ وہ تیرے رستے پر چل پڑیں گے۔ پس اگر اس لحاظ یعنی دونوں آیتوں کو ملا کے دیکھیں تو شاعروں کے پیچھے چلنے والے اکثر بیچارے مغوی ہوتے ہیں کہ دِین کا زیادہ پتا نہیں ہوتا تو شعر کی متاثر کرنے والی خصوصیات اسے اغوا کر لیتی ہیں اور دِین کو اپنی مرضی کا رنگ پہنا کر اسے اصل سمجھ کر پیچھے چلتے رہتے ہیں یعنی اغوا ہوئے رہتے ہی‘ اور اغوا ہونے والوں کے بارے میں وعید شدید ہے کہ؛
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ - وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
اور بہشت پرہیزگاروں (یعنی پُر خار وادیوں سے بچنے والوں) کے قریب کردی جائے گی - اور دوزخ گمراہوں (یعنی جو شیطان کے ھاتوں اغوا ہو گئے) کے سامنے لائی جائے گی۔

واللہ اعلم

اللہ تعالٰی ہمیں اغوا ہونے سے بچائے‘ اور دِین کو شعر و شاعری سے سمجھنے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنے والا بنائے۔

جہاں تک شعر و شاعری دِین کی مؤیّد ہے تو قابل قبول ہے‘ اس کے بعد گمراہی کا ذریعہ۔

مع السلام
ہمایوں رشید۔


2013/8/7 shaikh hussain <muns...@yahoo.co.in>

--

shaikh hussain

unread,
Aug 20, 2013, 1:36:54 PM8/20/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب ھمایون رشید صاحب۔ سلام مسنون۔ شاعری اور پیغمبری پر آپ کے جواب کا بھت بھت شکریہ۔ اس سے قبل ڈاکٹر شیر شاہ کے مراسلہ پر آپ کے تبصرے پڑھ کر بے ساختہ اسکول کا دور یاد آگیا جبکہ ھم نے شھنشاہ ھمایون اور شیر شاہ سوری کی جنگ کا احوال تاریخ کی کتاب مین پڑھا تھا فرق صرف نتیجہ کا ھے کہ آپنے شیر شاہ کو لا جواب کر دیا ۔جزاک الللہ
 
Dr. Sikandar Hussain
Prof physiology and HOD, Dr. V.R.K. Women's medical college, Hyd

Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913


From: Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
To: bazmeqalam <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, 20 August 2013 2:44 AM
Subject: [مراسلہ نمبر:26835] Re: {26473} kya shayri paighambari hay.?

Tanwir Phool

unread,
Aug 22, 2013, 7:38:04 PM8/22/13
to Aijaz .Shaheen
سلام کے بعد عرض ہے کہ آپ نے تو بات کا رخ ہی تبدیل کر دیا ۔ آپ نے ۱۰ اگست کے مراسلے میں اس بات پر شک کا اظہار فرمایا تھا کہ کیا وہ لوگ یعنی اہل عرب ہندوستان کو جانتے تھے ؟
جواب دینے پر آپ نے ھند والی حدیث کا متن طلب کیا جس کا حوالہ آپ کو دے دیا (اب تلاش کر کے صفحہ منسلک کر رہا ہوں ، ملاحظہ فرمالیں) ۔ آپ نے ڈاکٹر اسرار احمد کے حوالے سے مشرق کے بارے میں حدیث کا ذکر کیا لیکن اس کا متن اور حوالہ پیش نہیں کیا ! میں
پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہاں امریکا میں میرے پاس کتب کی محدود تعداد ہے اس لئے متن دینا دشوار ہوتا ہے اور یادداشت پر بھروسا
کرنا پڑتا ہے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے اور حرف بحرف محفوظ ہے ۔ یہ نہایت آسانی سے دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ متون میں اختلافات کا امکان ہے جیسا کہ منسلک صفحات سے ظاہر ہے۔
شاعر یعنی حضرت کعب بن زہیر کے ھند کہنے سے کیا مراد تھی ؟ وہی بہتر جانتے ہوں گے یعنی المعنی فی بطن الشاعر۔ ہم صرف امکانات پر غور کر سکتے ہیں اور اب تو وہ مصرعہ رہا ہی نہیں اس لئے اس پر خواہ مخواہ بحث کرنا لایعنی بات ہے 
ہم صرف امکانات پر غور کر سکتے ہیں اس لئے میں نے لکھا کہ ہو سکتا ہے آپ کا خیال درست ہو ، میں نے اپنی بات پر اصرار نہیں کیا
آپ ہی کر رہے ہیں !  مستدرک کی روایت کے حوالے سے عرض ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ وہی بات کہتے تھے جو انھوں نے حضور
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنی اور بالفرض اگر خود بھی کہی تو کیا وہ اہل عرب میں شامل نہیں تھے ؟ جبکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اہل عرب ہندوستان سے واقف ہی نہیں تھے (آپ کی ۱۰ اگست والی ای میل)  حضرت علی کرم اللہ وجہ نے ھند کی ہوا کی تعریف کی ہے ، اہل
ھند کی نہیں  دونوں میں فرق ہے ۔ اسی طرح یہ کون کہہ رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یا کسی صحابی نے ہندوستان
کی بہادری کی فضیلت بیان کی ! یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ اگر کسی نے تلوار کے میٹیریل کی تعریف کی ہو تو اس میں وہاں کی بہادری کا
ذکر کہاں سے آگیا ؟ وزیرآباد کی چھریاں اور چاقو معیار کے لحاظ سے اچھے مانے جاتے ہیں تو کیا وزیر آباد والے سب سے زیادہ بہادر
ہو گئے ؟
دارالعلوم دیوبند کے فتوے پر آپ نے کوئی تبصرہ نہیں فرمایا ؟ اس کا لنک بھی پیش خدمت ہے ، ملاحظہ کیجے

وکی پیڈیا میں لکھا ہے کہ املی ہزاروں سال پہلے جنوبی ایشیا میں پہنچ چکی تھی
                                                                                                http://en.wikipedia.org/wiki/Tamarind
املی کو ’’ انڈین ڈیٹ‘‘ لکھا ہے ، انڈین کہنے سے کیا سمجھا جائے گا ؟     والسلام   تنویرپھولؔ


2013/8/18 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
Sunan-Nasai-page336-Ghazwa-e-Hind.jpg
Sunan-Nasai-page337-Ghazwa-e-Hind.jpg
Sunan-Nasai-page54-roza.jpg
Sunan-Nasai-page55-roza.jpg
Sunan-Nasai-page56-roza.jpg
Sunan-e-Nasai-2108.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages