احسان سہگل.قلم کاروں کے تہنیتی رنگ

134 views
Skip to first unread message

Bazm e Qalam

unread,
Dec 3, 2011, 6:02:06 AM12/3/11
to 1 بزم قلم


 

Ehsan Sehgal.'s picture
احسان سہگل.قلم کاروں کے تہنیتی رنگ


    آپ نے اپنی کتاب میں فن پر بہت بھرپور زور دیا ہے اور ایسی ایسی بحروں میں طبع آزمائی کی ہے کہ اردو میں

عام طور پر مروج نہیں ہیں اور یہی بات اسے دیگر کتب سے منفرد اور ممتاز ٹھہراتی ہے۔ آپ نے جو دیباچہ کتاب

کا دیا ہے۔ اس سے آپ کے شاعرانہ سفر کا سارا منظر کھل کر سامنے آجاتا ہے اور کراچی ایسے شہر میں جو دادو

تحسین آپ کو ملی، اس سے آپ کی ادبی منزلت از خود طے پاجاتی ہے۔ تاہم اردو میں چونکہ ’’شاعری‘‘ رواج،

فیشن اور سستی شہرت کے حصول کے لئے عام طور سے بہت بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے اور اس کے میدان

میں جوڑ توڑ، ستائش باہمی وغیرہ کا سلسلہ بھی زیادہ چل نکلا ہے، سو اچھے برے کی تمیز نہیں ہو پا رہی بلکہ کہئے

صادق و مخلص سخن ور پیچھے رہتے جارہے ہیں اور کہنی مار کر ، یادوسرے کو کسی حربے سے گرا کر بد گو اپنا ڈنکا

بجوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں شوق اور ذوق کے تحت شعر گوئی ہوتی رہے تو غنیمت جانئے۔ ’’پرواز

تخیل‘‘ کو تسلیم کیا جانا چاہئے تھا۔ یقینا کسی حد تک اس کی پذیرائی بھی ہوئی ہوگی مگر مروجہ ادبیاتی بد عنوانیوں

کے باعث اصل مقام اس کا متعین نہیں ہو پایا۔

 

سید مشکور حسین یاد

    ’’پرواز تخیل احسان سہگل کی غزلیات کا مجموعہ ہے، لیکن ان حضرت نے اپنی اس کتاب میں جو کمال دکھایا ہے،

وہ بحور کا استعمال ہے ایک طرف تو مجھے یورپ میں ایسے شاعر ملے جو سرے سے وزن کے بارے میں انہیں کچھ

پتا نہیں ہے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے، اور ایک ہمارے احسان سہگل ہیں کہ یہ حضرت ایسے ایسے اوزان میں

غزلیں کہہ رہے ہیں جن میں عام شاعر تو کیا مجھ ایسا کہنہ مشق شعر کہنے والا بھی شاید ان بحور میں شعر نہ کہہ

سکے۔ غزلوں میں خیالات تو وہی کرتے ہیں جو ہم آپ روز مرہ اپنے اذہان میں لاتے رہتے ہیں، لیکن اوزان کے

انوکھے پن سے ان میں ایک عجیب قسم کا دبدبہ اور رعب پیدا ہو گیا ہے۔ جس کو ہر پڑھنے والا محسوس کر سکتا

ہے۔

 

نثار احمد اختر

﴿نوائے وقت کراچی1995ء﴾

    ’’جناب احسان سہگل اس عہد کا حساس شاعر، ایک معروف صحافی، ایک بے باک انسان اور کھری بات کرنے

اور کہنے والا آدمی ہے۔ وہ کہتا ہے ’’میں غلط تعریف و توصیف کا قائل نہیں ہوں۔ میں جھکنے اور تبصرہ یا تعارفی

نوٹ لکھوانے کے لئے تعلیم یافتہ ’’توپ‘‘ اور خود ساختہ ادیبوں اور شاعروں کے پیچھے بھاگنے کا عادی بھی نہیں۔ ‘‘

انہوں نے پرواز تخیل میں جمال فکر کی آبرو رکھنے کا ثبوت مہیا کیا ہے۔ ‘‘

مرے خلوص کی حد میں جو گفتگو ہوگی

جمال فکر کی بے شک وہ آبرو ہوگی

    ان کے سارے کلام میں ایک رو ضرور موجود ہے جو شدت احساس کی ہے۔ رباعیوں اور آزاد نظموں میں اس

کو زیادہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔

دھیمے دھیمے شعلہ سا اٹھتا ہے

سوز غم سے جب دل سلگتا ہے

    ان شعلوں کی آنچ اس سوز غم کی پگھلاہٹ ان کے اشعار میں موجود ہے۔ موجودہ دور کے حساس اور باشعور

انسان کے سامنے قدم قدم پر منافقت ، فرقہ پرستی کا زہر ، لوٹ مار، دھوکہ دہی، نفسانفسی، ریاکاری، ابن الوقتی،

مطلب پرسیت، جاہ پرستی، خوشامدانہ چاپلوسی اور بغض و عناد آڑے آتے ہیں۔ اور وہ ان سے شدید متاثر ہوتا ہے

انہی کے درمیان وہ غم روزگار میں الجھا ہوا ، لڑ کھڑاتا ہوا، اپنے کو بچاتا ہوا دن پورے کر رہا ہے۔ پھر ایسے

حالات میں وہ بعضمیں وہ بعض اوقات ان پر سوچتا ہے تو رائے زنی کا حق بھی رکھتا ہے۔

تو نے اے پیر طریقت

بیچ ڈالی ہے دعا تک

اوڑھ کر فرقوں کے خرقے

ہم چلے ارض و سما تک

    مختصر یہ کہ ان کا بیشتر کلام معیاری اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ آج کل جو شاعری سر پیر سے

ننگی شائع ہو رہی ہے ایسے میںان کی ’’ملبوس‘‘ شاعری واقعی قابل قدر ہے جو کہ پر معنی اور پر مغز بھی ہے اور

اس سے ہر با ذوق لطف اٹھا سکتا ہے۔ 

 

ڈاکٹر مختار الدین

﴿رو تھرہام برطانیہ 1996ٰء﴾

    ’’عروض کے بارے میں میری معلومات فقط کام چلائو ہیں۔ یعنی صرف شعر کہنے کی حد تک ، شعر پر کھنے کے

لئے عروض کا گہرا علم درکار ہے،جس کا دعویٰ مجھ کو نہیں ہے، لیکن آپ کی کتاب دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آپ نے

عروض کا اچھا مطالعہ کیا ہے کیونکہ ہر غزل کی بحر اور اس کے ارکان بھی آپ نے لکھ دیئے ہیں۔ اس سے نو آموز

شاعروں کو بہت فائدہ پہنچے گا کیونکہ اکثر نو آموز شعرا خوداپنے شعر کی تقطیع نہیں کر سکتے۔ یہ واقعی اجتہاد ہے۔ جو

آپ نے کیا ہے۔ایک اچھے شعر پر نظر پڑی

اداسی ہی متاع زندگی ہے

اسی حالت میں یارو جی رہا ہوں

    سیدھا صاف اور اچھا شعر ہے۔ یہ شعر تو بہت اچھا ہے۔

دل کے کسی خانے میں

غم بھی نہاں ہوگیا

    اسی طرح یہ شعر بھی اچھے ہیں۔

زندگانی کی کیوں دعا مانگوں

بے وفائوں سے کیا وفا مانگوں

یاں اذیت ہے واں جہنم ہے

میں کہاں جائوں اور کیا مانگوں
یا

جو خلوص تیرے چہرے پہ ہے

وہ خلوص تیرے دل میں نہیں

 

ڈاکٹر امام اعظم

﴿ایڈیٹر تمثیل نو ، دربھنگہ ، انڈیا جون 2003ء﴾

    ’’افکار کی خوشبو‘‘ کے خالق احسان سہگل ہالینڈ میں رہ کر بھی نعتیہ اشعار خوب کہتے ہیں۔ایک شعر ملاحظہ

فرمائیے

یہاں آگیا جو، یہیں کا ہوا وہ

محمد(ص) کی محفل کا ایسا سماں ہے

    انہوں نے جو اشعار لکھے ہیں اس کی بحر بھی بتائی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شعر گوئی کے علاوہ عروضی

واقفیت بھی بہت ہے۔

    غزلوں میں لطافت کے عنصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چند شعر ملاحظ ہوں

عشق میں ایسے بھی موڑ آئے

رشتے ناتے سبھی توڑ آئے

کام سارے پڑے ہی رہتے ہیں

ساتھ گر ہم نشیں نہیں ہوتا

خود دھوپ میں جو جلتا رہا خامشی کے ساتھ

سایہ فگن ہر ایک پہ وہ ہی شجر رہا

گرشاخ نہ ہو، پھول نہیں اگتے کبھی

دل ہی نہیں جس کا وہ دے گا دل تجھے کیا

    احسان سہگل نے مختلف بحور میں اپنے تجربے کئے ہیں۔ اس تجربہ کو نبھایا بھی ہے۔ شعر کہنے سے پہلے یا بعد

میں شاید ہی کوئی شاعر اس کی بحر اور وزن کی تقطیع کر کے جائزہ لیتا ہوگا۔ شاعری تو ایک موجِ رواں کا نام ہے

اور اگر شاعر تقطیع میں الجھ جائے تو شعر کہنا دشوار ہو جائے گا لیکن احسان سہگل شعر کی بحر پہلے طے کر لیتے ہیں

اور تب شعر کہتے ہیں۔ ایسا شاعر میں نے بہت کم دیکھا ہے۔

    احسان سہگل قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے شاعری محض شاعری کے لئے نہیں کی بلکہ انہوں نے ایک مسلسل

چراغ جلانے کا کام اس مجموعہ کو پیش کر کے شروع کیا ہے۔ نو مشق اور عروض داں دونوں کے لئے اس مجموعہ

میں غور و فکر کی گنجائش ہے۔ یہ ایک اچھے شاعر اور عروض داں ہیں۔ ان کی شاعری کا لب و لہجہ ٹھہرا ٹھہرا سا

ہے۔ پھر بھی اس میں اس طرح کی جاذبیت ہے کہ شعر پڑھنے کے بعد تروتازگی محسوس ہوتی ہے۔

 

اسلم ثاقب

﴿ماہنامہ ’’پروازِ ادب‘‘ جولائی، اگست 2000ئ، پٹیالہ، انڈیا﴾

    شاعری محض داخلی صحرانوردی کا سفر نامہ نہیں۔ شاعری سوچتی اور دیکھتی بھی ہے۔ اس کی کھلی آنکھوں کی

مسافت ایسی فکر انگیز بوطیقا ہے کہ جس میں اپنی ذات کی شکست وریخت کے عذاب اور خارجی المیوں کی ستم

آفرینیوں کی خونچکاں داستاں اپنی اثر آفرینی کا جادو جگاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بقول جگر مراد آبادی کہ شعر حقیقتاً

شاعر کی ذہنیت کا سایہ ہوتا ہے۔ اور اس کے قدائے متاثرہ کا ایک نقش مری۔ احسان سہگل کا ’’انداز تخیل‘‘ ایک

ایسا شعری مجموعہ ہے کہ جس کے متعلق مختلف دانش وروں اور تبصرہ نگاروں کی مختلف آرائ ہیں۔ بقول ابن انشائ

مرحوم کہ انھوں نے اوزان اور شاعری کی دوسری نا روا پابندیوں سے بغاوت کی ہے۔ تاہم اس کے ہاں الزام پایا

جاتا ہے۔ سہگل کی شاعری میں اتنی سلاست ہے کہ بہت سی غزلیں با آسانی فلموں میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘

    لگتا ہے کہ ابن انشائ کو احسان سہگل کی جدید بحروں میں نئے تجربے پسند نہیں آئے۔ جبکہ احسان سہگل نے

باقاعدہ فن عروض پر عبور حاصل کرنے کے بعد مروجہ اور جدید بحروں میں مستند غزلیں ۔ قطعات رباعیات اور

آزاد نظمیں کہی ہیں۔ انھوں نے سوچا ہوگا کہ شاید ہمارے نقاد اور قارئین کے نزدیک ان کی یہ کاوشیں قابل

تحسین ہوں۔ لیکن انھیں کیا معلوم کہ تنقید نگار ان کی شاعری کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں گے۔ جبکہ میں سمجھتا

ہوں کہ مروجہ اور جدید اوزان پر ان کی گرفت کافی مضبوط ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اہل دانش نے انھیں ابھی

پہچانا نہیں۔

 

رفیق شاہین

﴿طویل مضمون سے اقتباس، علی گڑھ، انڈیا، جون 2009ئ ﴾

    سہگل اپنی شاعری کے رنگ و آہنگ اور لب و لہجے کے اعتبار سے لا تحریک ما بعد جدیدیت کے معاصر شعرا کی

صف اول میں نظر آتے ہیں۔ نئے نئے مضامین اور نئے لب و لہجے کے باوجود ان کی شاعری کا دوسرا سرا روایت

سے جڑا ہوا ہے۔ مابعد جدیدیت اگرچہ ابہام و اہمال اور عدم تسلسل پر اصرار کرتی ہے اور معنی کی وضاحت پر

ژولیدگی و پیچیدگی کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کے باوجود بھی سہگل کے اشعار ابہامیت و مہملیت ، نراجیت و مجہولیت

تجریدیت و تکثریت اور ہر طرح کی ژولیدگی و پیچیدگی کی لایعنیت سے پاک و صاف ہیں۔

    ان کی شاعری میں نہ تو قدیم الفاظ و تراکیب کی تکرار ہے اور نہ ہی دور ازکار اور نامانوس اصطلاحات و

استعارات کا دخل ہے کہ جس سے شعر چیستاں ہی بن کر رہ جائے۔ ان کے شعر سادہ لفظی لہجے کی شگفتگی ، زبان

کی شائستگی و شستگی اور طرز بیان کی شیتفگی و نغمگی اور اسلوب کی جدت و ندرت کے سبب فوراً ہی دل میں اتر کر

مقر ذات میں مفہوم و معنی کا معطر اجالا چاروں طرف بکھیر دیتے ہیں۔

 

ڈاکٹر فراز حامدی

﴿طویل مضمون سے اقتباس، جے پور، انڈیا، 2009ئ﴾

    با عتبار لب و لہجہ احسان سہگل نئی غزل کے مابعد جدید شعرائ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات

یہ ہے کہ ان کے یہاں نہ تو تجریدیت پائی جاتی ہے۔ نہ نراجیت اور نہ ہی ان کی شاعری ابہامیت و مہملیت سے

داغ دار نظر آتی ہے۔ علامات و اصطلاحات اور استعارات و تلمیحات کو بھی انھوں نے زیادہ منہ نہیں لگایا ہے۔

ان کی ساری توجہ ترسیل و ابلاغ پر مرتکز رہتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی شاعری میں ماضی الضمیر کی ادائیگی کے

لیے راست اظہار کو ہی بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ احسان سہگل نے اپنی عروض دانی کا سکہ بٹھانے کے

لیے رباعی کے اوزان میں بہت سی غزلیں بھی مرتب کی ہیں۔ علاوہ ازیںموصوف کا کار نامہ یہ بھی لائق داد ہے

کہ انھوں نے بارہ ایسی رباعیاں تخلیق کی ہیں۔ جس میں صرف اخرب کے اوزان کو برتا ہے۔ اور دیگر بارہ

رباعیوں میں صرف اور صرف اخرم کے اوزان مستعمل کئے ہیں۔ اس طرح چوبیس24 رباعیوں میں انھوں نے

رباعی کے سبھی چوبیس اوزان کھپا کر خواجہ حسن قسطان کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شاندار کارنامہ اانجام دیا

ہے۔ واضح ہو کہ خواجہ حسن قسطان نے اخرب و اخرم کے حوالے سے جب یہ شرط عائد کی کہ رباعی کے چاروں

مصرعوں میں یا تو صرف اخرب کے اوزان برتے جائیں یا صرف اخرم کے یہ نہ ہوکے رباعی کا کوئی مصرع اخرب

کے وزن میں ہو اور کوئی اخرم کے وزن میں۔ رود کی ، جورباعی کا بڑا شاعر تھا۔ قسطان کی شرائط کو قبول کرنے کا

حوصلہ اسے بھی نہیں ہوا تھا۔ جبکہ یہ کام احسان سہگل نے کر کے دکھا دیا ہے۔

 

حنیف ترین

﴿سعودی عرب، جنوری 2005ئ﴾

    آپ اس عہد کے ممتاز شعرائ بلکہ استاد شعرائ کہا جائے تو بہتر ہے جس نے غالباً 19مروجہ بحروں پر طبع

آزمائی اور وہ بھی اسقدر کامیابی سے کی ہے کہ جس کی بہت زیادہ مثالیں اردو شاعری میں اس عہد میں نہیں

ملتیں بلکہ وہ شعرائ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنہوں نے یہ کوشش کی۔

    آپکا اسلوب اسقدر پیارا ہے کہ آپکی باتیں دل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔کچھ شعروں میں مہاجرت کا درد اسقدر

گہرا ہے کہ تمام وہ لوگ جو اردو کی بستیوں میں رہ کر ادب کی خدمت کر رہے کہ ان کے دلوں کو جھنجھوڑ کے رکھ

دیتا ہے۔

یہ غربت ، یہ تنہائی یہ انتظار

مری زندگی میں مزا ہی نہیں

    دیکھنے میں یہ شعر نہایت سادہ سلیس مگر اس کی تہہ در تہہ معانی کا انبار ہے. اس کے علاوہ یہ تمام شعر ادب

اعلیٰ کی بہترین مثال ہیں۔

تحریر نہیں ہے تو یقیں کیسے ہو

وہ قرض وفا ہم سے زبانی مانگے

کسی کے پاس بھی فرصت نہیں یہاں سہگل

لگا ہے ہر کوئی اپنے شکار کے پیچھے

ستارہ ہے گردش میں دن رات کا

ہوا ہے وہی ڈر تھا جس بات کا 

ہوتے ہم بھی جہان میں اونچے

اپنے ہونے کا گر یقیں ہوتا

ہاں نہیں تیری اگر

میرا بھی انکار ہے

جو شخص ایک آنکھ نہ بھایا کبھی مجھے

میری حیات کا وہی تو ہمسفر رہا

ہے یہ عجیب بات جہان حیات میں

مارے گئے وہی جنہیں مرنے کا ڈر رہا

امیدوں سے اب تو میں گھبرا گیا ہوں

بڑھاپے کی دہلیز پر آگیا ہوں

    میں اس قابل نہیں کہ آپ جیسے عظیم شاعر، استاد فن اور دانشور کی شاعری پر کچھ لکھ سکوں کیونکہ نثر سے میرا

دور دورکا بھی واسطہ نہیں یہ میرا صرف تاثر تھا جو میں نے کم سے کم الفاظ میں آپ کے سامنے رکھ دیا۔اور آخر

میں آپکے یہ خوبصورت شعر 

یہی سچ مری زندگانی رہا

یہی سچ مجھے لے گیا دار تک

مرے دل میں انبار ہے باتوں کا

تڑپتا رہوں گا میں اظہار تک

 

خالد عرفان

﴿29 اگست، 1974ئ، کراچی﴾

ابو الشاعراحسان سہگل کی خدمت میں

ادب میں اتنا اونچا ہے مقام احسان سہگل کا!!

ہماری سوچ سے باہر کلام احسان سہگل کا!!

’’ابو الشاعر‘‘ خطاب ان کو دیا کچھ عقلمندوں نے !

نئی دریافت کی ہے کچھ نئے جدت پسندوں نے!

ہاں، فن شعر کے جملے کے فل اسٹاپ ہیں سہگل

کہ شاعر تو نہیں ہیں شاعروں کے باپ ہیں سہگل

کوئی محظوظ ان کی شاعر ی سے روز ہوتا ہے،

کلام ان کا جو پڑھتا ہے وہ لطف اندوز ہوتا ہے،

یہ اردو شاعری میں کچھ نئی بحروں کے موجد ہیں،

میں گنتی کیا کرائوں بس کئی بحروں کے موجد ہیں

وہ بحریں جنکا اب پیدا نہ ہوگا موجد ثانی!

مرے ’’مائنڈ‘‘ میں بھی آنہیں سکتیں بآسانی

وہی بحریں کہ جن کو اہل فن بھی کم سمجھتے ہیں

’’نہ ان کو تم سمجھتے ہو نہ ان کو ہم سمجھتے ہیں‘‘

 

عبدالقوی ضیا﴿مرحوم﴾

﴿ستمبر 2002ئ ، کینیڈا﴾

    آپ کا کلام خاصے عرصے سے پڑھتا چلا آرہا ہوں۔ آپ کے خطوط جو دلچسپی سے خالی نہیں ہوتے۔ مطالعے میں

آئے۔ اور آپ کی عروض دانی کا سکہ بٹھا گئے۔ ڈاکٹر مناظر ہر گانوی نے جو آپ پر گوشہ شائع کیا ہے۔ وہ نظر سے

نہیں گزرا۔ انہیں لکھوں گا کہ اگر کوئی کاپی ان کے پاس محفوظ ہو تو اسے حاصل کرنا چاہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ

انہوں نے آپ کی ادبی کاوشوں کا احاطہ معروضی انداز میں کیا ہوگا۔

    آپ نے اپنا شعری مجموعہ مجھے عنایت فرمایا۔ شکریہ بے حد شکریہ۔ واپس آکر پہلے جستہ جستہ پھر پوری توجہ سے

پڑھا۔ دل خوش ہوا۔ علم عروض سے آپ کی واقفیت اور بحور سے آپ کی ہمہ دانی لائق ستائش ہے۔ آپ نے اپنے

مجموعوں میں ان بحروں کا ذکر کر کے جن میں وہ کہی گئی ہیں۔ ایک اجتہادی قدم اٹھایا۔ چند اشعار جو میرے من

پسند تھے۔ یہاں پیش کرتا ہوں۔

رات ہو کہ دن ہو وہ اشک بار رہتا ہے

شہر میں ترے بھی اک غم گسار رہتا ہے

دوسروں کی تلاش ہوتی کیوں

تو اگر قابل یقین ہوتا

زندگی کی راہوں میں

ہم سفر کوئی تو ہو

مرے پیار کا عالم دیکھ

ترا گھر بھی گھر لگتا ہے

نہیں ممکن یہ مجھ سے

کہوں اچھا بُروں کو

میں تو خود مانگتا ہوں

دوں گا کیا دوسروں کو

اس شعر میں بڑی ندرت ہے۔

یہ بھی جینے کا ایک ڈھنگ ہے دوست

بت تراش کر بت فروش ہو جا

    یہ شعر حقیقت ہے۔

دیارِ غیر کے زخموں کی کس سے بات کروں

نہیں سکون ہے اب تو مرے وطن میں بھی

    دل میں کھب کر رہ گیا یہ شعر

پوجا ہوتی پوجا کا گھر ہوتا

کاش میں بھی ایک پتھر ہوتا

وفا کی پاس داری کے لئے دوست

نہیں دیتے ہیں دھوکا دوستی میں

کبھی ناراض ہونا اور کبھی خوش

لڑکپن یاد ہے تیری گلی کا

کوئی دبوچ لے مجھ کو بھی اپنی بانہوں میں

کبھی کبھی مرے دل میں یہ التجا رہی ہے

ماہئے اچھے لگے۔ ساز تخیل میں بھی مجھے چند شعر اچھے لگے۔

میں اٹھارویں سال میں تھا

خواہشات کے جال میں تھا

عقیدہ عقیدت نہ تھا

فسانہ حقیقت نہ تھا

 

ابن انشائ

﴿کراچی، 1972ئ﴾

    احسان سہگل صاحب پہلے شاعر نہیں ہیں، جنہوں نے اوزان اور شاعری کی دوسری ناروا پابندیوں سے بغاوت کی

ہے۔ تاہم اس کے ہاں التزام زیادہ پایا جاتا ہے۔ شاعری میں اتنی سلاست ہے کہ بہت سی غزلیں با آسانی فلموں

میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ 

 

ارشاد الحق قدوسی

﴿کراچی، 1974ئ﴾

    احسان سہگل نہ صرف اچھے شاعر ہیں بلکہ قابل قدر صحافی اور انشا پرداز بھی احسان سہگل ان نوجوان دانشوروں

میں ممتاز اور منفرد ہیں جنہیں شعر و سخن پر قدرت حاصل ہے۔

 

پروفیسر شوکت واسطی

﴿اسلام آباد، 1999ئ﴾

    احسان سہگل کے مجموعوں کے ناموں میں بڑی ہم آہنگی ہے اسی طرح ان کے تخیل میں بھی یکساں تسلسل

موجود ہے۔ فکر کا پیرا یہ ویسا ہی ہر جگہ خوب ہے۔ ذکر کسی قسم کا بھی کریں، بدستور اپنا ایک اسلوب ہے، زبان

مظہر سلاست ہے، بیان غماز نفاست ہے۔

 

عطائ الحق قاسمی

﴿اوسلو، ناروے، 1998ئ﴾

    میں آپ کی اس کاوش سے بے حد متاثر ہوا ہوں میرے نزدیک انداز تخیل شاعری کی گرائمر ہے۔

 

محمود ہاشمی

﴿برمنگھم، برطانیہ،1998ئ﴾

    شاعری میں نئے اوزان کا اضافہ کر کے آپ نے واقعی ایک کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

 

ترغیب بلند

﴿کوپن ہیگن ، ڈنمارک 1999ئ﴾

    میرے لئے کیا اردو ادب کی دنیا کے لئے احسان سہگل کی شاعری اور نثر نگاری قابل رشک ہے۔

 

اکبر حیدری آبادی

﴿برسٹل ، برطانیہ 1999ئ﴾    

    یورپ میں مقیم اردو کے اہل قلم میں بہت کم ایسے ہیں جو بیک وقت شاعر اور انشا پرداز ہوں۔ احسان سہگل کو

یہ اعزاز بھی حاصل ہے، ان کے شعری مجموعوں کے مطالعے سے جو بات سب سے پہلے کھل کر سامنے آتی ہے۔

وہ شاعر کا جذبہ اجتہاد اور تخلیقی جدت کا جوش ہے۔

 

اطہر راز ﴿مرحوم﴾

﴿لندن 1999ئ﴾        

    احسان سہگل کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کے بحر فن میں موج تخلیق حسن ادب کے کناروں سے ہمکنار ہے،

احسان سہگل نے نئی نئی تراکیب سے اپنے سرمائے تخلیقات کو خوب سے خوب ترکی جستجو میں فکر و فن سے مالا

مال کیا ہے، اور یہ نئی تراکیب حسن تغزل کا حصہ بن گئی ہیں۔

 

سید عاشور کاظمی

﴿لندن 1999ئ﴾        

    آپ نے جن بحور میں اشعار کہے ہیں، وہ سہل کام نہیں، بعض بحریں تو ایسی ہیں کہ قدرت کلام نہ ہو تو شاعر

کو ’’چاروں خانے چت‘‘ گراتی ہیں۔


مناظر عاشق ہرگانوی 

 

﴿بھاگل پور 1999ئ﴾    

    عصری تقاضے سے بھر پور احسان سہگل کی شاعری کا کینوس وسیع تر ہے۔ ان کے یہاں بے جا ابہام کی کیفیت

نہیں ملتی بلکہ اسٹائلسٹک اصول و قواعد سے انحراف کے باوجود ان کی شاعری کی زبان میں شعری ماحول کا تراشیدہ

صنم واضح طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔ غیرمرئی خیالات کو مرئی پیکر میں تبدیل کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے، اور

اپنے عہد کی بے حسی اور ذہنوں کے اضطراب کے درمیان تخلیقی رشتہ جوڑنے کی صفت ان کی شاعری میں بدرجہ

اتم موجود ہے، فکر، جذبے اور تخیل کی آمیزش سے تہہ داری کی جو فضا احسان سہگل کی شاعری میں ملتی ہے اور

تنوع کے قدرتی عمل کو واضح کرتی ہے، اسی میں ان کی انفرادیت پوشیدہ ہے۔

 

شارق جمال

﴿ناگپور 1999ئ﴾        

    احسان سہگل کے نئے اوزان کے اشعار میں زبان و بیان کا پہلو کمزور نہیں، مصرعوں میں سلاست کے ساتھ بر

جستگی بھی ہے، نیز یہ روز مرہ کی زبان میں ہیں جو سادہ زبان شعر کی چاشنی لئے ہوئے ہیں اور سہل ممتنع کی

تعریف میں آتے ہیں۔ جب کہ نئی بحروں میں غیر عنائیت والی بحروں میں وزن کو الفاظ دینے کیلئے شاعر کو مفہوم

کے مطابق الفاظ تلاش کرنے میں وقت تو ہوتی ہی ہے، لیکن خاطر خواہ مضمون بھی نہیں بن پاتا اختراعی اوزان

میں صاف زبان میں فصاحت و سلاست کو قائم رکھ کر وہی شاعر شعر کہہ سکتا ہے۔ جو ارکان اختراعی کو لے بنا کر

کسی حد تک گنگنانے والے انداز میں لے آتا ہو اور قادر الکلام شاعر بھی ہو۔ 

 

ندا فاضلی

﴿اگست2002ئ بمبئی﴾    

    افکار کی خوشبو میں نئے اور غیر مروج اوزان کے تجربے خوب ہیں۔ میں آپ سے متفق ہوں۔ وقت کے ساتھ

رائج آہنگ میں تبدیلی کی گنجائش ضروری ہے۔ یہ جدت فنکار کے اعتبار کی شناخت ہے۔ موسیقی کی دنیا میں فیوژن

کے عمل نے نئی راہوں کے امکانات ابھارے ہیں مولانا ظفر علی خاں نے ہندی پنگل کے ذریعے شعری مزاج کو

نئی فضا سے متعارف کرایا تھا۔ آپ کا جدت پسند مزاج آپ کی شعری آواز کو نئے رنگ ڈھنگ عطا کر رہا ہے۔ آپ

کے کئی شعر میرے حافظے میں محفوظ ہو گئے ہیں۔

دکھ اپنے فیصلے پہ مجھے عمر بھر رہا

در تیرا چھوڑ کر میں بہت دربدر رہا

ہے یہ عجیب بات جہانِ حیات میں

مارے گئے وہی جنہیں مرنے کا ڈر رہا

آپ کا شعر

تو اپنے دکھوں کی نہ کر بات

یہی دکھ میں نے بھی سہے ہیں

تو پڑھتے ہوئے غالب کا ایک شعر اچانک ذہن میں آگیا

توقع خستگی میں جن سے تھی کچھ داد پانے کی

وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے

    یہ فکری مماثلت آپ کی جدت میں روایت کی شمولیت کا ثبوت ہے جو آپ کی تخلیقی ہوش مندی کی پہچان ہے۔

 

پروفیسر ڈاکٹر خاور امروہوی

﴿4مئی 1996ئ﴾    

    میں کسی کتاب کو غور سے پڑھے بغیر اس پر اظہار رائے کرنے کا قائل نہیں۔ چنانچہ ’’پرواز تخیل‘‘ کا بھی بالا

ستعاب مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اس میں علم بدیع کی چھبیس صنعتیں نظم پائی ہیں۔

    احسان سہگل ایک پختہ کار اور پڑھے لکھے جواں سال شاعر ہیں انہیں اس کا ادراک Precepationہے کہ

خیالات کو شعری قالب میں کیسے ڈھالا جاتا ہے۔ ان کے نظریات اسلامی ہیں۔ اسی لئے ان کے کلام میں عریانی

نہیں۔ وہ بالغ نظر ہیں۔ انہیں Command on the Languageہے۔ ان کے کلام سے خود داریSelf respect

مترشح ہے۔ ان کے یہاں مجھے تیکھا پن Sharpnessنظر آیا اور ندرت خیال بھی ہے۔ ساتھ ہی میں احسان کی

بلندی تخیل کا بھی قائل ہوں۔

    احسان کے مذہبی ہونے کا علم تو ہمیں جبھی ہو گیا تھا۔ جب اس مجموعے کی ابتدائ میں نعت شریف دیکھی تھی۔

ان کے مزاج میں صوفیانہ للک بھی ہے۔ پرواز تخیل میں نظم شدہ ستائیس 27صنعتوں کی موجودگی میں احسان

سہگل کو مستند شاعر کون نہیں مانے گا۔ 

 

افتخار امام صدیقی

﴿15فروری2005ئ ممبئی﴾    

    احسان سہگل، اجتہادی فکر کے رسیا اور علم سمندروں کے غواص ہیں۔ کوہ و صحرا، ان کے لئے، بے حد تسخیری

ہیں انہوں نے ، عروضی پتھروں کو ، اپنی فکر سے موم کیا ہے۔ اردو کی نئی بستیوں میں ، عروض داں تو ہیں، مجہتد

نہیں۔

    عروض کرتب بازوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اساتذہ میں سے بیشتر، عروض کے پارکھ اور ماہر، شاعر بھی

تھے، لیکن ان کی شاعری ، بوجھل اور گٹھل ہی رہی۔ ایسی شاعری کتابوں اور رسالوں ہی میں دبی رہ جاتی ہے۔ یہ

شاعر ، میر، غالب، اقبال اور سیماب نہیں ہوتا۔ آتش، ناسخ، مصحفی ، ذوق، سودا، وغیرہ ہم نے بھی عروضی تجربے

کئے تھے، تاہم ان کے کلام سے، ضرب المثل اشعار، زبانوں زمانوں سفر کر رہے ہیں۔

    احسان سہگل نے ، عروضی تجربے کئے اور نئی بحریں بھی تخلیق کی ہیں۔ ایسی عروضی شاعر میں، رس بھری

موسیقی سمونا، ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ، انہوں نے ، نرم شعری تراکیب محاورے، کہاوتیں، استعمال کی ہیں۔

وجدان کو حکم بناتے ہوئے، اپنے کائناتی آہنگ کی تہوں میں اترے ہیں۔ موسیقی اور رنگ ان کے مزاج کا حصہ

ہیں۔ مصوری، رقص اور شعر تراشی، ان کا خاص وصف ہے۔

    ایسی شاعری، ہر ایک کو دل پذیر ہوتی ہے اور شعر کہنے کی محرک بنتی ہے۔ نئی نسل کو اگر آسان اور نئی بحروں

میں شاعری کرنی ہے تو احسان سہگل کو اپنا استاد کریں۔ 

 

علامہ شارق جمال مرحوم

﴿4 جون 2002ئ، ناگپور، انڈیا﴾

    احسان سہگل اس عروض سے زار دور میں عروضی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ نئی نئی بحروں میں شعر سازی کا تجربہ

پہلے بھی کر چکے ہیں۔ شعری مجموعوں میں نئی نئی بحروں میں غزلیں پیش کر چکے ہیں۔ جن پر کئی مضامین لکھے

گئے ہیں۔ اور اس شعری مجموعے ’’افکار کی خوشبو‘‘ میں بھی غزلیں نئی نئی بحروں میں، خود ساختہ بحروں میں کہہ

کر شامل مجموعہ کی گئی ہیں۔

    ان نئی بحروں کا آہنگ بھی قریب قریب مروجہ بحروں ہی کی طرح ہے۔ چونکہ مروجہ بحریں ہمیشہ قاری کے

مطالعے سے گزرتی رہتی ہیں۔ گنگنائی جاتی رہتی ہیں۔ اس لئے ان کا آہنگ ان کی عنائیت ایک طرح سے ذہن میں

محفوظ ہے اور یہی آہنگ اردو شاعری کا آہنگ اور عنائیت صرف اور صرف موجود ہے۔ ان کے علاوہ خیال بھی نہیں

کیا جاتا کہ کسی اور خود ساختہ بحر میں شعری آہنگ ہوسکتا ہے۔ یہی مروجہ آہنگ ہی صرف شاعری کے لئے

مخصوص ہے۔ کوئی آہنگ نہیں۔ لیکن احسان سہگل نے افکار کی خوشبو میں بھی جن نئی بحروں میں طبع آزمائی کی

ہے۔ وہ بھی خوش آہنگ جیسی ہی ہیں۔ مثلاً۔

    بحر ہزج کے وہ ارکان جن سے نئی بحریں وجود میں آئی ہیں۔ وہ ملاحظہ فرمائیں۔ ان بحروں میں شاعر نے جو طبع

آزمائی کی ہے۔ اس کے نمونے بھی ملاحظہ فرمائیں۔

(1(1)    ارکان بحر ہزج، مکفوف ۔ محذوف ، مسدس

        مفاعیل مفاعیلن فعولن

            تجھے شرم و حیا آتی نہیں ہے

            یہی بات مجھے بھاتی نہیں ہے

(2)    ارکان بحر ہزج مکفوف مسدس

        مفاعیل مفاعیل مفاعیلن

یہ ممکن نہیں حاصل ہو سکون دل

غم عشق بھی ہے، درد جہاں بھی ہے

(3)    ارکان بحر ہزج مکفوف مسدس

        مفعول مفاعیلن فعولن

میری تو تو سنتا ہی نہیں ہے

میں پھر بھی دعائیں مانگتا ہوں

(4)    ارکان بحر ہزج مقبوض اخرم محذوف مثمن

        مفاعلن مفاعلن مفاعلن فعلن

شکستہ دل لئے ہوئے خموش بیٹھا ہوں

نہ کر کبھی یہ چھیڑ چھاڑ تو مرے دل سے

(5)    ارکان بحر ہزج اشتر مقبوض مسدس

        فاعلن مفاعلن فاعلن

میں ملوں گا تم جہاں جائو گے

مجھ سے روٹھ کر کہاں جائو گے

(6)    ارکان بحر رمل مشعث مکفوف ابتر مخبون محذوف

        مفعول فاعلاتن فعلن فعلن

اپنے وطن میں رہنے والا

جو بھی ملا وہ غمگین ملا

(7)    ارکان بحر متقارب اثلم مثمن ﴿اثلم مسبغ﴾

        فعولن فعولن فعولن فعلن فعلان

جگہ ہو کہیں تو زمانے میں دوست

جہاں زندگی کا بنائوں مرکز

(8)    ارکان بحر مجثث مخبون ابتر مثمن

        مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن

امید کچھ ہوتی تو، اضطرار میں رہتا

کوئی کہاں تک ترے انتظار میں رہتا

(9)    ارکان بحر جدید مخبون مسدس

        فاعلاتن فاعلاتن مفاعلن

ہر طرف ساقی تھا ہر سو جھمیلے تھے

ساری محفل میں مگر ہم اکیلے تھے

    اس طرح کے عروضی تجربے اس عروض بے زار دور میں کرنا بڑی جرات کا کام ہے۔ اس طرح کے عروضی

کاموں میں جرات کے ساتھ ساتھ صاحب تجربہ کی عروضی بصیرت اور عروض دانی کا پتہ چلتا ہے۔ اس زمانے

میں مروجہ بحروں میں شعر کہنا آسان ہے لیکن مشکل بحور میں شعر سازی مشکل ترین عمل سمجھا جاتا ہے۔ پھر

نئے نئے عروضی تجربے کرنے کا اردو دنیا میں آج کوئی تصور ہی نہیں۔ احسان سہگل صاحب جیسے عروضی تجربے

کرنے کا اردو دنیا میں آج کوئی تصور ہی نہیں۔ احسان سہگل صاحب جیسے عروضی بصیرت رکھنے والے جیالے اہلِ

قلم اور شاعر اس کٹھن وادی میں قدم رکھنے کی جو جرات کرتے ہیں۔ بڑا کام کرتے ہیں۔ ان کی ان کوششوں کو

عروضی تجربے کو سراہنا چاہیئے۔

 

آرزو اکبر آبادی

﴿1974ئ﴾    

    ’’احسان سہگل اس دور کا چمپئی شاعر ہے اور اس کے افکار شبنمی ہوتے ہیں۔ اس شخص کے بارے میں بڑے

بڑے ادیب حضرات نے قلم اُٹھایا ہے۔ میں نے بھی اپنے محسوسات کو احسان سہگل ہی کے ا نداز میں سپردِ قلم

کیا ہے۔‘‘ 

قطعہ

شاعری احسان سہگل کی ہے اتنی بے بدل

جس کو لکھتے ہیں زبان حال سے یہ بر محل

دسترس میں ان کی ہے دیوی عروض علم کی

شاعری ہے ان کی ایسی جیسے رنگ گنگا جل


Ehsan Sehgal.'s picture
 

احسان سہگل.قلم کاروں کے تہنیتی رنگ
 
شوکت واسطی

﴿ لیڈز، برطانیہ، 29 ستمبر 1997 ء﴾

    آپ نے اپنی کتاب میں فن پر بہت بھرپور زور دیا ہے اور ایسی ایسی بحروں میں طبع آزمائی کی ہے کہ اردو میں

عام طور پر مروج نہیں ہیں اور یہی بات اسے دیگر کتب سے منفرد اور ممتاز ٹھہراتی ہے۔ آپ نے جو دیباچہ کتاب

کا دیا ہے۔ اس سے آپ کے شاعرانہ سفر کا سارا منظر کھل کر سامنے آجاتا ہے اور کراچی ایسے شہر میں جو دادو

تحسین آپ کو ملی، اس سے آپ کی ادبی منزلت از خود طے پاجاتی ہے۔ تاہم اردو میں چونکہ ’’شاعری‘‘ رواج،

فیشن اور سستی شہرت کے حصول کے لئے عام طور سے بہت بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے اور اس کے میدان

میں جوڑ توڑ، ستائش باہمی وغیرہ کا سلسلہ بھی زیادہ چل نکلا ہے، سو اچھے برے کی تمیز نہیں ہو پا رہی بلکہ کہئے

صادق و مخلص سخن ور پیچھے رہتے جارہے ہیں اور کہنی مار کر ، یادوسرے کو کسی حربے سے گرا کر بد گو اپنا ڈنکا

بجوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں شوق اور ذوق کے تحت شعر گوئی ہوتی رہے تو غنیمت جانئے۔ ’’پرواز

تخیل‘‘ کو تسلیم کیا جانا چاہئے تھا۔ یقینا کسی حد تک اس کی پذیرائی بھی ہوئی ہوگی مگر مروجہ ادبیاتی بد عنوانیوں

کے باعث اصل مقام اس کا متعین نہیں ہو پایا۔

 

سید مشکور حسین یاد

    ’’پرواز تخیل احسان سہگل کی غزلیات کا مجموعہ ہے، لیکن ان حضرت نے اپنی اس کتاب میں جو کمال دکھایا ہے،

وہ بحور کا استعمال ہے ایک طرف تو مجھے یورپ میں ایسے شاعر ملے جو سرے سے وزن کے بارے میں انہیں کچھ

پتا نہیں ہے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے، اور ایک ہمارے احسان سہگل ہیں کہ یہ حضرت ایسے ایسے اوزان میں

غزلیں کہہ رہے ہیں جن میں عام شاعر تو کیا مجھ ایسا کہنہ مشق شعر کہنے والا بھی شاید ان بحور میں شعر نہ کہہ

سکے۔ غزلوں میں خیالات تو وہی کرتے ہیں جو ہم آپ روز مرہ اپنے اذہان میں لاتے رہتے ہیں، لیکن اوزان کے

انوکھے پن سے ان میں ایک عجیب قسم کا دبدبہ اور رعب پیدا ہو گیا ہے۔ جس کو ہر پڑھنے والا محسوس کر سکتا

ہے۔

 

نثار احمد اختر

﴿نوائے وقت کراچی1995ء﴾

    ’’جناب احسان سہگل اس عہد کا حساس شاعر، ایک معروف صحافی، ایک بے باک انسان اور کھری بات کرنے

اور کہنے والا آدمی ہے۔ وہ کہتا ہے ’’میں غلط تعریف و توصیف کا قائل نہیں ہوں۔ میں جھکنے اور تبصرہ یا تعارفی

نوٹ لکھوانے کے لئے تعلیم یافتہ ’’توپ‘‘ اور خود ساختہ ادیبوں اور شاعروں کے پیچھے بھاگنے کا عادی بھی نہیں۔ ‘‘

انہوں نے پرواز تخیل میں جمال فکر کی آبرو رکھنے کا ثبوت مہیا کیا ہے۔ ‘‘

مرے خلوص کی حد میں جو گفتگو ہوگی

جمال فکر کی بے شک وہ آبرو ہوگی

    ان کے سارے کلام میں ایک رو ضرور موجود ہے جو شدت احساس کی ہے۔ رباعیوں اور آزاد نظموں میں اس

کو زیادہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔

دھیمے دھیمے شعلہ سا اٹھتا ہے

سوز غم سے جب دل سلگتا ہے

    ان شعلوں کی آنچ اس سوز غم کی پگھلاہٹ ان کے اشعار میں موجود ہے۔ موجودہ دور کے حساس اور باشعور

انسان کے سامنے قدم قدم پر منافقت ، فرقہ پرستی کا زہر ، لوٹ مار، دھوکہ دہی، نفسانفسی، ریاکاری، ابن الوقتی،

مطلب پرسیت، جاہ پرستی، خوشامدانہ چاپلوسی اور بغض و عناد آڑے آتے ہیں۔ اور وہ ان سے شدید متاثر ہوتا ہے

انہی کے درمیان وہ غم روزگار میں الجھا ہوا ، لڑ کھڑاتا ہوا، اپنے کو بچاتا ہوا دن پورے کر رہا ہے۔ پھر ایسے

حالات میں وہ بعضمیں وہ بعض اوقات ان پر سوچتا ہے تو رائے زنی کا حق بھی رکھتا ہے۔

تو نے اے پیر طریقت

بیچ ڈالی ہے دعا تک

اوڑھ کر فرقوں کے خرقے

ہم چلے ارض و سما تک

    مختصر یہ کہ ان کا بیشتر کلام معیاری اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ آج کل جو شاعری سر پیر سے

ننگی شائع ہو رہی ہے ایسے میںان کی ’’ملبوس‘‘ شاعری واقعی قابل قدر ہے جو کہ پر معنی اور پر مغز بھی ہے اور

اس سے ہر با ذوق لطف اٹھا سکتا ہے۔ 

 

ڈاکٹر مختار الدین

﴿رو تھرہام برطانیہ 1996ٰء﴾

    ’’عروض کے بارے میں میری معلومات فقط کام چلائو ہیں۔ یعنی صرف شعر کہنے کی حد تک ، شعر پر کھنے کے

لئے عروض کا گہرا علم درکار ہے،جس کا دعویٰ مجھ کو نہیں ہے، لیکن آپ کی کتاب دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آپ نے

عروض کا اچھا مطالعہ کیا ہے کیونکہ ہر غزل کی بحر اور اس کے ارکان بھی آپ نے لکھ دیئے ہیں۔ اس سے نو آموز

شاعروں کو بہت فائدہ پہنچے گا کیونکہ اکثر نو آموز شعرا خوداپنے شعر کی تقطیع نہیں کر سکتے۔ یہ واقعی اجتہاد ہے۔ جو

آپ نے کیا ہے۔ایک اچھے شعر پر نظر پڑی

اداسی ہی متاع زندگی ہے

اسی حالت میں یارو جی رہا ہوں

    سیدھا صاف اور اچھا شعر ہے۔ یہ شعر تو بہت اچھا ہے۔

دل کے کسی خانے میں

غم بھی نہاں ہوگیا

    اسی طرح یہ شعر بھی اچھے ہیں۔

زندگانی کی کیوں دعا مانگوں

بے وفائوں سے کیا وفا مانگوں

یاں اذیت ہے واں جہنم ہے

میں کہاں جائوں اور کیا مانگوں
یا

جو خلوص تیرے چہرے پہ ہے

وہ خلوص تیرے دل میں نہیں

 

ڈاکٹر امام اعظم

﴿ایڈیٹر تمثیل نو ، دربھنگہ ، انڈیا جون 2003ء﴾

    ’’افکار کی خوشبو‘‘ کے خالق احسان سہگل ہالینڈ میں رہ کر بھی نعتیہ اشعار خوب کہتے ہیں۔ایک شعر ملاحظہ

فرمائیے

یہاں آگیا جو، یہیں کا ہوا وہ

محمد(ص) کی محفل کا ایسا سماں ہے

    انہوں نے جو اشعار لکھے ہیں اس کی بحر بھی بتائی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شعر گوئی کے علاوہ عروضی

واقفیت بھی بہت ہے۔

    غزلوں میں لطافت کے عنصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چند شعر ملاحظ ہوں

عشق میں ایسے بھی موڑ آئے

رشتے ناتے سبھی توڑ آئے

کام سارے پڑے ہی رہتے ہیں

ساتھ گر ہم نشیں نہیں ہوتا

خود دھوپ میں جو جلتا رہا خامشی کے ساتھ

سایہ فگن ہر ایک پہ وہ ہی شجر رہا

گرشاخ نہ ہو، پھول نہیں اگتے کبھی

دل ہی نہیں جس کا وہ دے گا دل تجھے کیا

    احسان سہگل نے مختلف بحور میں اپنے تجربے کئے ہیں۔ اس تجربہ کو نبھایا بھی ہے۔ شعر کہنے سے پہلے یا بعد

میں شاید ہی کوئی شاعر اس کی بحر اور وزن کی تقطیع کر کے جائزہ لیتا ہوگا۔ شاعری تو ایک موجِ رواں کا نام ہے

اور اگر شاعر تقطیع میں الجھ جائے تو شعر کہنا دشوار ہو جائے گا لیکن احسان سہگل شعر کی بحر پہلے طے کر لیتے ہیں

اور تب شعر کہتے ہیں۔ ایسا شاعر میں نے بہت کم دیکھا ہے۔

    احسان سہگل قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے شاعری محض شاعری کے لئے نہیں کی بلکہ انہوں نے ایک مسلسل

چراغ جلانے کا کام اس مجموعہ کو پیش کر کے شروع کیا ہے۔ نو مشق اور عروض داں دونوں کے لئے اس مجموعہ

میں غور و فکر کی گنجائش ہے۔ یہ ایک اچھے شاعر اور عروض داں ہیں۔ ان کی شاعری کا لب و لہجہ ٹھہرا ٹھہرا سا

ہے۔ پھر بھی اس میں اس طرح کی جاذبیت ہے کہ شعر پڑھنے کے بعد تروتازگی محسوس ہوتی ہے۔

 

اسلم ثاقب

﴿ماہنامہ ’’پروازِ ادب‘‘ جولائی، اگست 2000ئ، پٹیالہ، انڈیا﴾

    شاعری محض داخلی صحرانوردی کا سفر نامہ نہیں۔ شاعری سوچتی اور دیکھتی بھی ہے۔ اس کی کھلی آنکھوں کی

مسافت ایسی فکر انگیز بوطیقا ہے کہ جس میں اپنی ذات کی شکست وریخت کے عذاب اور خارجی المیوں کی ستم

آفرینیوں کی خونچکاں داستاں اپنی اثر آفرینی کا جادو جگاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بقول جگر مراد آبادی کہ شعر حقیقتاً

شاعر کی ذہنیت کا سایہ ہوتا ہے۔ اور اس کے قدائے متاثرہ کا ایک نقش مری۔ احسان سہگل کا ’’انداز تخیل‘‘ ایک

ایسا شعری مجموعہ ہے کہ جس کے متعلق مختلف دانش وروں اور تبصرہ نگاروں کی مختلف آرائ ہیں۔ بقول ابن انشائ

مرحوم کہ انھوں نے اوزان اور شاعری کی دوسری نا روا پابندیوں سے بغاوت کی ہے۔ تاہم اس کے ہاں الزام پایا

جاتا ہے۔ سہگل کی شاعری میں اتنی سلاست ہے کہ بہت سی غزلیں با آسانی فلموں میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘

    لگتا ہے کہ ابن انشائ کو احسان سہگل کی جدید بحروں میں نئے تجربے پسند نہیں آئے۔ جبکہ احسان سہگل نے

باقاعدہ فن عروض پر عبور حاصل کرنے کے بعد مروجہ اور جدید بحروں میں مستند غزلیں ۔ قطعات رباعیات اور

آزاد نظمیں کہی ہیں۔ انھوں نے سوچا ہوگا کہ شاید ہمارے نقاد اور قارئین کے نزدیک ان کی یہ کاوشیں قابل

تحسین ہوں۔ لیکن انھیں کیا معلوم کہ تنقید نگار ان کی شاعری کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں گے۔ جبکہ میں سمجھتا

ہوں کہ مروجہ اور جدید اوزان پر ان کی گرفت کافی مضبوط ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اہل دانش نے انھیں ابھی

پہچانا نہیں۔

 

رفیق شاہین

﴿طویل مضمون سے اقتباس، علی گڑھ، انڈیا، جون 2009ئ ﴾

    سہگل اپنی شاعری کے رنگ و آہنگ اور لب و لہجے کے اعتبار سے لا تحریک ما بعد جدیدیت کے معاصر شعرا کی

صف اول میں نظر آتے ہیں۔ نئے نئے مضامین اور نئے لب و لہجے کے باوجود ان کی شاعری کا دوسرا سرا روایت

سے جڑا ہوا ہے۔ مابعد جدیدیت اگرچہ ابہام و اہمال اور عدم تسلسل پر اصرار کرتی ہے اور معنی کی وضاحت پر

ژولیدگی و پیچیدگی کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کے باوجود بھی سہگل کے اشعار ابہامیت و مہملیت ، نراجیت و مجہولیت

تجریدیت و تکثریت اور ہر طرح کی ژولیدگی و پیچیدگی کی لایعنیت سے پاک و صاف ہیں۔

    ان کی شاعری میں نہ تو قدیم الفاظ و تراکیب کی تکرار ہے اور نہ ہی دور ازکار اور نامانوس اصطلاحات و

استعارات کا دخل ہے کہ جس سے شعر چیستاں ہی بن کر رہ جائے۔ ان کے شعر سادہ لفظی لہجے کی شگفتگی ، زبان

کی شائستگی و شستگی اور طرز بیان کی شیتفگی و نغمگی اور اسلوب کی جدت و ندرت کے سبب فوراً ہی دل میں اتر کر

مقر ذات میں مفہوم و معنی کا معطر اجالا چاروں طرف بکھیر دیتے ہیں۔

 

ڈاکٹر فراز حامدی

﴿طویل مضمون سے اقتباس، جے پور، انڈیا، 2009ئ﴾

    با عتبار لب و لہجہ احسان سہگل نئی غزل کے مابعد جدید شعرائ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات

یہ ہے کہ ان کے یہاں نہ تو تجریدیت پائی جاتی ہے۔ نہ نراجیت اور نہ ہی ان کی شاعری ابہامیت و مہملیت سے

داغ دار نظر آتی ہے۔ علامات و اصطلاحات اور استعارات و تلمیحات کو بھی انھوں نے زیادہ منہ نہیں لگایا ہے۔

ان کی ساری توجہ ترسیل و ابلاغ پر مرتکز رہتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی شاعری میں ماضی الضمیر کی ادائیگی کے

لیے راست اظہار کو ہی بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ احسان سہگل نے اپنی عروض دانی کا سکہ بٹھانے کے

لیے رباعی کے اوزان میں بہت سی غزلیں بھی مرتب کی ہیں۔ علاوہ ازیںموصوف کا کار نامہ یہ بھی لائق داد ہے

کہ انھوں نے بارہ ایسی رباعیاں تخلیق کی ہیں۔ جس میں صرف اخرب کے اوزان کو برتا ہے۔ اور دیگر بارہ

رباعیوں میں صرف اور صرف اخرم کے اوزان مستعمل کئے ہیں۔ اس طرح چوبیس24 رباعیوں میں انھوں نے

رباعی کے سبھی چوبیس اوزان کھپا کر خواجہ حسن قسطان کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شاندار کارنامہ اانجام دیا

ہے۔ واضح ہو کہ خواجہ حسن قسطان نے اخرب و اخرم کے حوالے سے جب یہ شرط عائد کی کہ رباعی کے چاروں

مصرعوں میں یا تو صرف اخرب کے اوزان برتے جائیں یا صرف اخرم کے یہ نہ ہوکے رباعی کا کوئی مصرع اخرب

کے وزن میں ہو اور کوئی اخرم کے وزن میں۔ رود کی ، جورباعی کا بڑا شاعر تھا۔ قسطان کی شرائط کو قبول کرنے کا

حوصلہ اسے بھی نہیں ہوا تھا۔ جبکہ یہ کام احسان سہگل نے کر کے دکھا دیا ہے۔

 

حنیف ترین

﴿سعودی عرب، جنوری 2005ئ﴾

    آپ اس عہد کے ممتاز شعرائ بلکہ استاد شعرائ کہا جائے تو بہتر ہے جس نے غالباً 19مروجہ بحروں پر طبع

آزمائی اور وہ بھی اسقدر کامیابی سے کی ہے کہ جس کی بہت زیادہ مثالیں اردو شاعری میں اس عہد میں نہیں

ملتیں بلکہ وہ شعرائ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنہوں نے یہ کوشش کی۔

    آپکا اسلوب اسقدر پیارا ہے کہ آپکی باتیں دل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔کچھ شعروں میں مہاجرت کا درد اسقدر

گہرا ہے کہ تمام وہ لوگ جو اردو کی بستیوں میں رہ کر ادب کی خدمت کر رہے کہ ان کے دلوں کو جھنجھوڑ کے رکھ

دیتا ہے۔

یہ غربت ، یہ تنہائی یہ انتظار

مری زندگی میں مزا ہی نہیں

    دیکھنے میں یہ شعر نہایت سادہ سلیس مگر اس کی تہہ در تہہ معانی کا انبار ہے. اس کے علاوہ یہ تمام شعر ادب

اعلیٰ کی بہترین مثال ہیں۔

تحریر نہیں ہے تو یقیں کیسے ہو

وہ قرض وفا ہم سے زبانی مانگے

کسی کے پاس بھی فرصت نہیں یہاں سہگل

لگا ہے ہر کوئی اپنے شکار کے پیچھے

ستارہ ہے گردش میں دن رات کا

ہوا ہے وہی ڈر تھا جس بات کا 

ہوتے ہم بھی جہان میں اونچے

اپنے ہونے کا گر یقیں ہوتا

ہاں نہیں تیری اگر

میرا بھی انکار ہے

جو شخص ایک آنکھ نہ بھایا کبھی مجھے

میری حیات کا وہی تو ہمسفر رہا

ہے یہ عجیب بات جہان حیات میں

مارے گئے وہی جنہیں مرنے کا ڈر رہا

امیدوں سے اب تو میں گھبرا گیا ہوں

بڑھاپے کی دہلیز پر آگیا ہوں

    میں اس قابل نہیں کہ آپ جیسے عظیم شاعر، استاد فن اور دانشور کی شاعری پر کچھ لکھ سکوں کیونکہ نثر سے میرا

دور دورکا بھی واسطہ نہیں یہ میرا صرف تاثر تھا جو میں نے کم سے کم الفاظ میں آپ کے سامنے رکھ دیا۔اور آخر

میں آپکے یہ خوبصورت شعر 

یہی سچ مری زندگانی رہا

یہی سچ مجھے لے گیا دار تک

مرے دل میں انبار ہے باتوں کا

تڑپتا رہوں گا میں اظہار تک

 

خالد عرفان

﴿29 اگست، 1974ئ، کراچی﴾

ابو الشاعراحسان سہگل کی خدمت میں

ادب میں اتنا اونچا ہے مقام احسان سہگل کا!!

ہماری سوچ سے باہر کلام احسان سہگل کا!!

’’ابو الشاعر‘‘ خطاب ان کو دیا کچھ عقلمندوں نے !

نئی دریافت کی ہے کچھ نئے جدت پسندوں نے!

ہاں، فن شعر کے جملے کے فل اسٹاپ ہیں سہگل

کہ شاعر تو نہیں ہیں شاعروں کے باپ ہیں سہگل

کوئی محظوظ ان کی شاعر ی سے روز ہوتا ہے،

کلام ان کا جو پڑھتا ہے وہ لطف اندوز ہوتا ہے،

یہ اردو شاعری میں کچھ نئی بحروں کے موجد ہیں،

میں گنتی کیا کرائوں بس کئی بحروں کے موجد ہیں

وہ بحریں جنکا اب پیدا نہ ہوگا موجد ثانی!

مرے ’’مائنڈ‘‘ میں بھی آنہیں سکتیں بآسانی

وہی بحریں کہ جن کو اہل فن بھی کم سمجھتے ہیں

’’نہ ان کو تم سمجھتے ہو نہ ان کو ہم سمجھتے ہیں‘‘

 

عبدالقوی ضیا﴿مرحوم﴾

﴿ستمبر 2002ئ ، کینیڈا﴾

    آپ کا کلام خاصے عرصے سے پڑھتا چلا آرہا ہوں۔ آپ کے خطوط جو دلچسپی سے خالی نہیں ہوتے۔ مطالعے میں

آئے۔ اور آپ کی عروض دانی کا سکہ بٹھا گئے۔ ڈاکٹر مناظر ہر گانوی نے جو آپ پر گوشہ شائع کیا ہے۔ وہ نظر سے

نہیں گزرا۔ انہیں لکھوں گا کہ اگر کوئی کاپی ان کے پاس محفوظ ہو تو اسے حاصل کرنا چاہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ

انہوں نے آپ کی ادبی کاوشوں کا احاطہ معروضی انداز میں کیا ہوگا۔

    آپ نے اپنا شعری مجموعہ مجھے عنایت فرمایا۔ شکریہ بے حد شکریہ۔ واپس آکر پہلے جستہ جستہ پھر پوری توجہ سے

پڑھا۔ دل خوش ہوا۔ علم عروض سے آپ کی واقفیت اور بحور سے آپ کی ہمہ دانی لائق ستائش ہے۔ آپ نے اپنے

مجموعوں میں ان بحروں کا ذکر کر کے جن میں وہ کہی گئی ہیں۔ ایک اجتہادی قدم اٹھایا۔ چند اشعار جو میرے من

پسند تھے۔ یہاں پیش کرتا ہوں۔

رات ہو کہ دن ہو وہ اشک بار رہتا ہے

شہر میں ترے بھی اک غم گسار رہتا ہے

دوسروں کی تلاش ہوتی کیوں

تو اگر قابل یقین ہوتا

زندگی کی راہوں میں

ہم سفر کوئی تو ہو

مرے پیار کا عالم دیکھ

ترا گھر بھی گھر لگتا ہے

نہیں ممکن یہ مجھ سے

کہوں اچھا بُروں کو

میں تو خود مانگتا ہوں

دوں گا کیا دوسروں کو

اس شعر میں بڑی ندرت ہے۔

یہ بھی جینے کا ایک ڈھنگ ہے دوست

بت تراش کر بت فروش ہو جا

    یہ شعر حقیقت ہے۔

دیارِ غیر کے زخموں کی کس سے بات کروں

نہیں سکون ہے اب تو مرے وطن میں بھی

    دل میں کھب کر رہ گیا یہ شعر

پوجا ہوتی پوجا کا گھر ہوتا

کاش میں بھی ایک پتھر ہوتا

وفا کی پاس داری کے لئے دوست

نہیں دیتے ہیں دھوکا دوستی میں

کبھی ناراض ہونا اور کبھی خوش

لڑکپن یاد ہے تیری گلی کا

کوئی دبوچ لے مجھ کو بھی اپنی بانہوں میں

کبھی کبھی مرے دل میں یہ التجا رہی ہے

ماہئے اچھے لگے۔ ساز تخیل میں بھی مجھے چند شعر اچھے لگے۔

میں اٹھارویں سال میں تھا

خواہشات کے جال میں تھا

عقیدہ عقیدت نہ تھا

فسانہ حقیقت نہ تھا

 

ابن انشائ

﴿کراچی، 1972ئ﴾

    احسان سہگل صاحب پہلے شاعر نہیں ہیں، جنہوں نے اوزان اور شاعری کی دوسری ناروا پابندیوں سے بغاوت کی

ہے۔ تاہم اس کے ہاں التزام زیادہ پایا جاتا ہے۔ شاعری میں اتنی سلاست ہے کہ بہت سی غزلیں با آسانی فلموں

میں شامل کی جاسکتی ہیں۔ 

 

ارشاد الحق قدوسی

﴿کراچی، 1974ئ﴾

    احسان سہگل نہ صرف اچھے شاعر ہیں بلکہ قابل قدر صحافی اور انشا پرداز بھی احسان سہگل ان نوجوان دانشوروں

میں ممتاز اور منفرد ہیں جنہیں شعر و سخن پر قدرت حاصل ہے۔

 

پروفیسر شوکت واسطی

﴿اسلام آباد، 1999ئ﴾

    احسان سہگل کے مجموعوں کے ناموں میں بڑی ہم آہنگی ہے اسی طرح ان کے تخیل میں بھی یکساں تسلسل

موجود ہے۔ فکر کا پیرا یہ ویسا ہی ہر جگہ خوب ہے۔ ذکر کسی قسم کا بھی کریں، بدستور اپنا ایک اسلوب ہے، زبان

مظہر سلاست ہے، بیان غماز نفاست ہے۔

 

عطائ الحق قاسمی

﴿اوسلو، ناروے، 1998ئ﴾

    میں آپ کی اس کاوش سے بے حد متاثر ہوا ہوں میرے نزدیک انداز تخیل شاعری کی گرائمر ہے۔

 

محمود ہاشمی

﴿برمنگھم، برطانیہ،1998ئ﴾

    شاعری میں نئے اوزان کا اضافہ کر کے آپ نے واقعی ایک کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

 

ترغیب بلند

﴿کوپن ہیگن ، ڈنمارک 1999ئ﴾

    میرے لئے کیا اردو ادب کی دنیا کے لئے احسان سہگل کی شاعری اور نثر نگاری قابل رشک ہے۔

 

اکبر حیدری آبادی

﴿برسٹل ، برطانیہ 1999ئ﴾    

    یورپ میں مقیم اردو کے اہل قلم میں بہت کم ایسے ہیں جو بیک وقت شاعر اور انشا پرداز ہوں۔ احسان سہگل کو

یہ اعزاز بھی حاصل ہے، ان کے شعری مجموعوں کے مطالعے سے جو بات سب سے پہلے کھل کر سامنے آتی ہے۔

وہ شاعر کا جذبہ اجتہاد اور تخلیقی جدت کا جوش ہے۔

 

اطہر راز ﴿مرحوم﴾

﴿لندن 1999ئ﴾        

    احسان سہگل کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کے بحر فن میں موج تخلیق حسن ادب کے کناروں سے ہمکنار ہے،

احسان سہگل نے نئی نئی تراکیب سے اپنے سرمائے تخلیقات کو خوب سے خوب ترکی جستجو میں فکر و فن سے مالا

مال کیا ہے، اور یہ نئی تراکیب حسن تغزل کا حصہ بن گئی ہیں۔

 

سید عاشور کاظمی

﴿لندن 1999ئ﴾        

    آپ نے جن بحور میں اشعار کہے ہیں، وہ سہل کام نہیں، بعض بحریں تو ایسی ہیں کہ قدرت کلام نہ ہو تو شاعر

کو ’’چاروں خانے چت‘‘ گراتی ہیں۔


مناظر عاشق ہرگانوی 

 

﴿بھاگل پور 1999ئ﴾    

    عصری تقاضے سے بھر پور احسان سہگل کی شاعری کا کینوس وسیع تر ہے۔ ان کے یہاں بے جا ابہام کی کیفیت

نہیں ملتی بلکہ اسٹائلسٹک اصول و قواعد سے انحراف کے باوجود ان کی شاعری کی زبان میں شعری ماحول کا تراشیدہ

صنم واضح طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔ غیرمرئی خیالات کو مرئی پیکر میں تبدیل کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے، اور

اپنے عہد کی بے حسی اور ذہنوں کے اضطراب کے درمیان تخلیقی رشتہ جوڑنے کی صفت ان کی شاعری میں بدرجہ

اتم موجود ہے، فکر، جذبے اور تخیل کی آمیزش سے تہہ داری کی جو فضا احسان سہگل کی شاعری میں ملتی ہے اور

تنوع کے قدرتی عمل کو واضح کرتی ہے، اسی میں ان کی انفرادیت پوشیدہ ہے۔

 

شارق جمال

﴿ناگپور 1999ئ﴾        

    احسان سہگل کے نئے اوزان کے اشعار میں زبان و بیان کا پہلو کمزور نہیں، مصرعوں میں سلاست کے ساتھ بر

جستگی بھی ہے، نیز یہ روز مرہ کی زبان میں ہیں جو سادہ زبان شعر کی چاشنی لئے ہوئے ہیں اور سہل ممتنع کی

تعریف میں آتے ہیں۔ جب کہ نئی بحروں میں غیر عنائیت والی بحروں میں وزن کو الفاظ دینے کیلئے شاعر کو مفہوم

کے مطابق الفاظ تلاش کرنے میں وقت تو ہوتی ہی ہے، لیکن خاطر خواہ مضمون بھی نہیں بن پاتا اختراعی اوزان

میں صاف زبان میں فصاحت و سلاست کو قائم رکھ کر وہی شاعر شعر کہہ سکتا ہے۔ جو ارکان اختراعی کو لے بنا کر

کسی حد تک گنگنانے والے انداز میں لے آتا ہو اور قادر الکلام شاعر بھی ہو۔ 

 

ندا فاضلی

﴿اگست2002ئ بمبئی﴾    

    افکار کی خوشبو میں نئے اور غیر مروج اوزان کے تجربے خوب ہیں۔ میں آپ سے متفق ہوں۔ وقت کے ساتھ

رائج آہنگ میں تبدیلی کی گنجائش ضروری ہے۔ یہ جدت فنکار کے اعتبار کی شناخت ہے۔ موسیقی کی دنیا میں فیوژن

کے عمل نے نئی راہوں کے امکانات ابھارے ہیں مولانا ظفر علی خاں نے ہندی پنگل کے ذریعے شعری مزاج کو

نئی فضا سے متعارف کرایا تھا۔ آپ کا جدت پسند مزاج آپ کی شعری آواز کو نئے رنگ ڈھنگ عطا کر رہا ہے۔ آپ

کے کئی شعر میرے حافظے میں محفوظ ہو گئے ہیں۔

دکھ اپنے فیصلے پہ مجھے عمر بھر رہا

در تیرا چھوڑ کر میں بہت دربدر رہا

ہے یہ عجیب بات جہانِ حیات میں

مارے گئے وہی جنہیں مرنے کا ڈر رہا

آپ کا شعر

تو اپنے دکھوں کی نہ کر بات

یہی دکھ میں نے بھی سہے ہیں

تو پڑھتے ہوئے غالب کا ایک شعر اچانک ذہن میں آگیا

توقع خستگی میں جن سے تھی کچھ داد پانے کی

وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے

    یہ فکری مماثلت آپ کی جدت میں روایت کی شمولیت کا ثبوت ہے جو آپ کی تخلیقی ہوش مندی کی پہچان ہے۔

 

پروفیسر ڈاکٹر خاور امروہوی

﴿4مئی 1996ئ﴾    

    میں کسی کتاب کو غور سے پڑھے بغیر اس پر اظہار رائے کرنے کا قائل نہیں۔ چنانچہ ’’پرواز تخیل‘‘ کا بھی بالا

ستعاب مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اس میں علم بدیع کی چھبیس صنعتیں نظم پائی ہیں۔

    احسان سہگل ایک پختہ کار اور پڑھے لکھے جواں سال شاعر ہیں انہیں اس کا ادراک Precepationہے کہ

خیالات کو شعری قالب میں کیسے ڈھالا جاتا ہے۔ ان کے نظریات اسلامی ہیں۔ اسی لئے ان کے کلام میں عریانی

نہیں۔ وہ بالغ نظر ہیں۔ انہیں Command on the Languageہے۔ ان کے کلام سے خود داریSelf respect

مترشح ہے۔ ان کے یہاں مجھے تیکھا پن Sharpnessنظر آیا اور ندرت خیال بھی ہے۔ ساتھ ہی میں احسان کی

بلندی تخیل کا بھی قائل ہوں۔

    احسان کے مذہبی ہونے کا علم تو ہمیں جبھی ہو گیا تھا۔ جب اس مجموعے کی ابتدائ میں نعت شریف دیکھی تھی۔

ان کے مزاج میں صوفیانہ للک بھی ہے۔ پرواز تخیل میں نظم شدہ ستائیس 27صنعتوں کی موجودگی میں احسان

سہگل کو مستند شاعر کون نہیں مانے گا۔ 

 

افتخار امام صدیقی

﴿15فروری2005ئ ممبئی﴾    

    احسان سہگل، اجتہادی فکر کے رسیا اور علم سمندروں کے غواص ہیں۔ کوہ و صحرا، ان کے لئے، بے حد تسخیری

ہیں انہوں نے ، عروضی پتھروں کو ، اپنی فکر سے موم کیا ہے۔ اردو کی نئی بستیوں میں ، عروض داں تو ہیں، مجہتد

نہیں۔

    عروض کرتب بازوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اساتذہ میں سے بیشتر، عروض کے پارکھ اور ماہر، شاعر بھی

تھے، لیکن ان کی شاعری ، بوجھل اور گٹھل ہی رہی۔ ایسی شاعری کتابوں اور رسالوں ہی میں دبی رہ جاتی ہے۔ یہ

شاعر ، میر، غالب، اقبال اور سیماب نہیں ہوتا۔ آتش، ناسخ، مصحفی ، ذوق، سودا، وغیرہ ہم نے بھی عروضی تجربے

کئے تھے، تاہم ان کے کلام سے، ضرب المثل اشعار، زبانوں زمانوں سفر کر رہے ہیں۔

    احسان سہگل نے ، عروضی تجربے کئے اور نئی بحریں بھی تخلیق کی ہیں۔ ایسی عروضی شاعر میں، رس بھری

موسیقی سمونا، ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ، انہوں نے ، نرم شعری تراکیب محاورے، کہاوتیں، استعمال کی ہیں۔

وجدان کو حکم بناتے ہوئے، اپنے کائناتی آہنگ کی تہوں میں اترے ہیں۔ موسیقی اور رنگ ان کے مزاج کا حصہ

ہیں۔ مصوری، رقص اور شعر تراشی، ان کا خاص وصف ہے۔

    ایسی شاعری، ہر ایک کو دل پذیر ہوتی ہے اور شعر کہنے کی محرک بنتی ہے۔ نئی نسل کو اگر آسان اور نئی بحروں

میں شاعری کرنی ہے تو احسان سہگل کو اپنا استاد کریں۔ 

 

علامہ شارق جمال مرحوم

﴿4 جون 2002ئ، ناگپور، انڈیا﴾

    احسان سہگل اس عروض سے زار دور میں عروضی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ نئی نئی بحروں میں شعر سازی کا تجربہ

پہلے بھی کر چکے ہیں۔ شعری مجموعوں میں نئی نئی بحروں میں غزلیں پیش کر چکے ہیں۔ جن پر کئی مضامین لکھے

گئے ہیں۔ اور اس شعری مجموعے ’’افکار کی خوشبو‘‘ میں بھی غزلیں نئی نئی بحروں میں، خود ساختہ بحروں میں کہہ

کر شامل مجموعہ کی گئی ہیں۔

    ان نئی بحروں کا آہنگ بھی قریب قریب مروجہ بحروں ہی کی طرح ہے۔ چونکہ مروجہ بحریں ہمیشہ قاری کے

مطالعے سے گزرتی رہتی ہیں۔ گنگنائی جاتی رہتی ہیں۔ اس لئے ان کا آہنگ ان کی عنائیت ایک طرح سے ذہن میں

محفوظ ہے اور یہی آہنگ اردو شاعری کا آہنگ اور عنائیت صرف اور صرف موجود ہے۔ ان کے علاوہ خیال بھی نہیں

کیا جاتا کہ کسی اور خود ساختہ بحر میں شعری آہنگ ہوسکتا ہے۔ یہی مروجہ آہنگ ہی صرف شاعری کے لئے

مخصوص ہے۔ کوئی آہنگ نہیں۔ لیکن احسان سہگل نے افکار کی خوشبو میں بھی جن نئی بحروں میں طبع آزمائی کی

ہے۔ وہ بھی خوش آہنگ جیسی ہی ہیں۔ مثلاً۔

    بحر ہزج کے وہ ارکان جن سے نئی بحریں وجود میں آئی ہیں۔ وہ ملاحظہ فرمائیں۔ ان بحروں میں شاعر نے جو طبع

آزمائی کی ہے۔ اس کے نمونے بھی ملاحظہ فرمائیں۔

(1(1)    ارکان بحر ہزج، مکفوف ۔ محذوف ، مسدس

        مفاعیل مفاعیلن فعولن

            تجھے شرم و حیا آتی نہیں ہے

            یہی بات مجھے بھاتی نہیں ہے

(2)    ارکان بحر ہزج مکفوف مسدس

        مفاعیل مفاعیل مفاعیلن

یہ ممکن نہیں حاصل ہو سکون دل

غم عشق بھی ہے، درد جہاں بھی ہے

(3)    ارکان بحر ہزج مکفوف مسدس

        مفعول مفاعیلن فعولن

میری تو تو سنتا ہی نہیں ہے

میں پھر بھی دعائیں مانگتا ہوں

(4)    ارکان بحر ہزج مقبوض اخرم محذوف مثمن

        مفاعلن مفاعلن مفاعلن فعلن

شکستہ دل لئے ہوئے خموش بیٹھا ہوں

نہ کر کبھی یہ چھیڑ چھاڑ تو مرے دل سے

(5)    ارکان بحر ہزج اشتر مقبوض مسدس

        فاعلن مفاعلن فاعلن

میں ملوں گا تم جہاں جائو گے

مجھ سے روٹھ کر کہاں جائو گے

(6)    ارکان بحر رمل مشعث مکفوف ابتر مخبون محذوف

        مفعول فاعلاتن فعلن فعلن

اپنے وطن میں رہنے والا

جو بھی ملا وہ غمگین ملا

(7)    ارکان بحر متقارب اثلم مثمن ﴿اثلم مسبغ﴾

        فعولن فعولن فعولن فعلن فعلان

جگہ ہو کہیں تو زمانے میں دوست

جہاں زندگی کا بنائوں مرکز

(8)    ارکان بحر مجثث مخبون ابتر مثمن

        مفاعلن فاعلاتن مفاعلن فعلن

امید کچھ ہوتی تو، اضطرار میں رہتا

کوئی کہاں تک ترے انتظار میں رہتا

(9)    ارکان بحر جدید مخبون مسدس

        فاعلاتن فاعلاتن مفاعلن

ہر طرف ساقی تھا ہر سو جھمیلے تھے

ساری محفل میں مگر ہم اکیلے تھے

    اس طرح کے عروضی تجربے اس عروض بے زار دور میں کرنا بڑی جرات کا کام ہے۔ اس طرح کے عروضی

کاموں میں جرات کے ساتھ ساتھ صاحب تجربہ کی عروضی بصیرت اور عروض دانی کا پتہ چلتا ہے۔ اس زمانے

میں مروجہ بحروں میں شعر کہنا آسان ہے لیکن مشکل بحور میں شعر سازی مشکل ترین عمل سمجھا جاتا ہے۔ پھر

نئے نئے عروضی تجربے کرنے کا اردو دنیا میں آج کوئی تصور ہی نہیں۔ احسان سہگل صاحب جیسے عروضی تجربے

کرنے کا اردو دنیا میں آج کوئی تصور ہی نہیں۔ احسان سہگل صاحب جیسے عروضی بصیرت رکھنے والے جیالے اہلِ

قلم اور شاعر اس کٹھن وادی میں قدم رکھنے کی جو جرات کرتے ہیں۔ بڑا کام کرتے ہیں۔ ان کی ان کوششوں کو

عروضی تجربے کو سراہنا چاہیئے۔

 

آرزو اکبر آبادی

﴿1974ئ﴾    

    ’’احسان سہگل اس دور کا چمپئی شاعر ہے اور اس کے افکار شبنمی ہوتے ہیں۔ اس شخص کے بارے میں بڑے

بڑے ادیب حضرات نے قلم اُٹھایا ہے۔ میں نے بھی اپنے محسوسات کو احسان سہگل ہی کے ا نداز میں سپردِ قلم

کیا ہے۔‘‘ 

قطعہ

شاعری احسان سہگل کی ہے اتنی بے بدل

جس کو لکھتے ہیں زبان حال سے یہ بر محل

دسترس میں ان کی ہے دیوی عروض علم کی

شاعری ہے ان کی ایسی جیسے رنگ گنگا جل

نظم

فراز طور تلک اس کی فکر اس کی نظر

ہوا ہے شعر خداداد اس کا دست نگر

یہ پتھروں کا سفر کر رہا ہے دنیا میں

ہیں اس کی راہ کے کنکر بھی ماہتاب اثر

قدم قدم پہ نئی فکر ہے نیا انداز

نظر نظر سے ہویدا ہے شان فکر و نظر

خیال و فکر کی منزل ہے اس کا سرمایہ

جنون شوق میں رکھتا ہے یہ بلا کا اثر

جہاں جہاں ہیں نگاہیں وہاں وہاں ہیں قدم

جہاں جہاں ہے تخیل وہاں وہاں ہے نظر

چنے ہیں آرزو میں نے یہ تاثرات اس کے

کریں گے دل سے مدح اس کی سبھی اہل نظر

 

 نظم

فراز طور تلک اس کی فکر اس کی نظر

ہوا ہے شعر خداداد اس کا دست نگر

یہ پتھروں کا سفر کر رہا ہے دنیا میں

ہیں اس کی راہ کے کنکر بھی ماہتاب اثر

قدم قدم پہ نئی فکر ہے نیا انداز

نظر نظر سے ہویدا ہے شان فکر و نظر

خیال و فکر کی منزل ہے اس کا سرمایہ

جنون شوق میں رکھتا ہے یہ بلا کا اثر

جہاں جہاں ہیں نگاہیں وہاں وہاں ہیں قدم

جہاں جہاں ہے تخیل وہاں وہاں ہے نظر

چنے ہیں آرزو میں نے یہ تاثرات اس کے

کریں گے دل سے مدح اس کی سبھی اہل نظر



Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages