’’لو میرج نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ہم نہ مشرقی روایات کی پاسداری کررہے ہیں اور نہ مغربی معاشرے کی تقلید۔ معاشرہ کھچڑی بن چکا ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کا انجام لڑائی ،مارکٹائی اور پھر طلاق ہوتاہے۔‘‘یہ وہ آبزرویشن ہے جولاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے دی ہے۔ انہوں نے وہ حقائق بیان کیے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ واقعات یہ ہیں کہ اگر اس حوالے سے سروے کیا جائے تو پتا چلے گا کہ جو شادیاں بزرگوں کی مرضی سے ہوتی ہیں، ان کے نتائج جو لو میرج کے حوالے سے جسٹس صاحب نے بیان کیے ہیں ان میں کوئی نسبت و تناسب ہی نہیں۔ انہوں نے مشرقی روایات کی جو بات کی ہے اس کی جگہ وہ اسلامی تعلیمات کی اصطلاح استعمال کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ اگر بزرگوں کی مرضی سے ہونے والی شادیوں کے حوالے سے جو اس قسم کے نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جن کی تعداد بدقسمتی سے دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے وہ اس لیے ہے کہ مشرقی روایات میں ہندوانہ معاشرے کے اثرات ہمارے ہاں در آئے ہیں۔ ان کا تذکرہ ان شاء اللہ آگے آئے گا۔ دراصل دونوں قسم کی شادیوں میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہ نکاح کے حوالے سے ہماری ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ آیے ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
نکاح کے حوالے سے جو ہمیں پہلی تعلیم ملتی ہے وہ یہ ہے کہ بچوں کے بالغ ہوجانے کی صورت میں ان کی فوری شادی کی فکر کرنا ہے۔ اس تاکید کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ اگر نکاح میں تاخیرکی بناء پر خدانخواستہ اولاد بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرایا گیا ہے،۔الحمد للہ ، دین کے اس حکم پر بالعموم عمل کیا جاتا ہے لیکن اس کا کیا کیجیے کہ ہمارا خاندانی نظام جو اللہ کے فضل و کرم سے اب تک بچا ہوا ہے اس میں دراڑیں ڈالنے کے لیے مغرب کوشاں ہے۔ہم نے مغرب کے سیاسی اور معاشی نظام کو تو تقریباً اپنا ہی لیا ہے ۔مغربی جمہوریت ہمارے سیاستدانوں کے لیے جن میں صاحبان جبہ و دستاربھی شامل ہیں،نیلم پری بنی ہوئی ہے بقول علامہ اقبال کے:
کیا امامان سیاست کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنادیتی ہے اس کی ایک ھو
اسی طرح ہمارا معاشی نظام بھی مغرب کی تقلید میں سود پراستوار کیا جاچکا ہے۔ اب ہمارے معاشرتی نظام پر بھی مغرب اثر انداز ہونے کی پوری کوشش میں مصروف ہے۔ یہ اسی کا مظہر ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرینز ایسی قانون سازی کے لیے پر تول رہے ہیں جس کے ذریعے ایک خاص عمر تک شادی پر پابندی ہوگی۔
پسند کی شادی اس دینی تعلیم سے انحراف کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔(مسند احمد،ابودائو،ترمذی، ابن ماجہ)۔اس حدیث کی تشریح میں مولانا منٓظڑ حسن گیلانی ؒ نے معارف الحدیث میں فرمایا ہے ’’کہ حدیث کا مقصد و مدعا بظاہر یہ ہے کہ نکاح ولی ہی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ عورت کے لیے ٹھیک نہیں کہ وہ خود اپنا نکا ح کرے۔یہ اس کے شرف اور مقام حیا کے بھی خلاف ہے اور اس سے خرابیاں پیدا ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ ‘‘ہاں ایک اورحدیث مبارکہ کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اپنے بارے میں اصل اختیار عورت ہی کا ہے۔ولی اس کی مرضی اور رائے کے خلاف اس کانکاح نہیں کرسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق اوراختیار ہے اور باکرہ (کنواری) کے باپ کو بھی چاہیے کہ اس کے نکاح کے بارے میں اس کی اجازت حاصل کرلے اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔(صحیح مسلم)
نکاح کو آسان بنانے کے ضمن میں صرف مندرجہ ذیل باتوں کی ہمارے دین نے تعلیم دی ہے۔:
۱)دین مہر: سورئہ نساء آیت ۱ میں فرمایا گیا:’’اپنی بیویوں کے مہر خوشدلی سے ادا کیا کرو۔‘‘ مہر کی ادائیگی کے بارے میں تاکید کا اندازہ حضور ﷺ کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق جس شخص نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہرپر نکاح کیا اور اس کے دل میں اس حق مہر کی ادائیگی کا ارادہ نہیں ہے تو قیامت میں اللہ کے حضور زناکار کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ (طبرانی) اس حدیث مبارکہ سے یہ واضح ہے کہ دین مہر کی کوئی مخصوص رقم مقرر نہیں کی گئی ہے۔
۲) نکاح :جو گواہان کی موجودگی میں منعقد ہو۔ اس میں بھی آسانی کے لیے مسجد میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
۳) دعوت ولیمہ: اآیے دیکھیں کہ حضور ﷺ نے دعوت ولیمہ میں کیا کیا پیش کیا:’’حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے نکاح پر ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا کہ حضرت زینت بنت جحشؓ کے نکاح کے موقع پر کیا ۔پوری ایک بکری پر ولیمہ کیا۔‘(متفق علیہ)‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور سب بیویوں سے نکاح پر آپؐ نے جو ولیمہ کی دعوت کی تھی وہ اس سے مختصر اورہلکے پیمانے پر کی تھی۔چنانچہ صحیح بخاری میں صفیہ بنت شیبہ ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جو کام آئے اور حضرت انسؓ سے یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت صفیہ ؓ کو نکاح میں لیا تو دعوت ولیمہ کے موقع پر دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا۔کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا ۔اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لیے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں ۔کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو ،رکھ دی جائے۔لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنالیا ہے جبکہ جہیز کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تذکرہ ہی نہیں۔ حضرت فاطمہؓ کے نکاح پر جو سامان حضور ﷺ نے انہیںفراہم کیا تھا وہ حضرت علیؓ کے وکیل کے طور پر اور انہی کی فراہم کردہ رقم کے ذریعے خرید کیے گئے تھے جو ان کی زرہ کے فروخت کے عوض ملی تھی۔ اگر اسے جہیز کانام دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ حضورﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے مواقع پر کوئی جہیز کی روایت کیوں دستیاب نہیں۔اسی طرح ہم نے بارات کی رسم ایجاد کرلی اور اس موقع پر لڑکی والوں کی جانب سے کھانے کی دعوت کولازم کرلیا۔اس کے علاوہ ہم نے شادی کے موقع پر رسومات کا ایک طومار باندھ لیاہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادی ایک بڑا مسئلہ بن کر رہ گئی ہے۔
اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمایے۔ ہمارے دین نے کسب معاش کی ذمہ داری مرد پر رکھی تھی۔اب یہ ذمہ داری بھی لوگوں نے بڑی ہوشیاری سے خواتین کو منتقل کردی ہے۔ وجہ حب دنیا کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ دنیوی ترقی اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی خاطر جب خواتین کو گھر سے باہر نکالا گیا تو جو اس کی اصل ذمہ داری تھی وہ پس منظر میں چلی گئی۔ اس کے جو ثمرات بد پیدا ہوئے اس پر تو کوئی گفتگو کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ دنیوی زندگی کی چکا چو ند نے ان کی بینائی اس لائق رہنے ہی نہیں دی جو وہ اس جانب نظر ڈالیں۔چلیے اگر آپ دنیوی ترقی میں پیچھے نہیں رہنا چاہتے تو کم از کم خواتین کے لیے باہر ایسے مواقع پیدا کریں کہ وہ شرعی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے کسب معاش کرسکیں۔ دفاتر میں انہیں مخصوص ماحول فراہم کریں کہ انہیںاپنے فرض کی ادائیگی کے لیے مردوں سے رابطہ کی ضرورت نہ رہے۔ عورتوں اور مردوں کی مخلوط معاشرت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے برعکس ہم نے اپنے دفاتر میں، تعلیم گاہوں میں حتیٰ کہ سماجی تقریبات میں عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کردیا ہے۔ ایسے میں ان کے لیے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ ستر و حجاب کی پابندی کرسکیں۔ایک طرف لڑکیوں کی شادی کی مشکلات اور دوسری جانب عورتوںاور مردوں کے اختلاط کے نتائج ہی تو ہیں جو لڑکیوں کو گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی پر اکساتی ہیں۔اس کے نتیجے میں ایک طر ف وہ اپنے گھر والوں سے کٹ جاتی ہیں تو دوسری طرف اس کے سسرال والے اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نوبت بقول جسٹس صاحب کے لڑائی ،مارکٹائی اور طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
اس صورتحال سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بچوں کی بروقت شادیوں کا اہتمام کریں ۔گو کہ موجود ہ معاشرے میں ایسا ہونا امر محال نظر آتا ہے تاہم عزیمت کی راہ اختیار کی جائے تو یہ ناممکن بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ آپ برادری سے کٹ جائیں گے۔دین سے جڑے رہنے کی قیمت برادری کے بائیکاٹ کی صورت میں بہت ہی کم ہے جو ہمیں ادا کرنی پڑے گی۔اگر بامر مجبوری آپ کے لیے دنیا سے کٹنا محال ہو تو حکومتی سطح پر اس کی کوشش کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میںخواتین اپنے گھر وںمیں رہ کر کاٹیج انڈسٹری چلاسکیں۔ مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ ہسپتال قائم کیے جاسکتے ہیں۔ عورتوں کے لیے عورتیں نرس ہوں اور مردوں کے لیے مرد نرس ہوں۔ پرائمری سطح تک کی تعلیم گاہیں عورتوں کے سپرد کردی جائیں۔ مخلوط تعلیم کا خاتمہ کرکے مردوں اور عورتوں کے لیے الگ درسگا ہیں قائم کی جائیں۔ اس کے علاوہ بھی عورتوں کو لیے روزی کے ایسے ذرائع پیدا کیے جاسکتے ہیں جہاں ان کا مردوں سے رابطہ ضروری نہ ہو۔اگر نیت اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہو تو حکومت کے لیے یہ کچھ کرنا پڑے گا۔اگر ہم ایسا کچھ نہیں کرسکتے تو عدالتوں میں ازدواجی مسائل پر مقدمات آتے رہیں گے اور ہمارے جج حضرات ایسے ہی آبزرویشنز دیتے رہیںگے۔
…محمد سمیع…
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
|
This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active. |
میرے انتہائی قابلِ احترام ڈاکٹر مقصود الہی شیخ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ میرے خلوص پر شک نہیں کرتے، اس کے لیے میں آپ کا بے حد شکرگزار ہوں۔ آپ کےمزاج کافی برہم نظر آرہے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔
آپ کی برہمی کو ختم کرنے کے لیے پہلے یہ عرض کردوں کہ وہ تحریر میری نہیں تھی اگرچہ اس میں مذکور خیالات سے میں متفق ہوں۔ اور میں نے اپنے خیال میں ایک مثبت سرگرمی ہی میں اپنی معمولی سی صلاحیت کو استعمال کیا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ آپ کے دل کو نہیں لگی۔
2۔ آپ نے کیلنڈر کی بات کی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں جو رہنما اور جو قیادت ملی وہ عام طور پر اقتدار کی لالچی اور دنیاوی طاقتوں سے مغلوب غلامانہ ذہنیت کی حامل ہی رہی۔ ان لوگوں نے اپنے لوگوں پر غلبہ پانے کے لیے اغیار کا سہارا لیا اوراس کے لیے ان کی شرائط اور خواہشات کو تسلیم کیا۔ اگر ہم بحیثیت مسلمان سوچیں اور جیسا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہی آخرت میں ذریعہ نجات ہے تو ہماری تقویم ہجری تقویم ہے۔ اور یہی تقویم اللہ کے ہاں جاری و ساری ہے۔میری مراد قمری تقویم اور مہینوں سے ہے۔ اب اگر ہم پر عیسوی کیلنڈر مسلط کر دیا گیا ہے تو کیا ہم اس کو اپنانے میں خوشی کا اظہار کریں؟ یعنی زنجیروں کو بخوشی خود ہی پہن لیں؟ اب اگر بوجہ مجبوری اس کو اپنا لیا گیا ہے تو کیا اس کی سالگرہ یاآغازجو حقیقت میں پچھلے برس کی برسی یا موت ہے ، کو منانے کی غیر مسلموں کی روایت کو بھی اپنا لیں؟ کسی چیز کو استعمال کرنا اور بات ہے مگر کسی رسم و رواج کو اختیار کرنا دوسری بات ہے۔ اسی بارے میں صادق المصدوق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانے میں تم لوگ یہود و نصاریٰ کی ہر بات کو اختیار کر لوگے۔ حتیٰ کہ اگر وہ سانپ کے بِل میں بھی جا گُھسے تو تم لوگ بھی ان کے پیچھے پیچھے اسی بل میں جا گھسو گے۔ کیا یہ حدیث بالکل اس روایت کے مصداق نظر نہیں آرہی؟ آپ عیسوی سالِ نو کے آغاز کا جشن منانے اور تہنیت کی بات کررہے ہیں، اسلام میں تو ہجری اور قمری تقویم کے جشن اور تہنیت کی روایت بھی نہیں ہے۔اور میرا ایمان ہے کہ اسلام کامل ہے اور جو کچھ ہمارے لیے ضروری تھا وہ اس نے ہمیں عطا کردیا ہے۔اور اتنا ہی عطا کیا ہے جتنا ہم عمل کرسکتے ہیں۔ لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا۔ اللہ کسی جان کو اتنی تکلیف میں ڈالتا ہے جتنی اس کی استعداد ہوتی ہے۔ اب اگر ہم اس سے بڑھ کر مزید کسی چیز کو اختیار کریں گے تو وہ ہماری وسعت سے زیادہ ہوگی اور ہم لازماً اس کے لیے اپنی کسی اسلامی تعلیم اور روایت کو چھوڑ دیں گے۔
آپ نے کہا کہ کون سا ایمان خطرے میں پڑتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر ہم اسی طرح ان کی روایات کو اپناتے رہے تو لازما اسلامی روایات کو چھوڑتے جائیں گے۔ اگر ہم کوئی بدعت اپناتے ہیں تو پھر کوئی سنت ہم چھوڑ دیتے ہیں یا اس کی نحوست میں ایک سنت اٹھا لی جاتی ہے۔خود سوچیے کہ پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے کہاں تک چلا جائے گا۔ جس طرح آج کل ہمارے ہاں ویلنٹائن ڈے جیسی خرافات منائی جا رہی ہیں دس سال پہلے تو اس کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ اور ڈیٹس وغیرہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ اخلاقی پستی کی اسی رفتار کو مد نظر رکھتے ہوئے دس سال بعد کی نوجوان نسل کی حالت ذرا تصور میں تو لائیے۔ اور جہاں تک ایمان کی بات کرتے ہیں۔ ایک اور حدیث بیان کردوں کہ جو لوگ کسی دوسری قوم کی نقل کریں گے وہ قیامت کے روز اسی قوم میں سے اٹھائے جائیں گے۔
ہم ان لوگوں کی روایات کو اس لیے نہیں اختیار کر سکتے کہ ایک تو اسلام کامل دین ہے اس میں اس روایت کا حکم نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ رسم ان لوگوں کی ہے جن کو قرآن میں الضالین(گمراہ) کہ کر پکارا گیا ہے۔ تو کیا گمراہوں کی گمراہی اختیار کرکے ہم گمراہ نہیں ہو جائیں گے؟
نیک عمل اختیار کرنے یا کسی برائی کو چھوڑنے کی طاقت اور توفیق رکھنا یا نہ رکھنا دوسری بات ہے مگر کم از کم اپنی سوچ اور عقائد کو تو درست رُخ پر رکھنا چاہیے ۔ تب ہی ندامت اورتوبہ کی توفیق بھی مل سکتی ہے۔
3۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھی ہے اور انھوں نے ترقی کی ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ترقی محنت، حسنِ نیت اور دیانت داری کی مرہونِ منت ہوتی ہے، اغیار کی ثقافت کی نہیں۔ ترقی کی راہ پر چلنے کے لیے ضروری نہیں کہ اخلاقی حالت میں ترقیء معکوس کی جائے۔ اسلام ترقی سے نہیں روکتا اور ترقی اسلامی اخلاقی اقدار سے نہیں روکتی۔ رہی کوسنوں کی بات، تو میں معذرت چاہتا ہوں کہ ایک تو وہ تحریر میری نہیں تھی بلکہ محمد سمیع صاحب کی تھی جن کا نام آخر میں تحریر کردہ ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مجھے اس میں کوئی کوسنے والی بات نظر نہیں آئی۔ انھوں نے محض موجودہ معاشرتی مسائل کے قرآن اور حدیث کی روشنی میں حل پیش کیے ہیں۔ویسے اگر آپ ان کا شذرہ مکمل پڑھ لیتے تو دورِ حاضر میں شادی میں تاخیر کے نقصان دہ اثرات سے بچنے کا بھی حل پیش کیا ہے۔ میری التماس ہے کہ آپ وہ شذرہ دوبارہ اور مکمل طور پر پڑھ لیجیے۔ شاید آپ کی برہمی زائل ہو جائے۔
4۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کہتے ہیں کہ ادھر بچہ یا بچی بالغ ہو اس کی شادی کر دینی چاہیے۔ معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ اللہ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا باقاعدہ حکم ہے۔ محض ترغیب بھی نہیں، حکم ہے۔ اور تاخیر کی صورت میں بچوں کی بد کرداری اور ناجائز تعلقات، گرل فرینڈ، برائے فرینڈ، ڈیٹس اور کسی بھی غلطی کا ذمہ دار والدین کو قرار دیا ہے۔ اب والدین سوچ لیں کہ بچوں کو بدکرداری کا موقع دے کر اللہ کے ہاں سزا پانے کو ترجیح دیتے ہیں یا بچوں کی اخلاقی تربیت کر کے قبیلے کی آنکھ کا تارہ بنا کر اللہ کے ہاںسرخ رو ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ نے شادی کی خواہش پر قابو پانے کے طریقے کی بات کی ہے۔ درست ہے ۔ مگر اب تو یہاں رمضان کی حرمت کا بھی اتنا خیال نہیں رکھا جاتا تو رمضان کے علاوہ کون روزے رکھے گا۔
5۔ آپ نے کہا کہ فرد اور معاشرے کو گڈ مڈ نہ کرو۔ہر ایک کی ضرورت اور احوال الگ الگ ہوتے ہیں۔ بجا۔ مگر فرد اور معاشرے کو ایک دوسرے سے الگ الگ کیسے کرسکتے ہیں۔ معاشرہ فرد پر اثر انداز ہوتا ہے اور فرد معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ جہاں تک بات الگ الگ احوال کی ہے تو ہر قسم کی صورت حال کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکالا جا سکتا ہے۔ رجوع تو کریں، اللہ سےرہنمائی تو چاہیں۔
6۔آپ نے عرب ممالک میں شادی بیاہ کی رسومات کی بات کی۔ پہلی بات یہ کہ مایوں کی رسم عربوں میں نہیں ہے بلکہ یہ خالصتاً ہندووں کی رسم ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عرب ایسا کرتے ہیں یا احباب دولھے کو بے لباس کر کے خود غسل دیتے ہیں یہ بات میں نے پہلی بار آپ سے سنی ہے۔ اگر یہ سچ بھی ہے تو یہ رسم صاف صاف خلافِ شرع ہے اورقابلِ مذمت اور قابلِ ترک بھی۔چاہے یہ رسم کوئی مکہ المکرمہ کا رہائشی بھی کررہا ہو۔ جو عمل اسلام کے خلاف ہے وہ قابلِ مذمت اور گمراہی ہے۔
1۔ یہ ناچیز آپ سے کیا حساب کتاب کرے گا۔ بس ایک بات پوچھوں گا کہ اگر کسی کی کوئی بات آپ کو اپنی سوچ سے متصادم نظر آتی ہے تو کیا اس کا ٹھنڈے دل سے تفصیلی جائزہ نہیں لینا چاہیے؟ کیا اس پرغور نہیں کرنا چاہیے؟ کسی انسان کا علم اور عقل کامل نہیں ہے۔ صرف یہی بات سوچ کر کسی کی بات کو جانچ پرکھ لیں۔ میں بھی اپنی نظریاتی سوچ سے متصادم روشن خیال حضرات کے لبرل سیکولر مراسلات پڑھ لیتا ہوں اور بغیر کسی برہمی کے اور ناخوشگوار کیفیت کا انداز اختیار کیے بغیر اپنے دلائل دیتا ہوں۔ ہم سب مسلمان بھائی ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی غلطی پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں تو کھلے دل سے جائزہ لے کر اگر اپنی اصلاح کی گنجائش نظر آتی ہو تو قبول کر لینی چاہیے وگرنہ مقابل کی ہمدردانہ انداز میں دلائل دے کر اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے آگے اللہ مالک ہے۔
مجھے ڈر ہے کہ آپ اس خاکسار پر مزید برہم نہ ہو جائیں۔ اس لیے میں پیشگی معذرت کر لیتا ہوں۔ بس اتنی التجا کرتا ہوں کہ مجھے ذرا دیر کے لیے بھول کر محض اللہ کی ذات کو ذہن میں رکھ کر ان معروضات پر غور فرمائیے گا۔میری معروضات بھی اور وہ شذرہ بھی۔ اللہ آپ کو صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے۔
والسلام
آپ کا حقیقی
مخلص