علوم بلاغت تین ہیں:
- علم البیان
- علم المعانی
- علم البدیع
- غرض و غایت
تحریر و تقریر میں فصاحت و بلاغت ، حسنِ تاثیر، زور اور وزن پیدا کرنے اور کسی عبارت میں موجود بلاغت کی مقدار پہنچاننے اورجانچنے کے لئے ان علوم کا جاننا اور ان میں مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
- علم البیان کی تعریف
گویا اس علم کا مقصد لفظی ژولیدگی اور معنوی پیچیدگی سے بچنا ہے، تاکہ خیالات و احساسات واضح انداز میں مخاطب تک پہنچ سکیں، اور اسے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ وہ حسین تعبیر اور بلیغ اسلوب کی بدولت وہ سب کچھ سمجھ لے، جو متکلم اسے بتانا چاہتا ہے۔علم البیان وہ علم ہے جس میں سلیس و حسین انداز اور مؤثر پیرائے میں اپنے خیلات کا اظہار کرنے کے لئے لفظی و معنوی پیچیدگی اور تعقید سے بچنے کے قواعد بیان کئے جاتے ہیں۔
- علم المعانی کی تعریف
وہ علم ہے جس میں متکلم کو مخاطب کی ذہنی صلاحیت اور مقتضی حال کے مطابق کلام کرنے کے قواعد سکھائے جاتے ہیں، نیز کسی عبارت سے حقیقی معنی کے علاوہ قرائن اور سیاق و سباق سے جو اور معانی ، مفہوم و مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح کی جاتی ہے۔
- علم البدیع کی تعریف
گویا اس علم کا مقصد حسین کلام کو مزید حسین بنایا ہے تاکہ اس کا حسن شعلہءِ جوالہ بن جائے اور پڑھنے سننے والوں کو مبہوت و ششدر کردے۔ جیسے کسی یگانہ ءِ روزگار شخصیت کے حسنِ قرار سوز سے انسان ہکا بکا رہ جاتا ہے، اور کچھ دیر کے لئے سحر زدہ ساہو جاتا ہے۔علم البدیع وہ علم ہے جس میں لفظی و معنوی محاسن کے ذریعے، فصیح و بلیغ کلام کو مزید سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے قواعد بیان کئے جاتے ہیں۔
علم البیان میں تشبیہ، مجاز لغوی، مجاز مرسل، مجاز عقلی، استعارہ تمثیلیہ، اور کنایہ کی تفصیلات مذکور ہیں۔(ماخوذ از منہاج البلاغہ، محمد معراج الاسلام)