نصوح کو ایسی ٹھو کر نہیں لگی تھی کہ وہ اس کو بھول جاتا، تنبہ ہوئے پیچھے اس کو اپنی اصلاح دشوار نہ تھی مگر اصلاحِ خاندان ایک بڑا مشکل کام تھا۔ وہ بخوبی واقف تھا کہ دینداری اور خدا پرستی میرے خاندان کے لیے بالکل نئے الفاظ ہیں جن سے چھوٹے بڑے کسی کے کان آشنا نہیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ گھر بھر ایک طرف ہو گا اور میں اکیلا ایک طرف۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا اور میں ایک سورما چنا بن کر کیوں کر معصیت کے بھاڑ کو توڑ ڈالوں گا۔ پس وہ غور کرنے لگا کہ کس کو اپنا مددگار بنائے، کس کو صلاح کار قرار دے۔ آخر یہی دل میں آیا کہ صلاح کے لیے بی بی سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں اور خدا کو کچھ اس خاندان کی فلاح ہی منظور تھی کہ نصوح نے بی بی کو پڑھا لکھا بھی لیا تھا۔ جب نصوح کا نیا نیا بیاہ ہوا انہی دنوں تعلیمِ نسواں کا چرچا شروع ہوا تھا، نئی نئی کتابیں جو عور توں کے واسطے جاری ہوئی تھیں نصوح نے سب کو بہت شوق سے دیکھا تھا اور اس کا دل اس بات کو مان گیا تھا کہ عور توں کو لکھانے پڑھانے میں چند در چند فوائدِ دینی و دنیوی مضمر ہیں۔ چنانچہ اس نے بعض کتابوں میں سے بعض مقاماتِ دلچسپ بی بی کو پڑھ کر سنائے۔ بھلائی کی بات سبھی کو بھلی معلوم ہوتی ہے، بی بی نے بھی اس کو تسلیم کیا کہ عور توں کے لیے پڑھنا بہت مفید ہے۔ بال بچوں کا کچھ بکھیڑا نہ تھا، میاں سے پڑھنا شروع کیا تو چار پانچ مہینے میں اردو لکھنے پڑھنے لگی، تب سے اب تک تھوڑا مشغلہ چلا ہی جاتا تھا۔
نصوح کو اس وقت بی بی کا پڑھا ہوا ہونا بہت ہی غنیمت معلوم ہوا اور سمجھا کہ بی بی یوں ہی خدا کے فضل سے اسمِ با مسمٰی فہمیدہ ہے، اس کا سمجھ لینا تو چنداں دشوار نہیں۔ رہے بچے جن کی عمر چھوٹی ہے وہ بھی اصلاح پذیر ہیں۔ بڑی دقت تو بڑی عمر والوں کی ہے۔ ایک بیٹا، ایک بیٹی بیا ہے جا چکے تھے۔ سمجھا کہ دونوں اپنے اپنے گھر کے ہیں کسی پر میرا اختیار باقی نہیں اور ہو بھی تو جوان بیٹا، جوان بیٹی۔ مار میں نہیں سکتا، گھرک میں نہیں سکتا، نرا سمجھانا اور وہ بھی اس عمر میں بڈہے طوطوں کو پڑھانا ہے۔ آخر وہ کہیں گے نہیں کہ برے ہیں اور بے دین ہیں، تمھی نے ہم کو ایسا اٹھایا اور جب ہماری عادتیں راسخ اور خصلتیں طبیعت ہو گئیں تو اب ہم کو ان کا ترک کرنا تعلیم کرتے ہو اور ہم کو ناحق ملزم بناتے ہو۔ یہ سوچنا تھا کہ نصوح کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے اور سمجھا کہ ان دو کی اصلاح محال ہے۔ اس کو زیادہ تر افسوس اس بات کا تھا کہ خدا کے فضل سے دونوں کے آگے اولاد ہے، جسطرح میری بدی نے میری اولاد میں اثر کیا، کیا ان کی بدی ان کی اولاد میں سرایت نہ کرے گی؟ مگر پھر بھی نصوح نے مصمم ارادہ کر لیا کہ ان شاء اللہ اپنے مقدور بھر تو کوشش کروں گا۔ یا تو راہِ راست ہی پر آئیں گے یا جیتے جی چھوڑ دوں گا۔ جو خدا کا نہیں وہ میرا پہلے نہیں۔ منجھلے بیٹے اور منجھلی بیٹی کی طرف سے بھی نصوح کو خوب اطمینان نہ تھا اور جانتا تھا کہ ان کے ساتھ بھی دقت پڑے گی۔ لیکن اس کا ارادہ ایسا مستحکم تھا کہ کوئی مشکل اس کو روک نہیں سکتی اور وہ مضطرب اور مستعجل اس قدر تھا کہ چاہتا تھا کہ ہتھیلی پر سرسوں جما لوں۔ ابھی اچھی طرح بدن میں اٹھنے بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں آئی تھی کہ اس نے بی بی سے کہا۔ "تھوڑا سا پانی گرم کرا دو تو میں نہا لوں۔ "
بیوی: "کیا غضب کرتے ہو، ہاتھ پاؤں میں ذرا دم تو آنے دو۔ نہانے کی ایسی کونسی ساعت ماری جاتی ہے۔ جب اصل خیر سے چلنے پھرنے لگو گے، خاصی طرح حمام میں جا کر غسل کرنا۔ "
میاں۔ "میں نماز پڑھنی چاہتا ہوں، علالت میں طرح طرح کی بے احتیاطی ہوئی ہے، جی قبول نہیں کرتا کہ اسی حالت سے نیت باندھ لوں۔ "
بیوی۔ "کیا اچھے ہونے کے نفل مانے تھے؟"
بیوی نے جو نماز سن کر ایسا تعجب ظاہر کیا تو نصوح پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور جی میں کہنے لگا کہ اللہ اللہ مجھ میں اور نماز میں اتنی دوری ہے کہ گھر والی بی بی سن کر تعجب کرتی ہے۔
وائے بر من، وائے بر انجامِ من
عار دارَد کفر بر اسلامِ من
اور ایک آہ سرد کھینچ کر بی بی سے کہا کہ میں نفلیں پڑھنے والا ہوتا تو بھلے ہی دن نہ ہوتے۔
بیوی۔ "منّت نہیں، نیاز نہیں تو پھر کیا جلدی ہے۔ نماز کہیں بھاگی نہیں جاتی۔ اچھی طرح تندرست ہو جاؤ گے تو بہتیری نمازیں پڑھ لینا۔ "
اب نصوح وہ نصوح نہیں رہا تھا کہ بی بی کو ایسی بے وقعتی کے ساتھ نماز کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتا اور اس کو ناگوار نہ ہوتا۔ غصہ تو آیا مگر پھر اپنے جی میں سمجھا کہ بی بی کا کچھ قصور نہیں، جس کا شوہر بے دین ہو اس کے ایسے ہی خیالات ہونے چاہئیں۔ تمام تر میری ہی خطا ہے اور ایک میری بے دینی نے سارے گھر کو تباہ کر رکھا ہے۔ بی بی سے اس وقت رد و کد کرنا مناسب نہ سمجھ کر اتنا ہی کہا کہ افسوس میری ناکارہ صحبت نے تم کو کس قدر گمراہ کر دیا ہے، فرضِ خدا کو تم نے ایک سرسری کام سمجھ لیا۔
غرض بی بی کے منع کرتے کرتے نصوح نے غسل کر، کپڑے بدل، نماز پڑھی۔ آج نصوح کی یہ پہلی نماز تھی کہ اس کو داخلِ عبادت کہ سکتے ہیں، وہ اس طرح ہاتھ باندہے ہوئے مؤدب کھڑا تھا جیسے کسی بادشاہ عالی جاہ کے روبرو کوئی خونی کھڑا ہوتا ہے۔ آنکھیں زمین میں سی ہوئی تھیں، ہیبتِ سلطانی اس پر ایسی چھا رہی تھی کہ نہ ہلتا تھا نہ جلتا تھا بس ایک بت کی طرح بے حس و حرکت کھڑا ہوا تھا، عاجزی اور فروتنی اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔ حکم کے مطابق کھڑا تھا لیکن جھک جھک جاتا تھا اور گر گر پڑتا تھا، غرض ایسی ایسی حرکتیں اس سے سر زد ہوتی تھیں کہ خواہ مخواہ دیکھنے والے کو رحم آئے۔
ہفتے عشرے تک علالت کا کسل رہا، پھر تو خدا کے فضل سے نصوح بدستور توانا و تندرست ہو گیا مگر بیماری کے بعد اس کی عادتیں اکثر بدل گئی تھیں، ہر وقت تو وہ کچھ سوچ میں رہتا تھا، بے ضرورت بکنا، بد تمیزی کے ساتھ ہنسنا، لا یعنی با توں میں شریک ہونا اس نے مطلقاً چھوڑ دیا تھا لیکن اس کے ساتھ لئینت، تواضع، وسعتِ اخلاق، انکسار، یہ صفتیں بھی اس میں آ گئی تھیں۔ بیماری سے پہلے اس کی بد مزاجی اس درجے کی تھی کہ گھر والے اس کو ہوا سمجھتے تھے، دروازے کے اندر اس نے قدم رکھا اور کیا چھوٹے بڑے سب پر ایک سہم چڑھا۔ اگر بھولے سے کوئی چیز بے موقع پڑی رہ گئی اور اس نے دیکھ پائی، سب پر ایک آفت توڑ ماری۔ کھانے میں، اٹکل ہی تو ہے، ذرا نمک زیادہ ہو گیا یا مٹھلونا رہ گیا، بس اسی روز جانو کہ گھر میں فاقہ ہوا۔ کتنے تو پیالے شہید ہوئے، کتنی رکابیوں کا خون ہوا، سارے محلے میں خبر ہوئی کہ آج کھانا بگڑا۔ بچوں کو بات بات میں جھڑکی، بات بات میں گھرکی، یا اب نصوح کے سر پر ڈھول بجاؤ، کچھ خبر نہیں بلکہ فہمیدہ بچوں کو شوخی کرتے دیکھ کر خفا ہوتی اور کہتی۔ "کیسے ناہموار بچے ہیں، باپ کا تو یہ حال ہے اور یہ انہی کے کان میں جا کر شور مچاتے ہیں، ذرا ڈر نہیں، دیکھو اکٹھی ہی کسر نکلے گی۔ "
شروع میں نصوح کے یہ انداز دیکھ کر گھر والوں کو بڑا کھٹکا تھا، وہ جانتے تھے کہ بیماری سے اٹھے ہیں ضرور ہے کہ پہلے سے زیادہ نازک مزاج ہو گئے ہوں گے ، اس بلا کا غصہ چڑھا ہے کہ کسی سے بولتے ہی نہیں، دیکھیئے یہ قہر کس پر ٹوٹتا ہے، کس کی شامت آتی ہے۔ مگر نصوح نے ایسا جلاب نہیں لیا تھا کہ اس نے خون میں ذرا سی گرمی بھی لگی رہنے دی ہو۔ لوگ بیماری سے اٹھ کر چڑچڑے اور بد مزاج ہو جاتے ہیں اور نصوح حلیم اور بردبار، نرم دل اور خاکسار ہوکر اٹھا تھا۔ معاملاتِ روزمرہ میں اس کی یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ جو رکھ دیا سو چاؤ سے کھا لیا، جو دے دیا سو خوشی سے پہن لیا، نہ حجت نہ تکرار نہ غل نہ غپاڑا۔ نصوح کی عادت بدلی تو لوگوں کی مدارت بھی اس کے ساتھ بدل چلی، جو پہلے ڈرتے تھے وہ اب اس کا ادب ملحوظ رکھتے۔ جن کو وحشت و نفرت تھی وہ اب اس کے ساتھ انس و محبت کرتے، تھوڑے ہی دنوں میں گھر شور و شغب سے پاک اور لڑائی جھگڑے سے صاف ہو گیا۔