| From:Adnan Huq |
|
From:Adnan Huq لاہور. . . . .. . اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نطم کے بھی بانی تھے ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا-
--
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں
2010/9/9 <bazme...@globalmushaira.com>
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں
--
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں
From:Adnan Huq لاہور. . . . .. . اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نطم کے بھی بانی تھے ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا-