ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے

23 views
Skip to first unread message

bazme...@globalmushaira.com

unread,
Sep 8, 2010, 7:48:22 PM9/8/10
to 5BAZMeQALAM

From:Adnan Huq

لاہور. . . . .. . اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نطم کے بھی بانی تھے ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا-

Abbas

unread,
Sep 9, 2010, 6:22:29 AM9/9/10
to bazme...@googlegroups.com
Great loss to Urdu Literature as well as to humanity as a whole. Dr. Agha was splendid human being besides being a great asset to literature. He has left behind a legendary life to cherish for. A chapter of unique value is closed for good. May Allah bestow peace on departed soul.


From:Adnan Huq

لاہور. . . . .. . اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نطم کے بھی بانی تھے ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا-

--
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں

Abdul Mateen Muniri

unread,
Sep 9, 2010, 7:23:49 AM9/9/10
to bazme...@googlegroups.com, muniri...@yahoo.com
قریبی دور میں لاہور میں فنون اور اوراق دو مجلات نہیں بلکہ ادب کے دو اسکول آف تھاٹ تھے
فنون احمد ندیم قاسمی کی زیرسرپرستی  تھا ، اور ترقی پسندی کی طرف منسوب ادب کی نمائندگی کرتا تھا۔
اور اوراق ڈاکٹر وزیر آغا کے کے زیر  سرپرستی حلقہ ارباب ذوق کی
اردو ادب کے ان چوٹی کے ادیبوں کے زیر سایہ کئی ایک دوسرے ادیب پھلتے پھولتے تھے اور  ایک دوسرے کے افکار و خیالات کی تائید و مخالفت میں نوک جھونک کرتے تھے
اور ان کی چٹکیاں ایک تیسرے ادیب مشفق خواجہ خامہ بگوش کے قلم سے لیتے تھے۔ 
جن سے فکر و نظر کو مہمیز ملتی اور ادب جسم میں  تعمیری خیالات کا تازہ  خون داخل ہوکر دوڑنے لگتا
نہ صرف دنیا کی اس فانی زندگی سے بلکہ ایک تروتازہ ادبی منظر نامہ سے وقفہ وقفہ سے ان تینوں کا یکے بعد دیگرے اٹھا جانا اردو ادب کا      
بہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی مشکل نظر آتی ہے کیونکہ ہم جس دور سے گذر رہے ہیں ادبی نقطہ نظر سے یہ بونوں کا دور ہے۔
اب نہ مطالعہ رہا ،نہ غور و فکر اب تو صرف پی آر اور رابطہ ہے۔ادبی نشو و نما کے کے لئے اس ماحول میں تبدیلی نہیایت ضروری ہے۔  


2010/9/9 Abbas <abbas....@gmail.com>
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں

--
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں



--
Abdul Mateen Muniri
General Secretary Bhatkallys Media Society
Editor And Director
www.urduaudio.com
www.akhbaroafkar.com

kalim hazique

unread,
Sep 9, 2010, 9:06:08 AM9/9/10
to bazme...@googlegroups.com, amber shamim
Wazir AAgha ki Rehlat se ondo paak ke tammam adaba aur shoara ghamzada hain. Unke saath ek Ahd ka khatma ho gaya liken woh hamari adabi rewayat ka hissa hain
Kalim Hazique


From: Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Cc: muniri...@yahoo.com
Sent: Thu, 9 September, 2010 4:53:49 PM
Subject: Re: {596} ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں
To Post in the group: bazme...@googlegroups.com
To Unsubscribe send mail :BAZMeQALAM+...@googlegroups.com

fariyad azer

unread,
Sep 9, 2010, 9:22:43 PM9/9/10
to bazme...@googlegroups.com
انا للہ و انا الیہ راجعون۔ 
اردو ادب میں ایک اور بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ آمیں   

From:Adnan Huq

لاہور. . . . .. . اردو ادب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر وزیر آغا 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے انشائیہ کی صنف کو متعارف کروایا اور جدید نطم کے بھی بانی تھے ڈاکٹر وزیر آغا نے 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں ان میں آدھی صدی کے بعد، دستک اس دروازے پر شامل ہیں۔ڈاکٹر وزیرآغا کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد اردو ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔منیر نیازی،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی وفات کے بعد ان کا وجود اردو ادب کے لئے غنیمت تھا-

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages