عید ہے، لا بادہ سے مینا بھر کے ۔۔ (مئی ٢٠١٢)

10 views
Skip to first unread message

Zubair H Shaikh

unread,
Jul 6, 2016, 4:45:35 PM7/6/16
to bazme...@googlegroups.com

عید ہے،  لا  بادہ  سے  مینا  بھر  کے ۔۔

مہ آشام پیاسےہیں مہینہ بھر کے۰۰۰

زبیر حسن شیخ

آج بقراط ملتے ہی گویا ہوئے۔ جناب ماہِ مبارک میں بزم کا عجب عالم رہا۔ عقل  کی صراحی  تفریحی ادب  کے بادہ سے خالی رہی اور سبکے دل و دماغ پر روحانی ادب کی اجارہ داری رہی۔ اب تفریحی ادب کے پیاسوں کی پیاس بجھانے کا اہتمام ضروری ہے” کہ مے آشام پیاسے ہیں مہینہ بھر کے” ۔  فرمایا، عام دنوں میں بزم کا عالم کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ کہے ہے ،،منہ زوریاں تو کرتے ہو مجھ سے کمال تم۔۔۔پھر ہم جو کچھ کہیں گے تو ہوگے چراغ پا،، تو کبھی کہے ہے ،،باعث ترک تکلف نہیں کھلتامجھ پر۔۔۔گالیاں دیتے ہوکیوں مشفق من خیرتوہے،،۔ کبھی مطلع تو کبھی حسنِ مطلع لگے ہے اور کبھی صرف مقطع ۔ کبھی غالب شناس اور کبھی میر شناس۔کبھی چراغ پا تو کبھی آبلہ پا۔ کبھی بزم گاہ سجائے تو کبھی رزم گاہ۔ کبھی چیستاں تو کبھی دبستاں ۔ غرض یہ کہ جیسے آئینہ لیے کہہ رہی ہو ۔۔۔” آئینہ دیکھ بولے وہ کس ناز سے۔۔۔میرا ثانی یہ کب دوسرا ہوگیا”۔

اسی اثنا شیفتہ بھی آ پہنچے اور اس شعر کو سنتے ہی پھڑک اٹھے۔ فرمایا استاد برق کی یاد کیونکر آگئی اور کس کافر ادا کا ذکر چھڑا ہے۔ بقراط نے فرمایا جناب ہماری بزم کا ۔ پوچھا کچھ حجاب آرائی بھی کرتی ہے یا نہیں۔ آپ مدعو ہوتے ہو یا بس ۔  ۔  ۔ کہا جناب حیا دار مہذب و مودب ہے اور اہلِ علم و فن کا مجمع  رہتا ہے۔ ہم بھی مدعو ہوتے ہیں۔ ابھی چند دن قبل ہی کی بات ہے کہ بزم  کے ایک گوشہ میں ایک صاحبِ علم نے اہلِ خرد کا مجمع لگا رکھا تھا۔ صحرا سے قیس کے قدموں کی خاک لائی گئی تھی اور تبرکاً چھڑکاؤ ہو رہا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے بزم لالہ زار ہوگئی۔


ایک صاحب میر کی غزل گنگناتے نظر آئے۔۔ دامان و جیب و دیدہ و مژگان وآستین۔۔۔اب کون سارہا ہے کہ ان میں سے تر نہیں۔۔۔ ہم نے پہچاننے کی کوشش کی ہو نا ہو یہ درزی ماسٹر ہو۔ اور وہی نکلے۔ ہمنے پوچھا، حضور کام دھندہ چھوڑ یہاں۔ کہا میرا بیٹا اب ڈریس ڈیزائنر ہوگیا۔ پوچھا آپ کے وہ بھائی جوگاؤں میں خلیفہ ہوا کرتے تھے۔ انگلیوں سے اشارہ کرکہا کہ وہ دیکھیے جو سفید سوٹ میں ہیں، دانتوں میں خلال اور بالوں میں وبال کرتے نظر آرہے ہیں۔ انکے صاحبزادے اب ہیرڈیزائینر بن گئے۔ ہم نے کہا آپ دونوں کے خوب مزے ہیں۔ کہا ہاں اور انکو اشارہ سے بلا لیا۔ انکے آتے ہی ہم نے  شوشہ چھوڑا حضور آپکا بیٹا ہیر ڈیزائینر اور بھتیجا ڈریس ڈیزائینر سنا ہے آپ فارغ ہیں۔  کہا۔۔۔ جناب فارغ کہاں ہم دونوں بھائی اب غزل ڈیزائینرز بن گئے ہیں۔ مشاعروں میں بھی اکثر آپ نے ہمیں دیکھا ہوگا۔  غزل ڈیزائینرز کی اصطلاح سن کر شیفتہ ناراض ہو گئے اور کہا۔۔ جناب آپ ان کے گریبان چاک کرلیتے۔۔ اماں غزل کی لطافت خاک میں ملانے پر تلے ہیں۔ بقراط نے کہا حضور اب زمانہ ڈیزائینرز کا ہے لوگوں کو صرف زلفیں اور ملبوسات ہی نہیں بلکہ بچے، دلہن، دلہا اور گھروں کے ساز و سامان ، سیاست اور رہنما، بزم و احباب بھی ڈیزائینرز چاہیے۔ آگے واقعہ سن لیجیے۔

خلیفہ کہنے لگے حضور غزل ڈیزائیننگ کی تحریک ہم دونوں بھائیوں کو اپنے ڈیزائینر بچوں سے ملی ہے اور انکو انکی بیگمات سے جو امریکی اور برطانوی شہریت رکھتی ہیں اور دولت مند ماڈرن اور  اعلی  تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ پوچھا آپ کے لڑکوں کی یہ لاٹری لگی کیسے۔ فرمایا حضور لاٹری تو ہمارے سمدھیوں کی لگی ہے ورنہ ہمارے پیشہ سے تعلق رکھنے والوں کی اولادوں کو رشتہ کی کمی کہاں۔ ہر مغرب زدہ اپنی لڑکیوں کے لیے متوسط طبقہ کے لڑکےاور وضعدار خاندان ڈھونڈتا ہے۔ صاحبزادوں نے چاہے کچھ گل کھلایا ہو لیکن بیٹیاں ہمارے جیسے گھرانوں میں ہی دیں گے  ورنہ مغربی سماج کے پروردہ کسی،میک، ،ٹام، یا ،جیف، سے رشتہ کرنا پڑے گا۔

 ہم نے پوچھا کیا تم دونوں بھائی ایک ہی غزل پر ایک ہی وقت میں خیال آرائی کرتے ہو۔ کہا ہاں اکثر۔ اب غور کیجیے کہ ہمارے درزی بھائی نے اگر ایک مصرع میں محبوب کے کپڑوں کا ذکر کیا تو فوراً ہم زلفوں اور سولہ سنگھار پر قافیہ جڑ دیتے ہیں۔ ہم نے پوچھا اس کمالِ فن کا اگلا مرحلہ کچھ سوچ رکھا ہوگا آپ نے۔ کہا ہم چاروں ملکر  ڈیزائینرز مشاعروں کا انعقاد کریں گے۔ پوچھا اسکی کیا خاصیت ہوگی۔ کہا غزل ڈیزائینر شعرا بلائے جائیں گے اور وہ ،ریمپ، پر چلتے ہوئے غزل پیش کریں گے ۔ انھیں مودب انداز سے چھاتی اور تالی پیٹنے کی ٹریننگ دی جائیگی۔ سلیقہ سے پنجوں کے بل اچکنا سکھایا جائے گا۔ خلاوں میں نظریں گھمانا اور سامعین سے دعاوں کی آڑ میں داد طلب کرنا بتایا جائے گا ۔  انکے ملبوسات پر خاص دھیان دیا جائے گا اور سب ڈیزائینرز ڈریس میں ہونگے ۔   

پوچھا غزل ڈیزائنرز کو اصلاح کی ضرورت توہوتی ہوگی۔۔ فرمایا بلکل نہیں، ڈیزائنر کوئی بھی ہو اسکا کمالِ فن یہی ہے کہ اس کی صرف توصیف ہی ہوتی ہے اصلاح وتنقید کے لیے کچھ چھوڑا کہاں جاتا ہے۔ ایک ڈیزائنر ڈریس میں اگر صرف دو چار دھاگوں کی لڑی مصرعوں کیطرح  رکھ دیں اور گرہ باندھنے کچھ  بھی نہیں تو بھلا تنقید کس چیز پر کرے گا کوئی۔ ایسے ہی ہمارے  ہیر ڈیزائنر بیٹے کا کمال ہے وہ تو صرف ،ٹیٹوز، سے ہی سر پرسرخ زلفیں نکال دیتے ہیں۔ انکے فن سے ہم نے تحریک لیتے ہوئے ،ٹیٹوز، کو اشعار میں استعمال کرنے کی ٹھان لی ہے۔  انکے سر خوب لگے گی جنکو غزل سمجھ نہیں  آتی۔ مختصر یہ کہ غزل، زلف اور لباس کو ڈیزائن کرنے کا مشترکا کاروبار ہے۔ بس اسی لیے ہم لوگ بزموں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ شیفتہ نے کہا اماں بقراط کسی دن انہیں سر منڈانا ہو تو بتائیے گا۔ مغرب کی تقلید میں نہ جانے اردو کو کہاں لے جائیں۔ ایسے ہی ایک مشاعرے کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔ بقراط نے کہا حضورکچھ ہمیں بھی بتائیے۔

 

شیفتہ نے کہا حضور پچھلے دنوں یونہی چہل قدمی کرتے ہم ایک  مشاعرے میں جا پہنچے ۔ پتا نہیں تھا داخلہ مفت ہوگا۔ جاتے ہی محسوس ہوا کمبخت چند محافظ، غنڈوں کی طرح جیب ٹٹول  ٹٹول کر دیکھ رہے ہیں۔ قریب گئے تو پتا چلا جامہ  تلاشی ہورہی ہے۔ ہم سمجھ گئے چوری کے اشعار اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہماری باری آئی تو محافظ نے کہا ہات اٹھائیے ۔ ہم نے پوچھا بھئی کیوں، ہم مشاعرہ میں یا مشاعرہ پر ہی  فاتحہ پڑھیں گے یہاں کیوں ہات اٹھائیں۔ کہا جناب تفتیش ہو رہی ہے فاتحہ آپ کی واپسی پر ہوگی، یہ بتائیے کچھ خطرناک چیز تو اندر نہیں لے جارہے آپ۔  جیسے رگِ  ظرافت پھڑک اٹھتی ہے ویسے ہی سبکی ایک رگِ حماقت ہوتی ہے اور ہماری وہی رگ پھڑک اٹھی  اور سر پکڑ کر ہم نے  کہا بھیا ہاں ایک خطرناک چیز ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔ وہ احمق اشارہ سمجھ نہ سکا اور لگا سیٹی بجانے اور افسر کو بلا لیا۔ ایک صاحب قشقہ کھینچے آگئے اور ان کے ساتھ دو بندوق بردار ماتحت بھی ۔ کہا اندر کیبن میں چلیے۔ پوچھا، سجن  آپ کہاں سے ہو۔ ہم نے کہا یو پی کے ہیں۔ کہا ہمارے اپنے ہو۔ پھر خطرناک چیج کاہے لیے گھوم رہے ہو اور وہ ہے کیا چیج۔ ہم نے کہا، بابو اور کچھ نہیں بس یہی دماغ ہے ہمارا، کمبخت بہت خطرناک ہے۔ کہنے لگا، ِپتا سمّان سجّن جرور آپ  شاعر ہونگے۔ کہا وہ تو پیدائشی ہیں۔ ہماری تو زمین ہی زرخیز ہے ۔ کہا، سجّن ہمارے سورگئ  پتا بھی کوی تھے۔ شدّھ اردو بولا کرتے تھے۔ ہم نے کہا بیٹا شدّھ کے ساتھ اردو کہاں خالص ہوئی۔ کہا آپنے درست فرمایا لیکن اردو کے ساتھ لگ کر شدّھ تو خالص ہی رہتا ہےنا اشدّھ نہیں ہوتا، وہی کافی ہے ۔ پتا جی کہا کرتے تھے تہذیب سیکھنے کا آسان طریقہ ہے اردو سیکھیے اور اردو سیکھنے کا آسان طریقہ ہے شاعری سنیے ۔ ہم نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی اور مشاعرے  کے میدان میں داخل ہوگئے۔ سوچا موقع دیکھ بزم سے چرائے ہوئے کچھ اشعار سنا دیں گے اور مقطع کو زیر و زبر کر اس میں اپنا  نام ٹھونس دیں گے۔

 

آگے بڑھے اور  کسی سریلی آواز کی کشش میں بے خود بڑھتے چلے گئے۔ خیال آیا یہ آوازیں اور واہ واہی کچھ عجیب ہے۔ مشاعرے کے بجائے کہیں اور آگئے ہیں۔سوچا شاید ایک ہی جگہ دو مختلف قسم کی بزم آرائیاں منعقد کی گئیں ہوں۔ اکثر ٹی وی چینلز پر ایسا ہی دکھائی پڑتا ہے۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ماحول تو مانوس سا لگا سوچا اب پتہ نہیں سازگار ہو نہ ہو۔ ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ ایک نسوانی آواز نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ حضور آئیے آپ کا مقام آگے ہے اور ہمیں اپنی رہنمائی میں لیے آگے قدم بڑھا دیے۔ ہماری نظریں جھک گئیں اور ہم بیخودی میں چل پڑے۔  دو چار قدم چل کر  چکرا گئے اور خیال آیا شیفتہ تم شاید بھول گئے کہ ایسی پزیرائی اور مقام تو سب جنت کی نشانیاں ہیں اور قیامت ہوئے زمانہ گزر چکاہے اور تم حساب سے فارغ ہوکر وہ سب پاچکے ہو جس کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ ایک لمحہ میں مسکراہٹ نے اس خیال کو اور تقویت بخشی اور دوسرے لمحہ میں پھر وہی نسوانی آواز سنائی دی، حضور آپ یہاں اس صوفے پر تشریف  رکھیے۔ بیٹھتے ہی سارا خواب چکنا چور ہو گیا..... لا محالہ زباں پر آگیا۔  دو قدم کیا چلے،  رہِ بندگی میں تیری یارب۔۔۔نظریں دھواں دھواں اور تمنائیں لڑکھڑاتیں ہیں۔  بس پھر اپنے آپ کو کسی ڈیزائینر مشاعرے کی پہلی صف میں  پایا۔ دیکھا روشنی اور رنگ برنگی جھالروں سے سجا تخت اور شعراء بھی رنگ برنگے۔ تخت پر ایسی بھیڑ کہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا سامعین کس طرف ہیں۔ کسی پنچایت کی نشست کی طرح چند لوگ چودھری کے قریب تھے اور دیگر اتنے قریب قریب تشریف فرما تھے مانو ریل کے انتظار میں پلیٹ فارم پر اُکڑوں بیٹھے ہوں۔

 

  ادھر ادھر نظر دوڑائی تو پایا کہ پہلی صف کے ایک گوشے میں ہم اور چند نشست کے بعد بالکل درمیان میں ایک صاحب، بارعب، خوش لباس سر پر گلابی پگڑی، منہ میں گلوری لیے مسکرائے جارہے ہیں تخت کی طرف دیکھ دیکھ کر۔۔ان کے اور ہمارے علاوہ پہلی صف میں اور کوئی نہیں۔ باقی سارا مجمع ہمارے پیچھے۔ سوچا شیفتہ آج کی رات آخری رات ہے۔ ایک گہری نظر تخت پر ڈالی کہ دیکھیں کون کون سے معتبر شعراء حاضر ہیں تو پتہ چلا ایک بھی نہیں۔ تقریباً سو کے قریب شعراء اور سب نئے پر جمال چہرے جن میں شاعرات بھی شامل تھیں۔ تعداد اور چہرے یاد کرکے ایک جھرجھری سی آگئی کہ شیفتہ کل فجر  تو فوت ہوگی ہی اور پتہ نہیں آنے والے دنوں میں جمعہ بھی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔ کیا کریں کیسے بے ادبی کرتے ہوئے اٹھ کر بھاگ جائیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک پھر وہی نسوانی آواز کان کے قریب سنائی دی۔ حضرت اس فارم میں تفصیل درج کیجیے اور اپنے دستخط بھی، ہم کچھ ہی دیر بعد آکر آپکو پھر زحمت دیں گے، تب تک اس مشاعرے پر اپنی نظرِ کرم ڈالے رکھیے۔  ہم نے سوچا محترمہ ٹھیک فرما گئیں یہ مشاعرہ دیدنی ہے۔ فارم پر  نظر ڈالی تو برقی جھٹکا لگا اور ہم کھڑے ہوگئے۔ دفعتاً اپنی سُبکی کا خیال آتے ہی اطراف میں نظر دوڑائی، دیکھا تو دور سے پگڑی والے حضرت  ہماری طرف دیکھ کر آداب بجا لا رہے ہیں اور تشریف رکھنے کا اشارہ کر کے پھر شعراء کی طرف متوجہ ہوگئے۔ دوبارہ ہاتھوں میں کپکپاتے فارم پر  ہم نے نظر ڈالی۔ نام پتہ کی جگہ تو خالی تھی لیکن ایک کونے میں نیچے پانچ ہزار کی رقم پیشگی عطیہ /  ہدیہ۔ معاون  کے عنوان سے درج تھی۔

مائک سے ناظم کی کرخت آواز سنائی دی۔ حضرات طویل فہرست ہے نامور شعراء کے کلام کی جن کے حلق خشک ہوگئے ہیں مشاعروں کے وقار کو قائم رکھنے کی گوہار لگا لگا کر اس لیے وہ سب  اس مشاعرہ کو عزت  بخشنے تشریف نہیں لاسکے۔ ہاں انکے کلام کو پیش کرنے کے لیے ہم نے فلمستان سے مغنی اور غزل سرا بلائے ہیں۔ عظیم شعرائے کرام کے نام ملاحظہ کریں۔  ،راحت صاحب، منور صاحب، شہریار صاحب، وسیم صاحب، راشد صاحب، سلیم صاحب، قاسم صاحب، عطا صاحب۔ آگے ہم نے کچھ نہ سنا اور  یہاں وہاں نظر دوڑائی اور بھاگ کھڑے ہوئے اور جاکر اسی دروازے پر سانس کھینچی۔ محافظ نے کہا کیوں جناب  ہوگئی فاتحہ، نہیں نا، چلیے ہات اٹھائیے۔ ہم نے کہا بھیا اب کس لیے۔ کچھ اشعار سنے ہی نہیں تو چراتے کیا۔ کہا ہات اٹھا کر فاتحہ پڑھیے آپ پچاسویں شخض ہیں جو یوں بھاگ کر واپس ہوئے ہیں۔ ہم نے کہا ضرور ہات بھی اٹھاتے ہیں اور ہم کان بھی پکڑتے ہیں۔


تمام احباب بزم قلم کو عید مبارک 

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages