گل بخشالوی ....معراجِ سخن

93 views
Skip to first unread message

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 21, 2022, 2:23:43 AM7/21/22
to Prof. Dr. Haroon Ur Rashid Tabassum, asma mughal, arif saeed Bukhari, Hafsa Faryal, Safdar Hamadani, Mona Shahab Adbi Markaz, Fanoon Quarterly, BAZM-E-SUKHAN, Aijaz .Shaheen, Bazm e Qalam, Altumash Mubeen, poe...@urdupoint.com, Safir Rammah, Bazm-e-Khawateen, khayy...@gmail.com, Daily Urdu Columns, Urdu Net Japan, Mohsin Dost Poetry in Urdu Official, UrduPoint Content Team, Msnaz Naz, Rubina Faisal

Gul Bakhshalvi gulbak...@gmail.com

10:39 AM (35 minutes ago)
to me
 گل بخشالوی ....معراجِ سخن
مبصر: ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم                                                                                                                               
drhar...@gmail.com                                                                                                                                
ناشر: قلم قافلہ کھاریاں ( پاکستان )۔ سن اشاعت: جون 2022ء۔ سرورق: گرافک لنک ۔ صفحات: 126۔ قیمت: دعابرائے حیات و بعد از وفات
  الفاظ کی گل پاشی :
سلطان سکون ،سید محمد طاہر شاہ ، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ، صوفی محمد ضیاءشاہد ، آصف ثاقب ، جمشید اقبال ، عتیق الرحمن صفی ، شاہ روم خان ولی ، مقبول ذکی مقبول ، ندیم اسلم ، فو زیہ غزل ، محمد عارف قادری ، سید صابر حسین شاہ بخاری ، ڈاکٹر اسحاق وردگ ، نواز شاہی الہ آبادی ، م سرور پنڈولوی ،
شریک ِ انتخاب ، سخنوران جہاں :
آصف ثاقب، آزاد مانجھا گڑھی ، آزاد ضمیر انصاری ، ابن عظیم فاطمی ، احمد حنیف جامی ، احمد ذوہیب ، احمد علی برقی ، احسن نذیر اکمل ، پر وفیسر اختر چیمہ ، پر وفیسر ارشد شاہین ارشد بیلی ، اعجاز عزائی ، اظہار شاہجہان پوری ، اعظم سہیل ہارون ، اشفاق چترانوی ، اعجاز کشمیری ، اسد رضا ، اکبر شانی ، اکرام الحق ، افضل ہزاروی ، ایم شیراز انجم ، ایم اے گلشن ، افتخار احمد شاہد ابو سعد ، امتیاز انجم ، امین بابر ، امتیاز ایوب امتیاز ، امن علی امن ، اے آر ساغر ، انجم جاوید ، انعام الحق معصوم صابری ، احمد محمود الزماں ، انصر رشید انصر ، ( ایس ) انجم دربھنگوی ، ارم ناز ، پریم ناتھ بسمل ، تاجور سلطانہ ، تاثیر جعفری ، تنویر پھول ، توقیر سید ، ثمینہ گل ، بی اے ندیم ، جابر نظامی ، جاوید جدون ، جاوید صادق ، جسارت خیالی ، جنید نسیم سیٹھی ، ڈاکٹر جنید آذر ، جمشید اقبال ، پر وفیسر حماد خان ، حسیب جمال ، حارث راجہ ، حمید اللہ خان حمید ، حمزہ حامی ، حنیف شارب ، خاور چودھری ، خالد مصطفی ، خرم خلیق ، خورشید انجم پوری ، خورشید ازہر ، دانش حبیب ، دلشاد احمد ، ذوالفقارحیدر پرواز ، ذیشان علی عکس ، ذکی طارق ، راشد منصور ، راحت سرحدی ، رحمان امجد مراد ، رشید آفریں ، رفیع الدین ذکی قریشی ، رفیق لودھی ، روبینہ ممتاز روبی ، رئیس حیدر انصر ، حاجی رحمت علی ، رضوان حیدر رضوان ، رہبر عارفی رضوی ، ڈاکٹر زرقا نسیم غالب ، زیب النساءزیبی ، زین علی آصف ، سلطان سکون ، ساجد رضا خان ، ساجدہ سلطانہ ، سعادت حسین آس ، سید حبدار قائم ، سیدہ کوثر منور ، سلمی رضا سلمیٰ ، سلیم یاور ، سیدہ سعدیہ فتح ، پروفیسر سبین یونس ، شاکر کنڈان ، شان مصباحی ، شارق رشید ، شاہین فصیح ربانی ، شاہ نواز سواتی ، شاہ روم ولی ، شاد بلرام پوری ، شفیق رائے پوری ، شہیر رضوی کھیروی ، شگفتہ غزل ، شگفتہ شفیق ، شوکت محمود شوکت ، شیریں گل رانا ، شاہد الرحمن صابری ، شہناز یاسمین شازی ، صارم ملک صائم سنی ، صبا عالم ، صدام حسین نازاں ، طاہر حنفی ، طاہرہ اکرام رما ، طاہرہ رباب ، طاہر سخا لکھنوی ، ظفر قاسمی ، ظفر اسلام برہانی ، عاصم عاصی ، پر وفیسر عاصم بخاری ، عابدہ شیخ ، عامر عباس اعوان ، عباس ثاقب ، عابد علی خاکسار ، عدن اورنگ زیب ، عاکف غنی ، عبدالوحید بسمل ، عتیق الرحمن صفی ، عدیل شیرازی ، ڈاکٹر عمر قیاز قائل ، عرش ہاشمی ، علی شیران ڈاکٹر عطا اللہ خان ، عمران یاد گیری ، غضنفر عباس قیصر فاروقی ، غلام مجتبیٰ ، غلام مصطفی اصغری ، ڈاکٹر غلام فرید طاہر، ڈاکٹر فرحت عباس ، ڈاکٹر فرزانہ فرحت ، فیروز ناطق خسرو ، فخر یٰسین بلوچ ، فیض الحسن ناصر ، فیصل مضطر ، قمر ہمدانی ، قمر آسی ، پر وفیسر قیصر ہاشمی ، کاشف کمال ، گل بخشالوی ، گلشن بیابانی ، سیدہ محمد طاہر شاہ ، ڈاکٹر محمد افتخار ارقم ، محمد صدیق وارثی ، محمد علی ایاز ، صوفی محمد ضیاءشاہد ، محمد ذکی طارق ، ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، محمد اشفاق انجم ، محمد عارف قادری ، محمد ارسلان عامر ، محمدنفیس ازہر ، محمد ذکی ذوق ، محمد اسحاق کھرل ، محمد علی حارث ، محمد خلیل الرحمن ، محمد اسماعیل عاجز ، محمد کاظم شیرازی ، محمد زبیر ساہی ، محمد یسٰین انجم ، مشتاق دربھنگوی ، محمد ارسلان ارشد ، م سرور پنڈولوی ، محسن اکبر ، محمد ضیاءاللہ قریشی ، ماجد جہانگیر ، ڈاکٹر منور ہاشمی ، مدثر حبیب جامی ، مقدس طاہرہ ، مسعود چشتی ، ڈاکٹر منور احمد کنڈے ، معظمہ نقوی ، مقبول احمد مقبول ، مقبول ذکی مقبول ، ڈاکٹر ممتاز منور ، ممتاز ملک ، مکرم حسین اعوان ، مظفر احمد مظفر ، نادرہ ناز ، نزہت جہاں ، نعیم اختر اعوان نواز شاہی ، ندیم اسلم ، نذیر احمد اظہر کٹیہاری ، نسیم شاہانہ سیمیں ، نعمان حیدر حامی ، نصرت یاب نصرت ندا عارفی ، نذر فاطمی ، نزاکت علی نزاکت ، ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ، نفیسہ حیاء، نور الدین ثانی ، حافظ نور احمد قادری ، واحد غالبی ، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ، یاسر رشید یاسر ، یوسف خالد ۔
 &....جس طرح روح کی بالیدگی کے لیے آکسیجن کا ہونا از بس ضروری ہے اسی طرح اب پاکستان میں حاجی گل بخشالوی اور قلم قافلہ کھاریاں پاکستان کا وجود لازمی ہو چکا ہے ۔ ان کے ذہنی رحجان اور نظریاتی ادراک نے پاکستانی ادب کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ ان کی گراں مایہ کتب ادب کے لیے توشہ ¿ رہنمائی ہیں ۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر ایم فل کا مقالہ بھی منظر عام پر آچکا ہے ۔ زیر نظر کتاب ” معراج سخن “ اُن کے عشقِ رسول ﷺ کا پرتو ہے ۔ یہ کام رنگ معرفت کا ایک آئینہ ہے۔ حاجی گل بخشالوی کے نہاں خانہ ¿ دل میں تاجدار ختم نبوت ، محمد مصطفی ﷺ سے عشق کی لَو موجود ہے۔ ان کے لفظوں نے نزہت ِ خلد بریں منور کر دی ہے ۔ اس کتاب میں شامل نذرانہ ¿ عقیدت بحضور خاتم النبیین محمد مصطفی ﷺ شعور و تحت الشعور کا ایسا خزینہ ہے جس سے نعتیہ شاعری کے حسن میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ قسمت نوع بشر تبدیل کرنے کے لیے حمد و نعت سے دلی لگا ¶ بہت ضروری ہے ۔” معرج سخن “ درحقیقت معراجِ اَدب کا ایفل ٹاور ہے جہاں سے ہم عاشقانِ رسول ﷺکے اس قافلے کو دیکھ سکتے ہیں جو قلم قافلہ پاکستان کی سر پرستی میں انوار ِ رسول پاک ﷺ دیکھنے کے متمنی ہیں۔ڈاکٹر گل بخشالوی ایسے اَدبی معالج کا معاشرے میں ہونا ا ز بس ضروری ہے ۔ منتشر لوگوں کو ایک قوم بنانے کے لیے دعوتِ حمد و نعتوقت کی اہم ضرورت ہے ۔ سرورِ کائنات ﷺ کی توصیف کے لیے ہمارے پاس مناسب لفظ موجود نہیں ہیں۔ یہ کچھ جو ہم لکھتے ہیں محبوبِ کبریا ﷺسے محبت کا اظہار ہے۔ جس ہستی کے اوصاف پر پورا قرآن موجود ہے ۔ ایک بندہ اُن ﷺ کی تعریف کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے ۔ حضور ﷺ کی تعریف حرفِ دُعا ہے ۔ ایک ایسا سجدہ ہے جس میں نور ہی نور نظر آتا ہے ۔ عالمِ انسانیت میں رحمت للعالمین ﷺ کی مدح سرائی تا حشر ہوتی رہے گی۔ مسائل سے جھلستی ہوئی اس سرزمین کو گلزار بنانے کے لیے آپ ﷺ کے اقوال پر عمل کرنا شرطِ اوّل ہے ۔ پیغامِ حمد و نعت چار سو پھیلانے والوں میں حاجی گل بخشالوی کا نام چاروں طرف گونج رہا ہے ۔ گل بخشالوی ہمہ جہت شخصیت کے حامل شاعر و ادیب ہیں وہ ہمیشہ دوسروں کو متعارف کروانے میں مصروف عمل رہتے ہیں ۔انتخابِ حمد و نعت کا سلسلہ نیا نہیں ہے وہ اس سے پہلے خدائے محمد ﷺ ، بزمِ رسالتﷺ، گلزارِ محمدﷺ، دربارِ رسالت ﷺ، حاضری حضور ﷺ کے حضور، اَدبی میدان میں پیش کر چکے ہیںاور اَب ”معراجِ سخن “کی نقاب کشائی آپ کے سامنے ہے۔
” معراج سخن “ ایسا نعتیہ گلدستہ ہے جس میں دنیا بھر کے نعت گو شعراءکا انتخاب 2022 ءشامل ہے ۔ ”معراج سخن “ کے ابتداءمیں بعنوان ” الفاظ کی گل پاشی “ میں ممتاز دانش وروں ،ناقدین کی اس کتاب کے بارے میں آراءکو پیش کیا گیا ہے جس میں سلطان سکون ،سید محمد طاہر شاہ ، راقم السطور( ہارون الرشید تبسم) ، صوفی محمد ضیاءشاہد ، آصف ثاقب ، جمشید اقبال ، عتیق الرحمن صفی ، شاہ روم خان ولی ، مقبول ذکی مقبول ، ندیم اسلم ، فو زیہ غزل ، محمد عارف قادری ، سید صابر حسین شاہ بخاری ، ڈاکٹر اسحاق وردگ ، نواز شاہی الہ آبادی اور سرور پنڈولوی ، کے نام شامل ہیں۔
گل بخشالوی نے بے لوث اَد ب کی جو خدمت کی ہے وہ ہم سب پر عیاں ہے ۔ کھاریاں کو باغ و بہار ، گل گلزار اور سخن آثار بنانے میں گل بخشالوی کی محنتوں اور کوششوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ انھوں نے کھاریاں جیسے مرکز سے دور علاقے کو ادب کے حوالے سے معروف کر دیا ہے ۔ اب کھاریاں ان کے ادبی کاموں کی وجہ سے دنیا بھر میں وجہ شہرت بن گیا ہے۔ انھوں نے ” قلم قبیلہ“کے نام سے رسالہ بھی جاری کیا اور کئی سال بڑی باقاعدگی سے اشاعت پذیر ہوتا رہا ۔ پھر مختلف شخصیات پر خاص نمبر وں نے بھی ان کی شہرت کے گراف کو خاصا بلند کیا ۔ اب حمد ، نعت اور غزل کے انتخاب ہر سال سامنے آرہے ہیں ۔ یہ کوشش بھی دراصل دوسروں کی پذیرائی کے لیے ہے ۔
اَدب کے لیے گھر پھونک تماشا دیکھنے کی روایت حاجی گل بخشالوی کے ہاں پائی جاتی ہے ۔ اُنھوں نے ذاتی جیب اَدب کے لیے نچھاور کر دی ہے ۔ 30مئی 1952ءکو آنکھ کھولنے والے حاجی گل بخشالوی اہلِ اَدب کی آنکھوں میں سمائے ہوئے ہیں۔ اُنھو ں نے اس کتاب کے حوالے سے لکھا ہے :
”دیارحبیب سے محبت اپنی جگہ لیکن سیرتِ مصطفی ﷺ ، صورتِ مصطفی ﷺ ، شان ِ مصطفی ﷺ اور اوصافِ مصطفی ﷺ ہی حسن نعت ہے ، محمد مصطفی ﷺ رحمت للعالمین ہیں، آپ ﷺ سے محبت ہی درِ اقدس سے ہماری دُعا ہے، نعت تو تبلیغِ دین ہے ، اپنی نعت میں عالم کفر کو بتائیں کہ ہم محمد مصطفی ﷺ سے کیوں محبت کرتے ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ نورِ خدا ہیں ، آپ ﷺ خاتم الانبیاءہیں، آپ ﷺ حبیب ِ کبریاہیں۔ حبیبِ خداسے محبت خالقِ ارض و سماءسے محبت ہے اور جب خالق ِ کائنات راضی ہو جائے تو دونوں جہاں روشن ہوجاتے ہیں۔ تب خالق و رازق سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی ،اس لیے کہ وہ دلوں کے راز جانتا ہے ، ہمیں ہماری جنت ہمارے سجدوں کے عوض نہیں ملے گی، سجدے تو خدا سے ہماری محبت کا اظہار ہیں۔ ہمارے سجدوں میں ہمارے ربِ کریم ہمیں جانتا ہے کہ ہم عاشق دینِ مصطفی ﷺ ہیں، باغی نہیں ہیں، تب ہمیں خدا سے کچھمانگنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ ہمارے دل میں ہمارے خدا اور حبیب ِ خدا ہیں جس کی وجہ سے ہم برساتِ رحمت میں زندگی جی رہے ہیں، ہم ثناءخوانِ رحمت للعالمین ہیں یہ ہی ہماری زندگی سے محبت اور زندگی کا حسن ہے ۔ “
ڈاکٹر اسحاق وردگ اس کے کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
” گل بخشالوی صاحب اپنی ذات میں پرورشِ لوح و قلم کی انجمن ہیں ۔ اس انجمن کا اظہار قلم قافلہ پاکستان کی صورت میں بھی آپ کے سامنے ہے اور جناب گل بخشالوی کی شعری اور شعری انتخابات کی شکل میں بھی ۔ وہ قومی ادبی زندگی میں کھاریاں کی شناخت کا معتبر حوالہ ہیں ۔ شعر و ادب ان کی زندگی کی بنیادی ترجیحات کی فہرست کا لازمہ ہے ۔ وہ اپنی شاعری کی دلآویزی کی رعنائیوں کے روپ میں تاریخ ادب میں زندہ کردار کے طور پر موجود رہیں گے۔ ساتھ ہی سالانہ شعری انتخاب کی روایت سازی کے تناظر میں بھی اردو شاعری کی کئی دہائیوں کی نگہ داری کے حوالے سے بھی یاد رکھے جائیںگے ۔“
اس انتخاب ِ نعت 2022 ءمیں 203 نعتیں شامل ہیں ۔ یہ نہ صرف ایک انتخاب نعت ہی نہیں بل کہ دنیا بھر کے شعرا کی ایک ڈائریکٹری بھی ہے کیوںکہ گل بخشالوی نے ہر نعت کے نیچے شاعر کا نام ، شہر او رملک کا نام دینے کے بعد اس کا موبائل فون نمبر بھی دے دیا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی اَدبی خدمت ہے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اس انتخاب کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ کاشف کامل کی نعت کے دو شعر ملاحظہ ہوں :
 سب سے افضل ہے تری ذات مدینے والے
 کر دے مجھ پر بھی عنایات مدینے والے
 سچ تو یہ ہے کہ زمانے کے شہنشاہ و گدا
 کھا رہے ہیں تری خیرات مدینے والے
بھارت میں نعت گو شعرا ءکی کمی نہیں ہے ۔ کتاب میں کئی نعت گو شعرا کی نعتیں شامل ہیں ۔ شاد بلرام پوری کی نعت کے دو شعر ملاحظہ ہوں :
یہ بھی دعا میں کرتا ہوں ہر اک دعا کے بعد
 شہرِ مدینہ دیکھ لوں شہرِ خدا کے بعد
محفل سجائیں نعت کی تو ہو یہی خیال
ذکر صحابہ کیجئے خیر الوریٰ کے بعد
اسی طرح بھارت ، پٹنہ بہار سے نذر فاطمی کی نعت کے دو شعر ملاحظہ ہوں جن میں
نبی پاک ﷺ کی مدحت کی گئی ہے ۔ اس میں عجز وانکساری اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے ۔
میں ابتدائے فکر بہ نام خدا کروں
 اور اس کے بعد ذکر شہ انبیاءکروں
یا رب بفیض شاہ امم کر وہ فن عطا
میں مدحت رسول کا کچھ حق ادا کروں
ڈاکٹر فرزانہ فرحت کا تعلق لندن ( برطانیہ ) سے ہے ۔ فرزانہ فرحت کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیںہے۔ وہ اُردو کی ممتاز شاعرہ ہیں ان کی نگارشات کئی رسائل و جرائد میں پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے ۔ ان کی نعت کے دو شعر ملاحظہ ہوں :
علاجِ غم کریں آقا ، مرے آنسو گہر کر دیں
 مرے ویران گھر پر آپ رحمت کی نظر کر دیں
زمانے میں مسرت آپ نے دی ہر دکھی دل کو
قبولیں اشک یہ ، میری عقیدت معتبر کردیں
گل بخشالوی کے اس نعتیہ انتخاب میں انگلینڈ سے صبا عالم شاہ کی نعت بھی شامل ہے ۔ ان کی نعت کے دو شعر ملاحظہ ہوں :
حیات آپ سے ہے کائنات آپ سے ہے
تمام سلسلہ ¿ شش جہات آپ سے ہے
یہ عرش و فرش سجے آپ کی محبت میں
سحر کا نور ستاروں کی رات آپ سے
نامور شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں نے اُن کی خدمات کو ہدیہ ¿ تحسین پیش کیا ہے ۔ چند اقتباسات نذر قارئین ہیں:
٭ سلطان سکون :
” آپ کو ڈاکٹر کے اعزاز کی اُمید کی خوشی ہوئی، فون پر مبارک باد تو دے چکا ہوں مگر وہ مبارک تو ہوا میں تحلیل ہوگئی اس لیے سوچا کہ تحریری طور پر بھی مبارک باد پیش کر دوں کیوں کہ تحریر ایک سند ہوتی ہے! حقیقت تو یہ ہے کہ بلوغت سے آج تک آپ کی زندگی اور کمائی کا زیادہ تر حصہ اَدب کی خدمت میں صرف ہوگیا اور ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اس کے تناظر میں تو اعزازی ڈاکٹریٹ کے ایوارڈ اور سند کی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ آپ کے ادبی خدمات تو ”لائیو اچیومنٹ ایوارڈ“ کی مستحق ہیں تو قع اور اُمید ہے کہ آئندہ یہ اعزاز بھی آپ کو پیش کردیا جائے ، تاہم ڈاکٹر یٹ کی اعزازی ڈگری کی سفارش پر بھی بہت بہت مبارک۔ “
٭ سید محمد طاہر شاہ :
” گل بخشالوی صاحب اپنی ادبی خدمات کے بل پر بہت جتن اور لگن سے اَدب کے چمن کی پھبن میں سخن کی کرن بن کر اضافہ فرما رہے ہیں۔ اَدبی سفر میں آپ کی مہکار تخیل پر ادراک کی پھوار بن کر برستی ہے جس سے تخلیق میں جھنکار کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیںجو فکر کو بیدار کرکے اظہار کی منزل تک لے جاتے ہیں۔ “
٭ صوفی محمد ضیاءشاہد :
”پاکستان کی معروف علمی و ادبی شخصیت جناب گل بخشالوی کھاریاںکی طرف سے غزل انتخاب 2021ءغزل دستار موصول ہوا ہے جس میں جناب گل بخشالوی نے میری غزل کا انتخاب شامل اشاعت کرکے میری حوصلہ افزائی فرمائی ہے ۔ میں جناب گل بخشالویصاحب کا بے حد مشکور و ممنون ہوں ۔جناب گل بخشالوی صاحب کے علم و اَدب پر بہت سارے احسانات ہیں۔ اُنھوں نے زندگی بھر علم و اَدب کی خدمت کی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کی مختلف ادبی تنظیموں نے ان کی دستار بندی کی ہے ۔ ان کے اعزاز میں محفلوں کا انعقاد کیا ہے ۔ “
٭ آصف ثاقب:
”اب وہ نعتوں کا ایک اور انتخاب مرتب کرنے چلے ہیں خدا انھیں اس عقیدت سے افروز اور مبارک قدم ارادے میں استقامت بخشے گا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ گل بخشالوی کے ہر انتخاب میں برصغیر کے نامور شعراءکا کلام اور اہلِ قلم کی تحریریں ہوتی ہیں ان کی خلاص مندی سے کتاب کے روشن روشن اوراق دل اور دماغ میں سما جاتے ہیں۔ کھاریاں کا گوشہ ¿ اَدب محدود نہیں اس کے اثرات پر لگا کر اڑ رہے ہیں اس سے متعلق ہر جگہ سے خوش انداز پزیرائی کی خبریں ملتی ہیں۔ گل بخشالوی عجز سکارکر کے اَدبی خدمات کی سربلندی کی معجزنمائیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ ان کے نعتیہ اور غزلیہ انتخاب ترتیب میں پُر وقار اور ذی اعتبار ہی توہیں۔ “
٭ جمشید اقبال:
” کتنا اچھا ہے ؟ کتنا معیاری ہے ؟ موجودہ انتخاب سے جانچا جاسکتا ہے کہ اُردو اَدب میں دلوں کی سیاہی کہاں کہاں اپنی تاریکیاں پھیلا رہی ہے اورکس کس کو بھوک و ناداری نے راتوں کو جاگنے اور تڑپنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ موجودہ انتخاب ، شخصیات کو اَدبی تاریخ میں محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے اور غیر معروف شعراءکو متعارف کرانے کا پلیٹ فارم بھی۔ اس انتخاب کے شائع ہوتے ہی گل بخشالوی صاحب نے نعتیہ انتخاب کا اعلان کر دیا ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت کہ موصوف، اپنے نبی علیہ السلام سے نہایت عقیدت رکھتے ہیں۔“
٭ عتیق الرحمن صفی:
” اَدب کے بے لوث خدمت گار ، اُردو جانے پہچانے شاعر، ادیب اور بے باک صحافی محترم گل بخشالوی صاحب کی طرف سے چند دنوں کے وقفے سے دو کتابیں موصول ہوئیں۔ پہلی کتاب گل بخشالوی صاحب کی تالیفی کتب کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے یہ کتاب غزل دستار کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ “
٭ پروفیسر توقید سید:
” جناب گل بخشالوی اُردو اَدب کی جو خدمات بجا لا رہے ہیں یہ انھی کا ہی خاصہ ہے اپنے نام کی مناسبت سے گلستان اُردو ادب میں انواع اقسام کے گل بوٹے اگائے ہیں اور نہ صرف اگائے ہیں بل کہ مسقلاً ان کی آبیاری بھی کر رہے ہیں۔ ایک کھاریاں میں رہنے والا اُردو اَدب کا شیدائی نہ صرف پاکستان میں بل کہ ساری دنیا میں اپنی تالیفات و تنصیفات کی اشاعت میں ایک مقام حاصل کر چکا ہے۔ “
٭ شارق رشید :
”اعترافِ خدمت اُردو اَدب جب ہم پاکستان میں خدمتِ خلق کا ذکر کریں تو سب سے نمایاں جو ادارہ ذہن میں آتا ہے وہ ایدھی ٹرسٹ ہے ۔ ایک بہت بڑی اور منظم تنظیم مگر کیا ایدھی ٹرسٹ بغیر عبدالستار ایدھی کے ممکن تھی یا ایدھی ٹرسٹ کا کوئی حوالہ عبدالستار ایدھی کے بغیر قابلِ اعتبار ہوگا؟ یقینا نہیں یہی معاملہ قلم قافلہ پاکستان کا ہے ۔ اُردو اَدب کی ترقی اور ترویج میں انتھک مصروف۔ “
٭ شاہ روم خان ولی
”اُردو زبان و اَدب کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ادھر کچھ عرصے سے اُردو کے نئے ادیب اور قلم کار اپنی تحریروں سے اَدب کی دنیا میں شناخت بنا رہے ہیں۔ اُردو کے زوال کا نوحہ پڑھنے والے تو بہت ہیں لیکن اُردو زبان سے اپنی اٹوٹ وابستگی اور اس زبان میں لکھنے پڑھنے والوں میں نئی نسل کی شمولیت اُردو کے روشن مستقبل کی نوید سناتی ہے ۔ “
٭ مقبول ذکی مقبول:
” اُردو اَدب میں غزل ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔ یہ ایک سدا بہار صنفِ شاعری ہے ۔ اس کے دامن میں انسانی زندگی کے تمام تر پہلو پائے جاتے ہیں۔ رومانوی رنگ زیادہ نمایاں ہوتاہے اور انسانی زندگی کو نکھار کر خوشبو پیدا کرتی ہے ۔ گل بخشالوی صاحب کی فن و شخصیت پر مختلف شخصیات کی آراءمضامین بھی شامل ہیں۔ “
٭ ندیم اسلم:
” گل بخشالوی راقم کے بہت پیارے دوست ہیں ۔ میری دلی دُعا ہے کہ ان کے فن میں اور ان کے پن میں اور زیادہ نکھار تازگی اور جاذبیت نظر آئے، ہمہ وقت حرف و ہنر میں محو گلستان اَدب کے اس پھول کا یہ علمی و ادبی سفر تازہ دم رہے ۔ آمین “
٭ فوزیہ غزل :
” گل بخشالوی کی شاعری عہد رواں کی جاندار شاعری ہے ان کے تصور حسن و عشق میں لطافت و پاکیزگی ، اخلاص ، ایثار ، ہجر زدگی اور غم و الم کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں ان کی شاعری میں مختلف رنگو ں کے عکس دکھائی دیتے ہیں۔ گل بخشالوی اپنے عہد کے منفرد لب و لہجہ کے باکمال شاعر، ممتاز کالم نگار، ادیب اور نقاد ہیں ۔ وہ خوب صورت جذبوں ، دلکش رنگوں ، منفرد الفاظ ، خوبصورت خیالات کے شاعر ہیں۔ “
٭ سید صابر حسین شاہ :
”آپ نے شعر و شاعری میں حمد ، نعت ، منقبت اور غزل کے کئی گلستان سجائے ہیں اور گلہائے رنگا رنگ کھلائے ہیں۔ آپ خود گل بخشالوی ہیں اور ہمیشہ شعر و شاعری کے گلستانوں میں گلہائے رنگا رنگ کر کے گل باشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ماشاءاللہ بہت خوب۔ ۔۔ گل بخشالوی زندہ باد ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ ، محمد مصطفی کے طفیل آپ کے علم و قلم میں مزید جولانیاں اور روانیاں عطا فرمائے ۔ (آمین )
٭ نواز شاہی :
” جناب گل بخشالوی صاحب کا دائرہ شہرت و ناموری سے علیحدہ ہو کر خاموشی اور دلجمعی کے ساتھ حتیٰ الامکان شاعر و شاعرات کو بغیر کسی ذاتی مفاد ، حرص وغرض کے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا یقینا زبان اُردو سے بے کراں محبت کی روشن دلیل ہے ۔ موصوف آج بھی اپنی اس ادبی خدمات میں محو و فنا ہیں۔ “
٭ م، سرور پنڈولوی:
’ ’ انھیں اور بہت لمبی عمر عطاءکرے اور آسمانِ شعر و اَدب پہ یونہی آب و تاب سے جگمگاتے رہیں اور نو آموز لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں۔ آمین“
گل بخشالوی نے ادبی دنیا میں گل بخشے ہیں ۔ ان کی خوشبو ایک ہی سی ہے ۔ ان کو یکجا کرنے کے لیے اُنھوں نے جس محنت شاقہ اور عرق ریزی سے کام لیا ہے وہ قابل دید اور قابل تقلید ہے ۔ وہ اَدب کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں سے ہیں ۔ ”معراج سخن “ کی اشاعت پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔


--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
Maraj e Sukhan.INP
IMG-20220708-WA0112.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages