مہ لقا بائی چندا : اردو کی پہلی نسائی آواز

188 views
Skip to first unread message

anwar pasha

unread,
Aug 23, 2015, 3:57:33 AM8/23/15
to Aijaz Shaheen

مہ لقا چندا بائی

مہ لقا چندا بائی

مہ لقا بائی چندا : اردو کی پہلی نسائی آواز

ڈاکٹر راحت سلطانہ
محبوب چوک۔حیدرآباد

مہ لقا بائی چندا کو ایک عرصے تک اُردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ کا اعزاز حاصل رہا ۔ اس کا دیوان ۱۲۱۳ھ میں مرتب ہوا تھا (۱) ۔ لیکن جب مولوی نصیر الدین ہاشمی نے لطف النساء امتیاز کا دیوان دریافت کیا تو محض ایک سال کی قدامت کی وجہ سے یہ اعزاز امتیازؔ کے حصے میں آگیا۔ لطف النساء امتیاز کا دیوان ۱۲۱۲ھ میں مرتب ہوچکا تھا (۲)۔
چندا کے حالات زندگی کے بارے میں کچھ اچٹتے ہوئے اشارے مختلف تذکروں اور تاریخوں میں مل جاتے ہیں ۔ تاہم اس کے تفصیلی واقعات حیات دکن کی مشہور تاریخ ’’ماہ نامہ‘‘ (۱۲۲۸ھ) از منشی غلام حسین خاں بیدری‘ شہنواز خاں کی کتاب ’’مآثر الامراء ‘‘کے علاوہ غلام صمدانی گوہر کی تالیف ’’حیات ماہ نامہ‘‘ میں بھی موجود ہیں۔ اول الذکر ہنوز غیر مطبوعہ ہے اور اس کے قلمی نسخے ’’ادارۂ ادبیاتِ اُردو ‘‘ حیدرآباد ‘ برٹش میوزیم اور کتب خانہ انجمن ترقی اُردو کراچی میں علی الترتیب ’’ماہ نامہ ‘‘ ، ’’تاریخ دل افروز‘‘ اور ’’تجلیات ماہ لقا‘‘ کے نام سے محفوظ ہیں ۔ مولف کا مجوزہ نام ’’ماہ نامہ ‘‘ ہے- حالیہ عرصہ میں چندا سے متعلق جو کتابیں شائع ہوئی ہیں ۔ ان میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی ’’مہ لقا‘‘ پروفیسر شفقت رضوی کی ’’دیوان مہ لقا بائی چندا‘‘ اور راحت عزمی کی ’’ماہ لقا حالات زندگی مع دیوان‘‘ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ بعض اہل قلم نے چندا کی حیات اور شاعری پر اظہار خیال کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چندا کی حیات اور اس کے کلام پر تنقید کا حق ادا نہیں ہوتا ۔

مہ لقا بائی چندا جس کا اصل نام چندا بی بی یا چندا بائی اور خطاب ماہ لقا تھا‘ بروز دوشنبہ ۲۰؍ ذی قعدہ ۱۱۸۱ھ کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئی (۳)۔ اس کا نام نانی کے نام کی مناسبت سے چندابی بی رکھا گیا ۔ چندا کے والد کا نام بہادر خاں تھا ۔ ان کا موروثی خطاب نواب بسالت خاں بہادر تھا ۔ اور وہ آصف جاہی بخشی ۱؂ صرف خاص تھے ۔ والدہ کا نام راج کنور بائی (میدا بی بی) تھا ۔ مولوی نصیر الدین ہاشمی نے چندا کی تاریخ پیدائش سہواً ۱۱۷۸ھ بتائی ہے (۴) اور اس کے والد کا نام مرزا سلطان نظر تحریر کیا ہے (۵) ۔ جو محل نظر ہے ۔ مرزا سلطان نظر دراصل چندا کے دادا تھے (۶) جنہوں نے چندا کی پیدائش سے تقریباً ۵۴ سال قبل ۱۱۲۷ ھ میں وفات پائی (۷) ۔
چندا کے نانا کا نام خواجہ محمد حسین تھا ۔ انہوں نے گجرات کی ایک حسین لڑکی چندا بی بی سے شادی کی ۔ وہ ایک حسن پرست ، عاشق مزاج اور متمول آدمی تھے ۔ عیش پسندی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے انہوں نے سرکاری خزانے میں تغلب بھی کیا ۔ جب ناظم گجرات نے تحقیقات کروائیں تو گرفتاری سے قبل انہوں نے اپنی بیوی بچوں کو بے سہارا چھوڑکر روپوشی اختیار کرلی (۸)۔ چندا بی بی (ماہ لقا بائی چندا کی نانی)نے کچھ عرصے تک اپنے زیورات اور دیگر اثاثے کو فروخت کرکے گزارہ کیااور جب سب کچھ فروخت ہوگیا تو انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کی اور قصبۂ دیولیہ پہنچ کر بھگیتوں (۹) کے محلے میں سکونت اختیار کی ۔ چوں کہ ان بھگیتوں کا پیشہ گانا بجانا تھا اس لیے چندا بی بی کی بیٹیوں خصوصاً نور بی بی اور بولن بی بی (۱۰) کو گانے بجانے سے دلچسپی پیدا ہوئی اور دونوں نے بتدریج رقص موسیقی کے فن میں مہارت حاصل کرلی ۔ چندا بی بی کی جہاں دوبیٹیاں (نور بی بی اور بولن بی بی) گانے بجانے میں مشہور ہوگئیں وہیں تیسری بیٹی میدا بی بی کے حسن و جمال کے چرچے ہونے لگے ۔ چنانچہ دیولیہ کے راجہ سالم سنگھ نے جب میدا بی بی کو دیکھا تو اس پر دیوانہ وار فدا ہوگیا اور بالآخر اسے اپنے محل کی زینت بناکر ہی دم لیا ۔ راجہ پہلے ہی سے شادی شدہ تھا اور اس کی رانی کو میدا بی بی کا ‘ راجہ کے محل میں داخل ہونا بالکل ناگوار معلوم ہوا چنانچہ رانی نے جادو ٹونا کرواکے میدا بی بی کے خاندان کو خوف زدہ کردیا ۔ چندا بی بی ان پریشان کن حالات سے اس قدر دلبرداشتہ ہوئیں کہ کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اس دارفانی سے کوچ کیا۔ جب میدا بی بی کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو وہ بھگیتوں کے مشورے اور انہیں کی رہنمائی میں اپنے دو بھائیوں اور دو بہنوں کے ساتھ مالوہ کے راستے سے دریائے نرمدا کو عبور کرکے دکن پہنچی (۱۱) ۔ راستے میں اس کے دونوں بھائی بچھڑگئے اور باپ کی طرح ان کا بھی پتہ نہیں چلا ۔
میدا بی بی نے اپنی بہنوں کے ساتھ کچھ عرصے تک برہان پور میں قیام کرنے کے بعد اورنگ آباد پہنچ کر رقص و موسیقی کے پیشے کو اختیار کیا ۔ راجہ سالم سنگھ کے خوف سے تینوں بہنوں نے اپنے نام بدل کر میدا بی بی کے بجائے راج کنور بائی ۔ نور بی بی کے بجائے برج کنور بائی اور بولن بی بی کے بجائے بولن کنور بائی رکھ لیے ۔ برج کنور بائی اور بولن کنور بائی مجرے کے لئے جایا کرتی تھیں اور راج کنور بائی اپنی بیٹی مہتاب کنور بائی کے ساتھ گھرپر رہتی تھیں ۔ راج کنور بائی کی طرح مہتاب کنور بائی بھی بے حد حسین و جمیل تھی۔ نواب احتشام جنگ رکن الدولہ مدارالمہام مملکت آصفیہ اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئے اور اس سے بیاہ کرلیا ۔ اور اسے صاحب جی صاحبہ کے خطاب سے نوازا ۔ جو اس قدر مقبول ہوا کہ لوگوں نے اس کے اصل نام کو بھلادیا ۔ صاحب جی صاحبہ کی نیک نفسی اور وضع داری کے سبب ان کی بڑی عزت و توقیر ہوتی تھی ۔
صاحب جی صاحبہ (مہتاب کنور بائی) کے بیاہ کے بعد راج کنور بائی اپنی باقی زندگی عبادت اور نفس کشی میں گذارنا چاہتی تھیں لیکن دکن کے بعض اہل دل امراء اور رئیس اب بھی ان کی زلف گرہ گیر کے اسیر تھے ۔ راج کنور بائی نے راجہ سالم سنگھ کے محل میں اتنے دکھ جھیلے تھے کہ انہیں کسی عمر رسیدہ شخص سے بیاہ کرکے عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گذارنا ہی مناسب معلوم ہوا ۔ چنانچہ انہوں نے مرزا سلطان نظر کے فرزندِ اکبر نواب بسالت خاں بہادر آصف جاہی بخشی صرف خاص سے عقد کرلیا ۔ نواب بسالت جاہ کی عمر شادی کے وقت تقریباً ۵۵ سال تھی (۱۲) ۔ انھیں نواب بسالت جاہ اور راج کنور بائی کے گھر ۱۱۸۱ھ میں مہ لقابائی چندا پیدا ہوئی ۔ چندا کی پیدائش کی مناسبت سے غلام صمدانی جوہر نے ایک تہنیتی نظم لکھی تھی ۔ چند شعر ملاحظہ ہوں ؂
بحمد اللہ کہ ساز جشن باز اندر نوا آمد
چو زہرہ برزمیں از سطح اوجِ سیمیا آمد
نوائے نغمۂ انفاس عیسیٰ ہم نفس کشتہ
چو چندا بی بی خورشید طالع مہ لقا آمد
چندا کی پیدائش پر جشن منایا گیا ۔ چھٹی اور عقیقہ کی رسمیں بھی شایان شان طریقے سے منائی گئیں۔ مہتاب کنور بائی اور رکن الدولہ مدار المہام کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ اس لیے انہوں نے چندا کو گود لے کر اپنی ہی اولاد کی طرح پرورش کی ۔
ڈاکٹر زور (۱۳) مولوی نصیر الدین ہاشمی (۱۴) اور جناب اختر حسین (۱۵) نے مہتاب کنور بائی (صاحب جی صاحبہ ) کو چندا کی خالہ بتایا ہے جو محل نظر ہے ۔ مہتاب کنور بائی چندا کی بڑی بہن ہے جو راج کنور بائی کے بطن سے دیولیہ میں تولد ہوئی۔ اس کا باپ راجہ سالم سنگھ تھا ۔ رکن الدولہ مدار المہام اور مہتاب کنور بائی نے چندا کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ جس کی وجہ سے چندا نے تمام علوم مروجہ کے علاوہ فن موسیقی میں بھی مہارت حاصل کرلی ۔ نیز اُسے گھڑسواری ورزش اور فن حرب سے بھی دلچسپی تھی ۔ عبدالباری آسی کے بیان کے مطابق فن حرب میں ایک کامل شہ سوار کی طرح اپنے کمال دکھاتی تھی (۱۶) ۔
آصف جاہ ثانی نواب میر نظام علی خاں چندا کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ ابھی وہ پندرہ برس کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے مہم کولاس (۱۱۹۶ھ) کے موقع پر چندا کو اپنے ساتھ رکھا ۔ اس معرکے سے واپسی پر چندا کو اس کے نام کی مناسبت سے ’’مہ لقا‘‘ کے خطاب اور نوبت و گھڑیال کے اعزاز سے بھی سرفراز فرمایا۔ مورخین کا بیان ہے کہ وہ معرکۂ نرمل (۱۱۹۷ھ) اور پانگل کی مہم(۱۲۱۷ھ) میں بھی ہاتھی پر سوار آصف جاہ ثانی کے ہمراہ تھی ۔ اس وقت اس کی عمر ۳۶ سال تھی۔
چندا کی تعلیم و تربیت اور اس کے اخلاق و آداب کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسر شفقت رضوی لکھتے ہیں:
’’چندا ایک غیرمعمولی عورت تھی ۔ اس نے جس انداز سے پرورش پائی اور تربیت حاصل کی ان کی وجہ سے ایسے اوصاف حمیدہ پیدا ہوگئے تھے جو شاہوں کے لئے باعث رغبت ہوتے ہیں ۔ وہ طبعاً خوش مزاج ، بذلہ سنج ، لطیفہ گو ، شوخی پسند ، شوخ و شریر ، حاضر جواب اور فقر ہ باز تھی ۔۔۔۔۔۔ مبداء فیاض نے اس کی آواز میں جادو کا اثر پیدا کردیا تھا (۱۷)۔
مہ لقا کے طرز گفتگو ’’اخلاق اور آداب اور رقص و موسیقی میں اس کی مہارت کو دیکھ کر سکندر جاہ کہا کرتے تھے کہ ’’مانند ماہ لقا دیگرے بہ ایں کمالات پیداشدن مشکل است‘‘ (۱۸) ۔مہ لقا بائی چندا اپنے عہد کی ایک صاحب ثروت اور متمول ترین عورت تھی ۔ متعدد گاوں اور مواضعات ‘ پنپال ‘ سیدپلی ‘ حیدرگوڑہ ‘ چندا پیٹھ پلے پیٹھ ‘ مقطعہ علی باغ اور مقطعہ اڈک میٹ اس کی جاگیر میں شامل تھے ۔ وہ نہایت رحم دل اور اور خدا ترس تھی ۔نہایت فیاضی اور دریادلی سے ضرورت مندوں میں اپنی دولت لٹایا کرتی تھی لیکن اس کے باوجود اس کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہوا ۔ اس کے تموّل کا یہ حال تھا کہ سونے چاندی میں کھیلنے اور زرو جواہر لٹانے کے باوجود انتقال کے وقت اس کی جاگیر ‘ باغات اور عمارتوں کو چھوڑکر صرف نقد رقم ایک کڑوڑ سے زاید تھی (۱۹) ۔
چندا کو علم و ادب اور فنون لطیفہ سے بھی دلچسپی تھی ۔ اس کے کتب خانے میں تمام علوم و فنون کی کتابیں جمع تھیں ۔ جوہر نے اسی کتب خانے سے استفادہ کرکے اپنی ضخیم تاریخ ’’ماہ نامہ‘‘ لکھی تھی ۔ وہ علماء ‘ فضلاء ‘ شعرا ء اور مشائخین کی قدردان تھی ۔ مختلف موقعوں پر انہیں مدعو کرکے ان کی خاطر تواضع کرتی تھی ۔
بقول ڈاکٹر زور ’’چندا اس دور کی ایسی عورت تھی جس نے اپنی علم دوستی ‘ سرپرستی ‘ اور فضل و کمال کے باعث حیدرآباد کی نیک نامی میں اضافہ کیا ‘‘(۲۰) ۔
چندا نے جس زمانے میں میدانِ شاعری میں قدم رکھا ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ شیرمحمد خاں ایمان ، چندو لال شاداں ، محمد صدیق قیس دکن میں اور میر تقی میر ، مرزا رفیع سودا اور خواجہ میردرد جیسے شعرا شمالی ہند میں داد سخن دے رہے تھے اور جو شعرا شمالی ہند سے قدردانی کی توقع میں حیدرآباد میں وارد ہوئے ان میں حافظ تاج الدین مشتاق ، ذوالفقار علی خاں صفاؔ ، شاہ نصیر الدین نصیر ، شیخ حفیظ دہلوی کے نام اہمیت رکھتے ہیں ۔ چندا کو دکن اور شمالی ہند کے باکمال سخنوروں ، ادیبوں اور عالموں کی صحبت حاصل رہی ہے ۔ اس کے قدردانوں اور شیدائیوں میں سلاطین ، وزراء اور امراء کے علاوہ شعراء اور ادیب بھی شامل تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چندا کے اساتذہ سخن بھی اس پر فریفتہ تھے ۔ اس سلسلے میں میرعالم کا نام بطور خاص قابل ذکر ہے ۔ ڈاکٹر ثمینہ شوکت لکھتی ہیں :
’’میر عالم کی توجہ ماہ لقا پر قدردانی کی حد سے بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مہ لقا میرعالم کے دل و دماغ پر چھاگئی تھی ۔ اس کی ایک ایک اد ایک ایک عشوہ پر وہ دل و جان نثار کرتے تھے ‘‘ (۲۱) ۔
اس کا اندازہ ان کی فارسی مثنوی ’’سراپائے مہ لقا‘‘ سے ہوتا ہے ۔ دو سو تیئس (۲۲۳) اشعار پر مشتمل اس مثنوی سے میرعالم کی وارفتگئ شوق کا پتہ چلتا ہے ۔ مہ لقا کے حسن ‘ اس کی دلربا اداؤں اور ذہانت نے جس طرح میرعالم کو اپنا دیوانہ بنادیا تھا ۔ بالکل اسی طرح مہاراجہ چندولال کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا تھا ۔ ان کے دیوان میں ایک مکمل غزل مہ لقا کی تعریف و توصیف میں ہے ۔ دوسرے اشعار میں بھی کہیں کہیں مہ لقا کا تذکرہ ملتا ہے (۲۲)
نہیں ہے چین بن دیکھے ترے اے مہ لقا مجھ کو
درس۱؂ کا میں تو پیاسا ہوں درس اپنا دکھا مجھ کو
اسی طرح جن شعراء کے کلام میں چندا کی مدح میں اشعار ملتے ہیں یا جنہوں نے چندا کی تعریف میں نظمیں کہی ہیں ان میں غلام حسین خاں جوہر (مثنوی سراپا ماہ لقا) شیر محمد خاں ایماں (انیس بندوں پر مشتمل مسدس درتعریف ماہ لقا بائی) گوئند بخش ضیائی (مستزاد در تعریف مہ لقا بائی چندا) اور شاہ کمال کے نام پیش کیے جاسکتے ہیں ۔ میر عالم ‘ شاداں ‘ ضیائی ‘ جوہر وغیرہ کی اشعار میں ان کے والہانہ جذبات عشق کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ چندا اپنے عہد کی کلوپترا تھی ‘ اس کے حسن کے افسانے جگہ جگہ مشہور تھے (۲۳) ۔
جہاں تک چندا کی شاعری کا تعلق ہے اس کے قلمی دیوان کے تین نسخوں کا پتہ چلتا ہے ۔ ایک کتب خانہ سالار جنگ حیدرآباد کی زینت ہے ۔ دوسرا اورینٹل مینواسکرپٹ لائبریری میں محفوظ ہے اور تیسرا نسخہ انڈیا آفس لائبریری (لندن) کا مخزونہ ہے ۔
چندا کا دیوان پہلی بار ۱۳۲۴ھ ؍ ۱۹۰۶ء میں ’’گلزار ماہ لقا ‘‘کے نام سے نظام المطابع چھتہ بازار حیدرآباد سے شائع ہوا تھا ۔ دوسری بار اس دیوان کی اشاعت ۱۹۵۹ء میں ثمینہ شوکت کی کتاب ’’مہ لقا‘‘ میں عمل میں آئی ۔ تیسری بار پروفسیر شفقت رضوی نے چندا کے دیوان کو ۱۹۹۰ء میں اپنے عالمانہ مقدمے کے ساتھ مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع کیا۔ چوتھی بار ۱۹۹۸ء میں یہ دیوان راحت عزمی کی کتاب ’’ماہ لقا‘‘ میں شاملِ اشاعت ہوا ۔
ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے پہلی بار مہتاب بی بی اور چندا کے رشتے کو بہن بہن کا رشتہ بتایا۔ ورنہ نصیر الدین ہاشمی ، ڈاکٹر زور اور اختر حسن نے خالہ بھانجی کا رشتہ بتایا تھا ۔ اسی طرح پروفیسر شفقت رضوی نے بھی چندا کے واقعات حیات کے تعلق سے پہلی بار بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ۔
چندا صنف غزل کی رسیا تھی ۔ اس کے دیوان میں غزل کے علاوہ کوئی اور صنف نہیں ملتی ۔ ہر غزل میں اس نے ۵ شعر کا التزام روا رکھا ہے اس کی وجہ غالباً پنج تن سے عقیدت ہے ۔ اس کے دیوان میں جملہ ۱۲۵ غزلیں ہیں ۔ چندا کا کلام اس کے مشاہدات ، تجرباتِ زندگی اور قلمی واردات کی ترجمانی کرتا ہے ۔ سادگی بیان ، لطافت زبان اور نغمگی و موسیقیت اس کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:
عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا
میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا
خورشید رو قسم ہے یہ زلفوں کی تونے کل
وعدہ کیا تھا دن کا مگر رات ہوگئی
ہماری چشم نے ایسا کمال پایا ہے
جدھر کو دیکھئے آتا ہے تو نظر ہم کو
سلطان محمد قلی قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ نے کم و بیش اپنی ہر غزل کے مقطع میں نبیؐ اور علی ؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے مہ لقا بائی چندا نے اپنے دیوان کی ۱۲۵ غزلوں میں سے ۱۱۸ کے مقطعوں میں حضرت علی ؑ سے اپنی بے پناہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے استمداد طلب کی ہے :
سوجان سے ہوگی وہ تصدق مرے مولا
چندا کی جو کونین میں امداد کروگے
یہ ہی مراد و مقصد و مطلب ہے یاعلی ؑ
چندا پہ لطف و رحم ہو ہردوسرا کے بیچ
محمد قلی کی طرح چندا نے اپنے کلام میں بسنت نوروز اور سالگرہ جیسے موضوعات پر بھی مسلسل غزلیں کہی ہیں ؂
بس ہجوم گل سے اپنے کیاخوش آئی ہے بسنت
باغ میں گل روکے آکے رنگ لائی ہے بسنت
________
زہے نوروز عشرت آفریں جوش بہار افزا
گل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہرجا
سالگرہ کے موضوع پر اس نے جو غزل کہی ہے اس میں سلطان محمد قلی کی طرح درازئ عمر اور دونوں جہاں کی دولت کے حصول کی دعا مانگی ہے ۔
ہو تری عمر خضر ماہ جمال
یوں ہی تیری گرہ ہو سال بہ سال
عرض سرکار مرتضیٰ میں یہ ہے
پاے دونوں جہاں کا چندا مال
چندا کے کلام میں اس کے قدردانوں ‘ سرپرستوں اور محسنوں کا بھی ذکر ملتا ہے ۔ جن میں نظام الملک آصف جاہ ثانی اور نواب ارسطو جاہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ آصف جاہ ثانی کی مدح میں اس نے دومکمل غزلیں کہیں ہیں جن کے مطالعے سے اس کے واقعات حیات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ملاحظہ ہوں ؂
سدا پلتے ہیں چندا سے ہزاروں جس کے سایے میں
نظام الدولہ شاہ دکن ہے رستم دوراں
__________
خضر کی عمر ہو اس کے تصدق سے ائمہ کے
نظام الدولہ آصف جاہ جو سب کا مسیحا ہے
اسی طرح ارسطو جاہ کی تعریف میں بھی اس کے دیوان میں دو غزلیں ہیں ۔ ان غزلوں میں سے بھی ایک شعر ملاحظہ ہو :
مدعا چندا کا ہے یہ اب ارسطو جاہ سے
فیل و زر بخشش تو کی جاگیر کا بھی ہو شمار
_______
ارسطو جاہ وہ فرخ نژادِ اہل عالم ہے
کہ جس کے فضل و بخشش کا جہاں میں ہے علم برپا
چندا کے کلام کی سب سے نمایاں خصوصیت اُس کی نسائی آواز ہے۔ اس کے کلام میں نسوانی احساسات کی پراثر ترجمانی ہے ۔ اس کی غزلوں کے اکثر ضمائر میں صیغۂ تانیث کا استعمال ہوا ہے جب کہ اُردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاز کے علاوہ اس دور کی اکثر خاتون شعراء نے اپنے کلام کے ضمائر میں صیغۂ تذکیر استعمال کیا ہے ۔ چندا کی شاعری کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب اختر حسن لکھتے ہیں :
’’اُردو زبان کے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ اس کا دامن عورتوں کے افکار ادبی و شعری سے بھی مالا مال ہے ۔ چندا کا انداز بیان نہایت شیریں اور لطیف ہے ۔ اس نے اکثر ضمائرِ تانیث کا استعمال کیا ہے ۔ اور یہ خصوصیت اس کو تمام اُردو شعر کہنے والی عورتوں سے ممتاز کرتی ہے ‘‘(۲۴) ۔
چندا نے اپنے تجربات زندگی اور مشاہدات کو نسوانی زبان میں بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ درجِ ذیل اشعار کی نسائیت اور داخلی رنگ قابل داد ہے :
جو پوچھے ہجر کی حالت مری وہ بے وفا ہنس کر
تصدق ہوکے کہہ باآہِ سرد و چشم تر قاصد
سوجان سے ہوگی وہ تصدق مرے مولا
چندا کی جوکونین میں امداد کرو گے
مری نازک مزاجی کی خبر رکھتا نہیں ہرگز
وہ سنگیں دل نہیں ممکن کسی کا ہوکبھی عاشق
سرفرو ہرگز نہ ہوچندا کسی سے دہر میں
یہ جناب مرتضیٰ کی ہے کنیزی کا غرور
شاہ و گدا تو دنگ ہوے رقص پر ترے
عاشق ہے نیم جان ‘ نئی لئے میں تان بھر
حسن کے شعلے سے تیرے جب کہ ٹپکے ہے عرق
شرم سے بس ابر کے دامن میں ہے تر آفتاب
اسی طرح پروفیسر شفقت رضوی چندا کے کلام میں نسائی حسیّت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔
چندا کی زیادہ تر غزلیں روایتی انداز کی ہیں لیکن ان میں بھی اس کی انفرادی شان موجود ہے جس میں سب سے نمایاں اس کا لب ولہجہ ہے۔ یوں تو سینکڑوں خواتین نے غزل گوئی کی ہے لیکن ان میں سے کسی کے ہاں نسوانیت نہیں، ان سب نے مردانہ لب ولہجے میں جذبات پیش کیے ہیں۔ ان کا کلام غزل کی روایت کا حصہ تو بن جاتا ہے لیکن وہ اپنی صنف کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتیں۔ چندا نے اپنی نسوانیت کو فراموش نہیں کیا۔ وہ اس کا ذکر فخر کے ساتھ کرتی ہے ؂
عمر بھر یوں ہی رہے حسن کا چندا جلوہ
آرزو رکھتے ہیں یہ حیدرِ کرّار سے ہم
گرمی وہ ہووے حسن میں چندا کے یا علی
جلوے کو اس کے دیکھ کے بس لوٹ جائے برق (۲۵)
متعدہ تذکرہ نگاروں نے جن میں قدرت اللہ قاسم (مجموعۂ نغر) عبدالحی صفا (شمیم سخن) عبدالباری آسی (تذکرۃ الخواتین) اختر حسن (مرقع سخن) ڈاکٹر زور (داستانِ ادب حیدرآباد) نصیر الدین ہاشمی (دکن میں اردو) سید محمد (ایمان سخن) بھی شامل ہیں، چندا کو شیر محمد خان ایمان کی شاگرد بتایا ہے۔ صرف غلام صمدانی گوہر نے چندا کے استاد سخن کا نام میر عالم بہادر بتلاتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ
’’ ماہ لقا بائی کو میرعالم بہادر کی شاگردی کا فخر حاصل حاصل تھا چنانچہ خود بہادر موصوف کو اس کی شاگردی کا اعتراف تھا۔‘‘ (۲۶)
دیوان چندا مرتبہ غلام صمدانی گوہر کے سرورق پر جو عبارت درج ہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ چندا میر عالم کی شاگرد تھی۔ مزید برآں ایمان کے کلام، ان کے مسدس (در تعریف ماہ لقا بائی) یا خود ماہ لقا کے دیوان کی اندرونی شواہد سے اس امر کی تصدیق نہیں ہوتی کہ ایمان اور چندا کا رشتہ استاد اور شاگرد کا تھا جب کہ چندا کی میر عالم سے شاگردی کے سلسلے میں خود میر عالم کا بیان موجود ہے۔ اس لئے اسے درست نہ ماننے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ ڈاکٹر زور نے لکھا ہے کہ ’’میر عالم اسے اپنی شاگرد کہا کرتے تھے۔‘‘ (۲۷)
چندا ایک متمول اور با اخلاق خاتون تھیں۔ غریبوں، فقیروں اور مسکینوں میں بڑی دریا دلی سے اپنی دولت لٹاتی تھی۔ شاعروں ، ادیبوں کی قدر افزائی اور سرپرستی کا بھی یہی حال تھا۔ اس کی علم دوستی اور ادبا پروری کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسرشفقت رضوی لکھتے ہیں کہ ’’چندا کی ادب دوستی،علم پروری شاعر نوازی اور مہمان نوازی کی دور دور تک شہرت تھی۔ جس کی وجہ سے صرف اس کی نہیں بلکہ دکن کی نیک نامی میں اضافہ ہوا۔ آصف جاہ ثانی، ارسطو جاہ اور دیوان چندو لعل کے بعد وہی تھی جس نے علم و ادب کی شمع دکن میں روشن رکھی۔ (۲۸)
مہ لقابائی چندا نے شادی نہیں کی۔ البتہ اس کی پروردہ تین سوکنیزیں اور کئی خانہ زاد تھے۔ ان میں حسین افزا اور حسین لقا اپنے حسن وجمال اور رقص و موسیقی میں بہت معروف ہوئیں۔ بقول پروفیسر شفقت رضوی
چندا نے بعمر ساٹھ سال ۱۲۴۰ ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ بعض محققین نے چندا کی وفات کا سال ۱۲۳۶ ھ بتایا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ اس کا صحیح سال وفات جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے۔ ۱۲۴۰ ھ ہے اور یہی سال اس کی قبر کے تاریخی شعر سے برآمد ہوتا ہے۔
ہاتف غیبی نوادار بتاریخ
راہی جنت شد ماہ لقائے دکن (۲۹)
۱۲۴۰ھ
اس تاریخی شعر کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ اس کے دونوں مصرعے بے بحر ہیں۔ نیز تاریخی مصرعے سے ۱۲۳۴ کے اعداد برآمد ہوتے ہیں۔ اس خصوص میں جب راقمہ نے اختر حسن کے مضمون ’’ مہ لقا بائی چندا‘‘ سے رجوع کیا تو اس میں موصوف نے چندا کی پیدائش اور وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’چند ۱ ۲۰ ذیقعدہ ۱۱۸۱ھ کو حیدرآباد میں پیدا ہوئی اور اس نے ۶۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آگے چل کر اختر صاحب نے تاریخی شعر کا صرف دوسرا مصرع نقل کیا ہے جو اس طرح ہے۔
راہی جنت شدہ ماہ لقائے دکن (۳۰)
۱۲۴۰ ھ
یہ مصرع اس لئے درست نہیں کہ اس سے ۱۲۳۹ھ کے اعداد کا استخراج ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جب میں نے راحت عزمی صاحب کی کتاب ’’ماہ لقا‘‘ سے استفادہ کیا تو اس میں موصوف نے چندا کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ
’’ماہ لقا کا انتقال ۱۲۴۰ ھ میں ۔۔۔ ہوا۔ یہی سنہ انتقال اس کے لوحِ مزار پر قطعہ کی صورت میں سنہ وفات ۱۲۴۰ھ ہی کندہ ہے۔ (کذا)
ہاتفِ غیبی ندا داد بتاریخ اُو
راہی جنت شدہ مالقائے دکن
۱۲۴۰ھ
اس شعر کا مصرع اولیٰ تو وزن میں ہے ، تاہم دوسرا مصرع تاریخی اعتبار سے اس لیے درست نہیں کہ اس سے ۱۲۳۴ھ کے اعداد برآمد ہوتے ہیں۔ نیز راحت عزمی صاحب نے ’’ماہ لقا‘‘ کے ’’ہ‘‘ کو ’’شد‘‘ کے ساتھ ملاکر ’’شدہ‘‘ تو کردیا لیکن چندا کا نام ’’ما لقا‘‘ تحریر کردیا۔
اس الجھن کو دور کرنے کے لئے جب راقمہ نے پروفیسر محمد علی اثر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہاکہ ’’کوہِ مولیٰ جامعۂ عثمانیہ سے زیادہ دور نہیں ، اگر آپ چندا کی وفات کے غلط تاریخی شعر کو ہمیشہ کے لئے درست کرنا چاہتی ہیں تو اپنے لڑکے کے ساتھ چندا کے مقبرے اور اس کی قبر کا چشم دید مشاہدہ کرلیں۔ کتبات کی تصویریں لے آئیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر بشارت صاحب جو اکثر کوہِ مولا کی زیارت کے لئے جاتے رہتے ہیں، میں ان سے بھی رہبری کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘ چنانچہ میرے ساتھ میرا چھوٹا بیٹا سہیل اپنی بائیک پر اور بشارت علی صاحب اپنی اسکوٹر پر ایک چھوٹے سے قافلے کی صورت میں مولا علی کی پہاڑی کے پائین میں چندا کے مقبرے پر پہنچے۔
مقبرے کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک ساتھ دوزنانی قبریں نظر آئیں۔ ایک ماہ لقا کی والدہ میدا بی بی المعروف بہ راج کنور بائی کی ہے اور اس کے پہلو میں چندا کی قبر ہے جس کی تعویذ کا کتبہ یہ ہے۔
’’نذر مؤلا چندا بی بی بنت راجکنور بائی کہ از
حضور نواب غفران مآب آصف جاہ ثانی میر
نظام علیخان بخطاب ماہ لقا بائی سرافراز
در سنہ ۱۲۳۱ ہجری مرتب ساخت‘‘ (۱۸۱۵ء)
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے لوح مزار پر کوئی تاریخی قطعہ یا تاریخی شعر موجود نہیں۔ جیسا کہ راحت عزمی صاحب نے اطلاع دی تھی۔ (۳۱)
جب ہم نے مقبرے کی چاروں جانب نگاہ ڈالی تو اندرونی دروازے پر یہ کتبہ نظر آیا۔
’’کنیز شاہِ مرداں راج کنور
سخاوت پیشہ و اخلاق آرا ۔ ۔ ۔ چو محمل بست ازیں دنیاے فانی
عجب بگذاشت دختر سرور بالا ۔ ۔ ۔ بخوبی بہتر از لیلیٰ و شیریں
خطا بش مہ لقا و عرف چندا ۔ ۔ ۔ برائے انبساط روحِ مادر
بنا کرد ایں مکانِ راحت افزا ۔ ۔ ۔ بسالِ رحلتِ اُو گفت ہاتف
’’بیا مرزد خدا آں عاجزہ را‘‘
۱۲۰۷ھ ؍ ۱۷۹۲ء
چندا کے مقبرے سے باہر نکلنے کے بعد مجھے بیرونی دروازے کے اوپر چندا کے سال وفات کا کتبہ نظر آیا۔ جو بہت دھندلا اور غیر واضح تھا جس کی قرأت مشکل تھی۔ اس لئے ہم نے اس کی ایک سے زائد تصویریں حاصل کرلیں جن کی مدد سے میرے شوہر اور بشارت صاحب نے کتبے کے اشعار کی اس طرح قرأت کی ۔
سروِ گلستانِ ناز گلبنِ باغِ ادا
عاشقِ حیدر بجاں جاریۂ پنجتن
چونکہ زِ حق در رسید مژدہ جاء الاجل
کرد قبولشن بجاں گشت بہشتن وطن
ہاتفِ غیبی ندا داد بتاریخِ اُو
راقم العاثم السید حسن
راہی جنت شد آہ، ماہ لقاے دکن
۱۲۴۰ھ ؍ ۱۸۰۹ء
ان شواہد کی روشنی میں مذکورہ بالا تاریخی شعر ہی درست ہے۔ اسی سے چندا کی صحیح تاریخ وفات (۱۲۴۰ھ) نکلتی ہے۔
چندا نے اپنے مقبرے سے متصل مسجد اور چند دیگر عمارتیں بھی بنوائی تھیں۔ پروفیسرشفقت رضوی کے بیان کے مطابق ’’اس نے مقبرہ مع مسجد و دیگر عمارات کوہ مولا علی کے دامن میں دو لاکھ کے صرفے سے اپنی نگرانی میں تعمیر کروایا تھا ۔بارگاہِ مولا علی کا پختہ دالان اور اس کے راستے میں خوص موسومہ فی سبیل اللہ بھی اس کی یادگار ہے۔ (۳۲) چلتے چلتے ہم نے اس حوض ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے تاریخی کتبے کی بھی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کرلی۔ جو درج ذیل ہے۔
انتخابِ زمانہ ماہ لقا
در جہاں شد بکارِ خیر کفیل
سالِ ایں چشمہ خضر گشت ہمیں
’’باد جاری بہ آبِ فیض سبیل‘‘
۱۲۱۸ ھ
مہ لقابائی چندا جب راجہ راؤ رنبھا بہادر کے سررشتۂ ملازمت میں تھی تو راجہ کے حکم سے سید نصیر الدین خاں نے نہ صرف چندا کا دیوان مرتب کیا ‘ بلکہ چندا کی خواہش پر اس کا دیباچہ بھی لکھا۔ غالباً یہی نسخہ انڈیا آفس لائبریری کی زینت ہے۔ چندا کے دیوان کے مزید تین مخطوطات کا بھی پتہ چلتا ہے ایک کتب خانہ آصفیہ موجودہ اورینٹل مینو اسکرپٹ لائبریری حیدرآباد میں ہے۔ دوسرا کتب خانۂ فیلو سوف جنگ حیدرآباد دکن میں اور تیسرا بابائے اردو مولوی عبدالحق کے ذخیرہ مخطوطات میں ہے۔ چندا کے دیوان کا آغاز درج ذیل حمدیہ شعر سے ہوتا ہے ؂
کہاں طاقت ہے راہِ حمد میں جو ہو زباں گویا
کہ یاں جز عجز و خاموشی نہیں ہے یک جہاں گویا
(ماہنامہ سب رس حیدرآباد۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages