85 views
Skip to first unread message

Tanwir Phool

unread,
Nov 18, 2015, 2:47:41 AM11/18/15
to haider qureshi, 5BAZMeQALAM
محترم حیدر قریشی صاحب
آپ کی ای ۔ میل ملی ، شکریہ  ۔  آپ نے جس آیت کا حوالہ طلب کیا ہے وہ سورۃ القلم کی آیت نمبر 42
ہے ، اُس میں "ران" نہیں بلکہ "ساق" یعنی "پنڈلی" کا ذکر ہے۔ یہ آیاتِ متشابھات میں ہے ۔ سورۃ الشوریٰ
میں ارشاد ہے : لیس کمثلہ شیُ ، یعنی اُس[اللہ] کی مثل کوئی شے نہیں ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لئے
"ید" [ہاتھ] کا لفظ بھی آیا ہے لیکن اس سے مراد انسانی ہاتھ ہرگز نہیں ۔ ایک شاعر کا شعر ہے :
                                   پھیلائے کیا  کوئی مِرے  پروردگار ، ہاتھ
                                   بندے کا ایک ہاتھ ہے ،   تیرے ہزار  ہاتھ
یہ تو ایک بات ہوئی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس [رض] کے قول کے مطابق یہاں
پنڈلی کھولنے کا ذکر اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ایک عربی محاورہ ہے کہ حالات کی شدت ،
پریشانی اور افراتفری کی وجہ سے لوگ بالخصوص مستورات اپنے پائینچے اُٹھا لیتی ہیں ۔ سورۃ النمل ، آیت نمبر 44 میں ملکہ بلقیس   کی اسی کیفیت کا ذکر ہے ۔  سورۃ القلم میں قیامت کی شدت اور ہولناکی
کی وجہ سے یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہے ۔ حسب الارشاد یہ لنک بھی پیش ہے :
http://www.farooqia.com/ur/lib/1434/02/p5.php
اِس کے علاوہ مودودی صاحب کی "تفہیم القرآن" کا صفحہ منسلک ہے :

     
page011
 



آپ کی دلچسپی کے لئے سورہ لہب کی منظوم تفہیم پیش ہے جس کے آخر میں اسلامی فلم "پیغامِ عظیم"
[انگریزی : " دی میسیج"] کا لنک بھی ہے ۔ موقع ملے تو ملاحظہ کیجئے :
سلام قبول کیجئے اور ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے ، جزاک اللہ خیر
والسلام                ،      تنویرپھول[نیویارک]

From: Tanwir Phool tan...@gmail.com [guzergah-e-khayal] <guzergah...@yahoogroups.com>
Date: 2015-11-12 23:37 GMT-05:00
Subject: [Guzergah-e-Khayal] Re: [urdu_writers] نذیر ناجی صاحب کے تین کالم
To: guzergah...@yahoogroups.com
Cc: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>


2015-11-16 15:52 GMT-05:00 haider qureshi <haider_qu...@yahoo.com>:
محترمی تنویر پھول صاحب
ای میل ملی،سورۃ النحل کا حوالہ فراہم کرنے پر آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ایک خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں،اس کے لیے یہ آیت کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔شاید اب کسی وقت لکھنے کا موڈ بن جائے۔
آپ کے بھیجے ہوئے آپ ہی کے نئے لنک بھی دیکھے ہیں۔آپ کے مخصوص انداز کے عین مطابق ہیں۔(فرانسیسی مصنف کی کتاب ابھی نہیں دیکھ سکا)۔حالیہ کچھ عرصہ سے میرا ذاتی مسئلہ یہ ہے کہ میں عمومی طور پرکسی مخالف کو رد کرنے یا کسی اعتراض کے جواب میں دفاع کرنے کی بجائے جستجوکی طرف مائل ہوتا ہوں۔پھر اس عمل کے دوران جب انکشاف کا کوئی لمحہ نصیب ہوجائے تو اس کے نتیجہ میں ملنے والی مسرت آمیز حیرت ہی میری جستجو کا اجر ہوجاتی ہے۔

قرآن شریف کی ایک اور آیت کی نشان دہی کر سکیں تو مزید ممنون ہوں گا۔ترجمہ قرآن پڑھتے ہوئے ایک بار کچھ ایسا پڑھا تھا کہ جب ایمان والے اپنے رب کی ران دیکھیں گے۔دیدارِ الہٰی کا عقیدہ تو واضح ہے تاہم ران کی زیارت کے معاملہ میں ابھی تک غیر واضح ہوں۔اگرایسا ہی ہے تو آیت کے حوالہ کے ساتھ اس کی تفسیر کا کوئی لنک بھی فراہم کیجئے جس سے اس کی تفہیم میں آسانی ہو سکے۔یہ کافی پرانی بات ہے،جب ترجمہ پڑھاتھا،ہو سکتا ہے مجھے ران کے لفظ کا مغالطہ ہو رہا ہو۔آپ کی طرف سے جواب آنے پر واضح ہو سکے گا۔اس تعاون کے لیے شکر گزار ہوں گا۔
اللہ آپ کو خوش رکھے اور صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔آمین۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی

۱۶ نومبر ۲۰۱۵ء
 
Haider Qureshi
................................................................................
ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:
...........................................



On Monday, November 16, 2015 2:51 AM, Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:


محترم حیدر قریشی صاحب
ای - میل اور تاثرات کا شکریہ ۔ سب سے پہلے آپ نے جس آیت کا حوالہ دریافت فرمایا ہے ، وہ
سورۃ النّحل کی آیت نمبر 66 ہے یعنی  66 : 16
 دین ، اجتہاد اور سائنس کے حوالے سے راقم الحروف کی کچھ تحریریں ہیں جو آپ یہاں ملاحظہ
فرماسکتے ہیں :
http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7795
http://urdunetjpn.com/ur/2014/07/12/tanveer-phool-71/
http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7618
ایک فرانسیسی دانشور ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب "بائبل ، قرآن اور سائنس" اس لنک پر موجود ہے
http://ia600708.us.archive.org/11/items/BibleQuranAurScienceByDr.MauriceBucaille/BibleQuranAurScienceByDr.MauriceBucaille.pdf

انٹرفیتھ ریلیشنز کے حوالے سے جو آزاد انگریزی نظمیں میرے بلاگ میں ہیں ، اُن کو کرسچن کمیونٹی
نے سراہا ہے [لنک یہ ہے]
http://www.examiner.com/article/irvine-seminar-to-better-christian-muslim-relations-poems-on-interfaith-understanding-1
ہندو مذہب اور اسلام کے حوالے سے یہ تبصرہ بھی دیکھئے :
http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7416  ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے ۔ والسلام
                                                                        تنویرپھول ، نیویارک

2015-11-15 3:23 GMT-05:00 haider qureshi <haider_qu...@yahoo.com>:
محترمی تنویر پھول صاحب
آپ کی چودہ نومبر کی ای میل ملی،شکریہ۔آپ کے ارسال کردہ اردو لنک بھی ایک نظردیکھے۔آپ جس انداز سے مذہبی فرمودات کو دیکھ رہے ہیں،یہ اپنے اپنے مذہب و مسلک کے اندر رہتے ہوئے اس کی تفہیم کا ایک مناسب طریق ہے۔ایک زمانے میں مجھے بھی اس کا شوق رہا ہے۔ ایک سچا پیروکار ہمیشہ اپنے عقائد کا تابع ہوتا ہے۔یہ تابعداری ایمان کی پختگی کا باعث تو ہوتی ہے لیکن اس سے آزادانہ غور و فکر کرنے کی گنجائش بہت کم ہو جاتی ہے۔ سائنس؍فلسفہ کی دنیا میں آزادانہ غور و فکرکی ساری راہیں کھلی ہوتی ہیں۔بندہ چاہے تو فکری ارتقاء کے ذاتی تجربے کرے اور دنیا کو بھی اس میں شریک کرلے اور چاہے تو ویسے ہی فلسفے کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے اوردنیا کو بھی گمراہ کرے۔مغربی دنیا کے سائنس اور فلسفہ کے آزادمفکرین کے برعکس مسلم دنیا میں فلسفیوں سے زیادہ متکلمین پیدا ہوئے کیونکہ وہ پہلے سے اپنے مسلک کی صداقت کو مان کرپھر نئے افکار کو اپنے مسلک سے ہم آہنگ کرنے کی کاوش کرلیا کرتے تھے۔علامہ اقبال تک زیادہ تر یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔
میں سائنس اور فلسفہ دونوں سے نابلد ہوں۔تاہم جدید تر ایجادات،جدیدترین انکشافات اور ان سب میں ہوتی ہوئی مسلسل پیش رفت کے باعث تھوڑا بہت غور و فکر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔تھوڑی دور تک آزادانہ طور پر سفر کرتا ہوں لیکن شاید پھرگھبرا کر جلدی واپس لوٹ آتا ہوں۔ہم لوگ اپنی بچپن کی تربیت اور اپنے ماحول کی عادت کے اتنے جکڑے ہوئے لوگ ہیں کہ بعض اوقات جان بوجھ کر نئے حقائق سے چشم پوشی کر جاتے ہیں۔
آپ کے ہاں اپنے عقیدے سے وابستگی کی جو نوعیت ہے،قابلِ قدر ہے۔اسی حوالے سے خیال آیا کہ قرآن شریف کی چند آیات کے حوالہ کے لیے آپ سے مدد لی جائے۔ایک بار ترجمہ پڑھتے ہوئے کچھ ایسا مفہوم سامنے آیا تھا کہ اللہ ہی ہے جس نے گوبر اور خون کے درمیان میں سے دودھ کی دھاریں نکال دی ہیں۔آپ قرآن شریف کا یہ حوالہ فراہم کر سکیں تو ممنون ہوں گا۔پھر ایسے ہی ایک دو اور حوالہ جات کے لیے بھی آپ کو زحمت دوں گا۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی
۱۵ نومبر ۲۰۱۵ء
 
Haider Qureshi
................................................................................
ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:
...........................................



On Saturday, November 14, 2015 6:48 AM, Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:


محترم حیدر قریشی صاحب 
جواب ِ باصواب سے نوازنے کا شکریہ ۔ ایک نکتہ رہ گیا تھا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذکر ہے [ سورۃ البقرہ ، آیت نمبر 46]
علاوہ ازیں سورۃ القیامہ ، آیت نمبر ۲۳ میں بھی یہی کہا گیا ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 764 میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم قیامت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں
گے ؟ تو جواب ملا کہ جب بادل وغیرہ نہ ہو تو  چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ، اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ
سکو گے ۔  
چند اُردو لنک آپ کی خدمت میں پیش ہیں ۔ اپنی گراں قدر رائے سے آگاہ کیجئے گا :



سلام قبول کیجئے اور دعا میں یاد رکھئے ۔
والسلام               ،       تنویرپھول [نیویارک]

2015-11-13 2:03 GMT-05:00 haider qureshi <haider_qu...@yahoo.com>:
محترمی تنویر پھول صاحب
آپ کے تاثرات ملے،شکریہ۔آپ نے جن امور کی طرف توجہ دلائی ہے،بر حق ہیں۔شاید یہ باتیں کسی نہ کسی طور نذیر ناجی صاحب کو بھی معلوم تھیں اور تھوڑی بہت میرے علم میں بھی تھیں۔تاہم نذیر ناجی صاحب کے کالم اور ان پر میرے تاثرات میرے نزدیک یہ فکری معاملات صرف غور و فکر کے لیے ہیں۔بحث مباحثہ کے لیے نہیں ہیں۔
آپ نے وحدتِ ادیان کے سلسلہ میں جو لنک بھیجا ہے، انگریزی میں ہے۔اردو میں ہوتا تو اس سے استفادہ کرتا۔ویسے جوانی کے آغاز ہی میں اردو میں غلام جیلانی برق صاحب کی ایک اسلام،ایک قرآن وغیرہ کتب پڑھنے کا موقعہ ملا تھا سو ان کا ایک تاثر ذہن پر موجود ہے۔
آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنے انداز سے بعض نکات کی طرف توجہ دلائی۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی
۱۳ نومبر ۲۰۱۵ء
 
Haider Qureshi
................................................................................
ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:
...........................................



On Friday, November 13, 2015 5:37 AM, Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:


بہت بہت شکریہ جناب حیدر قریشی صاحب
علمی مکالمہ کے حوالے سے نذیر ناجی صاحب کے کالم اور آپ کی تحریر
نے غور و فکر کی نئی راہیں کھولی ہیں ۔  قرآن پاک میں اکثر مقامات پر اہلِ جنت
اور اہلِ دوزخ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے "ھم فیھا خالدون" [وہ ہمیشہ اس
میں رہیں گے]  اور اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے ضمیرِ مذکّر استعمال کی ہے ، ضمیرِ مونث
نہیں ۔  نفسِ امٰارہ ، نفسِ لوامہ اور نفس مطمئنہ تینوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور آپ
نے "الٰمّ" کے حوالے سے خوب نکتہ نکالا ہے ۔ راقم الحروف کا یہ شعر بھی دیکھئے :
                                                         دل نے کہا  ،   ہے راز " الف لام  میم  "  میں
                                                         اللہ   کا   کلام  محمد[صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم] کے نام ہے
جوش ملیح آبادی کا ایک شعر  ہے :  شیطان نے گمراہ کیا ہے سب کو
                                                شیطان کو گمراہ کیا  ہے کس نے؟
اِس کا جواب دیکھئے : نفسِ امّارہ نے تھا شیطان کو بہکا دیا
                                 تیرے دو دشمن ہیں اِس دنیا میں،غافل مت ہو یاں
آپ نے آخر میں اتحادِ بنی آدم کی جو بات کی ہے اُس کے حوالے سے یہ لنک اور سب لنکس
ضرور ملاحظہ فرمائیے :
                                                                                                                            http://allaboutreligions.blogspot.com
والسلام،تنویر پھول [نیویارک]  
                                                                                                                                               http://duckduckgo.com/Tanwir_Phool

2015-11-12 2:35 GMT-05:00 haider qureshi haider_qu...@yahoo.com [urdu_writers] <urdu_write...@yahoogroups.com>:
 


نذیر ناجی صاحب کے تین کالم
 حیدر قریشی

.........................................................................................................................

(نذیر ناجی صاحب نے ایک ہی موضوع پر لکھے گئے اپنے تین کالموں میں،یا ایک ہی کالم کی تین اقساط میں روایتی کالم نگاری سے ہٹ کر علمی مکالمہ کی راہ نکالی تھی۔ان کالموں کو پڑھنے کے بعد میں نے ان کی خدمت میں یہ خط نماردِ عمل بھیجاتھا۔

قارئین کرام نذیر ناجی صاحب کے زیر گفتگو تین کالم یا ایک ہی کالم کی تین اقساط  ان تین لنکس پر مطالعہ کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کسی بحث یا مناظرہ کا مقام نہیں ہے،صرف اپنے اپنے طور پرمزید غور و فکرکرکے سنجیدہ علمی مکالمہ کی گنجائش پیدا کرنامقصودہے۔(ح۔ق)
.......................................................................


محترمی ایڈیٹر صاحب روزنامہ دنیالاہور
سلام مسنون
 
’’نظریہ اور جغرافیہ دونوں کو خدا حافظ‘‘کے زیرِ عنوان نذیر ناجی صاحب کے تین کالم (مطبوعہ روزنامہ دنیا 7,6,4 اکتوبر2015)مسرت آمیز حیرت کے ساتھ پڑھے۔صحافت کے خار زار میں کھو جانے والا تخلیق کاراپنے سارے فکری سرمایہ کی خوشبو کے ساتھ ان تین کالموں میں دکھائی دے رہا ہے۔ان تین کالموں میں نذیر ناجی صاحب کی زندگی بھر کی سوچ اورزندگی بھر کا مطالعہ جیسے ہم آمیز ہو گیا ہے۔سائنس،فلسفہ(یہ بھی سائنس ہی کی ذیلی شاخ ہے)،میٹا فزکس کے امتزاج نے بعض فکری گرہیں کھولی ہیں تومزید غور و فکر کے لیے بعض اچٹتے اشارے بھی دے دئیے ہیں۔انہوں نے اس سارے فکری تناظر میں تخلیقی عمل کی اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔یوں ان کے ہاں ادب،سائنس اور الہٰیات کا ایک دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملا ہے۔لیکن چونکہ بنیادی طور پر وہ اپنی صحافیانہ ذمہ داری نبھا رہے تھے اس لیے سارے غور و فکر کا رُخ سیاسی و سماجی سطح پر آج کے انسانی مسائل کی طرف موڑ دیا۔یہ بھی کارِ خیر ہی ہے اورمختلف علوم کے امتزاج کی برکت بھی کہ ان کے ذریعے آج کے عالمی سیاسی ومعاشرتی مسائل کے حل ڈھونڈنے کی کاوش کی گئی ہے۔ایسی باتوں پر مقامی یا عالمی مقتدر قوتیں اپنا دماغ نہیں کھپاتیں،وہ اپنی طاقت کے نشہ میں مست ہوتی ہیں۔تاہم معاشرے میں کسی نہ کسی سطح پر مزید غور و فکر کی تحریک ضرور ملتی ہے۔
             مجھے ان تین کالموں کے مطالعہ کے دوران کئی مقامات پر کہیں ہلکے سے اختلاف کی گنجائش محسوس ہوئی تو کہیں اسی منظر کا دوسرا رُخ دیکھنے(سوچنے)کا موقعہ ملا۔تاہم یہ اختلافی پہلو بھی نذیر ناجی صاحب کی سوچ ہی کی توسیع ہیں۔مولانا رومی کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ’’عشق عقل ہی کی اعلیٰ،برتر اور ترقی یافتہ صورت ہے۔‘‘نذیر ناجی صاحب نے مختلف مفکرین کی آراء سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے عقل استدلالی،عقل وجدانی اور عقل خالص کی جو درجہ بندی پیش کی ہے وہ قابلِ فہم ہے۔ اس سب کو اگر دماغ کی ہئیت اور کارکردگی سے منسلک کر دیا جائے تو ان باتوں کا سائنس سے تعلق واضح ہوجائے گا۔انسانی دماغ کا اسی ،نوے فیصد حصہ جو بظاہر خاموش پڑا ہوا ہے شاید وہی عقل وجدانی اور عقل خالص کامرکزی دفتر ہواورانسانی( روح کی) عقل کو روحِ اعظم کی عقلِ عظیم سے جوڑتاہو۔
نذیر ناجی صاحب نے روح اور مادے کی دوئی کو رد کیا ہے۔یہ بڑی زبردست بات ہے۔روح مادے کے اندر موجود ہوتی ہے اور مادے کی پرتیں اتارنے لگیں تو ایٹم کے پارٹیکلز کے ابھی تک کے دریافت شدہ آخری سرے تک پہنچتے پہنچتے ہی ’’عدم‘‘ دریافت ہونے لگتا ہے۔ناجی صاحب نے اسے روح کہا ہے،وہ بھی تفہیم کے لیے ایک حد تک ٹھیک ہے۔مولانا رومی نے ارتقائے حیات کے جو چار مدارج بیان فرمائے ہیں(جماداتی،نباتاتی،حیوانی اور انسانی)،علامہ اقبال نے بھی انہیں اسی طرح خودی کی تعمیر میں شامل کر لیا۔انہیں علامتی پیرائے میں تو لیا جا سکتا ہے لیکن کرۂ ارض پر حیات کے ارتقاء کے حوالے سے اسے تسلسل کے طور پر لینا شاید ممکن نہیں رہا۔ہاں داخلی تعمیر کے سلسلہ میں ان مدارج کو بیان کیا جا سکتا ہے لیکن غور کیا جائے تو داخلی سطح پر یہ چار نہیں بلکہ تین مدارج بنتے ہیں۔نفسِ امّارہ،نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمئنہ۔قرآن شریف میں ان تین کیفیات کا ذکر موجود ہے۔بلکہ مجھے تو پہلے پارہ کے آغاز میں حروف مقطعات الم میں بھی ان تینوں نفسی کیفیات ہی کا سرا ملتا دکھائی دیتا ہے۔
                نذیر ناجی صاحب نے نور اور نار کا ذکر کیا ہے۔میں ایک عرصہ سے نور اور نار کے فرق کو سمجھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ایک دوست نے بتایا کہ نار جلا دیتی ہے جبکہ نور میں سے تپش منہا ہو جاتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ جس نور کی ہلکی سی تجلی نے کوہ طور کو جلا کر راکھ کر دیا،اس میں سے تپش کیسے منہا ہو گئی؟وہ دوست مسکرا کر رہ گئے۔ابھی تک یہی گمان کر پایا ہوں کہ جیسے بجلی سے ہیٹر بھی چلتے ہیں اور فرج اور فریزر بھی،اسی طرح نور اپنے اندرہر تخلیقی قوت لیے ہوئے ہے۔
                نذیر ناجی صاحب کے کالم میں حضرت ابن العربی کے ہاں فصوص الحکم میں اللہ تعالیٰ کی تجسیم میں مونث جہت کا ذکرپڑھ کر مجھے ہندو ؤں کے بھگوت پران یاد آگئے۔اپنی یادوں کے ایک باب میں ان کا ذکر کرچکا ہوں سو وہیں سے اقتباس یہاں درج کر دیتا ہوں۔مونث جہت کے حوالے سے یہ روداداپنی جگہ غور طلب بھی ہے اور دلچسپ بھی۔
        ’’ہستیٔ باری تعالیٰ جو اس کائنات کی حقیقتِ عظمیٰ بھی ہے اور روحِ اعظم بھی،اصلاََ ہم اس عظیم ترین ہستی کو بھی اپنے معاشرتی رویوں کے حوالے سے دیکھتے یا سمجھتے ہیں۔جبکہ وہ ہمارے سارے تصورات اور قیاسات سے بالا ہے۔چونکہ ہمارا معاشرہ مردانہ بالادستی کا معاشرہ ہے اسی لیے خدا کے بارے میں بھی عام طور پر مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہمارے بر عکس قدیم ہندوستان کے مادری نظام کے اثرات کے نتیجہ میں ہندوؤں میں دیوتاؤں کے ساتھ دیویوں کا تصور بھی موجود رہا ہے۔شری دیوی ،بھگوت پُران میں خالقِ کائنات عورت کے روپ میں ہے۔ اس عقیدہ کے مطابق خالقِ کائنات شری دیوی اپنی تنہائی اور شدتِ جذبات سے مضطرب ہوئی تو اس نے اپنی ہتھیلیوں کو رگڑا۔اس کے نتیجہ میں ہاتھوں پر آبلے پڑ گئے،جو پھوٹ بہے تو پانی کا ایک سیلاب آگیا۔اس پانی سے برہما کی پیدائش ہوئی۔شری دیوی نے برہما سے جنسی ملن کی خواہش کا اظہار کیامگر برہما نے اسے اپنی پیدا کرنے والی کہہ کر اس عمل سے انکار کر دیا۔تب شری دیوی نے برہما کو فنا کر دیا۔ان کے بعد وشنو کو پیدا کیا گیا اور ان سے بھی وہی خواہش دہرائی گئی،وشنو نے بھی برہما کی طرح انکار کیا اور ان کو بھی برہماجیسے انجام سے دوچار ہونا پڑا۔وشنو کے بعد شنکر کا جنم ہوا۔شنکر اِن معاملات میں کافی معاملہ فہم نکلے۔انہوں نے دو شرطوں کے ساتھ شری دیوی کی بات ماننے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ ایک شرط یہ کہ برہما اور وشنو کو دوبارہ پیدا کریں اور ان کے لیے دو دیویاں بھی پیدا کی جائیں۔دوسری شرط یہ کہ شری دیوی خود دوسرا روپ اختیار کریں کیونکہ اس روپ میں بہر حال وہ ماں کا مرتبہ رکھتی ہیں۔چنانچہ شری دیوی نے برہما اور وشنو کو ان کے جوڑوں کے ساتھ دوبارہ خلق کیا اور خود بھی پاروتی کا دوسرا روپ اختیار کیا۔شنکر اور پاروتی کی داستان ہندؤں کے عقائد میں آج بھی کئی جہات سے اہمیت کی حامل ہے۔ہمارے پدری بالا دستی والے معاشروں میں خدا مردانہ صفات کا حامل دکھائی دیتا ہے تو مادری نظام کے قدیم ہندوستان میں خداکے عورت جیسے روپ کی بات دلچسپ ہونے کے ساتھ اپنے ثقافتی پس منظر میں قابلِ فہم بھی لگتی ہے۔باقی خالقِ حقیقی تو ہمارے ہر مردانہ و زنانہ تصور سے کہیں بلند و بالا ہے۔ یہاں تک کہ صفات بھی اس کو سمجھنے اور اس تک رسائی کا ایک وسیلہ تو ہیں لیکن اس عظیم تر حقیقت کے سامنے صفات بھی بہت نیچے رہ جاتی ہیں۔ صفات کا معاملہ یوں ہے کہ ذاتِ احد ہونے کے باوجود ہم صفات کے وسیلے سے اسے مخاطب کرتے ہیں۔مثلاََ:’’ اے میرے رحیم خدا ! مجھ پر رحم فرما‘‘کہیں گے۔رحیم خدا کی بجائے قہار خدا کہہ کر رحم نہیں مانگیں گے۔اسی طرح رزق مانگتے وقت رزاق خدا کہیں گے،جبار خدا نہیں کہیں گے۔علیٰ ھذالقیاس۔اب میرے سوچنے کا معاملہ یوں ہو جاتا ہے کہ بُت سامنے رکھا ہو یا ذہن میں بنایا ہوا ہو،اسے بُت ہی کہیں گے۔کہیں صفاتِ باری تعالیٰ کے معاملہ میں ہم بھی ذہن میں چھپائی ہوئی بت پرستی کا ارتکاب تو نہیں کر رہے؟
اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے  ہے  حکمِ  اذاں     لا الٰہ الا اللہ  ‘‘
(’’کھٹی میٹھی یادیں‘‘۔باب ’’زندگی در زندگی‘‘)
       نذیر ناجی صاحب نے تجسیم الہٰی کی نفی کی ہے لیکن اس کے لیے ’’شخصیت‘‘کا لفظ قبول کیا ہے۔شخصیت میں پھر صرف اللہ کا نام ہی نہیں دوسرے صفاتی نام بھی آتے جائیں گے۔ اوراسی گفتگو کے پس منظر میں جب نذیر ناجی صاحب نے لکھا:’’کائناتوں کی تخلیق سے پہلے خلا کو وجود میں لایا گیا ہوگا‘‘تو میرا ذہن کسی اور طرف نکل گیا۔یہاں بھی اپنی ذہنی کشمکش کو اپنی یادوں کے ایک باب سے ہی نقل کر دیتا ہوں۔
’’  یہاں مجھے پاکستان سے سائنس کے ایک استاد ایم سلیم کی یاد آگئی۔پندرہ سولہ سال قبل ان کی ایک چھوٹی سی کتاب پڑھی تھی۔’’پُر اسرارکائنات کا معمہ‘‘۔اس میں کاسمالوجیکل حوالے سے بڑی زبردست معلومات درج کی گئی تھی۔لیکن میرے مطلب کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں خلا کی بعض صفات اور خدا کی صفات کا ذکر کیا گیا تھا۔میں نے خدا کو سمجھنے میں اس موازنہ سے زبردست استفادہ کیا۔پہلی سطح پر یہ موازنہ خدا کے بارے میں ہمارے معین تصورات پر کاری ضرب لگاتاہے۔لیکن میں نے (لا الہٰ۔۔) نفی کے اس  مرحلہ سے گزر کر خدا کے بارے میں ایک برتر تصور (لا الہ الااللہ )تک رسائی حاصل کی۔نفی کا مرحلہ بجائے خود ایک دلچسپ سفر تھا۔خدا کی جتنی صفات ہیں انہیں ہم دو بڑے خانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ایک خانے میں وہ صفات آتی ہیں جو انسان میں چھوٹی سطح پر پائی جاتی ہیں اور خدا میں بہت بڑی سطح پر ان صفات کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔جیسے ربوبیت، رحیمیت، رحمانیت، قہاریت، جباریت وغیرہا۔ ان صفات کے علاوہ ایسی جتنی بھی صفات ہیں جو انسان میں تو نہیں پائی جاتیں لیکن وہ ساری صفات خدا کے ساتھ خلا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ایم سلیم نے مجھے ان صفات کا موازنہ کرکے ایک نئے فکری جہان کی سیر کرادی تھی۔چند مثالیں یہاں بھی درج کر دیتا ہوں۔
         ۱۔خدا سب سے بڑا ہے۔اس کی بڑائی کی کوئی حد نہیں ہے۔خلا بھی ساری کائنات سے بڑا ہے۔جہاں تک مادی کائنات ہے،خلا موجود ہے اور اس سے سوا بھی خلا ہی خلا ہے۔
        ۲۔خدا واحد ہے۔خلا بھی پوری کائنات میں ایک ہی ہے۔
        ۳۔خدا کسی سے پیدا نہیں ہوا۔خلا بھی کسی سے پیدا نہیں ہوا۔
       ۴۔خدا بے نیاز ہے۔اور بے نیاز کی تعریف یہ ہے کہ اسے کسی کی کوئی ضرورت نہ ہو لیکن سب کو
 ۴۔خدا بے نیاز ہے۔اور بے نیاز کی تعریف یہ ہے کہ اسے کسی کی کوئی ضرورت نہ ہو لیکن سب کو اس کی ضرورت ہو۔اس مادی کائنات کو اپنے وجود کے قیام کے لئے خلا کی اشد ضرورت ہے۔لیکن خلا کو کسی کی نہ کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔
       ۵۔خدا ہر جگہ موجود ہے اور ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ خلا بھی ہر جگہ موجود ہے اور ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ۔
        لیکن شاید اتنا کہہ دینے سے بات واضح نہیں ہو گی اس لئے اس سائنسی نکتے کی آسان لفظوں میں وضا حت کردینا ضروری ہے۔ ڈاکٹروزیر آغا سے زبانی طور پر بھی اور ان کی خود نوشت سوانح کے ذریعے بھی اتنا تو جان چکا ہوں کہ اگر کروڑوں نوری سال سے بھی زیادہ مسافت پر پھیلی ہوئی ساری مادی کائنات میں سے خلا کو نکال دیا جائے تو سارامادہ ایک گیند کے برابر یا اس سے بھی کم چمچ بھر رہ جائے گا۔بعض سائنس دانوں کے نزدیک  اسے Compress کیا جائے تویہ اس سے بھی کم ہوکر سوئی کی نوک پر سما جائے گا ۔اگر کوئی اینٹی میٹر اس سے ٹکرا جائے تو یہ مادہ بھی گاما ریز میں تبدیل ہو کر غائب ہوجائے گا اور باقی صرف خلا رہ جائے گا۔اور خدا کی بجائے خلا کے لفظ سے بھی غالبؔ کا یہ شعر اپنے مفہوم میں غلط نہیں رہے گا۔
نہ تھا کچھ، تو خلا تھا،  کچھ نہ ہوتا،  تو خلا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں، تو کیا ہوتا!
           شہ رگ سے قریب ہونے والی بات کی وضاحت رہی جا رہی ہے۔اسے بھی آسان لفظوں میں بیان کرنا ضروری ہے۔ایٹم کے اندر جو پارٹیکلز ہیں ان کے درمیان بھی خلا ہے۔پروٹون اور الیکٹرون کے درمیان خلا کو سمجھنے کے لئے یہ جان لیں کہ اگر پروٹون کا سائز ایک فٹ بال جتنا تصور کر لیا جائے تو اس سے الیکٹرون تقریباََ دو میل کی دوری پر ہوگا۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے وجود کے ہر ذرے میں خلا کس حد تک سرایت کئے ہوئے ہے اور اسی مناسبت سے وہ واضح طور پر ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔
          سو یوں ایک سطح پر فکری طورپر میرا مسئلہ یہ بنا کہ خدا کو اس کی صفات کے ذریعے جانا جائے تو انسانی صفات اور خلا کی صفات جیسی مشترکہ صفات کو چھوڑ کر کوئی ایسی صفت بھی ہونی چاہئے جو صرف خدا ہی کا امتیاز ہو۔اور وہ صفت کونسی ہے؟۔۔۔میری زندگی کا بیشتر عرصہ ایک شوگر مل میں مزدوری کرتے گزرا ہے۔وہاں لیبارٹری میں گرمیوں کے دنوں میں بہت ہی چھوٹے چھوٹے روشنی کے کیڑے آجاتے تھے(ان کیڑوں کے کچھ احوال کے لئے میرا ایک پرانا افسانہ’’پتھر ہوتے وجود کا دُکھ‘‘ پڑھئے)۔ان میں سے کوئی کیڑا اگر پوری شوگر مل کی حقیقت جا ننا چاہے تو یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔انسان کی حقیقت خدا کے سامنے کیڑے اور شوگر مل کی مناسبت جیسی بھی نہیں ہے۔لیکن پھر بھی انسان میں اپنے خالق و مالک کو جاننے کی جستجو تو ہے۔
                حضرت علیؓ کا ایک فرمان اس جستجو میں میری رہنمائی کر گیا۔کمال التوحید نفی عن الصفات۔۔۔توحید کی حقیقت اور کمال تب ظہور فرماتا ہے جب صفات کی بھی نفی ہوجاتی ہے۔یا یوں کہہ لیں کہ صفات بھی بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔اور اس حقیقتِ عظمیٰ کے سامنے صفاتی نام بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔پھر ایک حدیث شریف میں مذکور ایک دعا کے ذریعے بھی خدا کو جاننے کی جستجو کو تسکین سی ملی۔مسلم شریف کی اس دعا کا متعلقہ حصہ یہاں تبرکاََ درج کر دیتا ہوں۔اللھم ۔۔۔اسئا لک بکل اسمِِ ھو لک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احدا من خلقک اواستاء ثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القرآن العظیم ربیع قلبی  اے اللہ !۔۔۔میں سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کے ساتھ جو تونے اپنے لیے پسند کیا،یا اپنی کتاب میں تونے اتارا ہے،یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے،یا اپنے علم غیب میں تو نے اسے اختیار کر رکھا ہے،اس بات کا کہ تو کر دے قرآن مجید کو میرے دل کی فرحت و خوشی۔
        گویا خدا کا کوئی ایک ایسا نام ابھی ہے جو بڑی بڑی صاحبِ عرفان ہستیوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘
(’’کھٹی میٹھی یادیں‘‘۔باب ’’رہے نام اللہ کا!‘‘)
             نذیر ناجی صاحب نے اقبال کے حوالے سے تخلیقی گناہ کی جو بات کی ہے،مزے کی لگی ہے۔اسی طرح اقبال کے حوالے سے دوزخ کی اصلاحی کیفیت کا ذکر بھی دلچسپ بلکہ امید افزاء لگا۔اسے میں اپنے طور پر یوں سوچتا ہوں کہ روح خالص سونا ہے۔انسان اپنے گناہوں سے اس میں کھوٹ شامل کرتا جاتا ہے۔سو دوزخ ایسی کٹھالی ہو گی جس میں گناہوں کا سارا کھوٹ نکل جائے گا اور خالص سونے جیسی  روح اپنے اصل مسکن میں بھیج دی جائے گی۔باقی واللہ اعلم۔
         خدا کا شکر ہے کہ نذیر ناجی صاحب نے اپنی اس تحریر کو ضائع نہیں کیا۔بے ساختہ لکھی گئی اس تحریر میں اگر کہیں ربط باہمی کی کوئی کمی رہ گئی ہے تو وہ بھی نذیر ناجی صاحب کے اخلاص کی مظہر ہے۔حقیقتاََ وہ ایسی کمی بھی نہیں ہے بلکہ فکری تسلسل میں ایک موضوع سے دوسری طرف جست بھرنے سے مشابہ ہے۔میں نے ان کے چند چیدہ چیدہ نکات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔اگر ہر اہم نکتے پر مکالمہ کرنے لگتا تو شاید ان کے تینوں کالموں سے زیادہ لکھنا پڑجاتا۔ان کا شکر گزار ہوں کہ ان کے کالموں نے مجھے اپنے سوالات کی روشنی میں مزید غور و فکر کی طرف مائل کیا
          نذیر ناجی صاحب کے ان کالموں کا خلاصہ اتحاد آدم اور ارفع مذہب کے جس تصور کو اجاگر کر رہا ہے،وہ آج کے عہد کی ضرورت ہے۔خدا کرے کہ عالمی سطح پر ایسی سوچ توانا ہو سکے اور انسانیت کی سلامتی اور بقا کو لاحق خدشات دور ہو جائیں۔آمین۔
والسلام
حیدر قریشی(جرمنی)
۷؍اکتوبر۲۰۱۵ء
 
Haider Qureshi
Rossertstr.6,Okriftel,
6579 5Hattersheim,
Germany.
E-Mail:
Tel.(Res.):0049-6190-930078
.....................................................................................................................................................................................



Haider Qureshi
................................................................................
ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:
...........................................
__._,_.___

.

__,_._,___










Nadeem Siddiqui

unread,
Nov 20, 2015, 11:49:21 AM11/20/15
to

تازہ کالم
’’ آجکل‘‘
 آہ !حضرتِ سہیل آفندی :کیا لوگ تھے، کیازمانہ تھا!!

 گزشتہ ہفتے ہمارے علم و ادب کی ایک بڑی شخصیت اُٹھ گئی۔ اُس کا رُخصت ہونا اتنا تکلیف دِہ نہیں تھا جتنا اِس کا کہ اب ہماری نئی نسل کا اُس کے نام و کام دونوں سے نا آشنا ئی ہے۔ مزید افسوس اس کا بھی ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بتانے والے بھی اُس سے پہلے دُنیا سے اُٹھ چکے ہیں۔ یہ شہر جسے عروس البلاد کہا گیا، اسے کیوں یہ نام ملا؟ اس شہر کے حسن اور اس کی کشش تو سب پر عیاں ہے بلکہ اب بھی اس کے حسن کی کشش باقی ہے البتہ ’ حسن‘ کا معیار ضرور بدل گیا ہے۔
 اِس شہر کا حسن اوراس کی رونق وہ لوگ بھی تھے جو اپنے اپنے شعبے میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ کچھ نام ذہن میں روشن ہو رہے ہیں ان سے بالمشافہ ملاقات تو نہیں کہ ہم اُن کے سامنے طفلِ مکتب تھے البتہ ہماری آنکھوں میں جو قوت ِبینائی ہے وہ شاید انہی لوگوں کی کچھ جھلکیوں کے طفیل ہے اور ہم نے ان کے بارے میں اپنے بزرگوں سے اتنا سنا ہے کہ لگتا ہے کہ وہ ہمارے تصور میں اپنے سراپا کے ساتھ متحرک ہیں۔ حکیم ابرہیم موہانی شہر کے نام ور طبیب تھے اور مرد ِمومن بھی۔ ان کی طبابت کا چرچا دور دور تک تھا۔ بزرگوں کے ساتھ اُن کے ایک زندہ شاہد ہمارے رفیق کار سید محمد عباس بھی معترف ہیں کہ کیا شخصیت تھی!۔ وہ جو حکیم انجم فوقی بدایونی کا قول ہے کہ ” میاں! بھوکا نہیں کھانے والا مَر ے گا۔“ روایتِ عباسی ہے کہ وہ صرف ایک وقت کھانا کھاتے تھے دوسرے وقت دودھ اور (پارلے)گلو کوز بسکٹ کا ایک پیکٹ لیتے تھے اور معمول تھا کہ شب میں تین بجے بیدار ہو کر غسل کرتے اور پھر تہجد کی نماز ادا کرتے تھے۔ خوش پوش ایسے کہ کسی نے اُ نھیں بغیر شیروانی کبھی نہیں دیکھا اور شیروانی بھی ایک نہیں بلکہ اَسّی سے زائد تھیں۔ مجرد زندگی گزاری ۔ حکیم محمد میرن،لکھنوی تہذیب و تمدن کی ایک بے مثل نشانی تھے اس شہر میں۔ اُن کا دواخانہ شہر کے قلب میں واقع تھا اور ممبئی کی وہ کون سی’ شخصیت‘ تھی جس کے قلب و نظر میں حکیم میرن کی رسائی نہ ہو۔ موصوف تھے تو اعلیٰ درجے کے طبیب مگر اللہ نے اُن کو ایک اور وصف سے نوازا تھا، وہ تھا ان کا خاص پکوان، جس نے ایک بار اُن کے بنائے ہوئے شامی کباب اور نہاری کھالی وہ تا عمر اس کے ذائقے اور حکیم میرن کا اسیر ہو جاتا تھا۔ دراصل وہ زمانہ تھا ہی خوش پوشی اور خوش نوشی کا۔ اُس زمانے میں صاحبِ تمول گنتی کے تھے ۔ اللہ نے انھیں دولت کے ساتھ ہر طرح کے حسنِ ذوق و شوق سے بھی مالا مال کر رکھا تھا۔ اب ہمارا دَور ہے کہ دولت کی ارزانی اورذوق و شوق کی گرانی ہے۔ کل لوگ عمدہ کھاتے تھے اور آج عمدہ کھانا نہیں بلکہ اب تو لوگ روپیہ کھا تے ہیں۔ مسلم علاقوں ہی میں نہیں دیگر محلوں میں بھی ایک سے ایک ریستوران اور ہو ٹل کھلے ہوئے ہیں اور جو ہائی ویزپر ڈھابے ہیں ان کی تو گنتی ہی نہیں جو اکثر بھرے ہوئے ملتے ہیں۔ شہر کے جو مشہور ہوٹل ہیں اور جن ڈھابوں کا ہم نے ذکر کیا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسانہیں جو دورِ گزشتہ کے ’ حاجی ہوٹل‘ کے کھانوں کا جواب رکھتا ہو۔ 
حاجی ہوٹل(پاکموڈیا اسٹریٹ) کی مقبولیت کی ایک مثال یہی کافی ہے کہ کرشن چندر کی اُس دور کی تحریروں میں ’ حاجی ہوٹل‘ کے کھانوں کا نام بہ نام ذکر ملتا ہے۔ یہ ساری باتیں حضرت ِسہیل آفندی کی رِحلت پر یاد آئیں جیسا کہ ہم نے شروع میں لکھا ہے۔ موصوف ہماری اُس علمی اور ادبی سلسلے کے ایک فرد تھے جن کے بارے میں بلا تکلف کہا جاسکتا ہے کہ ” ہر فن مولا تھے۔“
 شہدائے کربلا کی مجلس پڑھنے کےلئے منبر پر اگر بیٹھے ہیں تو لگتا تھا کہ بس علم کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ وہ اپنے شیعہ مومنین کو صرف رُلانے کا فن نہیں جانتے تھے بلکہ اُن کی مجلس کا عام سامع بھی جب مجلس سے باہر نکلتا تھا توکچھ سوچتا اور کچھ غور کرتا ہوا۔ یعنی وہ اپنے سامع کے دل و دماغ میں فکر و احساس کے دِیے جلا دیتے تھے۔ شعلہ بیانی اورسحر بیانی تو ایک طرح کی شعبدہ بازی ہے، تقریر اور تحریر کا اعجاز یہی ہے کہ سننے والا یا پڑھنے والا اگر سوچتا ہوا دماغ اور دھڑکتا ہوا دِل رکھتاہے تو اس کے سَر اور سینے میں ایک ہلچل مچ جائے۔ ایسے ہی عالم وادیب تھے حضرتِ سہیل آفندی۔ علامہ باپ نجم آفندی کے علامہ فرزند کے بارے میں آوارہ سلطانپوری اپنی کتاب ”نایاب ہیں ہم“ میں ایک جگہ لکھتے ہیں: © © © © © © ”شہر کی ایک مخدوش عمارت کی رہائش ترک کرکے کلیان میں گھربسایا ایک دن بائیکلہ ریلوے اسٹیشن کے پُل پر ملاقات ہوگئی۔ حال پوچھا تو( سہیل آفندی سے) جواب ملا: اور تو سب ٹھیک ہے صرف حافظہ خراب ہو گیا ہے، یو ں سمجھ لیجیے کہ سَو رروپے کے نوٹ کی شکل بھول گیا ہوں۔“ اگر پڑھنے والا ذرا بھی شعور وادراک کا حامل ہے تو وہ سمجھ لے گا کہ سہیل آفندی غربت اور افلاس کی کس راہ سے گزر رہے تھے کہ پوچھنے والے نے اُن کی خیریت پوچھی تو انہوں نے اپنی عُسرت کاشکوہ و شکایت نہیں کی بلکہ اپنی کمزوری کا اعتراف ضرور کیا ۔ یہیں ہمیں اُنہی کے ایک دوست اور دورِ گزشتہ کے ممتاز شاعر عاصی جونپوری بھی اپنے’ شعرِ شکرانے‘ کے ساتھ یاد آگئے کہ جس میں حضرتِ سہیل آفندی کی کیفیت بھی جیسے درج ہوگئی ہے:
بے نیازی تِری، شکوہ نہیں کرنے دیتی٪ خط ِ تقدیر بھی میں نے ہی لکھا ہو جیسے 
 ممبئی کے ممتازاور قوالی کی دُنیا کے مشہور اور سینئرشاعر پیام سعیدی نے فیس بک پر سہیل آفندی کی خبر پڑھی تو فون پر اظہارِ افسوس کے ساتھ انہوں نے سہیل مرحوم کا ایک مطلع بھی سنایا: میری دُنیا میں سیاست کانہ لو نام ابھی٪ مجھ کو لینے ہیں محبت سے کئی کام ابھی
 کوئی سال بھر قبل کی بات ہے کہ (حیدر آباد سے) ہمارے کرم فرما بزرگ سعید الرحمان صدیقی نے فون پر مژدہ سنایا کہ کل مَیں حضرتِ سہیل کے گھر جاو ¿ں گا اور اُن سے اپنے موبائل پر آپ کی بات کرواو ¿ں گا۔ دوسرے دِن وعدہ ¿صدیقی پورا ہوا۔ ہم نے حضرتِ سہیل سے بات کی ، اُن کا اور اُن کے والدِ محترم کا ایک ایک شعر سنایا تو جواب میں بس ہم اُن کی ہچکی ہی سن سکے۔ وہ دونوں شعر یو ں تھے:
 ”دل کو کعبہ کہہ رہا ہوں، بات سمجھا کیجیے ٪ میرا مطلب ہے کسی کا دل نہ توڑا کیجیے“ اور دوسرا شعر بھی
”وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں٪ جہاں تک ہاتھ سے دُنیا نہ جائے۔“ شکرِ ربی کہ حضرت ِسہیل(آفندی) دُنیا کے ہاتھ نہیں لگے اور اپنے کردار کا صاف و شفاف دامن لئے ہوئے ربِ علیٰ کے حضورپہنچ گئے۔ بیشک جس کی جو طلب ہوگی اسے وہی ملے گا۔
 کیسے کامیاب و کامران لوگ تھے کہ جن کی زندگی کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑیگی۔ ندیم صدیقی

-- 
NadeemSiddiqui
aaj-kal-21-Nov-15-old copy.jpg
aaj-kal-21-Nov-15-old.pdf

Zulfiqar Naqvi

unread,
Nov 21, 2015, 7:12:27 AM11/21/15
to bazme...@googlegroups.com
ghazaaaaaaaaaaal.gif

mirza_...@hotmail.com

unread,
Nov 21, 2015, 3:33:44 PM11/21/15
to bazme...@googlegroups.com

اسوقت مکہ مکرمہ میں ہو . الله سبحانه وتعالى سہیل صاحب کی مغفرت فرمائے، انکے درجات بلند کرے،  انهیں اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. آمین
ممبئی پناہ دیتی ہے.  میرے شہر میں خیر و شر آج بهی ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ آج بهی ایک مسلمہ حقیقت ہے. 

مرزا

Sent from Outlook Mobile

mosharraf alam zauqui

unread,
Nov 28, 2015, 3:15:23 AM11/28/15
to Aijaz .Shaheen

محترم ..منزہ احتشام کا تعلّق پاکستان کی نیی نسل سے ہے .انکے مضامین اور کچھ افسانوں نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے .منزہ نے یہ مختصر تجزیہ اخباروں کے لئے کیا ہے .-- میں یہ جایزہ  خصوصی طور پر آپکے اخبار کے لئے بھیج رہا ہوں .امید کہ شایع  کرکے شکریہ کا موقع دینگے ....ذوقی 

923136777200.jpg
NALAYE COVER PAGE.jpg
Muniza Ehtisham.inp

Muhammad Syed

unread,
Dec 1, 2015, 3:02:27 PM12/1/15
to bazme qalam
Jb Aali 

Adab

MUHAMMED MUJAHID SYED KA SHAMSUR REHMAN FARUQI KE NOVEL " KAI CHAAND THE SARE AASMAN" KA REVIEW MULAHIZA HO.


SHUKRIYA


The Story of Many Moons

·        

   |   |  A A

MUHAMMAD MUJAHID SYED | ARAB NEWS

Published — Thursday 3 January 2008

Last Update 3 January 2008 3:00 am

 

IT seems that, due to an increase in interference from the East India Company in the daily affairs of the Mogul court and the princely states, much of Indian society was falling apart in the late 18th and 19th centuries. Shamsur Rahman Farooqui, the prominent Urdu critic, poet and novelist has recreated this lost society in a marvelous way and his 823-page novel, “Kai Chaand The Sare Aasman” is a readers’ delight.

The novel centers on Vazir Khanum (b, 1811), the youngest daughter of Muhmmad Yusuf Sadakar, an artisan of Kashmiri origin, who, along with his wife and two other daughters, lived in Delhi in the early 19th century. At that time, Delhi had developed a culture in which dancing girls were not merely tools for entertainment but were also repositories of language and culture. The feudal class sent its teenaged sons to the city so they could learn poetry and culture. Vazir, a comparative rebel among Muhammad Yusuf’s daughters, was much influenced by the lifestyle of her dancing girl grandmother and the older woman’s philosophy about the male-dominated world they lived in. The independent-minded girl chose to live with an Englishman, Edward Marston Blake, who was the assistant political agent in Jaipur. She had two children by him, Martin Blake or Amir Mirza and Sophia or Massih Jan or Badshah Begum. They plan to marry but Blake dies in a riot in 1830 and his family takes the children. The frustrated Vazir returns to Delhi where British Resident William Fraser, as well as Nawab Shamsuddin of Loharu State, are attracted to her. She prefers Nawab Shamsuddin and they then have a son, Nawab Mirza. Her choice sows the seeds of a bitter dispute between Fraser and Shamsuddin that ends with Fraser’s murder and later the execution of Nawab Shamsuddin.

After this tragedy she marries a minor official from Rampur state who also died and after his death, she marries Mirza Fakhru, third in line to the throne of the last Mogul Emperor Bahadur Shah Zafar.

Farooqui’s description of the encounter between Oriental and Western civilizations and the resulting culture shock is very interesting. The novel shows that the British, despite their many years in India, were the most hated people on Indian soil. Their rule of law was a farce and both Hindus and Muslims were afraid of the courts run by ruthless judges who had no respect for local customs. The East India Company, for its part, ran India whimsically with the help of the courts. Even the Indian feudals were unable to get justice from the courts because the interest of the British was supreme and it was upheld at any cost. Many times petitioners were unable to learn whether their petitions had reached the head of the British government in India. A wave of hate and unrest was gathering strength and would change Indian society and the Company’s rule forever.

This is not a historical novel but the characters are real and the events are in a historical sequence that highlights the actual conditions in Delhi and its residents during the last days of Mogul rule. Farooqui’s depiction of Vazir Khanum’s beauty and the many details of sexual encounters and the love scenes, reminds us of the Shakuntala of Kali Das and also of the Persian poet, Nizami Ganjawi. Farooqui has gone to great lengths in this regard. This Sanskrit and Persian tradition, sometimes though very detailed and delicate, is a special touch, because it gives a glimpse of the traditions, inclinations and decadence of the era.

Like Thomas Hardy, Farooqui presents a philosophy of matter and chance. The novel, at the very beginning, fills readers’ hearts with sorrow. The heroine Vazir Khanum faces one tragedy after another but her womanhood is praiseworthy in that not only with dignity and grace but also with great courage she accepts the divinely ordained scheme. She is of course a prisoner of her times but she is independent to some extent in comparison of other women of those times. She tries to gain her rights in this male-dominated world and wants to be in control of her destiny. A husband, for her, is revered as a breadwinner and protector but in her scheme of things, he is not her master. She does not hide her thoughts from her husband. This shows the strength of her character. She is faithful but independent. She never cheated any of her lovers or husbands. Despite what she is, she is unable to gain the sympathy of readers.

The other characters in this novel come and go. Sometimes they deliver the goods and sometimes not. Since Farooqui has adopted a Western style, the pattern of this novel is impressive but the real importance lies in the art of language. A voluminous novel, it has many characters of differing social, economic and educational backgrounds that span three centuries. British officers, Nawabs, craftsmen, nobles, poets and scholars speak different types of language. The reader gets acquainted with different provincial Urdu dialects. The influence of Braj, Awadhi, Rajasthani and Persian is impressive. Through this mastery of language, the novelist is able to put every character in his or her correct place. The novel’s whole mosaic dazzles the eyes of readers.

--
Muhammad Mujahid Syed
Jeddah KSA

Naseem Sehar

unread,
Dec 2, 2015, 11:01:57 AM12/2/15
to 5BAZMeQALAM
بہت عمدہ مضمون۔ جناب محمد مجاہد سید اردو میں لکھیں یا انگریزی میں، الفاظ اور موضوع پر ان کی گرفت کمال کی ہوتی ہے۔

--



--
Naseem-e-Sehar
Editor, Quarterly "Sahaab",
P.O. Box 589, GPO, Rawalpindi
Pakistan.

Hashmat Sohail

unread,
Dec 4, 2015, 11:18:37 AM12/4/15
to BAZMe...@googlegroups.com
 دوستوں کی خدمت میں ایک قطعہ حاضر ہے:
               علم کے موتی  رول  ر ہا ہے           حکمت کے در کھول رہا ہے
                کانوں میں رس گھول رہا ہے          کوئی   اردو   بو ل  رہا  ہے
                                                                                            حشمت سہیل (شکاگو)    

Qalamqaflapakistan Kharian

unread,
Dec 5, 2015, 8:41:49 AM12/5/15
to bazme...@googlegroups.com



Date: Fri, 4 Dec 2015 10:18:12 -0600
Subject: [بزم قلم:47696]
From: hashmat...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com
11217581_1589462651305941_4820486395164265244_n.jpg

anis baqar

unread,
Dec 5, 2015, 10:26:13 AM12/5/15
to bazme...@googlegroups.com
SHUKRIA


From: qalamqafl...@hotmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:47712]
Date: Sat, 5 Dec 2015 13:41:23 +0000

SAHEB HASAN

unread,
Dec 5, 2015, 10:38:14 AM12/5/15
to BAZMe...@googlegroups.com

بہت خوب حشمت جی

Saheb Hasan
editor
president:  Urdu Foundation
cell: 9004000252 / 9867861713
skype: taryaq1

Shazia Andleeb

unread,
Dec 5, 2015, 2:58:27 PM12/5/15
to Bazm e Qalam
علم کے موتی  رول  ر ہا ہے  
Bohot khoob Hashmat sab
Thanks
Shazia

Rashtriya Sahara

unread,
Dec 6, 2015, 3:52:31 AM12/6/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Bahut Khoob sahgal saheb

Kaano main ras ghool raha hai
koi urdu bool raha hai

kiya kahne hai, maza agay

jameel akhtar
9873747068

anis baqar

unread,
Dec 6, 2015, 4:52:06 AM12/6/15
to bazme...@googlegroups.com
My salam to MR SOHAIL FOR SO NICE QATA
in case u wish to print your kalam , plz do contact
ANIS BAQAR 0300 2306196


Date: Sat, 5 Dec 2015 20:57:58 +0100
Subject: Re: [بزم قلم:47719]
From: andle...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Qalamqaflapakistan Kharian

unread,
Dec 6, 2015, 5:04:55 AM12/6/15
to bazme...@googlegroups.com



From: anis...@hotmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:47714]
Date: Sat, 5 Dec 2015 20:25:44 +0500
11217581_1589462651305941_4820486395164265244_n.jpg

Hashmat Sohail

unread,
Dec 6, 2015, 9:59:07 PM12/6/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Thank you Anis Baqar and Shazia.
Hashmat Sohail.

Hashmat Sohail

unread,
Dec 6, 2015, 10:13:18 PM12/6/15
to BAZMe...@googlegroups.com
شکریہ - کہیں پڑھا تھا کہ مرد کے جسم میں ایک لاکھ کے قریب رگیں (نسیں) veins ہوتی ہیں جو اس کے جذبات کو کنٹرول کرتی ہیں اس پر ایک قطعہ ملاحظہ ہو:
 مرد کے جسم میں ہیں لاکھ رگیں   ۤ-    یہی  جذ بوں کا  تا نا با نا  ہے
صرف  بیوی   ہی  جانتی ہے  یہ   -    کون سی رگ کو کب دبانا ہے
                                                        حشمت سہیل

Arshad Mansoor

unread,
Dec 8, 2015, 2:56:41 AM12/8/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Inline image 1

Hashmat Sohail

unread,
Dec 8, 2015, 11:05:17 PM12/8/15
to BAZMe...@googlegroups.com, nrin...@googlegroups.com, Aligarh Urdu Club
ایک قطعہ دوستوں کی خدمت میں:
              اک دن بیگم لاڈ میں بولیں یہ تو ذرا بتلاو مجھے          میں جو اگر مر جاونگی تو دوسری شادی کرلوگے
              شوہر بولے جان من تنہا تو نہیں میں رہ سکتا              زیست کا لمبا رستہ ہے ساتھی کے بنا نہیں کٹ سکتا
              پھر پوچھا کیا آنے والی میرے بیڈ پر سوئے گی           شوہر بولے بیڈ تو یہی ہے وہ بھی اسی پر سوئے گی
              پھر پوچھا کیا آنے والی میرے زیور پہنے گی             شوہر بولے ظاہر ہے وہ سارے ہی زیور پہنے گی
              پھر پوچھا کیا بعد مرے کپڑوں پر بھی حق اسکا ہے      بولے کہ نہیں کپڑے تو نہیں اس کا قد تم سے لمبا ہے
                                                                                                (حشمت سہیل شکاگو)

Jamshaid Sahil

unread,
Dec 8, 2015, 11:39:18 PM12/8/15
to Aijaz .Shaheen
واہ بُہت خوب !

--

Syed Ashraf Ali

unread,
Dec 9, 2015, 4:06:44 AM12/9/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Shaid Lambi musibat ke shouqeen hain VARNA hum ne to suna musibat jitne choti utni achi.


From: Jamshaid Sahil <jamshai...@gmail.com>
To: Aijaz .Shaheen <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, December 9, 2015 7:39 AM
Subject: Re: [بزم قلم:47796]

Hashmat Sohail

unread,
Dec 9, 2015, 8:30:03 AM12/9/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Thanks.

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Dec 9, 2015, 11:43:19 AM12/9/15
to Khadi Ali Hashmi<
Mard  meiN  gar haiN eik laakh RageN
LaakhoN hote haiN aurtoN ke Rang
Kaise baatoN ko rang detee haiN 
Aql hairaaN tho chashme insaaN dung 

Hashmat Sohail

unread,
Dec 9, 2015, 10:23:17 PM12/9/15
to BAZMe...@googlegroups.com
آپ سب دوستوں کا بےحد شکریہ - حشمت

Syed Ashraf Ali

unread,
Dec 10, 2015, 12:29:48 AM12/10/15
to BAZMe...@googlegroups.com
Kuch biwion ko Sharag dabana ziyada pasand hai,



From: Hashmat Sohail <hashmat...@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Thursday, December 10, 2015 6:22 AM
Subject: Re: [بزم قلم:47825]

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Dec 13, 2015, 1:54:32 AM12/13/15
to Khadi Ali Hashmi<
Jo koi Urdu bol raha hai 
Ba mushkil hi bol raha hai 
Uqda yeh bhi khol raha hai
Kahne ko tho bol raha ahai
Padhe na lkihe bol raha hai
Ghar ka yeh maahol raha hai 
Har koi English bol raha hai
Aage muamila gol raha hai

Hashmat Sohail

unread,
Dec 13, 2015, 3:56:58 PM12/13/15
to BAZMe...@googlegroups.com
ڈاکٹر ہاشمی صاحب تسلیمات - آپ نے بالکل صحیح فرمایا ہے - یہی ہمارا المیہ ہے - میری ایک پرانی نظم ہے " اردو میری اردو" اسکے دو بند ملاحظہ کریں:  
ساتھ ہی اس کے مگر اٹھتی ہے دل میں اک کسک  -   کیا ہمارے گھر میں بھی پھیلی ہے اردو کی مہک
کیا نئی نسلوں کو بھی پہنچی ہے کچھ اسکی چمک  -  یا  یہ  بز م  آرائیاں  ہیں  بس  ہمار ے عہد   تک
                     فکر گر کوئی نہ کی ہم نے جو ان حالات میں
                     دفن ہو  جائیگی  یہ تاریخ  کے صفحات  میں
جب نہ ہوگا کوئی بھی اپنی زباں کا آشنا                   یہ  خزانہ علم و حکمت  کا فنا  ہو جائے  گا
جیسے غالب نے کہا وہ حال ہوگا بزم کا                  "ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا"
                     قول ہے اقبال کا تو عرصہ محشر میں ہے
                     "پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے"  
                                                                             (حشمت سہیل)

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Dec 16, 2015, 10:45:02 AM12/16/15
to Khadi Ali Hashmi<
 Mujhe hota gumaN yeh hai mere jo mail   jaate haiN
 Bazam ke naam se lekin pohanch mushkil se paate haiN
NaheeN phir kiss liye uss per koi comments aate haiN
Subah ek nazm bheji thhi Forum per woh naheeN aayi 
MaiN ek Angrezi forum par isi poem ko bheja thha 
WahaaN se aaye haiN response lekin  yaaN naheeN aaye   
Main chaahooN jan-na Iss bazm se iski wajah kya hai. 

Syed Ahmed

unread,
Dec 17, 2015, 7:47:45 AM12/17/15
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم ھاشمی صاحب سلامِ مسنون
بلا شبہ آپ کے دم اور وجود سے کافی رونقِ بزم ہے جس کے لئے ہم سبھی شکر گزار ہیں، ہر چند کہ آپ کا ہر پارہ شہ پارہ اور ہر تحریر منظوم واچھوتی ہوتی ہے جس پر چند کلمات میں اظہارِ خیال کرنا ہماری اخلاقی ولسانی ذمہ داری ہوتی ہے مگر کبھی کبھی کچھ لکھنا چاہتے ہوئے بھی مصروفیت کی بناء پر کچھ نہیں لکھ پاتے، لہذا اپنی کوتاہی پر آپ سے فرض اور قرضِ کفایہ جاری رکھنے کی درخواست ہے.
 مالکِ کائنات وفورِ صحت کے ساتھ مزید سرور و سرودِ قلم عطاء فرمائے.
والسلام
سید احمد
۱۷-۱۲-۲۰۱۵ش

Nashtar Amrohvi

unread,
Dec 19, 2015, 12:14:12 AM12/19/15
to BAZMe...@googlegroups.com
lajawab kalam he waaaaaaaaaaaaah 

Zubair H Shaikh

unread,
Dec 19, 2015, 1:41:21 AM12/19/15
to BAZMe...@googlegroups.com

Ghitreef Shahbaz

unread,
Dec 22, 2015, 2:25:45 AM12/22/15
to bazme...@googlegroups.com
dear moderator please publish the following report 

رپورٹ 
یک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان :بین المذاہب اوربین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
وحدت ملی کوپارہ پارہ کرنے والے اسباب وعوامل پر ایک سنجیدہ بحث
مرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ِہند( CEPECAMI)،علی گڑھ پلیٹ فارم اورفیوچراسلام ڈاٹ کام کے اشتراک سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں 17دسمبر2015کوایک یک روزہ عالمی کانفرنس بین المذاہب اوربین المسالک تناظرات کی تشکیل نوکے موضوع پر منعقدہوئی۔اس کانفرنس میں خصوصی خطاب پیش کرتے ہوئے خصوصی مہمان سیدحامدالبرسابق وزیرخارجہ ملائشیااوراوآئی سی کے خصوصی ایلچی نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہرجگہ محاصرہ کی حالت میں ہیں۔ان کا دین ہی نہیں ان کی نقل وحرکت ،آمدورفت اورگفتگوسب کوواچ کیاجارہاہے۔9/11کے واقعہ نے مسلمانوںاورمغرب کے تعلقات پر زبردست منفی اثرات مرتب کےے ہیں۔ہم ایک بحرانی حالت میں ہیںلہذاہمیںاپنے مسائل کوحل کرنے کے لےے سنجیدہ کوششیںکرنی ہوںگی۔جس کے لےے دوسر ی قوموںسے زیادہ سے زیادہ مذاکرات کا راستہ اختیارکرناچاہےے۔انہوںنے مزیدکہاکہ قرآن نے قوموںاورقبیلوںکے درمیان بہترتعلقات پر زوردیاہے ،انسانیت کا احترام سکھایاہے۔ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم دوسروںسے اپنے آپ کواعلی اوربرترسمجھتے ہیں،ان سے کچھ سیکھتے نہیں۔ہمیںسوچناچاہےے کہ ہم ناکام کیوںہیںکیونکہ ہم جمودپسندہیں۔
امریکہ سے آئے اورورلڈپارلیمنٹ کے صدرپروفیسرگلن ٹی مارٹن نے اسلام کے تصورخودی پرایک پُرمغزخطبہ پیش کیا۔انہوںنے حاضرین سے سوال کیاکہ آج اسلام فرانس،امریکہ اورہرجگہ محاصرہ میں کیوںہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے تصورخودی کوبھلادیاگیاہے۔انہوںنے 9/11کے بارے میںاپنی یہ رائے بھی ظاہرکی کہ وہ خودامریکہ کی اندرونی ایجنسیوںکا ہی کیادھراتھا۔اپنے طویل خطبہ میں پروفیسرمارٹن نے پوری دنیاکی امن وسلامتی کے لےے عالمی شہریت کا ایک دستوربھی پیش کیا۔آریہ سماج کے متحرک رہنماسوامی اگنی ویش نے کہاکہ لاالہ الااللہ ایک انقلابی کلمہ ہے اورتمام انسانوںکوجوڑنے والاہے۔انہوںنے کہاکہ ہم سب انسان ایک ہی فیملی ہیں ہم نقلی بحثوںمیں کیوںپڑے ہوئے ہیں۔پروفیسرراشدشازنے اپنے مختصرکلمات میں بین المذاہب اوربین المسالک مذاکرات کی اہمیت کواجاگرکیانیزبین ا لمسالک مذاکرات کے لےے نئے زاویوںسے سوچنے پر زوردیا۔انہوںنے کہاکہ امت مسلمہ پراس کی طویل تاریخ میں چاربڑے بحران آئے ہیں۔پہلابحران قتل ِعثمان ؓ سے شروع ہوتاہے ،دوسرابڑابحران سقوط بغدادتھااورتیسرابڑابحران خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ تھاجس کے بعدامت مسلمہ اپنی چھتری سے محروم ہوکرکھلے آسمان کے نیچے آگئی ۔چوتھابحرانی دورآج کاہے۔ جس میں شرق اوسط میں مسلسل خانہ جنگی کی کیفیت ہے جس میں قاتل بھی مسلمان اورمقتول بھی مسلمان ۔آج مسلم دنیاکے مرکزی علاقہ سے اس کا Depopulation ہورہاہے۔مرکزی جمعیة اہل حدیث کے امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورعالمی امن کی کوششوںکی تائیدکی ۔اس نششت کی نظامت ڈاکٹرمحمدزکی کرمانی کررہے تھے۔کانفرنس کے اغراض ومقاصدکا تعارف راحیل احمدنے کرایااوراحمدفوزان نے ایسسکوکے چیرمین عبدالعزیزعثمان التویجری اوردوسری شخصیات کے پیغامات پڑھ کرسنائے۔
ا س کانفرنس کا دوسراسیشن بہت اہم تھاجس کوٹاو¿ن ہال سیشن کا نام دیاگیا۔اس کا اندازراو¿نڈٹیبل کانفرنس کا تھا۔تقریبادودرجن شرکاءبحث ایک گول دائرہ میں بیٹھے تھے،سب کوان کی جگہ ہی مائک مہیاکرائے گئے تھے۔شرکاءمیں علما،پروفیسرز،محققین ،سماجی ایکٹوسٹ،رضاکار،صحافی دانشور،نوجوان اسکالرمردوخواتین سبھی شامل تھے ۔تقریبا18شرکاءنے اس بحث میں پورے جوش وخروش اورسنجیدگی سے حصہ لیا۔اس سیشن کومرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ِہندکے ڈائرکٹرپروفیسرراشدشازنے چلایا۔ان کے ساتھ شیعہ تھیولوجی کے صدرپروفیسرعلی محمدنقوی ،ڈاکٹرزکی کرمانی،سیدحامدالبراورمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی بھی ڈائس پر موجودرہے۔
سوال اصل یہ تھاکہ وہ کیااسباب وحالات تھے کہ امت افتراق اورانتشارکا شکارہوگئی اورمتبعین ِمحمدﷺمیںسے کٹ کٹ کرکتنے ہی لوگ قافلہ سے جداہوکرنئے نئے فرقے بناتے چلے گئے۔اوراب کیاکیاجائے کہ امت پھرسے ایک پلیٹ فارم پر آجائے ۔مولانامحمدمیاںقاسمی سنبھلی جوایک بڑے مدرسہ کے مہتمم ہیں،نے بحث کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ میںقرآن کا مطالعہ موجودہ حالا ت کے تناظرمیں بغیرشان نزول اورتفاسیرکی محتاجگی کے کرتاہوںاور قبلہ ،نمازاورحج کی بنیادپر اہل قبلہ کے لےے وحدت کا ایک پروگرام بنایاجاسکتا ہے۔بلکہ حج پوائنٹ پرتوتمام انسانیت کوجمع کیاجاسکتاہے۔کیونکہ قرآن حج ،مسجدنبوی اورمسجدحرام کا باربارذکرکرتاہے اورکہیں پر بھی غیرمسلموںکوداخلہ سے نہیں روکتابلکہ وہ ہرجگہ الناس کا تذکرہ کرتاہے۔مسلم یونیورسٹی کے استاداورڈبیٹرڈاکٹرمحب الحق نے موجودہ دورمیں مسلمانوںکے تین رویوںکا ذکرکیا۔مسلم علما کی مذہبی جدا ل سے تنگ آکرمذہب بیزاری جس میں سیکولرحلقہ معاشرہ کوDeislamizeکرنے کی آوازلگارہاہے۔
۲۔دوسرارویہ مذہب پسندحضرات کا یہ سامنے آرہاہے کہ قرآن پر basedاسلام کواختیارکیاجائے اورمذاہب فقہ اورروایات سے پیچھاچھڑایاجائے۔۳۔تیسرارویہ جمع وتطبق کا ہے۔یہ رویہ تیونیشیانے جوکامیاب ماڈل دیاہے جس کواسلامی سیکولرزم کہاجاسکتاہے،اس کومثال بنانے کی بات کہتاہے۔ڈاکٹرمحب الحق نے بھی اسی تیسری رائے کی وکالت کی ۔دہلی سے آئے جناب نظام الدین صاحب نے کہاکہ قرآن کے ترجموںاورتفاسیرسے قرآ ن کے بہت سے الفاظ کی پوری وضاحت نہیں ہوتی ا س لےے قرآن فہمی پر زیادہ زوردینے کی ضرورت ہے۔
پروفیسررحیم اللہ نے کہاکہ حالانکہ مدارس میں 4فیصدہی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیںاوران میںبھی ایک فیصدلوگ ہی معاشرہ کی مذہبی قیادت میں آتے ہیںمگرمعاشرہ کے سوفیصدلوگ انہیں ایک فیصدکوfollow کرتے ہیںجس کی وجہ سے پورامعاشرہ مسلکی جھگڑوںمیںجی رہاہے کوئی بھی آدمی الاماشاءاللہ اس سے باہرنہیں۔شعبہ فلسفہ کے صدرپروفیسرمحمدمقیم الدین نے موضوع کی اہمیت وحساسیت پربولتے وحدت امت کے لےے چندتجاویزدیں:۱۔تاریخ کے حوالہ سے جوبات ہوگی وہ کامیاب نہ ہوگی ،جوکچھ تاریخ میں ہوگیااب اس کودرست نہیں کیاجاسکتا۔۲۔سب فرقوںکا تعلق شخصیا ت سے ہے ،اس لےے ان شخصیات پرجارحانہ تنقیدیاحملہ نہ کیاجائے ۔۳۔اب جوکچھ ہوسکتاہے کہ انسان کوانسان بنایاجائے ۔اچھاانسان اوراچھامسلمان بنانے کے لےے عقل کومعیاربنایاجائے۔عقل کا استعمال ہواورایکReasonalble اورحقیقت پسندمسلمان بنایاجائے ۔ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی نے براہ راست موضوع پر گفتگوکی کہ امت فرقوںاورٹکڑوںمیں کیوںبنٹتی چلی گئی اس اس بات پرغورکرتے ہیںتواس کے بہت سے اسباب میں سے ایک بڑاسبب یہ بھی نظرآتاہے کہ امت میں اظہارخیال اوراظہاررائے کی آزادی چھین لی گئی ۔اشخاص اورجماعتوںکی تکفیرکی باقاعدہ مہمیںمذھبی طبقہ نے چلائیں،بات بات پر تکفیرکے فتوے دےے جانے لگے ۔ڈاکٹرغطریف ندوی نے اِس کی تاریخ سے اورحا ل کے دنوںسے کئی مثالیںبھی دیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ہاںجوآدمی بھی سلف سے اختلاف کرتایالیک سے ہٹ کرکچھ سوچتایاتحقیق پیش کرتاہے اس پر کفرکے فتوے لگ جاتے ہیںیااُسے یہودی وصہیونی ایجنٹ قراردیاجانے لگتاہے۔حقیقت پسندی کی اتنی کمی ہے کہ ہماراہرلکھنے بولنے والاشروعات ہی مغرب کوگالیوںاورلعن طعن سے کرتاہے،شازشی تھیوری میں ہم جیتے ہیں۔جب تک ہم اس جمودِفکرسے باہرنہیں آئیں گے ،چیزوںکوحقیقت پسندی سے نہ دیکھیںگے تب تک ہمارے مسائل حل نہ ہوںگے ۔ پروفیسرگلریزاحمدنے کہاکہ موجودہ زمانہ میں multiculturalسوچ کوآگے بڑھاناچاہےے اوراسی کوبنیادبناکرہم اپنی بات کوآگے بڑھائیں۔کرنل سراج الحق نے سوامی اگنی ویش کی تقریرچندسوالات اٹھائے ۔پروفیسرصوفی نے بھی وحدت امت کے سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اس اصول کی طرف بلایاکہ ”اپنے مسلک کوچھوڑونہیں دوسرے کے مسلک کوچھیڑونہیں“۔
شرکاءسے سوال کیاگیاکہ مسلمان کسے کہیںگے اورامت مسلمہ سے کون خارج سمجھاجائے گا،اس سوال کے جواب میں پروفیسرعلی محمدنقوی نے مسلمان ہونے کے لےے” توحید،رسالت وآخرت پر ایمان ،ختم نبوت اورقرآن کے محفوظ وغیرمحرف ہونے پر ایمان ویقین رکھنا“یہ اصول ہیں۔پھریہ بھی دیکھاجائے گاکہ وہ فردیافرقہ خودکواسلام کا پیروکارکہتاہے یانہیں۔تمام شرکاءنے اسلام کی اس تعریف کوجامع ومانع قراردیا۔اس کے بعدایک خاتون پروفیسرنے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ”ہم میںبحث کے آداب نہیں ادب اختلاف نہیں،عدم تحمل ہے ،برداشت نہیں ہے۔جومسالک ہیںوہی دین بن گئے ہیںاس وجہ سے نئی نسل دین سے برگشتہ ہورہی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ دعوت کا نصب العین کیاہو،اقامت ِدین اورغلبہ ¿دین یاکچھ اور؟انہوںنے مشورہ دیاکہ ایک ایسی جامعہ بنائی جائے جوNeutral ہواورصرف اسلام کوRepresentکرے۔
بزرگ دانشورجنا ب عابدرضابیدارنے وحد ت امت پر گفتگوکرتے ہوئے رائے دی کہ حدیثوںکی بجائے قرآن کوبنیادبنائیںتوبہت سے مسئلے حل ہوجائیںگے کیونکہ ہرفرقہ اپنے مطلب کی حدیثیںبیان کردیتاہے۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ مسلمانوںکے درمیان جوفرقے بن گئے ہیںان کے درمیان مذاکرا ت کے لےے اہل قبلہ کی بجائے کوئی اوراصطلاح استعمال کی جائے توبہترہوگا۔مولاناضیاءالرحمان علیمی کے نزدیک قادیانیوںاوربہائیوںسے بھی کلمہ سواءکی بنیادپر مکالمہ کا جوازپیداہوتاہے۔یہ سوال جب مولاناذیشان رضامصباحی سے پوچھاگیاتواصولی طورپر پروفیسرعلی محمدنقوی کی تعریف سے اتفاق کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ فقہاءکا طریقہ تحفظی ہے۔ وہ کفرکی لسٹ بناتے ہیںکہ جویہ کرے وہ کافروہ کرے توکافر،جبکہ متکلمین کی ایپروچ زیادہ مناسب ہے جن کی رائے ہے کہ جوضروریات ِدین کا انکارنہ کرے وہ مسلمان ہوگا۔ڈاکٹرعبدالرو¿ف نے کہاکہ میراعلماسے سوال ہے کہ اگرکسی کے اندراجتہادکی صلاحیت ہے توکیاوہ اجتہادکرسکتاہے ؟انہوںنے مزیدکہاکہ امت عالمی طورپرپروپیگنڈے کا بھی شکارہے اس پر بھی ہماری نظرہو۔سنی تھیولوجی کے چئرمین مفتی زاہدصاحب نے فرمایاکہ اصول ِدین میں شیعہ وسنی دونوںمشترک ہیں۔جہاںتک قیاسی مسائل کی بات ہوتی ہے تووہ لازمی نہیں ہوتے انفرادی ہوتے ہیں۔البتہ ہمیں مسائل میں تشددنہیں برتناچاہےے۔پروفیسرمبارک علی نے رائے دی کہ تاریخی اسلام میں Rebuildکرنے کی ضرورت ہے۔مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہاکہ ہم اس کانفرنس کے روح ِرواںراشدشازکی دردمندی کوسمجھیںاوراپنے دل میں یہی دردلے کرجائیں۔
پروفیسرعلی محمدنقوی کی رائے تھی کہ ہمیںاسلامی فکرمیں موجودکثرت کا اعتراف کرتے ہوئے وحدت ملی قائم کرنی چاہےے کیونکہ 14سال کے تاریخی سفرمیں جوفرقے اورمسالک بن گئے ہیںنہ توان کوختم کیاجاسکتاہے اورنہ کسی ایک مسلک پر سب کولایاجاسکتاہے۔ڈاکٹرمحمدزکی کرمانی مدیر”آیات “نے طلبہ وطالبات کوخاص طورپر مشورہ دیاکہ ہم کوقرآن پاک سے براہ راست مربوط ہوناچاہےے اوراسی سے اپنے مسائل کا جواب مانگناچاہےے۔ا س سیشن میں برج کورس کے کئی طلبہ وطالبات عائشہ ،آرزوفاطمہ ،روشنی امیر،سرورعالم ،شرافت ندوی
 ،ارشداحمدوغیرہ نے بہت اختصارکے ساتھ اپنے خیالات کا اظہارکیا۔مترجم قرآن اورکئی کتابوںکے مصنف جناب سکندراحمدکمال اوروکیل خالداحمدنے بھی مختصراًا س موضوع پر گفتگوکی ۔اس سیمنارکی مجموعی ایپروچ لیک سے ہٹ کرسوچنے اورغیرروایتی اندازمیں سوچنے کی تھی ۔عام سیمناروںمیں لوگ اپنے اپنے پیپرپڑھ کرچلے جاتے ہیں،گھسی پٹی باتیںدہراتے ہیں،جن پر کوئی سوال جواب اوربحث ومباحثہ نہیںہوتا۔اس سیمینارمیں شرکاءاورحاضرین نے کھل کرہرچیز پر بحث کی ۔یہ توممکن نہیں کہ نششت میں پیچیدہ مسئلے حل ہوجائیں،تاہم اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ لوگوںمیں غیرروایتی طورپر سوچنے کی اورغوروفکرکرنے کی عاد ت پروان چڑھے گی ۔ایک Rationalاورحقیقت پسندانہ رویہ ترقی پائے گا۔اِس کانفرنس کی یہی سب سے بڑی دَین امت کوہوگی جس کی وہ موجودہ بحرانی دورمیں سب سے زیادہ محتاج ہے۔ضرورت اس کا فولواپ کرنے اوراس قسم کے مذاکرات زیادہ سے زیادہ کرنے کی ہے۔
(رپورٹ ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی)

report of seminar on reconfiguring interfaith.inp

rasheed ansari

unread,
Dec 23, 2015, 1:17:01 PM12/23/15
to bazme...@googlegroups.com, M.A Majid

" GET RID OF Mr. SHUKUR TO SAVE URDU


RASHEED  ANSARI·

" GET RID OF Mr. SHUKUR TO SAVE URDU"
====================================
The total sale proceedings of " URDU KITAB MELA " IN HYDERABAD IS SAID
TO BE ABOUT ONLY TEN (1 0 ) LAKHS !
A MATTER OF SHAME!
FOR WHOM ?...
SIMPLE ANSWER IS MAINLY
TELENGANA URDU ACAADEMY HYDERABAD's DIRECTOR S.A SHUKUR.
and-----
PARTLY CPUL and URDUWALAS OF HYDERABAD!
Inefficiency, nepotism accepting responsibilities more than capacity
and perhaps corruption in " NON Monetary matters" of Mr. SHUKUR has
crossed all limits.
Mr. SHUKUR should RESIGN or must be dismissed from all posts except
teaching forthwith!
Usually MIM takes up such matters on her own accord, otherwise
opponents of MIM who do nor hesitate to make even baseless criticism
on MIM, takes up matter and raise great hue and cry.
IT IS HIGHLY ASTONISHING TO SEE BOTH GROUPS ARE OBSERVING SILENCE!
Even in NIZAM's UNDEMOCRATIC RULE SUCH THINGS NEVER HAPPENED.
WHAT CM and Dy. CM of TELEHGANA ARE DOING?
IT IS HIGH TIME TO BEGIN STRONG but PEACEFUL PROTEST AGAINST Mr.
SHUKUR, AS HE IS GOOD FOR NOTHIND BUT IS HOLDING " FOUR POSTS ".
"GET RID OF SHUKUR TO SAVE URDU".
====================================

Meraj Noorie

unread,
Dec 31, 2015, 12:44:43 PM12/31/15
to publicrelation.ncpul, aaj ki khabar daily, aalami...@saharasamay.com, aalam...@gmail.com, aamirsal...@yahoo.com, aeo...@ncpul.in, akhbare...@gmail.com, akh...@gnnnews.tv, Al-...@hotmail.com, Alfurq...@yahoo.com, alyau...@yahoo.co.in, ama...@watannews.dk, araiss...@yahoo.co.in, arshad...@yahoo.co.in, arshad...@yahoo.com, asadr...@yahoo.co.in, asif...@hotmail.com, athar...@gmail.com, aurangabadexpress, avad...@yahoo.com, awam...@gmail.com, awazem...@sify.com, ayub...@yahoo.co.in, azadhi...@hotmail.com, azizb...@gmail.com, azizburn...@gmail.com, azizulh...@gmail.com, banni...@rediffmail.com, bhatk...@yahoo.com, Aziz burny, chiefeditor, The Siasat Daily, Urdu Daily AAG, Daily Etalaat Srinagar, dailykai...@gmail.com, daily roshni, daily...@gmail.com, daurejad...@gmail.com, deputych...@aalmiakhbar.com, dire...@ncpul.in, Dr Hamidullah siddiqui, ed...@milligazette.com, editor, edi...@newsinkhabar.com, edi...@qaumitanzeem.com, editor, Chattan Chattan, edit...@yahoo.com, editoruzma, farzan_...@yahoo.co.in, ghalib...@rediffmail.com, hindust...@gmail.com, Husain Afsar, idara...@yahoo.in, imam...@webdunia.com, uniurduservice <uniurduservice@gmail.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>,salimsiddiqui1962@gmail.com, izhar1975@gmail.com, hamarasamaj <hamarasamaj@gmail.com>, hindustanexpressdaily <hindustanexpressdaily@rediffmail.com>, hindustanexpressdaily <hindustanexpressdaily@gmail.com>, urdusahafat <urdusahafat@gmail.com>, mashriq786 <mashriq786@rediffmail.com>, mashriq92@gmail.com, Anjum Jafri <anjumjafri786@gmail.com>, shakeelshamsiinquilab@gmail.com, mashriquiawaz <mashriquiawaz@yahoo.com>, urdunetdaily@yahoo.com,khurramammar@yahoo.co.in, Shahnawaz Khurram <ncpulsaleunit@gmail.com>, Meri Manzil <manzil.meri@gmail.com>, zia.haq@hindustantimes.com,ziasalam@gmail.com, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>,imranjnu3@gmail.com, Jadid Khabar <jadidkhabar@gmail.com>,khabardaar@yahoo.com, P.Kareemullah Khan, Urdu Daily <indinon@gmail.com>,, ahrar india <ahrarindia@gmail.com>,, Jadeed Markaz <jadeedmarkaz@gmail.com>,, Azad Featuresindia <azadfeaturesindia@gmail.com>,, siyasatkijung.daily@gmail.com,, shakeel ansari sitapur9005742069 <zameereawadhjadid@gmail.com>,, urdupower.com<jawwab@gmail.com>,, www.dailytaskeen.com <dailytaskeen@gmail.com>,, A S Sheikh <sheikh.subhan@gmail.com>,, urdu <urdu@chauthiduniya.com>,,jasarat_times@yahoo.co.in,, Indian Muslim Observer <indianmuslimobserver@gmail.com>,, md wasim abbas <lohooqalam@gmail.com>,, Nawai Duggar <nawaiduggar@gmail.com>,,inderpix@ymail.com,, editor@harpalonline.com,, Har Pal Online Urdu News Portal <infoharpalonline@gmail.com>,, Bilal Bashir Bhat <bilalbashirbhat@gmail.com>,, abul aas <khushbuehind@gmail.com>,, hakeem shakir m.a <thesalaamati_urdudaily@yahoo.com>,, column pudt <, in...@ians.in, in...@urdutahzeeb.net, in...@watannews.dk, inqu...@editor.com, inquilabglb, iqbal...@rediffmail.com, iqd...@yahoo.com, irfan...@indiatimes.com, iteha...@yahoo.com, jadeedmail.@gmail.com, jadeedmail, jahan...@yahoo.co.in, jannat...@rediffmail.com, Urdu Daily <indinon@gmail.com>,, ahrar india <ahrarindia@gmail.com>,, Jadeed Markaz <jadeedmarkaz@gmail.com>,, Azad Featuresindia <azadfeaturesindia@gmail.com>,, siyasatkijung.daily@gmail.com,, shakeel ansari sitapur9005742069 <zameereawadhjadid@gmail.com>,, urdupower.com<jawwab@gmail.com>,, www.dailytaskeen.com <dailytaskeen@gmail.com>,, A S Sheikh <sheikh.subhan@gmail.com>,, urdu <urdu@chauthiduniya.com>,,jasarat_times@yahoo.co.in,, Indian Muslim Observer <indianmuslimobserver@gmail.com>,, md wasim abbas <lohooqalam@gmail.com>,, Nawai Duggar <nawaiduggar@gmail.com>,,inderpix@ymail.com,, editor@harpalonline.com,, Har Pal Online Urdu News Portal <infoharpalonline@gmail.com>,, Bilal Bashir Bhat <bilalbashirbhat@gmail.com>,, abul aas <khushbuehind@gmail.com>,, hakeem shakir m.a <thesalaamati_urdudaily@yahoo.com>,, column pudt <, MD JASIMUDDIN, jay...@yahoo.com, kaina...@yahoo.co.in, kbnt...@yahoo.com, khaba...@bol.net.in, khurs...@sify.com, maheshar...@yahoo.com, maheshard...@yahoo.com, mahnam...@yahoo.com, marka...@yahoo.com, OTHER REPORTER AKHBHAR-E-MASHRIQ, mas...@rediffmil.com, mashriqu...@yahoo.com, masoom moradabadi, media...@rediffmail.com, millat...@rediffmail.com, mohd.ahtes...@etv.co.in, msh...@rediffmail.com, munsifdaily, Nadia Times, Naisa...@yahoo.com, naya...@yahoo.com, Urdu Daily AAG, newsb...@etemaaddaily.com, paig...@yahoo.com, pinda...@yahoo.co.in, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, ra...@aalmiakhbar.com, rabta...@gmail.com, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, roznamadaily, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, sadae...@rediffmail.com, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, sahafatmumbai, sahaf...@yahoo.com, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, Qasim ansari09 <qasim.ansari09@gmail.com>, qaumitanzeem patna <qtdpatna@gmail.com>, <qtdranchi@yahoo.com>, <rahberindi@rediffmail.com>, <rahemanzil@hotmail.com>, <rahmansz@yahoo.com>, rsahara <rsahara@rediffmail.com>, <rsahara@del2.vsnl.net.in>, <s-misbahi60@rediffmail.com>, saba Prabhat <sabaprabhat@gmail.com>, Sada-e-Hussaini (Daily) <sadaehussaini@yahoo.com>, sadae watan <sadaewatan583@gmail.com>, Saeban Urdu <saebanurdu@rediffmail.com>, <saeban-urdu@yahoo.com>, <saebanurdu@gmail.com>,<saharaurdumumbai@yahoo.co.in>, <saher92@gmail.com>, <sajidrasheed@rediffmail.com>, <salafiah@hotmail.com>, <salarehindsalarehind@yahoo.co.in>, <salarpublications@tuchtelindia.n, salarehindsalarehind, salarpub...@tuchtelindia.net, sam...@yahoo.com, sanga...@yahoo.com, sangampatna, sarwa...@hotmail.com, sarw...@yahoo.com, Saz_e_d...@yahoo.com, shaairu...@yahoo.co.in, shahab....@gmail.com, shama...@yahoo.com, siasat...@yahoo.com, siasat_b...@yahoo.com, siy...@rediffmail.com, siyas...@yahoo.com, siyasiuf...@yahoo.co.in, srinag...@yahoo.com, Subheinq...@yahoo.com, sudhi...@ignou.ac.in, TAHAFUZMILLZT, tahre...@gmail.com, talee...@rediffmail.com, tarkashq...@yahoo.com, times.shi...@hindustantimes.com, uniurdu...@gamil.com, urdu_media, urduacad...@yahoo.co.in, urdumedia12, urdutimes, Urduimes, waraq...@rediffmail.com, waraquetazadaily, wazaha...@sify.com, yogi, yojna...@yahoo.co.in, zehne...@gmail.com, a majid nizami, Aaj ki khabar, Aalami Urdu, Abdul Hai, ABDUL NASEEM, Abdul Noor Shibli, abdussalam asim, abgeena jmi, Advocate Altaf Hussain Janjua, afzal Khan, Aijaz .Shaheen, ajmal saeed, Akhbar Mashriq, aliaziz khan, alishahzad khurram, Alyaum daily, Andalib urdu, Anjum Jafri, Anwarul Haq, Arif Nisar, Asfar Faridy, Ashraf Ali, Asia Times, Atta-ur Rehman Khan, AvadhNama, Avadhnama Aligarh, Azad Hind Daily, Aziz Burney, Bari Masoud, danish iqbal, DAUR-E-JADEED JADEED, Editor Alsafa, ekramuddin, Fay Ejaz, Fazil Parvez, Hamara Maqsad, Hamara Samaj, hamarasamaj, hindustanexpressdaily, hindustanexpressdaily, indianawaaz, inquilab urdu daily, Irfan Mazhari, jadeed amal, Jadeed Markaz, Jadid Khabar, Jageewan Y, Jamshed Rahmani, javed farooqui, khalid anwar, khalid anwar, Khwaja Ekram, Kuldip Nayar, Masarrat weekly, masarrat_weekly, mashriq786, mashriquiawaz, MD RAZA FARAZ, Md.Adil, meem afzal, Meri Manzil, Mohammad Umar Qadri, MOHAMMED MOHSIN, Mohd Shamim Akhtar, Monthly Al-Hayat, Munsif Hr, Nand Vikram, Naseem Arifi, P.Kareemullah Khan, Paigham Madre Watan, Prasoon Srivastava, Qasim ansari, qaumitanzeem patna, Roznama Awam, ROZNAMA KHABREIN,NEW DELHI, rsahara, saba Prabhat, Sada-e-Hussaini (Daily), sadae watan, sadaeansari sadaeansari, Saeban Urdu, sahafat urdu daily, Saira Aslam, Salman Abdus samad, Sangam Patna, Seerat Society, Shahid Sarwar, Shahnawaz Khurram, shakeelhshamsi, shoeb khusro, siyasat jadeed, siyasiufuque siyasiufuque, Syed Fazil Hussain Parvez, UDAAN JAMMU, United News of India, uniurduservice <uniurduservice@gmail.com>, rsahara <rsahara@, uniurduservice <uniurduservice@gmail.com>, rsahara <rsahara@, uniurduservice, izha...@gmail.com, urdusahafat, mash...@gmail.com, shakeelsha...@gmail.com, urdune...@yahoo.com, khurra...@yahoo.co.in, zias...@gmail.com
click and see.
http://merajnoorie.blogspot.in/

--


Kindly Find Attechment

Meraj Noorie

Sub Editor

Urdu daily INQUILAB

Contact No :- +919015863850

Blog:-www.merajnoorie.blogspot.com

website:-www.inquilab.com

Arshad Mansoor

unread,
Jan 1, 2016, 8:24:09 AM1/1/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Inline image 2

--

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Jan 1, 2016, 9:18:27 AM1/1/16
to Khadi Ali Hashmi<

تصویریں ساری دیکھی میں نے جناب نوری
سمجھا نھیں میں اب تک کیا تھی مری ممجبوری
جو دیکھتا رھا تھامیں خوا مخواہ ان کو
 یا آپ ھی بتا یئن پھر آپ کی مجبوری
مجھ کو بنایئں ؐمحرم پوشیدہ راز اپنے
 تصویریں بھیجنا ھی کیوں اتنا تھا ضروری 
 

On Thu, Dec 31, 2015 at 8:16 PM, Meraj Noorie <mer...@gmail.com> wrote:

--

Muhammad Syed

unread,
Jan 4, 2016, 1:40:38 PM1/4/16
to bazme qalam
Date: Mon, Jan 4, 2016 at 6:53 PM
Subject:
To: Muhammad Syed <mmsye...@gmail.com>

Jb Aali

Mashhoor Shayer Tahir Jamil marhoom ki kitab per mera tabserah hazire khidmat hai. Shukriyah


Mukhlis

Muhammad Mujahid Syed
Jeddah KSA
mms- adab.jpg

Qalamqaflapakistan Kharian

unread,
Jan 6, 2016, 8:58:19 AM1/6/16
to bazme...@googlegroups.com
Gu2.jpg

Khalid Zahid

unread,
Jan 9, 2016, 6:34:18 AM1/9/16
to bazmeqalam, muslimindians, Moderat...@yahoogroups.com

Dr Ozair Ghazi

unread,
Jan 15, 2016, 2:52:14 PM1/15/16
to bazme...@googlegroups.com

سلام علیکم نہیں بلکہ "السلام علیکم" صحیح لفظ ہے
Dr Ozair Ghazi

SAHEB HASAN

unread,
Jan 15, 2016, 10:58:54 PM1/15/16
to BAZMe...@googlegroups.com

دونوں میں فرق کیا ہے؟ واضع کیجے.پلیز

Saheb Hasan
editor
president:  Urdu Foundation
cell: 9004000252 / 9867861713
skype: taryaq1

On 16 Jan 2016 1:22 am, "Dr Ozair Ghazi" <dro...@hotmail.co.in> wrote:

سلام علیکم نہیں بلکہ "السلام علیکم" صحیح لفظ ہے
Dr Ozair Ghazi

--

umar shaikh

unread,
Jan 16, 2016, 5:10:56 AM1/16/16
to BAZMe...@googlegroups.com

ایران اور سعودی عرب کی خلش نے عالم اسلام کو دو خانوں میں تقسیم کر دیا

عمر فراہی
umarf...@gmail.com

نئےسال کے دوسرے ہی دن سعودی مملکت  نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث 47 سیاسی مجرموں کا سر قلم کرواکر اپنی  عوام کو یہ پیغام دینےکی کوشس کی ہے کہ سعودی عربیہ تیونس, مصر اور لیبیا نہیں ہے اور حکومت کسی بھی طرح کی بغاوت اور سیاسی جدوجہد کو سختی کے ساتھ کچلنے کا عزم رکھتی ہے -سعودی مملکت کے ذریعے سزا دیئے جانے والے ان 47 مجرموں میں ایک شیعہ عالم دین باقر النمر کی موت پر ایران نے احتجاج اور مظاہرے کا جو رخ اختیار کیا ہے عالم اسلام میں ایران کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے کہ وہ اب صرف خالص شیعی مفاد کا علمبردار ہے- حالانکہ ایران اور ایران نواز دانشوروں کی دلیل یہ ہے کہ وہ اس تنازعے سے شیعہ سنی تفریق نہیں پیدا کرنا چاہتے بلکہ ان کا احتجاج سعودی مملکت کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہے جبکہ اگر وہ کسی بھی ظلم اور حکومتی جبر کے خلاف عالم اسلام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے تو ان کے اس احتجاج کی شدت بنگلہ دیش اور مصر کے اسلام دشمن حکومتوں کے خلاف بھی ظاہر ہونی چاہیے تھی جہاں اسلام پسندوں کو پابند سلاسل اور تختہ دار پر چڑھایا جارہا ہے- سچ تو یہ کہ ایران اگر عالم اسلام کے ساتھ ہمدردی, یکجہتی, مساوات اور اخوت اسلامی کے جذبات سے لبریز ہوتا تو اسلام پسندوں کے خلاف شام کے ظالم وجابر حکمراں بشارالاسد کی بھی مدد نہ کرتا - یہاں پر بھی ایران نوازوں کا کہنا ہے کہ شام کا  حکمراں بشار الاسد چونکہ امریکہ اور اسرائیل کا مخالف رہا ہے اس لئے اسلام پسندوں کے مقابلے میں بشار کی حمایت کرنا جائز ہے ۔ جبکہ خود بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے شامی عوام اور اسلام پسندوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی سے کم نہیں ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علویوں اور صہیونیوں دونوں کا اپنا مقصد اور نصب العین اس کے سوا اور کچھ نہیں رہا ہے کہ پورے خطہ عرب سے اسلام پسندوں کا صفایا کردیا جائے ۔ایران کا یہ بھی کہنا ہےکہ اسد چونکہ بعثی کمیونسٹ عرب قومیت کا علمبردار اور استعماریت کا دشمن ہے اس لئے وہ فلسطین کا حمایتی اور اسرائیل کا دشمن ہے سراسر جھوٹ اور حق و باطل کی تلبیس کے مترادف ہے ۔ جبکہ  مشرکوں ،سرمایہ داروں اور کمیونسٹوں کا مذہب صرف اقتدار  ہوتا ہے اور یہ لوگ اپنے مفاد کیلئے کبھی بھی کسی کے ساتھ اپنی وفاداری بدل سکتے ہیں جو ہو بھی رہا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے اتحادی آج ایک دوسرے کے حریف ہیں  ۔ تعجب ہے کہ ایران جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا نظام تمدن و سیاست صرف اور صرف قرآن و سنت پر استوار ہے طاغوتی نظریے کو بھی اصولی کہہ رہا ہے ۔ جہاں تک فلسطین کا معاملہ ہے ہم نے دیکھا ہے کہ صدام حسین سے لیکر کرنل قذافی اور بشارلاسد سے لیکر ایران اور عرب کے حکمرانوں نے صرف اپنے اقتدار کیلئے فلسطینیوں کی مظلومیت اور ان کے خون کو اشتہار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ بھولی بھالی مسلمان قوم جو قبلہ اول کے تعلق سے بہت ہی حساس اور جذباتی ہے اور فلسطینی عوام سے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی ہے ان کی اخلاقی حمایت حاصل رہے ۔ مگر ان حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے نظریاتی مماثلت کا ثبوت دیتے ہوئے کسی ایسے اتحاد کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کی جو اسرائیل سے فلسطینیوں کی آزادی کیلئے میل کا پتھر ثابت ہو ۔ مگر اب جبکہ عرب بہار کے بعد عوامی بغاوت کی چنگاری شعلہ بن چکی ہے عرب حکمرانوں نے چونتیس مسلم ممالک کی فوج تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یہ لوگ عوامی بغاوت کو کچل سکیں اور ان کا اقتدار باقی رہے -خود ایران جو ایک زمانے سے اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے اس نے اس معاملے میں اس طرح سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسے کہ شامی حکمراں کو بچانے کیلئے اس نے اپنی ملیشیاؤں کے ساتھ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اور اب اس نے شام کے میدان میں اپنے اس دھرم کا پالن کرنے کیلئے ایک اسلام دشمن عالمی  طاقت روس کو بھی مدعو کر لیا ہے  ۔ جبکہ امریکہ اور روس کے حواریوں نے بھی اپنے احمق عرب دوستوں کو بیوقوف بنانے کیلئے مختلف معاہدات اور امن کی پیشکش کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو زندہ تو رکھا مگر کوئی ٹھوس حل نہیں نکال سکے- اور اب ایک نوزائدہ تحریک اور عرب نوجوانوں کی بیداری کو کچلنے کیلئے یہ تمام عالمی طاقتیں بھی میدان میں کود چکی ہیں- مگر اب حالات بدل چکے ہیں عرب بہار نے عرب کے ہی نہیں پوری دنیا کے مساوات (Equation )کو بدل دیا ہے ۔اگر انہوں نے عقل  سے کام نہیں لیا تو  وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہونگے اور جو نہیں مٹ سکتے اقبال نے ان کے بارے میں بہت پہلے ہی کہ دیا ہے کہ
یونان و مصر روما سب مٹ گئے جہاں سے
مٹتا نہیں ہے لیکن  نام و نشاں ہمارا
مستقبل کی صورتحال جو بھی ہو مگر ایران اور حز ب اللہ نے ایک ظالم ،جابر اور مکار حکمراں کی حمایت کرکے نہ صرف شام کے موجودہ بحران کو پیچیدہ بنادیا ہے بلکہ اس نے مرحوم آیت اللہ خمینی کی اس  روایت کو بھی نقصان پہنچائی ہے جو انہوں نے 1979 میں ایک پر امن انقلاب کے بعد قائم کی تھی- بدقسمتی سے اس روایت کے اصل قاتل ایران کے سابق صدر احمدی نژاد ہیں جنہیں عالم اسلام میں نہ صرف  عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا بلکہ آیت اللہ خمینی کی اسلامی روایت کا علمبردار بھی سمجھا گیا تھا  ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایران کے اس اسلام پسند رہنما احمدی نثراد نے ہی شامی حکمراں کے ساتھ شامی عوام کے قتل عام میں خود کو ایک فریق کے طورپر شامل کرکے عرب بہار کو ناکام کیا  اور اب یہ مسئلہ پوری ایرانی قوم کی انا کا سوال بن چکا ہے اور ایران اس شک و شبہات میں مبتلاء ہے کہ کہیں اسلام پسندوں کی یہ تحریک لبنان اور عراق تک طول پکڑ کر اس علاقے میں موجود شیعہ آبادی اوران کی حکومت کیلئے خطرہ نہ بن جائے ۔ یہ خدشہ بھی درست ہو سکتا ہے مگر اس کا حل بھی خالص قرآن وسنت کے احکامات پر یقین و عمل سے ہی نکالا جاسکتا ہے نہ کہ کسی ظالم  حکمراں کی مدد و حمایت سے جبکہ اس کا اپنا مستقبل بھی تاریک ہو ۔
ایران اور حزب اللہ کے اس ناقص فیصلے سے عالم اسلام دوخانوں میں تقسیم ہوچکا ہے  اور جو فائدہ عرب بہار سے عالم اسلام کو ہونا چاہئے تھا وہ ایک سیاسی کشمکش کا شکار ہو چکا ہے ،جس کا بہر حال فائدہ اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے ۔ یعنی ایران اور عراق کے درمیان خلیج کی پہلی جنگ میں جو غلطی سعودی عرب اور کویت نے امریکہ کی امداد لیکر کی تھی ایران کی موجودہ قیادت اور اس کے حمایتی شام کے اندرروس کی مداخلت کے ساتھ وہی غلطی دوبارہ دوہرا چکے ہیں مگر ایران یہ بھول رہا ہے کہ خلیج کی یہ جنگ ایک خالص علاقائی اور سیاسی کشمکش تھی اور ایران کے اس انقلاب سے عراقی حکمراں اور سعودی حکومت دونوں کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا ۔ جبکہ عالم اسلام کی جہاندیدہ شخصیات عمائدین کی جماعت منجملہ امت مسلمہ کو اس فساد سے دلی رنج پہنچا تھا ۔ خود بعد میں سعودی حکومت نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کیلئے شیعہ اور سنی کا مسئلہ کھڑا نہیں کیا اور مرحوم آیت اللہ خمینی نے بھی عراق ایران کی اس جنگ کو شیعہ اور سنی کے رنگ میں نہیں رنگنے دیا ۔ بعد کے حالات میں جب احمدی نژاد صدارت کے منصب پر فائز ہوئے تو انہیں بھی عالم اسلام میں شہرت اور عزت ملی اور امت مسلمہ نے اپنا قائد تسلیم کیا کیوں کہ وہ ایران کے دیگر صدور کے برعکس مرحوم آیت اللہ خمینی  کے زیادہ قریب رہے ہیں اور نظریاتی طور پر ان کی شخصیت شیعہ سنی اتحاد کی علامت کے طور پر مشتہر رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق خود سعودی عوام کی اکثریت نے احمدی نژاد کو عالم اسلام کی قیادت کا اہل قرار دیا تھا۔ خلیج کی اس پہلی جنگ کے دوران ہمارے سامنے سے ایک اچھی خبر یہ بھی گزرچکی ہے کہ سعودی عرب کے اس وقت کے حکمراں اور پاکستان کے فوجی صدر ضیاء الحق کے درمیان یہ خفیہ معاہدہ ہوا تھا کہ پاکستانی حکومت کسی بھی ناگہانی جنگی صورتحال میں سعودی حکومت کی مدد کریگی جسکے عوض سعودی عرب کی حکومت پاکستان کو ایٹمی اسلحہ کی تیاری میں مالی امداد فراہم کریگی ۔اس معاہدہ کے تحت خلیج کی اس جنگ کے دوران سعودی حکومت نے ضیاء الحق سے کہا تھا کہ وہ ایران سے قریب سعودی سرحد پر کچھ پاکستانی فوجوں کو تعینات کرے تاکہ عراقی فوجوں کی مدد کی جاسکے ۔ ضیاء الحق نے یہ کہتے ہوئے فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا کہ ہمارا معاہدہ کسی غیر مسلم ملک کی طرف سے ممکنہ حملے کی صورت میں طئے پایا ہے جبکہ ایران ایک مسلم ملک ہے اور یہ عربوں کا آپسی معاملہ ہے نہ کہ عالم اسلام کا ۔ یہ واقعہ کہاں تک سچ ہے یا کہاں تک جھوٹ مگر ایران ایک شیعہ ملک ہے سعودی عرب سنی ملک ہے اس کے باوجود اہل دانش اور تحریکی علماء کی یہ سوچ بالکل نہیں رہی ہے کہ دونوں میں کوئی تفریق کی جائے اور ہمارے درمیان مشرکین و ملحدین کو مداخلت کا موقع مل جائے جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے اور ہم آج پھر وہی حالات پیدا کررہے ہیں - اسی طرح کچھ سال پہلے جب  ایران کے جوہری پلانٹ کو لےکر امریکہ اور اسرائیل نے  بحران پیدا کیا تو عالم اسلام پوری طرح ایران کے ساتھ رہا ہے اس درمیان یہ بحث بھی چھڑی کہ اگر اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جنگی جہازوں کو ایران تک سفر کرنے میں ایک ہزار میل کا سفر طے کرنا ہوگا اور پھر اس درمیان اگر ایران نے خود اسرائیل کو نشانہ بنادیا تو صورتحال بہت سنگین ہو سکتی ہے ایسی صورت میں کیا سعودی عرب اس دوری کو کم کرنے کیلئے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود کے  استعمال کرنے کی اجازت دیگا ۔ اس خبر کے بعد نہ صرف سعودی حکومت نے اس کی تردید کی بلکہ ترکی اور پاکستان نے بھی جو کہ امریکہ کے دوست رہے ہیں ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو پڑاؤ دینے سے انکار کیا ۔اس کے برعکس ایران اور حز ب اللہ نے جو رخ اختیار کیا ہے یہ ایک ایسی سیاسی غلطی ہے جس کا خمیازہ پورے عالم اسلام کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اس طرح ایران نادانستہ  طور پر اسرائیلی منصوبے کو بھی تقویت پہنچارہا ہے اور یہ فیصلہ خود اس کے اپنے حق میں بھی نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جو غلطی سعودی حکمراں نے مصر میں کی ہے وہی غلطی ایران بھی دوہرا کر ایران اور سعودی حکومت مل کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کررہے ہیں -

عمر فراہی

Arshad Mansoor

unread,
Jan 16, 2016, 5:59:24 AM1/16/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Inline image 2

--

Nadeem Siddiqui

unread,
Jan 18, 2016, 8:41:54 AM1/18/16
to
 روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار۱۷جنوری۲۰۱۶۔ 2016ئ
مطلع:
” تخلیق ایک بے حد پیچیدہ اور طلسماتی عمل ہے۔ ضروری نہیں کہ فن کار کو تخلیق کے
 ہنگام، اپنے عمل کے تمام محرکات و عوامل کا علم او ر شعور ہو۔ تخلیق میں تو ہمارا پورا وجود
 شامل ہوتا ہے۔ شعور بھی اور لا شعور بھی۔ یہی نہیں بلکہ ہمارا معاشرتی اور اجتماعی شعور
 بھی اس عمل میں شامل ہوتا ہے۔“٭ ابو الخیر کشفی
خوشبو:
سرکار! آپ پر جو چھِڑکتے ہیں جان آج
بچ کر چلیں گے کل، یہ نمک خوار دیکھنا
بنیاد جس کی ہے، ہوسِ اقتدار پر
ہونے کو ہے وہ قلعہ بھی مسمار دیکھنا
ڈالا جو تم نے ہاتھ کلاہِ عوام پر
لگ جائےں گے سَروں کے بھی انبار دیکھنا
٭ر اغب مرادآبادی
انشائیہ:
 جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر 
٭محمداسداللہ(ناگ پور)
برسوں پہلے اقبال کی کسی نظم میں یہ مصرع پڑھ کر ہم سوچ میں پڑگئے تھے کہ علامہ کو آخر ہوا کیا ہے جو ایسی عجیب وغریب د ±عا مانگ رہے ہیں۔چند لمحوں کے لیے اِس انوکھی کلاس کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سا منے آگیا۔ایک بچہ ماسٹرکسی بزرگ کو اِس خطا پر مرغا بنائے ہوئے ہے کہ آں جناب اپنی عادت سے مجبور صحیح وقت پر اسکول کیوںآگئے ؟
دوسرا نوجوان ایک بزرگ ہشتادسالہ پر برس رہا ہے کہ کلاس میں بیٹھے کھانس کھانس کر ہماری نیند خراب کرتے ہو اور کوئی بڑے میاں اِس لیے عتاب کا شکار ہیں کہ ہوم ورک مکمل کرنے کی اتنی جلدی کیوں پڑی تھی، کیا وقت بھاگا جارہا تھا۔؟
اِدھر ایک بچہ پیر لب گور کو اٹھا رہ کا پہاڑہ پڑھا رہا ہے اور پلے گراو ¿نڈ میں ایک بچہ پی ٹی ماسٹر ایک حضرت کولگا تار دوڑارہاہے،موصوف دوڑتے کم ہیں ،ہانپتے اور کانپتے زیادہ ہیں اور اِس سے بھی زیادہ کھانستے جاتے ہیں۔فلم کی طرح چلنے والا یہ منظر جلد ہے آنکھوں کے آگے سے اِس طرح ہٹ گیا جیسے کوئی آرٹ فلم با کس آفس پر پٹ جاتی ہے۔
کل ہی کا واقعہ ہے ایک بچے کو دیکھا وہ اپنے دادا جان کو ایک موبائیل ہاتھ میں لیے یہ سمجھا رہا تھا کہ کسی کا نام اِس میں کس طرح saveکیا جاتا ہے اور فون mode silent میں چلا جائے تو اِسے گویائی کس طرح عطا کی جاتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں بچے کی تدریسی لیاقت سے زیادہ بڑے میاں کے علمی شوق اورتِکنیکی ذوق پر رشک آیا۔ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوا کہ جلد یا بد یر ہی سہی اقبال کی مذکورہ دُعا شرفِ قبولیت سے بہرہ وَر تو ہوئی۔
جس زمانے میں یہ مصرع س ±نا تھا ہم اقبال کے اِس قدر مداح تھے کہ ا ±ن کے کسی خیال سے اختلاف کا تصور بھی محال تھا۔وقت کے پل تلے بہت سا پانی اور بہت کچھ بہہ گیا اور اب جب کہ ہم بھی بزرگی کے علاقے سے قریب تر ہوگئے ہیں ،اِس وقت محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی کلیم الدین احمد اور یاس یگانہ کے modeمیںآگئے ہیں۔اب اقبال ہماری نظر میں اِس قدر بلند نہ رہے۔رہ رہ کر خیال آنے لگاکہ کیا ضرورت تھی ایسی نا معقول دُعا مانگنے کی۔مانا کہ بزرگوں نے عمر عزیزکا ایک بڑا حصہ گنوادیا ،تنخواہ سے پنشن پرآگئے ،دانت بینائی ،بال ،سوجھ بوجھ کھو بیٹھے قویٰ مضمحل ہوگئے،تاہم کیا اِن کے پاس جوانوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا؟جو بچوں کوآگے بڑھ کر ا ±نہیں درس دینے کی نو بت آگئی،اِس نکتہ پر بھی غور کر لیجئے ،آج کے بزرگوں کے پاس نوجوانوں کے لیے کیاہے؟دودھ سے جلے تجربات سے بر آمد شدہ چھانچھ کو پھونک پھونک کر پیتی ہوئی بصیرت ،وقت کے غاروں سے برسوں بعد باہر نکلے ہوئے ان اصحابِ کہف کے پاس اخلاقی قدروں کے وہ پرانے سکے ہیں جو رائج الوقت نہیں رہے۔کسی دانا کا قول ہے کہ ہر تیسری نسل اپنے اسلاف سے منحرف ہوجاتی ہے،اِس ریت گھڑی کو اُلٹ کر دیکھئے۔کیانوجوانوں کی عادات ،مرغوبات اور معتقدات بزرگوں کو قبول ہیں ؟اور یہ کوئی نئی بات نہیں ،یہ کہانی ہر دَور میں دُہرائی جاتی رہی ہے۔
اقبال کیا کہنا چاہتے ہیں ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں ،اقبال جو نصاب بزرگوں کو پڑھوانا چاہتے ہیں ،ہمارے نوجوان عام طور پر ا ±س سے دُور بھاگتے ہیں ،مگر عام معنوں میں نئی تکنیک اور ضروریات ِزندگی نے نوجوانوں کو اُستادی کے منصب پر فائزضرور کردیاہے ،کسی بھی صورت میں سہی اقبال کی دُعا قبول تو ہوئی۔پتہ نہیں کیوں میں یہ محسوس کرتاہوں کہ انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ بوڑھوں نے اپنی رستمی کے زَعم میں نو خیز سہرابوں سے ہار مانی ہومگر موبائیل ،کمپیوٹر ،سائنسی انکشافات اور زمانے کے نرالے اندازنے شاہ نامہ ¿ ایران کے اِس مشہور قصہ کاآخری حصہ بدل کر رکھ دیاہے۔
دراصل یہاںآنے والا ہر انسان اِس د ±نیا کو پکنک اسپاٹ سمجھتا ہے،وہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ حقیقتاًا ±سے یہاں سبق سکھانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔اسکول یا کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی اِسی قسم کی غلط فہمی ہوتی ہے کہ اب سیکھنے کا سلسلہ بندہوچکا،جولوگ تدریس کے پیشے میں جاتے ہیں اپنے اوپر لادی جانے والی ہر محکمہ جاتی ٹریننگ کے دوران اِس اذیت سے گزرتے ہیں ا ±نہیں رہ رہ کر احساس دِلاتی ہے کہ ہم تو ساری د ±نیا کو سکھاتے ہیں ،یہاں ہمیں کیوں پڑھایا جارہا ہے؟آدمی نہ سیکھنا چاہے تب بھی زندگی رنگ بدل بدل کر ہمیں نئے نئے سبق سکھاتی ہے۔ 
ہر دِن کتابِ زندگی بالکل ایک نئے صفحے کی طرح کھلتی ہے،ہر رات صفحہ ¿ ہستی کے بلیک بورڈ پر ستارے سجا کر نئی سمتوں کا پتہ دیتی ہے۔ہر صبح نئی منزلوں کی بشارت بن کر طلوع ہوتی ہے۔کالج سے لیاگیاآخری لیونگ سرٹیفک تو دُنیا کی طرح دھوکہ ثابت ہوتا ہے۔ کھیل کھیل میں سکھانے کا کام زندگی چپکے چپکے جاری رکھتی ہے اور انسان کوپتہ ہی نہیں چلتا کہ ا ±س کا ڈیتھ سر ٹیفکٹ ہی دراصل ا ±س کا لیوِنگ سرٹیفکٹ ہے۔٭
 ٭رابطہ:09579591149
کچھ بے ربط سی یادیں
 ماضی قریب ،ممبئی میں طنز ومزاح کے چند شعرا
ندیم صدیقی
(گزشتہ سے پیوستہ۔تیسری قسط)
حال ہی میں کچھ پرانی کتابیں ہمارے ہاتھ لگیں۔جس میں ایک شعری مجموعہ طنزو مزاح کا بھی ملا جس کا نام ہے ”نرم گرم“....اس کے شاعر ہیں محمد حنیف حریف فیض آبادی جو حریف کُرلوی کے نام سے بھی معروف تھے۔ان کے اس مجموعے میں دورِ قدیم (کُرلا ۔ ممبئی)کے مشہور اُستاد حضرت منیر الہ آبادی کی ایک تحریر شامل ہے جس پر 22دسمبر 1957ء کی تاریخ درج ہے۔اس کے تیسرے صفحے پر کرلا ہی کے مشہور شاعر محموددُرانی کاپیش لفظ بھی ہے جس میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ (حریف نے)مجھ سے مشورہ طلب کیا‘میں جھجکااس لیے کہ حریف صاحب آج بھی مجھ سے سِن وسال میں بڑے ہیں۔
دُرانی نے حریف کے کلام پر یوں کلام کیا ہے: 
”انہوں نے ہزل کے پردے میں کتنی سچی او رکام کی باتیں کی ہیں۔“
حریف کے کلام کو ہم نے بغوردیکھا توپتہ چلا کہ مرحوم ایک مشکل گو ہی نہیں تھے بلکہ پ ±رگوئی بھی ان کا خاصّہ تھا اور کوئی ہزل آٹھ نو شعر سے کم نہیں اور موصوف نے مشکل ردیفوںمیں بھی طنزومزاح کی خوب خوب گلکاریاں کی ہیں۔چندشعر:
حضرت ِواعظ! خیالِ حوروجنت ہے عبث
بعد مردن جو ملے ایسی مسرت ہے عبث
٭٭
پیر جی دِیجئے ایسا کوئی نیارا تعویذ
توڑ کر چرخ سے لادے جو ستارا تعویذ
جج پَہ فالج گرے وکلا کی زبانیں سڑ جائیں
کورٹ میں لے کے جومَیں جاو ¿ں تمہارا تعویذ
پچاس برس اُدھر حریف نے کیا سوچ کر یہ شعر کہا ہوگا؟
اِک نہ اک دن گوشت خوری ہند میں ہوگی حرام
آج ہی سے میم کو بھجیے کھلانا چاہیے
اس ہزل کا یہ مطلع بھی ہمیں اچھا لگا:
یوں شبِ دیجور کو روشن بنانا چاہیے
اپنی آہِ گرم کی مشعل جلانا چاہیے
اور حریف کُرلوی کی یہ تضمین بھی قابلِ داد ہے:
مغرب کے برانڈی بازوں سے مشرق کا شرابی کیاجیتے
”واں کنٹرسب بلوریں ہیں،یاں ایک پرانا مٹکا ہے“
مرحوم، زبان وبیان میں کتنے پختہ اور کتنے مشاق تھے ، اس مقطع پر قصہ ¿ حریف تمام ہوتا ہے:
کرے شکوہ حریف ان سے حقوقِ شوہری کا کیا
مدمّغ بیویاں شوہر کو کب شوہر سمجھتی ہیں
٭٭
فلم میں کام کرنے کا جنون بھی عجب مرض ہے اس کا شکار ہونے والوں میں ہم نے عام آدمی ہی نہیں خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی دیکھا ہے۔ ہم نے اپنی نوعمری میں ملیریا کی طرح ایک مرض کا نام سنا تھا جسے لوگ فلمیریا کہتے تھے اورکیسے کیسے لوگ اس مرض کے شکار ہوئے صرف اس پر لکھا جائے تو علاحدہ سے ایک طویل مضمون ہو جائے۔۔۔ وجیہہ نوجوانوں کو یہ مرض لاحق ہو تو عجب نہیں مگر وہ لوگ بھی فلم میں کام کرنے کے خواہاں نظر آئے جن کو دیکھ کر مسکرا نا تو کجاآپ کو رونا بھی نہ آئے۔ 
کوئی چالیس برس اُدھر کی بات ہے جب ہفتہ وار(اُردو ) بلٹز میں فلمی لوگوں کے حوالے سے ایک کالم چھپا کرتا تھا۔” گمشدہ ستارے“ اس میںفلم کے ایسے چھوٹے چھوٹے فن کاروں کے تعلق سے مضمون ہوتا تھاجو بالی ووڈ کے سنہرے خواب دیکھ کر گھر بار کو تیاگ دے چکے تھے۔ مگر پوری جوانی گزر گئی اورفلمی د ±نیا میں ا نھیں اپنے خواب کی تعبیر نہ ملنی تھی نہ ملی۔ اکثر لوگ ہیرو بننے کا خواب دیکھ کر نکلتے ہیں اور ہیرو تو جانے دیں فلمی د ±نیا کا ایک لفظ ہے’اِکسٹرا‘ ۔۔۔ وہ بھی نہیں بن پاتے۔ فلم میں کام کرنے والے ان لوگوں کو ایکسٹراکہتے ہیں جو بھیڑ بھاڑ کے مناظر یا اسی طرح کے دیگر مناظر میں کہیں نظرآتے ہیں۔ یا پھر کسی ڈائریکٹر کو کوئی معمولی سے کردار کیلئے کسی کی ضرورت ہو اور وہ ان سے کام لے لے۔ اکثر ہوتا تو یہ تھا( بلکہ اب بھی) کہ ڈائریکٹر یاپروڈیوسر کے کسی شناسا یا کسی رشتے دار کو یہ کام مل جاتا تھا/ مل جاتاہے۔ بلٹز کے اس کالم میں ہم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں پڑھا تھا جو لکھنو ¿ کے ایک مشہور خانوادے سے تعلق رکھتا تھا۔ ا ±ردو کے مشہور شاعرو نقاد نواب جعفر علی خاں اثر لکھنوی کے (رِشتے میں)بھانجے ہوتے تھے منوّرآغا، فلموں میں وہ ہیرو تو نہیں بنے البتہ چھوٹے چھوٹے کر داروں میں ہمیں ضرور نظرآئے ، منورآغا طنز و مزاح کے خود ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ’ مجنوں‘ تخلص کرتے تھے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ’ ا ±ن کی اماّں کے نام(1979 میں لکھنو ¿ سے)‘ شائع ہو چکا ہے۔ بلٹز کے ا ±س کالم میں انہوں نے اپنی فلمی جدوجہد اور فلم والوں کی بے ر ± خی نیز منفی رویوں کے پول کھولے تھے۔ بیچارے منورآغا مجنوں کو اگرکسی فلم میں کوئی نمایاں کام ملا تھا تو وہ فلم تھی۔ غزل‘۔ جس میں سنیل دت، مینا کماری ،رحمان، ناظمہ اورپرتھوی راج کپور جیسے اداکار شامل تھے تو ساحر لدھیانوی کے نغمے تھے۔ اس فلم میں ایک مزاحیہ کردار ادا کیا تھا منورآغا مجنوں نے، اور بھی فلموں میں کام کیا ہوگا مگر ہم نے انھیںآخری بار1972میں ریلیز ہو نے والی مشہورِ زمانہ فلم ’پاکیزہ‘ میں کمل کپور کے ساتھ دیکھا تھا۔فلم کے وہ ناظرین جو اِس موضوع پر اپنا حافظہ رکھتے ہیں ، نادرہ اور منورآغا مجنوں کا وہ سین نہ بھولے ہونگے جس میں نادرہ کے ایک مکالمے کے جواب میںمنورآغا مجنوں نے میر انیس کا یہ شہرہ آفاق مصرعہ:
 ”عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں“ 
 فرشی سلام کرتے ہوئے پڑھا تھا۔
منورآغا لکھنو ¿ میں فلم کے ہیرو بننے کا خواب دیکھ کر ممبئی آئے تھے عمر گزر گئی مگر وہ ہیرو تو نہیں بن سکے مگر تمام عمر کی جدو جہد کو انہوں نے اپنی شاعری میں بڑی خوبصورتی سے پیش کر دِیا ہے۔ ممبئی پر اُن کی ایک نظم اس شہرِ غدار کی نقاب کشائی بن گئی ہے۔ جسکے چند شعر ، قارئین کے تفنن ِطبع کیلئے یہاں پیش ہیں:
دیوانہ اپنا جس کو بناتا ہے ممبئی 
تگنی کا ناچ ا ±س کو نچاتا ہے ممبئی 
سوتے رہو کھلی ہوئی آنکھوں سے عمر بھر 
ایسے حسین خواب دِکھاتا ہے ممبئی 
 اہل ہنر کو خوب سا کستا بھی ہے ضرور
نخرے بھی اہلِ فن کے اُٹھاتا ہے بمبئی
بیساکھیاں لگا کے بھی بڑھتی نہیں ذرا
یوں زندگی کے پاو ¿ں تھکاتا ہے بمبئی
کیسا چڑھا چڑھا کے ملمع کبھی کبھی
ذرّے کو آفتاب بناتا ہے بمبئی
چل کر بساطِ زیست پَہ چالیں نئی نئی
فتنے قدم قدم پَہ اُٹھاتا ہے بمبئی
مکڑی کو مکّھی پھانستے دیکھا نہیں کبھی 
جالا لگا کے یوں ہی پھنساتا ہے ممبئی 
رہتے تھے ہوٹلوں میں جو شاہانہ ٹھاٹھ سے 
ہوٹل کا بَیرا اُن کو بناتا ہے ممبئی 
پھولوں کی سیج پر جنہیں ملتا نہ تھا قرار 
فٹ پاتھ پر ا ±نہی کو س ±لاتا ہے ممبئی 
لٹکا کے ا ±لٹا بیچ میں ا ±مید و یاس کے 
جھولا تمام عمر ج ±ھلاتا ہے ممبئی 
کہتے تھے اِک بزرگ ، عجب بات کہتے تھے 
کہتے تھے میرے خواب میں آتا ہے ممبئی 
مجنوں! کہیں یہ سرحد ملکِ عدم نہ ہو 
جاتا نہیں پلٹ کے ، جو آتا ہے ممبئی 
فلم کا خواب اتنا دلکش ہوتا ہے کہ لوگ اپنا انجام بھول جاتے ہیں اور ویسے بھی انجام کس کو یادآتا ہے۔!
 منور آغا مجنوں خوب کہتے تھے اور لکھنوی ادب و آداب کی ایک نمونہ تھی اُن کی شخصیت۔ مشاعرے میں شیروانی ، ٹوپی کے ساتھ آکے بیٹھے اور پھر مشاعرہ تین گھنٹے چلے یا چار گھنٹے پہلو نہیں بدلتے تھے۔ یہ سُنی سنائی نہیں چشم دید ہے۔
 ان کا ایک قطعہ ایک دُنیا میں مشہور ہے۔ کیا برا ہے کہ اس کا بھی آموختہ ہو جائے:
 ہم کو لاکھوں بھلے بُروں میں ملے
 اور ہزاروں بُرے بھلوں میں ملے
 جاہلوں میں نہیں ملے اتنے،
 جتنے جاہل پڑھے لکھوں میں ملے
 اسی طرح ان کے یہ چار مصرعے بھی بہت سو ںکو یاد ہیں:
 اِک وقت وہ تھا جب مجھے رہتی تھی یہ فکر
 مہماں کوئی آجائے تو کھانا کھاو ¿ں
اس دور پَہ لعنت ہوکہ اب سوچتا ہوں
یہ شخص چلا جائے تو کھانا کھاو ¿ں
٭ جاری ہے٭
ایوانِ غزل
روتی آنکھوں کو ہنسانے کا ہ ±نر لے کے چلو
گھر سے نِکلو تو یہ سامان ِ سفر لے کے چلو
اپنی پہچان کرانے کا سَلیقہ سیکھو
اپنی گردن پَہ کسی اور کا سَر لے کے چلو
بات ا ±جلی ہو تو سینوں میں ا ±تر جاتی ہے
بات کرنے میں ا ±جالوں کا اثر لے کے چلو
آفتیں تَاک میں پھرتی ہیں طَوائف کی طرح 
تم بھی آوارگی سیکھو ا ±نہیں گھر لے کے چلو
کیا پتہ اِس طرح بھر جائیں دَراڑیں دِل کی
اب اِدھر آئے ہو تو ا ±سکی خبر لے کے چلو
صِرف آکاش کی حَد تک تو سفر کرنا ہے 
اپنے ہمراہ سِتاروں کی ڈگر لے کے چلو
٭احمد وصی(ممبئی)
 رابطہ:09833094497
دور تک شہرِ بتاں ہے دیوتا کوئی نہیں
بھیڑ ہے جھوٹے خداﺅں کی خدا کوئی نہیں
پھر بنامِ شعر ، لفظوں کی سیاست چل پڑی
داد کا کہرام ہے اور سوچتا کوئی نہیں
ہیں صلیبِ وقت پر حالات کی مجبوریاں
سب کی اپنی بیڑیاں ہیں بے وفا کوئی نہیں
ہے مری فکرِ سخن کا اِک زمانہ معترف
اور منافق ایسا ہے کہ مانتا کوئی نہیں
اپنی شہرت کی حقیقت ہے تو بس اتنی سی ہے
جانتے سب ہیں مگر پہچانتا کوئی نہیں
جانے کس کی بددُعا ہے میری ملت پر ضمیر
راہزن ہی راہزن ہے، رہنما کوئی نہیں
٭ضمیر کاظمی(میرا روڈ)  
 رابطہ: 09768818688
روز ملتا ہے مگر چھوڑ بھی جاتا ہے مجھے
وہ ہر اِحسان کے بدلے میں رُلاتا ہے مجھے
میں نے پھولوں کی محبت میں جسے چھوڑا تھا
آج اس راہ کا ہر خار بلاتا ہے مجھے
دِل کا معصوم سا قصہ ہے سناو ¿ں کیسے
اس کا اِک تار بھی چھیڑوں تو رُلاتا ہے مجھے
ایک لوری تھی جو ہر رات سلاتی تھی مجھے
اب تو بے نام سا اِمکان جگاتا ہے مجھے
ایک پل ہی سہی بے چین تو ہوتا ہوگا
تیرا چہرہ تری پہچان بتاتا ہے مجھے
مَیں نے محتاط نگاہوں سے اسے دیکھ لیا
درد سہنے کا ہنر آج بھی آتا ہے مجھے
کوئی کتنا بھی کہیں پردہ نشیں ہو کوثر
اس کا احساس بہرحال ، ستاتا ہے مجھے
٭ریحان کوثر(کامٹی)
 رابطہ:09326669893 
بجھتے ہوئے دِیے کو ضرورت ہے تیل کی
کھا لیں گے روکھی سوکھی کسی دن طفیل کی
گر بننا چاہتے ہو تناور شجر بنو
ہوتی ہے زندگی کوئی ، کمزور بیل کی
آئے گا اونٹ نیچے کبھی تو پہاڑ کے
فی الحال تو اُسے ہے ضرورت نکیل کی 
ماتھے پَہ ہاتھ رکھتے ہو کھا کر شکست کیوں
آخر تم ہی نے کی تھی شروعات کھیل کی
رہنا ہے گر وطن میں رہو شوق سے مگر
پڑھ لو سبھی شرائط بھی تم درج ذیل کی
زاہد نے اس طرح سے گزاری ہے زندگی
جیسے صعوبتیں کوئی جھیلا ہو جیل کی 
٭ تجمل حسین زاہد( بھیونڈی)
 رابطہ: 09322648827 






--
NadeemSiddiqui
ltir page-17-Janu-16 copy.jpg
ltir page-17-Janu-16.pdf

omair manzar

unread,
Jan 21, 2016, 10:49:31 AM1/21/16
to bazmeqalam

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر ابوالکلام صاحب ہیں. اطلاعا عرض ہے

Taufiqansari

unread,
Jan 22, 2016, 1:22:48 AM1/22/16
to bazme...@googlegroups.com
Khani dil chooti hai.

Sent from my iPhone

Aalim Naqvi

unread,
Jan 27, 2016, 6:29:13 AM1/27/16
to BAZMe...@googlegroups.com, nehal sagheer, rasheed ansari
INTEZAR E MOSAM E GUL.inp

Arshad Mansoor

unread,
Feb 1, 2016, 9:52:11 AM2/1/16
to bazme...@googlegroups.com, Aligarh_...@yahoogroups.com, nrin...@googlegroups.com, adabd...@googlegroups.com
Inline image 1

mushtaque sadaf

unread,
Feb 9, 2016, 6:24:59 AM2/9/16
to
 
Mushtaque Ahmad
(Mushtaque Sadaf)
Programme Officer
Sahitya Akademi
Rabindra Bhavan
35 Ferozeshah Road
New Delhi-110001
Mob. : 09891471765


On Tuesday, 9 February 2016 4:47 PM, Raza <mus...@gmail.com> wrote:




mushtaque sadaf

unread,
Feb 10, 2016, 1:54:49 AM2/10/16
to Maula Bakhsh
 











Qalamqaflapakistan Kharian

unread,
Feb 10, 2016, 10:13:51 AM2/10/16
to bazme...@googlegroups.com
              غزل
 
میں اپنی بات پہ گل اپنی جان دیتاہوں 
میں جب کبھی بھی کسی کو زبان دیتا ہوں 

جو ظلم وجبر میں جینے کا حوصلہ رکھیں 
دل غریب میں اُن کو امان دیتا ہوں
 
اگر جوچاہو کہ تسخیر کر سکو مجھ کو 
فضائے دل! میں برائے اُڑان دیتا ہوں 

مرے وجود کو پیروں تلے کچلتا ہے 
وہ جس کو رہنے کو اپنا مکان دیتا ہوں 

کرے جوبات کوئی گل مرے تقدس کی 
شعورِ ذات میں اُس پر دھیان دیتا ہوں 

  بخشالوی            

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages