محترمی تنویر پھول صاحب
ای میل ملی،سورۃ النحل کا حوالہ فراہم کرنے پر آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ایک خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں،اس کے لیے یہ آیت کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔شاید اب کسی وقت لکھنے کا موڈ بن جائے۔آپ کے بھیجے ہوئے آپ ہی کے نئے لنک بھی دیکھے ہیں۔آپ کے مخصوص انداز کے عین مطابق ہیں۔(فرانسیسی مصنف کی کتاب ابھی نہیں دیکھ سکا)۔حالیہ کچھ عرصہ سے میرا ذاتی مسئلہ یہ ہے کہ میں عمومی طور پرکسی مخالف کو رد کرنے یا کسی اعتراض کے جواب میں دفاع کرنے کی بجائے جستجوکی طرف مائل ہوتا ہوں۔پھر اس عمل کے دوران جب انکشاف کا کوئی لمحہ نصیب ہوجائے تو اس کے نتیجہ میں ملنے والی مسرت آمیز حیرت ہی میری جستجو کا اجر ہوجاتی ہے۔قرآن شریف کی ایک اور آیت کی نشان دہی کر سکیں تو مزید ممنون ہوں گا۔ترجمہ قرآن پڑھتے ہوئے ایک بار کچھ ایسا پڑھا تھا کہ جب ایمان والے اپنے رب کی ران دیکھیں گے۔دیدارِ الہٰی کا عقیدہ تو واضح ہے تاہم ران کی زیارت کے معاملہ میں ابھی تک غیر واضح ہوں۔اگرایسا ہی ہے تو آیت کے حوالہ کے ساتھ اس کی تفسیر کا کوئی لنک بھی فراہم کیجئے جس سے اس کی تفہیم میں آسانی ہو سکے۔یہ کافی پرانی بات ہے،جب ترجمہ پڑھاتھا،ہو سکتا ہے مجھے ران کے لفظ کا مغالطہ ہو رہا ہو۔آپ کی طرف سے جواب آنے پر واضح ہو سکے گا۔اس تعاون کے لیے شکر گزار ہوں گا۔
اللہ آپ کو خوش رکھے اور صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔آمین۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی۱۶ نومبر ۲۰۱۵ءHaider Qureshi
................................................................................ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:https://de.scribd.com/haider_qureshi2000
Zindgi ka Yaadgar Safar: http://haiderqureshi-in-kolkata-delhi.blogspot.de/
Haider Qureshis Life Album: http://haiderqureshi-album.blogspot.de/
other Libraries of my and some of my friends Books
http://issuu.com/haiderqureshi...........................................Books,Mags,University Research Work
(Love acknowledgement):
http://work-on-haiderqureshi.blogspot.de/
https://archive.org/details/@work_on_haider_qureshi
Literary Journal:
http://jadeedadab.blogspot.de/On Monday, November 16, 2015 2:51 AM, Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:
محترم حیدر قریشی صاحبای - میل اور تاثرات کا شکریہ ۔ سب سے پہلے آپ نے جس آیت کا حوالہ دریافت فرمایا ہے ، وہ
سورۃ النّحل کی آیت نمبر 66 ہے یعنی 66 : 16دین ، اجتہاد اور سائنس کے حوالے سے راقم الحروف کی کچھ تحریریں ہیں جو آپ یہاں ملاحظہ
فرماسکتے ہیں :
http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7795
http://urdunetjpn.com/ur/2014/07/12/tanveer-phool-71/
http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7618ایک فرانسیسی دانشور ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب "بائبل ، قرآن اور سائنس" اس لنک پر موجود ہے
http://ia600708.us.archive.org/11/items/BibleQuranAurScienceByDr.MauriceBucaille/BibleQuranAurScienceByDr.MauriceBucaille.pdfانٹرفیتھ ریلیشنز کے حوالے سے جو آزاد انگریزی نظمیں میرے بلاگ میں ہیں ، اُن کو کرسچن کمیونٹی
نے سراہا ہے [لنک یہ ہے]
http://www.examiner.com/article/irvine-seminar-to-better-christian-muslim-relations-poems-on-interfaith-understanding-1ہندو مذہب اور اسلام کے حوالے سے یہ تبصرہ بھی دیکھئے :http://www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=2&t=7416 ہمیشہ دعا میں یاد رکھئے ۔ والسلامتنویرپھول ، نیویارک2015-11-15 3:23 GMT-05:00 haider qureshi <haider_qu...@yahoo.com>:محترمی تنویر پھول صاحب
آپ کی چودہ نومبر کی ای میل ملی،شکریہ۔آپ کے ارسال کردہ اردو لنک بھی ایک نظردیکھے۔آپ جس انداز سے مذہبی فرمودات کو دیکھ رہے ہیں،یہ اپنے اپنے مذہب و مسلک کے اندر رہتے ہوئے اس کی تفہیم کا ایک مناسب طریق ہے۔ایک زمانے میں مجھے بھی اس کا شوق رہا ہے۔ ایک سچا پیروکار ہمیشہ اپنے عقائد کا تابع ہوتا ہے۔یہ تابعداری ایمان کی پختگی کا باعث تو ہوتی ہے لیکن اس سے آزادانہ غور و فکر کرنے کی گنجائش بہت کم ہو جاتی ہے۔ سائنس؍فلسفہ کی دنیا میں آزادانہ غور و فکرکی ساری راہیں کھلی ہوتی ہیں۔بندہ چاہے تو فکری ارتقاء کے ذاتی تجربے کرے اور دنیا کو بھی اس میں شریک کرلے اور چاہے تو ویسے ہی فلسفے کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے اوردنیا کو بھی گمراہ کرے۔مغربی دنیا کے سائنس اور فلسفہ کے آزادمفکرین کے برعکس مسلم دنیا میں فلسفیوں سے زیادہ متکلمین پیدا ہوئے کیونکہ وہ پہلے سے اپنے مسلک کی صداقت کو مان کرپھر نئے افکار کو اپنے مسلک سے ہم آہنگ کرنے کی کاوش کرلیا کرتے تھے۔علامہ اقبال تک زیادہ تر یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔
میں سائنس اور فلسفہ دونوں سے نابلد ہوں۔تاہم جدید تر ایجادات،جدیدترین انکشافات اور ان سب میں ہوتی ہوئی مسلسل پیش رفت کے باعث تھوڑا بہت غور و فکر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔تھوڑی دور تک آزادانہ طور پر سفر کرتا ہوں لیکن شاید پھرگھبرا کر جلدی واپس لوٹ آتا ہوں۔ہم لوگ اپنی بچپن کی تربیت اور اپنے ماحول کی عادت کے اتنے جکڑے ہوئے لوگ ہیں کہ بعض اوقات جان بوجھ کر نئے حقائق سے چشم پوشی کر جاتے ہیں۔
آپ کے ہاں اپنے عقیدے سے وابستگی کی جو نوعیت ہے،قابلِ قدر ہے۔اسی حوالے سے خیال آیا کہ قرآن شریف کی چند آیات کے حوالہ کے لیے آپ سے مدد لی جائے۔ایک بار ترجمہ پڑھتے ہوئے کچھ ایسا مفہوم سامنے آیا تھا کہ اللہ ہی ہے جس نے گوبر اور خون کے درمیان میں سے دودھ کی دھاریں نکال دی ہیں۔آپ قرآن شریف کا یہ حوالہ فراہم کر سکیں تو ممنون ہوں گا۔پھر ایسے ہی ایک دو اور حوالہ جات کے لیے بھی آپ کو زحمت دوں گا۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی۱۵ نومبر ۲۰۱۵ءHaider Qureshi
................................................................................ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:https://de.scribd.com/haider_qureshi2000
Zindgi ka Yaadgar Safar: http://haiderqureshi-in-kolkata-delhi.blogspot.de/
Haider Qureshis Life Album: http://haiderqureshi-album.blogspot.de/
other Libraries of my and some of my friends Books
http://issuu.com/haiderqureshi...........................................Books,Mags,University Research Work
(Love acknowledgement):
http://work-on-haiderqureshi.blogspot.de/
https://archive.org/details/@work_on_haider_qureshi
Literary Journal:
http://jadeedadab.blogspot.de/On Saturday, November 14, 2015 6:48 AM, Tanwir Phool <tan...@gmail.com> wrote:
محترم حیدر قریشی صاحبجواب ِ باصواب سے نوازنے کا شکریہ ۔ ایک نکتہ رہ گیا تھا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذکر ہے [ سورۃ البقرہ ، آیت نمبر 46]علاوہ ازیں سورۃ القیامہ ، آیت نمبر ۲۳ میں بھی یہی کہا گیا ہے ۔صحیح بخاری کی حدیث نمبر 764 میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم قیامت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیںگے ؟ تو جواب ملا کہ جب بادل وغیرہ نہ ہو تو چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ، اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھسکو گے ۔چند اُردو لنک آپ کی خدمت میں پیش ہیں ۔ اپنی گراں قدر رائے سے آگاہ کیجئے گا :سلام قبول کیجئے اور دعا میں یاد رکھئے ۔والسلام ، تنویرپھول [نیویارک]2015-11-13 2:03 GMT-05:00 haider qureshi <haider_qu...@yahoo.com>:محترمی تنویر پھول صاحبآپ کے تاثرات ملے،شکریہ۔آپ نے جن امور کی طرف توجہ دلائی ہے،بر حق ہیں۔شاید یہ باتیں کسی نہ کسی طور نذیر ناجی صاحب کو بھی معلوم تھیں اور تھوڑی بہت میرے علم میں بھی تھیں۔تاہم نذیر ناجی صاحب کے کالم اور ان پر میرے تاثرات میرے نزدیک یہ فکری معاملات صرف غور و فکر کے لیے ہیں۔بحث مباحثہ کے لیے نہیں ہیں۔آپ نے وحدتِ ادیان کے سلسلہ میں جو لنک بھیجا ہے، انگریزی میں ہے۔اردو میں ہوتا تو اس سے استفادہ کرتا۔ویسے جوانی کے آغاز ہی میں اردو میں غلام جیلانی برق صاحب کی ایک اسلام،ایک قرآن وغیرہ کتب پڑھنے کا موقعہ ملا تھا سو ان کا ایک تاثر ذہن پر موجود ہے۔آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنے انداز سے بعض نکات کی طرف توجہ دلائی۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
والسلام
آپ کا مخلص
حیدر قریشی۱۳ نومبر ۲۰۱۵ءHaider Qureshi
................................................................................ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:https://de.scribd.com/haider_qureshi2000
Zindgi ka Yaadgar Safar: http://haiderqureshi-in-kolkata-delhi.blogspot.de/
Haider Qureshis Life Album: http://haiderqureshi-album.blogspot.de/
other Libraries of my and some of my friends Books
http://issuu.com/haiderqureshi...........................................Books,Mags,University Research Work
(Love acknowledgement):
http://work-on-haiderqureshi.blogspot.de/
https://archive.org/details/@work_on_haider_qureshi
Literary Journal:
http://jadeedadab.blogspot.de/بہت بہت شکریہ جناب حیدر قریشی صاحبعلمی مکالمہ کے حوالے سے نذیر ناجی صاحب کے کالم اور آپ کی تحریرنے غور و فکر کی نئی راہیں کھولی ہیں ۔ قرآن پاک میں اکثر مقامات پر اہلِ جنتاور اہلِ دوزخ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے "ھم فیھا خالدون" [وہ ہمیشہ اسمیں رہیں گے] اور اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے ضمیرِ مذکّر استعمال کی ہے ، ضمیرِ مونثنہیں ۔ نفسِ امٰارہ ، نفسِ لوامہ اور نفس مطمئنہ تینوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور آپنے "الٰمّ" کے حوالے سے خوب نکتہ نکالا ہے ۔ راقم الحروف کا یہ شعر بھی دیکھئے :دل نے کہا ، ہے راز " الف لام میم " میںاللہ کا کلام محمد[صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم] کے نام ہےجوش ملیح آبادی کا ایک شعر ہے : شیطان نے گمراہ کیا ہے سب کوشیطان کو گمراہ کیا ہے کس نے؟اِس کا جواب دیکھئے : نفسِ امّارہ نے تھا شیطان کو بہکا دیاتیرے دو دشمن ہیں اِس دنیا میں،غافل مت ہو یاںآپ نے آخر میں اتحادِ بنی آدم کی جو بات کی ہے اُس کے حوالے سے یہ لنک اور سب لنکسضرور ملاحظہ فرمائیے :والسلام،تنویر پھول [نیویارک]2015-11-12 2:35 GMT-05:00 haider qureshi haider_qu...@yahoo.com [urdu_writers] <urdu_write...@yahoogroups.com>:نذیر ناجی صاحب کے تین کالمحیدر قریشی.........................................................................................................................(نذیر ناجی صاحب نے ایک ہی موضوع پر لکھے گئے اپنے تین کالموں میں،یا ایک ہی کالم کی تین اقساط میں روایتی کالم نگاری سے ہٹ کر علمی مکالمہ کی راہ نکالی تھی۔ان کالموں کو پڑھنے کے بعد میں نے ان کی خدمت میں یہ خط نماردِ عمل بھیجاتھا۔قارئین کرام نذیر ناجی صاحب کے زیر گفتگو تین کالم یا ایک ہی کالم کی تین اقساط ان تین لنکس پر مطالعہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کسی بحث یا مناظرہ کا مقام نہیں ہے،صرف اپنے اپنے طور پرمزید غور و فکرکرکے سنجیدہ علمی مکالمہ کی گنجائش پیدا کرنامقصودہے۔(ح۔ق).......................................................................محترمی ایڈیٹر صاحب روزنامہ دنیالاہورسلام مسنون’’نظریہ اور جغرافیہ دونوں کو خدا حافظ‘‘کے زیرِ عنوان نذیر ناجی صاحب کے تین کالم (مطبوعہ روزنامہ دنیا 7,6,4 اکتوبر2015)مسرت آمیز حیرت کے ساتھ پڑھے۔صحافت کے خار زار میں کھو جانے والا تخلیق کاراپنے سارے فکری سرمایہ کی خوشبو کے ساتھ ان تین کالموں میں دکھائی دے رہا ہے۔ان تین کالموں میں نذیر ناجی صاحب کی زندگی بھر کی سوچ اورزندگی بھر کا مطالعہ جیسے ہم آمیز ہو گیا ہے۔سائنس،فلسفہ(یہ بھی سائنس ہی کی ذیلی شاخ ہے)،میٹا فزکس کے امتزاج نے بعض فکری گرہیں کھولی ہیں تومزید غور و فکر کے لیے بعض اچٹتے اشارے بھی دے دئیے ہیں۔انہوں نے اس سارے فکری تناظر میں تخلیقی عمل کی اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔یوں ان کے ہاں ادب،سائنس اور الہٰیات کا ایک دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملا ہے۔لیکن چونکہ بنیادی طور پر وہ اپنی صحافیانہ ذمہ داری نبھا رہے تھے اس لیے سارے غور و فکر کا رُخ سیاسی و سماجی سطح پر آج کے انسانی مسائل کی طرف موڑ دیا۔یہ بھی کارِ خیر ہی ہے اورمختلف علوم کے امتزاج کی برکت بھی کہ ان کے ذریعے آج کے عالمی سیاسی ومعاشرتی مسائل کے حل ڈھونڈنے کی کاوش کی گئی ہے۔ایسی باتوں پر مقامی یا عالمی مقتدر قوتیں اپنا دماغ نہیں کھپاتیں،وہ اپنی طاقت کے نشہ میں مست ہوتی ہیں۔تاہم معاشرے میں کسی نہ کسی سطح پر مزید غور و فکر کی تحریک ضرور ملتی ہے۔مجھے ان تین کالموں کے مطالعہ کے دوران کئی مقامات پر کہیں ہلکے سے اختلاف کی گنجائش محسوس ہوئی تو کہیں اسی منظر کا دوسرا رُخ دیکھنے(سوچنے)کا موقعہ ملا۔تاہم یہ اختلافی پہلو بھی نذیر ناجی صاحب کی سوچ ہی کی توسیع ہیں۔مولانا رومی کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ’’عشق عقل ہی کی اعلیٰ،برتر اور ترقی یافتہ صورت ہے۔‘‘نذیر ناجی صاحب نے مختلف مفکرین کی آراء سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے عقل استدلالی،عقل وجدانی اور عقل خالص کی جو درجہ بندی پیش کی ہے وہ قابلِ فہم ہے۔ اس سب کو اگر دماغ کی ہئیت اور کارکردگی سے منسلک کر دیا جائے تو ان باتوں کا سائنس سے تعلق واضح ہوجائے گا۔انسانی دماغ کا اسی ،نوے فیصد حصہ جو بظاہر خاموش پڑا ہوا ہے شاید وہی عقل وجدانی اور عقل خالص کامرکزی دفتر ہواورانسانی( روح کی) عقل کو روحِ اعظم کی عقلِ عظیم سے جوڑتاہو۔نذیر ناجی صاحب نے روح اور مادے کی دوئی کو رد کیا ہے۔یہ بڑی زبردست بات ہے۔روح مادے کے اندر موجود ہوتی ہے اور مادے کی پرتیں اتارنے لگیں تو ایٹم کے پارٹیکلز کے ابھی تک کے دریافت شدہ آخری سرے تک پہنچتے پہنچتے ہی ’’عدم‘‘ دریافت ہونے لگتا ہے۔ناجی صاحب نے اسے روح کہا ہے،وہ بھی تفہیم کے لیے ایک حد تک ٹھیک ہے۔مولانا رومی نے ارتقائے حیات کے جو چار مدارج بیان فرمائے ہیں(جماداتی،نباتاتی،حیوانی اور انسانی)،علامہ اقبال نے بھی انہیں اسی طرح خودی کی تعمیر میں شامل کر لیا۔انہیں علامتی پیرائے میں تو لیا جا سکتا ہے لیکن کرۂ ارض پر حیات کے ارتقاء کے حوالے سے اسے تسلسل کے طور پر لینا شاید ممکن نہیں رہا۔ہاں داخلی تعمیر کے سلسلہ میں ان مدارج کو بیان کیا جا سکتا ہے لیکن غور کیا جائے تو داخلی سطح پر یہ چار نہیں بلکہ تین مدارج بنتے ہیں۔نفسِ امّارہ،نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمئنہ۔قرآن شریف میں ان تین کیفیات کا ذکر موجود ہے۔بلکہ مجھے تو پہلے پارہ کے آغاز میں حروف مقطعات الم میں بھی ان تینوں نفسی کیفیات ہی کا سرا ملتا دکھائی دیتا ہے۔نذیر ناجی صاحب نے نور اور نار کا ذکر کیا ہے۔میں ایک عرصہ سے نور اور نار کے فرق کو سمجھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ایک دوست نے بتایا کہ نار جلا دیتی ہے جبکہ نور میں سے تپش منہا ہو جاتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ جس نور کی ہلکی سی تجلی نے کوہ طور کو جلا کر راکھ کر دیا،اس میں سے تپش کیسے منہا ہو گئی؟وہ دوست مسکرا کر رہ گئے۔ابھی تک یہی گمان کر پایا ہوں کہ جیسے بجلی سے ہیٹر بھی چلتے ہیں اور فرج اور فریزر بھی،اسی طرح نور اپنے اندرہر تخلیقی قوت لیے ہوئے ہے۔نذیر ناجی صاحب کے کالم میں حضرت ابن العربی کے ہاں فصوص الحکم میں اللہ تعالیٰ کی تجسیم میں مونث جہت کا ذکرپڑھ کر مجھے ہندو ؤں کے بھگوت پران یاد آگئے۔اپنی یادوں کے ایک باب میں ان کا ذکر کرچکا ہوں سو وہیں سے اقتباس یہاں درج کر دیتا ہوں۔مونث جہت کے حوالے سے یہ روداداپنی جگہ غور طلب بھی ہے اور دلچسپ بھی۔’’ہستیٔ باری تعالیٰ جو اس کائنات کی حقیقتِ عظمیٰ بھی ہے اور روحِ اعظم بھی،اصلاََ ہم اس عظیم ترین ہستی کو بھی اپنے معاشرتی رویوں کے حوالے سے دیکھتے یا سمجھتے ہیں۔جبکہ وہ ہمارے سارے تصورات اور قیاسات سے بالا ہے۔چونکہ ہمارا معاشرہ مردانہ بالادستی کا معاشرہ ہے اسی لیے خدا کے بارے میں بھی عام طور پر مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہمارے بر عکس قدیم ہندوستان کے مادری نظام کے اثرات کے نتیجہ میں ہندوؤں میں دیوتاؤں کے ساتھ دیویوں کا تصور بھی موجود رہا ہے۔شری دیوی ،بھگوت پُران میں خالقِ کائنات عورت کے روپ میں ہے۔ اس عقیدہ کے مطابق خالقِ کائنات شری دیوی اپنی تنہائی اور شدتِ جذبات سے مضطرب ہوئی تو اس نے اپنی ہتھیلیوں کو رگڑا۔اس کے نتیجہ میں ہاتھوں پر آبلے پڑ گئے،جو پھوٹ بہے تو پانی کا ایک سیلاب آگیا۔اس پانی سے برہما کی پیدائش ہوئی۔شری دیوی نے برہما سے جنسی ملن کی خواہش کا اظہار کیامگر برہما نے اسے اپنی پیدا کرنے والی کہہ کر اس عمل سے انکار کر دیا۔تب شری دیوی نے برہما کو فنا کر دیا۔ان کے بعد وشنو کو پیدا کیا گیا اور ان سے بھی وہی خواہش دہرائی گئی،وشنو نے بھی برہما کی طرح انکار کیا اور ان کو بھی برہماجیسے انجام سے دوچار ہونا پڑا۔وشنو کے بعد شنکر کا جنم ہوا۔شنکر اِن معاملات میں کافی معاملہ فہم نکلے۔انہوں نے دو شرطوں کے ساتھ شری دیوی کی بات ماننے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ ایک شرط یہ کہ برہما اور وشنو کو دوبارہ پیدا کریں اور ان کے لیے دو دیویاں بھی پیدا کی جائیں۔دوسری شرط یہ کہ شری دیوی خود دوسرا روپ اختیار کریں کیونکہ اس روپ میں بہر حال وہ ماں کا مرتبہ رکھتی ہیں۔چنانچہ شری دیوی نے برہما اور وشنو کو ان کے جوڑوں کے ساتھ دوبارہ خلق کیا اور خود بھی پاروتی کا دوسرا روپ اختیار کیا۔شنکر اور پاروتی کی داستان ہندؤں کے عقائد میں آج بھی کئی جہات سے اہمیت کی حامل ہے۔ہمارے پدری بالا دستی والے معاشروں میں خدا مردانہ صفات کا حامل دکھائی دیتا ہے تو مادری نظام کے قدیم ہندوستان میں خداکے عورت جیسے روپ کی بات دلچسپ ہونے کے ساتھ اپنے ثقافتی پس منظر میں قابلِ فہم بھی لگتی ہے۔باقی خالقِ حقیقی تو ہمارے ہر مردانہ و زنانہ تصور سے کہیں بلند و بالا ہے۔ یہاں تک کہ صفات بھی اس کو سمجھنے اور اس تک رسائی کا ایک وسیلہ تو ہیں لیکن اس عظیم تر حقیقت کے سامنے صفات بھی بہت نیچے رہ جاتی ہیں۔ صفات کا معاملہ یوں ہے کہ ذاتِ احد ہونے کے باوجود ہم صفات کے وسیلے سے اسے مخاطب کرتے ہیں۔مثلاََ:’’ اے میرے رحیم خدا ! مجھ پر رحم فرما‘‘کہیں گے۔رحیم خدا کی بجائے قہار خدا کہہ کر رحم نہیں مانگیں گے۔اسی طرح رزق مانگتے وقت رزاق خدا کہیں گے،جبار خدا نہیں کہیں گے۔علیٰ ھذالقیاس۔اب میرے سوچنے کا معاملہ یوں ہو جاتا ہے کہ بُت سامنے رکھا ہو یا ذہن میں بنایا ہوا ہو،اسے بُت ہی کہیں گے۔کہیں صفاتِ باری تعالیٰ کے معاملہ میں ہم بھی ذہن میں چھپائی ہوئی بت پرستی کا ارتکاب تو نہیں کر رہے؟اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکمِ اذاں لا الٰہ الا اللہ ‘‘(’’کھٹی میٹھی یادیں‘‘۔باب ’’زندگی در زندگی‘‘)نذیر ناجی صاحب نے تجسیم الہٰی کی نفی کی ہے لیکن اس کے لیے ’’شخصیت‘‘کا لفظ قبول کیا ہے۔شخصیت میں پھر صرف اللہ کا نام ہی نہیں دوسرے صفاتی نام بھی آتے جائیں گے۔ اوراسی گفتگو کے پس منظر میں جب نذیر ناجی صاحب نے لکھا:’’کائناتوں کی تخلیق سے پہلے خلا کو وجود میں لایا گیا ہوگا‘‘تو میرا ذہن کسی اور طرف نکل گیا۔یہاں بھی اپنی ذہنی کشمکش کو اپنی یادوں کے ایک باب سے ہی نقل کر دیتا ہوں۔’’ یہاں مجھے پاکستان سے سائنس کے ایک استاد ایم سلیم کی یاد آگئی۔پندرہ سولہ سال قبل ان کی ایک چھوٹی سی کتاب پڑھی تھی۔’’پُر اسرارکائنات کا معمہ‘‘۔اس میں کاسمالوجیکل حوالے سے بڑی زبردست معلومات درج کی گئی تھی۔لیکن میرے مطلب کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں خلا کی بعض صفات اور خدا کی صفات کا ذکر کیا گیا تھا۔میں نے خدا کو سمجھنے میں اس موازنہ سے زبردست استفادہ کیا۔پہلی سطح پر یہ موازنہ خدا کے بارے میں ہمارے معین تصورات پر کاری ضرب لگاتاہے۔لیکن میں نے (لا الہٰ۔۔) نفی کے اس مرحلہ سے گزر کر خدا کے بارے میں ایک برتر تصور (لا الہ الااللہ )تک رسائی حاصل کی۔نفی کا مرحلہ بجائے خود ایک دلچسپ سفر تھا۔خدا کی جتنی صفات ہیں انہیں ہم دو بڑے خانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ایک خانے میں وہ صفات آتی ہیں جو انسان میں چھوٹی سطح پر پائی جاتی ہیں اور خدا میں بہت بڑی سطح پر ان صفات کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔جیسے ربوبیت، رحیمیت، رحمانیت، قہاریت، جباریت وغیرہا۔ ان صفات کے علاوہ ایسی جتنی بھی صفات ہیں جو انسان میں تو نہیں پائی جاتیں لیکن وہ ساری صفات خدا کے ساتھ خلا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ایم سلیم نے مجھے ان صفات کا موازنہ کرکے ایک نئے فکری جہان کی سیر کرادی تھی۔چند مثالیں یہاں بھی درج کر دیتا ہوں۔۱۔خدا سب سے بڑا ہے۔اس کی بڑائی کی کوئی حد نہیں ہے۔خلا بھی ساری کائنات سے بڑا ہے۔جہاں تک مادی کائنات ہے،خلا موجود ہے اور اس سے سوا بھی خلا ہی خلا ہے۔۲۔خدا واحد ہے۔خلا بھی پوری کائنات میں ایک ہی ہے۔۳۔خدا کسی سے پیدا نہیں ہوا۔خلا بھی کسی سے پیدا نہیں ہوا۔۴۔خدا بے نیاز ہے۔اور بے نیاز کی تعریف یہ ہے کہ اسے کسی کی کوئی ضرورت نہ ہو لیکن سب کو۴۔خدا بے نیاز ہے۔اور بے نیاز کی تعریف یہ ہے کہ اسے کسی کی کوئی ضرورت نہ ہو لیکن سب کو اس کی ضرورت ہو۔اس مادی کائنات کو اپنے وجود کے قیام کے لئے خلا کی اشد ضرورت ہے۔لیکن خلا کو کسی کی نہ کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔۵۔خدا ہر جگہ موجود ہے اور ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ خلا بھی ہر جگہ موجود ہے اور ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ۔لیکن شاید اتنا کہہ دینے سے بات واضح نہیں ہو گی اس لئے اس سائنسی نکتے کی آسان لفظوں میں وضا حت کردینا ضروری ہے۔ ڈاکٹروزیر آغا سے زبانی طور پر بھی اور ان کی خود نوشت سوانح کے ذریعے بھی اتنا تو جان چکا ہوں کہ اگر کروڑوں نوری سال سے بھی زیادہ مسافت پر پھیلی ہوئی ساری مادی کائنات میں سے خلا کو نکال دیا جائے تو سارامادہ ایک گیند کے برابر یا اس سے بھی کم چمچ بھر رہ جائے گا۔بعض سائنس دانوں کے نزدیک اسے Compress کیا جائے تویہ اس سے بھی کم ہوکر سوئی کی نوک پر سما جائے گا ۔اگر کوئی اینٹی میٹر اس سے ٹکرا جائے تو یہ مادہ بھی گاما ریز میں تبدیل ہو کر غائب ہوجائے گا اور باقی صرف خلا رہ جائے گا۔اور خدا کی بجائے خلا کے لفظ سے بھی غالبؔ کا یہ شعر اپنے مفہوم میں غلط نہیں رہے گا۔نہ تھا کچھ، تو خلا تھا، کچھ نہ ہوتا، تو خلا ہوتاڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں، تو کیا ہوتا!شہ رگ سے قریب ہونے والی بات کی وضاحت رہی جا رہی ہے۔اسے بھی آسان لفظوں میں بیان کرنا ضروری ہے۔ایٹم کے اندر جو پارٹیکلز ہیں ان کے درمیان بھی خلا ہے۔پروٹون اور الیکٹرون کے درمیان خلا کو سمجھنے کے لئے یہ جان لیں کہ اگر پروٹون کا سائز ایک فٹ بال جتنا تصور کر لیا جائے تو اس سے الیکٹرون تقریباََ دو میل کی دوری پر ہوگا۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے وجود کے ہر ذرے میں خلا کس حد تک سرایت کئے ہوئے ہے اور اسی مناسبت سے وہ واضح طور پر ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے۔سو یوں ایک سطح پر فکری طورپر میرا مسئلہ یہ بنا کہ خدا کو اس کی صفات کے ذریعے جانا جائے تو انسانی صفات اور خلا کی صفات جیسی مشترکہ صفات کو چھوڑ کر کوئی ایسی صفت بھی ہونی چاہئے جو صرف خدا ہی کا امتیاز ہو۔اور وہ صفت کونسی ہے؟۔۔۔میری زندگی کا بیشتر عرصہ ایک شوگر مل میں مزدوری کرتے گزرا ہے۔وہاں لیبارٹری میں گرمیوں کے دنوں میں بہت ہی چھوٹے چھوٹے روشنی کے کیڑے آجاتے تھے(ان کیڑوں کے کچھ احوال کے لئے میرا ایک پرانا افسانہ’’پتھر ہوتے وجود کا دُکھ‘‘ پڑھئے)۔ان میں سے کوئی کیڑا اگر پوری شوگر مل کی حقیقت جا ننا چاہے تو یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔انسان کی حقیقت خدا کے سامنے کیڑے اور شوگر مل کی مناسبت جیسی بھی نہیں ہے۔لیکن پھر بھی انسان میں اپنے خالق و مالک کو جاننے کی جستجو تو ہے۔حضرت علیؓ کا ایک فرمان اس جستجو میں میری رہنمائی کر گیا۔کمال التوحید نفی عن الصفات۔۔۔توحید کی حقیقت اور کمال تب ظہور فرماتا ہے جب صفات کی بھی نفی ہوجاتی ہے۔یا یوں کہہ لیں کہ صفات بھی بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔اور اس حقیقتِ عظمیٰ کے سامنے صفاتی نام بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔پھر ایک حدیث شریف میں مذکور ایک دعا کے ذریعے بھی خدا کو جاننے کی جستجو کو تسکین سی ملی۔مسلم شریف کی اس دعا کا متعلقہ حصہ یہاں تبرکاََ درج کر دیتا ہوں۔اللھم ۔۔۔اسئا لک بکل اسمِِ ھو لک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احدا من خلقک اواستاء ثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القرآن العظیم ربیع قلبی اے اللہ !۔۔۔میں سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کے ساتھ جو تونے اپنے لیے پسند کیا،یا اپنی کتاب میں تونے اتارا ہے،یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے،یا اپنے علم غیب میں تو نے اسے اختیار کر رکھا ہے،اس بات کا کہ تو کر دے قرآن مجید کو میرے دل کی فرحت و خوشی۔گویا خدا کا کوئی ایک ایسا نام ابھی ہے جو بڑی بڑی صاحبِ عرفان ہستیوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘(’’کھٹی میٹھی یادیں‘‘۔باب ’’رہے نام اللہ کا!‘‘)نذیر ناجی صاحب نے اقبال کے حوالے سے تخلیقی گناہ کی جو بات کی ہے،مزے کی لگی ہے۔اسی طرح اقبال کے حوالے سے دوزخ کی اصلاحی کیفیت کا ذکر بھی دلچسپ بلکہ امید افزاء لگا۔اسے میں اپنے طور پر یوں سوچتا ہوں کہ روح خالص سونا ہے۔انسان اپنے گناہوں سے اس میں کھوٹ شامل کرتا جاتا ہے۔سو دوزخ ایسی کٹھالی ہو گی جس میں گناہوں کا سارا کھوٹ نکل جائے گا اور خالص سونے جیسی روح اپنے اصل مسکن میں بھیج دی جائے گی۔باقی واللہ اعلم۔خدا کا شکر ہے کہ نذیر ناجی صاحب نے اپنی اس تحریر کو ضائع نہیں کیا۔بے ساختہ لکھی گئی اس تحریر میں اگر کہیں ربط باہمی کی کوئی کمی رہ گئی ہے تو وہ بھی نذیر ناجی صاحب کے اخلاص کی مظہر ہے۔حقیقتاََ وہ ایسی کمی بھی نہیں ہے بلکہ فکری تسلسل میں ایک موضوع سے دوسری طرف جست بھرنے سے مشابہ ہے۔میں نے ان کے چند چیدہ چیدہ نکات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔اگر ہر اہم نکتے پر مکالمہ کرنے لگتا تو شاید ان کے تینوں کالموں سے زیادہ لکھنا پڑجاتا۔ان کا شکر گزار ہوں کہ ان کے کالموں نے مجھے اپنے سوالات کی روشنی میں مزید غور و فکر کی طرف مائل کیانذیر ناجی صاحب کے ان کالموں کا خلاصہ اتحاد آدم اور ارفع مذہب کے جس تصور کو اجاگر کر رہا ہے،وہ آج کے عہد کی ضرورت ہے۔خدا کرے کہ عالمی سطح پر ایسی سوچ توانا ہو سکے اور انسانیت کی سلامتی اور بقا کو لاحق خدشات دور ہو جائیں۔آمین۔والسلامحیدر قریشی(جرمنی)۷؍اکتوبر۲۰۱۵ءHaider QureshiRossertstr.6,Okriftel,6579 5Hattersheim,Germany.E-Mail:Tel.(Res.):0049-6190-930078.....................................................................................................................................................................................Haider Qureshi
................................................................................ITS ALL MINE OR ABOUT ME
My All Books in pdf files:https://de.scribd.com/haider_qureshi2000
Zindgi ka Yaadgar Safar: http://haiderqureshi-in-kolkata-delhi.blogspot.de/
Haider Qureshis Life Album: http://haiderqureshi-album.blogspot.de/
other Libraries of my and some of my friends Books
http://issuu.com/haiderqureshi...........................................Books,Mags,University Research Work
(Love acknowledgement):
http://work-on-haiderqureshi.blogspot.de/
https://archive.org/details/@work_on_haider_qureshi
Literary Journal:
http://jadeedadab.blogspot.de/__._,_.___
.![]()
__,_._,___
اسوقت مکہ مکرمہ میں ہو . الله سبحانه وتعالى سہیل صاحب کی مغفرت فرمائے، انکے درجات بلند کرے، انهیں اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. آمین
ممبئی پناہ دیتی ہے. میرے شہر میں خیر و شر آج بهی ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ آج بهی ایک مسلمہ حقیقت ہے.
مرزا
Sent from Outlook Mobile
The Story of Many Moons
·
MUHAMMAD MUJAHID SYED | ARAB NEWS
Published — Thursday 3 January 2008
Last Update 3 January 2008 3:00 am
IT seems that, due to an increase in interference from the East India Company in the daily affairs of the Mogul court and the princely states, much of Indian society was falling apart in the late 18th and 19th centuries. Shamsur Rahman Farooqui, the prominent Urdu critic, poet and novelist has recreated this lost society in a marvelous way and his 823-page novel, “Kai Chaand The Sare Aasman” is a readers’ delight.
The novel centers on Vazir Khanum (b, 1811), the youngest daughter of Muhmmad Yusuf Sadakar, an artisan of Kashmiri origin, who, along with his wife and two other daughters, lived in Delhi in the early 19th century. At that time, Delhi had developed a culture in which dancing girls were not merely tools for entertainment but were also repositories of language and culture. The feudal class sent its teenaged sons to the city so they could learn poetry and culture. Vazir, a comparative rebel among Muhammad Yusuf’s daughters, was much influenced by the lifestyle of her dancing girl grandmother and the older woman’s philosophy about the male-dominated world they lived in. The independent-minded girl chose to live with an Englishman, Edward Marston Blake, who was the assistant political agent in Jaipur. She had two children by him, Martin Blake or Amir Mirza and Sophia or Massih Jan or Badshah Begum. They plan to marry but Blake dies in a riot in 1830 and his family takes the children. The frustrated Vazir returns to Delhi where British Resident William Fraser, as well as Nawab Shamsuddin of Loharu State, are attracted to her. She prefers Nawab Shamsuddin and they then have a son, Nawab Mirza. Her choice sows the seeds of a bitter dispute between Fraser and Shamsuddin that ends with Fraser’s murder and later the execution of Nawab Shamsuddin.
After this tragedy she marries a minor official from Rampur state who also died and after his death, she marries Mirza Fakhru, third in line to the throne of the last Mogul Emperor Bahadur Shah Zafar.
Farooqui’s description of the encounter between Oriental and Western civilizations and the resulting culture shock is very interesting. The novel shows that the British, despite their many years in India, were the most hated people on Indian soil. Their rule of law was a farce and both Hindus and Muslims were afraid of the courts run by ruthless judges who had no respect for local customs. The East India Company, for its part, ran India whimsically with the help of the courts. Even the Indian feudals were unable to get justice from the courts because the interest of the British was supreme and it was upheld at any cost. Many times petitioners were unable to learn whether their petitions had reached the head of the British government in India. A wave of hate and unrest was gathering strength and would change Indian society and the Company’s rule forever.
This is not a historical novel but the characters are real and the events are in a historical sequence that highlights the actual conditions in Delhi and its residents during the last days of Mogul rule. Farooqui’s depiction of Vazir Khanum’s beauty and the many details of sexual encounters and the love scenes, reminds us of the Shakuntala of Kali Das and also of the Persian poet, Nizami Ganjawi. Farooqui has gone to great lengths in this regard. This Sanskrit and Persian tradition, sometimes though very detailed and delicate, is a special touch, because it gives a glimpse of the traditions, inclinations and decadence of the era.
Like Thomas Hardy, Farooqui presents a philosophy of matter and chance. The novel, at the very beginning, fills readers’ hearts with sorrow. The heroine Vazir Khanum faces one tragedy after another but her womanhood is praiseworthy in that not only with dignity and grace but also with great courage she accepts the divinely ordained scheme. She is of course a prisoner of her times but she is independent to some extent in comparison of other women of those times. She tries to gain her rights in this male-dominated world and wants to be in control of her destiny. A husband, for her, is revered as a breadwinner and protector but in her scheme of things, he is not her master. She does not hide her thoughts from her husband. This shows the strength of her character. She is faithful but independent. She never cheated any of her lovers or husbands. Despite what she is, she is unable to gain the sympathy of readers.
The other characters in this novel come and go. Sometimes they deliver the goods and sometimes not. Since Farooqui has adopted a Western style, the pattern of this novel is impressive but the real importance lies in the art of language. A voluminous novel, it has many characters of differing social, economic and educational backgrounds that span three centuries. British officers, Nawabs, craftsmen, nobles, poets and scholars speak different types of language. The reader gets acquainted with different provincial Urdu dialects. The influence of Braj, Awadhi, Rajasthani and Persian is impressive. Through this mastery of language, the novelist is able to put every character in his or her correct place. The novel’s whole mosaic dazzles the eyes of readers.
--
http://hudafoundation.org/
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
http://www.urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_Duniya.html
http://www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
To post to this group, send email to bazme...@googlegroups.com
بہت خوب حشمت جی
Saheb Hasan
editor
president: Urdu Foundation
cell: 9004000252 / 9867861713
skype: taryaq1

--
--
http://hudafoundation.org/
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
http://www.urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_Duniya.html
http://www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
To post to this group, send email to bazme...@googlegroups.com
<ghazaaaaaaaaaaal.gif>

Kindly Find Attechment
Meraj Noorie
Sub Editor
Urdu daily INQUILAB
Contact No :- +919015863850
Blog:-www.merajnoorie.blogspot.com

--
--

دونوں میں فرق کیا ہے؟ واضع کیجے.پلیز
Saheb Hasan
editor
president: Urdu Foundation
cell: 9004000252 / 9867861713
skype: taryaq1
سلام علیکم نہیں بلکہ "السلام علیکم" صحیح لفظ ہےDr Ozair Ghazi
--
ایران اور سعودی عرب کی خلش نے عالم اسلام کو دو خانوں میں تقسیم کر دیا
عمر فراہی
umarf...@gmail.com
نئےسال کے دوسرے ہی دن سعودی مملکت نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث 47 سیاسی مجرموں کا سر قلم کرواکر اپنی عوام کو یہ پیغام دینےکی کوشس کی ہے کہ سعودی عربیہ تیونس, مصر اور لیبیا نہیں ہے اور حکومت کسی بھی طرح کی بغاوت اور سیاسی جدوجہد کو سختی کے ساتھ کچلنے کا عزم رکھتی ہے -سعودی مملکت کے ذریعے سزا دیئے جانے والے ان 47 مجرموں میں ایک شیعہ عالم دین باقر النمر کی موت پر ایران نے احتجاج اور مظاہرے کا جو رخ اختیار کیا ہے عالم اسلام میں ایران کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے کہ وہ اب صرف خالص شیعی مفاد کا علمبردار ہے- حالانکہ ایران اور ایران نواز دانشوروں کی دلیل یہ ہے کہ وہ اس تنازعے سے شیعہ سنی تفریق نہیں پیدا کرنا چاہتے بلکہ ان کا احتجاج سعودی مملکت کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہے جبکہ اگر وہ کسی بھی ظلم اور حکومتی جبر کے خلاف عالم اسلام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے تو ان کے اس احتجاج کی شدت بنگلہ دیش اور مصر کے اسلام دشمن حکومتوں کے خلاف بھی ظاہر ہونی چاہیے تھی جہاں اسلام پسندوں کو پابند سلاسل اور تختہ دار پر چڑھایا جارہا ہے- سچ تو یہ کہ ایران اگر عالم اسلام کے ساتھ ہمدردی, یکجہتی, مساوات اور اخوت اسلامی کے جذبات سے لبریز ہوتا تو اسلام پسندوں کے خلاف شام کے ظالم وجابر حکمراں بشارالاسد کی بھی مدد نہ کرتا - یہاں پر بھی ایران نوازوں کا کہنا ہے کہ شام کا حکمراں بشار الاسد چونکہ امریکہ اور اسرائیل کا مخالف رہا ہے اس لئے اسلام پسندوں کے مقابلے میں بشار کی حمایت کرنا جائز ہے ۔ جبکہ خود بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے شامی عوام اور اسلام پسندوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی سے کم نہیں ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علویوں اور صہیونیوں دونوں کا اپنا مقصد اور نصب العین اس کے سوا اور کچھ نہیں رہا ہے کہ پورے خطہ عرب سے اسلام پسندوں کا صفایا کردیا جائے ۔ایران کا یہ بھی کہنا ہےکہ اسد چونکہ بعثی کمیونسٹ عرب قومیت کا علمبردار اور استعماریت کا دشمن ہے اس لئے وہ فلسطین کا حمایتی اور اسرائیل کا دشمن ہے سراسر جھوٹ اور حق و باطل کی تلبیس کے مترادف ہے ۔ جبکہ مشرکوں ،سرمایہ داروں اور کمیونسٹوں کا مذہب صرف اقتدار ہوتا ہے اور یہ لوگ اپنے مفاد کیلئے کبھی بھی کسی کے ساتھ اپنی وفاداری بدل سکتے ہیں جو ہو بھی رہا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے اتحادی آج ایک دوسرے کے حریف ہیں ۔ تعجب ہے کہ ایران جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا نظام تمدن و سیاست صرف اور صرف قرآن و سنت پر استوار ہے طاغوتی نظریے کو بھی اصولی کہہ رہا ہے ۔ جہاں تک فلسطین کا معاملہ ہے ہم نے دیکھا ہے کہ صدام حسین سے لیکر کرنل قذافی اور بشارلاسد سے لیکر ایران اور عرب کے حکمرانوں نے صرف اپنے اقتدار کیلئے فلسطینیوں کی مظلومیت اور ان کے خون کو اشتہار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ بھولی بھالی مسلمان قوم جو قبلہ اول کے تعلق سے بہت ہی حساس اور جذباتی ہے اور فلسطینی عوام سے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی ہے ان کی اخلاقی حمایت حاصل رہے ۔ مگر ان حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے نظریاتی مماثلت کا ثبوت دیتے ہوئے کسی ایسے اتحاد کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کی جو اسرائیل سے فلسطینیوں کی آزادی کیلئے میل کا پتھر ثابت ہو ۔ مگر اب جبکہ عرب بہار کے بعد عوامی بغاوت کی چنگاری شعلہ بن چکی ہے عرب حکمرانوں نے چونتیس مسلم ممالک کی فوج تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یہ لوگ عوامی بغاوت کو کچل سکیں اور ان کا اقتدار باقی رہے -خود ایران جو ایک زمانے سے اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے اس نے اس معاملے میں اس طرح سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسے کہ شامی حکمراں کو بچانے کیلئے اس نے اپنی ملیشیاؤں کے ساتھ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اور اب اس نے شام کے میدان میں اپنے اس دھرم کا پالن کرنے کیلئے ایک اسلام دشمن عالمی طاقت روس کو بھی مدعو کر لیا ہے ۔ جبکہ امریکہ اور روس کے حواریوں نے بھی اپنے احمق عرب دوستوں کو بیوقوف بنانے کیلئے مختلف معاہدات اور امن کی پیشکش کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو زندہ تو رکھا مگر کوئی ٹھوس حل نہیں نکال سکے- اور اب ایک نوزائدہ تحریک اور عرب نوجوانوں کی بیداری کو کچلنے کیلئے یہ تمام عالمی طاقتیں بھی میدان میں کود چکی ہیں- مگر اب حالات بدل چکے ہیں عرب بہار نے عرب کے ہی نہیں پوری دنیا کے مساوات (Equation )کو بدل دیا ہے ۔اگر انہوں نے عقل سے کام نہیں لیا تو وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہونگے اور جو نہیں مٹ سکتے اقبال نے ان کے بارے میں بہت پہلے ہی کہ دیا ہے کہ
یونان و مصر روما سب مٹ گئے جہاں سے
مٹتا نہیں ہے لیکن نام و نشاں ہمارا
مستقبل کی صورتحال جو بھی ہو مگر ایران اور حز ب اللہ نے ایک ظالم ،جابر اور مکار حکمراں کی حمایت کرکے نہ صرف شام کے موجودہ بحران کو پیچیدہ بنادیا ہے بلکہ اس نے مرحوم آیت اللہ خمینی کی اس روایت کو بھی نقصان پہنچائی ہے جو انہوں نے 1979 میں ایک پر امن انقلاب کے بعد قائم کی تھی- بدقسمتی سے اس روایت کے اصل قاتل ایران کے سابق صدر احمدی نژاد ہیں جنہیں عالم اسلام میں نہ صرف عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا بلکہ آیت اللہ خمینی کی اسلامی روایت کا علمبردار بھی سمجھا گیا تھا ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایران کے اس اسلام پسند رہنما احمدی نثراد نے ہی شامی حکمراں کے ساتھ شامی عوام کے قتل عام میں خود کو ایک فریق کے طورپر شامل کرکے عرب بہار کو ناکام کیا اور اب یہ مسئلہ پوری ایرانی قوم کی انا کا سوال بن چکا ہے اور ایران اس شک و شبہات میں مبتلاء ہے کہ کہیں اسلام پسندوں کی یہ تحریک لبنان اور عراق تک طول پکڑ کر اس علاقے میں موجود شیعہ آبادی اوران کی حکومت کیلئے خطرہ نہ بن جائے ۔ یہ خدشہ بھی درست ہو سکتا ہے مگر اس کا حل بھی خالص قرآن وسنت کے احکامات پر یقین و عمل سے ہی نکالا جاسکتا ہے نہ کہ کسی ظالم حکمراں کی مدد و حمایت سے جبکہ اس کا اپنا مستقبل بھی تاریک ہو ۔
ایران اور حزب اللہ کے اس ناقص فیصلے سے عالم اسلام دوخانوں میں تقسیم ہوچکا ہے اور جو فائدہ عرب بہار سے عالم اسلام کو ہونا چاہئے تھا وہ ایک سیاسی کشمکش کا شکار ہو چکا ہے ،جس کا بہر حال فائدہ اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے ۔ یعنی ایران اور عراق کے درمیان خلیج کی پہلی جنگ میں جو غلطی سعودی عرب اور کویت نے امریکہ کی امداد لیکر کی تھی ایران کی موجودہ قیادت اور اس کے حمایتی شام کے اندرروس کی مداخلت کے ساتھ وہی غلطی دوبارہ دوہرا چکے ہیں مگر ایران یہ بھول رہا ہے کہ خلیج کی یہ جنگ ایک خالص علاقائی اور سیاسی کشمکش تھی اور ایران کے اس انقلاب سے عراقی حکمراں اور سعودی حکومت دونوں کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا ۔ جبکہ عالم اسلام کی جہاندیدہ شخصیات عمائدین کی جماعت منجملہ امت مسلمہ کو اس فساد سے دلی رنج پہنچا تھا ۔ خود بعد میں سعودی حکومت نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کیلئے شیعہ اور سنی کا مسئلہ کھڑا نہیں کیا اور مرحوم آیت اللہ خمینی نے بھی عراق ایران کی اس جنگ کو شیعہ اور سنی کے رنگ میں نہیں رنگنے دیا ۔ بعد کے حالات میں جب احمدی نژاد صدارت کے منصب پر فائز ہوئے تو انہیں بھی عالم اسلام میں شہرت اور عزت ملی اور امت مسلمہ نے اپنا قائد تسلیم کیا کیوں کہ وہ ایران کے دیگر صدور کے برعکس مرحوم آیت اللہ خمینی کے زیادہ قریب رہے ہیں اور نظریاتی طور پر ان کی شخصیت شیعہ سنی اتحاد کی علامت کے طور پر مشتہر رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق خود سعودی عوام کی اکثریت نے احمدی نژاد کو عالم اسلام کی قیادت کا اہل قرار دیا تھا۔ خلیج کی اس پہلی جنگ کے دوران ہمارے سامنے سے ایک اچھی خبر یہ بھی گزرچکی ہے کہ سعودی عرب کے اس وقت کے حکمراں اور پاکستان کے فوجی صدر ضیاء الحق کے درمیان یہ خفیہ معاہدہ ہوا تھا کہ پاکستانی حکومت کسی بھی ناگہانی جنگی صورتحال میں سعودی حکومت کی مدد کریگی جسکے عوض سعودی عرب کی حکومت پاکستان کو ایٹمی اسلحہ کی تیاری میں مالی امداد فراہم کریگی ۔اس معاہدہ کے تحت خلیج کی اس جنگ کے دوران سعودی حکومت نے ضیاء الحق سے کہا تھا کہ وہ ایران سے قریب سعودی سرحد پر کچھ پاکستانی فوجوں کو تعینات کرے تاکہ عراقی فوجوں کی مدد کی جاسکے ۔ ضیاء الحق نے یہ کہتے ہوئے فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا کہ ہمارا معاہدہ کسی غیر مسلم ملک کی طرف سے ممکنہ حملے کی صورت میں طئے پایا ہے جبکہ ایران ایک مسلم ملک ہے اور یہ عربوں کا آپسی معاملہ ہے نہ کہ عالم اسلام کا ۔ یہ واقعہ کہاں تک سچ ہے یا کہاں تک جھوٹ مگر ایران ایک شیعہ ملک ہے سعودی عرب سنی ملک ہے اس کے باوجود اہل دانش اور تحریکی علماء کی یہ سوچ بالکل نہیں رہی ہے کہ دونوں میں کوئی تفریق کی جائے اور ہمارے درمیان مشرکین و ملحدین کو مداخلت کا موقع مل جائے جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے اور ہم آج پھر وہی حالات پیدا کررہے ہیں - اسی طرح کچھ سال پہلے جب ایران کے جوہری پلانٹ کو لےکر امریکہ اور اسرائیل نے بحران پیدا کیا تو عالم اسلام پوری طرح ایران کے ساتھ رہا ہے اس درمیان یہ بحث بھی چھڑی کہ اگر اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جنگی جہازوں کو ایران تک سفر کرنے میں ایک ہزار میل کا سفر طے کرنا ہوگا اور پھر اس درمیان اگر ایران نے خود اسرائیل کو نشانہ بنادیا تو صورتحال بہت سنگین ہو سکتی ہے ایسی صورت میں کیا سعودی عرب اس دوری کو کم کرنے کیلئے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کرنے کی اجازت دیگا ۔ اس خبر کے بعد نہ صرف سعودی حکومت نے اس کی تردید کی بلکہ ترکی اور پاکستان نے بھی جو کہ امریکہ کے دوست رہے ہیں ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو پڑاؤ دینے سے انکار کیا ۔اس کے برعکس ایران اور حز ب اللہ نے جو رخ اختیار کیا ہے یہ ایک ایسی سیاسی غلطی ہے جس کا خمیازہ پورے عالم اسلام کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اس طرح ایران نادانستہ طور پر اسرائیلی منصوبے کو بھی تقویت پہنچارہا ہے اور یہ فیصلہ خود اس کے اپنے حق میں بھی نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جو غلطی سعودی حکمراں نے مصر میں کی ہے وہی غلطی ایران بھی دوہرا کر ایران اور سعودی حکومت مل کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کررہے ہیں -
عمر فراہی

--
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر ابوالکلام صاحب ہیں. اطلاعا عرض ہے
