This detailed essay appeared in "Esbaat", Mumbai, issue 1 in June 2008. It was also published in 2008 in January to March issue, of "Angaraay", Multan.
اقبال اور لینن
عمران شاہد بھنڈر(برطانیہ)
But in reading Lenin, all the words he uses must be understood as precisely as Lenin understood them.
( Leninist Dialectics and the Metaphysics of Positivism P,159).
اس میں شک نہیں ہے کہ علامہ محمداقبال ایک وسیع المطالعہ متصوفانہ اور مذہبی مفکر تھے ۔ اُن کے مطالعہ نے انھیں ان بصری تقاضو ں سے ہم آہنگ کر دیا تھا کہ وہ مغربی تہذیب میں پنپتے ہوئے غیر انسانی پہلو کو اپنے صوفیانہ شعری تخیل کے سپرد کرسکیں۔ان کی نظم ’لینن خدا کے حضور میں‘ کا شمار اقبال کی ان نظموں میں ہوتا ہے جو اُن کے مخصوص متصوفانہ اور مذہبی تخیل کے تحت ایک مخصوص تناظر میں روایتی اندازِ فکرکی معروضی حوالوں سے متضاد ،مگر پرکشش صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔اقبال کی یہ نظم ادبی حوالوں سے معروضی اور موضوعی فکر کو تضادات سے پُراور پیچیدہ ، جبکہ فکری و نظری حوالوں سے سماجی، ثقافتی اور مذہبی قبول و استرداد کے رویوں کو ایک ساتھ ملا کر پیش کرنے کی سعی ہے۔بظاہر’ مرکزیت‘ کے محرکاتی عنصر کی بناء پریہ نظم مفکر کے حقیقی اہداف تک صرف ظاہری سطح پر رسائی حاصل کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے،تاہم متضاد فکری عناصر جو لینن کی شخصیت کو مسخ کر کے ہی ممکن ہوسکتے تھے، ان کواس نظم میں شاعر کے اپنے محرکاتی عوامل کے باوجود دبانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ لینن نے تمام زندگی مادی جدلیات کی نظری اور عملی جہت میں مکمل ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ ان دونوں جہتوں میں مکمل ہم آہنگی اکتوبر انقلاب کی شکل میں قائم کر کے دکھائی ہے۔ مادی جدلیات کے وسط میں موجود تضادات عملی اور نظری وحدت کے حوالوں سے لینن کا خاصہ رہے ہیں ،جبکہ مثالیت اقبال کی فکر کا جزوِ لازم ہے ۔ اس لئے فکری سطح پر عدم ہم آہنگی نظم کے تضادات کو واضح کرتی ہے۔آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظم لینن کی شخصیت کے عملی اور نظری پہلوکے درمیان مستقل پیکار کو نظر انداز کرنے کے علاوہ لینن کی سیاسی، سماجی اور معاشی جہت کو عامیانہ انداز میں موضوع بحث بناتی ہے ۔یہ نظم لینن کی شخصیت کے فلسفیانہ پہلو جو مادیت سے جنم لیتا ہے ، کو قطعاََ نظر انداز کر کے لینن کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر پیش کرتی ہے، جس میں اپنے عمل اور فلسفیانہ بصیرت کے حوالے سے کسی بھی طرح کی کوئی یکتائی نہیں ہے۔یقیناََ یہ حقیقی لینن نہیں ہیں بلکہ اقبال کے صوفیائے ہوئے لینن ہیں، جو لینن کے حقیقی دنیاوی کردار سے اخذ شدہ تجرید نہیں ہے ۔ یہ اقبال کی خالص تجرید ہے جس کا اطلاق لینن پر کیا گیاہے، جو شاید اقبال کے ذہن کے علاوہ اور کہیں موجود نہ ہو۔
نظم میں متخالف نظریات کی کمزور پیکار اور ایمان کی مرکزیت کی بناء پروحدت قائم کرنے کی کوشش نظم کی باطنی وحدت کوجو جمالیات کی بناء پر قائم ہے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی، تاہم خارجی حوالوں سے جنم لینے والے نظریاتی اور عملی تضادات جو تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں،عہدِ حاضر میں مزید پیچیدہ و خطرناک ہوچکے ہیں۔ اقبال کی یہ نظم سرمایہ داری نظام میں تشکیل شدہ تضادات کے ادراک اور ان کے انہدام کے لئے لینن کے سیاسی کردار کومارکسی فکر کے تحت نمایاں کرتی ہے۔ یہ فکر اقبال کی اپنی نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو لینن کے حوالے سے ان کی متصفوانہ فکر کی جگہ وہ فکر لے لیتی جو لینن کی تمام زندگی میں عملی اور نظری سطح پر رہنما رہی ہے۔ خارجی اعتبار سے یہ تضادات دو سطحوں پر عمل آراء ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں، ایک طرف سماجی سطح پر جو بورژا فلسفے کے تحت معروضی نقطہ نظر سے رجائی نہیں ہیں، کیونکہ تضادات حقیقی ہیں۔ بورژوا دانشوروں کے مطابق ان کی حیثیت خیالی ہے یا ذہنی ہے، جن پر انسانی شعور بآسانی غالب آسکتا ہے۔ سوشلزم کی رو سے سماجی یا طبقاتی تضادات کی نوعیت اور شدت اور اس کے بعد پیداواری عمل میں طبقات کا کردار اور مادیت کی جدلیاتی رو سے ان کا نظریایہ جانا تضادات کو رجائیت کی جانب لے جاتا ہے۔جیسا کہ ۱۹۱۷ کے روسی انقلاب سے واضح ہے ۔ان کے علاوہ وہ تضادات جو لینن کی شخصیت کی عکاسی کے حوالے سے محض شاعر کے تخیل کے تخلیق کردہ ہیں۔ یہ تضادات بھی مثالیت اور مادیت کے درمیان تاریخی کشمکش کا نتیجہ ہیں۔اس فکری محرک کے تحت ان تضادات کی تخلیق دراصل اقبال کی مفاہمت کرانے کی کوشش کا نتیجہ ہے، یہی اقبال کی اس نظم کا غالب پہلو ہے۔اقبال نے مفاہمت کی اس کوشش میں محض مظاہر کو مدِ نظر رکھا ہے۔ ان کی فکر کے غالب پہلو کے پیشِ نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقبال کے لئے ظاہر یا مادیت کے برعکس بھی ایک سچائی ہے جس کو پانے کے لئے صوفیایہ ہوا وجدان ہوناچاہیے۔وجدان کی حیثیت سے تو انکار ممکن نہیں ہے مگر مثالیت پسندوں کا وجدان خارجیت سے کٹا ہوا ہوتا ہے ، جو اشیاء کے بارے میں انسان کے محدود سے لا محدود علم کو جاننے کے برعکس کسی جامد سچائی کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔اس کے لئے مادی دنیا کی گہرائی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، شاید وجدان پرست یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی انجانی دنیا سے سچائی کو ڈھونڈ کر لائے ہیں، جبکہ حقیقت میں جب وہ سامنے آتی ہے تو صرف ان کے دماغ کی خرافات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ فطری سائنس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان نے اس کے بارے میں جو علم حاصل کیا ہے وہ کسی وجدان کی کاروائی نہیں ہے بلکہ مادیت کی اصل کی جانب ایک اور درجے کی بلندی ہے۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مادی یا لیننی جدلیات دو سطحوں پر عمل آراء ہوتی ہے، ایک نظریاتی اور دوسری عملی۔یعنی ایک ظاہری دوسری باطنی۔ بنظرِ غور ان کا تجزیہ ثابت کردیتا ہے کہ دونوں سطحیں ایک دوسرے کی سچائی کو ثابت کردیتی ہیں۔ اگر نظر ی و عملی سطح پرافتراق باقی رہے تو یہ محض تجزیے کا نقص ہے۔اقبال نے اس نظم میں خود کو محض مظاہر تک خیال پرستانہ انداز میں محدود رکھا ہے ۔ انہوں نے مادی پہلوکو مدنظر رکھ کرلینن کی جدلیاتی فکر کی حقیقی روح تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،بصورتِ دیگر مابعد الطبیعاتی مرکزیت کی تحلیل ہوتی ہوئی نظر آتی اور لینن کی مختلف تصویر کی تشکیل ہوتی جو موجودہ سے زیادہ حقیقی ،بھر پوراور توانا ہوتی۔اس پہلوتک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدلیاتی عوامل کی باطنی پیکار کی ضرورت اقبال نے اپنے ثقافتی محرکات کی بنا پر محسوس نہیں کی۔
نظم بطورِ فن پارہ فنکار کی(صرف فنکار کی) فکری و جمالیاتی وحدت کا احساس لیے ہوئے ہے۔ تہہ نشین فکری معنی کا احساس تنقیدی نظر سے دیکھنے سے بر قرار رہتا ہے۔ یہی ’الہٰیاتی معنی‘ اقبال کی اس نظم کا مرکزی نکتہ ہے۔بالائی سطح پرنظم کا ہر شعر مغربی معاشرے کی تہذیبی شکست و ریخت کومحض اقبال کے اپنے مفہوم میںیقینی انداز میں پیش کرکے اپنے ہی مرکزی تصور کو تقویت عطا کرتا ہے۔مغربی تہذیبی انہدام مارکسیت کے مفہوم میں ایک نظام کا انہدام ہے جس کا مآخذ اس نظام کے اپنے داخلی تضادات ہیں ، جس میں تجریدی افکار کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اقبال کے لئے یہ انہدام سرمایہ داری کے اپنے تضادات کی بدولت نہیں بلکہ اقبال کی ماورائی خواہش سے جنم لیتا ہے۔یہاں پر انہدام میں مماثلت تو یقیناََ ہے مگر اصل سے انحراف بھی موجود ہے۔
نظم کا کلی مفہوم یاسیت کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظم شاید ۱۹۰۵ء کے انقلاب کے بعد لکھی ، جو ردِ انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اگر اس نظم کو ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کے بعد لکھا ہوا تصور کیا جائے تو نظم کے آخری شعر کا دوسرا مصرعہ ’دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات‘ صورتحال کی غلط ترجمانی کی بنا پربے معنی ہو جاتا ہے۔تاہم اس نظم کی اہمیت عہدِ حاضر کی زوال پزیر صورتحال کی وجہ سے آج بھی برقرار ہے۔ نظم کے آغاز و اختتام سے قطع نظر اس کا باقی حصہ اس عہد کا معروضی مطالعہ پیش کرتاہے ، جو بالائی سطح پر موجودہ صورتحال کی بھی صحیح عکاسی کرتا ہے۔اس پہلو سے نہ ہی اس وقت اختلاف ممکن تھا اور نہ ہی بربریت کے شکار عہدِ حاضر میں۔
اقبال کی نظم کے پہلے پانچ اشعار ’’ ذاتِ مطلق ‘‘ کے وجود کی عظمت کا اثبات کرتے ہیں ،تاہم انہی پانچ اشعار میں سے دوسرا شعرسوالیہ انداز میں ہے گو کہ اس میں سوال کی شدت برقرار نہیں۔
میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات
جبکہ شعوری سطح پر اقبال نے لینن کوچھٹے شعر میں سوال اُٹھانے کی اجازت طلب کرتے ہوئے یوں دکھایا ہے،
اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھو ں!
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات
اس شعر کے برعکس دوسرے شعر میں بھی ’کیسے‘کا لفظ سوالیہ انداز اختیار کرلیتا ہے۔اب اگر اس کو سوال سمجھ لیا جائے تو چھٹے شعر میں سوال کی اجازت طلب کرنا مہمل تکراردکھائی دیتی ہے، جس سے جمالیاتی عمل کے بر عکس باریک تجزیے میں فکری بے ربطگی کا نقص عیاں ہو جاتا ہے۔ جہاں تک پہلے شعر کے فکری پہلو کا تعلق ہے تو اس میں اقبال کا تجزیہ محض ’ خرد کے نظریات ‘ تک محدود ہونے کی وجہ سے تجریدی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اقبال کا اپنا تصورِ خرد تجریدی نوعیت کا ہے۔اقبال خرد کی بے شمار اشعار میں تحقیر کرتے ہیں، ان کے تصورِ خرد کی حتمی وضاحت ان کے اس شعرمیں ملاحظہ فرمائیں،
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
اپنے اس تصور’ خرد ‘کو وہ کانٹ سمیت بیشتر مغربی مفکروں کے افکار پیش کر کے تقویت دیتے ہیں، حالانکہ کانٹ کا تصورِ’ عقل‘ ایسا نہیں جیسا کہ حضرت اسے پیش کرتے ہیں۔’کانٹ تنقید عقل محض‘میں ’عقل‘ کی حدود ضرور متعین کرتا ہے مگر ’تصدیق جمالیات محض‘ میں وہ وجدان کی سرگرمی کو فعال اور فہم اور تخیل کو انفعالی بنا دیتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جو کانٹین فلسفے میں ’علویت‘ کے لئے راستہ کھلا رہنے دیتا ہے اور تخیل پرتخلیقی تخیل کا لاحقہ چسپاں کرکے عیسائیت کو جواز فراہم ہے۔اقبال، کانٹ کے ’تصور عقل‘کو ’شے بالذات‘ کو نہ پانے کی وجہ سے اپنے وجدانی تصور کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں،جبکہ کانٹ پر ہیگل کی مظہر کے حوالے سے زوردار تنقید کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔ اقبال کا تصورِ ’خرد‘کہیں بھی یہ ترغیب نہیں دیتا کہ’ خرد‘کومادیت سے منسلک کر کے دیکھا جائے ،بالخصوص جدلیاتی مادیت سے۔جس سے یہ نتیجہ بآسانی نکالا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ مادی فلسفیانہ نکات،جو تغیر، حرکت اور تضاد وغیرہ سے جنم لیتے ہیں، جن کا اظہار لینن کی فکر کا جزوِ لاینفک ہے،ان کی یک رخی تفہیم سے اُنھیں ’خرد‘کے سپرد کرکے تجریدی شکل میں پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف مادیت کا جو تصور اقبال کا تشکیل کردہ ہے اس کی حیثیت میکانکی نوعیت کی ہے، اسی وجہ سے یہ مادے میں مضمر لامحدود امکانات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔اس نکتے کی میں بعد میں وضاحت کرتا ہوں یہاں پر یہ اس سمت بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اقبال نے ’عقل محض‘ کی اصطلاح کانٹ ہی سے مستعار لی ہے۔پہلے خطبے میں لکھتے ہیں کہ ’’مطلق حقیقت تک رسائی عقلِ محض کے بس کی بات نہیں ہے‘‘(فکر اسلامی کی نئی تشکیل، ص، ۱۸)۔ یقیناََ یہ تسلیم کر کے وہ مذہب کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اقبال نے ’عقل محض‘ کی معذوری کا تصور کانٹ سے اخذ کیا ہے۔ جبکہ خود ہی کہتے ہیں کہ کہ ’’کانٹ کے عقل محض کے مغالطوں سے جدید فلسفے کے طلباء اچھی طرح آگاہ ہیں‘‘ (ایضاََ، ص، ۱۲۷) لیکن وہ مغالطے کیا ہیں؟ ان کا اگر کہیں ذکر کیا گیا ہے تو وہ بباتمام و کمال فختے کے فلسفہ کے تحت ہے(دیکھیے،ص، ۱۲۷)۔اقبال ،کانٹ کے فلسفے کے اندر داخل ہوکر اس کے تضادات کو کہیں نمایاں نہیں کرتے۔ویسے بھی اقبال کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ وہ کانٹ کی صرف ایک تصنیف’تنقید عقل محض‘ کے صرف ان پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں جن کی بحث کانٹ نے Remark on the Amphiboly of the Concepts of Reflection میں کی ہے۔کانٹ اپنے فلسفہ ء علم کی تشکیل عقل کے استعمال سے کرتا ہے۔کانٹ کے مطابق جب تصور کے جوڑ کا مشاہدہ نہ دیا جاسکتا ہو تو ’شے‘ ’لاشے‘ ہی رہتی ہے اور’ لاشے‘ کو’ شے‘ تصور کرلینا ایک طرح کا التباس ہے جس کی جڑیں سبجیکٹ کے اندر ہیں نہ کہ معروض کے۔(یہاں پر یہ نکتہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ کانٹ کا موضوع نظریہ علم ہے، جس میں وہ ترکیبی قضایا کی خارجی طلب کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ تحلیقی قضایا میں وہ خارج سے کوئی طلب محسوس نہیں کرتا۔ اس لئے ان دونوں کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے)۔ کانٹ کا فلسفہ عقلیت اور تجربیت کے درمیان ہے۔ کانٹ ان دونوں فلسفوں پر تنقید کرتا ہے۔ تاریخ فلسفہ کے طالب علم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کانٹ ہی ہے جس نے فلسفے کو اس وقت نئی زندگی عطا کی جب فلسفہ تجربیت اور عقلیت میں بٹ کر بند کوچے میں پہنچ گیا تھا۔ کانٹ کی ’تنقید عقل محض‘ ہی ہے جس نے اقبال کے فکری استاد فختے کے علاوہ ہیگل اور شیلنگ کو اپنا اپنا فلسفہ وضع کرنے کا جواز فراہم کیا۔کانٹ نہ ہی کلی طور پر عقلیت کا علمبردار ہے اور نہ ہی تجربیت کا۔ اس کے فلسفے کا یہی پہلو اسے مادیت کے قریب لے آتا ہے۔ اسی پہلو کو ہیگل مستعار لے کر کانٹ پر تنقید کرتا ہوا مادیت کے اس قدر قریب چلا جاتا ہے کہ اس سے فلسفے کی اس روایت کا آغاز ہوتا ہے جس کے بانیوں میں فیورباخ، مارکس، اینگلز اور لینن جیسے اہم نام سامنے آتے ہیں۔
اقبال کی اپنی اس فکری جہت کو مارکسیت یا لینن کے افکار سے منسوب کرنا اور لینن کی شخصیت کا کوئی تصور اس انداز میں قائم کرنادرست نہیں ہے۔ اس طرح نظم کے دوسرے شعر کے اس مصرعے ’ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات ‘ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ لینن پر منکشف نہ ہونے والی سچائی تغیراتی عمل کے برعکس جمودسے مشروط ہے؟ یعنی سچائی اس لئے ظاہر نہ ہوئی کہ ’خرد کے نظریات‘ متغیر تھے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ تغیر اقبال کے لئے سچائی تک پہنچنے کی رہنمائی نہیں کرسکتا ؟کم از کم اقبال کے سچائی کے معیار کے لئے تو یہی درست ہے۔تاہم جمود پر یقین بھی اقبال کے اپنے نظریات سے متصادم ہے۔ اقبال تغیر کے ’ثبات ‘ پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔جیسا کہ انہوں نے ’اسلامی فکر کی تشکیل نو‘ میں برگساں کی تقلید میں زمان کو حقیقی تصور کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’مستقل تغیر وقت کے بغیر سوچا ہی نہیں جاسکتا۔ہم اپنی داخلی واردات کی بناء پر (کہہ سکتے ہیں) کہ شعوری وجود کا مطلب زمان میں زندگی ہے۔۔۔۔ذات اپنی داخلی زندگی میں مرکز سے باہر کی طرف حرکت کرتی ہے‘‘(ص، ۷۲)۔اقبال کے مطابق فرد کی داخلی زندگی میں جمود نہیں ہے۔اس طرح تغیر کا تصور اقبال کے لئے خارجی حوالوں سے اتنا اہم نہیں ہے جتنا داخلی حوالوں سے اہم ہے۔جہاں تک زمان کا تعلق ہے تو اس کی حیثیت بھی ان کے لئے موضوعی نوعیت کی ہے۔کیونکہ اگر زمان کو اقبال کے فرد کی ذات سے باہر تصور کرلیا جائے تو پھر خارج میں اعلی سچائی کے وجود کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس لئے وہ تغیر جو خارج میں موجود زمان کی خصوصیت ہے اقبال بغیر کسی دلیل کے اس کے خارجی ہونے سے انکار کردیتے ہیں، تاکہ زمان کو داخل سے جوڑ کر اس کے تغیر کے دوران فرد کے’ تخلیقی ارتقاء ‘ کے خیال کو قائم رکھ سکیں۔اس لئے لکھتے ہیں کہ ’’مکانی زمان میں وجود جعلی وجود ہے‘‘(ص،۷۳)۔اس طرح اقبال خارج سے اعلی سچائی کے تصور کو مکمل طور پر جلا وطن کر نے کے بعد مراقبے و مجاہدے کا درس دیتے ہوئے تصوف کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقبال کے ہاں ’خرد‘ کا تصور انتہائی سطحی جبکہ شعوری واردات کا خارج سے کٹا ہواگہرا تجربہ ’قدر ذات‘ کا سچا احساس نمایاں کرتا ہے،کیونکہ اقبال اپنا رشتہ فلسفے سے منقطع کر کے تصوف کی حدور میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر شعور ذات کا تجربہ ہی ذات کی سچائی کا انکشاف کرتا ہے تو کیا پھر خارجی دنیا میں کوئی بھی اعلیٰ پائے کی سچائی موجود نہیں جس کی قدر صرف اور صرف خارجی تقاضوں سے ارتباط سے ہی ممکن ہوسکے؟ کم از کم خارج کی جو تصویر کشی اقبال نے کی ہے اس کے بعد تو یہی معلوم ہوتا ہے۔تاہم تاریخ ’واردات قلبی‘ کی سچائی کی کوئی خارجی شہادت فراہم نہیں کرتی۔ تاریخ کا درس تو یہ ہے کہ اس طرح کی سوچ قدیم توہم پرستی کا تسلسل ہے،جس کو سچ ماننے کے لئے سب سے موئثر دلیل یہ ہے کہ جو کوئی کچھ کہہ رہا ہے اسے سچ تسلیم کر لیا جائے۔ صوفی کے انہماک ذات سے تشکیل پائے ہوئے سچ کی بنا پر انسانیت کی فلاح کو ممکن بنانے کا فریضہ نہ ہی سرانجام دیا گیا ہے اور نہ دیا جاسکتا ہے۔
اس طرح اقبال کا ’ خرد ‘کی اصطلاح استعمال کرنے کا تصور مغربی’ روشن خیالی پروجیکٹ‘ کے صرف ایک ہی پہلو میں پنہاں ہے، جو کانٹین فلسفے کے صرف ایک ہی پہلو پر پورا اترتا ہے، یعنی وجدان کو بحیثیت ایک قوت تسلیم کرتا ہے، مگر’ عقل‘ کی بالا دستی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔اقبال اسی لئے ’واردات قلبی‘ کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔روشن خیالی پروجیکٹ کے احیاء کے ساتھ مغرب میں ایک نئی ذہنیت نے جنم لیا، جو گزشتہ تمام ادوار سے اپنے باطن میں مضمر عقلی و ارتقائی پہلو کی وجہ سے ممیز گردانی جانے لگی۔’خرد ‘ کی اس منطق کا سب سے اہم نقص یہ رہاکہ ’مرکزیت‘ کی بناء پر ہر طرح کی’’ عبوریت، وقتی اور لازمی‘‘ عناصر کو شاملِ حال رکھتے ہوئے سیاسی معنی کی حیثیت مسلم قرار دی جاسکے۔معنوی اعتبار سے خیال پرستانہ فکر سے مہمیز حاصل کرنے والا یہ یک طرفہ وحدانی پہلو گزشتہ ادوار سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے(محض معنی کی حتمیت کے حوالے سے)۔ اس فکری نقص کا ادراک مارکس اور اینگلز کے علاوہ لینن کو بھی ہوااور اُنھوں نے اپنی کتاب
"Materialism and Empirio-Criticism"میں Ernest Mach کی خیالی طبیعات پر سخت تنقید کرتے ہوئے علمی و سیاسی عمل پر اس کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کردیا۔ لینن کی یہ پیشین گوئی بیسویں صدی میں سامراجی قوتوں کے پیدا کردہ بے قابو بحران کے نتیجے میں بر پا ہونے والی ۱۹۱۴ء کی جنگِ عظیم کی صورت میں لیبارٹری میں کیے گئے تجربے کی طرح ثابت ہو گئی ۔ اس کے بعد بھی لینن کے گہرے تجزیے کی عکاسی ہولناک موت کے کیمپوں، فوجی بربریت اورخون خوار عظیم جنگوں کی تباہ کاریوں کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔۱۹۴۰ء کے بعد جرمن فلسفیوں اڈورنو اور ہورک ہیمروغیرہ نے ایک بار پھر ’روشن خیالی‘ کو انتہائی بے رحمی سے ہدفِ تنقید بنایا، اس کے محرکات بلاشبہ سیاسی نوعیت کے تھے بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ یہودیت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تھے۔ مارٹن ہائیڈیگر یہودیوں پر ہونے والے جبر کو مغربی تہذیب کی بقا کے لئے ایک اہم مسئلہ سمجھتا تھا۔ مختصر یہ کہ ایک بار پھر معروضی سچائی کی شناخت اس کے خود کے حوالے سے کیے جانے کے بارے صدائیں بلند ہوئیں۔جس تصورِ ’خرد ‘ کو مسترد کیا گیا۔ اسی کے مسخ شدہ تصور کی اقبال نے وجدان کی عظمت کے نام پر حدود متعین کرنے کی کوشش کی،مگر خود کوئی نیا تصورِ خرد پیش نہیں کیا اور نہ ہی کانٹین یا ہیگلیائی ’شعور‘ تک اپنے علم کو وسعت عطا کی۔
ہیگل کا ’مطلق علم‘ ’مکمل ‘ (Whole ) کی سائنسی طرز پر وضاحت کرتا ہے۔اس طرح ہیگل کئی حوالوں سے مادیت کے انتہائی قریب چلا جاتا ہے۔یہ درست معلوم نہیں ہوتاکہ مابعد جدید فلسفیوں( ژاک دریدا، لیویناس وغیرہ) سے قبل کسی بھی فلسفی نے ہیگل کے فلسفے کا جامع اور تنقیدی احاطہ پیش کیا ہے، مختلف تشریحات ضرور موجود ہیں جو مختلف نقطہء ہائے نظر سے پیش کی گئی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مابعد جدید فلسفی ہیگل کو کلی طور پر سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مابعد جدید فلسفیوں تک جو ہیگل پہنچا وہ فرانسیسی فلسفی ’ہپولائٹ‘ کا ہیگل تھا، جس کی تشریحات کے بعد ’وجودیت‘ کے انسانی تصورِ وحدت کو اولیت حاصل ہوئی اور جسے دولخت کرنے کا بیڑہ مابعد جدید فلسفیوں نے اٹھالیا۔انھوں نے بھی ہیگل کے صرف ان پہلوؤں پر بحث اٹھائی ہے جو کلیت کو کلیت نہ رہنے دیں بلکہ ’جز ‘کو خود میں مکمل سمجھیں۔ مابعد جدید تھیوری کے محرکات حتمی طور پر سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ژاک دریدا واضح طور پر لکھتا ہے کہ ڈیکنسٹرکشن ایک ریڈیکل تھیوری ہے جس کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے)۔ اقبال تک جس ہیگل کا تصور پہنچا، وہ جرمنی کا ہیگل تھا یا برٹرینڈ رسل جیسے لارڈز کی تشریحات کے نتیجے میں قائم ہوا ہیگل تھا۔ہیگل کی فرانسیسی تشریحات جو اقبال کی وفات سے تقریباََ چار یا پانچ برس قبل ہوئیں، وہ بھی اقبال تک نہ پہنچ سکیں۔ جہاں تک ہیگل کے فلسفے کو براہ راست پڑھ کر سمجھنے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں ’رابرٹ پپن‘ کی رائے سب سے معقول ہے کہ آج تک کوئی بھی فلسفی ہیگل کے فلسفے کا کلی طور پر احاطہ نہیں کرسکا۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہیگل کے فلسفے کی تشریح ممکن ہی نہیں ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی فلسفی کو ہم نے سمجھا ہے تو صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اپنی تحریروں سے اس امر کا اظہار کرنا بھی بہت ضروری ہوجاتا ہے۔اقبال کی شاعری اور ان کی ’فکر اسلامی کی نئی تشکیل ‘ ہیگل کی مکمل تفہیم کی کہیں کوئی شہادت فراہم نہیں کرتی۔ اقبال تک جن فلسفیوں کے افکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے، وہ صرف اس وجہ سے کہ یہ فلسفی (نٹشے )غیر عقلیت پسند تھے۔اقبال نے چونکہ وجدان کو’ خرد ‘پر برتری اپنی مخصوص مذہبی طبع کے تحت عطا کرنا تھی اس لئے وہ تصور ’خرد‘ جس کا باکمال تجزیہ کانٹ نے پیش کیا ، اس کا اقبال کی ’فکر اسلامی کی تشکیل نو‘ ،جو ان کی تمام شاعری کی صحیح معنوں میں بازگشت ہے،میں صرف ذکر ہی ملتا ہے۔جہاں تک لینن کا تعلق ہے، اگر اقبال ان کی مذکورہ بالا کتاب کا مطالعہ لر لیتے، تو ان کا صوفیایہ ہوا وجدان مادیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقبال کا لینن کے حوالے سے سوچا ہوا تصورِ’خرد‘لینن کے مادی تصورِ خرد کے ہرگز مماثل نہیں ہے۔
مارکسی یا لیننی فکر میں فطرت ٹھوس مادے پر مشتمل ہے جس کا کردار جدلیاتی ہے۔اس جدلیات کی رو سے ’ہے‘اور ’ہونے‘ کا عمل باطنی طور پر مربوط ہے۔ مادی جدلیات کو لینن نے ہیگل کی ’منطق کی سائنس‘ کے مطالعے کے دوران مادی نقطہ ء نظر سے واضح کیا،جبکہ فلسفہ مادیت کا انتہائی مضبوط بنیادوں پرتجزیہ انہوں نے اپنی کتاب ’مادیت اور تجربی انتقاد‘میں پیش کیا(اقبال نے چونکہ لینن کی شخصیت پر قلم اٹھایا ہے ، اس لئے یہاں اس امر کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ لینن کی شخصیت کو بالکل اس طرح پیش کیا جائے جس طرح کے وہ اپنی عملی زندگی میں تھے،ذہن نشین رہے کہ ان کی فکر ان کے عمل سے مختلف نہیں ہے )۔ لینن کی یہ کتاب اینگلز کی ’اینٹی ڈیوہرنگ‘ میں پیش کی گئی مادی جدلیات کو ۱۹۰۵ ء کے روسی انقلاب کی روشنی میں آگے بڑھاتی ہے۔اس کے علاوہ لینن کی یہ کتاب مادیت کی برتری کو اس عہد کی فطری سائنس کی روشنی میں ثابت کرتی ہے۔ مادیت کے اسی تصور کے تحت ہی لینن ۱۹۱۷ کے انقلاب کو کامیابی سے برپا کرنے میں کامیاب ہوئے ۔اس طرح لینن کے افکار کو کسی صوفی کے ذہن میں تلاش کرنے کی بجائے زندہ تاریخ کے اوراق میں تلاش کرنا چاہیے ۔ ہیگل کے حوالے سے الیانکوو لکھتے ہیں کہ
History is a truely terrifying judge. A judge who in the final analysis makes no mistakes... She has already passed her sentence, which is final and subject to no appeal... (Leninist Dialectics and the Metaphysics of Positivism, P,52).
لینن کے حوالے سے بھی تاریخی سچ کی نوعیت اس سے مختلف نہیں ہے۔لینن کی اس کتاب میں پیش کئے گئے خیالات کوسمجھے بغیر لینن کو سمجھنا ناممکن ہے، کیونکہ لینن کی شخصیت فکر اور عمل کا ایسا امتزاج ہے کہ پورے یقین سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لینن کے افکار کو سمجھنا دراصل لینن کی عملی زندگی کو سمجھنا ہے۔ ان کی تمام زندگی عمل اور نظریے کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں ہی بسر ہوئی ہے۔ان کو مارکس کی اس فکر سے مکمل اتفاق تھاکہ اگر فلسفے کو عمل کے لئے مفید بنانا ہے تو ایسافلسفے کو عمل کے قریب لاکر ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ فلسفے کو ماورائیت کی تلاش میں سماجی حوالوں سے جلا وطن کرنا درست نہیں ہے۔ فلسفہ سماج کے اندر جنم لیتا ہے اور جتنا یہ سماج کے قریب ہوگا ، اتنا ہی یہ عمل میں رہنمائی کرسکے گا اور از خود بھی متشکل ہوگا۔
لینن کی مذکورہ بالا کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مادی دنیا انسان کی حسیات یا شعور سے الگ خارج میں موجود ہے،جوحسیات پر اثر انداز ہو کر مختلف ’صورتوں ‘اور’ تمثال‘ وغیرہ کو پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حس پرمعروضی سچائی کے اثرات کے علاوہ کوئی اور سچائی موجود نہیں ہے جو حس سے الگ مخفی طور پر موجود ہو۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ’ تمثال ‘یا’ تصاویر‘ جو حس پر خارجی دنیا کے ارتسام کا نتیجہ ہیں ، ان کے علاوہ کوئی اور حقیقت موجود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو یہ عمل بالکل میکانکی ہو کر رہ جاتا ہے، اس کے لئے مادی جدلیات کی تنقید نہیں بلکہ سولہویں صدی کے اس عقلی فلسفے کی تنقید لازم لآتی ہے، جس کا بانی فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ ہے۔میکانکی مادیت کے اس خیال کو کہ خیال اور مادہ دو جداگانہ حقائق ہیں، جدلیاتی مادیت زوردار طریقے سے مسترد کرتی ہے۔اس خیال کو جدلیاتی مفکرین میں کارل مارکس نے انتہائی جامع اور واضح الفاظ میں پیش کیا ہے۔ فیورباخ پر لکھے گئے پہلے تھیسس ماضی کے تمام فلسفے کو میکانکی گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’فیورباخ سمیت ماضی کے تمام فلسفے کا بنیادی نقص یہ ہے شے، حقیقت اور ھسیت کو یا تو معروض کی ہےئت کے طور پر اور یا تفکراتی انداز میں سمجھا جاتا ہے‘‘(دی جرمن آئیڈیالوجی، ص، ۱۲۱)۔مارکس نے اپنا نطقہء نظر واضح الفاظ میں پیش کیا ہے۔ اگر شعوری سرگرمی کو معروض کی ہےئت تک محدود کرلیا جائے تو شعور کا کردار فاعلانہ نہیں رہتا۔ اسی طرح اگر معروض کے اوصاف سے قطع نظر کرلی جائے تو عمل اپنے ہی بھنور میں الجھا رہتا ہے( کانٹ اس موضوعی عمل کو فوق تجربی سبجیکٹ کا التباس کہتا ہے، جس میں معروض دیا ہوا نہیں ہوتا ، بلکہ اسے فرض کرنا پڑتا ہے)۔دوسرے تھیسس میں مارکس گزشتہ فلسفے کے تسلیم کئے گئے التباس اور جسے تسلیم نہیں کیا گیا اس التباس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تھیوری کو عمل سے جوڑ دیتے ہیں۔ مارکس کے خیال میں اگر’’ حسی معروض کو سوچ سے الگ کرلیا جائے تو انسانی سرگرمی کومعروضی سرگرمی کے طور پر نہ سمجھا جائے‘‘ (ص،۱۲۱) تو ’انقلابی‘ سرگرمی اور تنقیدی عملی سرگرمی پر گرفت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ مارکس کے یہی خیالات اس کے انقلابی فلسفے کی بنیاد ہیں، جو جدلیاتی مادیت میں انسانی سرگرمی کے کردار کو واضح کرتے ہیں۔ہمارا نقطہ یہ ہے کہ معروضی عمل کے حس پر ہونے والے اثرات کی حیثیت بنیادی اور قطعی ضرور ہے مگر مارکس کے تصور کی توثیق میں لینن کہتے ہیں کہ،
For the materialist, sensations are images of the sole and ultimate objective reality, ultimate not in the sense that it has already been explored to the end, but in the sense that there is not and can not be any other. (P,143)
لینن کے اس اقتباس میں جہاں مادیت کی حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے تو وہاں پر خیال پرستوں کے سچائیوں کو گھڑنے کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو معروضیت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ذہن ’اعلیٰ‘ قسم کی سچائیوں کو منظرِ عام پر لے کر آتا ہے، جن کی حیثیت یکتا ہوتی ہے۔شعور کے خود مختار ہونے کو بھی مارکسی اور لیننی فکر قبول نہیں کرتی، کیونکہ شعور خود انسانی عمل سے ارتباط اور سماجی، سیاسی اور معاشی تغیر وغیرہ سے متشکل ہوتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی طرح کا شعور جو اپنے مکمل ہونے کا دعوی کرتا ہے، سماجی عمل سے ارتباط میں آکر (اگر جدلیاتی طرز فکر کو نظر انداز کردے ) اپنے مستقل سچائی کے دعوؤں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور سماج کے لئے انتہائی مضر ثابت ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
جہاں تک ’شئے بالذات‘ کا تعلق ہے تو اس کے بارے اینگلز اور ان کے بعد لینن نے ثابت کیا کہ جاننے کے عمل میں شے با الذات ’شئے ہمارے لیے‘ میں کیسے تبدیل ہوجاتی ہے۔کانٹین ’شئے بالذات‘ کا مطلب یہ ہے کہ معروضی حقیقت تک کبھی بھی رسائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ انسان محض اپنے محسوسات کا ہی علم حاصل کرسکتا ہے۔کانٹین ازم کا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے ، اس کی بحث اس مضمون کے دائرہ سے خارج ہے۔لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کانٹ نے یہ دعویٰ ’عقل محض‘ کے استعمال سے اس سے حل نہ ہونے والے تضادات کو نمایا ں کرتے ہوئے پیش کیا ہے۔اگر تضادات کو حتمی تصور کرلیا جائے تو ’عقلِ محض‘ کو اس قدر تردد کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
تاہم یہاں پر اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے حواس و ادراکات کا مادی دنیا سے کیا تعلق ہے؟ معروضی سچ پر یقین رکھنے والے مادیت پسندوں کو اپنے ادراک و محسوسات کے بارے میں یہ یقین ہے کہ یہ مادی دنیا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔جیسا کہ لینن فلسفہ مادیت کے بارے میں ارنیسٹ ماخ اوررچرڈ ایوینیریس کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ مادہ ہمارے اعضاء پر عمل آراء ہونے کے دوران حسیات کو جنم دیتا ہے۔ان حسیات کا انحصار مغز، اعصاب اور آنکھوں کی پتلیوں وغیرہ پر ہے۔ مختصر یہ کہ مادہ بنیاد ہے، جبکہ احساس، خیال اور شعور مادے کی اعلیٰ ترین پیداوار ہیں۔‘‘ویسے بھی مادی مفکر ہونے کی وجہ سے لینن کے لئے فکری حوالوں سے یہ کبھی بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں رہا کہ نظریات متغیر کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ مادے کے تغیر کی بناپر نظریات و افکار کے تغیر کی وجوہ کی تفہیم رکھتے تھے۔جہاں تک جدلیات کا سوال ہے تو تغیر کے بغیر اس کا تصور بھی کیسے کیا جاسکتا ہے۔لینن نے اس کا بھر پور اظہار اپنی مذکورہ بالا کتاب میں کیا ہے۔’شئے بالذات‘ لاادریوں کی اختراع ہے، جس تک پہنچنا مشکل نہیں ہے ۔تاہم کانٹین مفہوم میں ’شے بالذات‘ ایک ایسا دم چھلا ہے جس تک پہنچا نہیں جاسکتا۔ گو کہ یہ تصور برطانوی فلسفی ہیوم کے فلسفے میں بھی موجود ہے، کیونکہ اس کے نزدیک بھی حس سے پرے کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا انکشاف ممکن ہوسکے،اصل چیز ارتسامات ہیں ، جن کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔لاادری فلسفے کے حقیقی بانی عظیم جرمن فلسفی عمانوئیل کانٹ ہیں، کیونکہ انھوں نے ’شے بالذات‘ کے تصور کو ہیوم سے کہیں زیادہ جامع انداز میں پیش کیا ہے۔۔ کانٹ کی ’شئے بالذات‘ مظہراتی دنیا سے متضاد ہے، جو کسی ایک گوشے میں نہیں بلکہ ہر جگہ پر ہے۔فلسفے کے طالب علم جانتے ہونگے کہ کانٹ کا فلسفہ قبل تجربی فلسفہ ہے۔ کانٹ کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ خارجی علم کے حصول پر مرکوز کردے، بلکہ وہ انسانی سبجیکٹ میں حس، فہم اور عقلِ محض کے قبل تجربی جداگانہ کردار کو واضح کرتا ہے۔اس کے خیال میں ماضی کے کم و بیش تمام فلسفے کا نقص ہی یہ ہے کہ اس میں قبل تجربی مقامیات کا تعین نہیں کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ وہ ’شے بالذات‘ کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس وجہ سے کانٹ کے مطابق’ فوق تجربی سبجیکٹ‘جس میں ’شے بالذات‘ کو پانے کا رجحان ہوتا ہے ، وہ تصور کو اشیائے حقیقی پر عائد کرنا چاہتا ہے، تاہم’تحلیلِ قضایا‘ میں کانٹ دکھاتا ہے کہ قوتِ فہم اپنے ’تصورات‘ کا فوق تجربی استعمال کر ہی نہیں سکتی، کیونکہ فہم کے تصورات مقولات اور مشاہدات کی صورتوں(زمان و مکان) کے تفاعل کی وجہ سے صرف مظہر ہی سے متشکل ہوپاتے ہیں، ،طلب یہ کہ فہم کے تصورات کا استعمال تجربی ہوتا ہے۔ حسی ادراک سے حاصل ہوا مواد چونکہ قبل تجربی مقامیات میں جگہ پاتا ہے، اس لئے وہ مخصوص مقامیات میں تصدیق یا تصورات(فہم کے قواعد کے تحت) کی تشکیل کے بعد ہی عقلِ محض تک پہنچتا ہے، جہاں عقلِ محض اصولوں کے تحت اس پر حکم عائد کرتی ہے۔ ’شئے بالذات‘ کی عدم تفہیم کے فلسفے کے باوجود کانٹ نے ’عقل‘ ہی کی بالا دستی قائم کی اور اس کے تفاعل سے مظاہر کے علم کو ممکن قرار دیا۔کانٹ کا فلسفہ عقل کی بالا دستی کو سبجیکٹ کے باطن میں قائم کرتا ہے۔ کانٹ کے وضع کردہ مقولات (categories ) فوق تجربی سبجیکٹ میں تجریدی طور پر موجود ہیں جن سے ترکیبی یا تحلیلی ہم آہنگی ہونے پر ہی عقل سچائی کا حکم لگاتی ہے۔یہ نکتہ ذہن میں رہے کہ فوق تجربی سبجیکٹ کا خالص استعمال کوئی استعمال ہی نہیں ہے، کیونکہ اس میں معروض دیا ہوا نہیں ہوتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تجربے کے بعد ہی یہ احساس جاگزین ہوتا ہے کہ مقولات بحیثیت ایک تجرید کے منطقی نتائج لئے ہوئے سبجیکٹ میں موجود ہیں جن کو معروض سے برسر پیکار ہونے کے بعد سبجیکٹ خود میں شناخت کرتا ہے، جن میں خارج صرف اس احساس کو جاگزین کرنے کی حد تک ہی شامل ہوتا ہے۔قطع نظر اس امر کے کانٹ کے مقولات اس کے فلسفے کو جمود کی جانب لے جاتے ہیں ، کانٹ کے منطقی مقولات فوق تجربی سبجیکٹ میں دراصل’ عقل‘ ہی کی برتری کو ثابت کرتے ہیں، تصدیق کی قوت عقل ہی کے پاس رہتی ہے، چونکہ مواد مشاہدی مختلف مقامیات سے ہوکر عقل محض تک پہنچتا ہے اس لئے ’شے بالذات‘ کا خیال ترک کردینا چاہیے۔کانٹ کی قائم کی گئی عقل کی برتری اس نوع کی نہیں جس طرح کانٹ سے قبل لیبائنز وغیرہ نے قائم کی تھی، اسی وجہ سے کانٹ بالخصوص لیبائنز پر ’تحلیلِ قضایا‘ میں سخت تنقید کرتا ہے ۔کانٹ کے فلسفے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انسان فطرت سے حتمی طور پر جدا ہے۔دوئی کا یہی تصور ڈیکارٹ کے ہاں موجود ہے۔ ڈیکارٹ کی روح اور مادیت میں حتمی تفریق نے خیال پرستی کے لئے راستہ ہموار کیا۔اسی تفریق کی جھلک (ذرا بہتر نداز میں) لیبنیز کے مونادات کے فلسفے میں نظر آتی ہے۔ اس وجہ سے لیبائنز کو بلآخر یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ باہر سے کسی قوت کو فرض کرلے جو ان کے مابین ہم آہنگی قائم کرسکے۔لینن سے قبل ہیگل نے ہی ’شئے بالذات‘ کے حوالے سے واضح کردیا تھا کہ فطرت اور انسان کے درمیان جنم لینے والے افتراق سے ہی ’شئے بالذات‘ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اگر اس افتراق کو فطری سائنس کی روشنی میں واضح کردیا جائے تو حس ،وجدان اور عقل کی حتمی علیحدگی کو ان کی یکتائی میں ہی الگ کیا جاسکتا ہے۔ ’شئے بالذات‘ چونکہ ایک ایسی تجرید ہے جو صرف اور صرف مادے سے کٹ کر ہی قائم رہ سکتی ہے۔اس لئے اس تجرید کو اس کے معروض سے وابستہ کرنا ضروری ہے۔اسی تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے لینن ،ہیگل کی منطق کے مطالعے کے دوران ’ سوچ کی سائنس‘ جو صرف اور صرف تجرید ہوتی ہے، کے برعکس تاریخی حوالوں سے حقیقی مادی اجزاء کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔لینن واضح الفاظ میں ہیگل کی ’منطق کی سائنس‘ کے اس پہلو کی توثیق کرتے ہیں جس کے مطابق ہیگل کانٹین مقولات کو میکانکی انداز میں مجرد تصور کرنے کے برعکس ان کو خارج سے اخذ کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تولینن کو ’شئے بالذات‘ کے حوالے سے دیکھنا یا پھر کانٹین مفہوم میں ’شعور‘ کو حقارت کی نظر سے دیکھنا عجب محسوس ہوتا ہے۔
اقبال کا یہ شعر ’شئے بالذات‘ کی سچائی کا دعوی کرتا ہے،
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
یہاں پر یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اقبال کے نزدیک ’شئے بالذات‘ ایک ایسی سچائی ہے جس کا انکشاف لینن پر تو ان کی وفات کے بعد یعنی ’روز محشر‘ کو ہی ہونا چاہیے، مگر اقبال روز محشر سے پہلے ہی اس سے آگاہ دکھائی دیتے ہیں۔ اور وہ کیا کرنے والی ہے اس کا بھی علم رکھتے ہیں۔ مذہب کے حوالے سے یہ تسلیم کرنے میں شاید کوئی حرج نہ ہو، لیکن اسے فلسفیانہ قضایا کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کے لئے دلیل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جو ذاتی واردات کے برعکس ٹھوس اور منطقی طریقہء کار کی متقاضی ہوتی ہے۔ ’اقبالیائے ‘ہوئے لینن کے لئے اقبال کی اختراع کردہ’ماورائیت‘ ’شئے بالذات‘ ہی بنی رہی، قطع نظر اس حقیقت کے کہ حقیقی لینن نے ’شئے بالذات‘ کو مابعد الطبیعاتی خرافات کے علاوہ کچھ نہیں جانا مگر اقبال کے لئے ’وہ شئے بالذات‘ ’شئے اقبال کے لئے‘ ہوگئی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’شئے بالذات‘ کو ’شئے ہمارے لئے‘ بنانے کے لئے اقبال کے طریقہء کار کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔یہاں پر سوال یہ ہے کہ اقبال کا طریقہء کار دراصل ہے کیا؟اگر تو وہ قدیم تصوف کی ہی ایک شکل ہے تو اس کا ابطال تو جدید فلسفے اور جدید طبیعات نے بخوبی کردیا ہے( اب صوفیوں کے صرف قصے ہی رہ چکے ہیں صوفی نہیں)۔
ان نکات کے علاوہ اقبال نے اپنی نظم میں لینن کی زبان سے جن خیالات و اعتراضات کا اظہار کرایا ہے، ان کی مرکزی فکر کو۱۸۴۸ء میں لکھی گئی مارکس اور اینگلز کی مشترکہ تصنیف’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ میں دریافت کیا گیاہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہے کہ لینن کا ان افکار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لینن تو ان خیالات کی عملی تعبیر ہیں۔’’ کمیو نسٹ مینی فیسٹو ‘‘ کے ساتھ اقبال کی اس نظم کا رشتہ جوڑنے کی دو وجوہ ہیں۔ موجودہ عالمی بحران جس کی پیشین گوئی مارکس اور اینگلز نے مینی فیسٹو میں کی تھی اس کی سچائی کو آج بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔اس طرح ایک طرف ’’ مینی فیسٹو‘‘ کے مصنفین کے نظریات کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے کیونکہ جو سوالات یا اعتراضات اقبال نے لینن کی زبان سے نکلوائے ہیں اُنھیں لینن سے قبل کی مارکسی فکر میں بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے۔اقبال کے بیشتر اشعار کو ’’کمیو نسٹ مینی فیسٹو ‘‘ کے اقتباسات کے ساتھ ملا کر پیش کرنے کی وجہ مفکرین کی فکری یکسانیت یا یوں کہیں کہ اقبال کے تخلیقی عمل میں ’مینی فیسٹو‘ کے کردار کو بھی عیاں کرنا ہے۔’ مینی فیسٹو ‘کے مصنفین مغربی بورژوا طبقے کی مطلق العنانیت اور دیگر اقوام کے غریبوں کی دہشت زدہ حالت کو یوں بیان کرتے ہیں ،
’’بورژوا طبقے نے اپنے بمشکل ایک سو برس کے دورِ حکومت میں اتنی بڑی اور دیو پیکر پیداواری قوتیں تخلیق کرلی ہیں کہ پچھلی تمام نسلیں مل کر بھی نہ کر سکی تھیں۔۔۔۔اس نے غیر مہذب اور نیم مہذب ملکوں کو مہذب ملکوں کا ،کسانوں کی قوموں کو بورژوا قوموں کا، مشرق کو مغرب کا محتاج بنا دیا‘‘ (مینی فیسٹو،ص ،۷۴)۔
اقبال کا یہ شعر ملاحظہ کریں،
مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فی الذات
’مینی فیسٹو ‘کے مصنفین کو بورژوا کے اپنی ترقی و بقاء کے حوالے سے اقدامات مظلوموں کے استحصال کا نتیجہ دکھائی دیتے تھے، تاہم اُنھیں اس استحصال سے اُمید کی کرن بھی دکھائی دیتی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ذرائع پیداوار مرکزی حیثیت اختیار کر لیں گے اور ملکیت کا ارتکاز بڑھتا چلا جائے گا۔پیداواری قوتوں کی ترقی سے جو ذرائع تخلیق کیے جائیں گے وہ بلا آخر انھی کے خلاف استعمال ہونگے، تاہم بورژوا کی ترقی کے بارے میں مینی فیسٹو میں کسی طرح کا شبہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ مصنفین لکھتے ہیں’’قدرت کی طاقتوں پر انسان کی کارفرمائی ، مشینیں، صنعت، ذرائع میں کیمیا کا استعمال ۔۔۔۔آج سے پہلے کسی زمانے کے لوگوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی‘‘ (ص۷۵۔۷۴)۔
اقبال نے بھی مارکسی فکر کے اس پہلو کی روشنی میں بورژوا طبقے کی بے مثل ترقی کو محسوس کیا، تاہم اقبال کا یہ شعر ترقی کے پہلوکے ساتھ ساتھ شکوے کی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں،
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
لینن نے اپنی کتاب ’ریاست اورانقلاب‘میں مغربی’ تعلیمِ مساوات‘اورمغربی لبرل جمہوریت کی بد ترین شکل کا باہمی رشتہ جوڑا تھا۔ان کے نزدیک مغربی جمہوریت طبقات پر مشتمل معاشرے کا نام ہے،جبکہ حقیقی مساوات ملکیت کے حوالے سے برابری کے حق پر مبنی ہونی چاہیے جو سرمایہ داری نظام میں ناممکن ہے۔لینن لکھتے ہیں کہ’’جمہوریت ریاست کی کئی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے۔چنانچہ ہر قسم کی ریاست کی طرح جمہوریت میں بھی ایک طرف تولوگوں کے خلاف باقاعدہ اور باضابطہ تشدد سے کام لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ظاہری یا رسمی طور سے وہ شہریوں کی برابری کا دم بھرتی ہے‘‘(ص،۱۲۵۔۱۲۴)۔
اقبال نے مارکسیت کے نظریہ سازوں سے اپنی اس نظم میں خاطر خواہ استفادہ کیاہے۔ اس نظم کے عنوان سے اسی صورت ہم آہنگ ہوا جا سکتا تھا۔ اقبال لکھتے ہیں
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
ہم دیکھتے ہیں کہ مارکسیت کی رو سے بورژوا کی ترقی اور تباہی کی وجوہ تلاش کرنی مشکل نہیں ہیں۔بورژوا طبقہ اس کی موت کا پیغام لے کر آنے والے طبقات کو کچلنے کے لیے ظلم کی ہر حد عبور کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے لیے اُسے کئی دوسرے اداروں کے علاوہ ریاستی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے،جو طاقت کا منبع ہے ۔ بورژوازی اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کا ذمہ اُٹھاتی ہے۔ دوسری طرف مزدور طبقے سے اس کی ہر طرح کی تخلیقی صلاحیت چھین لی جاتی ہے اور اُسے محض بوررژوا اپنے ذاتی منافع کے لیے مشین کے سپرد کر دیتا ہے۔ مینی فیسٹو میں مزدور کی غیر تخلیقی حیثیت کو یوں بیان کیا گیاہے،’’اس کی حیثیت مشین کے دم چھلّے سے زیادہ نہیں ہے اُسے اب صرف مشین کو چلانے کا نہایت اُکتا دینے والا اور آسان طریقہ آنا چاہیے‘‘ (ص،۷۷)۔
شاعرِ مشرق کومینی فیسٹو کے مصنفین کے مزدور کی غیر تخلیقی سرگرمی کے بارے میں کیے گئے تجزیے کا بخوبی علم ہے۔لکھتے ہیں،
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات!
اس مضمون میں اشعار اور اقتباسات کے درمیان یہ مماثلت شاعر اور مصنفین کی فکری یکجہتی کی عکاسی کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اقبال نے’ مینی فیسٹو‘ کو سامنے رکھ کر اشعار لکھنے شروع کر دیے ہوں، ایسا شاید اس لئے بھی ضروری ہوکہ اقبال کو لینن کے افکار کی نمائندگی مقصود تھی۔تاہم بنیادی فرق نظم کے آخری شعر میں عیاں ہوجاتا ہے۔ اسی ایک شعر سے اقبال کی فکر کا بنیادی پہلو واضح ہوجاتا ہے۔ یہ شعر رجائیت کا علمبردار نہیں ۔ یہ اُمید کے بر عکس یاسیت کا داعی ہے۔ عمل کے برعکس بے عملی کی نمائندگی کرتا ہے اور دنیاوی استحصال کا خاتمہ انسان کی موت کے بعد تصور کرتا ہے۔یہ شعر ایک ایسی تعیین Determinism کی نمائندگی کرتا ہے جو انسانی عمل پر عدم انحصارکی وجہ سے جبریت ، ظلم اور استحصال وغیرہ کوفاتح قرار دیتی ہے، ملاحظہ کریں
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات!
اس شعر میں اقبال نے سرمایہ داری نظام کے اس بحران کی تحلیل چند گھڑے گھڑائے جامد اُصولوں کے تحت کرنے کی کوشش کی ہے،سماجی بحران کی حیثیت ماورائی قطعاََ نہیں ہے۔ یہ بحران سماجی ، سیاسی اور معاشی عمل کے نتیجے میں جنم لینے والے ان تضادات کا نتیجہ ہے جن کی تشکیل اور ارتقاء میں جہاں پیداواری عمل کاوحشت ناک کردار شامل ہے تو ساتھ ہی ساتھ اس کو دوام عطا کرنے والے خیال پرستانہ اور توہم پرستانہ ماورائی فلسفے بھی شامل ہیں۔ اقبال کو مقصود اپنے عقیدے کی فوقیت ہے، تاریخی ارتقاء میں جس کا کردار اب افادیت کے برعکس مسائل کو مزید گنجلک کرنے والے عوامل کا سا ہو کر رہ گیا ہے۔ کیونکہ انسانی رجعت سماجی تغیراتی عمل سے تضاد میں آگئی ہے۔اس پس منظر میں ان افکار کو لینن سے منسوب کرنا دنیا میں یاسیت کو فروغ بخشتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔محرک اس کا شاعر کی حقیقت کے برعکس صرف تخیل میں سبقت لے جانے کی خواہش ہے۔اس طرح کے خواب دیکھنے کا حق صرف خیالی شاعر یا مثالی مفکر کو ہی ہوتا ہے۔وہ ہر جنگ کا فاتح کسی بھی ہستی کو صرف اپنے تخیل میں قرار دیتا ہے۔ لینن کی اپنی تمام زندگی مارکسی جدلیاتی فکر کو ہر لمحہ تغیر پذیر سماج سے اخذ کرتے اور سماج پر اس کا اطلاق کرتے ہوئے بسر ہوگئی ۔لینن کا تجزیاتی و تشریحی طریقہءِ کار ایسا نہیں تھاجسے صرف ایک بار سیکھنا ہی ضروری ہوتا ہے اور اس کے بعد اسے شیلف سے اُٹھا کر ریاستی مشینری ، ’روحانی پولیس ‘یا پھر دوسرے جبری اداروں کے ذریعے اس کا اطلاق کر دیا جائے۔لیننی جدلیات تو معروضی متغیر عمل سے اس کے تمام تر عوامل کی تشکیل کو جمود کے برعکس اس کی حرکت میں دیکھنے سے از خود صورت پزیر ہوتی رہتی ہے،جس کے مطابق انسانی دماغ طرح طرح کے خیالات خود سے ہی نہیں تراشتا، بلکہ وہ انسانی شعور کو معروض سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ہم آہنگی کا یہ عمل جامد یا حرکت یا تضادات سے عاری نہیں ہے۔اپنی کتاب ’مادیت اور تجربی انتقاد ‘ میں جب لینن نے مادے کی اولیت کو واضح کیا تو بے شمار ماورائی قسم کے تنقیدی قمار بازوں نے اپنی اپنی مثالیت کو بچانے کے لئے لینن کی مادیت کو اس مخصوص تناظر میں دیکھنے کی بجائے اپنی روایتی فکری بغض کو قائم رکھتے ہوئے میکانیاتی نقطہء نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے رہے۔لینن کی کتاب مذکورہ بالا کتاب کی سچائی کو روسی انقلاب نے ثابت کردکھایا ۔بعد ازاں لینن اسی کتاب کے بنیادی خیال یعنی مادے کی اولیت کو ہیگلیائی منطق کے مطالعے کے دوران اپنی ’فلسفیانہ نوٹ بک‘ میں مزید تشکیل دیتے ہیں جس میں وہ شعور کا کردار واضح کرتے ہیں۔ لینن کا شعور کی اصطلاح کو استعمال کرنے کا رجحان کسی ان دیکھے عالم سے متشکل نہیں ہوتا، بلکہ معروض کی اپنی حرکت کے دوران حس کے تفاعل کی حد متعین کرتا ہوا شعور کی جانب بڑھتا ہے۔لینن ’فلسفیانہ نوٹ بک‘ میں حس کی معروض سے پیکار سے قبل شعورکی برتری کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ حس کی شعور کے مقابلے میں خارجی معروض کی نمائندگی کو سطحی قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ حس میں شعور کے برعکس مکمل نمائندگی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔لینن سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ’’کیا حسی نمائندگی سوچ سے زیادہ حقیقت کے قریب ہے؟ اس کا جواب ہاں اور نہ دونوں میں دیا جاسکتا ہے۔حس کلی حرکت کی نمائندگی نہیں کرسکتی۔۔۔۔لیکن سوچ ایسا کرسکتی ہے ا ور اسے کرنا چاہیے۔حسی نمائندگی (Representation) سے حاصل کی گئی سوچ حقیقت کو منعکس کرتی ہے،زمان معروضی حقیقت کے وجود کی ہےئت ہے۔یہاں پر ہیگل کی خیال پرستی زمان کے تصور میں ہے(نہ کہ حسی نمائندگی کے سوچ سے تعلق میں)‘‘ (فلسفیانہ نوٹ بک، والیم ۳۸، ص۲۲۷)۔ اس اقتباس سے حسی اولیت لینن کی ’مادیت اور تجربی انتقاد‘ میں تشکیل کردہ خیال سے آگے بڑھتی ہے جبکہ ساتھ ہی اس کی حدود بھی متعین کر کے شعور کے لئے راستہ ہموار کر دیتی ہے۔یہاں پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ حس کا معروض سے گزرنا ضروری ہے، صرف اسی صورت معروضی سچائی تک پہنچا جاسکتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ لینن کی مادی جدلیات کو میکانکی تصور کیا جائے، جبکہ اقبال کے نزدیک اگر خرد کو ارتقاء کی پیداوار سمجھنا ہے تو اسے لازمی طور پر میکانکی بھی ہونا چاہیے، جیسا کہ اقبال دوسرے خطبے میں شعور کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’یہ کہنا کہ وہ مادے ہی کی عمل کا پس مظہر ہے اس کی آزادانہ فعلیت سے انکار کرنا ہے، آزادانہ فعلیت سے انکار کرنا تمام علم کی قدر و قیمت ہی سے انکار کرنا ہے‘‘ (ایضاََ،ص، ۶۵)۔ اس سے اقبال کا شعور کے بارے میں واضح نکتہ سامنے آجاتا ہے۔ تاہم جدلیاتی مادیت میں شعور کا کردار انفعالی نہیں ہوتا۔ (جیسا کہ لینن نے فلسفیانہ نوٹ بک میں واضح کیا ہے)۔اقبال کی ’ اسلامی فکر کی نئی تشکیل ‘ میں مادی جدلیات کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ مارکس اور اینگلز کا ذکر بھی موجود نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ذہن میں میکانکی مادیت کا تصور سولہویں صدی کے میکانکی تصور سے آگے نہیں بڑھا تھا۔ اس کے علاوہ اسی کتاب میں ہیگل کا ذکر ان کی کائناتی ’سپرٹ‘ کے حوالے سے صرف دو بار چند الفاظ میں کیا گیا ہے، جو کسی بھی نکتے کی وضاحت نہیں کرتا۔جدلیاتی مادیت کے مارکس ، اینگلز اور لینن کے تصور سے نابلد ہونے کی وجہ سے اقبال نے مادیت سے ابھرتے ہوئے شعور کو میکانکی تصور کرلیا اور ’وجدان‘ کو اعلی سچائی کے حصول کے لئے لازمی سمجھ لیا۔اقبال جب پروفیسر وائٹ ہیڈ کی تقلید میں یہ کہتے ہیں کہ ’’مادیت کا روایتی نظریہ مکمل طور پر ناقابل تسلیم ہے‘‘ (ایضاََ، ص، ۵۷) ، اس سے وہ جدلیاتی مادیت کے برعکس میکانکی مادیت کو ہی ذہن میں رکھتے ہیں، جبکہ اگلے ہی لمحے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ جس میکانکی مادیت پر لینن تنقید کرتے ہیں، اقبال اس میکانکی مادیت سے بھی کلی طور پر آگاہ نہیں ہیں، مادی نظریے کے بارے میں وائٹ ہیڈ کی توثیق کرتے پادری برکلے کے خیالات سے ہم آہنگ ہونے کی سعی کرتے ہیں۔ اس طرح اقبال مغربی فلسفے کی تشکیک پسندروایت کی جانب بڑھتے ہیں، جس کے مطابق فطرت کے وجود سے انکار نہیں کیا جاتا بلکہ فطرت کو اس کے خود میں تلاش کرنے کی بجائے انسانی ذہن میں تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ روایت کانٹ کے فلسفے میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، جن کے مطابق اشیاء کی حقیقی ماہیت کا علم ممکن ہی نہیں ہے۔اقبال کے نزدیک بھی’’ نہ ان کی تصدیق ممکن ہے نہ ادراک‘‘( ایضاََ، ص، ۵۷)۔ فرماتے ہیں کہ’’ جدید سائنس برکلے کی تنقید کے ساتھ اتفاق رائے کرتی ہے، حالانکہ ایک زمانے میں یہی اس کی بنیادوں پر حملہ تصور کیا جاتا تھا‘‘ (اسلامی فکر کی نئی تشکیل، ص ۵۸)۔ اس طرح اقبال مغربی فلسفیوں کی تقلید میں فطرت اور انسان کے مابین حتمی افتراق تسلیم کرتے ہوئے فطرت سے وابستہ سچائی کے حصول کو ناممکن سمجھتے ہیں۔اقبال کے ذہن میں مادیت کا جو تصور پایا جاتا ہے جو بیسویں صدی کی میکانیات تک آپہنچتا ہے، اسے وہ سولہویں صدی کے پادریوں کے خیالات سے ملانے کی سعی کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ پادری برکلے کے خیالات کو کسی طریقے سے امر کردیں، جس کے مطابق فطرت کو موجود تصورکیا جاتا ہے۔مگر تصورات کو بھی فطرت کی تخلیق کے برعکس انسانی ذہن میں موجود سمجھا جاتا ہے۔برکلے کا مکتبہ فکر عیسائیت کے قریب ہونے کی وجہ سے مغربی فکر کی جڑوں میں داخل ہوگیا، اسی فکر سے انانیت پسندی (وجودیت، جدیدیت اور باقی ہر طرح کی خرافیت وغیرہ )کی کم و بیش تمام تحریکیں وجود پزیر ہوتی ہیں۔
’فکرِ اسلامی کی نئی تشکیل ‘ تضادات سے پر کتاب ہے، کیونکہ یہ آزادانہ تحقیق کے برعکس ایک مذہبی وصوفی شاعر کی حیثیت سے لکھی گئی ہے، تحقیقی طریقہء کارآزادانہ نہیں ہے ۔ جدید سائنس یا مادیت کو اپنے عقیدے کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا گیاہے۔اقبال صوفیانہ’انانیت پسندی‘ کی روایت پر پوری قوت سے قائم ہیں جس کے مطابق تغیر زمان کا خاصہ ہے ، مگر زمان مادے کی حالت نہیں ، اس کا رخ ذات سے خارج کی جانب ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’میری داخلی زندگی میں کوئی بھی شے جامد نہیں ہے، ایک مستقل حرکت ہے‘‘ ( ص۷۲)۔(اقبال کا یہ تصور کلی طور پر فرانسیسی جدید صوفی برگساں سے مستعار شدہ ہے، جس کے مطابق ذات کا یہ سفر مستقبل کی جانب ہے، جس کے دوران تخلیقی بہاؤ کا ارتقاء جاری رہتا ہے)۔اسی حرکت کو اقبال نے زمان کا تغیر سمجھا۔اگر تغیر داخلی مرکزیت کا خارج کی جانب حرکت کا احساس ہے تو ایسی صورت میں خارج میں حرکت یا تغیر کو حقیقت کیوں تصور کیا جائے؟
لینن نے مابعد الطبیعاتی مفکروں کی نجات کی ماورائی خواہشات کا حتمی تجزیہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے، ’’آئیں خارجی دنیا اور فطرت کو حسیات کا مجموعہ تسلیم کرلیں، جو ہمارے ذہن میں کسی ماوارئی ہستی کی بدولت ہے۔ اگر یہ تسلیم کرلیں اور انسان سے الگ اور انسانی ذہن سے باہر ان حسیات کی موجودگی کی تلاش ترک کردیں، اور میں علم کی مثالی تھیوری کے احاطہ میں تمام فطری سائنس اور اس کے تمام تر استعمال اور استخراج کو یقینی تسلیم کر لوں گا۔ صرف اور صرف یہی وہ دائرہ ہے جس میں رہ کر میں امن اور مذہب کے استخراج کو ممکن بنا سکتاہوں‘‘ (مادیت اور تجربی انتقاد، ص، ۱۹)۔یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جو تمام ماورائی شعربازوں، صوفیوں اور مذہبیت پرستوں کی فکر کا ماحصل ہے۔اگر لینن کی ’مادیت اور تجربی انتقاد‘ کو توجہ سے پڑھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ لینن نے کس طرح میکانکی مادیت کو جدلیاتی مادیت سے الگ کیا۔ نہ صرف الگ بلکہ لینن نے انیسویں صدی کے میکانکی تصور کو بورژوا سائنسدانوں کے ذاتی و غیر ذاتی مفادات سے تشکیل پانے والی یک طرفہ طبیعاتی لازمیت کی بنیاد پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔پرانی طبیعات کے نزدیک حقیقت صرف مادے کا عکس ہے۔ اگر پرانی طبیعات کے اس خیال کو صحیح تصور کرلیا جائے تو عقلیت کی حیثیت مجہول ہوجاتی ہے جو خارجی ارتقاء کی مرہون منت ہونے کی وجہ سے میکانکی نوعیت کی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اس کا جدلیاتی مادیت سے کیا تعلق؟ خارجی دنیا کا عکس سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ خارج ہمارے لئے جامد ہے، یعنی مادہ نہ ہی متغیر ہے، نہ ہی اس میں تضادات موجود ہیں، نہ ہی اس سے حرکت کے تصور کو اخذ کرنا چاہیے۔اگر تغیر اور حرکت حتمی ہے اور اس کی نوعیت باطنی کے برعکس خارجی ہے تو اس صورت میں مادے کی گہرائی میں اترنے کے عمل کی کوئی حد نہیں ہے۔ سماجی سطح پر فطرت اور اس کی تخلیق ، جو پیداواری عمل کے ذریعے ممکن ہوتی ہے، انسانی عمل میں ہی کوئی معنی حاصل کرتی ہے۔اس کے مطابق انسان کی فطرت کے ساتھ فطرت کی حیثیت نقطہء آغاز کے برعکس انفعالی نہیں رہتی۔ انسان کے عمل سے ہی فطرت اور خود انسان خیالی کے برعکس حقیقی سطح پر کوئی معنی حاصل کرتا ہے۔
جدید سائنس نے ہر عہد میں جدلیاتی مادیت کی سچائی کو ثابت کیا ہے، وہ جدلیاتی مادیت جس کے مطابق کہیں بھی سکوت نہیں ہے،فطرت سماج اور انسانی فکر ہر لمحہ متغیر ہیں۔ اس اعتبار سے یہ فلسفیانہ اور ’مابعد الطبیعاتی مادیت‘سے قطعی مختلف ہے۔مادی جدلیات کے اس پہلو کو لینن نے آج سے تقریباََ سو برس پہلے شناخت کیا اور اس کی وضاحت اپنی کتاب میں پیش کی۔لینن کی پیش کردہ جدلیاتی مادیت کا یہی پہلو ہے جو ان کے ناقدوں کی نظر سے اوجھل رہا۔ جب تک لینن کو ان کے تمام اوصاف سمیت نہیں دیکھا جاتا اس وقت تک لینن پرلکھے ہوئے کی سچائی مشکوک ہی رہے گی ۔جہاں تک لینن کی جدلیات کا تعلق ہے تو وہ متضاد خصوصیات کو مختلف عوامل کے درمیان رکھ کر جانچتی ہے اور اسی دوران جدلیاتی نظریہ بھی تقویت حاصل کرتا ہے۔ گزشتہ مادی جدلیات سے لینن کی جدلیات اس لیے مختلف ہو تی ہے کہ یہ مختلف عہد کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال سے تخلیق ہوتی ہے۔ لینن کا ہدف حقیقت کی تشکیل کرنے والے مخفی قوانین کو عیاں کرنا ہے،مگر یہ حقیقت حرکتی قوانین کے تابع ہونے کی وجہ سے کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی، اس طرح یہ نکتہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ لینن کا ’تصور خرد ‘روایتی ’خردکے نظریات‘ سے بنیادی طور پرمختلف ہے۔
اقبال نے جب’ شکوہ ‘تحریر کی تو کسی بھی توہم پر صوفیائی ہوئی فنکارانہ قوت استنباط اور جمالیاتی عوامل کو داؤ پر نہیں لگنے دیا۔ انہوں نے صوفیانہ نظریے سے فنکارانہ نقطہ ء نظر کے ساتھ بغیر کسی طرح کے ابہام کے اپنے عہد کے مسلمانوں کے ذلت آمیزحالات کا یک رخے تاریخی واقعات کی روشنی میں ٹھوس کے برعکس ماورائی تجزیہ پیش کیا۔گو کہ ان کی ماورائیت میں قبول و استرداد دونوں ہی پہلو پائے جاتے ہیں۔ تفکراتی حوالوں سے غالب عنصر معروضیت کے برعکس ان کی اپنی ہی مثالیت پسندی ہے مگر اس کے باوجود ’شکوہ‘میں توجہ طلب اور غالب عنصرفنکارانہ حریتِ افکارہی ہے۔اس لمحے تخلیقی عمل کے راستے میں آتے ہی ایمان حرارتِ فکر و جمال سے تحلیل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اقبال’شکوہ‘ کرتے ہوئے کسی گستاخانہ پہلو کی پرواہ نہیں کرتے۔شاید وہ خود غیر خود سے تشکیل پائے ہوئے صوفی کو خودی کا جامہ پہنانے کی ضرورت محسوس کرنے لگے تھے۔ تاہم لینن کے بارے میں فنکارانہ عظمت کے برعکس مقلدانہ پہلو حرارتِ ایمان کی بنا پر غالب رہتا ہے، جس سے لینن کی شخصیت کچھ اس طرح مسخ ہوتی ہے کہ حقیقی لینن کی جگہ اقبالیایئے ہوئے لینن لے لیتے ہیں۔ لینن کو یہ شرف حاصل نہیں ہوسکا کہ حضرت اقبال ان کی دونوں فلسفیانہ کتابوں کے مطالعہ فرماتے اور اس کے بعد لینن کی سیاسی و سماجی جدوجہد کو ان کے فلسفیانہ افکار کی روشنی میں جانچتے۔اسی وجہ سے جو لینن حضرت اقبال معرض وجود میں لے کر آئے ہیں ان کا حقیقی لینن سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ لینن کو بھر پور طریقے سے جانے بغیر ان پر ایک لفظ بھی لکھنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اقبال کی اس نظم کو پڑھ کر ان لوگوں کے ذہن کے کسی گوشے میں اس بات کا احساس جاگزین ہورہا ہے جو لینن جیسے انقلابی مفکر کی فکر سے آگاہی رکھتے ہیں کہ اقبال خود اس عمل سے گزرے ہیں؟
ابھی تک جو جائزہ پیش کیا گیا ہے اس میں اقبال کو بحیثیت مفکر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی وجہ سے تجزیے کو اقبال کی کتاب ’اسلامی فکر کی نئی تشکیل‘ تک وسعت دی گئی ۔تفکراتی کے برعکس جمالیات میں اتنے کڑے معیار کی گنجائش نہیں ہے،تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جمالیات میں شعوری سطح پریا اپنی کم علمی کی بنا پر ٹھوس حقیقت کو اس کے تلازمات سے محروم کر کے خود ساختہ تجرید میں تباہ کردیا جائے۔اگر لینن کو موضوع فن بنایا گیا ہے تو قاری کے لئے بھی لکھنے والے سے قائم ہوئی ماورائی انسیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقائق پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔باطنی تجربہ یاسیت پر مبنی رومانوی طرز فکر میں اہم ہوسکتا ہے، جس میں ہر فاتح محض تخیل میں اپنی ذات کا فاتح بن کر ابھرتا ہے۔مگر حقیقت پسندی کا اس سے کیا تعلق؟
روسی ’ہئیت پسندوں‘ نے دعویٰ کیا کہ جمالیاتی تفاعل تو ازخود ’اچنبھیانے‘Deform) )کی خاصیت رکھتا ہے۔ ہئیت پسندوں کا دعویٰ ردِ عمل کا نتیجہ ہونے کی وجہ سے احمقانہ نوعیت کا ہوکر رہ جاتا ہے۔ وہ جمالیات کا سماج سے تعلق واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں تک جمالیاتی تفاعل کا تخلیق کی نوعیت پر اثر انداز ہونے کا سوال ہے تو اس پہلو پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ، لیکن شعوری کوشش سے ’ڈی فام ‘کرنے کے عمل کا دعویٰ سیاسی اور سماجی صورت حال پررد عمل کا نتیجہ ہے، جس کی بیشتر مثالیں انیسویں صدی کے آغاز میں فاشسٹ ایزرا پاؤنڈ اور ونڈھم لیوس اور نیم فاشسٹ ٹی ایس ایلیٹ کی شکل میں ملتی ہیں ۔ یہ رجحانات اس وقت کی سماجی و سیاسی عوامل کے ردِ عمل کے روپ میں سامنے آئے اور اس کے بعد معاشی مقصدیت کے تابع ہوتے چلے گئے۔ فریڈرک اینگلز نے بہت عرصہ قبل لکھا کہ’’ ادب حقیقت کا نظارہ دور سے کراتا ہے۔ ‘‘اینگلز کی مراد شعوری دروغ گوئی یا ادبی اقدار کو دروغ گوئی کی بھینٹ چڑھانے سے ہرگز نہیں تھی، ان کا مقصد صرف اور صرف جمالیات کے اثرات کی دیگر عوامل سے الگ شناخت کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا ۔ لیون ٹراٹسکی نے ہئیت پسندوں کے برعکس اس تصور کو اینگلز سے مستعار لیا، جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب ’ادب اور انقلاب‘ میں کیا۔ اس عہد میں بھی ادب و شاعری کی آزادی کو قائم رکھا جب سماجی و سیاسی حوالوں سے صورتحال کی نوعیت ایسی تھی کہ فنکار انقلاب کی گونج سے ازخود متاثر ہورہے تھے۔( ٹیری ایگلٹن کا یہ دعویٰ کہ ٹراٹسکی کا یہ تصورروسی ہئیت پسندوں کے افکار کی بازگشت ہے، سراسر غلط ہے)۔ حقائق کو مسخ کرنا قطعاََ دوسرا عمل ہے جسے کسی بھی شعر باز کی لمحاتی ترنگ کی بھینٹ چڑھانا درست نہیں ہے۔ بالخصوص اس وقت جب کسی شخصیت کو موضوع بنایا جائے۔ اگر جمالیاتی احاطے میں آتے ہی ہر موضوع وکردار جمالیاتی منطق سے متشکل ہوتاہے تو اس کے لیے واقعاتی سطح پر دروغ گوئی کرنے کا کیا جواز ہے؟
اُردو’ تخلیق کاروں‘کی اکثریت کا المیہ یہ ہے کہ وہ انسان اور سماجی عمل کی ہر جہت کو ماضی قدیم میں تیار کردہ کسی چوکھٹے سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ چوکھٹا دراصل خارج کی بجائے ان کے اپنے ہی ذہن میں موجود ہوتا ہے۔جب سب کچھ ذہن میں موجود ہے تو آزادی کا احساس اور اس آزادی کا حصول بھی ان کے لئے ذہن میں ہی ہونا ضروری ہوجاتا ہے۔ بے شمار صوفی صرف بند کمروں میں بیٹھے اپنے ذہن میں آزاد ہوجاتے ہیں اس طرح جیسے دنیا ان کے لئے موجود ہی نہیں ہے۔ اگر ہے تو صرف ان کے ذہن میں۔ اردو ادب و شاعری میں اس خام آزادی کے احساس کا بھر پور اظہار کیا گیا ہے۔ کبھی جنس کی بنیاد پر اور کبھی صوفیائی ہوئی مذہبیت کی بنیاد پر۔ اس طرح عمل کے دوران حقیقت غیر حقیقت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔غیرحقیقت ، ماورائی اور بورژوا اذہان کو تسکین فراہم کرتی ہے۔معذور شعور کے اس یک جہتی عمل سے افرادکے کردار و اوصاف اور معاشرتی عمل کے بارے میں حقیقی عوامل قطعاََ نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔سماج کے اندر تخلیق کی سطح پر ایک ایسا خلاء نظر آرہا ہے جسے پُر کرنا ادب و شاعری کی اپنی آزادانہ شناخت کے لئے بھی ضروری ہے۔مغربی نام نہاد نقادفلپ سڈنی نے لکھا تھا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ شاعری مذہب کی جگہ حاصل کر لے گی، اگر آج فلپ سڈنی زندہ ہوتا تو شاید اس کی حیرت کی انتہا نہ رہتی کہ کس طرح مذہب کی جڑیں شاعری کے اندر مضبوط ہو چکی ہیں۔ ٹھوس سماجی سطح پر پھیلی یاسیت کس طرح شعر بازوں کی اکثریت کے تخیل کو یک جہتی اور اپاہج بنا رہی ہے۔ہر دوسرا شعر باز یہ چاہتا ہے کہ وہ ثابت کردے کہ اس کی ’’تخلیق‘‘ کسی ماورائی قوت کی مرہون منت ہے۔جب وہ لکھ رہا تھا تو اس وقت وہ ’تخلیقی لمحے‘ کی زد میں تھا۔کیا خود کے ’تخلیقی لمحے ‘کاتقاضہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں معلومات ایلیٹ جیسے رجعت پسند سے حاصل کی جائیں؟فلسفے کی کتابوں کو سامنے رکھ کر اشعار گھڑے جائیں اور دعوٰی خود کو’ تخلیقی لمحے ‘ کے سپرد ہونے کا کیا جائے؟سڈنی یا اس جیسے دوسرے نقادوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک رجحانات کے ظہور و ارتقاء کا تمام خیال سماجی عمل سے منقطع ہو کر سوچنے کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کے ماورائیت کے مبلغوں کومقصود جمالیاتی عظمت کے برعکس اپنی ’مثالی‘ خواہشات کی تسکین ہوتی ہے یا ماورائیت کو لازوال بنانے کی خواہش غالب رہتی ہے۔یہ عمل قطعاََ نیا نہیں ہے، جیسا کہ اس مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ اس کی گہری جڑیں قدیم توہم میں پیوست ہیں۔یہ بظاہر تو نفیس معلوم ہوتا ہے مگر اس کی اصل میں دورِ بربریت کے بربری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے تمام عوامل موجود ہوتے ہیں۔ اس سے نقصان یہ ہواہے کہ خارجی حوالوں سے ’شے بالذات‘ ’شے ہمارے لئے‘ ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ ہر وجود میں آنے والی چیز سماجی عمل میں اپنی حقیقی شناخت کرائے بغیر ہی رخصت ہو جاتی ہے۔ اس عمل سے ان افراد، واقعات اور اشیاء کے اوصاف کی شناخت کے درمیان ناقابلِ عبور خلیج حائل رہتی ہے۔ہر متغیر عمل جامد دکھائی دیتا ہے۔ ضرورت اس حقیقت کو جاننے کی ہے کہ افراد یا سوچ سماج کے باہر سے نہیں ٹپکتے،بلکہ حقیقی سماجی عمل کے داخلی تناؤ اور تضادات کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ان کا وجود سماج کے اندر ہونے کی وجہ سے سماج کا اٹوٹ انگ ہو تا ہے جس کے کٹ جانے کے بعد بھی اس کے اٹوٹ ہونے کا احساس اذہان پر نقش رہتا ہے۔ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے صرف انہی عوامل سے رجوع کر کے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔احساس کی جس گرفت میں ایسے افراد یا عوامل کو لیا جاتا ہے اگر ان کو ان کی حقیقی سماجی حیثیت میں ، اذعانی وجامد احساس کے برعکس ، سماجی و دیگر عوامل کے ارتقاء میں دیکھا جائے تو انسان سماج اور سماج انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے۔ان افراد کی فکری و عملی جہت کا تجزیہ ان اصولوں کو سمجھ کر کیا جائے جن کو وہ افراد تخلیق کرتے ہیں اوراس عمل سے ازخود تخلیق ہوتے ہیں۔نہ صرف بیسویں صدی بلکہ انسانی تاریخ کی بے مثل ہستی لینن کی زندگی عملی اور نظریاتی تخلیق کی ایک ایسی روداد ہے جس کے کسی ایک پہلو کو بھی فراموش کر نا یا تو علمی و فکری بدیانتی کا اظہار ہے، یا پھر اس عظیم روح سے منحرف ہونے کا نتیجہ ہے، اور عدم تفہیم کی بناء پر قلم اٹھانا بھی کسی جرم سے کم نہیں ہے۔
BIBLIOGRAPHY
Ilyenkov,E.V. Leninist Dialectics and the Metaphysics of Positivism. London: N e w Park Publications,1982.
Kant, Immanuel. Critique of Pure Reasons. London: Everyman, 1934.
Lenin,Vladimir. Materialism And Empirio-Criticism. Peking: Foreign Languages Press, 1972.
Lenin, Vladimir. Philosophical Notebooks. London: Lawrence & Wishart, 1976.
Marx, Karl & Engels, Fredrick. The German Ideology. Ed, C.L Clarke. London: Lawrence and Wishart. 2004.
Trotsky, Leon. Literature and Revolution. London: Red Words, 1991.
اُردو میں کتابیات
اقبال، محمد۔کلیاتِ اقبال اُردُو۔لاہور: تعریف پرنٹرز، ۱۹۹۵۔
اقبال، محمد۔ اسلامی فکر کی تشکیلِ نو، ترجمہ، شہزاد احمد۔ لاہور: علم و عرفان پبلشرز،۲۰۰۵۔
مارکس،کارل اور اینگلز، فریڈرک۔کمیونسٹ مینی فیسٹو۔ لاہور:طبقاتی جدو جہد پبلیکیشنز،۲۰۰۲۔
لینن، ولادیمیر۔ ریاست اور انقلاب۔ لاہور: طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز،۲۰۰۳۔