نام کتاب:
معروضی تنقید
مصنف:
پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی
(شعبہ اردو، کراچی یونیورسٹی)
صفحات:
224 قیمت: 375 روپے
ناشر:
مکتبہ دانیال۔ سنو وہائٹ موبائل سینٹر، بالمقابل جبیس ہوٹل، عبداللہ ہارون روڈ۔ کراچی صدر: 74400
فون:
021-35681457
021-35682036
021-35681239
ای میل:
’’معروضی تنقید‘‘ اردو تنقید کے سلسلے میں منفرد کتاب ہے جو پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی نے بڑی تحقیق کے بعد تحریر کی ہے۔ پروفیسر ممتاز حسین کی رائے میں ’’اردو میں اب تک تاثراتی، مارکسی، جمالیاتی اور عملی تنقید لکھی گئی ہے مگر معروضی تنقید کی اردو میں کوئی کتاب نہیں۔ یہ کتاب ’معروضی تنقید‘ اس خلا کو پُر کرتی ہے۔ آل احمد سرور، احتشام حسین اور نیاز فتح پوری کی کتابیں تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہیں، تنقیدی کتاب نہیں۔ معروضی تنقید اردو میں اصولی تنقید کی اس کمی کو پورا کرتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی نے کتاب تحریر کرنے کی ضرورت پر روشنی ان الفاظ میں ڈالی ہے:
’’نئی اردو تنقید نے ادب کو آواز، مفہوم اور کنایہ سے روشناس کیا۔ لیکن اچھی تنقید کے لیے زبان و فن کی نباضی اور فرد کے اندرونی احساسات کی تائید کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ فرد کا جمالیاتی احساس بھی خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ اگر ادب میں انفرادیت نہ ہو تو وہ محض اخلاقی وعظ بن کر رہ جائے۔ اسی لیے حالیؔ اور سرسیدؔ، پیرویٔ مغربی کے ساتھ، وقت کے تقاضوں سے باخبر رہے۔ لیکن حالیؔ کے مقلدین کی اندھی پیروی، نقاد کے آفاقی ذہن یعنی Universal intelligence کا سراغ نہ لگا سکی۔ اور شبلیؔ کی بالغ نظری اقبالؔ، محمد علیؔ اور ابو الکلام آزادؔ کو فلسفہ، فکر اور تدبر کی راہیں دکھا سکی۔
نئی اردو تنقید کی عمر ابھی کچھ زیادہ نہیں، لیکن ساٹھ ستّر سال کی تھوڑی سی مدت میں اردو ادب نے جو تنقیدی سرمایہ جمع کیا ہے وہ حیرت انگیز بھی ہے اور قابلِ فخر بھی۔ تنقید کے اس علمی اور ارتقائی پس منظر سے اردو تنقید کے شاندار مستقبل کا قوی احساس ہوتا ہے۔
اردو میں تنقیدی ادب کے اس جائزے کے بعد اب میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اردو ادب میں اب تک جو تنقید لکھی گئی ہے وہ تاثراتی ہے معروضی نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ نے غالبؔ اور اقبالؔ کو پڑھا اور ان کے بارے میں آپ کے جو تاثرات ہوئے وہ بیان کردیئے۔ یہی تاثراتی تنقید ہے۔ آل احمد سرورؔ اور احتشام صاحب کی بیشتر تنقیدیں تاثراتی ہیں۔ اس اعتبار سے اردو میں معروضی یعنی اصولی تنقید کی کمی ہے۔ میری یہ کتاب ’معروضی تنقید‘ اردو میں تنقید کے اسی خلا کو پُر کرتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اردو میں اب تک تنقید کے موضوع پر کوئی مبسوط اور مکمل کتاب نہیں لکھی گئی، جس میں خالص اصول نقد سے بحث کی گئی ہو اور ان اصولوں کو اردو زبان کے مزاج کے مطابق ڈھال کر پیش کیا گیا ہو۔ آل احمد سرورؔ اور احتشامؔ حسین کی کتابیں تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہیں، تنقیدی کتاب نہیں۔ ’معروضی تنقید‘ مَیں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے لکھی ہے۔
یہ میرے برسوں کے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ میں اس غور و فکر میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ بہت حد تک پڑھنے والوں کی اصابتِ رائے پر ہے۔ میں نے کتاب کو فطری طور پر ترتیب دیا ہے۔ اور یہ فطری ترتیب بھی بالکل ایسی ہی ہے کہ جس طرح میں سوچتا رہا اسی طرح لکھتا رہا۔ اس میں کسی تقدیم و تاخیر کو دخل نہیں۔ سب سے پہلے میں نے ادب کی قدرو قیمت اور اس کی تاریخ کو متعین کیا۔ کیونکہ پہلے ادب وجود میں آتا ہے پھر تنقیدکی باری آتی ہے۔ پھر اس کے بعد شاعری کے مرتبہ اور اس کی تاریخی ماہیت کاذکر ہے۔ اور پھر نقد الشعر کے طریقہ اور اصولِ نقد سے بحث ہے۔ اصولِ نقد میں چاروں ارکانِ نقد… 1۔جذبہ، 2۔ خیال، 3۔ مواد، 4۔ ہیئت سے میں نے سیر حاصل بحث کی کوشش کی ہے۔ اس طرح پوری کتاب فطری اور منطقی ترتیب سے مربوط ہے۔
اب میں ایک دوسری بات عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اردو میں اب تک جمالیاتی، مارکسی، سائنسی، مغربی، تکنیکی اور تاثراتی تنقید لکھی گئی ہے۔ لیکن معروضی تنقید پر اب تک زیادہ نہیں لکھا گیا بلکہ بالکل نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس لیے معروضی تنقید لکھ کر میں نے اس کمی کو بہت حد تک پورا کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ معروضی تنقید کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے جیسا کہ میں پہلے عرض چکا ہوں کہ معروضی تنقید، اصولی تنقید کو کہتے ہیں۔ اصولی تنقید یا معروضی تنقید کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ادب پارے کو اصولِ تنقید پر پرکھنا ۔ اصولِ تنقید چار ہیں جو یہ ہیں:
(1) جذبہ، (2) خیال، (3) مواد، (4) اسلوب
مثال کے طور پر ہم نے کسی بھی شعر یا ادب پارے کو جانچنے کے لیے لیا۔ اب اس میں دیکھنا یہ ہے کہ اس شعر یا ادب پارے میں جذبہ اعلیٰ ہے یا گھٹیا۔ اسی طرح خیال نادر ہے یا معمولی۔ پھر اس شعر یا ادب پارے میں مواد اور اسلوب کو دیکھیں گے کہ شاعر یا ادیب کا اسلوب کیسا ہے۔ اس میں نیا پن ہے، اسلوب فطری ہے یا آور د و تصنع لیے ہوئے ہے۔ یہ وہ چار اصول ہیں جن کی کسوٹی پر کسی بھی شعر یا ادب پارے کو پرکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس شعر میں جذبۂ خالص کا کتنا عنصر ہے۔ خیال پرانا ہے یا ندرت لیے ہوئے ہے۔ اس طرح ان عناصر کو دیکھ کر نتیجہ نکلے گا کہ شعر اچھا ہے یا برا۔
ادب پارے میں جودت ہے یاروآء ت ہے۔ اس کو معروضی تنقید کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں معروضی تنقید کی وضاحت کی ضرورت تھی کہ معروضی تنقید کہتے کسے ہیں جو میں نے کردی کہ معروضی تنقید اس تنقید کو کہتے ہیں جس میں تنقیدی اصولوں کی روشنی میں شعر کو پرکھا جائے۔ اس سلسلے میں ’معروضی تنقید کیا ہے‘ کے عنوان سے اس کتاب میں تفصیلی بحث کی ہے۔‘‘
کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور ابواب متعدد فصلوں میں منقسم ہیں جو درج ذیل ہیں:
باب اول:…ادب
فصل اول:ادب کیا ہے؟، فصل دوم: ادب کی تاریخی، لغوی اور اصطلاحی ماہیت،
باب دوم:… نقد
فصل اول:معروضی تنقید کیا ہے؟، فصل دوم: نقد کی تاریخی، لغوی اور اصطلاحی ماہیت
باب سوم:…، شعر
فصل اول: شاعری کا مرتبہ یا شعر کی حقیقت، فصل دوم:شعر کی ماہیت
باب چہارم:…نقد الشعر
فصل اول:قدامہ بن جعفر، فصل دوم: نقد الشعر
باب پنجم:… ارکاِن نقد
فصل اول:جذبہ، فصل دوم:خیال، فصل سوم: مواد، فصل چہارم: ہیئت، فصل پنجم: اسلوب کیا ہے؟
اہل علم و نقاد حضرات کی وقیع آرا کو ہم درج کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان کی متوازن رائے ہے:
’’اردو کے تنقیدی ادب کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ اسے ایسے ادباء کی سرپرستی بھی حاصل ہوئی جو عربی اور فارسی ادب میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے، اور ایسے فضلاء کی بھی جو انگریزی اور مغربی تنقید سے خاص لگائو رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے تنقیدی سرمائے میں حقیقت پسندی، ہیئت اور مواد کے نئے تجربے، جمالیاتی، تاثراتی، مارکسی اور سائنسی رجحانات وغیرہ سبھی شامل ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ معروضی تنقید پر ابھی تک کوئی مستقل کتاب موجود نہ تھی۔ ڈاکٹر وقار احمد رضوی نے اپنی کتاب ’’معروضی تنقید‘‘ سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے اور مختصر طور پر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حالیؔ کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ ڈاکٹر وقار احمد رضوی اردو اور عربی دونوں میں ایم اے ہیں۔ اس لیے انہوں نے عربی انتقادیات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے اور کتاب میں ادب کی ماہیت، تنقید کے مفہوم، شعر کی حقیقت اور ارکانِ نقد پر بہت اچھے ابواب باندھے ہیں اور ایک باب صرف قدامہ بن جعفر (صاحبِ ’’نقدالشعر‘‘) سے متعلق ہے جو معروضی تنقید کا پیش رو تھا اور غالباً سب سے پہلے اسی نے عملی طور پر اصول تنقید کو برتا ہے۔ ہم ڈاکٹر وقار احمد رضوی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اصولی یا معروضی تنقید پر ایک بہت اچھی کتاب لکھ کر ہمارے تنقیدی ادب میں ایک بیش بہا اضافہ فرمایا ہے۔‘‘
ڈاکٹر محمد احسن فاروقی تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی کی کتاب ’’معروضی تنقید‘‘ اصولِ تنقید پر ایک مکمل اور مربوط کتاب ہے جو اردو تنقید نگاری میں ایک نیا اور اچھوتا باب کھولتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسی کتاب لکھ دی ہے جو طالبانِ ادب کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ اس وقت اردو میں جو نقاد اُبھر رہے ہیں، ان میں وقار رضوی صاحب سب سے الگ اور سب سے نمایاں ہیں۔‘‘
پروفیسر منظور حسین شورؔ (علیگ) کی رائے ہے:
’’ڈاکٹر وقار احمد رضوی جو کراچی یونی ورسٹی میں عرصۂ دراز سے مامورِ تدریس ہیں، عربی اور اردو کے ایک بلند پایہ دانش ور ہیں۔ ان کی کتاب ’’معروضی تنقید‘‘ اردو کے تنقیدی ادب میں بڑا ٹھوس اور گراں سنگ اضافہ ہے۔ ’’معروضی تنقید‘‘ نے تاثراتی تنقید کی ڈگر کو چیلنج کیا اور اردو میں اصولی تنقید کے ایک الگ مکتبِ فکر کو جنم دیا۔‘‘
کتاب میں کہیں کہیں اغلاط رہ گئی ہیں اور بعض عبارتیں ایسی ہیں جن پر حاشیہ دینا چاہیے۔