Taza Adabi Safha

71 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Oct 26, 2015, 8:53:18 AM10/26/15
to

 روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار۲۵۔ اکتوبر۲۰۱۵
 مطلع:
” شعر میں جب تاریخ آئے گی تو شاعری بن کر ہی آئے گی۔یعنی یہ جذبہ و تخیل کی رنگ آمیزی کے ساتھ آئے گی اور عمرانیاتی تبدیلیوں سے بے نیاز نہیں ہو سکتی ۔ شاعر، واقعات یا تاریخ سے متاثر ہو تا ہے، لیکن تخلیقی سطح پر ایک نئی حقیقت خلق کرتا ہے۔
 ےہ تخلیقی عمل کا تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو تو اظہار ،شاعری کا درجہ پا ہی نہیں سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب قدیم تاریخی واقعات میں تفصیلات کا رنگ بھرا جائے گا تو تفصیلات اسی معاشرے اور ماحول سے آئیں گی جس میں اُنھیں پیش کرنا مقصودہے اور مرثیے کے معاملے میں یہ ماحول اور معاشرت اودھ ہی کی ہو سکتی تھی۔“
٭ پروفیسر گوپی چند نارنگ
 خوشبو:
سدا ہے فکرِ ترقی بلند بینوں کو
 ہم آسمان سے لائے ہیں اِن زمینوں کو
کمالِ فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو
یہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو
جہاں سے اُٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے 
 کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو 
٭ میر ببر علی انیس 
انیس دَم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاو ¿!
٭انتظار حسین 
اُردو میں مختصر افسانے کی روایت منشی پریم چند کے دَم سے قائم ہوئی۔ کثیر تعداد میں افسانے لکھے۔ ناولوں کی بھی ایک قطار ان سے منسوب ہے مگر ایک صنف اور ہے جس میں پریم چند نے طبع آزمائی کی۔ مگر اس طبع آزمائی کا ذکر ہماری تنقید میں کم کم آتا ہے۔ بہر حال انھوں نے جو چند ڈرامے لکھے تھے ان میں سے ایک ڈرامہ اس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے۔ اس ڈرامے کا عنوان ہے ’کربلا‘۔ یعنی واقعہ کربلا اس ڈرامے کا موضوع ہے۔ ابتدا ہی میں ایک سین ایسا آتا ہے جہاں کچھ ہندو کردار نظر آتے ہیں۔ وہ جو ایک روایت چلی آتی ہے اور جسے فروغ دِیا حسینی برہمنوں نے اس روایت سے پریم چند رجوع کرتے نظر آتے ہیں اس سین میں یوں لگتا ہے کہ وہ یہاں ان کرداروں کا تعارف کرا رہے ہیں۔آگے چل کر وہ ڈرامے میں بڑھ چڑھ کر اپنا رول ادا کرتے نظر آئیں گے۔ ایسا ہوتا تو شاید ڈرامے کی کوئی شکل نکلتی مگر پریم چند یہ کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ واقعہ کربلا کو اول تا آخر اس ڈرامے میں سمیٹ لیں۔ وہ تو کر نہیں پائے۔ مگر اس چکر میں یہ ہندی کردار جو اس عربی فضا میں ایک امتیازی شان سے نمودار ہوتے نظر آتے ہیں وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ آگے چل کر ایک سین میں وہ کربلا کی طرف کوچ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ آخر تک ان کی جھلک نظر نہیں آتی۔انیس اور دبیر کے مرثئے پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں ڈرامائی عناصر بہت ہیں۔ مگر ان عناصر کو ان مرثیہ گویوں ہی نے دریافت کیا اور ان سے فائدہ بھی اُٹھایا۔ سو مرثیوں میں بالخصوص انیس کے یہاں جابجا ان کے مرثیے میں ایک ڈرامائی شان نظر آتی ہے مگر وہ ڈرامہ تو نہیں لکھ رہے تھے مسدس کی شکل میں مرثیہ لکھ رہے تھے۔ اُردو میں ڈرامے کی روایت ویسے ہی کمزور رہی ہے۔ سو کوئی ایسا ڈرامہ نگار سامنے نہیں آیا جو ڈرامے کی صنف کو اپنا کر اس واقعہ پر قلم اٹھاتا اور کربلائی ڈرامہ لکھ کر داد حاصل کرتا۔
نثر کی کسی اور صنف میں بھی اس مضمون پر طبع آزمائی نہیں کی گئی۔ ہاں ایک مثال ہے۔ قرة العین حیدر نے ایک افسانہ لکھا۔ عنوان انھوں نے مرزا دبیر کے مرثیے سے لیا۔
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے۔ یہ افسانہ خود یہ غمازی کرتا نظر آتا ہے کہ یہ واقعہ ایک موثر ڈرامہ بننے کے لیے کسی تخلیق کار کا منتظر ہے۔ قرة العین حیدر نے افسانہ لکھا اور اس رنگ سے لکھا کہ شام کے زنداں کی حدیں عہد حاضر کے عقوبت خانوں سے ملتی نظر آتی ہیں مگر ان سے بس ایک مرثائی افسانہ منسوب چلا آتا ہے۔ اس قبیل کی کوئی دوسری تحریر ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔
عصمت چغتائی نے البتہ اس واقعہ کو اپنے رنگ سے بیان کرنے کی کوشش کی۔ بیچ بیچ میں وہ اس واقعہ کو افسانے کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں مگر ان کی اس تحریر کو مشکل ہی سے کوئی کامیاب تجربہ کہا جا سکتا ہے۔
ہر پھر کے اس واقعے نے شاعری ہی میں تخلیقی اظہار کا مرتبہ حاصل کیا ہے۔ اس کے واسطے سے ایک نئی ادبی صنف نے اردو میں نمود کی۔ اور کتنے مراحل سے گزرنے کے بعد اس کی نسبت سے ایک ایسا شاعر نمودار ہوا جو امامباڑے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس دہلیز کو پھلانگ کر اردو شاعری کے مرکزی دھارے میں ایک بڑے شاعر کی حیثیت سے شامل نظر آتا ہے۔ مولانا شبلی کا امتیاز یہ ہے کہ اولاً انھوں نے یہ تاڑا کہ شاعر کس مرتبے کا ہے کہ وہ تو اردو کے بڑے شاعروں کی صف میں جگہ پانے کا مستحق ہے۔
پھر اُردو تنقید میں جلد ہی یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا اردو مرثیے کو ایپک یا رزمیہ کے ذیل میں شمار کیا جا سکتا ہے اور کیا انیس کو ہومر‘ فردوسی اور تلسی داس کی صف میں جگہ مل سکتی ہے۔ کوئی لازم نہیں کہ دو اور دو چار کی صورت میں اس بحث کا نتیجہ برآمد ہو۔ ویسے بھی شاعری دو اور دو چار کی قسم کی شے نہیں ہے۔ بحث کے دروازے کھلے ہیں۔ کوئی بھلا نقاد کسی بھی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔
مسدس کی شکل میں مرثیے کی جو شکل اُبھر کر سامنے آئی۔ اردو مرثیے کا مرکزی دھارا تو یہی ہے مگر ضمنی طور پر جو مختصر اصناف نمودار ہوئیں وہ بھی کم اہم نہیں ہیں۔ دو دوسری اصناف ہیں‘ نوحہ اور سلام ان دو اصناف نے بھی بہت فروغ پایا۔ اور اچھے شاعروں نے ان اصناف میں بھی اپنا تخلیقی جوہر خوب دِکھایا۔ سلام نے لگتا ہے کہ غزل کی روایت سے بھی استفادہ کیا ہے اور ایسے ایسے اشعار نکالے ہیں کہ غزل کے بڑے شعروں سے ٹکر لیتے نظر آتے ہیں۔ ناصر کاظمی ،انیس کے اس شعر پر بہت سَر دُھنتا تھا :
لگایا حرملہ نے تیر جب اصغر کی گردن پر
بہت روئے جو تیر انداز کامل اپنے فن میں تھے
کہ کمبخت نے اپنے ہنر کو کہاں استعمال کیا ہے۔ ایک دوسرا شعر بھی سن لیجیے۔ یہ بھی ناصر کا پسندیدہ شعر تھا :
محرم کا جو دیکھا چاند، روئی فاطمہ صغرا
پکاری ان دنوں لوگو! مرے بابا وطن میں تھے
اور یہ شعر تو آپ نے ضرور سنا ہو گا:
انیس دَم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاو ¿
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
اور یہ شعر بھی دیکھئے :
یہ بے سبب نہیں خالی گھروں کا سناٹا
مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو
ایسے ہی شعروں کو دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ اگر انیس مرثیہ نگار نہ ہوتا تو اپنے وقت کا بڑا غزل گو ہوتا۔
٭٭٭
 علی سردار جعفری کی مرثیہ گوئی 
٭ڈاکٹر ریاض الہاشم 
علی سردرا جعفری وطن بلرام پور ضلع گونڈہ ( اتر پردیش ) ہے ۔ تعلیم و تربیت لکھنو ¿ میں ہوئی ۔ شعر و شاعری کا آغاز پندرہ سال کی عمر سے ہوگیا تھا ۔ ان کا پہلا مرثیہ ” شمع امامت “ ہے ۔ اس کا ایک بند ملا حظہ ہو ۔ 
آتا ہے کون شمعِ امامت لیے ہوئے 
اپنے جلومیں فوجِ صداقت لیے ہوئے 
ہاتھوں میں جام سرخ شہادت لیے ہوئے 
لب پر دُعائے بخشش امت لیے ہو ئے 
اللہ رے حُسن فاطمہ کے ماہتاب کا 
ذرّوں میں چھپتا پھرتا ہے نور آفتاب کا 
اس مرثیے کے متعلق سیّد عاشور کاظمی ” اردو مرثیے کا سفر “ میں اس طرح لکھتے ہیں :
” مرثیہ جیسی دشوار صنف سخن میں سردار جعفری کا یہ مرثیہ قاری کو حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ پندرہ ، سولہ برس کی عمر میں انہوں نے منبر پر بیٹھ کر یہ مرثیہ پڑھا تو والد اور چچا نے گلے لگا لیا ۔ ماں نے دُعائیں دیں ، ان کے والد گرامی اور چچا اس مرثیے کا ایک بیت باربار پڑھتے اور روتے تھے ۔
اکبر ؑ کو اپنے پہلوئے غم میں سلاو ¿ں گی 
اصغر ؑ کو اپنی گود میں جھولا جھلاو ¿ں گی “۱۱
اس ہمت افزائی نے سردار جعفری کے حوصلے کو اتنا بڑھا یا کہ محض پندرہ ۔ بیس دنوں کے بعد انہوں نے اپنا دوسرا مرثیہ ”آتاہے ابنِ فاتح خیبر جلال میں “کہہ ڈالا ۔ اس کا ایک بند ملا حظہ ہو 
آتا ہے ابن فاتح خیبر جلال میں 
ہلچل ہے شرق و غرب و جنوب و شمال میں 
ایک تہلکہ ہے وادی ¿ دشت و جبال میں 
بھا گا ہے آفتاب بھی برج زوال میں 
کروٹ بدل رہی ہے زمیں درد و کرب سے 
ہلتا ہے دشت گھوڑے کی ٹاپوں کی ضرب سے 
اس مرثیے کا منظر عام پر آنا تھا کہ حاسدوں اور بدخواہوں نے فوراً یہ الزام عائد کر ڈالا کہ علی سردارجعفری خود مرثیہ نہیں کہتے ہیں بلکہ کسی اور سے کہلواکر پڑھتے ہیں ۔
 اس کی توجیہہ بھی یہ دی کہ ایک سولہ سالہ نوجوان کے مرثیے میں اتنی پختگی اور کہنہ مشقی نہیں ہو سکتی ۔ چونکہ سردار کی تخلیقی صلاحیت ان کے اندر پو شیدہ تھی اس لیے وہ قطعا ً دل برداشتہ نہیں ہوئے بلکہ کمال ہمّت سے ایک تازہ مرثیہ کہہ ڈالا ۔اس مرثیے کا ایک بند ملاحظہ ہو:
 اے بُلبُل ریاض بیاں نغمہ بار ہو 
اے نو عروس طبع رواں ہم کنار ہو 
اے خامہ ¿ شگفتہ زباں لالہ کار ہو 
اے حا سد دریدہ دہاں ، شرمسار ہو 
کیا اس میں مجھ سے ہیچ مداں کا قصور ہے 
یہ تو عطائے رحمت ربِ غفور ہے 
  علی سردار جعفری نے اپنی تصنیف ” لکھنو ¿ کی پانچ راتیں “ جو اُن کی خو د نوشت ہے ۔ اس میں وہ میر انیس سے اپنی ذہنی قربت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
” اپنے انتقال سے پہلے میرے والد بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں تھے توان کی چار پائی محرم کی مجلسوں کے لیے عزا خانے میں لاکر رکھ دی جاتی تھی اور وہ لیٹے لیٹے مجلس سنتے تھے ۔ چاندرات کو عورتیں چوڑیاں توڑدیتی تھیں اور سب لوگ کالے کپڑے پہن لیتے تھے ۔ دس دن مجلسیں ہوتی تھیں جن کی بدولت میں نے سارے بڑے ذاکروں کو سنا ہے ۔ دولہا صاحب عرو ج کو میں نے اس عالم میں دیکھا کہ وہ منبر کے نیچے تقریبا ً دوہرے ہو کر بیٹھے تھے ۔ دو آدمیوں نے سہارا دیکر منبر پر بٹھایا ، مرثیہ انہوں نے ہاتھ میں لیا ، ایک بار سنبھلے اور پڑھنا شروع کیا تو دوسری ہی چیز ہو گئے 
 نام مردوں کا رقم باڑھ پہ تلوار کی ہے 
اس کے علاوہ میر انیس کے مرثیوں کا چرچا بھی تھا ۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ کلمہ اور تکبیر کے بعد شاید میرے کانوں نے پہلی آواز میر انیس ( کے مراثی) کی سنی ہے ۔ میں شاید پانچ چھ برس کی عمر سے منبر پہ بیٹھ کر سلام اور مرثیے پڑھنے لگا تھا ۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ میںنے پندرہ برس کی عمر میں خود مرثیے کہنے شروع کر دیے ۔ ان کی زبان و بیان ، تشبیہہ ، استعارے ہر چیز انیس کی تھی ۔میرا اپنا کچھ نہیں تھا ، میں ساٹھ ساٹھ ستر ستر بند لکھ جاتا تھا ۔ لیکن مرثیہ ختم نہیں ہو پاتا تھا ۔“۱۲
حق تو یہ ہے کہ سردار جعفری میر انیس کے مداحوں میں شامل تھے اور ان سے اپنی عقیدت مندی کا اظہار بھی کیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ ان کا پہلا مرثیہ ’ ’آتا ہے کون شمع امامت لیے ہوئے“ اردو شاعری میں صنف نظم کا شاہکار ہے اور” کربلا اے کربلا “ ظلم کے خلا ف نعرہ ¿ حق ہے ۔ یوں تو سردار جعفری مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے لیکن جہاں تک صنف مرثیہ کا تعلق ہے ۔
 انہوں نے اس صنف کی لاج بڑے ہی سلیقے سے محفوظ رکھی اور اپنے ذاتی فکر و شعور کی بنا پر جو شمع روشن کی وہ آج تک روشن ہے ۔٭
٭٭٭
ایوان ِ غزل
اس کا رخ بھی کسی سے ملتا ہے
وہ بڑی بے رُخی سے ملتا ہے
صورتِ تشنگی سے ملتا ہے
کوئی پیاسا ندی سے ملتا ہے
چاند تو رات ہی سے ملتا ہے
غم مجھے چاندنی سے ملتا ہے
پاو ¿ں اُٹھتے ہیں تیرگی کی طرف 
راستہ، روشنی سے ملتا ہے
اس کا اپنا ہی ایک عالم ہے
کب جنوں آگہی سے ملتا ہے
حد سے زیادہ یقینِ مبہم بھی
اِک کھلی گمرہی سے ملتا ہے
دھیان کی سیڑھیاں اُترتا ہوا
ایک سایہ کسی سے ملتا ہے
کون غائب ہو چھت سے کیا معلوم
شاہزادہ، پری سے ملتا ہے
دھوپ کی پتیاں سمیٹے ہوئے
ایک دھڑکا سا جی سے ملتا ہے
پھول کی ایک پنکھڑی لے کر
عشق بخیہ گری سے ملتا ہے
کویلیں کوکتی ہیں شاخوں پر
کوئی بھونرا کلی سے ملتا ہے
بنسی دھر سے ذرا کوئی پوچھے
چین بھی نغمگی سے ملتا ہے؟
اس کی آنکھوں کا نم بھی صبح و شام
میرے دل کی تَری سے ملتا ہے
جیسے چبھتا ہوا سوال کوئی
بے وجہ خامشی سے ملتا ہے
کس طرف چل پڑی ہے تنہائی
کون آوارگی سے ملتا ہے
دور کوئی غروب ہوتا ہوا
ایک لمحہ، صدی سے ملتا ہے
جانور، جانور سے ملتے ہیں
”آدمی‘ آدمی سے ملتا ہے“
ہم وطن بھی ملے تو نشتر جی!
جیسے اِک اجنبی سے ملتا ہے
٭عبد الرحیم نشتر(ناگپور)
 رابطہ:07276071869
 تعا رف و تذکرہ 
 تحریر نو( نوی ممبئی) کی نئی اشاعت اُردو کے ممتاز ادیب و ناقد ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نمبر کی صورت منظر عام پر آئی ہے۔ جس میں سید تقی عابدی، کشور ناہید، اصغر ندیم سید، شارب رُودLولوی، عنبر بہرائچی، فیاض رفعت، راشد انور راشد، شہزاد انجم، شاہنواز قریشی، وسیم بیگم، اجے مالوی، مشتاق صدف، حسن رضا اور مدیر تحریر نو ظہیر انصاری نے نارنگ کے فکروفن پر فوکس کیا ہے۔ اس کے اکثر مشمولات متوجہ کرتے ہیں۔
 راشد انور راشد کی تحریر’ انیس شناسی: ایک سنگ میل کتاب‘ ذاتی طور پر ہمیں بہت پسند آئی۔ ہر چند کہ نارنگ پر مختلف رسائل کے کئی گوشے شائع ہو چکے ہیں اور کتابیں بھی چھپ چکی ہیں۔ پھر بھی تحریر نو کا یہ نمبر دلچسپی کا حامل بن گیا ہے۔ رابطہ: 09833999883
 انشا، کولکاتا سے شائع ہونے والا ایک ممتاز جریدہ ہے۔ جس کی30 جِلدیں ہو چکی ہیں اس رسالے کے بھی کئی خاص نمبر یادگار ہیں۔ ہمیں یاد آتا ہے کہ انشا کا بھی 'نارنگ نمبر' شائع ہو چکا ہے۔ پیش نظر انشا کی اشاعت کے کئی صفحات اس بار مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی کے فکروفن کو درشا رہے ہیں۔ ممتا بنر جی پر مدیر انشا( ف س اعجاز) نے اداریہ بھی رقم کیاہے جس میں خاصی تفصیل سے کلام کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال اُردو اکادیمی کا سالانہ بجٹ دس لاکھ روپے سے بڑھا کر دس کروڑ کر دیا ہے۔ یقینا یہ امر قابلِ داد ہے مگر اسی تحریر میں اکادیمی کی بعض کار کردگیوں کی کمزوری کو بھی نشان زد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انشا کے دیگر مشمولات بھی خوب ہیں جنہیں دیکھ کر پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ انشا ہی کے ’مکتوب نمبر‘ پر انور سدید کی تحریر ہمیں دل چسپ لگی۔ رابطہ:09830483810 
 شگوفہ(حیدر آباد) کا نیا شمارہ بھی حسبِ سابق اپنی روایتی خوبیوںکے ساتھ منظر عام پرآیا ہے۔ جس میں مختار ٹونکی کی تحریر” اُردو ادب میں کتوں کا درجہ“ اور سید عباس متقی کی ” دیوار کی آنکھیں“ سید امتیاز الدین کی ” اخبار بینی“ اور نادر خان سرگروہ(جدہ) کے نادر شاہیے جیسے عنوانات پہلی ہی نگاہ میں متوجہ کر لیتے ہیں۔ نیز مشتاق یوسفی، فکر تونسوی، اور نازش پرتاپ گڑھی جیسے اکابر کی تخلیقات اس کے وقار میں اضافہ کر رہی ہیں۔ رابطہ:09885202364 ٭ندیم صدیقی







--
NadeemSiddiqui
ltir page-25-Oct-15 copy.jpg
ltir page-25-Oct-15.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Oct 26, 2015, 9:02:11 AM10/26/15
to
ltir page-25-Oct-15 copy.jpg
ltir page-25-Oct-15.pdf
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages