بارش اور پانی، اللہ کی نشانی۔۔۔۔۔۔قسط سوم

78 views
Skip to first unread message

aapka Mukhlis

unread,
Dec 3, 2012, 1:29:13 PM12/3/12
to bazm qalam
From: sharif intif...@gmail.com
بارش اور پانی، اللہ کی نشانی
بارش کا برسنا اور کرۂ ارض پر اس کے اثرات
اس حوالے سے زمین پر بارش کے اثرات کے سلسلے میں پانی، ہوا، ماحول کی تپش، مٹی اور اس میں موجود زندہ اور مُردہ اجزا وغیرہ اہم ہیں۔
۞پانی، قدرت کا کرشمہ: کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے کرۂ ارض پر وافر مقدار میں پانی پیدا فرمایا۔ کائنات کے دوسرے کرّوں پر پانی موجود ہے یا نہیں، اس پر تحقیق جاری ہے۔ پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ہائیڈروجن کے دو مالیکیول اور آکسیجن کا ایک مالیکیول باہم مل کر پانی بناتے ہیں۔ اگر پانی میں برقی رَو گزاری جائے تو وہ آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم ہو جائے گا۔ آکسیجن آگ بھڑکانے والی گیس ہے، جب کہ ہائیڈروجن بھڑک اُٹھنے والی ہے مگر خدا کی قدرت کہ جب یہ دونوں گیسیں باہم مل کر پانی بن جائیں تو یہی آگ بجھانے والا پانی بن جاتا ہے۔
پانی ایک بے رنگ، بے ذائقہ مگر فرحت بخش ، بے بو، شفاف اور پتلا مائع ہے۔ اس کی اپنی کوئی شکل نہیں۔ جس برتن میں ڈالیں اس کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اُوپر سے نیچے کی طرف بڑی تیزرفتاری سے بہتا ہے اور بہنے کے دوران توانائی پیدا کرلیتا ہے۔ پانی کی اس توانائی کو انسان نے آبی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اسی مقصد کے لیے بڑے چھوٹے آبی ذخائر بنائے جاتے ہیں۔ سورج کی شعاع جب پانی کی بوند سے گزرتی ہے تو سات رنگوں میں منتشر ہوکر قوسِ قزح بناتی ہے جس کو بالعموم بارش کےبعد آسمان کے ایک جانب سات خوب صورت رنگوں کے قوس میں دیکھا جاسکتا ہے۔
کرۂ ارض کا ۴/۳حصہ پانی ہے۔ اصل ذخیرہ تو سمندروں میں ہے جہاں کُل پانی کا ۹۷فی صد ہوتا ہے، یعنی کل۳فی صد میٹھا پانی ہے جو دریا ، جھیل، تالاب اور کنوؤں میں ہوتا ہے۔ زمین کی اُوپر کی سطح کے نیچے جذب شدہ پانی کا ذخیرہ ہوتا ہے اور پودوں اور حیوانات کے جسموں میں بھی ایک خاص مقدار ہوتی ہے۔ سارے ہی زندہ حیات کے جسموں میں پانی ایک انتہائی اہم جز ہے۔ انسان کے جسم میں ہر وقت ۴۰تا ۵۰لٹر پانی موجود ہوتا ہے، یعنی انسان کی جسامت کا ۶۰تا ۷۰فی صد۔ پانی کی اہمیت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب پیاس لگتی ہے۔ انسان اور دوسرے جان داروں میں ایک خاص مقدار سے کم پانی موت کا پیغام ہے۔ پانی کا یہ توازن جسم کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پانی کی قدرتی خصوصیات یوں تو بے جان اور جان دار دونوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، مگر جان داروں کے لیے تو پانی آبِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں مختلف قسم کے مائعات پیدا فرمائے ہیں مگر طبیعی اور کیمیاوی خصوصیات کے باعث صرف پانی ہی کو زندگی کے لیے لازمۂ حیات بنایا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی میں ایک انتہائی اہم خصوصیت پیدا فرمائی ہے، جو اللہ کے رحمن ہونے کی نشان دہی کرتی ہے۔ پانی منفی چار (
۴۔) سینٹی گریڈ تک تو دوسرے مائعات کی طرح تبدیل ہوتا ہے مگر اس سے کم درجۂ حرارت پر یہ کثیف ہونے کے بجائے لطیف ہوجاتا ہے اور پھیلتا ہے۔ پھر جب پانی برف میں تبدیل ہوتا ہے تو یہ برف، مائع پانی سے وزن میں ہلکی ہوتی ہے، لہٰذا برف پانی کی سطح پر تیرتی رہتی ہے، اس کی تہہ میں نہیں بیٹھتی۔ پانی کی یہ خصوصیت اس حقیقت کی غماز ہے کہ سردیوں میں دریاؤں، سمندروں اور جھیلوں کا پانی اوّلاً تو منفی چار سینٹی گریڈ تک سرد ہوجاتا ہےمگر مزید سردی میں اپنی زیریں سطح پر ٹھنڈا ہوکر برف کی صورت سخت اور وزن میں ہلکا ہوجاتا ہے اور پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ برف کے نیچے اس پانی میں آبی حیات (پودے اور حیوانات)زندہ رہتے ہیں اور معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔
یہ بھی اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پانی دوسرے مائعات کی طرح اپنی زیریں سطح، یعنی تلی یا تہہ کی جانب سے سرد ہونا شروع نہیں کرتا، بلکہ صفر سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر اپنی بالائی سطح پر سرد ہونا اور برف میں تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے اور برف بننے کے ساتھ ساتھ پھیلتا اور ہلکا ہوجاتا ہے، لہٰذا یہ برف سطح آب پر تیرتی رہتی ہے، تہہ میں نہیں بیٹھتی ہے۔ بس سطح آب سے ایک میٹر نیچے تک اس کی دبیز چادر قائم ہوجاتی ہے، اس میں رخنے اور دراڑیں پیدا ہوجاتی ہیں جن کے ذریعے آبی جانور، مثلاً سیل یا پینگوئن وغیرہ سردی سے بچنے کے لیے پانی کے اندر اُتر جاتے ہیں۔ اس لیے کہ برف کی دبیز تہہ اندر کے پانی کی حرارت کو جلد باہر کی طرف خارج نہیں ہونے دیتی اور برف کی تہہ سے حرارت کا گزر بہت سُست رفتار ہوتا ہے۔ پانی کی یہ منفرد خصوصیت اور اس کے اندر آبی حیات کا سرد علاقوں اور سرد حالات میں زندگی بسر کرنا ایک ایسا لطیف توازن ہے جس کا قوانینِ فطرت کے تحت خود بخود قائم ہو جانا ناممکن ہے۔
۞پانی سے زندگی کی پیدائش: یہ ایک مفروضہ ہے کہ زمانۂ قدیم میں اوّلین یا ابتدائی زندگی پانی کے اجزا اور اس میں شامل مختلف نمکیات اور دھاتوں کے کیمیاوی تعامل سے سمندر میں کہیں پیدا ہوئی۔ پھر نسلی تسلسل کے نتیجے میں اس ابتدائی زندگی سے انواع و اقسام کے پودے اور حیوانات پیدا ہوتے اور پھیلتے چلے گئے۔ یہ ظنی اور تخمینی مفروضہ شواہد اور تجربات کا محتاج ہے۔ گزشتہ صدیوں میں اس مفروضے کو ثابت کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں مگر اب تک کی کوششیں سب ناکام ہیں۔ یہ مفروضہ کیونکہ نظریۂ نامیاتی ارتقا کی بنیاد ہے، اس لیے اس کی ناکامی نظریۂ ارتقا کی ناکامی بھی ہے۔
۞پانی ہی میں زندگی کی نشوونما: یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی پانی کے بغیر پرورش نہیں پاسکتی۔ کسی بھی پودے کے بیج کے اندر موجود جنین میں اللہ نے پانی کی ایک مخصوص مقدار پیدا فرمائی ہے، جو جنین کو نہ صرف بڑے عرصے تک زندہ رکھتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ نشوونما بھی دیتی ہے۔ جب یہ بیج زمین میں بویا جاتا ہے اور پانی سے سینچا جاتا ہے تو بیج نشوونما پاکر جلد ہی پودے کی شکل میں پھوٹ نکلتا ہے۔ اگر بیج میں پانی مفقود ہوجائے تو اس کے اندر کا جنین مُردہ ہوجائے گا اور کسی صورت بھی نشوونما نہ پاسکے گا۔
جانوروں کے انڈے اور چھلکے یا جھلّی کے اندر بھی جنین کے گرد پانی کی ایک مخصوص مقدار پیدا کی گئی ہے۔ اس پانی میں جنین پرورش پاتا ہے اور مخصوص وقت پر جھلّی اور چھلکا توڑ کر باہر نکل آتا ہے۔ یہاں بھی پانی کی غیرموجودگی جنین کے نشوونما پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ دودھیلے حیوانات کے (مثلاً گائے، بھینس، بکری وغیرہ اور انسان بھی ان میں شامل ہے) رحم میں پرورش پاتے ہوئے جنین کے گرد تین پردے ہوتے ہیں جن میں پانی بھرا ہوتا ہے اور جنین درحقیقت اس پانی میں تیرتا رہتا ہے۔ اسی کے ذریعے اپنی غذا بھی حاصل کرتا ہے اور جسم میں پیدا ہونے والے گندے مادے بھی خارج کرتا ہے اور پیدایش کے وقت اس پانی کی قوت سے اپنے مقررہ وقت پر رحم مادر سے خارج کردیا جاتا ہے۔ پرورش پانے والے جنین کے گرد پانی کی کمی یا زیادتی اس کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا یہاں بھی پانی کا موجود ہونا اور متوازن ہونا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَo(الانبیاء ۲۱:۳۰)،’اور ہرزندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے‘‘۔
۞پانی اور انسانی جسم: پانی میں ایک خصوصیت یہ بھی اللہ نے پیدا کی ہے کہ ٹھنڈا ہونے کی صورت میں اس کے اندر موجود حرارت خارج ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب پانی کے بخارات ٹھنڈے ہوتے ہیں تو ان کے اندر سے بھی حرارت خارج ہوتی ہے۔ یہ پانی کی مخفی حرارت کہلاتی ہے۔ پانی جلد گرم نہیں ہوتا، یعنی پانی کو گرم کرنے کے لیے زیادہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے پانی کی حرّی صلاحیت کہتے ہیں۔ پانی میں سے حرارت تیزی سے گزر جاتی ہے۔ اس کو پانی کی حرارت پذیری کہا جاتا ہے، اور خاص درجۂ حرارت، یعنی ۱۰۰درجہ سینٹی گریڈ پر پانی بخارات میں تبدیل ہوکر اتنا ہلکا ہوجاتا ہے کہ ہوا اسے اپنے دوش پر عالمِ بالا کی طرف بادلوں کی شکل میں لے جاتی ہے۔
غور کریں کہ پانی کی یہ خصوصیات انسانی جسم کو کس طرح چاق چوبند رکھتی ہیں۔ انسانی جسم کا درجۂ حرارت بالعموم ۲۵تا ۴۰درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ اگر یہ درجۂ حرارت کسی ایک ہی درجے پر قائم ہوجائے اور طویل عرصے تک قائم رہے توموت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایک طویل عرصے تک جسم کا درجۂ حرارت ۴۰درجہ سینٹی گریڈ پر قائم رہے تو انسان کے جسم کے اندر موجود پانی جو جسم کے افعال میں توازن قائم رکھتا ہے جس سے انسان چاق چوبند رہتا ہے، اس میں انتشار پیدا ہوجائے گا اور یہ توازن درہم برہم ہوجائے گا۔
۞پانی کی شفافیت: قدرتی پانی نہایت شفاف ہوتا ہے، یعنی اس میں کیمیاوی اجزا کی آمیزش نہیں ہوتی۔ اسے آپ مقطر بھی کہہ سکتے ہیں۔ بالعموم بارش کا پانی آبِ مقطر ہوتا ہے۔ پانی کی شفافیت اور سورج کی روشنی کا اس میں سے گزرنے کا بھی ایک تعلق ہے۔ نظر آنے والی روشنی شفاف پانی سے گزر جاتی ہے۔ روشنی کی انفراریڈ شعاع جو تپش بھی پیدا کرتی ہے وہ بھی چند ملی میٹر گہرائی تک پانی میں اُتر جاتی ہے۔ اسی لیے سمندر اور دریاؤں کا پانی اتنی ہی گہرائی تک سورج کی روشنی سے متاثر ہوتا ہے، جب کہ اس سے زیادہ گہرائی میں پانی دُور دُور تک ایک ہی درجۂ حرارت پر رہتا ہے۔ سورج کی روشنی کی مختلف رنگت کی شعاعیں بھی صرف ۱۰۰میٹر کی گہرائی تک پانی میں اُترتی ہیں مگر ارزق(نیلی) اور سبز رنگت کی شعاعیں تقریباً ۲۴۰میٹر تک گہرائی میں پہنچتی ہیں۔ اس کی وجہ سے دریا اور سمندروں کی اس گہرائی میں آبی پودے اُگتے ہیں جن کو ضیائی تالیف (فوٹو سنتھسز) کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب قدرتِ حق کے خدائی توازن کا حصہ ہے۔
۞اللہ نے ٹھیک حساب کے مطابق پانی اُتارا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًم بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ وَاِِنَّا عَلٰی ذَھَابٍم بِہٖ لَقٰدِرُوْنَo(المومنون۲۳:۱۸)، اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا۔
وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًم بِقَدَرٍ فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ o(الزخرف ۴۳:۱۱)، جس نے (اللہ نے) ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اُتارا۔ اور اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھایا۔
آسمان اور زمین، یعنی کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بیک وقت پانی کی اتنی مقدار نازل فرمائی جو قیامت تک کرۂ زمین کی ضروریات کے لیے اُس کے علم میں کافی تھی۔ وہ پانی زمین کے نشیبی حصوں میں ٹھیرگیا، جس سے سمندر اور بحرے وجود میں آئے اور زیرزمین پانی پیدا ہوا۔ اب اسی پانی کا اُلٹ پھیر(دوران) ہے جو گرمی سردی اور ہواؤں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔ اسی سے بارشیں وجود پاتی اور زمین کے مختلف حصوں میں پانی پھیلایا جاتا رہتا ہے۔ یہی پانی بے شمار چیزوں کی پیدایش اور ترکیب میں استعمال ہوتا رہتا ہے۔ ابتدا سے آج تک پانی کے اس ذخیرے میں نہ تو ایک قطرے کی کمی ہوتی ہے اور نہ ایک قطرہ اضافے کی ضرورت ہی پیش آتی ہے۔ ہزاروں سال سے اللہ کا قائم کیا ہوا پانی کا یہ مقداری توازن قائم ہے۔ انسان تو اس توازن میں بگاڑ پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں۔یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ پانی ہی نہیں بلکہ کائنات کی ہرچیز،مثلاً ہوا، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہرچیز، ہرنوع، ہرجنس اور قوت و طاقت، توانائی کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہےاور ایک مقدار مقرر ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے اور نہ بڑھتی ہے۔
۞اگر پانی زمین میں اُتر جائے: یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ وہ اللہ جس نے آسمان سے زمین پر پانی برسایا، اگر اس پانی کو زمین کے اندر گہرائی میں اُتار لے جائے تو بارش کہاں سے برسے گی اور زمینی مخلوق کے لیے پانی کہاں سے حاصل ہوگا؟ گویا اس بات کا امکان ہے۔ اللہ نے اس کی تنبیہ ضرور کی ہے مگر وہ بڑا ارحم الراحمین ہے!
قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ o(الملک ۶۷:۳۰)ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا تمھارے کنوؤں کا پانی زمین میں اُتر جائے تو کون ہے جو پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمھیں نکال کر لا دے گا۔
۞اگر پانی کھارا بنا دیا جائے: ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَفَرَاَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ
oءَ اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ oلَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلاَ تَشْکُرُوْنَo(الواقعہ۵۶:۶۸۔۷۰)’’کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو، اسے تم نے بادل سے برسایا ہے، یا اس کے برسانے والے ہم ہیں؟ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بناکر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے؟
وَّاَسْقَیْنٰکُمْ مَّآءً فُرَاتًاo(المرسلات۷۷:۲۷)اور تمھیں میٹھا پانی پلایا۔
بارش سے برسایا جانے والا پانی میٹھا اور پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اگر اللہ بارش کا یہ نظام قائم نہ کرتا تو کرۂ ارض کے باسیوں کے لیے میٹھے پانی کا حصول ناممکن تھا، لہٰذاکرۂ ارض پر زندگی کا وجود ناممکن ہوتا۔ یہ صرف اللہ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے بارش کو میٹھے پانی کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے اور کرۂ ارض کی ساری مخلوق اس سے مستفید ہورہی ہے۔
پانی___ ایک وسیع عنوان ہے جو ایک علیحدہ اور جامع مضمون کا متقاضی ہے۔
۞ماحول کی تپش:کرۂ ارض کی وہ تپش جو پانی کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے، سورج کی روشنی میں موجود حرارت سے حاصل ہوتی ہے۔ نظامِ شمسی میں کرۂ ارض سے سورج کا فاصلہ ۹۳ملین میل ہے۔ اس کا قطر زمین سے ۱۰۳گنا بڑا ہے۔ زمین کی اپنے محور پر گردش کے باعث اس کا وہ حصہ جو سورج کے سامنے آتا جاتا ہے روشن ہوجاتاہے اور یہاں تقریباً ۱۲گھنٹے کا دن ہوتا ہے، جب کہ زمین کا وہ حصہ جو سورج کے سامنے نہیں ہوتا، وہاں رات ہوتی ہے۔ زمین سورج کی کرنوں سے وافر مقدار میں تپش حاصل کرلیتی ہے جس سے اس کے ماحول میں ہروقت تپش رہتی ہے اور اس تپش کی حد۲۰۔ تا ۱۲۰+سینٹی گریڈ کی حد میں رہتی ہے۔ یہی تپش ہے جو زمین پر موجود پانی خصوصاً سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے جو بادلوں کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
سائنس دانوں کی یہ دل چسپ تحقیق ہے کہ کرۂ ارض کا سورج سے فاصلہ اور زمین کے محور کا سورج کے مدار کی سمت ۲۳درجے کاجھکاؤ___ یہ دو وجوہ ہیں جن کے باعث کرۂ ارض کا درجہ حرارت ۲۰۔ تا ۱۲۰+ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ یہی وہ درجۂ حرارت ہے جس میں جان دار اپنا وجود قائم رکھتی ہے ورنہ زمین پر بھی دوسرے سیاروں کی طرح جان دار کا وجود ناممکن ہوتا۔ تپش کا یہی وہ توازن ہے جو اللہ نے زمین پر قائم رکھا ہوا ہے۔ زمین پر پہاڑ میخوں کے ذریعے مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور ایستادہ ہیں، کسی طرف لڑھک نہیں جاتے۔ اس صورت میں یہ زمین کا توازن بھی قائم رکھتے ہیں تاکہ زمین کسی ایک طرف ڈھلک نہ جائے۔ پہاڑوں کے دامن میں قدرے گرم ماحول اور بلندی پر ٹھنڈا ماحول بھی توازن قائم رکھنے میں مددگار ہے۔
سورج کی حرارت جہاں پانی کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے وہیں ایک اور اہم کام بھی کرتی ہے۔ زمین پر موجود پودوں کے سبز پتوں میں موجود خلیوں میں موجود سبزینہ(کلوروفل)نامی کیمیاوی مادہ موجود ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی اس میں جذب ہوجاتی ہےاور اس میں موجود پانی میں، جو پودے کی جڑوں کے ذریعے جذب ہوکر تنے اور شاخوں اور پتوں کی نالیوں کے ذریعے آتا ہے، اس سے اور پتوں میں موجود آکسیجن گیس کے تعامل کے ذریعے گلوکوز نامی غذا بناتی ہے۔ گلوکوز دراصل بنیادی غذا ہے جو بعد میں نشاستے میں تبدیل ہوکر پودے کے مختلف حصوں میں جمع ہوجاتا ہے۔
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages