مِیر مستحسن۔ خلیقؔ
میر حسن کے صاحبزادے، حُسنِ اخلاق اور اوصاف کی بزرگی میں بزرگوں کے فرزند رشید تھے، متانت، سلامت روی اور مسکینی ان کی سیادت کے لئے محضر شہادت دیتے تھے۔ فیض آباد اور لکھنؤ میں تعلیم و تربیت پائی تھی، 16 برس کی عمر مشقِ سخن شروع کی اور خلق حسن کی مناسبت سے خلیقؔ تخلص اختیار کیا۔ ابتدا میں غزلیں بہت کہتے تھے اور والد بزرگوار سے اصلاح لیتے تھے۔ جب شیخ مصحفیؔ لکھنؤ میں پہونچے تو میر حسنؔ ان دنوں بدر منیر لکھ رہے تھے، اور میر خلیق کی آمد کا یہ عالم کہ مارے غزلوں کے دم نہ لیتے تھے، شفیق باپ کو اپنے فکر سے فرصت نہ دیتے تھے۔ بیٹے کو ساتھ لے گئے اپنی کم فرصتی کا حال بیان کیا اور اصلاح کے لئے شیخ موصوف کے سپرد کر دیا، ہونہار جوان کی جوان طبیعت نے رنگ نکالا تھا کہ قدردانی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور نیشا پوری خاندان میں پندرہ روپیہ مہینے کا نوکر رکھوا دیا۔ انہی دنوں میں مرزا تقی ترقی (مرزا تقی ترقی خاندان مذکور میں ایک عالی ہمت امیر تھے اور سرکار اودھ میں جاگیردار تھے۔) نے چاہا کہ فیض آباد میں شعر و سخن کا چریا ہو۔ مشاعرہ قائم کیا اور خواجہ حیدر علی آتش کو لکھنؤ سے بلایا، تجویز یہ تھی کہ انھیں وہیں رکھیں۔ پہلے ہی جلسہ میں جو میر خلیقؔ نے غزل پڑھی۔ اُس کا مطلع تھا۔
رشکِ آئینہ ہے اس رشکِ قمر کا پہلو
صاف ادھر سے نظر آتا ہے اُدھر کا پہلو
آتش نے اپنی غزل پھاڑ ڈالی اور کہا کہ جب ایسا شخص یہاں موجود ہے تو میری کیا ضرورت ہے۔
میر خلیقؔ نازک خیالیوں میں ذہن لڑا رہے تھے کہ باپ کی موت نے شیشہ پر پتھر مارا، عیال کا بوجھ پہاڑ ہو کر سر پر گرا، جس نے آمد کے چشمے خاک ریز کر دیئے۔ مگر ہمّت کی پیشانی پر ذرا بل نہ آیا۔ اکثر فیض آباد میں رہتے تھے، لکھنؤ آتے تھے تو پیر بخارا میں ٹھہرا کرتے تھے۔ پر گوئی کا یہ حال تھا کہ مثلاً ایک لڑکا آیا۔ اس نے کہا میر صاحب! آٹھوں کا میلہ ہے ہم جائیں گے ایک غزل کہہ دیجیے۔ اچھا بھئی کہہ دیں گے، میر صاحب! میلہ تو کل ہے، ہم کل جائیں گے ابھی کہہ دیجیے۔ اسی وقت غزل لکھ دی، اس نے کہا، یاد بھی کرا دیجیے۔ میر صاحب اسے یاد کروا رہے ہیں، اُن دنوں میں غزلیں بِکا کرتی تھیں۔ میاں مصحفیؔ تک اپنا کلام بیچتے تھے، یہ بھی غزلیں کہہ کر فروخت کرتے تھے۔
ایک دن ایک خریدار آیا اور اپنا تخلص ڈلوا کر شیخ ناسخؔ کے پاس پہونچا کہ اصلاح دے دیجیے۔ شیخ صاحب نے غزل پڑھ کر اس کی طرف دیکھا اور بگڑ کر کہا، ابے تیرا منھ ہے جو یہ غزل کہے گا، ہم زبان پہچانتے ہیں۔ یہ وہی پیر بخارا والا ہے۔
میر خلیقؔ صاحبِ دیوان تھے۔ مگر اُسے رواج نہیں دیا۔ نقد سخن اور سرمایہ مضامین جو بزرگوں ے ورثہ پہونچا تھا اُسے زاد آخرت میں صرف کیا اور ہمیشہ مرثیے کہتے رہے، اسی میں نام اور زمانہ کا کام چلتا رہا۔آپ ہی کہتے تھے اور آپ ہی مجلسوں میں پڑہتے تھے۔ قدر دان آنکھوں سے لگا لگا کر لے جاتے تھے۔
سید انشاء دریائے لطافت میں جہاں شرفائے دہلی کے رسوم و رواج بیان کرتے ہیں، وہاں کہتے ہیں کہ مرثیہ خوانی کے پیشہ کو لوگ کم نظر سے دیکھتے ہیں۔اور غور سے دیکھو تو اب بھی یہی حال ہے۔ مرثیہ گوئی کی یہ صورت رہی کہ سوداؔ اور میرؔ کے زمانے میں میاں سکندرؔ، میاں گداؔ، میاں مسکینؔ، افسردہؔ وغیرہ مرثیے کہتے تھے، تصنیفات مذکورہ کو دیکھو تو فقط تبرک ہیں، کیونکہ اِن بزرگوں کو نظم مذکور سے فقط گریہ و بکا اور حصولِ ثواب مقصود تھا، اور اس میں شک نہیں کہ وہ نیک نیت لوگ حُسنِ تاثیر سے اپنے مقصد میں کامیاب تھے، شاعری اور صنائع انشاء پردازی سے کچھ غرض نہ تھی۔ میر خلیقؔ اور اس عہد کے چند اشخاص تھے، جنھوں نے کدورت ہائے مذکورہ کو دھو کر مرثیوں کو ایسا چمکا دیا کہ جس نظر سے اساتذہ شعراء کے کلام دیکھے جاتے تھے، اسی نظر سے لوگ انھیں بھی دیکھنے لگے اور پہلے مرثیے سُوز میں پڑھے جاتے تھے۔ پھر تحت لفظ بھی پڑہنے لگے۔
مرثیہ گو اور مرثیہ خوانی کے میدان میں جو ہوا بدلی وہ میر خلیقؔ کے زمانہ سے بدلی۔ پہلے اکثر جو مصرع ہوتے تھے، ہر چار مصرعے کے بعد قافیہ وہ انداز موقوف ہوا، ایک سلام غزل کے انداز میں اور مرثیہ کے لئے مسّدس کا طریقہ آئین ہو گیا، وہ سوز اور تحت لفظ دونوں طرح سے پڑھا جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مستزاد کے اُصول پر کہتے تھے وہ نوحہ کہلاتا تھا، اُسے سوز ہی میں پڑہتے تھے اور یہی طریقہ اب تک جاری ہے، میر موصوف اور ان کے بعض ہم عہد سلام یا مرثیے وغیرہ کہتے تھے، ان میں مصائب اور ماجرائے شہادت ساتھ اس کے فضائل اور معجزات کی روایتیں اس سلاست اور سادگی اور صفائی کے ساتھ نظم کرتے تھے کہ واقعات کی صورت سامنے تصویر ہو جاتی تھی اور دل کا درد آنکھوں سے آنسو ہو کر ٹپک پڑتا۔
اس زمانہ میں میر ضمیر ایک مرثیہ گو اور مرثیہ خواں تھے کہ طبع شعر کے ساتھ عربی، فارسی وغیرہ علوم رسمی میں استعداد کامل رکھتے تھے، اور نہایت متقی و پرہیز گار شخص تھے، تعجب یہ ہے کہ ساتھ اس کے طبیعت میں شوخی اور ظرافت بھی اتنی رکھتے تھے گویا سوداؔ کی روح نے حلول کیا۔ انھوں نے بھی اپنی دنیا کو آخرت کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا اور غزل وغیرہ سے دست بردار ہو گئے تھے، لوگوں نے ان دونوں بزرگوں کو نقطہ مقابل کر کے تعریفیں شروع کر دیں۔ طبیعتیں ایک دوسرے کی چوٹ پر زور آزمائی کر کے نئے نئے ایجاد پیدا کرنے لگیں۔
مرثیہ اس وقت تک 30 سے 45 حد، 50 بند تک ہوتا تھا، میر ضمیر مرحوم نے ایک مرثیہ لکھا۔ مصرعہ : "کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے " اس میں شہزاد علی اکبر کی شہادت کا بیان ہے، پہلے ایک تمہید سے مرثیہ کا چہرہ باندھا پھر سراپا لکھا۔ پھر میدانِ جنگ کا نقشہ دکھایا اور بیان شہادت پر خاتمہ کر دیا چونکہ پہلا ایجاد تھا۔ اس لئے تعریف کی آوازیں دُور دُور تک پہنچیں، تمام شہر میں شہرہ ہو گیا، اور اطراف سے طلب میں فرمائشیں آئیں۔ یہ ایجاد مرثیہ گوئی کے عالم میں انقلاب تھا کہ پہلی روش متروک ہو گئی، باوجودیکہ انھوں نے مقطع میں کہہ دیا تھا۔
دس میں کہوں سو (۱۰۰) میں کہوں یہ درد ہے میرا
اس طرز میں جو کہوے سو شاگرد ہے میرا
پھر بھی سب اس کی پیروی کرنے لگے، یہاں تک پہلے امانت نے پھر اور شاعروں نے واسوخت میں سراپا کو داخل کیا۔
عہد مذکور میں چار مرثیہ گو نامی تھے۔ میر ضمیر، میر خلیقؔ، میاں دلگیر (میاں دلگیر شیخ ناسخ کے شاگرد تھے، مرزا فصیح میاں دلگر سے اور شیخ ناسخ سے )، میاں فصیح، میاں دلگیر کی زبان میں لکنت تھی، اس لئے مرثیہ خوانی نہ کرتے تھے، تصنیف میں بھی انھوں نے مرثیت کے دائرہ سے قدم نہیں بڑھایا۔ مرزا فصیحؔ حج و زیارات کو گئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ میر ضمیرؔ اور میر خلیقؔ کے لئے میدان خالی رہا کہ جولانیاں دکھائیں دُنیا کے تماشائی جنہیں تیر طبیعتوں کے اڑانے میں مزا آتا ہے، دونوں اُستادوں کو تعریفیں کر کے لڑاتے تھے اور دل بہلاتے تھے اور اس سے اُن کے ذہن کو کمال کی ورزش اور اپنے دلوں کو چاشنی ذوق کی لذت دیتے تھے۔
اظہار کمال میں دونوں اُستادوں کی رفتار الگ الگ تھی۔ کیونکہ میر ضمیرؔ استعداد علمی اور زور طبع کے بازوؤں سے بہت بلند پرواز کرتے تھے اور پورے اترتے تھے۔ میر خلیقؔ مرثیت کے کوچہ سے اتفاقاً ہی قدم آگے بڑھاتے تھے، وہ مضمون آفرینی کی ہوس کم کرتے تھے اور ہمیشہ محاورہ اور لطف زبان کو خیالات درد انگیز کے ساتھ ترکیب دے کر مطلب حاصل کرتے تھے، اور یہ جوہر اس آئینہ کا کافی اور خاندانی وصف تھا، ان کا کلام بہ نسبت سبحان اللہ واہ واہ کے نالہ و آہ کا زیادہ طلبگار تھا، لڑنے والے ہر وقت اپنے کام میں مصروف تھے۔ مگر دونوں صاحب اخلاق اور سلامت روی کے قانون داں تھے، کبھی ایک جلسہ میں جمع نہ ہوتے تھے۔
آخر ایک شوقین نیک نیت نے روپیہ کے زور اور حکمت عملی کی مدد سے قانون کو توڑا، وہ بھی فقط ایک دفعہ، صورت یہ کہ نواب شرف الدولہ مرحوم نے ھ اپنے مکان پر مجلس قرار دے کر سب خاص و عام کو اطلاع دی اور مجلس سے ایک دن پہلے میر ضمیرؔ مرحوم کے مکان پر گئے۔ گفتگوئے معمولی کے بعد پانچ سو روپیہ کا توڑا سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ "کل مجلس ہے مرثیہ آپ پڑھیے گا۔" بعد اس کے میر خلیقؔ کے ہاں گئے، اُن سے بھی وہی مضمون ادا کیا اور ایک دوسرے کے حال سے آگاہ نہ کیا۔ لکھنؤ شہر میں روز معین پر ہزاروں آدمی جمع ہوئے، ایک بچے کے بعد میر ضمیر منبر پر تشریف لے گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا، ان کا پڑھنا سبحان اللہ، مرثیہ نظم اور اس پر نثر کے حاشیے، کبھی رُلاتے تھے اور کبھی تحسین و آفرین کا غل مچواتے تھے کہ میر خلیقؔ بھی پہونچے اور حالت موجودہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور دل میں کہا کہ آج کی شرم بھی خدا کے ہاتھ ہے۔ میر ضمیرؔ نے جب انھیں دیکھا تو زیادہ پھیلے اور مرثیہ کو اتنا طول دیا کہ آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر تحسین بلکہ وقت میں گنجائش بھی نہ چھوڑی، آفتاب یوں ہی سا جھلکتا رہ گیا۔وہ ابھی منبر سے اُترے ہی تھے کہ چوبدار ان کے پاس آیا اور کہا کہ نواب صاحب فرماتے ہیں، آپ بھی حاضرین کو داخل حسنات فرمائیں۔ اس وقت ان کے طرفداروں کی بالکل صلاح نہ تھی۔ مگر یہ توکّل بخدا کھڑے ہوئے اور منبر پر جا کر بیٹھے، چند ساعت توقف کیا۔ آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھے رہے، ان کی گوری رنگت، جسم نحیف و ناتواں نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بدن میں لہو کی بوند ہے یا نہیں۔ جب انھوں نے رباعی پڑھی تو اہل مجلس کو پوری آواز بھی نہیں سنائی دی۔ مرثیے کے چند بند بھی اس حالت میں گزر گئے۔ دفعتہً باکمال نے رنگ بدلا اور اس کے ساتھ ہی محفل کا بھی رنگ بدلا، آہوں کا دھواں ابر کی طرح چھا گیا اور نالہ و زاری نے آنسو برسانے شروع کئے۔ 15، 20 بند پڑھے تھے کہ ایک کو دوسرے کا ہوش نہ رہا، 25 یا 40 بند پڑھ کر اُتر آئے۔ اہل مجلس اکثر ایسی حالت میں تھے کہ جب آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو منبر خالی تھا۔ نہ معلوم ہوا کہ میر خلیقؔ صاحب کس وقت منبر سے اُتر آئے۔ دونوں کے کمال پر صاد ہوا اور طرفین کے طرفدار سرخرو گھروں کو پھرے۔
روایت مندرجہ بالا میر مہدی حسن فراغؔ کی زبانی سنی تھی لیکن میر علی حسنؔ اشکؔ تخلص کہ میر عماد خوشنویس کی اولاد میں ہیں، خود ناسخؔ کے شاگرد اور صاحب دیوان ہیں۔ ان کے والد جنتیؔ تخلص فقط مرثیہ کہتے تھے اور میاں دلگیرؔ کے شاگرد تھے۔ میر اشک اب بھی حیدر آباد میں بزمرہ منصب داران ملازم ہیں، ان کی زبانی مولوی شریف حسین خاں صاحب نے بیان کیا کہ لکھنؤ میں ایک غریب خوش اعتقاد شخص بڑے شوق سے مجلس کیا کرتا تھا اور اسی رعایت سے ہر ایک نامی مرثیہ خواں اور لکھنؤ کے خاص و عام اس کے ہاں حاضر ہوتے تھے۔ یہ معرکہ اس کے مکان پر ہوا تھا، اور میر ضمیرؔ کے اشارے سے ہوا تھا۔ میر اشک فرماتے تھے کہ میر خلیق نے اپنے والد کے بعد چند روز بہت سختی سے زندگی بسر کی۔ عیال فیض آباد میں تھے، آصف الّدولہ لکھنؤ میں ان کے سبب سے تمام اُمراء یہیں رہنے لگے۔ میر موصوف لکھنؤ میں آتے تھے، سال بھر میں تین چار سو روپے حاصل کر کے لے جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مشجاتے تھے اور پرورش عیال میں صرف کرتے تھے، صورت حال یہ تھی کہ مرثیوں کا جزدان بغل میں لے لیا اور لکھنؤ چلے آئے، یہاں ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت خالی پڑی رہتی تھی۔ اس میں آ کر اترتے تھے۔ ایک دفعہ وہ آئے، بستر رکھ کر آگ سلگائی تھی، آٹا گوندھ رہے تھے کہ شخص مذکور ہاتھ جوڑ کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ اور کہا کہ حضور! مجلس تیار ہے۔ میری خوش نصیبی سے آپ کا تشریف لانا ہوا ہے چل کر مرثیہ پڑھ دیجیے۔ یہ اسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ دھو جزدان لے اس کے ساتھ ہو لئے، وہاں جا کر دیکھا تو میر ضمیرؔ،منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہیں یہ واقع ہوا اور اسی دن سے میر خلیقؔ نے مرثیہ خوانی میں شہرت پائی۔
میر خلیقؔ کے کلام کا اندازہ اور خوبی محاورہ اور لطف زبان یہی سمجھ لو جو آج میر انیسؔ کے مرثیوں میں دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ ان کے ہاں مرثیت اور صورت حال کا بیان درد انگیز تھا۔ ان کے مرثیوں میں تمہیدیں اور سامان اور سخن پردازی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اُن کے ادائے کلام اور پڑھنے کی خوبی دیکھنے اور سننے کے قابل تھی۔ اعضا کی حرکت سے بالکل کام نہ لیتے تھے۔ فقط نشست کا انداز اور آنکھ کی گردش تھی۔ اسی میں سب کچھ ختم کر دیتے تھے، میر انیسؔ مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا کہیں اتفاقاً ہی ہاتھ اُٹھ جاتا تھا، یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی، ورنہ کلام ہی سارے مطالب کے حق پورے پورے ادا کر دیتا تھا۔
میر خلیقؔ نے اپنے بڑھاپے کے سبب سے، اخیر عمر میں مرثیہ پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ شعراء شاگردان الہی ہیں، ان کی طبیعت میں غیر اور جوش اوروں سے بہت زیادہ بلند ہوتا ہے، میر انیسؔ کی مرثیہ خوانی مشرق سے طلوع ہونے لگی تھی، جب کوئی آ کر تعریف کرتا کہ آج فلاں مجلس میں کیا خوب پڑھے ہیں، یا فلاں نواب کے ہاں تمام مجلس کو لٹا دیا، تو انھیں خوش نہ آتا تھا، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اسی عالم ناتوانی میں منبر پر جا بیٹھے، اور مرثیہ پڑھا، اس سے مطلب یہ تھا کہ اس گئی گزری حالت میں بھی ہمیں درماندہ نہ سمجھنا۔
میر خلیق صاحب نے پیرانہ سالی کی تکلیف اُٹھا کر دُنیا سے انتقال کیا۔ میں ان دنوں خورد سال تھا۔ مگر اچھی طرح یاد ہے، جب ان کا کلام دلّی میں پہنچا وہ سالِ اخیر کی تصنیف تھا۔
مجرائی طبع کند ہے، لطفِ بیاں گیا
دنداں گئے کہ جوہرِ تیغ زباں گیا
ایک دو شعر ضعف پیری کی شکایت میں اور بھی تھے اور مقطع تھا۔
گزری بہار عمر خلیقؔ اب کہیں گے سب
باغ جہاں سے بلبلِ ہندوستاں گیا
اخیر عمر میں ضعف کے سبب سے مرثیہ نہ پڑھتے تھے، لیکن قدرتی شاعر کی زبان کب بند رہتی ہے، بی بی کے مرنے سے گھر کا دروازہ بند کر دیا تھا، تین صاحبزادے تھے، انیسؔ، مونسؔ، اُنس، میر خلیق ہمیشہ دورہ میں رہتے تنھے۔ دس دس، پندرہ پندرہ دن ہر ایک کے ہاں بسر کر دیتے تھے کہیں جاتے آتے بھی نہ تھے۔ پلنگ پر بیٹھے رہتے تھے اور لکھے جاتے تھے، کوئی شگفتہ زمین خیال میں آئی، اس میں سلام کہنے لگے، دل لگ گیا تو پورا کیا، نہیں تو چند شعر کہے اور چھوڑ دیئے، کوئی تمہید سو بھی، مرثیہ کا چہرہ باندھا، جتنا ہوا اُتناہوا، جو رہ گیا، کوئی روایت نظم کرنی شروع کر دی۔ گھوڑے کا مضمون خیال میں آیا وہی کہتے چلے گئے، کبھی طبیعت لڑ گئی تلوار کی تعریف کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ، یہ بھی قاعدہ تھا کہ جو کچھ جس کے گھرمیں کہتے تھے وہ اسی کے گھر چھوڑ کر پہلے آتے تھے، یہ سرمایہ میر انیسؔ کے پاس سب سے زیادہ رہا کہ ان کے گھر میں زیادہ رہتے تھے کیونکہ ان کی بی بی کھانوں اور آرام و آسائش کے سامانوں سے اپنے ضعیف العمر بزرگ کو بہت اچھی طرح رکھتی تھیں۔
ان کی بلکہ ان کے گھرانے کی زبان محاورہ کے لحاظ سے سب کے نزدیک سندھی تھی، شیخ ناسخؔ کی منصفی اور حق پرستی پر رحمت و آفریں کے سہرے چڑھائیے، اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ بھئی زبان سیکھنی ہے تو میر خلیقؔ کے ہاں جایا کرو، اور اس کے علاوہ بھی اُن کے کمال کو فروغ دیتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تینوں بیٹے ہونہار ہیں۔ دیکھنا خوب ہوں گے، میر خلیقؔ محاورے کے اس قدر پابند تھے کہ ان کے محضر کمال پر بجائے مُہر کے بعض لوگوں نے کم علمی کا داغ لگایا۔ انھوں نے شہزادہ علی اصغر کے حال میں ایک جگہ لکھا کہ عالم بے آبی میں پیاس کی شدّت سے غش آ گیا، آنکھ کھولی تو مادر مقدسہ نے، مصرعہ "لیلاف پڑھی اور اسے دودھ پلایا" حریف آٹھ پہر تاک میں تھے، کسی نے یہ مصرع ناسخؔ کے سامنے جا کر پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، یوں کہا ہو گا۔ مصرعہ "پڑھ پڑھ کے لایلاف اُسے دودھ پلایا۔"
میر انیسؔ فرماتے تھے کہ والد میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ میں ایک مرثیہ میں وہ روایت نظم کر رہا تھا کہ جناب امام حسین علیہ السلام عالمِ طفولیت میں سواری کے لئے ضد کر رہے تھے، جناب آنحضرت تشریف لائے اور فرطِ شفقت سے خود جھک گئے کہ آؤ سوار ہو جاؤ۔ تاکہ پیارے نواسے کا دل آزردہ نہ ہو، اس موقع پر ٹیپ کا دوسرا مصرعہ کہہ لیا تھا۔ اچھا سوار ہو جیئے ہم اونٹ بنتے ہیں۔ پہلے مصرعہ کے لئے اُلٹ پلٹ کرتا تھا، جیسا کہ دل چاہتا تھا ویسا برجستہ نہ بیٹھتا تھا، والد نے مجھے غور میں غرق دیکھ کر پوچھا، کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے مضمون بیان کیا اور مصرعے جو خیال میں آئے تھے پڑھے، فرمایا یہ مصرع لگا دو (ذرا زبان کی لطافت تو دیکھو)۔
جب آپ روٹھتے ہیں تو مشکل سے منتے ہیں
اچھا سوار ہو جئے ہم اُونٹ بنتے ہیں
افسوس کہ ان کی کوئی پوری غزل ہاتھ نہ آئی، دو شعر یاد ہیں وہی لکھ دیتا ہوں۔
اشک جو چشم خوں فشاں سے گرا
تھا ستارہ کہ آسماں سے گرا
ہنس دیا یار نے جو رات خلیقؔ
کھا کے ٹھوکر اس آستاں سے گرا
شاہ نصیرؔ
نصیرؔ تخلص نصیر الدین نام تھا، مگر چونکہ رنگت کے سیاہ فام تھے، اس لئے گھرانے کے لوگ میاں کلّو کہتے تھے۔ وطن ان کا خاص دھلی تھا۔ والد شاہ غریب نام ایک بزرگ تھے کہ اپنی غربت طبع اور خاکساری مزاج کی بدولت اسم با مسمیٰ غریب تھے۔ نیک نیتی کا ثمرہ تھا کہ نام کی غریبی کو امیری میں بسر کرتے تھے۔ شہر کے رئیس اور امیر سب ادب کرتے تھے مگر وہ گوشہ عافیت میں بیٹھے اپنے معتقد مریدوں کو ہدایت کرتے رہتے تھے، ان بزرگوں کے نام چند گاؤں دربار شاہی سے آل تمغا معاف تھے۔ ملا ماجراؔ اور ہرسانہؔ علاقہ سونی پت میں سلیم پور علاقہ غازی آباد میں، وزیر آباد، شہر دہلی کے پاس جہاں مخدوم شاہ عالم کی درگاہ ہے اور اب تک 7 جمادی الاول کو وہاں عرس ہوتا ہے۔ اب فقط مولر بن ایک گاؤں بلب گڑھ کے علاقہ میں سید عبد اللہ شادان کے سجادہ نشین کے نام پر واگذاشت ہے غرض کہ شاہ غریب مرحوم نے اس اکلوتے بیٹھے کو بڑی ناز و نعمت سے پالا تھا اور استاد و ادیب نوکر رکھ کر تعلیم کیا تھا۔
عجیب اتفاق ہے کہ وہ کتابی علم میں کما حقہ کامیاب نہ ہوئے، البتہ نتیجہ اس کا اہل علم سے بہتر حاصل ہے، کیونکہ جو وہ کہتے تھے اسے عالم کان لگا کر سنتے تھے جو لکھتے تھے اس پر فاضل سر دھنتے تھے، ان کی طبیعت شعر سے ایسی مناسب واقع ہوئی تھی کہ بڑے بڑے ذی استعداد اور مشاق شاعر مشاعروں میں منھ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ سلسلہ تلمذ دو واسطہ سے سوداؔ اور دردؔ تک پہونچتا ہے کیونکہ یہ شاہ محمدی مائل کے شاگرد تھے اور وہ قیام الدین قائم کے قائم نے سوداؔ سے بھی اصلاح لی اور خواجہ میر دردؔ سے بھی انھوں نے انگریزی عملداری میں زندگی بسر کی لیکن شاہ عالم کے زمانہ میں شاعری جوہر دکھانے لگی تھی اور خاندانی عصمت نے ذاتی کمال کی سفارش سے دربار تک پہونچا دیا تھا۔ دربار کے اہل کمال کو عیدوں اور جشنوں کے علاوہ ہر فصل اور موسم پر سامان مناسب انعام ہوتے تھے۔ شعراء کو دیر ہوتی تو تقاضے سے بھی وصول کر لیتے تھے۔ ایک قطعہ بطور حسن طلب جاڑے کے موسم میں انھوں نے کہہ کر دیا تھا، اور صلہ حاصل کیا تھا۔ اس کے دو شعر مجھے یاد ہیں۔
بچا ے گا تو ہی اے میرے اللہ
کہ جاڑے سے پڑا بے ڈھب ہے پالا
پناہ آفتاب اب مجھ کو بس ہے
کہ وہ مجھ کو اڑھا دے گا دو شالا
اس میں لطف یہ ہے کہ آفتاب شاہ عالم بادشاہ کا تخلص تھا۔
سیاحی کی دولت میں سے جو سرمایہ انھیں حاصل ہوا، وہ بھی شاعری کی برکت سے تھا، جس کی مسافت جنوب میں حیدر آباد تک اور مشرق میں لکھنؤ تک پہونچی۔ اگرچہ دربار کے علاوہ تمام شہر میں بھی ان کی قدر اور عزت ہوتی تھی۔ مگر جن لوگوں کی عادتیں ایسے درباروں میں بگڑی ہوتی ہیں۔ ان کے دل تعلیم یافتہ حکومتوں میں نہیں لگتے اسی واسطے جب انگریزی عملداری ہوئی تو انھیں دکن کا سفر کرنا پڑا۔
دکن میں دیوان چند دلال کا دور تھا۔ اگرچہ کمال کی قدر دانی اور سخاوت ان کی عام تھی۔ مگر دلی والوں پر نظر پرورش خاص رکھتے تھے۔ اور بہت عزت سے پیش آتے تھے۔ بڑی خوش نصیبی یہ تھی کہ وہ شعر و سخن کی مذاق رکھتے تھے۔ غرض وہاں شاہ صاحب کے جواہرات نے خاطر خواہ قیمت پائی۔ دلّی کا چٹخارا ابھی ایسا نہیں کہ انسان بھول جائے۔ اس لئے انعام و اکرام سے مالا مال ہو کر پھر دلّی آئے اور تین دفعہ پھر گئے۔
دکن میں ان کے لئے فقط دولت کے فرشتے نے ضیافت نہ کی بلکہ حسن شاعری کی زہرہ آسمان سے اتری، اور شمس دلی کے عہد کا پرتو پھر دلوں پر ڈالا۔ شعر گوئی کے شوق جو برسوں سے بجھے چراغوں کی طرح طاقوں میں پڑے تھے۔ دل دل میں روشن ہو گئے اور ماحول کی محنتیں اس تیل ٹپکانے لگیں۔ اب بھی کوئ دلی سے دکن جائے تو شاہ صاحب کے شاگردوں کے نام اتنے سنے گا کہ دلّی کی کثرت تلامذہ کو بھول جائے گا۔
شاہ صاحب دو دفعہ لکھنؤ بھی گئے مگر افسوس ہے آج دہلی یا لکھنؤ میں کوئی اتنی بات کا بتانے والا نہ رہا کہ کس کس سنہ میں کہاں کہاں گئے تھے یا یہ کہ کس کس مشاعرہ میں اور کس کے مقابلہ میں کون کون سی غزل ہوئی تھی۔ اس میں شک نے کہ پہلی دفعہ جب گئے ہیں تو سید انشاء اور مصحفیؔ اور جرأتؔ وغیرہ سب موجود تھے اور بعض غزلیں جو ان معرکوں سے منسوب اور مشہور ہیں وہ مصحفیؔ کے دیوان میں بھی موجود ہیں، دیکھو صفحہ دہن سرخ ترا، چمن سرخ ترا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ لکھنؤ میں بزرگان باخلاق اور امرائے رتبہ شناس موجود تھے۔ وہ جوہر کو پہچانتے تھے اور صاحب جوہر کا حق مانتے تھے۔ جو جاتا تھا عزت پاتا تھا اور شکر گزار آتا لیکن دوسری دفعہ جو گئے تو رنگ پلٹا ہوا تھا۔ شیخ ناسخؔ کے زمانے کے عہد قدیم کو مسخ کر دیا تھا اور خواجہ آتشؔ کے کمال نے دماغوں کو گرما رکھا تھا۔ جوانوں کی طبیعتیں زور پر تھیں۔ نئی نئی شوخیاں انداز دکھاتی تھیں، انوکھی تراشیں پرانے سادہ پن پر مسکراتی تھیں، چنانچہ جس حریف کا افشان منزلوں کے فاصلہ سے دکھائی دیتا تھا، جب پاس آیا تو سب گردنیں ابھار ابھار دیکھنے لگے۔
یہ زبردست شاعر کہن سال مشاق، جس کا بڑھاپا جوانی کے زوروں کو چٹکیوں میں اڑاتا تھا، جس دن وہاں پہونچا تو مشاعروں میں شاید دو (۲) تین دن باقی تھے ہر استاد نے ایک دو دو مصرع کے بھیجے ادھر انھیں درد گردہ عارض ہوا مگر وہ درد کے ٹھہرتے ہی اٹھ بیٹھے اور آٹھ غزلیں تیار کر کے مشاعرہ میں آ پہنچے، پھر اور مشکل مشکل طرحیں مشاعرہ کے شاعروں نے بھیجیں اور یہ بھی بے تکلف غزلیں لے کر پہونچے، مگر وہاں کے صاحب کمال خود نہ آئے۔ جب دو تین جلسے اور اس طرح گزرے تو ایک شخص نے سر مشاعرہ مصرع طرح دیا وہ مصرع شیخ صاحب کا تھا اس وقت شاہ صاحب سے ضبط نہ ہو سکا۔ مصرع تو لے لیا مگر اتنا کہا کہ ان سے کہنا چکس پر گلدم لڑانے کی صحیح تو نہیں ہے۔ پالی میں آئیے کہ۔ دیکھنے والوں کو بھی مزا آئے، افسوس ہے کہ اس موقع پر بعض جہلاء نے جن سے کوئی زمانہ اور کوئی جگہ خالی نہیں اپنی یاوہ گوئی سے اہل لکھنؤ کی عالی ہمتی اور مہمان نوازی کو داغ لگایا چنانچہ ایک معرکہ کے مشاعرہ میں شاہ صاحب نے آٹھ غزلیں فرمائش کی کہہ کر پڑھی تھیں۔ ایک غزل اپنی طرح کی کہی ہوئی بھی پڑھی جس کی ردیف و قافیہ عشل کی مکھی اور نحل کی مکھی تھا، اس پر بعض اشخاص نے طنز کی، کسی شعر پر سبحان اللہ کیا خوب مکھی بیٹھی ہے، کسی نے کہا حضور! یہ مکھی تو نہ بیٹھی ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ قبلہ! غزل تو خوب ہے مگر ردیف سے جی متلانے لگا۔ شاہ صاحب نے اسی وقت کہا کہ جنھیں چاشنی سخن کا مذاق ہے وہ تو لطف ہی اٹھاتے ہیں، ہاں جنھیں صفرائے حسد کا زور ہے ان کا جی متلائے گا۔ان جلسوں میں استاد مسلم الثبوت نے علم استادی بے لاگ بلند کر دیا تھا، مگر بعض لغزشوں نے قباحت کی جن سے کوئی بشر خالی نہیں رہ سکتا چنانچہ ایک جگہ تظلم بجائے ظلم باندھ دیا تھا اسی پر سر مشاعرہ گرفت ہوئی اور غضب یہ ہوا کہ انھوں نے سند میں یہ شعر محتشم کاشیؔ کا پڑھا :
آل نبی چو دستِ تظلم بر آورند
ارکانِ عرش را بہ تزلزل در آورند
ایسی بھول چوک سے کوئی استاد خالی نہیں اور اتنی بات ان کے کمال میں کچھ رخنہ بھی نہیں ڈال سکتی، چنانچہ زور کلام نے وہیں بیسوں اشخاص ان کے شاگرد کر لئے۔ منشی کرامت علی اظہرؔ کہ اول اول لکھنؤ کی تمام کتب مطبوعہ پر انھیں کی تاریخیں ہوتی تھیں۔ ہمیشہ شاہ صاحب کی شاگردی کا دم بھرتے تھے۔
شاہ صاحب چوتھی دفعہ پھر دکن گئے، مگر اس دفعہ ایسے گئے کہ پھر نہ آئے۔ استاد مرحوم کہ شاہ صاحب کی استادی کو ہمیشہ زبان ادب سے یاد کرتے تھے۔ اکثر افسوس سے کہا کرتے تھے کہ چوتھی دفعہ ادھر کا قصد تھا جو ہر ماہ مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے کہا کہ اب آپ کا سن ایسے دور دراز سفر کے قابل نہیں، فرمایا میاں ابراہیم! وہ بہشت ہے، بہشت میں جاتا ہوں، چلو تم بھی چلو، استاد مرحوم عالم تاسف میں اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے ان کا ہی مطلع ان کے حسب حال ہوا۔
بیاباں مرگ ہے مجنونِ خاک آلودہ تن کس کا
سنے ہے سوزنِ خار مغیلاں تو کفن کس کا
آخر حیدر آباد میں جہان فانی سے رحلت ہوئی اور قاضی مخدوم موسیٰ کی خانقاہ میں دفن ہوئے۔ شاگرد نے چراغ گل کے الفاظ سے سن کی تاریخ (1254ھ) نکالی۔ دیوان اپنا مرتب نہیں کیا، جو غزلیں کہتے تھے ایک جگہ رکھتے تھے۔ جب بہت سی جمع ہو جاتیں تو تکیہ کی طرح ایک تھیلے میں بھرتے تھے، گھر میں دے دیتے تھے اور کہتے تھے احتیاط سے رکھ چھوڑو، متفرق غزلیں ایک دو مختصر جلدوں میں تھیں کہ اور بہت سا سرمایہ دکن ہی میں رہا، یہاں ان کی اولاد میں زمانہ کی گردش نے کسی کو سر نہ اٹھانے دیا جو کل کلام کی تہذیب اور ترتیب کرتا شاگردوں کے پاس بہت سی متفرق غزلیں ہیں، مگر کسی نے سب کو جمع نہیں کیا۔ ان کے دیوان کی ہر شخص کو تلاش ہے، چنانچہ دہلی میں میر حسین تسکین (وہی تسکینؔ شاگرد رشید مومنؔ کے ) ایک طباع اور نازک خیال شاعر تھے، ان کے بیٹھے سید عبد الرحمن بھی صاحب ذوق اور سخن فہم شخص تھے۔ انھوں نے بڑی محنت سے ایک مجموعہ ایسا جمع کیا کہ غالباً اس سے زیادہ ایک جگہ شاہ صاحب کا کلام جمع نہ ہو گا۔ نواب صاحب رامپور نے کہ نہایت قدر داں سخن ہیں ایک رقم معقول دے کر وہ نسخہ منگا لیا، غزلیں اکثر جگہ بکثرت پائی جاتی ہیں،مگر قصیدے نہیں ملتے کہ وہ بھی بہت تھے، حق یہ ہے کہ غزل کا انداز بھی قصیدے کا زور دکھاتا ہے۔
کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا، زبان شکوہ الفاظ چستی ترکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت اس میں خداداد تھی، انھیں اپنی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا، اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے، مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں جن میں بڑے بڑے شہسوار قدم نہ مار سکتے تھے، تشبیہ اور استعارہ کر لیا ہے، اور نہایت آسانی سے برتا ہے، جسے اکثر زبردست انشاپرداز ناپسند کر کے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے۔ لیکن یہ ان کی غلطی ہے اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیونکر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے، پھر وہ ہزاروں شاعروں میں خاص و عام کے منھ سے واہ وا کیونکر لیتے۔ بعض الفاظ ٹک، وا چھڑے، تس پر وغیرہ جو کہ سید انشاءؔ اور جرأتؔ تک باقی تھے، وہ انھوں نے ترک کئے۔ مگر آئے ہے اور جائے ہے وغیرہ افعال انھوں نے بھی استعمال کئے، علم کے دعویدار شاعر ان کے کلام کی دھوم دھام کو ہمیشہ کن انکھیوں سے دیکھتے تھے اور آپس میں کانا پھوسیاں بھی کرتے تھے، پھر بھی ان کے زور کلام کو دبا نہ سکتے تھے، وجہ اس کی یہ ہے کہ زور طبع ان کا کسی کے بس کا نہ تھا۔ جن سنگلاخ زمینوں میں گرمی کلام سے وہ مشاعرہ کو تڑپا دیتے تھے۔ اوروں کو غزل پوری کرنی مشکل ہوتی تھے، اکثر بزرگ پرانے پرانے مشاق کہ علوم تحصیلی میں ماہر کامل تھے، مثل حکیم ثناء اللہ خاں فراقؔ حکیم قدرت اللہ خاں قاسمؔ شاگرد خواجہ میر دردؔ میاں شکیباؔ شاگرد میر مرزا عظیم بیگ اور شیخ ولی اللہ محبؔ شاگرد سوداؔ، حافظ عبدالرحمٰن خاں احسان وغیرہ موجود تھے، سب ان کے دعوے سنتے تھے۔ اور بعض موقع پر اپنی بزرگی سے ان کی طنزوں کو برداشت کرتے تھے، مگر خاموش نہ کر سکتے تھے۔
حکیم قدرت اللہ خاں قاسمؔ سے ایک خاص معاملہ درمیان آیا بلکہ ایک دفعہ مشاعرہ میں طرح ہوئی، یار شتاب اور تلوار شتاب، شاہ نصیرؔ نے جو غزل کہہ کر پڑھی تو اس میں قطعہ تھا کہ :-
رخ انور کا ترے وصف لکھا جب ہم نے
انوری نے دیا دیواں الٹ اے یار شتاب
پھر پڑھا ہم نے جو مضمون بیاض گردن
اس اسے ہو گیا چپ قاسم انوار شتاب
حکیم صاحب مرحوم خاص و عام میں واجب التعظیم تھے۔ اس کے علاوہ فضیلت علمی کے ساتھ فن شعر کے مشاق تھے اور فقط موزونی طبع اور زور کلام کو خاطر میں نہ لاتے تھے، چونکہ خود قاسمؔ تخلص کرتے تھے۔ اس لئے قاسم انوار کا لفظ ناگوار ہوا، چنانچہ دوسرے مشاعرہ کی غزل میں قطعہ لکھا۔
واسطے انسان کے انسانیت اول ہے شرط
میرؔ ہو یا مرزا ہو، خان ہو یا نواب ہو
آدمی تو کیا خدا کو بھی نہ ہم سجدہ کریں
گر نہ خم تعظیم کو پہلے سر محراب ہو
شاہ صاحب کی بدیہہ گوئی اور طبع حاضر نے خاص و عام سے تصدیق و تسلیم کی سند لی تھی اور وہ ایک جوش تھا کہ کسی طرح فرو ہوتا معلوم نہ ہوتا تھا، شعر کہنے سے کبھی نہ تھکتے تھے، اور کلام کی چستی میں سستی نہ آتی تھی۔ اکثر مشاعروں میں اوروں کی غزل پڑھتے پڑھتے اشعار برجستہ موزوں کر کے غزل میں داخل کر لیتے تھے۔ طبع موزوں گویا ایک درخت تھا کہ جب اس کی ٹہنی ہلاؤ فوراً پھل جھڑ پڑیں گے۔ وہ نہایت جلد اصلاح دیتے تھے اور برجستہ اصلاح دیتے تھے، طبیعت میں تیزی بھی غضب کی تھی، عین مشاعرہ میں کسی کا شعر سنتے اور وہیں بول اٹھتے کہ یوں کہو! کہنے والا سن کر منھ دیکھتا رہ جاتا۔ یہی سبب ہے کہ پرانے پرانے مشاق جھپکتے رہتے تھے۔
پڑھنے کا انداز بھی سب سے الگ تھا اور نہایت مطبوع تھا۔ ان کے پڑھنے سے زور کلام دوچند بلکہ دہ چند ہو جاتا تھا کیونکہ زبان نے بھی زور طبعی سے زور اور دل کے جوش سے اثر حاصل کیا تھا، ان کی آواز میں بڑھاپے تک بھی جوانی کی کڑک دمک تھی۔ جب مشاعرہ میں غزل پڑھتے تو ساری محفل پر چھا جاتے تھے اور اپنا کلام انھیں بے اختیار کر دیتا تھا۔ ایک مشاعرہ میں غزل پڑھی، اس میں جب قطعہ مذکورہ ذیل پر پہنچے تو شعر پڑھتے تھے اور مارے خوشی کے کھڑے ہوئے جاتے تھے۔
یہ مجنوں ہے نہیں آہوئے لیلیٰ
پہن کر پوستین نکلا ہے گھر سے
جنھیں وہ سینگ سمجھے ہے یہ ہیں خار
لگے ہیں پاؤں نکلے ہیں یہ سر سے
ان کا مذہب سنت جماعت تھا۔ مگر اس میں کچھ متشدد نہ تھا۔ کئی ترجیع بند اور مناقب جناب امیر علیہ السلام کی شان میں موجود ہیں، ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ زور طبع دکھانے کو یا تحسین و آفریں کے طرے زیب دستار کرنے کو نہیں کہا، بلکہ دلی محبت اور اصلی اعتقاد سے کہا ہے۔ ان کی خوش اعتقادی کا یہ حال تھا کہ گلی کوچہ میں راہ چلتے ہوئے اگر کسی طاق پر تین لڑی کا سہرا یا کوئی موکھا لپا ہوا اس میں پانچ پھول پڑے دیکھتے تو جوتیوں کے اوپر پا برہنہ کھڑے ہو جاتے تھے اور دونوں ہاتھ باندھ کر فاتحہ پڑھتے۔ بعض شاگرد کہ (ہمیشہ چار پانچ ساتھ ہی رہتے تھے ) ان سے پوچھتے کہ استاد کس کی درگاہ ہے ؟ فرماتے کہ خدا جانے کس بزرگ کا گزر ہے۔ وہ کہتے کہ حضرت! آپ نے بے تحقیق کیوں فاتحہ پڑھ دی؟ فرماتے کہ بھائی! آخر کسی نے پھول چڑھائے، سہرا باندھا تو یوں ہی باندھ دیا۔ کچھ سمجھ کر ہی باندھا ہو گا۔ نوبت یہاں تک پہونچی کہ بعض دفعہ کسی شاگرد کو معلوم تھا اسی نے کہا کہ استاد میں جانتا ہوں یہ سامنے حلال خور کا گھر ہے اور اس نے اپنے لال بیگ کا طاق بنا رکھا ہے اس وقت خود بھی ہنس دیتے تھے اور کہتے کہ نیر میں نے کلام خدا پڑھا ہے اس کی برکت ہوائی تو نہیں جا سکتی جہاں ٹھکانا ہے وہاں پہونچے گی۔ میرا ثواب کہیں گیا نہیں۔
شاہ صاحب نہایت نفیس طبع اور لطیف مزاج تھے، خوش پوشاک، خوش لباس رہتے تھے اور اس میں ہمیشہ ایک وضع کے پابند تھے، جو کہ دہلی کے قدیم خاندانوں کا قانون ہے، ان کی وضع ایسی تھی کہ ہر شخص کی نظروں میں عظمت اور ادب پیدا کرتی تھی۔ وہ اگرچہ رنگت کے گورے نہ تھے مگر نور معنی صر سے پاؤں تک چھایا ہوا تھا، بدن چھریا اور کشیدہ قامت تھے، جس قدر ریش مبارک مختصر اور وجاہت ظاہری کم تھی،اس سے ہزار درجہ زیادہ خلعت کمال نے شان و شوکت بڑھائی تھی، بعض معرکوں یا بعض شعروں میں وہ اس بات پر اشارہ کرتے تھے تو ہزار حسنِ فرمان ہوتے تھے۔ بعض لطائف میں اس کا لطف حاصل ہو گا۔
شاہ صاحب باوجودیکہ اس قدر صاحب کمال تھے اور محفلوں میں اعزاز و اکرام کے صدر نشیں تھے، اس پر نہایت خوش مزاج اور یار باش تھے۔ بوڑھوں میں بوڑھے اور بچوں میں بچے بن جاتے تھے اور ہر ایک میلے میں جا کر تلاش مضامین کرتے تھے اور فکر سخن سے جو دل کھلا جاتا ہے اسے تر و تازہ اور شاداب کرتے تھے۔
لطیفہ : استاد مرحوم فرماتے تھے، ایک دفعہ بھولو شاہ کی بسنت میں شاہ صاحب آئے، چند شاگرد ساتھ تھے، انھیں لے کر تیس (۳۰) ہزاری باغ کی دیوار پر بیٹھے اور تماشا دیکھنے لگے، کسی رنڈی نے بہت سا روپیہ لگا کر نہایت زرق برق کے ساتھ ایک کار چوبی رتھ بنوائی تھی۔ شہر میں جا بجا اس کا چرچا ہو رہا تھا۔ رنڈی رتھ میں بیٹھی چھم چھم کرتی سامنے سے نکلی، ایک شاگرد نے کہا کہ استاد اس پر کوئی شعر ہو۔ اسی وقت فرمایا۔
اس کی رتھ کا کلس طلائی دیکھ
شب کہا ماہ سے یہ پروین نے
بہر پرواز یہ نکالی ہے
چونچ بیضہ سے مرغ زرین نے
لطیفہ : ایک ایسے ہی موقع پر کوئی رنڈی سامنے سے نکلی۔ اس کے سر پر اودی رضائی تھی اور وسمہ کی چمک عجیب لطف دکھاتی تھی، ایک شاگرد نے پر فرمائش کی۔ انھوں نے فرمایا۔
اُودی وسمہ کی نہیں تیری رضائی سر پر
مہ جبیں رات ہے تاروں بھری چھائی سر پر
اگرچہ شاہ صاحب کے لئے اقبال نے فارغ البالی کا میدان وسیع رکھا تھا مگر ان کی عادت تھی کہ ہر ایک شاگرد سے کچھ نہ کچھ فرمائش بھی ضرور کر دیتے تھے۔ مثلاً غزل کو اصلاح دینے لگے، قلمدان سے قلم اٹھاتے اور کہتے، میاں کشمیر کے قلمدان کیا کیا خوب آیا کرتے تھے۔ خدا جانے کیا ہو گیا۔ اب تو آتے ہی نہیں۔ بھلا کوئی نظر چڑھ جائے تو لانا۔ اسی طرح کسی ایک سے چاقو کی فرمائش کبھی کبھی کوئی آسودہ حال شاگرد ہوتا اور آپ کپڑے پہننے لگتے تو کہتے کہ ڈھاکے کی ململ جو پہلے آتی تھی، وہ اب دکھائی ہی نہیں دیتی صاحب! ہمیں تو یہ انگریزی ململ نہیں بھاتی۔ میاں کوئی تھان نظر چڑھے تو دیکھنا۔
بعض دوستوں نے تعجباً پوچھا کہ یہ کیا بات ہے ؟ فرمایا کہ روز واہیات بکواسیں کاغذ پر لکھتے ہیں اور آ کر میری چھاتی سوار ہو جاتے ہیں، اس فرمائش کا اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ روز کے آنے والے چوتھے دن غزل لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس کام کو انسان کچھ خرچ کر کے سیکھتا ہے،اس کی قدر بھی ہوتی ہے اور شوق بھی پکّا ہوتا ہے، اور جو کچھ لکھتا ہے جانکاہی سے لکھتا ہے، اس کا تو ادھر وہ فائدہ ہوا، میرا یہ فائدہ ہوا لے آیا تو چیز آ گئی نہ لایا تو میرا پیچھا چھوٹا، جب کوئی واقعہ (شاہ نظام الدین کی سترھویں میں مر گئے، میر باقر علی صاحب ایک سید خاندانی ولی کے تھے شہر سے درگاہ کو چلے راہ میں کسی نے مار ڈالا۔ درگاہ میں خبر پہنچی تو ان کی جوانی اور مرگ ناگہانی پر سب افسوس کیا، شاہ صاحب نے اسی وقت تاریخ کہی، کیا بے عدیل تخرجہ ہے۔ قطعہ تاریخ :
بہ شب عرس حضرت محبوب
میر باقر علی چوگشت شہید
بے شش و پنچ گفتم ایں تاریخ
ہر کہ اور ایکشت بود یزید
شہرت پاتا تو اس پر بھی شاہ صاحب کچھ نہ کچھ ضرور کہا کرتے تھے۔ چنانچہ مولوی اسمٰعیل صاحب نے جب جہاد میں شکست کھائی اور دلی میں خبر آئی تو انھوں نے اس موقع پر ایک طولانی قصیدہ کہا، تین شعر اس میں سے اس وقت یاد ہیں :
کلام اللہ کی صورت ہوا دل ان کا سیپارہ
نہ یاد آئی حدیث ان کو نہ کوئی نصّ قرآنی
ہرن کی طرح میدان دغا میں چوکڑی بھولے
اگرچہ تھے دم شملہ سے وہ شیر نیستانی
مولوی صاحب کے طرفدار مجاہدوں کا دلّی میں لشکر تھا۔ بہت سے بہادروں نے آ کر شاہ صاحب کا گھر گھیر لیا، مرزا خانی کوتوال شہر تھے وہ سنتے ہی دوڑے اور آ کر بچایا، شاہ صاحب نے اشعار مذکور کو قصیدہ کر دیا اور کوتوال صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا، ایک شعر اس میں کا بھی خیال میں ہے :
نصیر الدین بے چارہ تو رستہ طوس کا لیتا
نہ ہوتے شحنہ دہلی اگر یاں میرزا خانی
لطیفہ : ایک دفعہ کئی بادشاہی گاؤں سرکش ہو گئے۔ شاہ نظام الدین کہ شاہ جی مشہور تھے اور دربار میں مختار تھے، فوج لے کر گئے اور ناکام پھرے۔ ان کی نوکری میں بادشاہی نوکروں نے تکلیف پائی تھی، اس پر بھی شاہ نصیر نے ایک نظم لکھی، جس کا مطلع یہ تھا۔
کیا پوچھتے ہو یارو بیٹھے تھے زہر کھائے
شکر خدا کے بارے پھر شاہ صاحب آئے
لطیفہ : دلی میں ایک منشی ہندو تھے۔ نجیا نام رنڈی پر مسلمان ہو گئے۔ شاہ صاحب نے فرمایا :
جس طرف تو نے کیا ایک اشارہ نہ جیا
نجیا آہ تری چشم کا مارا نہ جیا
لطیفہ : عیسیٰ خاں اور موسیٰ خاں دو بھائی دلّی میں تھے (ذات کے جلاہے تھے )، مال و دولت کی بابت دونوں میں جھگڑا ہوا۔ عیسیٰ خاں ناکام ہوئے۔ موسیٰ خاں نے کچھ عدالت کے زور سے کچھ حکمت عملی سے سارا مال مار لیا۔ شاہ صاحب نے بطور ظرافت چند شعر کا قطعہ کہا۔ ایک مصرع یاد ہے اور وہی قطعہ کی جان ہے۔
مصرعہ : ہوئی آفاق میں شہرت کہ عیسیٰ خاں کا گھر موسا
لطف یہ کہ دونوں بھائی شاعر تھے۔ ایک کا تخلص آفاق دوسرے کا شہرت تھا، ان میں سے کسے بے مغزے نے کچھ واہیات بکا تھا، شاہ صاحب کے بزرگوں کی خوبیاں بیا کر کے خود ان کی شکایت کی تھی، اور چانکہ روشن پورہ میں رہتے تھے، اس کا اشارہ کر کے کہا تھا۔
بعد ان سب کے شاہ صاحب نے
خوب روشن پورہ کیا روشن
مرزا مغل بیگ نے خدمت وزارت میں نوخوان شاہی کو ناخوش کیا۔ اس موقع پر ہر ایک شخص نے اپنے اپنے حوصلہ کے بموجب دل کا بخار نکالا۔ ایک صاحب نے تاریخ کہی۔
ہنس کے ہاتف نے کہا اس کو کہ واہ
کیا ہی آنٹی میں وزارت آ گئی
شاہ صاحب نے بھی ایک قطعہ کہا۔ اس کے دو شعر یاد ہیں۔
تانے بانے پر نہ کر دنیا کے ہرگز اعتبار
غور کر چشم حقیقت سے کہ سر پر کوچ ہے
توڑ کر تو اسطرف سے اسطرف کو جوڑ لے
تو تو مومن ہے وگرنہ مومنوں کی پوچ ہے
شاہ نصیرؔ مرحوم اور شیخ ابراہیم ذوقؔ سے بھی معرکے ہوئے ہیں۔ دیکھو ان کے حال میں۔
لطیفہ : دکن کی سرکار میں دستور تھا کہ دن رات برابر کاروبار جاری رہتے تھے۔ مختلف کاموں کے وقت مقرر تھے۔ جس صیغہ کا دربار ہو چکا، اس کے متعلق لوگ رخصت ہوئے، دوسرے صیغہ کے آن حاضر ہوئے۔ اسی میں صاحب دربار نے اٹھ کر ذرا آرام لے لیا۔ ضروریات سے فارغ ہوئے اور پھر آن بیٹھے، چنانچہ مشاعرہ اور متاثرہ کا دربار رات کے پچھلے پہر ہوتا تھا، ایک موقع پر کہ نہایت دھوم دھام کا جلسہ تھا۔ تمام با کمال اہل دکن اور اکثر اہل ایران موجود تھے۔ سب کی طبیعتوں نے اپنے اپنے جوہر دکھائے۔ خصوصاً چند شعرائے ایران نے ایسے ایسے قصائد سنائے کہ لب و دہن پر حرف آفریں نہ چھوڑا۔ شاہ نصیرؔ کی حسن رسائی اور اخلاق نے دربار کے چھوٹے بڑے سب تسخیر کر لئے تھے۔ چنانچہ شمع قریب پہنچی تو ایک خواص نے سونے کا عصا ہاتھ میں، ہزار بار، سو کا دوشالہ کندھے پر ڈالے کھڑا تھا، کان میں جھک کر کہا کہ آج آپ غزل نہ پڑھیں تو بہتر ہے۔ آپ وہیں بگڑ کر بولے کہ کیوں ؟ اس نے کہا کہ ہوا تیز ہو گئی۔ (یعنی کلام کا سرسبز ہونا مشکل ہے )۔ یہ خفگی سے ٹھوڑی پر ہاتھ پھیر کر بولے کہ ایسا تو میں خوبصورت بھی نہیں کہ کوئی صورت دیکھنے کو نوکر رکھے تا، یہ نہیں تو پھر میں ہوں کس کام کا، اس قیل و قال میں شمع بھی سامنے آ گئی، پھر جو غزل سنائی تو سب کو لٹا دیا۔
لطیفہ : قطع نظر اس سے کہ شعر کے باب میں طبع حاضر رکھتے تھے، حاضر جوابی میں برق تھے، چنانچہ ایک دن سلطان جی کی سترھویں میں گئے اور باؤلی میں جا کر ایک طاق میں بیٹھ گئے۔ حقّہ پی رہے تھے کہ اتفاقاً ایک نواب آ نکلے۔ شاہ صاحب سے صاحب سلامت ہوئی، وہیں بہت سی ارباب نشاط بھی حاضر تھیں اور ناچ ہو رہا تھا، اس عالم زرق برق پر اشارہ کر کے نواب صاحب نے فرمایا کہ استاد آج آپ بھی بالائے طاق ہیں۔ بولے جی ہاں جفت ہونے کو بیٹھا ہوں، آئیے تشریف لائیے۔
لطیفہ : ایک دن دکن کو چلے، نواب جھجھّر مدت سے بلاتے تھے۔ اب چونکہ مقام مذکورہ سرراہ تھا، اور گرمی شدت سے پڑتی تھی، برابر سفر بھی مشکل تھا، اس لئے وہاں گئے اور کئی دن مقام کیا، جب چلنے لگے تو رخصت کی ملاقات کو گئے، نواب نے کہا کہ گرمی کے دن ہیں، دکن کا سفر دور دراز کا سفر ہے۔ خدا پھر خیر و عافیت سے لائے مگر وعدہ فرمائیے کہ اب جھجھّر میں کب آئیے گا، ہنس کر بولے کہ جھجھّر کی چاہ تو وہی گرمی میں۔
شاہ صاحب کا ایک مشہور شعر ہے۔
چرائی چادر مہتاب شب میکش نے جیحوں پر
کٹورا صبح دوڑانے لگی خورشید گردوں پر
نواب سعادت یار خاں رنگینؔ، مجالس رنگین میں فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ میں اس شعر کی بڑی تعریف ہو رہی تھی، میں نے اس میں اصلاح دی کہ
مصرعہ :چرائی چادر مہتاب شب بادل نے جیحوں پر
ہو تو اچھا ہے، سبب یہ کہ جب بادل چاند پر آتا ہے تو چادر مہتاب نہیں رہتی ہے گویا چوری ہو جاتی ہے، یہاں چور تو زمین پر ہے اور مضمون عالم بالا پر، قصہ زمین برسر زمین ہوتا ہے، عالم بالا کے لئے چور بھی آسمانی ہی چاہیے، کسی شخص نے شاہ صاحب سے بھی جا کر کہا، وہ بہت خفا ہوئے اور کہا کہ نواب زادہ ہونا اور بات ہے اور شاعری اور بات ہے۔ خاں صاحب یہ خبر سن کر شاہ صاحب کے پاس گئے اور معذرت کی۔
مگر میرے نزدیک شاہ صاحب نے کچھ نامناسب نہیں کہا، چاند آسمان پر ہوتا ہے، چاندنی زمین پر ہوتی ہے اور چاندنی کا لطف میکش اڑاتا ہے، بادل کیا اڑائے گا اور میکش نہ ہو گا تو شعر غزلیت کے رتبہ سے گر جائے گا۔
لطیفہ : دیہاتی جاگیر کے تعلق سے ایک تحصیلدار صوفی پت کے پاس ملاقات کو گئے اور کچھ رنگترے دلی سے بطور سوغات ساتھ لے گئے۔ تحصیلدار نے کہا کہ جناب شاہ صاحب رنگتروں کی تکلیف کیا ضرور تھی۔ آپ کی طرف سے بڑا تحفہ آپ کا کلام ہے، ان رنگتروں کی حسن تشبیہ میں کوئی شعر ارشاد فرمائیے۔ اسی وقت رباعی کہی اور سنائی۔
اے ببر برج آسمان اقبال
ان رنگتروں پر غور سے کیجیے گا خیال
یہ نذر حقیر ہو قبول خاطر
پردے میں شفق کے ہیں گرہ بند ہلال
زیب تن گرچہ ہے گل پیرہن سرخ ترا
لیکن انجام یہ ہو گا کفن سرخ ترا
مجھ کو کہتا ہے وہ نکلا ہے شفق میں یہ ہلال
یا نمودار ہے زخم کہن سرخ ترا
دسترس پاؤں تک اس شوخ کے تجھ کو ہی یہاں
کیونکہ رتبہ نہ ہو اے گلبدن سرخ ترا
شیشہ بادہ گلرنگ ٹپک دے ساقی
جامہ سبز میں دیکھے جو تن سرخ ترا
آستین سے یہ لگا کہنے وہ تلوار کو پونچھ
بن گیا سورج یم خون شکن سرخ ترا
رنگ نیلم ہی نہیں رنگ مسی کی یہ نمود
لب بھی ہے غیرت لعل یمن سرخ ترا
سچ بتا تو مجھے سوفار خد تگ قاتل
لہو کس کس کا پیے گا دہن سرخ ترا
خاک باہم ہو شرارت سے ہم آغوش نصیرؔ
صاف ہے شعلہ آتش بدن سرخ ترا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
خال پشت لب شیریں ہے عسل کی مکھّی
روح فرہاد لپٹ بن کے جبل کی مکھّی
سنگ و خشت در و دیوار افتادہ کو نہ دیکھ
ہاتھ ملتی ہے پتھوڑا کے محل کی مکھّی
بن گیا ہوں میں خیال کمر یار میں بور
نہ ترے زور کی طاقت ہے نہ بل کی مکھّی
تیرہ بختانِ ازل کا کبھی دیکھا نہ فروغ
شب کو جگنو کی طرح اڑ کے نہ جھلکی مکھّی
بیٹھنے سے ترے ہم سمجھے لب یار کر قند
بات مشکل تھی مگر تو لے یہ حل کی مکھّی
ان کو کیا کام توکل سے جو بن جاتے ہیں
قاب بریانی پہ ہر اہل دول کی مکھّی
ہو گیا ہے یہ تری چشم کا بیمار نحیف
نہ اڑا سکتا ہے منھ کہ نہ بغل کی مکھّی
ریس پروانہ جانسوز کی کرتی تو ہے، پر
نگہ شمع میں ہو جائے گی ہلکی مکھّی
صنعت لعبت چیں دیکھ دلا جو کر تو
دیکھنی گر تجھے منظور ہے کل کی مکھّی
دلربا قہر فسوں ساز ہیں بنگالہ کے
آدمی کو وہ بناتے ہیں عسل کی مکھّی
سخن اپنا جو شکر ریز معانی ہے نصیرؔ
ہے ردیف اس لئے اس شعر و غزل کی مکھّی
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں
نکل کے دیکھو ٹک اپنے گھر سے، فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہ شعلہ رو ہے سوار تو سن اور اس کا تو سن عرق فشاں ہے
عجب ہے ایک سیر دوپہر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
ہنسے ہے کوٹھے پہ یوسف اپنا میں زیر دیوار رو رہا ہوں
عزیز دیکھو مری نظر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
پتنگ کیوں کر نہ ہووے حیران کہ شمع سب کو دکھا رہی ہے
بچشم گریان و تاج زر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
نہا کے افشاں چنو جبیں پر نچوڑو زلفوں کو بعد اس کے
دکھاؤ عاشق کو اس ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
کہاں ہے جوں شعلہ شاخ پر گل کدھر ہے فصل بہار شبنم
نیا ہے اعجاز طرفہ ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
کرو نہ دریا پہ مے کشی تم ادھر کو آؤ تو میں دکھاؤں
سر شک و ہر نالہ جگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
کدھر کو جاؤں نکل کے یارب کہ گرم و سرد زمانہ مجھ کو
دکھائے ہے شام تک سحر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہ تیغ کھینچے ہوئے ہے سر پر میں سر جھکائے ہوں اشک ریزاں
دکھاؤں اے دل تجھے کدھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
غضب ہے چیں بر جبیں وہ کیا بدن سے ٹپکے بھی ہے پسینہ
عیاں ہے یارو نئے ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
نصیر لکھی ہے کیا غزل یہ کہ دل تڑپتا ہے سن کے جس کو
بندھے ہے کب یوں کسی بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
نہاں ہے کب چشم ہر بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
ہے اس نگہ سے اس اشک تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
دکھا کے تم شہ نشیں پہ جلوہ جو دیکھو فوارہ کا تماشا
تو یہ صدا آئے بام و در سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہ مہروش پشت فیل پر ہے اور اس کی خرطوم آب افشاں
عجب ہے تشبیہ جلوہ گر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہ طفل ترسا جبیں پہ قشقہ جو کھینچ سورج کو دیوے پانی
تو کیوں نہ دل دیکھنے کو ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
دوپٹہ سر پر ہے بادلے کا گلاب پاش اس کے ہاتھ میں ہے
نہ کیونکر چمکے نہ کیونکر برسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
تو اپنی پگڑی پہ رکھ کے طرہ جو کھیلے پچکاریوں سے ہولی
عیاں ہو نیرنگی دگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہاں وہ غرفہ میں تاب رخ ہے یہاں یہ ابر مژہ پہ نم ہے
یہ حسن الفت کے ہے ثمر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
عجب ہے کچھ ماجرا یہ ساقی کہ غل مچایا ہے میکشوں نے
مدام یاں دیکھ ابر ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
وہ شوخ جھرنے کی سیر کر کے پھسلنے پتھر پر جا کے بیٹھا
پکاری خلقت ادھر ادھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
نصیر صد آفریں ہے تجھ کو کہ اہل معنی پکارتے ہیں
عجب ہے مضمون تازہ تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
لو لگ رہی ہے جس سے وہ شمع رو نہ آیا
بل بے تری شرارت یاں تک کبھو نہ آیا
ہو اس دہن سے روکش سیلی صبا کی کھائی
غنچہ کے آہ منھ سے کس دن لہو نہ آیا
دنداں دکھا کے مت ہنس اے بخیہ گریباں
چاک جگر کا ہم کو طور رفو نہ آیا
کیا جانے یہ گیا تھا کس منھ سے روکشی کو
آئینہ واں ہے لے کر خاک آبرو نہ آیا
برگشتہ بخت ہم وہ اس دور میں ساقی
لب تک کبھو ہمارے جام و سبو نہ آیا
موج سرشک سے ہے رونق قبائے تن کی
کیونکر کہوں کہ اس کو کار رفو نہ آیا
آخر کو کہکشاں ہے یکسر وہ مانگ نکلی
اس باب میں ہماری فرق ایک مو نہ آیا
کشتی دل تو دائم موج خطر میں ڈوبی
چیں بر جبیں ہو کس دن وہ روبرو نہ آیا
کیونکر یہ ہاتھ اپنا پہنچے گا تا گریباں
دست خیال جس کے دامن کو چھو نہ آیا
اپنی بھی بعد مجنوں یارو ہوا بندھی ہے
لے گرد باد خیمہ کب کو بکو نہ آیا
نا محرموں سے تم نے کھلوائے بند محرم
میں تو بھی آہ لے کر کچھ آرزو نہ آیا
ہر دم نصیرؔ رہ تو امید وار رحمت
تیری زباں پہ کس دن لَا تَقنَطُوا نہ آیا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
اے اشک رواں ساتھ لے آہ جگری کو
عاشق کہیں بے فوج علم اٹھ نہیں سکتا
سقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں
اے ضعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا
سِر معرکہ عشق میں آساں نہیں دینا
گاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں سکتا
ہے جنبش مژگاں کا کسی کی جو تصور
دِل سے خلش خار الم اٹھ نہیں سکتا
دل پر ہے مرے خیمہ ہر آبلہ استاد
کیا کیجئے کہ یہ لشکر غم اٹھ نہیں سکتا
ہر جا متجلّی ہے وہی پردہ غفلت
اے معتکف دیر و حرم اٹھ نہیں سکتا
یوں اشک زمین پر ہیں کہ منزل کو پہنچ کر
جوں قافلہ ملک عدم اٹھ نہیں سکتا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
شب کو کیونکر تجھ کو ہے پھبتا سر پر طرہ ہار گلے میں
جوں پرویں و ہالہ مہ تھا سر پر طرہ ہار گلے میں
رونق سریاں داغ جنوں ہے اشک مسلسل زیب گلو ہے
چاہیے تجھ کو غیرت لیلا سر پر طرہ ہار گلے میں
شعلہ کہاں آنسو ہیں کدھر شب شمع رکھی تھی محض میں
تاج اور زر اور موتیوں کا سا سر پر طرہ ہار گلے میں
بال پریشاں ہیں کاکل کے پیچ گلے میں پگڑی کے
یوں رکھتا ہے وہ متوالا سر پر طرہ ہار گلے میں
حق میں ہے میرے طائروں کے باز کا چنگل دام کا حلقا
اے بت کافر مجھ کو دکھلا سر پر طرہ ہار گلے میں
شملے اور تسبیح کے بدلے شیخ جی صاحب رکھنے لگے ہیں
کیونکہ نہ دیکھیں رند تماشا سر پر طرہ ہار گلے میں
رشک چمن تو سیر کرے گا جبکہ کنار حوض و لب جو
فوارہ اور پھول رکھے گا سر پر طرہ ہار گلے میں
عکس شعاع جہر نہیں یہ بیل چنبیلی لپٹی ہے
سرو چمن نے کیا ہے پیدا سر پر طرہ ہار گلے میں
کیفیت کیا ہو بن ساقی سوئے چمن طاؤس اور قمری
ابر و ہوا میں رکھیں تنہا سر پر طرہ ہار گلے میں
ہے یہ تمنا میرے جی میں یوں تجھے دیکھوں بادہ کشتی میں
ہاتھ میں ساغر بر میں مینا سر پر طرہ ہار گلے میں
اور بدل کے ردیف و قوافی لکھئے غزل اس بحر میں جلدی
تم نے نصیرؔ اب خوب نبھایا سر پر طرہ ہار گلے میں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
وقت نماز ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کمال
بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کمال
مرد جوانی میں تو ہے سیدھا پیری میں جھک جاتا ہے
قوت و ضعف کی ہے یہ علامت گاہ خدنگ و گاہ کمال
بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں
کیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوں
چھوٹتے ہیں فوارہ مژگان روز و شب ان آنکھوں سے
یوں نہ برستے دیکھے ہوں گے مل کے کسی نے ساون بھادوں
ٹانکنے کو پھرتی ہے بجلی اس میں گوٹ تمامی کی
دامن ابر کے ٹکڑوں کو جب لگتے ہیں سینے ساون بھادوں
بھولے دم کی آمد و شد ہم یاد کر اس جھولے کی پینگیں
سوجھے ہے بے یار نہ دیں گے آہ یہ جینے ساون بھادوں
کیونکہ نہ یہ دریائے تگرگ اے بادہ پرستو برسائیں
کان گہر چھٹ زر کے رکھتے ہیں گنجینے ساون بھادوں
کان جواہر کیونکہ نہ سمجھے کھیت کو دہقان اولوں سے
برساتے ہیں موتیوں میں ہیرے کے نگینے ساون بھادوں
ابر سیہ میں دیکھی تھی بگلوں کی قطار اس شکل سے ہم نے
یاد دلائے پھر کے ترے دنداں مسّی نے ساون بھادوں
Najeeb Ahmed Najeeb
پہلی دفعہ اس نسخہ میں مومنؔ خاں صاحب کا حال نہ لکھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ دور پنجم جس سے ان کا تعلق ہے بلکہ دور سوم و چہارم کو بھی اہل نظر دیکھیں کہ جو اہل کمال اس میں بیٹھے ہیں کس لباس و سامان کے ساتھ ہیں۔ کسی مجلس میں بیٹھا ہوا انسان جبھی زیب دیتا ہے کہ اسی سامان و شان اور وضع و لباس کے ساتھ ہو، جو اہل محفل کے لئے حاصل ہے۔ نہ ہو تو ناموزوں معلوم ہوتا ہے۔ خان موصوف کے کمال سے مجھے انکار نہیں۔ اپنے وقت کے اہل کمال کا شمار بڑھا کر اور ان کے کمالات دکھا کر ضرور چہرہ فخر کا رنگ چمکاتا، لیکن میں نے ترتیب کتاب کے دنوں میں اکثر اہل وطن کو خطوط لکھوائے اور لکھے، وہاں سے جواب صاف آیا وہ خط بھی موجود ہیں۔ مجبوراً ان کا حال قلم انداز کیا۔ دنیا کے لوگوں نے اپنے اپنے حوصلہ کے بموجب جو چاہا سو کہا۔ آزاد نے سب کی عنایتوں کو شکریہ کا دامن پھیلا کر لے لیا۔ ذوقؔ :
وہ گالیاں کہ بوسہ خوشی پر ہے آپ کی
رکھتے فقیر کام نہیں رد و کد سے ہیں
البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اشخاص جنھوں نے میرے حال پر عنایت کر کے حالات مذکورہ کی طلب و تلاش میں خطوط لکھے اور سعی ان کی ناکام رہی انھوں نے بھی کتاب مذکور پر ریویو لکھا مگر اصل حال نہ لکھا، کچھ نہ کچھ اور ہی لکھ دیا۔ میں نے اسی وقت دہلی اور اطراف دہلی میں ان اشخاص کو خطوط لکھنے شروع کر دے جو خان موصوف کے خیالات سے دل گلزار رکھتے ہیں، اب طبع ثانی سے چند مہینے پہلے تاکید و التجا کے نیاز ناموں کو جولانی دی۔ انہی میں سے ایک صاحب کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں جنھوں نے باتفاق احباب اور اصلاح ہو کر جزئیات احوال فراہم کر کے چند ورق مرتب کئے اور عین حالت طبع میں کہ کتاب مذکور قریب الاختتام ہے مع ایک مراسلہ کے عنایت فرمائیے بلکہ اس میں کم و بیش کی بھی اجازت دی۔ میں نے فقط بعض روایتیں اور بہت سی روایتیں مختصر کر دیں یا چھوڑ دیں، جن سے ان کے نفس شاعری کو تعلق نہ تھا، باقی اصل کو بجنسہ لکھ دیا۔ آپ ہر گز دخل و تصرف نہیں کیا، ہاں کچھ کہنا ہوا تو حاشیہ پر خط وجدانی میں لکھ دیا جو احباب پہلے شاکی تھے امید ہے کہ اس فرو گذاشت کو معاف فرمائیں گے۔
مومنؔ خاں صاحب کا حال – ان کے والد حکیم نبی خاں ولد حکیم نامدار خاں شہر کے شرفاء میں سے تھے، جن کی اصل بخبائے کشمیر سے تھی۔ اول حکیم نامدار خاں اور حکیم کامدار خاں دو بھائی سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں آ کر بادشاہی طبیبوں میں داخل ہوئے۔ شاہ عالم کے زمانہ میں موضع بلابہ وغیرہ پرگنہ نارنول میں جاگیر پائی۔ جب سرکار انگریزی نے جھجھر کی ریاست نواب فیض طلب خاں کو عطا فرمائی تو پرگنہ نارنول بھی اسمیں شامل تھا، رئیسں مذکور نے ان کی جاگیر ضبط کر کے ہزار روپیہ سالانہ پنشن ورثہ حکیم نامدار خاں کے نام مقرر کی دی، پنشن مذکور میں سے حکیم غلام نبی خاں صاحب نے اپنا حصہ لیا اور اس میں سے حکیم مومنؔ خاں نے اپنا حق پایا، اس کے علاوہ ان کے خاندان کے چار طبیبوں کے نام پر سو (۱۰۰) روپیہ ماہوار پنشن سرکار انگریزی سے بھی ملتی تھی، اس میں سے ایک چوتھائی ان کے والد کو اور ان کے بعد اس میں سے ان کو حصہ ملتا۔
ان کی ولادت ۱۲۱۵ھ میں واقع ہوئی، بزرگ جب دلی میں آئے تو چیلوں کے کوچہ میں رہے تھے۔ وہیں خاندان کی سکونت رہی۔ شاہ عبد العزیز صاحب کا مدرسہ وہاں سے بہت قریب تھا۔ ان کے والد کو شاہ صاحب سے کمال عقیدت تھی، جب یہ پیدا ہوئے تو حضرت ہی نے آ کر ان میں اذان دی اور مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں نے اس نام کو ناپسند کیا اور حبیب اللہ نام رکھنا چاہا، لیکن شاہ صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔
بچپن کی معمولی تعلیم کے بعد جب ذرا ہوش سنبھالا تو والد نے شاہ عبد القادر صاحب کی خدمت میں پہنچایا، ان سے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھتے رہے، حافظہ کا یہ حال تھا کہ جو بات شاہ صاحب سے سنتے تھے فوراً یاد کر لیتے تھے، اکثر شاہ عبد العزیز صاحب کا وعظ ایک دفعہ سن کر بعینہ اسی طرح ادا کر دیتے تھے، جب عربی میں کسی قدر استعداد ہو گئی تو والد اور چچا حکیم غلام حیدر خاں اور حکیم غلام حسن سے طب کی کتابیں پڑھیں اور انھیں کے مطب میں نسخہ نویسی کرتے رہے۔
تیز طبیعت کا خاصہ ہے کہ ایک فن پر دل نہیں جمتا۔ اس نے بزرگوں کے علم یعنی طبابت پر تھمنے نہ دیا، دل میں طرح طرح کے شوق پیدا کئے۔ شاعری کے علاوہ نجوم کا خیال آیا، اس کو اہل کمال سے حاصل کیا اور مہارت بہم پہنچائی، ان کو نجوم سے قدرتی مناسبت تھی، ایسا ملکہ بہم پہونچایا تھا کہ احکام سن سن کر بڑے بڑے منجم حیران رہ جاتے تھے، سال بھر میں ایک بار تقویم دیکھتے تھے، پھر برس دن تک تمام ستاروں کے مقام اور ان کی حرکات کیفیت ذہن میں رہتی تھی۔ جب کوئی سوال پیش کرتا، نہ زائچہ کھینچتے نہ تقویم دیکھتے، پوچھنے والے سے کہتے کہ تم خاموش رہو جو میں کہتا جاؤں اس کا جواب دیتے جاؤ، پھر مختلف باتیں پوچھتے تھے، اور سائل اکثر تسلیم کرتا جاتا تھا۔
ایک دن ایک غریب ہندو نہایت بے قرار اور پریشان آیا۔ ان کے بیس (۲۰) برس کے رفیق قدیم شیخ عبد الکریم اس وقت موجود تھے۔ خاں صاحب نے اسے دیکھ کر کہا کہ تمھارا کچھ مال جاتا رہا ہے ؟ اس نے کہا میں لٹ گیا۔ کہا کہ خاموش رہو۔ جو میں کہوں اسے سنتے جاؤ، جو بات غلط ہو، اس کا انکار کر دینا، پھر پوچھا کیا زیور کی قسم سے تھا؟ صاحب ہاں وہی عمر بھر کی کمائی تھی، کہا تم نے لیا ہے یا تمہاری بیوی نے، کوئی غیر چرانے نہیں آیا۔ ان نے کہا میرا مال تھا اور بیوی کے پہننے کا زیور تھا، ہم کیوں چراتے، ہنس کر فرمایا، کہیں رکھ کر بھول گئے ہو گے۔ مال کہیں باہر نہیں گیا۔ اس نے کہا، صاحب سارا گھر ڈھونڈھ مارا، کوئی جگہ باقی نہ رہی، فرمایا پھر دیکھو، گیا اور سارے گھر میں اچھی طرح دیکھا، پھر آ کر کہا، صاحب میرا چھوٹا سا گھر ہے، ایک ایک کونہ دیکھ لیا، کہیں پتہ نہ لگا۔ خاں صاحب نے کہا، اسی گھر میں ہے، تم غلط کہتے ہو، کہا آپ چل کر تلاشی لے لیجئے، میں تو ڈھونڈھ چکا، فرمایا میں یہیں سے بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر ان کے سارے گھر کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا۔ وہ سب باتوں کو تسلیم کرتا جاتا تھا، پھر کہا، اس گھر میں جنوب کے رخ ایک کوٹھری ہے اور اس میں شمال کی جانب ایک لکڑی کا مچان ہے اس کے اوپر مال موجود ہے۔ جا کر لے لو، اس نے کہا مچان کو تین دفعہ چھان مارا وہاں نہیں، فرمایا اسی کے ایک کونے میں پڑا ہے، غرض وہ گیا اور جب روشنی کر کے دیکھا تو ڈبّا اور اس میں سارا زیور جوں کا توں وہیں سے مل گیا۔
ایک صاحب کا مراسلہ اسی تحریر کے ساتھ مسلسل پہنچا ہے جس میں اور قسم کے اسرار نجومی ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور ان کے شاگردوں کی تفصیل بھی لکھی ہے۔ آزاد ان کے درج کرنے میں قاصر ہے۔ معاف فرمائیں، زمانہ ایک طرح کا ہے لوگ کہیں گے تذکرہ شعراء لکھنے بیٹھا اور نجومیوں کا تذکرہ لکھنے لگا۔
خاں صاحب نے اپنی نجوم دانی کو ایک غزل کے شعر میں خوبی سے ظاہر کیا ہے۔
ان نصیبوں نے کیا اختر شناس
آسمان بھی ہے ستم ایجاد
شطرنج سے بھی ان کو کمال مناسبت تھی۔ جب کھیلنے بیٹھتے تھے تو دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی تھی اور گھر کے نہایت ضروری کام بھی بھول جاتے تھے۔ دلی کے مشہور شاطر کرامت علی خاں سے قرابت قریبہ رکھتے تھے اور شہر کے ایک دو مشہور شاطروں کے سوا کسی سے کم نہ تھے۔
شعر و سخن سے انھیں طبعی مناسبت تھی، اور عاشق مزاجی نے اسے اور بھی چمکا دیا تھا۔ انھوں نے ابتداء میں شاہ نصیر مرحوم کو اپنا کلام دکھایا مگر چند روز کے بعد ان سے اصلاح لینی چھوڑ دی۔ اور پھر کسی کو استاد نہیں بنایا۔
ان کے نامی شاگرد نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ صاحب تذکرہ گلشنِ مے خار خلف نواب اعظم الدولہ سرفراز الملک مرتضی خاں مظفر جنگ بہادر رئیس پلول اور ان کے چھوٹے بھائی نواب اکبر خاں کہ ۴ برس ہوئے راولپنڈی میں دنیا سے انتقال کیا، میر حسین تسکینؔ کہ نہایت ذکی الطبع شاعر تھے، سید غلام خاں وحشتؔ۔ غلام ضامن کرمؔ۔ نواب اصغر علی خاں کہ پہلے اصغرؔ تخلص کرتے تھے، پھر نسیمؔ تخلص اختیار کیا اور مرزا خدا بخش قیصر شہزادے وغیرہ تھے۔
رنگین طبع، رنگین مزاج، خوش وضع، خوش لباس، کشیدہ قامت سبزہ رنگ، سر پر لمبے لمبے گھونگھر والے بال اور ہر وقت انگلیوں سے ان میں کنگھی کرتے رہتے تھے، ململ کا انگرکھا، ڈھیلے ڈھیلے پائنچے، اس میں لال نیفہ بھی ہوتا تھا، میں نے انھیں نواب اصغر علی خاں اور مرزا خدا بخش قیصر کے مشاعروں میں غزل پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ ایدی درد ناک آواز سے دلپذیر ترنم کے ساتھ پڑھتے تھے کہ مشاعرہ وجد کرتا۔ اللہ اللہ اب تک وہ عالم آنکھوں کے سامنے ہے، باتیں کہانیاں ہو گئیں۔ باوجود اس کے نیک خیالوں سے بھی ان کا دل خالی نہ تھا، نوجوانی ہی میں مولانا سید احمد صاحب بریلوی کے مرید ہوئے کہ مولوی اسمٰعیل صاحب کے پیر تھے، خاں صاحب ان ہی کے عقائد کے بھی قائل رہے۔
انھوں نے کسی کی تعریف میں قصیدہ نہیں کہا، ہاں راجہ اجیت سنگھ برادر راجہ کرم سنگھ رئیس پٹیالہ جو دہلی میں رہتے تھے، اور ان کی سخاوتیں شہر میں مشہور تھیں، وہ ایک دن مصاحبوں کے ساتھ سر راہ اپنے کوٹھے پر بیٹھے تھے خاں صاحب کا ادھر سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا مومن خاں شاعر یہی ہیں، راجہ صاحب نے آدمی بھیج کر بلوایا، عزت و تعظیم سے بٹھایا (کچھ نجوم کچھ شعر و سخن کی باتیں کیں ) اور حکم دیا کہ ہتنی کس کر لاؤ، ہتنی حاضر ہوئی وہ خاں صاحب کو عنایت کی۔ انھوں نے کہا کہ مہاراج میں غریب آدمی ہوں اسے کہاں سے کھلاؤں گا اور کیونکر رکھوں گا، کہا کہ سو (۱۰۰) روپیہ اور دو۔ خاں صاحب اسی پر سوار ہو کر گھر آئے اور پہلے اس سے کہ ہتنی روپے کھائے، اسے بیچ کر فیصلہ کیا (اسی موقع پر اوجؔ نے کہا تھا دیکھو صفحہ) پھر خاں صاحب نے ایک قصیدہ مدحیہ شکریہ میں کہہ کر راجہ صاحب کو دیا جس کا مطلع ہے :
صبح ہوئی تو کیا ہوا، ہے وہی تیرہ اختری
کثرت دود سے سیاہ شعلہ شمع خاوری
سوا اس قصیدہ کے اور کوئی مدح کسی دنیا دار کے صلہ و انعام کی توقع پر نہیں لکھی۔ وہ اس قدر غیور تھے کہ کسی عزیز یا دوست کا ادنیٰ احسان بھی گوارہ نہ کرتے تھے۔
راجہ کپورتھلہ نے انھیں ساڑھے تین سو روپیہ مہینہ کر کے بلایا اور ہزار روپیہ خرچ سفر بھیجا، وہ بھی تیار ہوئے، مگر معلوم ہوا کہ وہاں ایک گوئیے کی بھی یہی تنخواہ ہے، کہا کہ جہاں میری اور ایک گوئیے کی برابر تنخواہ ہو میں نہیں جاتا۔
جس طرح شاعری کے ذریعہ سے انھوں نے روپیہ نہیں پیدا کیا اسی طرح نجومؔ، رملؔ اور طبابت کو بھی معاش کا ذریعہ نہیں کیا۔ جس طرح شطرنج ان کی ایک دل لگی کی چیز تھی، اسی طرح نجوم رمل اور شاعری کو بھی ایک بہلاوا دل کا سمجھتے تھے۔
خاں صاحب پانچ چار دفعہ دہلی سے باہر گئے۔ اول رامپور اور وہاں جا کر کہا۔
دلی سے رام پور میں لایا جنوں کا شوق
ویرانہ چھوڑ آئے ہیں ویرانہ تر میں ہم
دوسری دفعہ سہسواں گئے، وہاں فرماتے ہیں۔
چھوڑ دلی کو سہسواں آیا
ہرزہ گردی میں مبتلا ہوں میں
جہانگیر آباد میں نواب مصطفیٰ خاں کے ساتھ کئی دفعہ گئے۔
ایک دفعہ نواب شائستہ خاں کے ساتھ سہارنپور گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دلی میں جو میسر تھا اسی پر قانع تھے، درست ہے۔ تصدیق اس کی دیکھو غالبؔ مرحوم کے حال میں۔
ان کی تیزی ذہن اور ذکاوت طبع کی تعریف نہیں ہو سکتی۔ وہ خود بھی ذہانت میں دو شخصوں کے سوا کسی ہمعصر کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ ایک مولوی اسمٰعیل صاحب دوسرے خواجہ محمد نصیر صاحب کہ ان کے پیر اور خواجہ میر دردؔ کے نواسے تھے۔
اسی سلسلہ میں نواب مصطفیٰ خاں کی ایک وسیع تقریر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا ذکی الطبع آج تک نہیں دیکھا۔ ان کے ذہن میں بجلی کی سی سرعت تھی وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ اس کے مراسلت میں بعض اور معاملے منقول ہیں۔ مگر ان میں بھی واردات کی بنیاد نہیں لکھی۔ مثلاً یہ کہ مولا بخش قلقؔ مولوی امام بخش صہبائی کے شاگرد دیوان نظیریؔ پڑھتے تھے۔ ایک دن خاں صاحب کے پاس آئے اور ایک شعر کے معنی پوچھے۔ انھوں نے ایسے نازک معنی اور نادر مطلب بیان فرمائے کہ قلقؔ معتقد ہو گئے۔ اور انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب نے جو معنی بتائے ہیں وہ اس سے کچھ بھی نسبت نہیں رکھتے۔ ایسی باتوں کو آزادؔ نے افسوس کے ساتھ ترک کر دیا ہے۔ شفیق مکرم معاف فرمائیں۔
ان کی عالی دماغی اور بلند خیالی شعرائے متقدمین و متاخرین میں سے کسی کی فصاحت یا بلاغت کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ یہ قول ان کا مشہور تھا کہ گلستانِ سعدی کی تعریف میں لوگوں کے دم چڑھے جاتے ہیں، اس میں ہے کیا؟ گفت گفت گفتہ اند کہتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لفظوں کو کاٹ دو تو کچھ نہیں رہتا۔ ایک دن مفتی صدر الدین خاں مرحوم کے مکان پر یہی تقریر کی۔ مولوی احمد الدین کرسانوالہ، مولوی فضل حق صاحب کے شاگرد بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن شریف میں کیا فصاحت ہے۔ جا بجا قالَ قالَ قالوا قالوا ہے۔
ان کے کسی شاگرد نے غزل میں یہ شعر لکھا تھا۔
ہجر میں کیوں کر پھروں ہر سو نہ گھبرایا ہوا
وصل کی شب کا سماں آنکھوں میں ہے چھایا ہوا
خاں صاحب نے پہلے مصرع کو یوں بدل دیا۔
مصرعہ :اس طرف کو دیکھتا بھی ہے تو شرمایا ہوا
اہل مذاق جانتے ہیں کہ اب شعر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
ایک اور شخص نے الہٰی بخش کا سجع لکھا تھا۔
مصرعہ :"میں گنہگار ہوں الہٰی بخش"
تاریخیں (ان تاریخوں کے لطف و نزاکت میں کلام نہیں لیکن اصول فن کے بموجب ۹ سے زیادہ کمی و بیشی جائز نہیں۔ اس انداز کے ایجاد داخل معّما ہیں۔) : تاریخ میں ہمیشہ تعمیہ اور تخرجہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان کی طبع رسا نے اسے محسنات تاریخ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ اپنے والد کی تاریخ وفات کہی۔
بہ من الہام گشت سال وفات
کہ غلام نبی بہ حق پیوست
غلام نبی کے اعداد کے ساتھ حق ملائیں تو پورے پورے سنہ فوت نکل آتے ہیں۔
اپنی صغیر سن بیٹی کی تاریخ وفات کہی۔
خاک بر فرق دولت دنیا
من فشاندم خزانہ برسرِ خاک
خزانہ کے اعداد، سرِ خاک یعنی "خ" کے ساتھ ملانے سے ۱۳۶۳ھ ہوتے ہیں۔
تاریخ چاہ :
مصرعہ : آب لذت فزا بجام ہکَبیر
آب لذت فزا کے اعداد، جام کے اعداد میں ڈالو تو ۱۳۶۵ھ حاصل ہوئے۔
ایک شخص زین خاں نامی حج کو گیا۔ رستہ میں سے پھر آیا۔ خاں صاحب نے کہا۔
مصرعہ : "چوں بیائد ہنوز خر باشد" (۱۳۶۵ھ)
شاہ محمد اسحاق صاحب نے دلّی سے ہجرت کی، خان صاحب نے کہا۔
گفتم وحید عصر اسحاق
برحکم شہنشہ دو عالم
بگذاشتہ دار حرب امسال
جا کر وہ بہ مَکۃ مُعظَم
وحید عصر اسحاق کے اعداد مکہ معظم کے اعداد کے ساتھ ملاؤ اور دار حرب کے اعداد اس میں سے تفریق کرو تو ۱۲۶۰ھ تاریخ ہجرت نکلتی ہے۔
ایک شخص قلعہ دلّی سے نکالا گیا تو انہوں نے تاریخ کہی۔
مصرعہ :"از باغ خلد بیروں شیطان بے حیا شد"
باغ خلد کے اعداد میں سے شیطان بے حیا کے عدد نکال ڈالیں تو ۱۲۶۳ھ رہتے ہیں۔ سادی تاریخیں بھی عمدہ ہیں چنانچہ خلیل خاں کے ختنہ کی تاریخ کہی۔
"سنّت خلیل اللہ" اپنی عمّہ کے مرنے کی تاریخ کہی۔ لَھَا اَجرُ عَظیمُ۔
اپنے والد کی وفات کی تاریخ کہی۔ وَقَد فَاز فَوراً عَظیماً۔
اپنی بیٹی کی ولادت کی تاریخ کہی۔
نال کٹنے کے ساتھ ہاتف نے
کہی تاریخ دخترِ مومنؔ
دختر مومنؔ کے اعداد میں سے نال کے اعداد کو اخراج کیا ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب کی وفات کی تاریخ۔
دستِ بے داد اجل سے بے سر و پا ہو گئے
فقر و دیں، فضل و ہنر، لطف و کرم، علم و عمل
الفاظ مصرع آخر کے اول و آخر کو گرا دو بیچ کے حرفوں کے عدد لے لو تو ۱۲۳۹ھ رہتے ہیں۔ ان کے معمے بھی متعدد ہیں، مگر ایک لاجواب ہے ایسا نہیں سنا گیا۔
بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا
ہم الٹے، بات الٹی، یار (یعنی مہتاب رائے ) الٹا
پہیلیاں بھی کہیں، ایک یہاں لکھی جاتی ہے کہ گھڑیال پر ہے۔
نہ بولے وہ جب تک کہ کوئی بلائے
نہ لفظ اور معنی سمجھ میں کچھ آئے
نہیں چور پر وہ لٹکتا رہے
زمانہ کا احوال بکتا رہے
شب و روز غوغا مچایا کرے
اسی طرح سے مار کھایا کرے
کوٹھے سے گرنے کے بعد انہوں نے حکم لگایا تھا کہ ۵ دن یا ۵ مہینے، یا ۵ برس میں مر جاؤں گا، چنانچہ ۵ مہینے کے بعد مر گئے۔ گرنے کی تاریخ خود ہی کہی تھی۔ "دست و بازو بشکست" مرنے کی تاریخ ایک شاگرد نے کہی۔ "ماتم مومن" دلی دروازہ کے باہر میدھیوں کے جانب غرب زیر دیوار احاطہ مدفون ہوئے۔ شاہ عبد العزیز کا خاندان بھی یہیں مدفون ہے۔
روایت : مرنے کے بعد لوگوں نے عجیب عجیب طرح سے خواب میں دیکھا، ایک خواب نہایت سچّا اور حیرت انگیز ہے، نواب مصطفیٰ ٰ خاں نے دو برس بعد خواب میں دیکھا کہ ایک قاصد نے آ کر خط دیا کہ مومنؔ مرحوم کا خط ہے۔ انھوں نے لفافہ کھولا تو اس کے خاتمہ پر ایک مہر ثبت تھی جس میں مومنؔ جنتیؔ لکھا تھا، اور خط کا مضمون یہ تھی کہ آج کل میرے عیال پر مکان کی طرف سے بہت تکلیف ہے۔ تم ان کی خبر لو۔ صبح کو نواب صاحب نے دو سو روپے ان کے گھر بھیجے اور خواب کا مضمون بھی کہلا بھیجا، ان کے صاحبزادے احمد نصیر خاں سلمہ اللہ کا بیان ہے کہ فی الواقع ان دنوں میں ہم پر مکان کی نہایت تکلیف تھی، برسات کا موسم تھا اور مکان ٹپکتا تھا۔
اپنے شفیق مکرم کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے یہ حالات مرتب کر کے عنایت فرمائے لیکن کلام پر رائے نہ لکھی اور باوجود التجا مکرر کے انکار کیا۔ اس لئے بندہ آزاد اپنے فہم قاصر کے بموجب لکھتا ہے۔
غزلوں میں ان کے خیالات نہایت نازک اور مضامین عالی ہیں اور استعارہ اور تشبیہ کے زور نے اور بھی اعلیٰ درجہ پر پہنچایا ہے۔ ان میں معاملات عاشقانہ عجیب مزے سے ادا کئے ہیں۔ اسی واسطے جو شعر صاف ہوتا ہے اس کا انداز جرأت سے ملتا ہے اور اس پر وہ خود بھی نازاں تھے۔ اشعار مذکورہ میں فارسی کی عمدہ ترکیبیں اور دل کش تراشیں ہیں کہ اردو کی سلاست میں اشکال پیدا کرتی ہیں۔ ان کی زبان میں چند وصف خاص ہیں جن کا جتانا لطف سے خالی نہیں۔ اکثر اشعار میں ایک شے کو کسی صفت خاص کے لحاظ سے ذات شے کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اس ہیر پھیر سے شعر (بعض اشعار پر لوگوں کے اعتراض ہیں۔ ان کی تفصیل و تحریر ایک معمولی بات ہے۔ مثلاً شمر با تسکین ہے اور اسے شہر نصیحتیں باندھا ہے۔ مصرعہ : دل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ جو بے پہ محب مسکین اور دل رکھے شِمر کا سا --- یا نوحہ مومنؔ کی نئی ترکیب ہے، اور ایسے ایجادات کے کلام میں اکثر ہیں۔ ) میں عجیب لطف بلکہ معانی پنہانی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً
موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا
محو مجھ سا دمِ نظارہ جاناں ہو گا
آئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہو گا
کیا رم نہ کرو گے اگر ابرام نہ ہو گا
الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا
روز جزا جو قاتلِ دل جو خطاب تھا
میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا
پسِ شکستن خم زجر محتسب معقول
گناہگار نے سمجھا گناہگار مجھے
نقد جاں تھا نہ سزائے دیت عاشق صد حیف
خون فرہاد سرِ گردن فرہاد مجھے
اکثر عمدہ ترکیبیں اور نادر تراشیں فارسی کی اور استعارے و اضافتیں اردو میں استعمال کر کے کلام کو نمکین کرتے ہیں۔ مثلاً :
گر وہاں ہے یہ خموشی اثر افغاں ہو گا
حشر میں کون مرے حال کو پرساں ہو گا
یعنی فغانے کہ اثرش خموشی است۔
بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ
اچھا نہ کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے
یعنی۔ بیارے کہ چارہ اش اجل است
وفائے غیرت شکر جفا نے کام کیا
کہ اب ہوس سے بھی اعدائے بوالہوس گزرے
ستم اے شور بختی میری ہڈی کیوں ہما کھاتا
سگ لیلیٰ ادا کو گر نہ ظالم بدمزہ لگتی
اکثر اہل اردو یہ طرز پسند نہیں کرتے لیکن اپنا اپنا مذاق ہے۔ ناسخؔ اور آتشؔ کے حال میں اس تقریر کو بہت طول دے چکا ہوں اور دوبارہ لکھنا فضول ہے۔
قصائد : اپنے درجہ میں عالی رتبہ رکھتے ہیں اور زبان کا انداز وہی ہے۔
مثنویاں : نہایت درد انگیز ہیں۔ کیوں کہ درد خیز دل سے نکلی ہیں۔ زبان کے لحاظ سے جو غزلوں کا انداز ہے وہی ان کا ہے۔
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا
اڑتے ہی رنگ رُخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا
دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا
دیکھ اپنا حال ذرا منجم ہوا رقیب
تھا ساز گار طالع ناساز دیکھنا
بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن
حال سپر تفرقہ انداز دیکھنا
مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم
پامال ہو نے جائے سر افراز دیکھنا
کشتہ ہوں اس کی چشم فسوں گر کا اے مسیح
کرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا
میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو
بے طاقتی پہ سرزشِ ناز دیکھنا
ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے
مومنؔ غمِ مآل کا آغاز دیکھنا
*-*-*-*-*
اشک و اژد نہ اثر باعثِ صد جوش ہوا
ہچکیوں سے میں یہ سمجھا کہ فراموش ہوا
جلوہ افروزی رخ کے لئے مے نوش ہوا
میں کبھی آپ میں آیا تو وہ بے ہوش ہوا
کیا یہ پیغامبرِ غیر ہے، اے مرغِ چمن
خندہ زن باد بہاری سے وہ گلگوش ہوا
ہے یہ غم گور میں رنج شب اجل سے فزوں
کہ وہ مہ رو مرے ماتم میں سیہ پوش ہوا
مجھ پہ شمشیر نگہ خود بخود آ پڑتی ہے
عاجز احوالِ زبوں سے وہ ستم کوش ہوا
آفریں دل میں رہی خنجر دشمن کے سبب
اپنے قاتل سے خفا تھا کہ میں خاموش ہوا
درد شانہ سے ترا محو نزاکت خوش ہے
کہ میں ہمدوش ہوں گر غیر بھی ہمدوش ہوا
وہ ہے خالی تو یہ خالی یہ بھری تو وہ بھری
کاسۂ عمر عدد حلقہ آغوش ہوا
تو نے جو قہر خدا یاد دلایا مومنؔ
شکوہ جور بتاں دل سے فراموش ہوا
*-*-*-*-*-*
گئے وہ خواب سے اٹھ غیر کے گھر آخر شب
اپنے نالہ نے دکھایا یہ اثر آخر شب
صبح دم وصل کا وعدہ تھا یہ حسرت دیکھو
مر گئے ہم دم آغاز سحر آخر شب
شعلہ آہ فلک رتبہ کا اعجاز تو دیکھ
اول ماہ میں چاند آئے نظر آخر شب
سوز دل سے گئی جاں بخت چمکنے کے قریب
کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
ملتے ہو غیر سے بے پردہ تم انکار کے بعد
جلوہ خورشید کا سا تھا کچھ ادھر آخر شب
صبح دم آنے کو وہ تھا کہ گواہی دیدے
رجعت قہقہری چرخ و قمر آخر شب
غیر نکلا ترے گھر سے گئی اس وہم میں جاں
غل ہوئے چور کے اس کوچے میں گر آخر شب
دی تسلی تو وہ ایسی کہ تسلی نہ ہوئی
خواب میں تو مرے آئے وہ مگر آخر شب
مو سفیدی کے قریب اور ہے غفلت مومنؔ
نیند آتی ہے بہ آرام دِگر آخر شب
*-*-*-*-*-*-*-*
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بت کے لئے میں ہوس حور سے گزرا
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
چشمک مری وحشت ہے یہ کیا حضرت ناصح
طرز نگہِ چشم فسوں ساز تو دیکھو
اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے
کم طالعی عاشق جانباز تو دیکھو
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو
محفل میں تم اغیار کے دزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے ساز تو دیکھو
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو
دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو
جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے
جورِ اجل تفرقہ پرواز تو دیکھو
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
ناوک انداز جدھر دیدہ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے
ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے
ہم نکالیں گے سن اے موج صبا بل تیرے
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدی زنداں ہوں گے
منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لئے شرمندہ احساں ہوں گے
تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
گُل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے
غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
کیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہوں گے
داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے
چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے
پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی
پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنوں
وہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
خوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی
خبر ہے لاش پہ اس بے وفا کے آنے کی
ہے ایک خلق کا خوں سر پہ اشک خوں کے مرے
سکھائی طرز اُسے دامن اٹھا کے آنے کی
سمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا میں اے ناصح
کہا جو تو نے نہیں جاں جا کے آنے کی
امید سرمہ میں تکتے ہیں راہ دیدۂ زخم
شمیم سلسلہ مشکا کے آنے کی
چلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ
تم اپنے پاس تک اس مبتلا کے آنے کی
نہ آئے کیوں دلِ مرغ چمن کہ سیکھ گئی
بہار وضع ترے مسکرا کے آنے کی
مشام غیر میں پہنچی ہے نگہت گل و داغ
یہ بے سبب نہیں بندی ہوا کے آنے کی
جو بے حجاب نہ ہو گی تو جان جائے گی
کہ راہ دیکھی ہے اس نے حیا کے آنے کی
پھر اب کے لا ترے قربان جاؤں جذبہ دل
گئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا کے آنے کی
خیالِ زلف میں خود رفتگی نے قہر کیا
امید تھی مجھے کیا کیا بلا کے آنے کی
کروں میں وعدہ خلافی کا شکوہ کس کس سے
اجل بھی رہ گئی ظالم سُنا کے آنے کی
کہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں
قسم ہے مجھ کو صدائے درا کے آنے کی
مرے جنازہ پہ آنے کا ہے ارادہ تو آ
کہ دیر اٹھانے میں کیا ہے صبا کے آنے کی
مجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو
مری تسلی کو روز جزا کے آنے کی
از بس جنوں جدائی گل پیرہن سے ہے
دل چاک چاک نغمہ مرغِ چمن سے ہے
سرگرم مدحِ غیر دمِ شعلہ زن سے ہے
دوزخ کو کیا جلن مرے دل کی جلن سے ہے
روز جزا نہ دے جو مرے قتل کا جواب
وہم سخن رقیب کو اس کم سخن سے ہے
یاد آ گیا زبس کوئی مہروئے مہر وش
امید داغ تازہ سپہر کہن سے ہے
کچھ بھی کیا نہ یار کی سنگیں دلی کا پاس
سب کاوش رقیب دل کوہکن سے ہے
ان کو گمان ہے گلہ چین زلف کا
خوشبو دہانِ زخم جو مشک ختن سے ہے
میں کیا کہ مرگ غیر پہ دامانِ تر نہ ہو
وہ اشک ریز خندہ چاک کفن سے ہے
کیونکر نجات آتش ہجراں سے ہو کہ مرگ
آئی تو دور ہی تب و تاب بدن سے ہے
خود رفتگی میں چین وہ پایا کہ کیا کہوں
غربت جو مجھ سے پوچھو تو بہتر وطن سے ہے
رشک پری کہے سے عدو کے یہ وحشتیں
نفرت بلا تمھیں مرے دیوانہ پن سے ہے
داغ جنوں کو دیتے ہیں گل سے زبس مثال
میں کیا کہ عندلیب کو وحشت چمن سے ہے
کیوں یار نوحہ زن ہیں کہاں مرگ مجھکو تو
لب بستگی تصورِ بوس دہن سے ہے
کیا کیا جواب شکوہ میں باتیں بنا گیا
لو اب بھی دل درست اسی دلشکن سے ہے
اپنا شریک بھی نہ گوارا کرے بتو
مومنؔ کو ضد یہ کیسی ید برہمن سے ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
دعا بلا تھی شب غم سکون جاں کے لئے
سخن بہا نہ ہوا مرگ ناگہاں کے لئے
نہ پائے یار کے بوسے نہ آستاں کے لئے
عبث میں خاک ہوا میں آسماں کے لئے
خلاف وعدہ فردا کی ہم کو تاب کہاں
امید یکشیہ ہے پاس جاوداں کے لئے
سنیں نہ آپ تو ہم بوالہوس سے حال کہیں
کہ سخت چاہیے دل اپنے راز داں کے لئے
حجاب چرخ بلا ہے ہوا کرے بیتاب
فغاں اثر کے لئے اور اثر فغاں کے لئے
ہے اعتماد مرے بخت خفتہ پر کیا کیا
وگرنہ خواب کہاں چشم پاسباں کے لئے
مزا یہ شکوے میں آیا کے بے مزا ہوئے وہ
میں تلخ کام رہا لذت زباں کے لئے
کیا ہے دل کے عوض جان دے رقیب تو دوں
میں اور آپ کی سوداگری زباں کے لئے
وہ لعل روح فزا دے کہاں تلک بوسے
کہ جو ہے کم ہے یہاں شوق جانفشاں کے لئے
ملے رقیب سے وہ جب سے وصال ہوا
دریغ جان گئی ایسے بدگماں کے لئے
کہاں وہ عیش اسیری کہاں وہ دام قفس
ہے بیم برق بلا روز آشیاں کے لئے
جنونِ عشق ازل کیوں نہ خاک اڑائیں کہ ہم
جہاں میں آئے ہیں ویرانی جہاں کے لئے
بھلا ہوا کہ وفا آزما ستم سے ہوئے
ہمیں بھی دینی تھی جاں اس کے امتحاں کے لئے
زواں فزائی سحر حلال مومنؔ ہے
رہا نہ معجزہ باقی لب بتاں کے لئے