علامہ آرزو لکھنو ی: شاعری کے علاوہ، نثر پر بھی کمال درجے کی قدرت رکھتے تھے

52 views
Skip to first unread message

abrar ahmed

unread,
Jun 20, 2014, 6:01:16 AM6/20/14
to bazme...@googlegroups.com

علامہ آرزو لکھنو ی: شاعری کے علاوہ، نثر پر بھی کمال درجے کی قدرت رکھتے تھے

وائس آف امریکہ

علامہ آرزو لکھنو ی:  شاعری کے علاوہ،  نثر پر بھی کمال درجے کی قدرت رکھتے تھے
علامہ آرزو لکھنو ی: شاعری کے علاوہ، نثر پر بھی کمال درجے کی قدرت رکھتے تھے

15.04.2010 20:00

آرزو کا نام سید انور حسین تھا ۔ ان کی پیدائش 16 فروری 1873 کو لکھنو کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ۔ ان کے والد میر ذاکر حسین یاس بھی شاعر تھے اس لئے انور حسین بچپن سے ہی شاعری کی جانب راغب ہو گئے اور شاگردی قادر الکلام شاعر جلال لکھنوی کی اختیار کی ۔

علامہ آرزو لکھنوی کی شخصیت ہشت پہل تھی ۔ انہوں نے صرف غزل گوئی نہیں کی ان کو شاعری کی تمام اصناف غزل گوئی ، مرثیہ گوئی ، نعت گوئی ، سلام گوئی ، قصیدہ گوئی ، مثنوی نگاری ، گیت ، رباعی اور تاریخ گوئی پر بھی درک حاصل تھا ۔ اس کے علاوہ وہ نثر پر بھی زبردست قدرت رکھتے تھے ۔ جہاں انہوں نے اسٹیج ڈرامے لکھے اور بر جستہ مکالموں کی تکمیل کی وہیں انہوں نے دو درجن سے زائد فلموں کے گانے اور مکالمے بھی لکھے تھے ۔

ان فلموں کے گانے اپنے زمانے میں بے حد مقبول ہوئے تھے ۔

دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

6 جنوری سنہ 1991کو آرزو ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے کراچی پاکستان گئے تھے ۔  ریڈیو پاکستان  کے کنٹرولر سید ذوالفقار علی بخاری نے ان کی خدمات حاصل کرلیں۔ مگر پاکستان میں ان کا قیام بہت ہی مختصر رہا ۔ 16 اپریل سنہ 1991کو کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہیں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔

علامہ آرزو لکھنوی بچپن سے ہی قادر الکلام شاعر تھے ۔ کم عمری میں ہی ایک استاد نے ان کو ایک مصرعہ طرح دے کر چیلنج کیا کہ اس طرح میں زلف کی رعایت کے بغیر دو د ن کے اندر ایک شعر بھی کہہ دو تو ہم تمہیں شاعر مان لیں گے ۔ انہوں نے دو دن تو کیا محض چند گھنٹوں میں گیارہ اشعار کی غزل کہہ کر سنا دی اور سب عش عش کر اٹھے ۔

رقیب اپنے بہت ہیں یہ اس کی ہے تعبیر
کہ روز آکے ڈراتے ہیں ہم کو خواب میں سانپ
ہمارا درد جگر آسماں کا تیر شہاب
مقابلے کو چلے سانپ کے جواب میں سانپ

علامہ آرزو لکھنوی کے کلام میں ندرت ہے ، اس کے علاوہ انہوں نے اردو شاعری کو اپنی زمین سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ اس لئے ان کی شاعری اس سر زمین سے پیوست نظر آتی ہے ۔ پروفیسر آل احمد سرور فرماتے ہیں:‘غزل کی زبان کو بول چال کی زبان سے قریب لا کر شاعر نے یہ واضح کیا ہے کہ شاعر کی بولی دنیا والوں کی بولی سے الگ نہیں ہو تی اور نہ وہ قدیم بحروں کی قید میں ہمیشہ اسیر رہتی ہے ۔ اسی لےے آرزو کے اشعار میں سادگی اور پر کاری ہے ۔’

 ان کی غزل کے کچھ اشعار:

پھیر تو لیں گے چھری بھی زخم بھی کھائیں گے ہم 
یوں نہ موت آئی تو پھر بے موت مر جائیں گے ہم
داغ اک سینے میں ہے اب دل کی جا یاد دش بخیر
ساتھ کیا لائے تھے کیا دنیا سے لے جائیں گے ہم
وقت رخصت مجھ سے دو دو کام ہو سکتے نہیں 
ا ن کو روکیں گے کہ اپنے دل کو سمجھائیں گے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
پھٹے دامن میں شرح حال چشم خوں فشاں رکھ دی
ورق تھا ایک جس پر لکھ کے ساری داستاں رکھ دی
وہ تھے پرسان حال سوز دل ہم نے زباں رکھ دی 
کہ جلتی شمع لے کر اپنے ان کے درمیاں رکھ دی
کیا پھر تم کو روتا دیکھ کر دیدار کا وعدہ
پھر اک بہتے ہوئے پانی میں بنیاد مکاں رکھ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک منتظر وعدہ جا کر کہیں کیا بیٹھے 
گھبرایا جو دل گھر میں دروازے پہ آبیٹھے
اک اپنے فغاںکش سے اللہ یہ بے دردی
سب کہتے ہیں ہاں ہاں ناوک وہ لگا بیٹھے 
۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کا انتظار کون کرے 
زیست کا اعتبار کون کرے 
ہاتھ بے چین ہے گریباں پاس
انتظار بہار کون کرے 
غم دل سے ہے جب نہیں فرصت 
تو غم روزگار کون کرے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار الم کے لئے پہلو نکل آئے 
نالوں کو کیا ضبط تو آنسو نکل آئے

Rashid Ashraf

unread,
Jun 20, 2014, 6:20:38 AM6/20/14
to 5BAZMeQALAM, abrarah...@gmail.com

ہائیں ہائیں ابرار صاحب

آرزو لکھنوی 6 جنوری 1991 کو مشاعرے میں شرکت کی غرض سے کراچی آئے تھے ? صد افسوس کہ ہمیں اس بات کی خبر ہی نہ ہوئی ورنہ ملاقات کو جاتے۔ اور پھر زیڈ اے بخاری نے اسی دور میں یعنی 1995 میں ریڈیو کے لیے ان کی خدمات بھی حاصل کرلی تھیں۔ انتقال بھی آرزو کا 16 اپریل 1991 کو ہوگیا۔ ان دنوں کراچی کے حالات بہت خراب تھے، کیا خبر کسی ٹارگٹ کلر کا نشانہ بن گئے ہوں۔

عجب کرامتی شخص تھے صاحب۔ 1873 میں پیدا ہوئے، ایک مرتبہ 1951 میں انتقال کیا، 1995 میں دوبارہ انتقال کیا۔
 
مضمون کا عنوان ہے:

شاعری کے علاوہ، نثر پر بھی کمال درجے کی قدرت رکھتے تھے

ہمارے خیال میں تو حبس دم پر قدرت رکھتے تھے۔

مضمون پڑھ کر ہم انہی کے شعر کی تفسیر بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ع۔ ۔ ۔
نالوں کو کیا ضبط تو آنسو نکل آئے

آرزو کا سب سے عمدہ کلام تو مضمون کی زینت بنایا ہی نہ گیا، لیجیے ہم سے سن لیجیے:

اوّل شب وہ بزم کی رونقِ شمع بھی تھی پروانہ بھی

رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی

قید کو توڑ کے نکلا جب میں اُٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے
دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسبِ مراتب ہیں
لو جو لگائے شمع کھڑی ہے ، رقص میں ہے پروانہ بھی

حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے
شمع کا شعلہ جب لہرایا اُڑ کے چلا پروانہ بھی

دونوں جولاں گاہِ جنوں ہیں ، بستی کیا ویرانہ کیا
اٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا ویرانہ بھی

وحدت میں کی کثرت پیدا، جلووں کی پاشانی نے
ایک ہی جا تھا کچھ دن پہلے، کعبہ بھی، بتخانہ بھی

غنچے چُپ ہیں گل ہیں ہوا پر، کس سے کہیے جی کا حال
خاک نشیں اک سبزہ ہے، سو اپنا بھی بیگانہ بھی

دورِ مسرّت آرزو اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھا
ہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھُوٹ پڑا پیمانہ بھی


راشد اشرف

کراچی سے





--
Free Counselling for EAMCET Medical/Engg
https://groups.google.com/forum/#!topic/BAZMeQALAM/Yorv-xHgMRk

Arshad Khalid

unread,
Jun 20, 2014, 9:49:13 AM6/20/14
to bazmeqalam

Ahmad Safi

unread,
Jun 21, 2014, 3:28:38 AM6/21/14
to 5BAZMeQALAM
کٹ اینڈ پیسٹ سے پہلے اگر ایک بار سنجیدگی سے مضامین کو پڑھ لیا جائے تو اس قسم کی مضحکہ خیز معلومات سے بزم کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔۔۔ پھر بھی یہ مضمون قابل ِ معافی ہو گیا کہ بھائی راشد کے جواب نے طبیعت شگفتہ کر دی۔۔۔ 

میرا مشورہ یہی ہے کہ بریکنگ نیوز کی طرح ہر چیز کو بزم پر فارورڈ نہیں کر دینا چاہیئے!

خیر اندیش

احمد صفی

Yasir Qadeer

unread,
Jun 22, 2014, 12:35:19 AM6/22/14
to BAZMe...@googlegroups.com
AOA Ahmed safi sahib,

i think u r son of Late Marg=hoom Ibne-eSafi,,is it true i really happy to see u here
Regards,

Yasir Qadeer

Coordinator PTI France

Rashid Ashraf

unread,
Jun 23, 2014, 1:49:34 AM6/23/14
to 5BAZMeQALAM, abrarah...@gmail.com
جناب احمد صفی صاحب
جناب ارشد خالد صاحب

بھائی ابرار کا قصور نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مذکورہ مضمون وائس آف امریکہ کی معتبر ویب سائٹ سے پیش کیا گیا ہے۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2010 کی یہ تحریر جوں کی توں سائٹ پر تادم تحریر محفوظ ہے، وہاں بھی انتظامیہ نے نوٹس نہیں لیا۔ جبکہ تصحیح کرنا تو سیکنڈوں کا کام ہوتا ہے۔

خفتگان کراچی میں پروفیسر اسلم نے علامہ آرزو لکھنوی کی قبر کا کتبہ (تصویر) اور احوال پیش کیا ہے۔

ابرار صاحب
آپ کا شکریہ

راشد



2014-06-20 18:48 GMT+05:00 Arshad Khalid <akkas...@gmail.com>:
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages