Urdu Times ka Taza adabi safha

245 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 17, 2015, 11:17:40 AM8/17/15
to


 اُردو ٹائمز(ممبئی ) کا ادبی صفحہ
اتوار۱۶ اگست۲۰۱۵
مطلع
الفاظ ، اینٹ اور پتھر کی طرح بے جان نہیں ہوتے۔ یہ جانداروں کی طرح پیدا ہوتے ہیں ، بڑھتے اورمَرجاتے ہیں۔ ا ن میں شریف بھی
 ہوتے ہیں اور رذِیل بھی۔ سخت بھی ہوتے ہیں اورنرم بھی۔ کسی میں شہدکی سی مٹھاس ہوتی ہے اور کوئی کڑوا ہوتاہے۔ کسی میں ترنم ہوتا ہے
 اور کوئی چٹان کا روڑا ہوتاہے۔ ان میں سادگی بھی ہے اورپُرکاری بھی۔ انکسار بھی ہے اور شان وشکوہ بھی۔ یہ سفر بھی کرتے ہیں اور ایک
 ملک سے دو سرے ملک میں اس طرح پہنچ جاتے ہیں جیسے کوئی اپنی جاگیر میںپہنچ جائے۔ لیکن سفر کی تکان اور زمانے کی گرد سے ان کا
 رنگ روپ بدل جاتا ہے اور پردیسی الفاظ میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ ان کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے اور بعض وقت تو ان
کے مزاج میں بھی فرق آجاتا ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ خواہ کسی حالت میں ہوں سننے والے کو اپنی بیتی سناتے ہیں۔ ٭ غلام ربّانی
خوشبو
 چمن میں اختلاطِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے
ہمی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں، تمہی تم ہو تو کیا تم ہو
٭ بھیم سین سچّرسرشارسیلانی
 نے مندرجہ بالا شعر میں’ اختلاطِ رنگ و ب ¾و‘ کہا تھا مگر اس شعر کونقل کرتے وقت لوگوں نے لفظ اختلاط کو اختلاف سے سہواً بدل دیا۔ اہل نظر توجہ فرمائیں کہ اختلاط کے بجائے اختلاف سے معنوی کیفیت کس قدر متاثر ہوتی ہے۔!
 مضامین
ایک اصلاح ایک استفسار 
٭ شین کاف نظام (جودھپور) 
مولانا سیماب اکبرآبادی نے اپنی کتاب ” دستور الا صلاح “ میں احسن مارہروی کے اس شعر :
ہائے پڑجاتے ہیں ناسور ہمارے دل میں 
ایسا کچھ زہر بھر ا ہے تری مڑگانوں میں 
پھر مرز ا داغ کی اصلاح درج کی ہے :
گہرے پڑجاتے ہیں ناسور ہمارے دل میں 
ایسا کچھ زہر بھراہے تری مژگانوں میں 
یعنی مصر ع اوّل کے پہلے لفظ ’ہائے ‘جو حشوتھا ، کی جگہ گہرے بنا دیا۔ 
سیماب صاحب نے تو جیہ فرماتے ہوئے لکھا ہے ؛
پہلے مصرع میں ’ہائے ‘ برائے بیت تھا۔ اصلاح میں اس کی جگہ ایک ایسا لفظ رکھ دیا ، جسے ناسور سے گہر اتعلق بھی ہے اوربرائے بیت بھی نہیں۔
یہ اصلاح دیکھ کر مجھے تامل ہوا۔ اپنے شک کو دور کرنے کیلئے میں نے ایک خط پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی اوردوسرا مولانا ماہر القادری کی خدمت میں ارسال کیا۔ میں نے اپنے عریضے میںلکھا کہ :
(۱) شعرِ مذکور میں پہلا مصرع لفظ ’میں ‘پرختم ہوتاہے اور دوسرے مصر عے میں بھی ، شاید ’ میں ‘ ردیف ہے۔ اس لئے اس شعر میں اجتماع ردیفین یا تقابل ردیفین ہے۔ 
ّ(۲) فارسی میں کسی لفظ کی جمع بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے اس لفظ کیآخری ہ (ہے) ہٹا کر گاف (گ) الف(۱) اورنون (ن) کااضافہ کردیا جائے، اس قاعدے کی رو سے ”مڑہ “کی جمع مڑگاں ، اس کی اردو جمع ’مڑگانوں ‘ جمع الجمع ہوئی ، کیا اسے صحیح مانا جائے گا؟ 
مرزا داغ? اور ان کے لائق وفائق شاگرد مولانا احسن مارہروی دونوں ہی مسلم الثبوت استادتھے۔خود انہیں کے بتائے ، بنائے اصولوں کی روشنی میں مندرجہ بالا شعر اصلاح کے بعد بھی کمزور اور اصلاح طلب ہے۔ 
مولانا ماہر القادری اور جوش ملسیانی دونوں مجھ ناچیز کے کرم فرما تھے اور شفقت فرماتے تھے ، انہیں یہ معلوم تھا کہ میرا مقصد تحصیل علم ہے ، بزرگوں کی عیب جوئی نہیں۔ چنانچہ انہوں نے میرے اس استفسار کا جواب بھی نہایت مہربانی سے دیا۔ پہلے جوش صاحب کا جواب ملاحظہ ہو۔ 
نکودر ، ضلع جالندھر ، 
مشرقی پنجاب 
۲۳ مئی ۷۰ء
اخلاص پرور مشفقی 
خط پہنچا۔ یادآوری اورحسنِ ظن کا بہت بہت شکریہ 
ہائے پڑجاتے ہیں ناسور ہمارے دل میں۔۔۔۔۔
پہلا مصرع ’میں ‘ پرختم کیا ، اسے اجتماع ردیفین کہنا بھی درست ہے مگر اہلِ فن تقابل ردیفین کہتے ہیں۔ اساتذہ کے کلام میں اس کی مثالیں کہیں کہیں مل ہی جاتی ہیں۔ مگر ہے یہ بارِ گوش۔ میرے کلام میں بھی بے خیالی کی وجہ سے دو چار ایسی مثالیں مل جائیں گی۔ ورنہ میں ایسے سقم سے ہمیشہ محتاط رہتاہوں۔ شاگردوں کے کلام میں بھی روا نہیں رکھتا۔ ردیف ’ہے ‘ ہوتوپہلا مصرع ’ہے ‘ پرتو درکنار ’شئے ‘، ’ کے ‘ پر بھی ختم نہیں کرتا۔ ایسی صورت کوشبہِ تقابل ردیفین کہا کرتا ہوں۔
حضرت داغ کے کلام میں بھی ایسی کچھ مثالیں مل جائیں گی مگر۔۔۔۔۔ کے مصداق۔ بہرحال مصرع اول کی صورت محل نظر ہے۔ 
مڑگانوں۔ اردو میںیہ جمع پہلی بار میں نےآپ کے خط میں پڑھی۔ اگرچہ اردو شاعری میں مڑگاں کا بطور واحد استعمال ہوتاہے۔ فارسی میں بھی دست مڑگاں، پنجہ? مڑگاں ، دا،منِ مڑگاں کی ترکیبیں مستعمل ہیں۔یہی ترکیبیں اردو میں بھی اس کے واحد استعمال پر دلالت کرتی ہیں۔ 
ع دستِ مژگاں سے کروں کنگھی تمہاری زلف میں 
ع طفِل اشک ایسا گرادامانِ مژگاں چھوڑ کر 
مگر اس کے باوجود اس کو جمع کی صورت میں استعمال کرنا قابل قبول نہیں۔ 
جمع الجمع کے متعلق آپ کی دلیل بھی وزن رکھتی ہے۔ فارسی میں توجمع الجمع کثیر الاستعمال ہے مثلاًرسومات ، حوادثات ، نوا درات ، لوازمات ، وجوہات ، امورات وغیرہ مگر اردو میں یہ صورت انبیاو ¿ں ، اولیاو ¿ں کی طرح مضحکہ خیز ہے۔ 
چونکہ یہ لفظ قافیہ میںآیا۔ اس لئے استاد مرحوم نے مجبوراً اس کی ترمیم چھوڑ دی ہوگی۔ 
حاصل کلام یہ ہے کہ اصلاح کے بعد بھی دونوں مصرعوں میں ترمیم کی گنجائش رہ گئی۔
اس کے بعدمولانا ماہرالقادری کا جواب دیکھیں۔
بسم اللہ 
مئی ۱۹۷۰ء
مکرمی ، السلام علیکم !
آپ کاخیال درست ہے ، اس شعر میں ہائے ، واقعی برائے بیت ہے۔ مڑگانوں بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ پھر ”مڑگانوں “ کیلئے ” زہر بھرا“ کہنا اور زیادہ محلِ نظرہے۔ مڑگانوں کو نشتر وغیرہ سے تشبیہ دیتے ہیں، اسکے علاوہ ” زہر“ سے ناسور کا بڑھنا بھی غلط ہے۔ 
تقابل ردیفین کا عیب ان تمام کمزوریوں پر مستزاد۔ اصلاح میں ’گہرے “ نے ”ہائے “ کے سقم کو بے شک دور کردیا مگر دوسری خرابیاں باقی ہیں ۔
مخلص :ماہر 
٭مضمون نگار(شین۔ کاف نظام) سے رابطہ : 09414136313
٭٭
 الفاظ کا مزاج
٭غلام ربّانی
زبان اپنے وسیع معنی میں خیالات ظاہر کرنے کاذریعہ ہے۔ جانوروں کی چیخیں بھی ایک حد تک زبان کہی جاسکتی ہیںبشرطیکہ ان کے دل کی حالت ظاہر کریں۔ 
الفاظ بامعنی آواز یں ہیں۔ چرند اور پرند بھی ایسی آوازیں نکالتے ہیںجن کے معنی ہوتے ہیں۔ وہ خوف ظاہر کرتے ہیں۔ خوشی اور خواہش بھی ظاہر کرسکتے ہیں مگراپنے خیالات ظاہر نہیں کرسکتے۔جانداروںمیں ایک انسان ہی ہے جو کچھ محسوس کرتا اور سوچتا ہے ، اس کوبیان بھی کرسکتا ہے۔ زبان وہ چیز ہے جس پر تمام انسانی تعلقات قائم ہیں۔ یہ الفاظ سے بنتی ہے اور الفاظ سانچے ہیںجن میں خیالات ڈھلتے ہیں۔ چنانچہ ہر لفظ جوکسی چیز کیلئے بنتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی خیال لپٹا ہوتاہے۔ 
الفاظ ، اینٹ اور پتھر کی طرح بے جان نہیں ہوتے۔ یہ جانداروں کی طرح پیدا ہوتے ہیں ، بڑھتے اورمَرجاتے ہیں۔ ا ن میں شریف بھی ہوتے ہیں اور رذِیل بھی۔ سخت بھی ہوتے ہیں اورنرم بھی۔ کسی میں شہدکی سی مٹھاس ہوتی ہے اور کوئی کڑوا ہوتاہے۔ کسی میں ترنم ہوتا ہے اور کوئی چٹان کا روڑا ہوتاہے۔ ان میں سادگی بھی ہے اورپُرکاری بھی۔ انکسار بھی ہے اور شان وشکوہ بھی۔ یہ سفر بھی کرتے ہیں اور ایک ملک سے دو سرے ملک میں اس طرح پہنچ جاتے ہیں جیسے کوئی اپنی جاگیر میںپہنچ جائے۔ لیکن سفر کی تکان اور زمانے کی گرد سے ان کا رنگ روپ بدل جاتا ہے اور پردیسی الفاظ میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ ان کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے اور بعض وقت تو ان کے مزاج میں بھی فرق آجاتا ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ خواہ کسی حالت میں ہوں سننے والے کو اپنی بیتی سناتے ہیں۔ آج کل کا ماہرآثار قدیمہ کسی تہذیب کا پتہ لگانا چاہتا ہے تو وہ پرانی کتابوں ہی پر تکیہ نہیں کرتا۔ اس کیلئے وہ زمین کھودتا ہے اور پھر ان سے سکے ، کتبے ، ہتھیار ،مِٹّی کی مورتیں ، منکے ، اینٹیں ، ہانڈیاں ، ٹھیکرے ، مُردوںکی کھوپڑیاں وغیرہ بہت سی چیزیں برآمد کرتا ہے اور ان چیزوں کے مطالعے سے نتیجے نکالتا اور تاریخ مرتب کرتاہے۔ زمین کی طرح زبان بھی پرانے خزانوں سے مالا ل ہے۔ اگر زبان کو کریدا جائے تو اس میں بے شمار ایسے الفاظ نکلتے ہیںجو قدیم لوگوں کے خیالات ، جذبات ان کے کارناموں اور ان کی معاشرت کو اُجاگر کردیتے ہیں۔ تصویر کی طرح الفاظ کی بھی زبان ہوتی ہے وہ بولتے ہیں، سننے والے کو اپنی بیتی سناتے اورہزاروں برس کے علمی اور اخلاقی واقعے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
’شاہ‘ ہزاروں برس پرانا لفظ ہے۔ یہ اس وقت کی یاد دلاِتا ہے جب ایران میں لوگ جنگلی جانوروں کو مار کر ان کے سینگ سروں پر لگاتے تھے اور یہ سینگ بہادری اور سرداری کانشان سمجھے جاتے تھے ، جب لوگ کسی کے سرپر سینگ یا ، شاخ ، دیکھتے تو اس کو سردار سمجھتے اور” شاخ “کہتے تھے۔یہی ”شاخ“کا لفظ رفتہ رفتہ ” شاہ“بن گیا۔
’زندان ‘ قدیم زمانے میں جب کوئی بادشاہ جنگ میں فتح پاتا تو شکست کھانے والی فوج کو تہس نہس کردِیاجاتا تھا اور جو قیدی ہاتھ لگتے ان کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ کوشش یہ ہوتی تھی کہ دُشمن کا کوئی سپاہی زندہ نہ بچے۔آخر ایک زما نہ آیا انسانی ہمدردی کو جنبش ہوئی۔ چنانچہ قیدیوں کی زندگی بخش دی جاتی تھی اور ان کو ہمیشہ کیلئے زندان میں ڈال دیا جاتا تھا۔ زندان زندگی سے ہے اور اس میں عمر قید کا مفہوم ہے۔
دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسد٪جانتے ہیں سینہ ¿ پرخوں کو زنداں خانہ ہم
 (غالب) 
” استاد“ حضرت زرتشت کی مرقومات کا مجموعہ ”اوستا“ ہے۔ مذہبی کتابوں کے سمجھنے اور سمجھانے کیلئے خاصی قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے پھر ’ اوستا‘ نہایت ہی قدیم ایرانی زبان میں تھی جس کو سمجھنے والے کم تھے ، چنانچہ جو حضرات اوستا کے ماہر ہوتے ان کو استاد کہاجانے لگا۔ اُستاد بڑی عزت اوروقار کا لفظ ہے۔ لیکن جوں جوں زمانہ گزرتاگیا اس کارُتبہ کم ہوتا گیا۔ یہ لفظ پروفیسر کیلئے موزوں تھا۔ مگر بعد میں ہر فن کے ماہر کیلئے اُستاد کہنے لگے۔ یہاں تک کہ سارنگیے کا نام بھی اُستاد جی ہوگیا ہے اور اب یہ لفظ چالاک اورچلتے پرزے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔
”سوئمبر“ سنسکرت میں ” سوئم “ خود اور ’بر‘ شوہر ہے جس کا مطلب شوہر خود انتخاب کرنا۔آج کل لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کوپسند کیا جاتا ہے اور بعض اوقات منگنی کے بعد بھی کسی وجہ سے بات توڑ دی جاتی ہے۔سوئمبر کا لفظ اس زمانے کی یاد دِلاتاہے جب لڑکی بھری سبھامیں خود شوہر انتخاب کرتی تھی اور ماں باپ یا کوئی اور کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
اس قسم کے الفاظ کی بھی کمی نہیں جو اِبتدا میں بہت اچھے معنوں میں استعمال ہوتے تھے مگر پردیس جاکر اپنی عزت کھو بیٹھے۔ خلیفہ آنحضرت کے جانشین کا لقب تھا۔ پھر اولیا کرام کے جانشینوں کو بھی خلیفہ کہنے لگے۔ ہوتے ہوتے درس دینے والی ملانی جی کے بچوں کو بھی خلیفہ کہاجانے لگا۔ یہاں تک تو مضائقہ نہ تھا مگر اس کا کیا علاج کہ اب حجام کو بھی خلیفہ کہتے ہیں۔ملا دو پیازہ کی طرح مولانا حالی نے بھی ایک النامہ لکھاتھا جس میں ” المذہب“ کو اعلان جنگ لکھا ہے۔ مذہب کے نام جو کشت وخون ہوتے ہیں وہ ابھی کم نہیں ہوئے۔خون خرابہ کے علاوہ مذہب میں زبانی جنگیں بھی بہت ہوئی ہیں اور ان سے بہت سے الفاظ پیدا ہوئے ہیں ، توحید ، تنویث، تثلیث ، جبریہ ، قدریہ ، ناستک ، نیچریا دہریا ، معتزلہ ، مقلد ، غیر مقلد ، اہلِ حدیث وغیرہ میں مختلف عقیدے سے جھلکتے ہیں۔ مذہبی اختلافات نے اور بھی گل کھلائے ہیں۔
ب ±دّ ھو۔ ب ±دّھی سے ہے جس کے معنی عقل و دانش ہیں۔ اس لئے بدّھو کے معنی دانش مند ہوئے۔ گوتم کا لقب بھی بودھ تھا۔ ملک میں جب ب ±دھ مت کو فتح ہوئی تو دوسرے مذہب کے لوگوں کو ا ±ن کا عروج ناگوار گزارا اور اُنہوں نے ب ±دھ مذہب کے پیردوں کوطنز کے طور ب ±دّھو کہنا شروع کیا۔ کہنے کو تو ب ±دّھو کہتے تھے مگر دل میں ان کو بے وقوف سمجھتے تھے۔آخر دل کی بات ہوکر رہی اور ب ±دّھو جو کسی زمانے میں دانش مند تھا اب بے وقوف یا احمق بن کر رہ گیا۔ ٭
٭ گزشتہ دنوں غلام ربانی مرحوم( 1888تا 1976 ا) کی ایک کتاب ”الفاظ کا مزاج“ ہمارے ہاتھ لگی۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک دلچسپ اور علمی نوعیت کی حامل تصنیف ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ یہاں پیش کیا گیا ہے لیکن ہم گاہے گاہے اس کے اقتباسات آئندہ بھی نذر قارئین کرتے رہیں گے۔ ٭مد یر

 خبر
پونے کے مشہور شاعر و ادیب
 متین انصاری کا سانحہ ¿ ارتحال
 پونے کے جواں سال شاعر و ادیب اور صحافی(۴۸ سالہ) متین انصاری طویل علالت کے بعدگزشتہ پیر،۱۰۔ اگست کو انتقال کر گئے ۔ 
متین انصاری ایک مدت سے گردوںکے امراض میں مبتلا تھے۔ اُنہوں نے پونا کالج سے گریجویشن کیا تھا۔ زمانہ ¿ طالب علمی ہی سے وہ صحافت سے منسلک ہوگئے تھے۔ اُردو رسالے ’اسباق‘، ہفت روزہ ’اقلیت کی آواز‘، مولانا حسن عباس فطرت کے ہفت روزہ اخبار ’مجموعہ ¿ صداقت‘ او ر حکیم رازی ادیبی کے ماہنامہ ’تکلم‘ سے صحافت کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہوا۔ ان اداروں سے انھیں خبریں جمع کرنے، ترتیب دینے، کتابت، طباعت و اشاعت سے لے کر اشتہارات اور سرکیولیشن تک کا تجربہ ہوا جو بعد میں ان کے ذاتی پندرہ روزہ اخبار ’محاذ‘ کےلئے سود مند ثابت ہوا۔ علالت کے باوجود مرحوم متین لٹل ادبی میگزین ’غزلستان‘ شائع کرتے رہے۔ ’غزلستان‘ کے چار شمارے منظر عام پر آچکے ہیں۔ جسے شعرا میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔
متین انصاری ایک کامیاب صحافی کے علاوہ پونے کے پانچ چھ خطاطوں میں سے ایک بہترین کاتب تھے۔ کتابت کا فن انھوں نے سحر جلگانوی سے سیکھا۔ متین انصاری کو شعر و شاعری سے طالب علمی کے زمانے ہی سے جنون کی حد تک شوق رہا۔ وہ زاہد کمال( پونے) کے شاگرد تھے۔
اکثر مشاعروں میں شرکت کرکے سامعین سے اپنے عمدہ کلام کے سبب خوب داد و تحسین حاصل کی۔ ان کی ایک غزل کے چند شعر اس وقت یاد آتے ہیں: 
آپ کا انتخاب پھولوں کا
تحفہِ لاجواب پھولوں کا
اس پہ پتھر جدھر سے بھی آئے
اس نے بھیجا جواب پھولوں کا
آپ کو دیکھ کر ہوا محسوس
آپ ہیں یا شباب پھولوں کا
تیرے چہرے پَہ جو تبسم ہے
کھل گیا جیسے باب پھولوں کا
 متین انصاری کی غزلیں، نظمیں ملک و بیرون ملک کے مختلف رسائل و اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔ 
مرحوم تعلیمی، ادبی و سماجی کام کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ پونے فیسٹیول کی سولہ سالہ تاریخ میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ موصوف مختلف تعلیمی، علمی، ادبی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ کچھ عرصے تک مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو اکیڈمی کے رکن بھی بنائے گئے۔ انہی کی سعی و کاوش سے اُردو ڈرامے کے لےے پونے کو سینٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 
متین انصاری کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے عوض مختلف تعلیمی، ادبی و سماجی تنظیموں اور انجمنوں نے اعزازات و انعامات سے بھی نوازا گیا، جن میں غالب کلچرل اکیڈمی ایوارڈ، سروش اعزاز، بزم ہم قلم ،رامپور، آل انڈیا افسانوی مقابلے میں کہانی ’کینوس‘ کو دوم انعام سے نوازا گیا۔
 حیدرآباد کی تنظیم مہدی کی جانب سے اعزازی انعام بھی انھیں تفویض کیا گیا۔ ’کینوس‘ (مراٹھی کہانیوں کا اُردو ترجمہ) جسے مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو اکیڈمی نے جزوی تعاون اور ایوارڈ سے نوازا، شائع ہوچکی ہے۔ ٭
 مرسلہ: جاوید مولا۔پونے
 ایوان غزل 
وحشتیں، ہجر کا غم، رُت لئے تنہائی کی
عید سی عید کہاں تیرے تمنائی کی
صاف گو کوئی نہ تھا اس سے زیادہ پھر بھی
بات دُنیا نے نہ سمجھی کبھی سودائی کی
کتنے بے بس ہیں یہاں حسن ازل کے اسرار
جس کے دل نے جو کہا حاشیہ آرائی کی
دل نشیں ہوکے بھی دِکھلائی نہ اپنی صورت
مدتوں جس کے لئے بادیہ پیمائی کی
آتے جاتے کبھی ہلکا سا تبسم ہی سہی
لاج کچھ تو رہے برسوں سے شناسائی کی
حسن رسوا سرِ بازار کہاں تھا پہلے
اب تو در آئی ہے خو اس میں خودآرائی کی
ہے اسی وقت سے یہ دشت نوردی کا جنوں
کب جھلک دیکھی تھی اِک لالہ ¿ صحرائی کی
اس کو دشوار نہیں دار و رسن کی منزل
جس نے دل دے کے محبت کی پذیرائی کی
ہم نے دِکھلایا ہوکر تےرے خاطر بیمار
تو بھی تاثیر دِکھا دست مسیحائی کی
عشق میں درد مسلسل ہی ملا ہم کو شہید
تھاہ ملتی نہیں اس درد میں گہرائی کی
٭ شہید فتح پوری(جوگیشوری۔ ممبئی)
رابطہ : 09029921793
تعارف پَہ نکل آتی ہیں رشتے داریاں اپنی
ہر اِک سے مل کے بڑھتی ہی رہیں دُشواریاں اپنی
س ±نا ہے ان دنوں ملتی ہے قیمت ان کی منہ مانگی
یہی ہے وقت چل کے بیچ لیں خودداریاں اپنی
اُنہیں کیا چاند کی بُڑھیا اشارے ہی نہیں کرتی
یہ بچے آج کے ب ±ھولے ہیں کیوں کلکاریاں اپنی
تمہاری آرزوہے سب تمہارے جیسے ہوجائیں
زمانے بھر کو تم نے بانٹ دیں بیماریاں اپنی
جو کہتا تھا زمیں کو مَیں ستاروں سے سجا دوںگا
وہی بستی کی تہہ میں رکھ گیا چنگاریاں اپنی
یہ لفظوں کی نمائش ایک دن تو ختم ہونی ہے
بس اب احمد وصی رہنے بھی دو گلکاریاں اپنی
٭ احمد وصی (ممبئی)
رابطہ : 09833094497
جی رہا تھا میں اس بھرم کے ساتھ 
اُس کے آنسو ہیں میرے غم کے ساتھ 
وہ پرانی کو بھول جاتا ہے 
اپنی ہر اِک نئی قسم کے ساتھ 
سانس کے ساتھ ہی جو آیا تھا 
غم وہ جائے گا میرے دَم کے ساتھ 
یہ کبھی جھوٹ لکھ نہیں پاتا 
مسئلہ ہے مرے قلم کے ساتھ 
ہم زیادہ کی چاہ کیا کرتے 
ہم کو جینا تھا کم سے کم کے ساتھ
کاروبارِ حیات کرنا پڑا 
ہم کو ڈوبی ہوئی رقم کے ساتھ
آنسوو ¿ں پر نکھار آتا گیا 
زندگی تیرے ہر کرم کے ساتھ
 ٭راجیش ریڈی (ممبئی)
رابطہ: 09821547423
درد تو روز ہی طوفان اُٹھاتا جائے
دل وہ دریا کہ ہر اِک سنگ بہاتا جائے
کاش اِک بار تو تعبیر بتا دے آکر
خواب در خواب جو تصویر دِکھاتا جائے
لب تو لہروں کو سنوارا کرے لہجہ لہجہ
لفظ وہ سنگ کہ ہر نقش مٹاتا جائے
دور تک بھی نظر آتا نہیں ایسا ساون
تپتے صحرا کو جو اِک شہر بناتا جائے
دل میں یوں اُتری ہیں یادوں کی براتیں اطہر
پٹریاں جیسے کوئی پُل پَہ بچھاتا جائے
٭اطہر عزیز (میرا روڈ)
رابطہ:09987025932



NadeemSiddiqui
ltir page-16-Augst-15 copy.jpg
ltir page-16-Augst-15.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 24, 2015, 11:08:33 AM8/24/15
to






اردو ٹائمز, ممبئی کا تازہ ادبی صفحہ
اتوار ۲۳اگست ۲۰۱۵
 مطلع:
”ادب اور آرٹ کی دُنیا درس گاہ نہیں بلکہ جادونگری ہے اور آدمی اس رنگارنگ اور چکاچوند کرتی ہوئی دُنیا کی طلسم آفرینیوں کا تماشا ،کان پرسُرخ پنسل رکھ کرنہیں بلکہ مدرسے سے بھاگے ہوئے ایک بچے کی
 پُرشوق نظروں اور بے غرض انہماک سے کرتا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے خوف آتا ہے جو علم و فضل کو
 ادبی تجربے کا نعم البدل سمجھتے ہیں اور ادب سے لطف اندوز ہوئے بغیر ادب پر بے لطف مضامین لکھتے ہیں۔“
٭ وارث علوی
 خوشبو:
ہے آپ کے ہونٹوں پَہ جو مسکان وغیرہ
قربان گئے اس پَہ دل و جان وغیرہ
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے
اب اپنی ہتھیلی پَہ ہیں دندان وغیرہ
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوزان وغیرہ
٭انور مسعود
 طنز و مزاح
چوڑی اور چلن 
٭نادر خان سَرگِروہ (جدہ۔ سعودی عرب)
  ’ ’تم بڑے ہو کر کیا بنوگے ؟ کیا کرو گے ؟“ بچپن میں بڑوں نے یہ سوال پوچھ پوچھ کر ہمیں سنجیدگی سے اِس جہت میں سوچنے پر مجبور کِیا ۔ ابتدا میں بعض دِلچسپ پیشوں نے ہمیں اپنی دل فریبی میں کافی اُلجھائے رکھا۔ لِفٹ مین ، اِسپائڈر مین ، سُوپر مین ، حلوائی .... فلمی وِلَن وغیرہ۔ لیکن جب ہم کچھ اور بڑے ہوئے اور زیر ِ ناک ہلکی ہلکی مونچھیں اُگنے لگیں توایک مستانی شام بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ چُوڑی والا بننا کیسا رہے گا.... ؟ .... جوطرح طرح کے ہاتھوں میں رنگ رنگ کی چوڑیاں پہناتا ہے ۔ کسی کے تصور میں بھی ہاتھ نہ آنے والے ہاتھوں کو تھامنے کے لیے اُسے کسی بہانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔کوئی جتن نہیں کرنے پڑتے ۔وہ نرم ہاتھوں میں چوڑیاں پہنانے سے پہلے، اُنہیں خوب گوندھ گوندھ کر نرم سے نرم تر کرتا ہے، تا کہ................ اُس کی چوڑیاں نہ ٹوٹیں ۔ جس وقت وہ چوڑیاں پہنانے میں مگن رہتا ہے تب محلے کی بڑی بوڑھیاں اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔ پہلے پہل ہم یہ سمجھتے رہے کہ وہ اُس سے یہ فن سیکھنے کے اِرادے سے ایسا کرتی ہیں ۔ لیکن ہمارے تجربہ کار دوست پُرجوش پوری نے بتلایا کہ .... وہ یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ شریف صورت مرد .... اَپنے فن میں ’کس حد تک ‘ ماہر ہے۔ اگر وہ نگوڑیاں اتنی دیر تک چوڑی پہنانے والے پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ چوڑی پہنانا بھی سیکھ لیتیں اور یہ کام اپنے ذمے لے لیتیں تو پرائے مرد کو اِتنی دور سے آکر یہ زحمت نہ اُٹھانا پڑتی ۔
  پرائے مرد سے خیال آیا کہ اُن عورتوں کے شوہروںنے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہوتی ہیں جو وہ ’بہ ہات ِ خود © ‘ اُنہیں چوڑیاں نہیں پہنا سکتے۔ جب چوڑی پہنانا مردوں ہی کا کام ٹھہرا تو وہ یہ کام خود بھی تو کر سکتے ہیں۔ وہ شادی کے موقع پرصرف ایک انگوٹھی ’ پہناتے ‘ ہیں اور .... بس ؟ 
  ایک زمانہ تھا جب عورتیں ، پرائے مرد سے ہاتھ ملانا تو دُور کی بات ، اُس سے نظر ملانے کو بھی بُرا سمجھتی تھیں۔ اُن کی آواز کی لہریں اُن کے وجود کے گرد کھینچے گئے دائرے کو عبور کرنے سے پہلے ہی دَم توڑ دیتی تھیں۔لیکن جب چوڑی پہننے کا شوق پورا کرنے کا موقع آتا تو کھلے عام ، ہاتھ میں ہاتھ دے دیتی تھیں۔ اب بھی بعض غَیُور خواتین چوڑیاں پہننے کی شدید خواہش تو رکھتی ہیں ، مگر لمس ِنا محرم سے کتراتی ہیں ۔ سو .... وہ منہ پھیر کر ، پلّو کو دانتوں میں اُڑس کر ، اِس طرح ہاتھ چوڑی والے کے ہاتھ میں دیتی ہیں ، گو یا ....تن سے جدا کر دیا ہو۔ ” منہ پھیر کر اُدھر کو ، اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ ‘ ‘ 
اُس منظرکو دوسری خواتین، آنچل اور اپنی ہنسی کو دانتوں میں دبائے بڑی دلچسپی سے دیکھتی ہیں اور بے صبری سے اپنی باری کا انتظا رکرتی ہیں۔ پھر جب .... سب کنواریاں ، سب سہاگنیں اپنے اپنے ہاتھوںکورنگ برنگی چوڑیوں سے سجا لیتی ہیں تو .... اُن کے وجود کے مدھم نغمے .... چوڑیوں کی کھنک سے جاگ اُٹھتے ہیں۔ پھر طبیعت میں اُٹھی عجیب سی لہر، ایک نئی اُمنگ سے وہ سب دیر تک ایک اَدا سے محظوظ ہوتی ہیں ۔ چوڑی پہننے اور ایک دوسرے کو اپنا روپ دِکھانے کے اِس عمل کے دوران ( چوڑی والا ) کسی نظر نہ آنے والی مخلوق کی طرح اُن کے درمیان دیر تک ( گھِرا ) رہتا ہے۔ بقول پُرجوش پُوری ........ عجب ” حُورانی منظر ‘ ‘ ہوتا ہے۔ 
 یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اِس کام میں ظاہری طلسمات کے ساتھ ساتھ مخفی خطرات بھی ہوتے ہیں۔ قسم قسم کی کلائیوں میں چوڑیاں پہناتے وقت نازک کلائی کے مُڑنے اور اُس سے بھی نازک چوڑیوں کے ٹوٹنے کا اندیشہ ۔ دوسرے یہ کہ ذرا بھی ہاتھ اوچھا پڑا تو نسوانی ہاتھ جم کر پڑنے کا خدشہ۔ بلکہ پورے جتھے کی طرف سے کُوٹے یا مانجھے جانے کا بھی کھٹکا لگا رہتا ہے۔ اندیشوں ، وَندیشوں ، کھٹکوں وٹکوں کے علاوہ یہ کہ کسی زنانی نے ہاتھوں میں چوڑیاں اُڑس لینے کے بعدقیمت چکانے سے انکار کر دیا تو ؟ .... ہاتھ تو ہاتھ سے گیا ہی اور چوڑیاں بھی ہاتھ سے گئیں۔ پھر کوئی دوبارہ ویسے ہی ہاتھ پکڑ کر دکھائے جیسے پہلے پکڑا تھا۔ 
  جہاں تک ہمارے اِس پیشے کو اختیار کرنے کی بات ہے تو اِس کی باریکیوں پر غور کرنے میں ہمار اچھا خاصا ’ جواں ‘ وقت ضائع ہو گیا اور وہ وقت بھی آیا کہ ہمارے ذہن سے اِس پیشے کے متعلق تمام خوش گمانیاں جاتی رہیں، جب ہم نے ایک چوڑی والے کو بُری طرح پِٹتے دیکھا ۔ ایک بزرگ خاتون سے اِس کی وجہ پوچھی تو وہ ہماری گمراہ کُن ظاہری معصومیت کودیکھ کر کہنے لگیں ، ’ ’ بچّے ہو ۔ اِس طرح کے سوالات نہیں پوچھتے۔ “ 
 ہم سے رہا نہ گیا، وجہ معلوم کرنے کے لیے بڑے ہونے تک انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ سو .... پُرجوش پوری سے پوچھا :
 انہوں نے بتلایا ”اُس بد نصیب نے چوڑی پہنانے میں ©’ حد ‘سے زیادہ وقت لے لیا تھا۔ مگر یہ تم کیوں اِتنا کُرید رہے رہو ؟ “ 
” وہ اِس لیے کہ ہم اِس پیشے کو اختیار کرنے کے متعلق سنجیدگی اور دلچسپی سے غور کر رہے ہیں۔“
 وہ بولے ” تمہاری دلچسپی پر ہمیں کوئی شبہ نہیں ، مگر یہ کام تمہارے بس کا نہیں۔ تم اِس کی جملہ شرائط پر پورے نہیں اُترتے۔جُثّے سے بالغ اور قابلِ اعتماد نہیں لگتے۔ شکل و صورت سے پورا آدمی نظر آنا چاہیے اور چہرہ مہرہ ، وضع قطع ، لباس شریفانہ ہو۔“ ©
 ہم نے کہا ” بدل لیں گے حلیہ۔ کام کا کام اور خدمت ِ نصف خلق۔“
” نصف .... خدمت ِ خلق !!! © ©“ پُوری صاحب نے ہماری آنکھوں میں دُور تک دیکھتے ہوئے اِن لفظوں پر زور دیا۔اُس کے بعد ہم نے اُن کے سامنے کبھی اپنی اِس خواہش کا اظہار کرنے کی جرا ¿ت نہیں کی۔
 ایک روز ہم نے ایک چوڑی والے سے اِس فن کی باریکیاں جاننا چاہیں۔ جواباََ اُس نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پھر کہا ،” ایسی بھی جلدی کیا ہے؟“
ہم نے اُس کے جوابی سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ” کیا اپنی بیوی کے تم ہی چوڑیاں پہناتے ہو؟ “ 
” نہیں ! ہم نے انہیں سِکھلا دیا ہے ۔ © ©“
ہم نے جھٹ ایک اور سوال داغا ، ” پھر دوسری عورتوں کو بھی سِکھا کیوں نہیں دیتے ۔“
اُس نے کہا ” برخوردار ! تم اپنا ذہن صاف کر لو ....یہ ہماری روزی روٹی کا معاملہ ہے او ر ’ خاندانی ‘ پیشہ ہے ۔ نازک کلائیا ں اور کانچ کی چوڑیاں کمزور ہوسکتی ہیں ، مگر صدیوں کے اعتماد کا رشتہ کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے ۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ بلکہ دونوں خاندانوں کی ناک ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ چوڑی پہنانے والا اگر اِس پیشے میں نیا ہوتو اکثر لوگ بدگمانی اور غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اُس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتی مگر ناتجربہ کاری کے سبب ہاتھ کہیں کا کہیں پڑتا ہے۔ اسی لیے ہماری برادری کے نو عمر لڑکوں کو ابتدا میں چھوٹی بچیوں اور بڑی بوڑھیوں کو چوڑیاں پہنانے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ پھر جب عمر اور تجربے میں پختگی آتی ہے تب اُنہیں ہر عمر کی خواتین کو چوڑیاں پہنانے کا .... لائسنس مِل جاتا ہے ۔ یعنی وہ اُس مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جب چوڑی پہنانے والے کا ہاتھ مشینی شکل اختیار کر لیتا ہے اور چوڑی پہننے والی .... جیسے پتھر کی مُورت ۔ بچُّو! میں نے دو نسلوں کے ہاتھوں میں چوڑیاں کھنکائی ہیں ۔ دُلہنوںاور سہاگنوں کو سجتے دیکھا ہے۔ اپنے پر ناز کرتے ، اپنی دُنیا میں کھلکھلاتے ،چہکارتے دیکھا ہے ۔ لیکن مجھے تکلیف تب ہوتی ہے جب اُن کو ہاتھ پٹخ کر چوڑیوں کی کِرچیاں بکھیرتے دیکھتا ہوں۔ کلائیاں سونی ہوتی دیکھتا ہوں ۔ بیٹا ! تم کیا جانو ! چوڑیوں کی کھنک، زندگی کاپتا دیتی ہے، خوشحالی کی دلیل ہوتی ہے۔ ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی ....
 ہر رشتے کا تقدس کانوں میں رَس گھولتا ہے۔ کاش ....چوڑیوں کا چلن کبھی ختم نہ ہو۔“ ٭
 ای میل:nadirs...@yahoo.com
” وصال کا مطلب ملاپ
 نہیں، انتقال ہے“
عطا ¿الحق قاسمی
بڑے شاعر کے کلام کا کمال یہ ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس میں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتا ہے، کبھی تشریح اور کبھی پیروڈی کرتے ہوئے! غالب کے ساتھ یہ بہت ہوا ہے، شارحین نے کیسے کیسے نکتے اس کے کلام میں سے ”دریافت“ کئے ہیں۔ کچھ نے تو ”ایجاد“ بھی کئے ہیں چنانچہ غالبنے تو جو کہنا تھا، وہ کہا، یار لوگوں نے اس میں پلے سے بھی بہت ڈالا ہے۔ اب یہ کل ہی کی بات ہے، ایک دوست نے پوچھا تم نے غالب کا یہ شعر سنا ہے:
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
میں نے کہا بیسیوں مرتبہ سنا ہے، کیا شاندار شعر ہے بولے ”تم نے شعر کی تعریف تو کر دی، اب اس کا مطلب بھی بتاو ¿“ یہ سن کر میں ہنسا اور عرض کی ”میرے یار، میں پچیس سال تک اپنے طلبہ کو اُردو پڑھاتا رہا ہوں، اب تم اس طرح میرا امتحان لے کر مجھے ذلیل تو نہ کرو“۔ فرمایا ”تمہیں ذ لیل کرنا مقصد نہیں بلکہ مقصد صرف تمہاری اصلاح کرنا ہے، لہٰذا شروع ہو جاو ¿، شعر کا مطلب بتاو ¿“ اب مجھے تجسس ہوا کہ دیکھیں یہ اصلاح کس نوعیت کی ہے چنانچہ میں نے فرفر بولنا شروع کر دیا کہ غالب اپنے محبوب کے ملاپ کے لئے ترسا ہوا تھا لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا ملاپ میسر نہیں ہوا بلکہ محبوب کی سنگدلی اور لاپروائی کو دیکھتے ہوئے وہ اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ اگر مجھے مزید عمر بھی ملتی، تب بھی میں اس کے ملاپ سے محروم رہتا! اس بار میرے دوست کے ہنسنے کی باری تھی، جی کھول کر ہنسنے کے بعد اس نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا : ”ایک بات بتاو ¿ کیا غالب اپنے محبوب سے اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں خوش نظر آیا؟ میں نے جواب دیا ”نہیں، بلکہ وہ تو مسلسل اس کی بے وفائی سے شاکی دِکھائی دیتا ہے اور اسے ہرجائی کہتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اکثر غم و غصے کا اظہار کرتا رہتا ہے“۔ یہ سن کر میرے دوست نے اطمینان کا سانس لیا اور بولا ”اب تمہیں اس شعر کا صحیح مفہوم سمجھ میں آئے گا۔ میرے دوست! اس شعر میں وصال کا مطلب ملاپ نہیں، انتقال ہے، غالب کہتا ہے کہ میں ساری عمر اس ہرجائی محبوب کے انتقال کی خواہش کرتا رہا لیکن میری بدقسمتی کہ وہ ابھی تک میرے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔
میری بات یاد رکھو ایک ”کامن ویلتھ“ قسم کے محبوب سے ملاپ کی خواہش میں اور تم تو کر سکتے ہیں غالب ایسا خوددار اور غیرت مند شاعر نہیں کرسکتا، چنانچہ اس شعر میں وہ بہت دُکھ سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ یہ نابکار محبوب نہ ملتاہے، نہ مرتا ہے۔ مجھے غالب اپنی اس صاف گوئی ہی کی وجہ سے تو اچھا لگتا ہے“۔
اسی طرح ایک صاحب بہت عرصے سے مومن خاں مومن کے اس شعر :
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کا حلیہ بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس شعر میں مومن اپنے محبوب کو یہ خراج ِتحسین پیش نہیں کر رہا کہ میں تمہیں اس وقت بھی اپنے پاس محسوس کرتا ہوں، جب میں بالکل تنہا ہوتا ہوں بلکہ وہ تو سیدھا سیدھا صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میں تم سے صرف اس وقت ملتا ہوں جب کوئی اور مجھے دستیاب نہیں ہوتا، تم نے اللہ کو جان دینی ہے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاو ¿ کہ ”جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“ کا مطلب اس کے علاوہ بھی کچھ ہوسکتا ہے؟ ان صاحب نے اس ضمن میں ایک دلیل اور بھی دی اور وہ یہ کہ اگر یہ شعر کسی اور کا ہوتا تو اس کا وہ مطلب لیا جاسکتا تھا جو عام طور پر لیا جاتا ہے، لیکن یہ شعر مومن کا ہے اور مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا لہٰذا اس شعر میں ایک نہیں، اپنے بہت سے دوسرے محبوبوں کا حوالہ دیا گیا ہے“۔
کچھ اس طرح کا حال ایک اسکول ماسٹر نے اقبال کے ساتھ بھی کیا تھا، وہ طلبہ کو پڑھا رہا تھا:
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت ِنماز
بچو! اگر عین لڑائی کے دوران نماز کا وقت آگیا:قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
قوم حجاز کا مطلب ہے عرب قوم، تو عرب قبلے کی طرف منہ کرکے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
بچو! محمود بادشاہ تھا اور ایاز اس کا غلام تھا، مطلب یہ کہ آقا اور غلام ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے:
اتنے میں دشمن نے کر دیا حملہ اور
پھر کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اور آخر میں ایک دفعہ پھر غالب یاد آگیا، ان کے شعر:
موت کا ایک دن معین ہے٪نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
کی جو تشریح ایک سردار جی نے کی تھی، وہ کسی اور شارح غالب کے ذہن میں نہیں آئی،سردار جی کے بقول غالب صاحب فرماتے ہیں:
موت کا ایک دن معین ہے
یعنی یہ طے ہے کہ موت دن کے وقت آتی ہے اور جب یہ طے کہ موت دن کے دوران آئے گی تو پھر اس کے خوف سے رات کو جاگنے کی کیا ت ±ک ہے؟
خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ان کلاسیکی شعرا ¿تک شارحین کی یہ شرح نہیں پہنچی ورنہ ان کی ”وصال“ کی خواہش وقت سے پہلے پوری ہو جاتی!
٭٭
 تذکرہ و تعارف
 وقت کی صدیاں، دور ِگزشتہ کے ایک ممتاز شاعر داو ¿د غازی کا شعری مجموعہ ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1970 میں شائع ہوا تھا، اب اس کی اشاعت ثانی، وقار قادری کی ترتیبِ نو کے ساتھ ہوئی ہے۔ جس میں باقر مہدی کی وہ (پر تاثیر) نظم بھی شامل ہے جو انہوں نے اپنے دوست داو ¿د غازی کی رِحلت پر کہی تھی۔ 
 داو ¿د غازی کے اس شعری مجموعے میں مرحوم کی نظمیں ہی نہیں غزلیں بھی ہیں ۔ داو ¿د غازی کے حوالے سے اختر الایمان، محافظ حیدر، عبدالستار دلوی اور اعجاز صدیقی کی آرا بھی اس کتاب کا وقار بنی ہوئی ہیں۔ اعجاز صدیقی کا یہ جملہ صداقت پر مبنی ہے ” کاش کہنہ روایات کا یہ باغی زندہ رہتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس صوبے اور اس شہر کی نئی نسل کے تمام شعرا سے آگے نکل جاتا۔“
 داو ¿د غازی آج بظاہر نہیں ہیں مگر ان کی شاعری اس بات کی ایک روشن دلیل ہے کہ وہ زِندہ ہیں ۔ ادب میں اس بات کی اہمیت ہے کہ شاعر یاادیب ، فن میں اپنے فکر و احساس کو کتنی زندگی دے سکا یا اس میں وہ کامیاب بھی ہوا یا کام آگیا۔
 داو ¿د غازی جیسے فنکار کتنا کہہ گئے یہ اہم ہر گز نہیں بلکہ اہمیت صرف اس بات کی ہوگی کہ جو سامنے ہے وہ کتنا زِندگی آموز ہے۔
 داو ¿ غازی کی نظم ” وقت کی صدیاں“ جس سے اس کتاب کا نام ماخوذ ہے، اور بہ عنوان ’ علم‘ہمارے خیال سے مرحوم کی نمائندہ خلیق ہےں ۔ وقار قادری نے اس شعری مجموعے کی ترتیبِ نو کے ساتھ اشاعت کا اہتمام کر کے ایک مستحسن کام کیا ہے۔ یہ کتاب صرف 250 میں مکتبہ جامعہ(ممبئی ) کتاب دار(ممبئی) سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (رابطہ:09867798042)٭ن۔ص
ایوان غزل
تقسیم کی تہمت بھی اغیار پَہ رکھ لینا 
قندیل سیاست کی دیوار پَہ رکھ لینا 
دیکھو تو ، کنویں میںکچھ تارا سا چمکتاہے 
پستی سے کہو خنجر اِس دھار پَہ رکھ لینا
کیا زہر نہیں ہوگااُس تیز ا ±جالے میں 
تھوڑا سا اندھیرا بھی مینار پَہ رکھ لینا
اب نیو میں سوجاو ¿ ، تم نے ہی سکھایا ہے 
تعمیر کی بنیادیں معمار پَہ رکھ لینا 
یہ ہاتھ رہے میرے کام آئینگے قاتل کے 
لے جاو ¿ مرا چہرہ اخبار پَہ رکھ لینا 
مِٹی میں ملا نے کاکیا خوب طریقہ ہے 
پھر چ ¾وم کے وہ مِٹی دستار پَہ رکھ لینا 
کرنا وہ زمانے کا یلغار مظفر پر 
وہ ا ±س کا زمانے کو اشعار پَہ رکھ لینا 
٭ مظفر حنفی(دہلی)
رابطہ :09911067200
تخےئلِ عدم سے لبِ اظہارتک آنے مےں
ہرلفظ لہو مانگے ہے اشعار تک آنے مےں
آگے کے سفر مےں ہمی ہم اپنے مقابل ہےں
اےک ہَوڑ لگی تھی رہِ دشوار تک آنے میں
بےتابی ¿ دِل ان کی بڑھی حد سے قریب آتے
پےمانہ چھلک ہی گےا مے خوار تک آنے مےں
مقتل مےں تڑپتا رہا بسمل کی طرح قاتل
گردن نے بڑی دیر کی تلوار تک آنے مےں 
دےوانے کو بس عالمِ وحشت مےں ہی جےنے دو
دَم توڑنہ دے دشت سے گلزار تک آنے مےں
اے خانہ بدوشی! تری قےمت بڑی اونچی تھی
نےلام ہوئے ہم در ودےوار تک آنے مےں
سامان کی فہرستِ گراں بار بچی عازم
ہم پےسے بچاتے رہے بازار تک آنے مےں
٭عےن الدےن عازم( بھیونڈی)
رابطہ : 09763832201
محروم حق رہے کوئی حقدار کب تلک
قابض رہیں گے تخت پَہ عیّار کب تلک
سَر پر رہے گا سایہ ¿ اغیار کب تلک
برباد ہوں گے کابُل و قندھار کب تلک
کب تک رہیں گے قوم کے سردار بولہوس!
نیلام ہوگی عظمتِ دستار کب تلک
آخر محاذ فرض پر کب تک نہ آئیگا!
بیٹھے گا گھر میں غازی ¿ گفتار کب تلک
کچھ اپنے آس پاس کی بھی لیجئے خبر
پڑھتے رہوگے بیٹھ کے اخبار کب تلک
ہے موسمِ بہار تو پت جھڑ بھی آئے گا
رہتا ہے کون،کوئی طرحدار کب تلک
جلتے ہوئے مکان‘یہ چیخیں ‘یہ قتل و خ ¾وں
یاور رہے گا گرم یہ بازار کب تلک
٭لطیف یاور(ناگپور)
رابطہ:08657571814
میری زباں
مَیں س ±وچتا ہوں، سمجھتا ہوں، خواب دیکھتا ہوں 
زباں نہ ہوتو مَیں کیسے بیانِ خواب کروں
شعور و فکر کے ذراّت خون میں ہیں رواں
زباںملے تو میں ذرّوں کوآفتاب کروں
مگر یہ شرط ہے کہ وہ زبان میری ہو
مِری زبان ، مری ماں کی اوّلیں بخشش 
حروف وصَوت کا دُنیا میں اوّلیں رشتہ
ظہورِ ذات و دل وجاں کی اوّلیں کوشش 
زبان جس میں روایت ہو میرے مذہب کی 
زبان جس میںثقافت ہو میری ملّت کی
زبان جس سے ہو تاریخ میری وابستہ 
زبان جس میں ہو جھنکار میری فطرت کی 
زبان جو مِرے ماضی کی کھینچ دے تصویر
زبان جو مِری نسلوں کوآگہی بخشے 
زبان جو مرے افکار کو بقا دیدے 
زبان جو مرے خوابوں کو زندگی بخشے 
زباں جو کہہ سکے افسانہ ¿ نشاط و الم
زباں جو کر سکے اُمید و آرزو کا بیاں
زباں جو توڑ سکے بندگی کی زنجیریں
زباں جو بن سکے انساں کی آبرو کا نشاں
زباں جو چھ ¾و سکے قوسِ قزح کے رنگوں کو
زباں جو چُن سکے افشاں گلوں سے شبنم کی
زباں جو گن سکے اُن بے شمار لمحوں کو
جنہوں نے دل کو سزادی سکوتِ پیہم کی 
زباں جو کاٹ سکے برگِ گل سے ہیرے کو
زباں جو کھول سکے کائنات کے اسرار
زباں جو بن سکے معیار نوعِ انساں کا 
زباں جو توڑ سکے غم کا حلقہ ¿ پر کار 
زبانِ غیر پَہ ہے دسترس مگر دانش
نہ ہوسکے گی جِسے بے تکان کہتے ہیں
زباں جو کہہ سکے تحت الشعور کی باتیں
ہم اہلِ دل اِسے اُردو زبان کہتے ہیں
٭ عقیل دانش(برطانیہ)

NadeemSiddiqui
ltir page-23-Augst-15 copy.jpg
ltir page-23-Augst-15.pdf
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages