اتوار ۲۳اگست ۲۰۱۵
مطلع:
”ادب اور آرٹ کی دُنیا درس گاہ نہیں بلکہ جادونگری ہے اور آدمی اس رنگارنگ اور چکاچوند کرتی ہوئی دُنیا کی طلسم آفرینیوں کا تماشا ،کان پرسُرخ پنسل رکھ کرنہیں بلکہ مدرسے سے بھاگے ہوئے ایک بچے کی
پُرشوق نظروں اور بے غرض انہماک سے کرتا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے خوف آتا ہے جو علم و فضل کو
ادبی تجربے کا نعم البدل سمجھتے ہیں اور ادب سے لطف اندوز ہوئے بغیر ادب پر بے لطف مضامین لکھتے ہیں۔“
٭ وارث علوی
خوشبو:
ہے آپ کے ہونٹوں پَہ جو مسکان وغیرہ
قربان گئے اس پَہ دل و جان وغیرہ
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے
اب اپنی ہتھیلی پَہ ہیں دندان وغیرہ
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوزان وغیرہ
٭انور مسعود
طنز و مزاح
چوڑی اور چلن
٭نادر خان سَرگِروہ (جدہ۔ سعودی عرب)
’ ’تم بڑے ہو کر کیا بنوگے ؟ کیا کرو گے ؟“ بچپن میں بڑوں نے یہ سوال پوچھ پوچھ کر ہمیں سنجیدگی سے اِس جہت میں سوچنے پر مجبور کِیا ۔ ابتدا میں بعض دِلچسپ پیشوں نے ہمیں اپنی دل فریبی میں کافی اُلجھائے رکھا۔ لِفٹ مین ، اِسپائڈر مین ، سُوپر مین ، حلوائی .... فلمی وِلَن وغیرہ۔ لیکن جب ہم کچھ اور بڑے ہوئے اور زیر ِ ناک ہلکی ہلکی مونچھیں اُگنے لگیں توایک مستانی شام بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ چُوڑی والا بننا کیسا رہے گا.... ؟ .... جوطرح طرح کے ہاتھوں میں رنگ رنگ کی چوڑیاں پہناتا ہے ۔ کسی کے تصور میں بھی ہاتھ نہ آنے والے ہاتھوں کو تھامنے کے لیے اُسے کسی بہانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔کوئی جتن نہیں کرنے پڑتے ۔وہ نرم ہاتھوں میں چوڑیاں پہنانے سے پہلے، اُنہیں خوب گوندھ گوندھ کر نرم سے نرم تر کرتا ہے، تا کہ................ اُس کی چوڑیاں نہ ٹوٹیں ۔ جس وقت وہ چوڑیاں پہنانے میں مگن رہتا ہے تب محلے کی بڑی بوڑھیاں اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔ پہلے پہل ہم یہ سمجھتے رہے کہ وہ اُس سے یہ فن سیکھنے کے اِرادے سے ایسا کرتی ہیں ۔ لیکن ہمارے تجربہ کار دوست پُرجوش پوری نے بتلایا کہ .... وہ یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ شریف صورت مرد .... اَپنے فن میں ’کس حد تک ‘ ماہر ہے۔ اگر وہ نگوڑیاں اتنی دیر تک چوڑی پہنانے والے پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ چوڑی پہنانا بھی سیکھ لیتیں اور یہ کام اپنے ذمے لے لیتیں تو پرائے مرد کو اِتنی دور سے آکر یہ زحمت نہ اُٹھانا پڑتی ۔
پرائے مرد سے خیال آیا کہ اُن عورتوں کے شوہروںنے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہوتی ہیں جو وہ ’بہ ہات ِ خود © ‘ اُنہیں چوڑیاں نہیں پہنا سکتے۔ جب چوڑی پہنانا مردوں ہی کا کام ٹھہرا تو وہ یہ کام خود بھی تو کر سکتے ہیں۔ وہ شادی کے موقع پرصرف ایک انگوٹھی ’ پہناتے ‘ ہیں اور .... بس ؟
ایک زمانہ تھا جب عورتیں ، پرائے مرد سے ہاتھ ملانا تو دُور کی بات ، اُس سے نظر ملانے کو بھی بُرا سمجھتی تھیں۔ اُن کی آواز کی لہریں اُن کے وجود کے گرد کھینچے گئے دائرے کو عبور کرنے سے پہلے ہی دَم توڑ دیتی تھیں۔لیکن جب چوڑی پہننے کا شوق پورا کرنے کا موقع آتا تو کھلے عام ، ہاتھ میں ہاتھ دے دیتی تھیں۔ اب بھی بعض غَیُور خواتین چوڑیاں پہننے کی شدید خواہش تو رکھتی ہیں ، مگر لمس ِنا محرم سے کتراتی ہیں ۔ سو .... وہ منہ پھیر کر ، پلّو کو دانتوں میں اُڑس کر ، اِس طرح ہاتھ چوڑی والے کے ہاتھ میں دیتی ہیں ، گو یا ....تن سے جدا کر دیا ہو۔ ” منہ پھیر کر اُدھر کو ، اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ ‘ ‘
اُس منظرکو دوسری خواتین، آنچل اور اپنی ہنسی کو دانتوں میں دبائے بڑی دلچسپی سے دیکھتی ہیں اور بے صبری سے اپنی باری کا انتظا رکرتی ہیں۔ پھر جب .... سب کنواریاں ، سب سہاگنیں اپنے اپنے ہاتھوںکورنگ برنگی چوڑیوں سے سجا لیتی ہیں تو .... اُن کے وجود کے مدھم نغمے .... چوڑیوں کی کھنک سے جاگ اُٹھتے ہیں۔ پھر طبیعت میں اُٹھی عجیب سی لہر، ایک نئی اُمنگ سے وہ سب دیر تک ایک اَدا سے محظوظ ہوتی ہیں ۔ چوڑی پہننے اور ایک دوسرے کو اپنا روپ دِکھانے کے اِس عمل کے دوران ( چوڑی والا ) کسی نظر نہ آنے والی مخلوق کی طرح اُن کے درمیان دیر تک ( گھِرا ) رہتا ہے۔ بقول پُرجوش پُوری ........ عجب ” حُورانی منظر ‘ ‘ ہوتا ہے۔
یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اِس کام میں ظاہری طلسمات کے ساتھ ساتھ مخفی خطرات بھی ہوتے ہیں۔ قسم قسم کی کلائیوں میں چوڑیاں پہناتے وقت نازک کلائی کے مُڑنے اور اُس سے بھی نازک چوڑیوں کے ٹوٹنے کا اندیشہ ۔ دوسرے یہ کہ ذرا بھی ہاتھ اوچھا پڑا تو نسوانی ہاتھ جم کر پڑنے کا خدشہ۔ بلکہ پورے جتھے کی طرف سے کُوٹے یا مانجھے جانے کا بھی کھٹکا لگا رہتا ہے۔ اندیشوں ، وَندیشوں ، کھٹکوں وٹکوں کے علاوہ یہ کہ کسی زنانی نے ہاتھوں میں چوڑیاں اُڑس لینے کے بعدقیمت چکانے سے انکار کر دیا تو ؟ .... ہاتھ تو ہاتھ سے گیا ہی اور چوڑیاں بھی ہاتھ سے گئیں۔ پھر کوئی دوبارہ ویسے ہی ہاتھ پکڑ کر دکھائے جیسے پہلے پکڑا تھا۔
جہاں تک ہمارے اِس پیشے کو اختیار کرنے کی بات ہے تو اِس کی باریکیوں پر غور کرنے میں ہمار اچھا خاصا ’ جواں ‘ وقت ضائع ہو گیا اور وہ وقت بھی آیا کہ ہمارے ذہن سے اِس پیشے کے متعلق تمام خوش گمانیاں جاتی رہیں، جب ہم نے ایک چوڑی والے کو بُری طرح پِٹتے دیکھا ۔ ایک بزرگ خاتون سے اِس کی وجہ پوچھی تو وہ ہماری گمراہ کُن ظاہری معصومیت کودیکھ کر کہنے لگیں ، ’ ’ بچّے ہو ۔ اِس طرح کے سوالات نہیں پوچھتے۔ “
ہم سے رہا نہ گیا، وجہ معلوم کرنے کے لیے بڑے ہونے تک انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ سو .... پُرجوش پوری سے پوچھا :
انہوں نے بتلایا ”اُس بد نصیب نے چوڑی پہنانے میں ©’ حد ‘سے زیادہ وقت لے لیا تھا۔ مگر یہ تم کیوں اِتنا کُرید رہے رہو ؟ “
” وہ اِس لیے کہ ہم اِس پیشے کو اختیار کرنے کے متعلق سنجیدگی اور دلچسپی سے غور کر رہے ہیں۔“
وہ بولے ” تمہاری دلچسپی پر ہمیں کوئی شبہ نہیں ، مگر یہ کام تمہارے بس کا نہیں۔ تم اِس کی جملہ شرائط پر پورے نہیں اُترتے۔جُثّے سے بالغ اور قابلِ اعتماد نہیں لگتے۔ شکل و صورت سے پورا آدمی نظر آنا چاہیے اور چہرہ مہرہ ، وضع قطع ، لباس شریفانہ ہو۔“ ©
ہم نے کہا ” بدل لیں گے حلیہ۔ کام کا کام اور خدمت ِ نصف خلق۔“
” نصف .... خدمت ِ خلق !!! © ©“ پُوری صاحب نے ہماری آنکھوں میں دُور تک دیکھتے ہوئے اِن لفظوں پر زور دیا۔اُس کے بعد ہم نے اُن کے سامنے کبھی اپنی اِس خواہش کا اظہار کرنے کی جرا ¿ت نہیں کی۔
ایک روز ہم نے ایک چوڑی والے سے اِس فن کی باریکیاں جاننا چاہیں۔ جواباََ اُس نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پھر کہا ،” ایسی بھی جلدی کیا ہے؟“
ہم نے اُس کے جوابی سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ” کیا اپنی بیوی کے تم ہی چوڑیاں پہناتے ہو؟ “
” نہیں ! ہم نے انہیں سِکھلا دیا ہے ۔ © ©“
ہم نے جھٹ ایک اور سوال داغا ، ” پھر دوسری عورتوں کو بھی سِکھا کیوں نہیں دیتے ۔“
اُس نے کہا ” برخوردار ! تم اپنا ذہن صاف کر لو ....یہ ہماری روزی روٹی کا معاملہ ہے او ر ’ خاندانی ‘ پیشہ ہے ۔ نازک کلائیا ں اور کانچ کی چوڑیاں کمزور ہوسکتی ہیں ، مگر صدیوں کے اعتماد کا رشتہ کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے ۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ بلکہ دونوں خاندانوں کی ناک ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ چوڑی پہنانے والا اگر اِس پیشے میں نیا ہوتو اکثر لوگ بدگمانی اور غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اُس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتی مگر ناتجربہ کاری کے سبب ہاتھ کہیں کا کہیں پڑتا ہے۔ اسی لیے ہماری برادری کے نو عمر لڑکوں کو ابتدا میں چھوٹی بچیوں اور بڑی بوڑھیوں کو چوڑیاں پہنانے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ پھر جب عمر اور تجربے میں پختگی آتی ہے تب اُنہیں ہر عمر کی خواتین کو چوڑیاں پہنانے کا .... لائسنس مِل جاتا ہے ۔ یعنی وہ اُس مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جب چوڑی پہنانے والے کا ہاتھ مشینی شکل اختیار کر لیتا ہے اور چوڑی پہننے والی .... جیسے پتھر کی مُورت ۔ بچُّو! میں نے دو نسلوں کے ہاتھوں میں چوڑیاں کھنکائی ہیں ۔ دُلہنوںاور سہاگنوں کو سجتے دیکھا ہے۔ اپنے پر ناز کرتے ، اپنی دُنیا میں کھلکھلاتے ،چہکارتے دیکھا ہے ۔ لیکن مجھے تکلیف تب ہوتی ہے جب اُن کو ہاتھ پٹخ کر چوڑیوں کی کِرچیاں بکھیرتے دیکھتا ہوں۔ کلائیاں سونی ہوتی دیکھتا ہوں ۔ بیٹا ! تم کیا جانو ! چوڑیوں کی کھنک، زندگی کاپتا دیتی ہے، خوشحالی کی دلیل ہوتی ہے۔ ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی ....
ہر رشتے کا تقدس کانوں میں رَس گھولتا ہے۔ کاش ....چوڑیوں کا چلن کبھی ختم نہ ہو۔“ ٭
” وصال کا مطلب ملاپ
نہیں، انتقال ہے“
عطا ¿الحق قاسمی
بڑے شاعر کے کلام کا کمال یہ ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس میں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتا ہے، کبھی تشریح اور کبھی پیروڈی کرتے ہوئے! غالب کے ساتھ یہ بہت ہوا ہے، شارحین نے کیسے کیسے نکتے اس کے کلام میں سے ”دریافت“ کئے ہیں۔ کچھ نے تو ”ایجاد“ بھی کئے ہیں چنانچہ غالبنے تو جو کہنا تھا، وہ کہا، یار لوگوں نے اس میں پلے سے بھی بہت ڈالا ہے۔ اب یہ کل ہی کی بات ہے، ایک دوست نے پوچھا تم نے غالب کا یہ شعر سنا ہے:
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
میں نے کہا بیسیوں مرتبہ سنا ہے، کیا شاندار شعر ہے بولے ”تم نے شعر کی تعریف تو کر دی، اب اس کا مطلب بھی بتاو ¿“ یہ سن کر میں ہنسا اور عرض کی ”میرے یار، میں پچیس سال تک اپنے طلبہ کو اُردو پڑھاتا رہا ہوں، اب تم اس طرح میرا امتحان لے کر مجھے ذلیل تو نہ کرو“۔ فرمایا ”تمہیں ذ لیل کرنا مقصد نہیں بلکہ مقصد صرف تمہاری اصلاح کرنا ہے، لہٰذا شروع ہو جاو ¿، شعر کا مطلب بتاو ¿“ اب مجھے تجسس ہوا کہ دیکھیں یہ اصلاح کس نوعیت کی ہے چنانچہ میں نے فرفر بولنا شروع کر دیا کہ غالب اپنے محبوب کے ملاپ کے لئے ترسا ہوا تھا لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا ملاپ میسر نہیں ہوا بلکہ محبوب کی سنگدلی اور لاپروائی کو دیکھتے ہوئے وہ اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ اگر مجھے مزید عمر بھی ملتی، تب بھی میں اس کے ملاپ سے محروم رہتا! اس بار میرے دوست کے ہنسنے کی باری تھی، جی کھول کر ہنسنے کے بعد اس نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا : ”ایک بات بتاو ¿ کیا غالب اپنے محبوب سے اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں خوش نظر آیا؟ میں نے جواب دیا ”نہیں، بلکہ وہ تو مسلسل اس کی بے وفائی سے شاکی دِکھائی دیتا ہے اور اسے ہرجائی کہتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اکثر غم و غصے کا اظہار کرتا رہتا ہے“۔ یہ سن کر میرے دوست نے اطمینان کا سانس لیا اور بولا ”اب تمہیں اس شعر کا صحیح مفہوم سمجھ میں آئے گا۔ میرے دوست! اس شعر میں وصال کا مطلب ملاپ نہیں، انتقال ہے، غالب کہتا ہے کہ میں ساری عمر اس ہرجائی محبوب کے انتقال کی خواہش کرتا رہا لیکن میری بدقسمتی کہ وہ ابھی تک میرے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔
میری بات یاد رکھو ایک ”کامن ویلتھ“ قسم کے محبوب سے ملاپ کی خواہش میں اور تم تو کر سکتے ہیں غالب ایسا خوددار اور غیرت مند شاعر نہیں کرسکتا، چنانچہ اس شعر میں وہ بہت دُکھ سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ یہ نابکار محبوب نہ ملتاہے، نہ مرتا ہے۔ مجھے غالب اپنی اس صاف گوئی ہی کی وجہ سے تو اچھا لگتا ہے“۔
اسی طرح ایک صاحب بہت عرصے سے مومن خاں مومن کے اس شعر :
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کا حلیہ بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس شعر میں مومن اپنے محبوب کو یہ خراج ِتحسین پیش نہیں کر رہا کہ میں تمہیں اس وقت بھی اپنے پاس محسوس کرتا ہوں، جب میں بالکل تنہا ہوتا ہوں بلکہ وہ تو سیدھا سیدھا صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میں تم سے صرف اس وقت ملتا ہوں جب کوئی اور مجھے دستیاب نہیں ہوتا، تم نے اللہ کو جان دینی ہے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاو ¿ کہ ”جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“ کا مطلب اس کے علاوہ بھی کچھ ہوسکتا ہے؟ ان صاحب نے اس ضمن میں ایک دلیل اور بھی دی اور وہ یہ کہ اگر یہ شعر کسی اور کا ہوتا تو اس کا وہ مطلب لیا جاسکتا تھا جو عام طور پر لیا جاتا ہے، لیکن یہ شعر مومن کا ہے اور مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا لہٰذا اس شعر میں ایک نہیں، اپنے بہت سے دوسرے محبوبوں کا حوالہ دیا گیا ہے“۔
کچھ اس طرح کا حال ایک اسکول ماسٹر نے اقبال کے ساتھ بھی کیا تھا، وہ طلبہ کو پڑھا رہا تھا:
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت ِنماز
بچو! اگر عین لڑائی کے دوران نماز کا وقت آگیا:قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
قوم حجاز کا مطلب ہے عرب قوم، تو عرب قبلے کی طرف منہ کرکے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
بچو! محمود بادشاہ تھا اور ایاز اس کا غلام تھا، مطلب یہ کہ آقا اور غلام ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے:
اتنے میں دشمن نے کر دیا حملہ اور
پھر کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اور آخر میں ایک دفعہ پھر غالب یاد آگیا، ان کے شعر:
موت کا ایک دن معین ہے٪نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
کی جو تشریح ایک سردار جی نے کی تھی، وہ کسی اور شارح غالب کے ذہن میں نہیں آئی،سردار جی کے بقول غالب صاحب فرماتے ہیں:
موت کا ایک دن معین ہے
یعنی یہ طے ہے کہ موت دن کے وقت آتی ہے اور جب یہ طے کہ موت دن کے دوران آئے گی تو پھر اس کے خوف سے رات کو جاگنے کی کیا ت ±ک ہے؟
خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ان کلاسیکی شعرا ¿تک شارحین کی یہ شرح نہیں پہنچی ورنہ ان کی ”وصال“ کی خواہش وقت سے پہلے پوری ہو جاتی!
٭٭
تذکرہ و تعارف
وقت کی صدیاں، دور ِگزشتہ کے ایک ممتاز شاعر داو ¿د غازی کا شعری مجموعہ ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1970 میں شائع ہوا تھا، اب اس کی اشاعت ثانی، وقار قادری کی ترتیبِ نو کے ساتھ ہوئی ہے۔ جس میں باقر مہدی کی وہ (پر تاثیر) نظم بھی شامل ہے جو انہوں نے اپنے دوست داو ¿د غازی کی رِحلت پر کہی تھی۔
داو ¿د غازی کے اس شعری مجموعے میں مرحوم کی نظمیں ہی نہیں غزلیں بھی ہیں ۔ داو ¿د غازی کے حوالے سے اختر الایمان، محافظ حیدر، عبدالستار دلوی اور اعجاز صدیقی کی آرا بھی اس کتاب کا وقار بنی ہوئی ہیں۔ اعجاز صدیقی کا یہ جملہ صداقت پر مبنی ہے ” کاش کہنہ روایات کا یہ باغی زندہ رہتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس صوبے اور اس شہر کی نئی نسل کے تمام شعرا سے آگے نکل جاتا۔“
داو ¿د غازی آج بظاہر نہیں ہیں مگر ان کی شاعری اس بات کی ایک روشن دلیل ہے کہ وہ زِندہ ہیں ۔ ادب میں اس بات کی اہمیت ہے کہ شاعر یاادیب ، فن میں اپنے فکر و احساس کو کتنی زندگی دے سکا یا اس میں وہ کامیاب بھی ہوا یا کام آگیا۔
داو ¿د غازی جیسے فنکار کتنا کہہ گئے یہ اہم ہر گز نہیں بلکہ اہمیت صرف اس بات کی ہوگی کہ جو سامنے ہے وہ کتنا زِندگی آموز ہے۔
داو ¿ غازی کی نظم ” وقت کی صدیاں“ جس سے اس کتاب کا نام ماخوذ ہے، اور بہ عنوان ’ علم‘ہمارے خیال سے مرحوم کی نمائندہ خلیق ہےں ۔ وقار قادری نے اس شعری مجموعے کی ترتیبِ نو کے ساتھ اشاعت کا اہتمام کر کے ایک مستحسن کام کیا ہے۔ یہ کتاب صرف 250 میں مکتبہ جامعہ(ممبئی ) کتاب دار(ممبئی) سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (رابطہ:09867798042)٭ن۔ص
ایوان غزل
تقسیم کی تہمت بھی اغیار پَہ رکھ لینا
قندیل سیاست کی دیوار پَہ رکھ لینا
دیکھو تو ، کنویں میںکچھ تارا سا چمکتاہے
پستی سے کہو خنجر اِس دھار پَہ رکھ لینا
کیا زہر نہیں ہوگااُس تیز ا ±جالے میں
تھوڑا سا اندھیرا بھی مینار پَہ رکھ لینا
اب نیو میں سوجاو ¿ ، تم نے ہی سکھایا ہے
تعمیر کی بنیادیں معمار پَہ رکھ لینا
یہ ہاتھ رہے میرے کام آئینگے قاتل کے
لے جاو ¿ مرا چہرہ اخبار پَہ رکھ لینا
مِٹی میں ملا نے کاکیا خوب طریقہ ہے
پھر چ ¾وم کے وہ مِٹی دستار پَہ رکھ لینا
کرنا وہ زمانے کا یلغار مظفر پر
وہ ا ±س کا زمانے کو اشعار پَہ رکھ لینا
٭ مظفر حنفی(دہلی)
رابطہ :09911067200
تخےئلِ عدم سے لبِ اظہارتک آنے مےں
ہرلفظ لہو مانگے ہے اشعار تک آنے مےں
آگے کے سفر مےں ہمی ہم اپنے مقابل ہےں
اےک ہَوڑ لگی تھی رہِ دشوار تک آنے میں
بےتابی ¿ دِل ان کی بڑھی حد سے قریب آتے
پےمانہ چھلک ہی گےا مے خوار تک آنے مےں
مقتل مےں تڑپتا رہا بسمل کی طرح قاتل
گردن نے بڑی دیر کی تلوار تک آنے مےں
دےوانے کو بس عالمِ وحشت مےں ہی جےنے دو
دَم توڑنہ دے دشت سے گلزار تک آنے مےں
اے خانہ بدوشی! تری قےمت بڑی اونچی تھی
نےلام ہوئے ہم در ودےوار تک آنے مےں
سامان کی فہرستِ گراں بار بچی عازم
ہم پےسے بچاتے رہے بازار تک آنے مےں
٭عےن الدےن عازم( بھیونڈی)
رابطہ : 09763832201
محروم حق رہے کوئی حقدار کب تلک
قابض رہیں گے تخت پَہ عیّار کب تلک
سَر پر رہے گا سایہ ¿ اغیار کب تلک
برباد ہوں گے کابُل و قندھار کب تلک
کب تک رہیں گے قوم کے سردار بولہوس!
نیلام ہوگی عظمتِ دستار کب تلک
آخر محاذ فرض پر کب تک نہ آئیگا!
بیٹھے گا گھر میں غازی ¿ گفتار کب تلک
کچھ اپنے آس پاس کی بھی لیجئے خبر
پڑھتے رہوگے بیٹھ کے اخبار کب تلک
ہے موسمِ بہار تو پت جھڑ بھی آئے گا
رہتا ہے کون،کوئی طرحدار کب تلک
جلتے ہوئے مکان‘یہ چیخیں ‘یہ قتل و خ ¾وں
یاور رہے گا گرم یہ بازار کب تلک
٭لطیف یاور(ناگپور)
رابطہ:08657571814
میری زباں
مَیں س ±وچتا ہوں، سمجھتا ہوں، خواب دیکھتا ہوں
زباں نہ ہوتو مَیں کیسے بیانِ خواب کروں
شعور و فکر کے ذراّت خون میں ہیں رواں
زباںملے تو میں ذرّوں کوآفتاب کروں
مگر یہ شرط ہے کہ وہ زبان میری ہو
مِری زبان ، مری ماں کی اوّلیں بخشش
حروف وصَوت کا دُنیا میں اوّلیں رشتہ
ظہورِ ذات و دل وجاں کی اوّلیں کوشش
زبان جس میں روایت ہو میرے مذہب کی
زبان جس میںثقافت ہو میری ملّت کی
زبان جس سے ہو تاریخ میری وابستہ
زبان جس میں ہو جھنکار میری فطرت کی
زبان جو مِرے ماضی کی کھینچ دے تصویر
زبان جو مِری نسلوں کوآگہی بخشے
زبان جو مرے افکار کو بقا دیدے
زبان جو مرے خوابوں کو زندگی بخشے
زباں جو کہہ سکے افسانہ ¿ نشاط و الم
زباں جو کر سکے اُمید و آرزو کا بیاں
زباں جو توڑ سکے بندگی کی زنجیریں
زباں جو بن سکے انساں کی آبرو کا نشاں
زباں جو چھ ¾و سکے قوسِ قزح کے رنگوں کو
زباں جو چُن سکے افشاں گلوں سے شبنم کی
زباں جو گن سکے اُن بے شمار لمحوں کو
جنہوں نے دل کو سزادی سکوتِ پیہم کی
زباں جو کاٹ سکے برگِ گل سے ہیرے کو
زباں جو کھول سکے کائنات کے اسرار
زباں جو بن سکے معیار نوعِ انساں کا
زباں جو توڑ سکے غم کا حلقہ ¿ پر کار
زبانِ غیر پَہ ہے دسترس مگر دانش
نہ ہوسکے گی جِسے بے تکان کہتے ہیں
زباں جو کہہ سکے تحت الشعور کی باتیں
ہم اہلِ دل اِسے اُردو زبان کہتے ہیں
٭ عقیل دانش(برطانیہ)